اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد پولیس کا ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ

سرگودھا کی انسداد دہشتگردی عدالت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کے ورانٹ گرفتاری جاری کیے جس کے بعد میانوالی پولیس نے اتوار کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس کے ہمراہ ان کے گھر چھاپہ مارا ہے۔ عمر ایوب کا کہنا ہے کہ ’عمران خان کے وزیر اعظم بننے تک جدوجہد جاری رہے گی۔‘

خلاصہ

  • سرگودھا کی انسداد دہشتگردی عدالت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کے ورانٹ گرفتاری جاری کیے جس کے بعد میانوالی پولیس نے اتوار کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس کے ہمراہ ان کے گھر چھاپہ مارا ہے۔
  • بار ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف مبینہ ’سوشل میڈیا مہم‘ پر 9 جولائی کو ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پروٹیکٹیڈ صارفین کو اووربلنگ کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے اس میں ملوث افسروں اور عملے کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی صارفین کے بِلوں میں مصنوعی طور پر اضافی یونٹ شامل کرنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی۔
  • بلوچستان سے تعلق رکھنے والی کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے گرفتار لوگوں کی رہائی کے بدلے میں 7 مغوی افراد کی رہائی کے لیے ایک ہفتے کی جو مہلت دی تھی وہ ختم ہوگئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کراچی میں فائرنگ سے ڈی ایس پی کی ہلاکت

    کراچی کے علاقے کریم آباد میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی علی رضا فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈی ایس پی علی رضا کی ہلاکت پر افسوس اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی علی رضا نے شہادت کا بلند رتبہ پایا۔‘

    اس سے قبل ریسکیو حکام نے بتایا تھا کہ فائرنگ کے واقعے میں ڈی ایس پی کا گن مین بھی زخمی ہوا ہے۔ ان کے مطابق ڈی ایس پی علی رضا سر میں گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے۔

  2. پاکستان اپنی بندرگاہوں میں جدید نظام نافذ کرکے اربوں ڈالر کا زرِمبادلہ کما سکتا ہے: وزیراعظم شہباز شریف

    کراچی، پاکستان، شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPrime Minister's Office

    پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ان کے حالیہ دورہ قازقستان کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن اور وسط ایشیائی ممالک کے رہنماؤں نے تجارت کے لیے پاکستانی بندرگاہوں کے استعمال میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ کے دورے کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان وسط ایشیائی ممالک کے لیے سمندری تجارت کا سب سے موزوں راستہ فراہم کرتا ہے اور یہاں موجود بندرگاہوں میں جدید نظام اور ان تک رسائی بہتر بنا کر پاکستان اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے۔

    اس دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے احکامت جاری کیے کہ پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ ٹرسٹ پر جدید آلات و مشینری نصب کر کے کسٹمز کلیئرنس کے وقت کو کم کیا جائے سامان کی بلاتعطل ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے لیاری ایکسپریس وے کو کارگو ٹریفک کے لیے 24 گھنٹے کھلا رکھا جائے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پورٹ قاسم پر ایل این جی جہازوں کی فیس کو کم کرنے اسے بین الاقوامی سطح پر رائج ریٹس کے مطابق مقرر کیا جائے۔

    خیال رہے پاکستانی وزیراعظم اس وقت ایک روزہ دورے پر کابینہ کے وزرا کے ہمراہ کراچی میں موجود ہیں۔

  3. جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف ’سوشل میڈیا مہم‘ پر بار ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس طلب

    بار ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف مبینہ ’سوشل میڈیا مہم‘ پر 9 جولائی کو ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف بدنیتی پر مبنی سوشل میڈیا مہم کی مذمت کرتے ہیں۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری ایک قابل اور محنتی جج ہیں۔‘

    اعلامیے میں کہا گیا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کا بطور وکیل شاندار پیشہ ورانہ کیریئر ہے اور ’اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری پر مکمل یقین رکھتی ہے۔‘

    خیال رہے کہ اسلام آباد کے تین حلقوں کے انتخابی نتائج سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن نے ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد جسٹس طارق محمود جہانگیری کو الیکشن ٹربیونلز کا جج مقرر کیا تھا۔ تاہم ن لیگ کے امیدواروں نے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور الیکشن کمیشن میں ان کے خلاف اپیل دائر کی تھی کہ یہ معاملہ کسی اور جج کے حوالے کیا جائے۔

    الیکشن کمیشن نے ان کی یہ استدعا منظور کر لی تھی تاہم تحریک انصاف نے اس پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔ دریں اثنا اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما انجم عقیل خان کو توہین عدالت کا شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔

  4. اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد پولیس کا ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ

    عمر ایوب

    ،تصویر کا ذریعہNA

    سرگودھا کی انسداد دہشتگردی عدالت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کے ورانٹ گرفتاری جاری کیے جس کے بعد میانوالی پولیس نے اتوار کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس کے ہمراہ ان کے گھر چھاپہ مارا ہے۔

    اسلام آباد کے تھانہ شالیمار کے ایک اہلکار نے نامہ نگار شہزاد ملک سے گفتگو کے دوران اس چھاپے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد کے علاقے ایف 10 میں رہائش گاہ پر چھاپے کے وقت عمر ایوب گھر پر نہیں تھے۔

    صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عمر ایوب کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں اور وہ اسی مقدمے میں پولیس کو مطلوب ہیں۔

    اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے عمر ایوب نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ عدالت نے روٹین میں ان کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جو حاضری کی صورت میں ختم بھی کر دیے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ایم این اے کی گرفتاری سے قبل سپیکر کو اطلاع دی جاتی ہے۔۔۔ حکومت نہیں چاہتی کہ ہم سچ کی بات کریں۔ ہمیں کچلنے کے لیے یہ ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پیغام میں کہا کہ ’فارم 47 سے بنی وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور ایجنسیاں قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کی گرفتاری کے لیے بے تاب ہیں۔‘

    ’وہ ثابت کر رہے ہیں کہ پاکستان میں کوئی رول آف لا نہیں۔ ہم اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم نہیں بن جاتے۔‘

    سرگودھا کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے عمر ایوب کے خلاف 50 ہزار مالیت کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر کے پولیس کو انھیں عدالت پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جون میں عدالت نے نو مئی کے مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے 70 سے زائد پی ٹی آئی کارکنان کو بری کر دیا تھا جن کے خلاف تھانہ سٹی میانوالی میں دو الگ الگ مقدمات درج تھے۔

    عدالت نے عدم حاضری پر پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری خارج کر دی تھی۔ عمر ایوب کے خلاف نو مئی کے واقعات سے متعلق میانوالی میں ایک مقدمہ درج ہے۔

