یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا تاہم بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں بغیر مداخلت ملاقات کی درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام فریقین سے آئندہ ہفتے تک جواب طلب کر لیا ہے۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا تاہم بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہSenate of Pakistan
باجوڑ میں ریموٹ کنٹرول دھماکے میں سابق سینیٹر ہدایت اللہ سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق باجوڑ کے علاقے ڈمہ ڈولہ میں ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے دھماکہ کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ دھماکے میں سابق سینیٹر ہدایت اللہ کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں کے نتیجے میں ان کی گاڑی تباہ ہو گئی اورسابق سینیٹر سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
سابق سینیٹر کے ہمراہ ہلاک ہونے والے افراد میں ملک عرفان، ملک نذرالدین شامل ہیں۔
پولیس نے بتایاکہ ہداہت اللہ پی کے 22 میں اپنے بھتیجے کی انتخابی مہم میں ڈمہ ڈولہ گئےتھے اور انتخابی مہم کے بعد خار واپسی پر ہدایت اللہ کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہدایت اللہ سنہ 2012 سے 2018 اور 2018 سے 2024 تک آزاد حیثیت سے سینیٹر رہ چکے ہیں۔
سینیٹر شیری رحمان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’سابق سینیٹر ہدایت اللہ کی بم دھماکے میں وفات کی خبر سن کر دلی افسوس ہوا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ انتہائی دکھ اور تشویش کا باعث ہے۔
’سینیٹر ہدایت اللہ کے خاندان سے دلی ہمدردی ہے۔ سینیٹر ہدایت اللہ نے ایوان میں ہمیشہ سابق فاٹا کے مسائل کو اجاگر کیا۔ قبائلی علاقوں کو ایک مظبوط آواز سے محروم کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی سینیٹر ہدایت اللہ کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی میں کھڑی ہے اور ہم دہشت گردی کے خاتمے اور انصاف کے مطالبے میں ان کے ساتھ ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بلوچستان کے ضلع آواران میں ایک ہی خاندان کے پانچ بچے بارش کی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔
واقعے کے بارے میں حکومت بلوچستان نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر آواران انجنیئر عائشہ زہری نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ بدھ کو تحصیل جھائو کے علاقے سرمستانی پٹ میں پیش آیا۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس علاقے میں ٹھیکیدار نے روڈ کی تعمیر کے لیے ایک بڑا کھڈا بنوایا تھا جس میں بارش کا پانی جمع ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ غالباً بچے وہاں نہانے گئے تھے اور یوں لگتا ہے کہ ایک کے ڈوبنے کے بعد ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش میں تمام بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔
انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے بچوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جن میں ایک کمسن بچہ اور چار بچیاں شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے خاندان کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے پی ڈی ایم اے اور متعلقہ محکموں کو سفارش کی جائے گی۔
دریں اثنا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے آواران میں بچوں کی ہلاکت پر گہرے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے مطابق وزیراعلی کی ہدایت پر واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے اور افسوس ناک واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سکول جانے کی عمر کے 13 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔
یہ بات انھوں نے پاکستان میں عالمی بینک کے ڈائریکٹر ناجی بن حسائن کی قیادت میں ورلڈ بینک کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے موقع پر کہی جس نے کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی۔ ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق ورلڈ بینک کے وفد نے وزیر اعلٰی بلوچستان سے صوبے میں جاری معاونتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے منرل اینڈ مائینز، فشریز، زراعت اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیم، صحت اور سیلاب متاثرین کی بحالی پر کام جاری ہے گڈ گورننس، توانائی اور ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سکولوں اور آبادی کے درمیان فاصلے بہت زیادہ ہے۔ ذرائع مواصلات کا خاطر خواہ نظام نہیں۔ حکومت سکولوں تک رسائی اور طالب علموں کو فوڈ کی فراہمی پر کام کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عالمی بینک کے وسیع المدتی پروگرامز کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ عالمی بینک کے 10 سالہ پروگرام کی حمایت کرتے ہیں بکھری آبادی میں بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں بنیادی سہولیات پہنچانا مشکل چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا عالمی اور قومی اداروں، ڈونرز کی مشاورت سے پائیدار حکمت عملی پر کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق گذشتہ روز سپینتک پہاڑ پر پیش آنے والے حادثے میں ایک جاپانی کوہ پیما ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ باقی تین محفوظ رہے ہیں۔
چاروں جاپانی کوہ پیمانوں نے بیس کیمپ سے یکم جولائی کو اپنی مہم کا آغاز کیا تھا۔ گذشتہ روز واپسی کے سفر میں کیمپ ٹو اور کیمپ ون کے درمیان حادثہ پیش آیا جس کے دوران کوہ پیما گہری برفانی کھائی میں گر گیا تھا۔
ٹوئر آپریٹر کے مطابق باقی تینوں کوہ پیما محفوظ ہیں اور وہ اس وقت کیمپ ون پر موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے جبری طور پر لاپتا افراد کے مقدمے میں سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف سیکریٹری دفاع، چیف کمشنر اسلام آباد اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں کو خارج کرتے ہوئے سنگل بینچ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں سنگل بینچ نے سنہ 2018 میں جبری طور پرلاپتا ہونے والے آئی ٹی ماہر ساجد محمود کی اہلیہ مائزہ ساجد کی درخواست پر اس وقت کے سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ضمیر الحسن شاہ کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا تھا۔
اسی درخواست میں اس وقت کے چیف کمشنر اسلام آباد ذوالفقار حیدر کو اور آئی جی اسلام آباد خالد خان خٹک کو ایک ایک لاکھ روپے جبکہ اس وقت تھانہ شالیمار کے ایس ایچ او قیصر نیاز کو تین لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اس فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی تو بینچ کے سربراہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب کوئی خوشخبری ہے اور کیا لاپتا افراد آگئے ہیں؟
جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق تاحال پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس جواب پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی سال گزر گئے ہیں۔ کہاں ہیں لاپتا افراد اور حکومتی نمائندے ہر بار آپ آکر کہہ جاتے ہیں کہ پیش رفت ہو رہی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں کے معاملے میں پہلے کئی بار اٹارنی جنرل پیش ہو چکے ہیں اور سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان بھی پیش ہو چکے ہیں۔
انھوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو جرمانہ عائد ہوا اسے ہم ڈبل کردیتے ہیں اور یا پھر وزیر اعظم کو طلب کرلیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کئی سالوں سے یہ کیسز زہر سماعت ہیں نہ لاپتا افراد بازیاب ہوئے نہ کوئی پیش رفت ہوئی۔
بینچ میں موجود جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ایڈشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی پیش رفت ہے تو بتائیں کہ ہوا کیا ہے اور آپ کیا کر رہے ہیں؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت سے ایک ماہ کا وقت دینے کی استدعا کی گئی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور ایڈشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھیج دیتے ہیں جو کام آپ نے ہمارے ساتھ کیا مہربانی کرکے آپ وہ سپریم کورٹ کے ساتھ کریں۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ کیا طریقہ ہے ہم وقت دے دے کر تھک گئے، اور آپ کوئی پیش رفت نہیں بتا رہے۔ کئی سالوں سے تو یہ انٹراکورٹ اپیلیں چل رہیں ہیں جبکہ اس کے علاوہ جو کیسز اسی سے متعلق ہیں وہ الگ چل رہے ہیں۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کبھی کبھی لگتا ہے ہر مرتبہ آپ کی نئی کہانی ہوتی ہے
انھوں نے کہا کہ آئین کے مطابق سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہیے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت نے جبری طور پر لاپتا ہونے والے افراد سے متعلق ایک کمیٹی بنائی ہے اور ان کا کام حتمی مراحل میں ہے اس لیے انھیں کچھ مہلت درکار ہے۔