    یاد رہے کہ یکم جون کو اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے غیر حاضری کی بنا پر خیر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف تھانہ سنگجانی اور آئی نائن میں بھی مقدمات درج ہیں۔

  5. پاکستانی کوہ پیما ثمینہ ببگ کے ٹو کی مہم جوئی کے دوران بیمار پڑ گئیں: بھائی

    ثمینہ بیگ، کے ٹو، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہMehboob Ali

    معروف پاکستانی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ ’کے ٹو‘ کی مہم جوئی کے دوران شدید بیمار ہوگئی ہیں جس کے بعد انھیں سکردو پہنچایا جا رہا ہے۔

    ثمینہ بیگ کے محبوب علی کا کہنا ہے کہ پہلے ان کی بہن کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے نیچے لانے کا ارادہ تھا مگر موسم کی خرابی کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کی پرواز ممکن نہیں ہو سکی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ثمینہ بیگ کو اونچائی سے نیچے لانے کے لیے گھوڑے کا انتظام کیا گیا ہے۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان میں واقع کے ٹو دنیا کی دوسری سب سے بڑی چوٹی ہے جس کی اونچائی 8 ہزار 611 میٹر ہے۔

    محبوب علی کا کہنا تھا کہ ثمینہ بیگ کو سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہے اور ان کے سینے میں شدید انفیکشن ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ثمینہ بیگ دیگر خاتون کوہ پیماؤں کے ہمراہ 28 جون کے ٹو کے بیس کیمپ پہنچی تھیں جہاں پر وہ سب لوگ مہم جوئی کے لیے موسمی حالات سے ہم آہنگ ہو رہے تھے۔

    ’کچھ دن پہلے ثمینہ بیگ کو کھانسی اور معمولی تکلیف ہوئی، جس پر وہاں موجود ڈاکٹر نے کچھ ادوایات وغیرہ فراہم کر دی تھیں۔‘

    کے ٹو پر سفر کے دوران ثمینہ بیگ کے ساتھ تین پاکستانی اور چار اطالوی خواتین بھی موجود تھیں۔

  6. لکی مروت میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے خلاف احتجاج

    Laki Marwat

    ،تصویر کا ذریعہMuhammad Zubair Marwat

    لکی مروت میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف اور مروت بیٹنی اتحاد کے زیرِ انتظام امن کے قیام کے لئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے جس میں مقامی قائدئن نے خطاب کیا ہے۔

    لکی مروت امن پاسون میں تمام سیاسی اور سماجی تنظیموں سے وابستہ افراد کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مظاہرے میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اس علاقے میں تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

    واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے چند روز قبل دہشت گردی کے خلاف آپریشن ’عزمِ استحکام‘ کا اعلان کیا گیا تھا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے جب ’عزم استحکام‘ کے نام سے مسلح شدت پسندی کے خلاف ایک نئے آپریشن کا اعلان کیا گیا تو حزب اختلاف سمیت خیبر پختونخوا کے قبائلی عمائدین نے بڑے پیمانے پر اس مخالفت کی۔

    تاہم 25 جون کو وزیرِ اعظم ہاوس کی جانب سے ایک وضاحت جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ ’ملک کے پائیدار امن و استحکام کے لیے حال ہی میں اعلان کردہ وژن جس کا نام عزم استحکام رکھا گیا ہے، جس کو غلط سمجھا جا رہا ہے اور اس کا موازنہ گزشتہ مسلح آپریشنز جیسے ضرب عضب، راہ نجات سے کیا جا رہا ہے۔‘

  7. پروٹیکٹیڈ صارفین کی اوور بلنگ کا معاملہ: وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا ملوث افسروں اور عملے کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم

    بجلی کے بل

    ،تصویر کا ذریعہPML-N/ TWITTER

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پروٹیکٹیڈ صارفین کو اووربلنگ کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے اس میں ملوث افسروں اور عملے کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

    وزیر داخلہ نے ایف آئی اے کے تمام ڈائریکٹرز کو احکامات جاری کئے ہیں کہ 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کیا جائے۔

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ’پروٹیکٹیڈ صارفین کو جان بوجھ کر نان پروٹیکٹیڈ کیٹگری میں شامل کرنا مجرمانہ فعل ہے۔ جس کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایف آئی اے تمام صورتحال کا جائزہ لے اور حقائق کی روشنی میں بلا امتیاز ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔‘

    محسن نقوی نے کہا ہے کہ ’پروٹیکٹیڈ صارفین پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں اووربلنگ سے ان کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ اوور بلنگ سے پروٹیکٹڈ کیٹگری تبدیل ہونے سے صارفین پر کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔‘

    Bills

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی صارفین کے بِلوں میں مصنوعی طور پر اضافی یونٹ شامل کرنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

    ایک خصوصی اجلاس میں وزیراعظم نے وزیر توانائی سے کہا کہ ’جن اہلکاروں نے 200 یونٹ سے ایک یونٹ بڑھایا ہے انھوں نے غریب صارف پر بہت ظلم ڈھایا ہے۔‘

    وزیراعظم نے وزیر توانائی اویس لغاری کو ہدایات کیں کہ ’جا کر پتا چلائیں کہ وہ کون جلاد ہے، اس کا ہمیں پتا چلانا انتہائی ضروری ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ایسے عوام کے دشمن افسران و اہلکاروں کو معطل کر کے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘

    جبکہ بجلی کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار عامر راؤ نے کے مطابق ’بجلی کے جو صارفین لگاتار چھ ماہ تک 200 یونٹ بجلی استعمال کرتے ہیں وہ پروٹیکٹڈ یا محفوظ کیٹگری میں آجاتے ہیں اور ان کو سرکار کی طرف سے رعایت ملتی ہے۔‘

  8. بلوچستان: بی ایل اے کی جانب سے مغویوں کی رہائی کے لیے دی گئی مہلت ختم، ’ہیش رفت نہ ہونے پر سزا پر عمل درآمد کیا جائے گا‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان سے تعلق رکھنے والی کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے گرفتار لوگوں کی رہائی کے بدلے میں 7 مغوی افراد کی رہائی کے لیے ایک ہفتے کی جو مہلت دی تھی وہ ختم ہوگئی ہے۔

    تنظیم کی جانب سے سنیچر کے روز سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ مغویوں کی رہائی کے بدلے میں تنظیم کے مطالبے پر پیش رفت نہ ہونے پر مغویوں کے سزا پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

    بلوچستان میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم عسکریت پسند تنظیم کی جانب سے 7 مغویوں کی رہائی کے لیے پانچ گرفتار عسکریت پسندوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    حکام کے مطابق مغوی افراد کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے پنجابی بولنے والے سیٹلرز ہیں جن میں تین سگے بھائی بھی شامل ہیں۔

    ان افراد کی بازیابی کے لیے ان کے رشتہ داروں نے بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر اسمبلی کے باہر مظاہرہ بھی کیا تھا۔

    اغوا ہونے والے یہ افراد عید الاضحیٰ کے بعد پکنک منانے گئے تھے جنھیں 7 دیگر افراد کے ہمراہ اغوا کیا گیا تاہم سرکاری حکام کے مطابق ان میں سے 7 افراد کو دو مراحل میں چھوڑ دیا گیا۔

    ان افراد کو کب اور کہاں سے اغوا کیا گیا؟

    ان افراد کو گزشتہ ماہ کی 20 تاریخ کو زرغون غر میں شابان کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔

    زرغون غر کوئٹہ شہر کے مشرق میں ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع ہرنائی کا علاقہ ہے۔ یہ ضلع انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے سبّی ڈویژن کا حصہ ہے۔

    ہرنائی کے متعدد علاقوں کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے متاثر ہیں۔

    اغوا ہونے تمام افراد کوئٹہ سے عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز پکنک منانے شابان گئے تھے جس کا شمار بلوچستان کے سرد اور خوبصورت سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے۔

    ان افراد کے اغوا کے بعد ایک ویڈیو بھی جاری گئی تھی جس میں دن کی روشنی میں مسلح افراد کی بڑی تعداد شابان میں موجود دکھائی دی۔

    یہ مسلح افراد اس ویڈیو میں وہاں بعض لوگوں کے شناختی کارڈز دیکھتے اور بعض افراد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نظر آئے۔

    سبّی ڈویژن کے ایک سابق سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اغوا کاروں نے وقوعہ کے روز مجموعی طور پر 14 افراد کو اغوا کیا تھا جن میں سے چار کو پہلے ہی روز چھوڑ دیا گیا تھا۔

    اہلکار نے بتایا کہ باقی جن دس افراد کو مارگٹ کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں کی جانب لے جایا گیا تھا ان میں سے دو افراد کا تعلق پنجاب جبکہ باقی 8 افراد کا تعلق کوئٹہ سے تھا۔

    ان دس افراد کو اغوا کرنے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔

    اغوا ہونے والے دس افراد میں سے تین کو 26 جون کو رہا کردیا گیا تھا جن میں محمد حارث رفیع ولد محمد رفیع، حسنین سیال ولد عبدالاحد سیال اور عبدالبصیر درانی ولد عبدالعزیز درانی شامل تھے۔

    کالعدم تنظیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے ایک بیان میں رہائی پانے والوں میں سے محمد حارث رفیع کا تعلق ملتان جبکہ باقی دو کا تعلق کوئٹہ سے بتایا گیا تھا۔

    تنظیم کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ باقی 7 افراد کو بلوچ قومی عدالت میں پیش کیا گیا جن پر جرم ثابت ہوا۔

    ان 7 افراد کی رہائی کے بدلے میں تنظیم کی جانب سے اپنے بعض ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اس مقصد کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی تھی۔

    بیان کے مطابق ان افراد کی رہائی کے لیے تنظیم کے مطالبے کو تسلیم کرنے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے پر تنظیم کے کمانڈ کونسل نے مزید مہلت دینے کی بجائے ان 7افراد کے سزاؤں پر عملدرآمد کا حکم جاری کردیا ہے۔

    تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں ان افراد کی شناخت کے حوالے سے بتایا گیا کہ ان میں محمد علی ولد خورشید، حسن رضا ولد شان رضا، فرحان رضا ولد شان رضا، ریحان رضا ولد شان رضا، محمد حمزہ ولد محمد رفیع اور محمد رضا ولد شیخ مقصود رضا شامل ہیں۔

    کالعدم تنظیم کے بیان میں ان افراد کا تعلق پنجاب کے دو مختلف علاقوں خانیوال اور ملتان سے بتایا گیا ہے۔

    سرکاری حکام کا مغوی افراد کے بازیابی کے حوالے سے کیا کہنا ہے؟

    کالعدم عسکریت پسند تنظیم کی جانب سے ان افراد کی رہائی کے لیے دی جانے والی مہلت کے خاتمے کے بعد تنظیم کے بیان کے حوالے سے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور کمشنر سبی ڈویژن سے فون پر رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

    تاہم بلوچستان حکومت میں شامل ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کالعدم عسکریت پسند تنظیم کی جانب سے ان مغویوں کی رہائی کے بدلے میں تنظیم کے پانچ گرفتار لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    اگرچہ حکومتی عہدیدار نے تنظیم کے لوگوں کے نام نہیں بتائے تاہم ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کی جانب سے پانچ افراد کے نام دیئے گئے ہیں جنھیں تنظیم کے مطابق ریاستی اداروں نے گرفتار کیا ہے۔

    حکومتی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی کہ اگرچہ تنظیم کی جانب سے مہلت کے خاتمے کے حوالے سے بیان آیا ہے تاہم حکومت اور ریاستی اداروں کی جانب سے تمام مغوی افراد کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    حکومتی عہدیدار نے تنظیم کی جانب سے مغوی افراد پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ افراد عام شہری اور معصوم لوگ ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کا تعلق پنجاب سے نہیں ہے بلکہ یہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے پنجابی بولنے والے سیٹلرز ہیں جن میں تین سگے بھائی بھی شامل ہیں۔

    BLA

    مغوی افراد کی بازیابی کے لیے مظاہرہ بھی کیا گیا

    شابان سے اغوا ہونے والے ان افراد کے اغوا کی بازگشت نہ صرف بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں سنائی دی تھی بلکہ بجٹ اجلاس کے موقع پر اسمبلی کے باہر ان افراد کی بازیابی کے لیے مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔

    اسمبلی کے اجلاس میں ان افراد کے اغوا کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

    اسمبلی کے باہر ان افراد کی بازیابی کے لیے ان کے رشتہ داروں نے مظاہرہ کیا تھا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

    مظاہرین سے بلوچستان کے وزیر داخلہ میرضیاءاللہ لانگو اور وزیر برائے لائیو سٹاک بخت محمد کاکڑ نے ملاقات کی تھی اور انھیں مغویوں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

    بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے کالعدم عسکریت پسندوں کی جانب سے تشدد کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے اغوا کی ذمہ داری بھی قبول کی جاتی رہی ہے۔

    مغویوں میں سے بعض کو رہا کیا جاتا رہا جبکہ بعض کو ریاستی اداروں کے اہلکار یا ان پر ریاستی اداروں کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگاکر ہلاک بھی کیا جاتا رہا۔