چیف جسٹس نے ایڈشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیدھا سیدھا بتائیں کہ بندے کدھر ہیں۔ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ان افراد کی بازیابی سے متعلق تمام کوششیں کی جارہی ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمارے لیے اپیلوں پر فیصلہ کرنا بہت آسان ہے اور ان جرمانوں کو ڈبل کردیتے ہیں اور آنے والا ہر سیکریٹری اور آئی جی اپنی تنخواہوں سے جرمانہ ادا کرتا جائے گا۔
عدالت نے ان افسران کی جانب سے دائر کی گئں اپیلوں کو خارج کرتے ہوئے سنگل بینچ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTV/Screen Grab
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات جیو پولیٹیکل صورت حال سے متاثر نہیں ہوں گے نہ ہی کسی دوسرے ملک کی وجہ سے پاک روس تعلقات پر کوئی منفی پڑے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمر پوتن کے درمیان آستانہ میں ملاقات ہوئی ہے جس میں انھوں نے روسی صدر پوتن کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے۔
روسی صدر سے ملاقات کے دوران خطاب میں شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کے روس کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل کے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ اور ایس سی او پلس کے دو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آستانہ میں موجود ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ روس کے ساتھ تجارت کو مزید فروغ دے کر ایک ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب روسی صدر پوتن نے وزیر اعظم شہباز شریف سے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان بہترین تعلقات ہیں، تجارتی روابط کی بدولت دوطرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے، توانائی اور زراعت کے شعبوں میں ہم اپنا تعاون بڑھا سکتے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم کا نور سلطان نظر بائیف انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچنے پر قزاقستان کے وزیر اعظم اور دیگر نے استقبال کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کا پیمرا کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران وکیل اظہر صدیق کی جانب سے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا گیا۔
وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ پیمرا پابندی معلومات تک رسائی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اگر اس معاملہ کو یہاں روکا نہیں جائے گا تو خطرناک نتائج ہوں گے۔
وکیل اظہر صدیق کے دلائل مکمل ہونے پر وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل عادل عزیز قاضی نے دلائل میں نے پاکستانی اور بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ دیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے دریافت کیا کہ ایسا کیا رپورٹ ہوا تھا جس سے احکامات جاری کرنا پڑا؟ آپ سیدھا سیدھا پابندی پر ہی چلے گئے۔
اس پر پیمرا کے وکیل سعد ہاشمی نے جواب دیا کہ پیمرا نے اجازت دی ہے کہ جب تحریری فیصلہ آئے تو رپورٹ کرسکتے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کی بات کروں تو ایسا کچھ نہیں کہ کہیں غلط رپورٹنگ ہوئی ہے، کل میں نے جو کہا وہ بالکل درست رپورٹ ہوا۔ میں نے ہر سیاسی جماعت کے رہنماؤں کے کیس سنے لیکن کوئی ایک کیس ایسا نہیں جوغلط رپورٹ ہوا، ہم نے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا کہ یہ کہنا پڑے یہ میں نے کہا ہی نہیں تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اگر کہیں غلط رپورٹنگ ہوئی ہے تو اس کے لیے بھی طریقہ کار موجود ہے۔
اس پر پیمرا کے وکیل نے بتایا کہ یہ ہدایت میڈیا چینلز کو جاری کی گئی ہیں۔ انھوں نے سپریم کورٹ کی ایک بھی گائیڈ لائن پر عمل نہیں کیا۔
اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہے کہ بات پابندی کی طرف کیوں گئی؟ آپ کے سامنے کوئی کمپلینٹ نہیں آئی۔ ہوتی تو آپ یہاں پیش کر دیتے ۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ عامر فاروق یہاں بھی سب کیس رپورٹ نہیں ہورہے ہیں صرف پبلک نوعیت کے مقدمات رپورٹ ہورہے ہوتے ہیں، آپ بتا دیں غلط رپورٹنگ ہوئی اور پیمرا نے ایکشن لیا ہو، زمانہ آگے جارہا ہے واپس مت جائیں، ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے، قانون قاعدے کے حساب سے آپ چلیں تو کوئی عدالت آپ کو نہیں روکے گی۔