  9. استعفیٰ قبول نہیں، عمران خان کی عمر ایوب کو تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل کے طور کام جاری رکھنے کی ہدایت

    پاکستان تحریک انصاف کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان نے عمر ایوب ایوب خان کا پارٹی کی سیکریٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ قبول نہیں کیا ہے اور انھیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے ساتھ پارٹی کے اس عہدے پر بھی کام جاری رکھنے کی ہدایات کی ہیں۔

    عمر ایوب خان نے 22 جون کو پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

    تحریک انصاف کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق عمران خان نے عمر ایوب خان کی پارٹی کے لیے قربانیوں کا سراہا ہے اور ان کی تعریف کی ہے۔ اس اعلامیے کے مطابق پارلیمانی پارٹی اور تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے متفقہ قراردادوں کے ذریعے عمر ایوب سے استعفیٰ واپس لینے کی استدعا کی تھی۔

    تحریک انصاف

    ،تصویر کا ذریعہPTI

  10. وزیر اعظم کا بجلی کے بلوں میں ’مصنوعی اضافی یونٹ‘ شامل کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم

    Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی صارفین کے بِلوں میں مصنوعی طور پر اضافی یونٹ شامل کرنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

    ایک خصوصی اجلاس میں وزیراعظم نے وزیر توانائی سے کہا کہ ’جن اہلکاروں نے 200 یونٹ سے ایک یونٹ بڑھایا ہے انھوں نے غریب صارف پر بہت ظلم ڈھایا ہے۔‘

    وزیراعظم نے وزیر توانائی اویس لغاری کو ہدایات کیں کہ ’جا کر پتا چلائیں کہ وہ کون جلاد ہے، اس کا ہمیں پتا چلانا انتہائی ضروری ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ایسے عوام کے دشمن افسران و اہلکاروں کو معطل کر کے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘ وزیراعظم شہباز شریف نے ایسے افسران و اہلکاروں کی نشاندہی کے لیے ایف آئی اے کو تحقیقات کی ہدایت کر دی ہے۔

    اجلاس میں وزیر توانائی نے وزیر اعطم شہباز شریف سے کہا کہ ’آج شام تک ہی ایسے اہلکار معطل کر دیں گے اور اس حوالے سے انکوائری کرائیں گے۔‘

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہ@pmln_org

    دوسری جانب حکومت کو اس وقت بجلی کے نرخوں میں اضافے کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔

    عام انتخابات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت بننے کے بعد 300 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی مفت فراہم کرے گی۔

    جبکہ مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے بھی اعلان کیا گیا کہ حکومت بننے کے بعد ان کی کوشش ہو گی کہ صارفین کو 200 یونٹس استعمال کرنے پر بجلی مفت فراہم کی جائے۔ تاہم ایسا نہ ہوسکا بلکہ فروری کے عام انتخابات کے بعد سے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں بتدریج اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

    لیکن اب بجلی کے اضافی بِل آنے پر خود پارلیمان کے ارکان بھی تنقید کررہے ہیں۔

    صرف ایک یونٹ کے اضافے سے بجلی کے بِل بڑھنے کی وجہ کیا ہے؟

    اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے مطابق بجلی استعمال کرنے والوں کو مختلف سلیبز اور کٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے تحت بجلی کے فی یونٹ کی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے اور اس ہی حساب سے ان کا بجلی کا بِل آتا ہے۔

    ان میں گھریلو، کمرشل، صنعتی، زراعت، ریلوے اور پبلک بجلی استعمال کرنے والے صارف شامل ہیں۔

    ایک حکومتی ترجمان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 200 یونٹ تک کا بِل زیادہ تر ان افراد کا آتا ہے جن کے گھر میں ایک بتی، دو پنکھے ہوتے ہیں اور جو فرج یا فریزر استعمال نہیں کر سکتے۔

    ’ایسے افراد ہمارے غریب طبقے میں شامل ہوتے ہیں۔ اور ان کا بِل بھی اسی حساب سے آتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’وہ افراد جو 200 سے اوپر یونٹ استعمال کرتے ہیں، ایک سو ایک کلو واٹ تک، ان کے گھر میں تین پنکھے، ایک کُولر، موٹر ہوتی ہے، تو ہم نے اپنی ورکنگ اس حساب سے کی ہوئی ہے۔ اور انھیں یونٹ کے استعمال کے حساب سے ان صارفین کا بِل آتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سِنگل فیز میٹر کنکشن پر 75 روپے فی کنزیومر ہر ماہ چارج لگتا ہے۔ اور سِنگل فیز صارفین کے لیے حکومت نے سلیبز دیے ہیں۔ جبکہ تھری فیز میٹر کنکشن رکھنے والوں پر 150 روپے فی کنزیومر ہر ماہ چارج لگتا ہے اور تھری فیز کنکشن رکھنے والے کسی سلیب کے اندر نہیں آتے۔‘

    اس بحث کے نتیجے میں چند بنیادی سوالات نے جنم لیا ہے جن کا بی بی سی نے جواب جاننے کی کوشش کی ہے۔

  11. ’کہتے ہیں کہ اقتدار ہماری منزل نہیں، ساتھ ہی اپنے آپ کو مسیحا بھی قرار دیتے ہیں‘: وزیرِ اطلاعات کا عوام پاکستان پارٹی پر ردعمل

    وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللّٰہ تارڑ کا عوام پاکستان پارٹی پر ردِعمل میں کہا کہ ایک جانب کہتے ہیں کہ اقتدار ہماری منزل نہیں اور ساتھ ہی اپنے آپ کو مسیحا بھی قرار دیتے ہیں‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج اربوں پتی سرمایہ کاروں کا اکٹھ تھا جس میں پرانی ٹیپ چلائی گئی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’آج تضادات سے بھرپور تقریریں دیکھنے کو ملیں۔ تضادات سے بھرپور تقریریں کرنے والے ماضی میں اقتدار کی کرسی سے بھرپور لطف اندوز ہوتے رہے۔‘

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’عوام کا سوال ہے کہ جب ملک کی سب سے بڑی کرسی پر براجمان تھے تب آپ کیوں خاموش تھے؟‘

    شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب ’وزیرِاعظم، وزیرِ پٹرولیم اور وزیرِ خزانہ رہنے والے آج کیے گئے اعلانات پر اقتدار کے عہدوں پر رہتے ہوئے عمل کیوں نہ کر سکے؟‘

    عطا تارڑ نے کہا کہ ’جن لوگوں میں وفا جیسی صفت نا ہوں، وہ اقدار کی سیاست کیا کریں گے؟‘

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ نون لیگ جب جب اقتدار میں آئی تو اس نے عوام کے معیار زندگی اور ملکی ترقی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کے مطابق وزیرِاعظم اور اُن کی کابینہ دن رات پاکستان کو معاشی میدان میں ابھرتا ہوا ملک بنانے کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

  12. کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں ’تین ہندو تاجر بازیاب‘

    Sindh

    ،تصویر کا ذریعہSindh Rangers

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کشمور کے کچے علاقے میں پولیس نے آپریشن کر کے تین اغوا کیے گئے ہندو تاجر بازیاب کروا لیے ہیں۔

    اس آپریشن میں پولیس کو سندھ رینجرز کی بھی معاونت حاصل رہی۔ سندھ حکومت کے مطابق ہندو تاجروں کو بھیو گینگ سے آزاد کروایا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ایس ایس پی کشمور اس آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے۔

    صوبائی وزارت داخلہ کے مطابق اس آپریشن میں ’بدنام زمانہ‘ خطرناک ڈاکو امداد عرف امدو بھیو اپنے بھائی نظیر عرف موالی میانداد سمیت ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اس آپریشن میں پانچ مشتبہ ڈاکو بھی زخمی ہوئے ہیں جو اس کے بعد فرار ہونے میں بھی کامیاب ہو گئے ہیں۔

    امداد بھیو غوثپور کے تین اغوا شدہ ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے تاجروں کے اغوا اور پانچ بینک ملازمین کے اغوا کا ماسٹر مائینڈ تھا۔

    ترجمان رینجرز کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکو امدو پر 50 کے قریب اور ان کے بھائی پر 25 اغوا کاری، پولیس مقابلے، پولیس پکٹ پر حملے، ڈکیتی، قتل اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم کے مقدمات تھے۔

    ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ امدو بھیو اور ان کے بھائی کی لاشوں کو سول ہسپتال کندھ کوٹ منتقل کر دیا گیا۔ حکومتی ترجمان کے مطابق اس آپریشن میں فرار ہونے والے زخمی ڈاکوؤں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

  13. موجودہ بجٹ نے حکمرانوں کی ترجیحات واضح کر دیں، نوکری پیشہ افراد پر ٹیکس دگنا کر دیا گیا: سابق وزیر خزانہ

    مفتاح اسماعیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے عوام پاکستان پارٹی کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ نے حکمرانوں کی ترجیحات واضح کردی ہیں۔ بجٹ میں نوکری پیشہ افراد پر ٹیکس دگنا کر دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ حکمرانوں نے اپنی کتابیں برابر کرنے کے لیے عام آمدمی پر ٹیکس کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔

    تنخواہ دار طبقے کے نئے سلیبز کیا ہیں؟

    یکم جولائی 2024 سے شروع ہونے والے مالی سال کے بجٹ میں کُل ٹیکس سلیب سات ہیں:

    • پہلا سلیب: تنخواہ چھ لاکھ روپے سالانہ
    • دوسرا سلیب: تنخواہ چھ لاکھ سے 12 لاکھ سالانہ
    • تیسرا سلیب: تنخواہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 12-24 لاکھ تھا)
    • چوتھا سلیب: تنخواہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 24-36 لاکھ تھا)
    • پانچواں سلیب: تنخواہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 36-60 لاکھ تھا)
    • چھٹا سلیب: تنخواہ 41 لاکھ سے زیادہ (یہ سلیب رواں مالی سال میں 60 لاکھ سے زیادہ تنخواہ والے افراد کے لیے تھا)
    • ساتواں سلیب: تنخواہ ایک کروڑ سالانہ

    آپ کا ٹیکس کتنا بڑھے گا؟

    • اگر آپ کی آمدن پچاس ہزار روپے ماہانہ ہے تو آپ کو کوئی انکم ٹیکس نہیں دینا ہو گا۔ تاہم اگر یہ آمدن 50 ہزار اور ایک لاکھ روپے ماہانہ کے درمیان ہے یعنی مثال کے طور پر80 ہزار ہے تو آپ کو ماہانہ چار ہزار روپے ٹیکس دینا پڑے گا جو گذشتہ برس دو ہزار تھا۔
    • ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے آمدن کی صورت میں گذشتہ برس آپ کو 7500 روپے ماہانہ ٹیکس ادا کرنا ہوتا تھا، تاہم اب یہ رقم بڑھ کر 10 ہزار روپے ماہانہ ہو جائے گی۔
    • دو لاکھ روپے ماہانہ کمانے والوں کو گذشتہ برس تک 13750 روپے ماہانہ ٹیکس دینا پڑتا تھا، تاہم اب ان کا سلیب تبدیل ہو گیا ہے اور انھیں 19,166 روپے ماہانہ ٹیکس دینا پڑے گا۔
    • ایسے افراد جن کی ماہانہ آمدن ڈھائی لاکھ روپے ہے وہ اس سے قبل 25 ہزار روپے ماہانہ ٹیکس کی مد میں دیا کرتے تھے، اب یہ 31666 روپے ماہانہ انکم ٹیکس دیں گے۔
    • تین لاکھ ماہانہ کمانے والے افراد پہلے ماہانہ 36250 روپے انکم ٹیکس دیتے تھے اور اب اس رقم پر ان کا ماہانہ ٹیکس 45833 روپے بنے گا۔
    • ساڑھے تین لاکھ کمانے والوں کا ماضی میں ماہانہ انکم ٹیکس 50 ہزار روپے تھا، جو اب بڑھ کر 61250 روپے ہو جائے گا۔
    • ایسے افراد جن کی ماہانہ آمدن چار لاکھ روپے ہے وہ اس سے قبل 63750 روپے ماہانہ ٹیکس ادا کرتے تھے، اب یہ رقم بڑھ کر 78750 روپے ہو جائے گی۔
  14. ’ادارے پر نہیں ہمارے تحفظات شخصیات پر ہیں‘: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    ،تصویر کا ذریعہX/ALIAMIN

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ عدلیہ کے چند ججزنے خط لکھ کر بتایا ہے کہ ان پر دباؤ ہے۔ راولپنڈی کی ایک عدالت میں ایک مقدمے میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’ہم بات ادارے کی کریں گے ہمیشہ، شخصیات کی نہیں کریں گے۔ خدا کی ذات کامل ہے، انسانوں میں کمی بیشی ہوتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر شخصیات کچھ ایسا کرتی ہیں، اس پر ہمارے تحفظات ہیں تو اس پر بات کرتے ہیں تو اس کا تعلق کوئی ادارے سے نہیں ہوتا۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’عدلیہ نے یہ کہا ہے کہ ہم پر دباؤ ہے، ایسا نہیں چلے گا جو ہو رہا ہے۔‘