وکیل پیمرا سعد ہاشمی نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ڈائریکٹو جاری کیا گیا۔
بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس عامر فاروق نے بتایا کہ آئندہ ہفتے فیصلہ سنایا جائے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے زیر سماعت عدالتی مقدمات سے متعلق خبر یا ٹکرز چلانے پر پابندی عائد کردی تھی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج گل حسن اورنگزیب نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ پتا افراد کے کمیشن نے اگر کارروائی نہیں کرنی ہوتی تو پروڈکشن آرڈر کیوں جاری کیے جاتے ہیں۔
بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس گل حسن اورنگزیب نے 20 سال سے لاپتہ شہری عتیق الرحمان کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
ہاجرہ بی بی کی جانب سے دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ لاپتا افراد کے کمیشن کے پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد کا حکم دیا جائے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کے دوران کمیشن حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا یہ کس قسم کا کمیشن ہے؟
جس پر کمیشن حکام نے بتایا کہ یہ کیس سپریم کورٹ میں 2007 سے چلتا رہا ہے۔ جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہیں کی؟ جس پر کمیشن حکام نے جواب دیا کہ توہین عدالت کسی انفرادی شخص کے خلاف ہوتی ہے ادارے کے خلاف نہیں ہوتی۔
عدالت نے کمیشن حکام سے استفسار کیا کہ پھر آپ آرڈر پر عمل درآمد کیسے کراتے ہیں؟ جس پر وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ سات فیصد پروڈکشن آرڈرز پر انھوں نے عمل کروایا ہے۔
جسٹس حسن اورنگزیب نے سوال کیا کہ اگر کارروائی نہیں کرنی ہوتی تو کمیشن پھر پروڈکشن آرڈر کیوں جاری کرتا ہے؟ جس پر رجسٹرار کمیشن نے کہا کہ کمیشن نے ساڑھے 10 ہزار میں سے ساڑھے سات ہزار کیس نمٹائے ہیں۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ جب سے کمیشن بنا ہے تب سے کتنے کیس نمٹائے گئے؟ جس پر وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ ’اگر کسی لاپتا شخص کی لاش بھی مل جائے تو کمیشن اس کیس کو نمٹانا قرار دیتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کمیشن کا کہنا ہے کہ اس شخص کو ایجنسیوں نے اٹھایا ہے۔‘
جسٹس حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایک حد سے آگے نہیں جا سکتے تو عدالت کیا کرے؟
انھوں نے ریمارکس دیےکہ ’پھر کیا کہیں کہ آپ عالمی عدالت انصاف میں چلے جائیں؟ اُن کے پاس جائیں اور کہیں کہ یہ وہ ملک ہے جہاں سے لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں۔‘
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ’میں جاننا چاہتا ہوں کہ حکومت کا موقف کیا یہ ہے کہ جنھیں ہم اٹھاتے ہیں اٹھائیں گے۔ اور جو مرتا ہے مر جائے ہم یہ کرتے رہیں گے۔‘
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ’پاکستان میں لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں ایسے میں یہاں کون آئے گا۔ آپ امید کر رہے ہیں ڈالر 280 سے نیچے آئے گا وہ کیسے آئے گا جب یہاں یہ کچھ ہو رہا ہے۔‘
عدالت کے مطابق ’کمیشن کہتا ہے پروڈکشن آرڈرز پر ہمارے پاس عمل درآمد کا کوئی اختیار نہیں۔ کمیشن میں کوئی ایسے لوگ تو آئیں جو پاکستان کو بدنامی سے بچائیں۔ ججز جب قانون کے تحت کام کرتے ہیں تو ہمارے خلاف ہو جاتے ہیں کہ تم نے قانون کے مطابق کیسے کام کیا۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت اس حوالے سے تفصیلی آرڈر پاس کریں گی۔

،تصویر کا ذریعہPTI
سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشری بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کی۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کے روبرو دلائل میں فیڈرل شریعت کورٹ اورسپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیا۔
انھوں نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اگر یونین کونسل کا پروسیجر مکمل نہیں بھی ہوتا تو طلاق موثر ہو جائے گی۔ عدالت نے کہا سیکشن سات کو پریشر ڈالنے کے لیے نہیں استعمال کیا جا سکتا۔
انھوں نے کہا کہ خاور مانیکا اس شادی سے خوش تھے۔ پانچ سال 11 ماہ خاموش رہے کسی عدالت نہیں گئے۔ ملازم لطیف کا بیان شکایت کنندہ خاور مانیکا کے فراڈ کی نشان دہی کرتا ہے۔ فراڈ کے حوالے سے کوئی الزام نہیں نہ دعویٰ کیا گیا اور نہ ہی کوئی ثبوت ہے۔۔
سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل مکمل کر لی جس کے بعد جج نے ریمارکس دیے کہ کوشش کریں کہ آٹھ تاریخ تک کیس مکمل ہو جائے۔
بشری بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل اپنا لیے اور کہا کہ انھیں اپنے دلائل مکمل کرنے کے لیے دو گھنٹے درکار ہوں گے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ جولائی کو اپنے دلائل دیں گے اور اس دوران اگر درخواست گزار خاور مانیکا کے وکیل اپنے دلائل دینا چاہیں تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
خاور مانیکا کے وکیل کا کہنا تھا کہ پہلے وہ سلمان صفدر کے دلائل سے مستفید ہونا چاہیں گے اور اس کے بعد اپنے دلائل دیں گے۔
عدالت نہ کہا کہ کوشش ہوگی کہ آٹھ جولائی کو ان اپیلوں پر سماعت مکمل کرلیں۔
خاور مانیکا کے وکیل کی جانب سے پہلے دلائل دینے سے انکار پرعدالت نے عمران خان اور بشری بی یی کی اپیلوں کی سماعت آٹھ جولائی تک ملتوی کر دی۔

،تصویر کا ذریعہScreen grab
خان صاحب کو پریشرائز کرنے کے لیے یہ کیس بنایا گیا: بیرسٹر گوہر
اسلام آباد کچہری میں سماعت کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اسلام اباد ہائی کورٹ نے ڈائریکشن دی ہوئی ہے کہ 10 تاریخ تک اس کیس پر فیصلہ دینا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’آج عدت کیس میں مرکزی اپیلوں کی سماعت ہوئی ہے جس میں عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔
’امید ہے کہ ہمیں اس کیس میں ریلیف ملے گا۔ تاریخ میں پہلی بار عدت سے متعلق کیس بنایا گیا۔ خان صاحب کو پریشرائز کرنے کے لیے یہ کیس بنایا گیا جس کا مقصد خان صاحب کو کمپرومائزنگ حالات میں لانا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ ہم نے عدالت کے سامنے شریعہ کورٹ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ماضی میں دیے گئے فیصلے رکھے ہیں۔ یہ ایک ایسا کیس ہے جس میں ایک عورت کی نجی زندگی کریدنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایسا کیس عدالت میں نہیں آنا چائیے تھا۔ اسلامی تعلیمات میں بھی ہمیں اس کی اجازت نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی و دیگر ملزمان کو بری کردیا ہے۔
اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود نے محفوظ شدہ فیصلہ سنادیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید ،شہریار آفریدی، فیصل جاوید ، راجہ خرم نواز ،علی نواز اعوان اسد قیصر اور دیگر کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج تھا۔
یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی ، شیخ رشید و دیگر کی جانب سے سردار مصروف ایڈووکیٹ اور انصر کیانی نے دلائل دیے تھے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عمران خان کو توشہ خانہ ریفرنس میں نااہل قرار دینے کے خلاف پی ٹی آئی کارکنان نے ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کے دوران کئی مقامات پر ٹائرز جلا کرسڑکیں بلاک کردی تھیں۔
عمران خان ، شاہ محمود قریشی ، شیخ رشید و دیگر کے خلاف الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف احتجاج پر تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں کاروبار کے دوران 771 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس 80324 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
انڈیکس میں کاروبار کا آغاز مثبت رجحان سے ہوا اور انڈیکس ابھی بھی مثبت زون میں موجود ہے۔
تجزیہ کار انڈیکس میں اضافے کی وجہ بجٹ کے بعد سٹاک مارکیٹ میں آنے والے سرمایہ کو قرار دیتے ہیں جو دوسروں شعبوں خاص کر پراپرٹی سے مارکیٹ میں آرہا ہے۔
تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بتایا کہ پراپرٹی سے بجٹ کے بعد سرمایہ انڈیکس میں آرہا ہے جس کی وجہ اس شعبے پر لگنے والے ٹیکس ہیں۔
انھوں نے کہا اس وقت مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی بڑی تعداد میں آرہی ہے اور اس کے ساتھ پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ بڑے قرض پروگرام کے امکانات بھی سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہIslamabad Police
اسلام آباد پولیس کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی رات انٹیلیجنس کی بنیاد پر آپریشن کے دوران تھانہ سنگجانی کی حدود سے ہینڈ گرنیڈ، ڈیٹونیٹر اور خودکش جیکٹ تیار کرنے کا سامان برآمد کیا گیا۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر اسلام آباد میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں اور ایسی ہی ایک کارروائی کے دوران علاقہ تھانہ سنگجانی میں کچھ ملزمان پولیس ٹیم کو دیکھ کر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔
پولیس کے مطابق علاقے کو گھیر میں لیکر مزید نفری کی مدد سے تلاش شروع کی گئی تو کلاشنکوف، ہینڈ گرنیڈ، ڈیٹونیٹر، تار اور خودکش جیکٹ کا سامان برآمد ہوا جس کے بعد بم ڈسپوزل سکواڈ کو طلب کرکے بارودی مواد کو ناکارہ بنا دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تھانہ سی ٹی ڈی میں واقعے کا مقدمہ درج کرتے ہوئے مزید تفتیش عمل میں لائی جا رہی ہے جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے بھی ٹیمیں تشکیل دے کر آپریش جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈز کے مقدمے کی سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں اور ’پارٹی چھوڑنے والے رہنماؤں کے بارے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔‘
کمرۂ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ’تشدد سہنے والے اور فائلیں دیکھ کر بھاگنے والے پارٹی رہنماؤں کے بارے میں الگ فیصلے ہوں گے۔‘
ایک صحافی نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی میں اب گروپنگ واضع ہوچکی ہے، آپ نے اس بارے کیا فیصلہ کیا ہے؟ اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے دونوں گروہوں کو چار تاریخ کو بلایا ہے۔ ان سے بات کروں گا۔‘
انھوں نے کہا کہ امریکی کانگریس نے پاکستانی انتخابات سے متعلق قرارداد میں اہم سوالات اٹھائے ہیں اور کانگریس نے پوری تحقیقات کے بعد متفقہ طور پر قرار داد منظور کی۔
انھوں نے کہا کہ کانگریس کی قرارداد میں ’وہی سوالات اٹھائے گئے جن کا ذکر پلڈاٹ، فافن اور پٹن نے اٹھائے۔‘
’ملکی اور غیر ملکی میڈیا سمیت پوری قوم نے الیکشن کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔‘
ایک صحافی نے عمران خان سے پوچھا کہ کیا کانگریس کی قرارداد پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے؟ اس پر انھوں نے جواب دیا کہ ’کانگریس کی قرارداد انتخابات سے متعلق ہے جبکہ سائفر میری حکومت کے خاتمے سے متعلق تھا۔‘
ایک موقع پر عمران خان نے فواد چوہدری سے متعلق سوال پر کوئی جواب نہیں دیا۔
ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’موجودہ بجٹ ظالمانہ بجٹ ہے۔ اس سے مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے۔
’بجلی گیس اور ٹیکسز میں مزید اضافہ ہوگا۔ حکومت نے اپنے اخراجات کم کرنے کی بجائے سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کو مشکلات سے نکالنا ہے تو شفاف الیکشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ عوامی مینڈیٹ والی حکومت اصلاحات کر کے ملک کو مشکل سے نکال سکتی ہے۔‘
عمران خان کے مطابق ’مجھے ابھی تک پتہ ہی نہیں انتخابات میں ہماری پارٹی سے کون کون امیدوار جیتا ہے۔‘
دوسری طرف عمران خان نے مبینہ طور پر بیٹوں سے بات نہ کرانے کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’بچوں سے بات کرنے کے لیے جیل انتظامیہ نے کوئی انتظام نہیں کیا اور بچوں سے رابطہ کرنا میرا آئینی اور قانونی حق ہے۔‘
درخواست میں عمران خان نے موقف اختیار کیا کہ ’واٹس ایپ کال کے لیے کئی بار اجازت دی گئی لیکن جیل مینوئل کے مطابق نہیں اور اس کے علاوہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے کوئی سہولت نہیں دی گئی۔‘
عدالت نے 3 جولائی تک جیل انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے۔
نو مئی کے واقعات میں ملوث سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت 8 جولائی کو ہوگی۔
جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔
سپریم کورٹ کے چھ رکنی بینچ نے فوجی عدالتوں کو ان مقدمات کا فیصلہ اس وقت تک سنانے سے روک رکھا ہے جب تک سپریم کورٹ ان درخواستوں پر فیصلہ نہیں سنا دیتی۔
سپریم جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عالیہ نیلم کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس وقت جسٹس شجاعت علی خان لاہور ہائی کورٹ میں قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شہزاد علی خان کو سپریم کورٹ میں جج تعینات کیا گیا ہے۔
جسٹس عالیہ نیلم لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہوں گی۔ وہ 2013 میں لاہور ہائی کورٹ کی ایڈجسٹ جج مقرر ہوئیں اور انھیں 2015 میں مستقل جج تعینات کیا گیا۔
وہ لاہور ہائی کورٹ میں سنیارٹی میں تیسرے نمبر پر تھیں۔ قائم قام چیف جسٹس شجاعت علی خان اور جسٹس باقر نجفی سنیارٹی میں پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔
جسٹس عالیہ نیلم 1966 میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے 1995 میں پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔
لاہور ہائیکورٹ پاکستان کی سب سے بڑی ہائی کورٹ ہے۔
دوسری طرف سپریم جوڈیشل کمیشن نے جسٹس شفیع صدیقی کو سندھ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
کمیشن نے ان ناموں کی حتمی منظوری کے لیے فائل ججز کی تقرری سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔
دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور بشری بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ہوئی۔
ان اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا کر رہے ہیں۔ دوران سماعت جج افضل مجوکا نے کہا کہ ایک دن نکاح ہوا اور دوسرے دن خاور مانیکا کو پتا چل گیا لیکن وہ خاموش رہے۔
جس پر عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ بدنیتی اور فراڈ میں جو چیز مشترکہ ہے وہ ارادہ ہونا ہے، اگر فراڈ ہوا تھا تو خاور مانیکا اسی وقت عدالت جاتے اور کہتے کہ میں نے رجوع کرنا تھا۔
سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ اس معاملے میں چار گواہ ہیں لیکن ٹرائل کورٹ نے ملازم لطیف کے بیان کو اہمیت دی۔ ’خاور مانیکا نے لطیف کے بیان پر انحصار کیا اور خود بھی وڈیو بیان پر غلط بیانی کی۔‘
سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ ’مفتی سعید کی گواہی بھی جھوٹی ثابت ہوئی، دوسرے نکاح کی بات سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عدت پوری تھی یا نہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک گھڑی گئی کہانی تھی جس سے بانی پی ٹی آئی کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔‘
عدالت نے کیس کی سماعت کل دن 11 بجے تک ملتوی کر دی ہے۔
پاکستان کی سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کی اتحادی سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ایک سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن نے الیکشن سے نکال دیا، الیکشن کمیشن نے خود آئین کی یہ سنگین خلاف ورزی کی۔
واضح رہے کہ منگل کے دن سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل آف پاکستان دلائل دے رہے تھے جس کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل آپ کو بنیادی سوال کو دیکھنا ہو گا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ایک سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن نے الیکشن سے نکال دیا، الیکشن کمیشن نے خود آئین کی یہ سنگین خلاف ورزی کی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بنیادی حقوق کے محافظ ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری نہیں اسے درست کریں؟
دوسری جانب سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی نظام کی بنیاد سیاسی جماعتوں پر ہے، سوال یہ ہے آزاد امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد کہاں سے آئی؟
جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ کیا لوگوں نے خود ان لوگوں کو بطور آزاد امیدوار چنا؟ کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزاد نہیں قرار دیا؟
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہیے؟ کیا وہ قانونی آپشن نہیں اپنانا چاہیے جو اس غلطی کا ازالہ کرے؟
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ ’کسی فریق کو یہ کہتے نہیں سنا کہ نشستیں خالی رہیں، ہر فریق یہی کہتا ہے کہ دوسرے کو نہیں نشستیں مجھے ملیں۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’موجودہ صورت حال بن سکتی ہے یہ آئین بنانے والوں نے کیوں نہیں سوچا یہ ان کا کام ہے، آئین میں کیا اور کیوں نہیں ہے یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ہے۔‘
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ سوموار کے دن خیبر اور لکی مروت میں دو مختلف کارروائیوں کے دوران نو شدت پسند ہلاک ہو گئے۔
بیان کے مطابق خیبر ضلع کے تیراہ علاقے میں انٹیلیجنس آپریشن کیا گیا جہاں ’کمانڈر نجیب عرف عبد الرحمان اور اشفاق عرف معاویہ سمیت سات شدت پسند ہلاک ہوئے۔‘
بیان کے مطابق ’ہلاک ہونے والے شدت پسند قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے جن سے اسلحہ، ایمونشین اور بارودی مواد بھی بازیاب ہوا۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق لکی مروت ضلع میں ہونے والے ایک اور آپریشن کے دوران فوجی اہلکاروں نے دو شدت پسندوں کو ہلاک کیا۔