    واضح رہے کہ رواں برس مارچ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز نے خفیہ اداروں کے عدلیہ پر ’دباؤ‘ سے متعلق خط میں سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ آئی ایس آئی کے نمائندوں کی عدالتی امور میں مسلسل مداخلت پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

    اس خط میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کنونشن سے پتہ چلے گا کہ کیا ملک کی دیگر ہائیکورٹ کے ججز کو بھی اس صورتحال کا سامنا ہے۔

    اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی رسپانس کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ دس مئی سنہ 2023 کو ہائیکورٹ ججز نے چیف جسٹس کو لیٹر لکھا کہ آئی ایس آئی آپریٹوز کی مداخلت پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    IHC

    ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انکوائری ہونی چاہیے کہ کیا سیاسی کیسز میں عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونا ریاستی پالیسی تو نہیں؟ اور کہیں انٹیلی جنس آپریٹوز کے ذریعے ججز کو دھمکا کر اس پالیسی کا نفاذ تو نہیں کیا جا رہا ہے۔

    علی امین نے کہا کہ آج ’عمران خان کو جعلی مقدمات میں جیل میں رکھا ہوا ہے، ان مقدمات میں سے کچھ بھی نہیں نکلا ہے۔ ان کے مطابق ’اب اس کا حساب کون دے گا۔‘ ان کے مطابق ’کوئی تو سزا اور جزا کا نظام ہونا چاہیے۔ جو لوگ آئین توڑ رہے ہیں انھیں آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت سزا ملنی چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری عدلیہ سے گزارش ہے کہ پوری قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ عدلیہ سے گزارش ہے کہ قانون پر عملداری آپ کی ذمہ دار ہے۔ عدلیہ قوم کی ایک امید ہے اگر فیصلوں پر عمل نہ ہوا تو یہ امید بھی ٹوٹ جائے گی۔‘

    ’چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنے آپ کو تحریک انصاف کے مقدمات سے علیحدہ کریں‘: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا مطالبہ

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    ،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN

    انھوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو تحریک انصاف سے متعلقہ تمام مقدمات سے علیحدہ کر لیں۔ انھوں نے کہا کہ جب کسی پر سوالیہ نشان آ جائے تو انھیں علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے۔

    خیال رہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دیے تھے کہ انھوں نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان لیا تھا، پارٹی ختم نہیں کی تھی جبکہ ان کے اس حکم کی غلط تشریح الیکشن کمیشن نے کی ہے۔

    وزیراعلیٰ کے مطابق الیکشن کمیشن کو غلط تشریح کی سزا دینے کے بجائے اس غلطی کی سزا بھی تحریک انصاف کو دی جا رہی ہے۔ علی امین نے کہا کہ ان کا ادارے سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت ’عدلیہ اور آئین کا احترام کرتی ہے۔‘

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی قیادت چند روز سے چیف جسٹس سے پریس کانفرنسز کر کے بھی چیف جسٹس سے تحریک انصاف کے مقدمات سے علیحدگی اختیار کرنے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے۔

    ’مذاکرات کے مختلف دور ہوتے ہیں‘

    وزیراعظم شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہNATIONAL ASSEMBLY

    جب ان سے پوچھا گیا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ مذاکرات کا دور گزر چکا ہے تو اس پر علی امین نے کہا کہ مذاکرات کے مختلف دور ہو تے ہیں۔ الیکشن سے پہلے تو مذاکرات کا پیغام خود عمران خان نے اڈیالہ جیل سے دیا تھا۔

    ان کے مطابق مگر اب جو مذاکرات ہوں گے ’پہلے اب مینڈیٹ واپس ہوگا، کارکنان پر تشدد، ظلم اور سیاسی اسیران کی رہائی پر بات ہو گی۔

    عمران خان کی بھوک ہڑتال سے متعلق سوال پر ان کا مؤقف تھا کہ اگر عمران خان نے ایسا کیا تو پھر دنیا بھر میں تحریک انصاف کے کارکنان بھوک ہڑتال پر چلے جائیں گے۔

    نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی میں عزم استحکام آپریشن سے متلعق سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’ایپکس کمیٹی میں عزم استحکام کی بات ہوئی تھی، آپریشن کا نام نہیں تھا۔ اگر کوئی ایسی بات ہو گی تو پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لینا ہو گا۔ یہ کوئی مذاق تو نہیں ہے۔‘

  15. ’ہر کوئی پوچھتا ہے اسٹیبلشمنٹ سے اجازت مل گئی؟‘ شاہد خاقان عباسی کی ’عوام پاکستان‘ پارٹی لانچ

    Awam Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہMiftah Ismail/Facebook

    اسلام آباد میں سنیچر کو نئی سیاسی جماعت ’عوام پاکستان‘ کی لانچنگ یعنی تاسیس سے متعلق منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی جماعت کے صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ’ان سے ہر جگہ ایک سوال پوچھا جاتا ہے اور کچھ اشاروں میں پوچھتے ہیں کہ کیا ’اسٹیبلشمنٹ ساتھ ہے، اس سے اجازت لے آئے ہیں۔‘

    شاہد خاقان عباسی کی نئی جماعت کی لانچنگ دارالحکومت کے ایک ہوٹل کے بینکوئٹ ہال میں ہوئی۔ اس تقریب میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور مسلم لیگ ن کے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار مہتاب عباسی کے علاوہ سیاسی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

    آٹھ فروری کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا حوالہ دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’یاد رکھیں کہ فارم 47 والے ملک نہیں بناتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اب 24 کروڑ کے ملک میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت ہے تو پھر اسٹیبلشمنٹ نے ہی بنائی ہو گی۔‘ ان کے مطابق ’یہ بدنصیبی ہے ملک کی کیونکہ ماضی میں بننے والی جماعتوں کی ایک طویل فہرست ہے جو اسٹیبلشمنٹ نے ہی بنائی ہیں۔‘

    خیال رہے کہ شاہد خاقان عباسی طویل عرصے تک مسلم لیگ ن سے وابسطہ رہے ہیں۔ ان کے والد خاقان عباسی بھی سابق فوجی صدر ضیاالحق کے دور میں وفاقی وزیر رہے ہیں۔

    شاہد خاقان عباسی نے اپنی نئی جماعت کے تاسیسی اجلاس سے خطاب میں مزید کہا کہ ’اس ملک کا مستقبل پارلیمانی جمہوریت اور آئین سے جڑا ہوا ہے۔ ہم آئین کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھتے ہیں۔ اس ملک کا وزیراعظم آرمی چیف کے تابع نہیں ہو سکتا اسی طرح دوسرے عہدیدار بھی کسی کے ماتحت نہیں ہو سکتے ہیں ہم سب پاکستان کے آئین کے تابع ہیں۔‘

    انھوں نے تجویز دی کہ ’ایک دفعہ اس ملک کے آئین کو موقع دے کر دیکھ لیں کیسے ملک آگے بڑھتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر آئین میں کوئی خامی ہے تو دور کر لیں مگر کوئی گھر، کوئی کاروبار کسی ضابطے کے بغیر نہیں چل سکتا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم آئین توڑتے رہیں اور ملک چلتا رہا۔‘

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’ہر شخص جو آئینی عہدے رکھتا ہے وہ ہر روز ملک توڑ رہا ہوتا ہے۔ ہر غیر آئینی عمل نے کرپٹ ترین لوگ اس نظام کو دیے ہیں۔ کیسے ہم اس ملک کو آگے بڑھائیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں ہم سب مسائل کی بات کرتے ہیں۔ ہم نے مسائل کی بات کرنا چھوڑ دی ہے۔ ہم احتساب کی بات کرتے ہیں۔ ہر شخص کہتا ہے کہ میں احتساب کروں گا۔ احتساب اگر کرنا ہے تو ان لوگوں کا کرنا چاہیے کہ جو دوسروں پر ٹیکس لگاتے ہیں اور خود ٹیکس ادا نہیں کرتے۔‘

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’ان میں سکت نہیں ہے کہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کر سکیں۔ عوام پر ٹیکس لگانا آپ جانتے ہیں مگر کھربوں کی سمگلنگ نہیں روک پاتے۔‘

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کی آئیڈیالوجی کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اسلام ہمارا دین ہے اور ضابطہ حیات ہے، پاکستان ہماری پہچان ہے، یہ ہماری آئیڈیالوجی ہے، پاکستانی عوام کی خدمت ہماری آئیڈیالوجی ہے۔ عوام پاکستان ایک سوچ اور فکر کا نام ہے۔ ہر قیمت پر اقتدار کا حصول نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس پلیٹ فارم سے جلد ایک ’وژن سٹیٹمنٹ‘ جاری کریں گے جس میں حل پیش کیا جائے گا تا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ صرف باتیں کرتے ہیں۔

    شاہد خاقان نے دعویٰ کیا کہ ’آج جو سٹیج پر لوگ بیٹھے ہیں یہ آج کے حکمرانوں سے بہتر حل پیش کر سکتے ہیں۔ ہمیں وہ سوچ چاہیے جو ملک کے مسائل حل کر سکے۔‘ انھوں نے کہا کہ کوئی چیز بھی علیحدگی میں نہیں ہو سکتی۔ معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام چاہیے۔ انصاف چاہیے، ملک آئین کے تحت چلنا چاہیے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’میں 35 سال سے قانون بنتے دیکھ رہا ہوں۔ 95 فیصد قوانین حکومت کی سہولت کے لیے بنائے جاتے ہیں، عوام کے لیے نہیں ہوتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج تاریکی ہی تاریکی ہے، کوئی تو اس تاریکی میں بات کرنے والا ہو۔‘

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’یہ ایک بنیادی بات ہے کہ آپ کو ملک آئین کے مطابق چلانا پڑے گا۔ رشتے آئینی اداروں کے درمیان کرسی کے لیے نہیں ہوں گے۔ پاکستان کی ترقی کے لیے ہوں گے۔ کسی شخص کی ترقی کے لیے نہیں ہوں گے۔‘

    صدر عوام پاکستان نے کہا کہ ’نہ ہم شخصیات کی سیاست کو پروان چڑھانا چاہتے اور نہ کسی خاندان کی سیاست کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں اور نہ پیسے کی سیاست کو آنے دیں گے۔‘ شاہد خاقان نے کہا کہ ان کی جماعت ’عوام پاکستان‘ کی صدارت دو سال سے زیادہ کسی کے پاس نہیں رہے گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ملک کا ہر نظام ناکام ہو چکا ہے۔ گورننس، پولیس اور ریونیو کا نظام ناکام ہے۔

    شاہد خاقان کے مطابق ’اختیارات اور طاقت کو ضلعے کی سطح پر نہیں لائیں گے تو یہ نظام آگے نہیں چل سکتا۔‘ ان کے مطابق ’انٹرنیٹ بند کر دیا جاتا ہے۔ دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے۔ پوری معیشت انٹرنیٹ پر چلتی ہے۔ آج جلسہ ہے تو انٹرنیٹ سلو کر دیا جاتا ہے۔‘

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’سارے بجٹ دیکھ لیں کسی نے کسی ایک معاملے میں اصلاح کی بات کی ہے۔ صرف اضافی ٹیکس لگا کر اپنی کتابیں برابر کر دی ہیں۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’حکومت ہر شخص کی حیثیت سے اس سے ٹیکس وصول کرے۔ ہر شہری کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ٹیکس ادا کرے مگر 50 فیصد ہر شہری کی ذمہ داری نہیں ہے۔‘ ان کے مطابق ’آپ پاکستان میں ہر ٹیکس چوری کرنے والے کو پکڑ سکتے ہیں۔ آپ کے پاس نادار اور دیگر ادارے ہیں۔ مگر آپ نہیں پکڑیں گے کیونکہ اس سے آپ خود پکڑے جائیں گے۔‘

  16. پاکستان تحریکِ انصاف کا اسلام آباد میں جلسہ ملتوی کرنے کے فیصلہ

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اسلام آباد میں آج کا جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اب یہ جلسہ عاشورہ کے بعد ہو گا، انھوں نے کہا کہ ورکرز جلسے کے لیے پرامید تھے لیکن ہم نے ہمیشہ آئین و قانون کا سہارا لیا ہے اور اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ کی جانب سے تحریکِ انصاف کے آج ہونے والے جلسے کا این و سی معطل کر دیا گیا تھا اور اس کی وجہ مجموعی سکیورٹی صورتحال اور محرم الحرام کو بتایا گیا تھا۔

    جس کے بعد تحریکِ انصاف کے رہنما عمر ایوب نے کہا تھا کہ ’جو مرضی ہو جائے جلسہ ہو کر رہے گا۔‘

  17. محرم میں انٹرنیٹ بند کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ وزیر اعظم کریں گے، وزارت داخلہ

    وزارت داخلہ نے محرم الحرام میں انٹرنیٹ کی بندش کے لیے صوبوں کی درخواستوں کے معاملے پر بیان میں کہا ہے کہ صوبوں کی درخواستوں پر ابھی وزارت داخلہ نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

    وزارت داخلہ کے مطابق وزیر اعظم انٹرنیٹ بند کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کریں گے،ابھی کسی صوبے کی درخواست منظور کی ہے نہ مسترد کی ہے۔

    یاد رہے اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آ رہی تھیں کہ حکومت نے محرم الحرام کے دوران سوشل میڈیا کی بندش کے حوالے سے صوبوں کی درخواست مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ سوشل میڈیا ایپس بند کرنے کی بجائے محرم الحرام میں سکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت کو مختلف صوبوں کی طرف سے مختلف سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کو چھ سے 11 محرم تک بند رکھنے کی سفارشات موصول ہوئی تھیں۔

  18. اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے آج ہونے والے جلسے کا این او سی معطل کر دیا

    پاکستان تحریک انصاف کا جلسہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسلام آباد انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کے آج (سنیچر) ہونے والے جلسے کا این او سی معطل کردیا ہے۔

    اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی صورتحال اور محرم الحرام کے باعث این او سی معطل کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق این او سی کی معطلی کا فیصلہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی نے اسلام آباد کا جلسہ ہر صورت میں کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا ہے کہ ’جو مرضی ہو جائے جلسہ ہو کر رہے گا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    جلسہ ہو کر رہے گا اور ’ہیش ٹیگ اسلام آباد جلسہ‘

    اسلام آباد میں تحریک انصاف کے جلسے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اس وقت ہیش ٹیگ اسلام آباد جلسہ بھی ٹاپ ٹرینڈز میں سے ایک ہے۔

    تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب نے ایکس پر پیغام میں لکھا کہ ’ فارم 47 والے چاہے جو بھی کریں لیکن ہم جلسہ کریں گے‘

    عمر ایوب نے صحافی کے پوچھے گئے ایک سوال پر یہ بھی کہا کہ ’ لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لئے ہماری ایک ٹویٹ ہی کافی ہے۔‘

    یاد رہے کہ دو روز قبل رہنما پاکستان تحریک انصاف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہ چھ جولائی کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ چھ جولائی کو اسلام آباد میں بہت بڑا جلسہ کرنے جارہے ہیں، جلسہ عمران خان کی رہائی کے لیے اور مہنگائی کے خلاف ہوگا۔

    انھوں نے کہا تھا کہ چھ جولائی کو اسلام آباد میں جلسہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہوگا، عوام اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہر صورت اس میں شرکت کریں۔

    دوسری جانب جلسے کے مقام ترنول کے رہائشیوں کی جانب سے اسلام آباد انتظامیہ کو لکھا گیا ایک خط بھی سامنے آیا ہے جس میں اہل علاقہ کی جانب سے انتظامیہ سے اپیل کی گئی ہے کہ محرم الحرام اور سیکیورٹی کے باعث ان کے علاقے میں جلسے کی اجازت نا دی جائے۔

    اہل علاقہ کے خط کے متن کے مطابق’ سیاسی گہما گہمی کے باعث روڈ بلاک کیے جانے سے ان کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے اور روز مرہ کے معمولات میں بھی خلل پڑتا ہے۔‘

    خط کے مطابق ’ محرم الحرام کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور سیاسی جلسے میں پارٹی ترانے ساؤنڈ سسٹم پر لگائے جاتے ہیں جس سے محرم کے تناظر میں جزبات متاثر ہو سکتے ہیں اور نقص امن کا خدشہ بھی ہو سکتا ہے لہذا اس مقام پر جلسے کی اجازت نہیں دی جائے۔‘

    دوسری جانب پی ٹی آئی نے سنیچر کی شام کراچی میں بھی جلسے کی کال دے رکھی ہے۔

    پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہx.com/PTIKarachi

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام میں پی ٹی آئی نے پیغام میں لکھا ہے کہ ’پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی رہائی اور بڑھتی ہوئی بد ترین منہگائی کے خلاف پر امن احتجاج کیا جائے گا۔‘

    پی ٹی آئی کے پیغام کے مطابق ’پر امن احتجاج بروزِ ہفتہ بتاریخ 6 جولائی شام 6 بجے ملینیم مال کے سامنے کیا جائے گا۔‘

  19. ’کوشش کریں گے عزم استحکام سے متعلق کل جماعتی کانفرنس میں اتفاق رائے پیدا کروا سکیں‘: بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو زرداری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک میں آپریشن سے متعلق ایک اعلان کیا ہے اور اس حوالے سے وزیر اعظم نے کل جماعتی کانفرنس بھی بلائی ہے۔

    واضح رہے کہ آپریشن عزم استحکام کا اعلان نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا تھا۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اس اجلاس میں آرمی چیف اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے بھی شرکت کی تھی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ نہ صرف پی پی پی اس کانفرنس میں شرکت کرے گی بلکہ وہاں ہم بلوچستان میں جو ہمیں مسائل کا سامنا ہے اپنا مؤقف بھی سامنے رکھیں گے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم کوشش کریں گے کہ اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ بلوچستان کے تناظر میں یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’تمام سیاسی جماعتوں کو موقع ملے گا کہ وہ اپنی رائے دیں۔ پیپلز پارٹی اس موقع پر اپنی رائے کا اظہار ضرور کرے گی۔‘

  20. آپریشن عزم استحکام پر ’بلا جواز تنقید‘ پر کور کمانڈرز کانفرنس کا تشویش کا اظہار

    COAS

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس میں چند حلقوں کی جانب سے عزمِ استحکام کے حوالے سے بلاجواز تنقید اور مخصوص مفادات کے حصول کے لیے قیاس آرائیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے اعلامیے کے مطابق جمعے کے دن آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 265ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں عزمِ استحکام کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    فورم نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کے ضمن میں عزمِ استحکام کو اہم قدم قرار دیتے ہوئے چند حلقوں کی جانب سے بلاجواز تنقید اور مخصوص مفادات کے حصول کے لیے قیاس آرائیوں پر اظہارِ تشویش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملک میں پائیدار استحکام اور معاشی خوشحالی کے لیےعزمِ استحکام دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں (Illegal Spectrum) کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنے کے لیے وقت کا اہم تقاضہ قرار دیا گیا۔

    فورم کا علاقائی سلامتی بالخصوص افغانستان کی صورتحال پر غور اور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    کانفرنس کے شرکا نے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے جاری ڈیجیٹل دہشت گردی کو ریاستی اداروں کے خلاف سازش قرار دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ریاست مخالف بیرونی طاقتوں کی سرپرستی میں جاری ڈیجیٹل دہشت گردی کا مقصد جھوٹ، جعلی خبروں اور پروپیگنڈے کے ذریعے قوم میں نفاق اور مایوسی پھیلانا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے شرکا کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان اور پاکستانی قوم ان سازشوں سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ دشمن کے مذموم مقاصد کو شکست دینے کے لیے پُرعزم اور متحد ہیں۔