لائیو, اسلام آباد اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی میں 15 اکتوبر تک توسیع

وفاقی حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی میں توسیع کر دی ہے۔ رینجرز 15 اکتوبر تک اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں تعینات رہے گی، اس سے قبل وفاقی حکومت نے رینجرز کی تعیناتی کی منظوری 5 اکتوبر تک دی تھی۔ اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے تین ہزار رینجرز اہلکار تعینات رہیں گے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. اسلام آباد اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی میں 15 اکتوبر تک توسیع

    رینجرز

    وفاقی حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی میں توسیع کر دی ہے۔ رینجرز 15 اکتوبر تک اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں تعینات رہے گی، اس سے قبل وفاقی حکومت نے رینجرز کی تعیناتی کی منظوری 5 اکتوبر تک دی تھی۔

    اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے تین ہزار رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی میں توسیع کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان رینجرز کے تین ہزار اہلکار پانچ اکتوبر سے 15 اکتوبر تک اسلام آباد میں خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ حکام کے مطابق رینجرز کی تعیناتی کا مقصد سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کرنا ہے۔

    حکام کے مطابق تعینات کیے جانے والے رینجرز اہلکار حساس مقامات، سرکاری عمارتوں اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں میں بھی حصہ لیں گے۔

    واضح رہے کہ دارالحکومت میں حالیہ دنوں کے دوران سیاسی سرگرمیوں اور ممکنہ عوامی اجتماعات کے پیش نظر سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے، جس کے تحت رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  2. آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہازوں پر حملے، برطانوی ایجنسی

    Strait of Harmuz

    برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو تیل بردار جہازوں پر الگ الگ حملے کیے گئے ہیں، جس سے دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک میں بحری سلامتی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

    برطانوی بحری اتھارٹی کے مطابق پہلے واقعے میں ایک ٹینکر آبنائے ہرمز سے نکل رہا تھا کہ اسے ایک نامعلوم پراجیکٹائل نے نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں جہاز میں معمولی آگ بھڑک اٹھی اور بجلی کا نظام متاثر ہوا۔ تاہم عملے نے آگ پر قابو پا لیا اور جہاز نے اپنا سفر جاری رکھا۔ حکام کے مطابق واقعے میں کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع نہیں ملی۔

    چند گھنٹوں بعد پیش آنے والے دوسرے واقعے میں عمان کے مشرق میں ایک خام تیل بردار جہاز بھی نامعلوم پراجیکٹائل کی زد میں آیا۔ برطانوی ایجنسی کے مطابق اس حملے میں بھی عملے کے ارکان محفوظ رہے اور کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور حملوں کی نوعیت اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کے تیل اور گیس کی بڑی مقدار بحری راستے سے گزرتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس علاقے میں بحری جہاز رانی کو متعدد خطرات کا سامنا رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایسے حملے نہ صرف عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں بلکہ خطے میں سلامتی کی صورتحال کو بھی مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

  3. بیڈیاں سیکٹر میں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت، انڈیا کے ناظم الامور طلب

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان نے بین الاقوامی سرحد کے قریب بیڈیاں سیکٹر میں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے انڈیا کے ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا ہے۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں شہری دو اکتوبر کو انڈین بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’بی ایس ایف اہلکاروں نے غیر مسلح شہریوں کے خلاف ’بلااشتعال مہلک طاقت‘ استعمال کی، جو ’بالکل بلاجواز اور حد سے زیادہ‘ تھی اور اس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان ہلاک ہونے والے افراد کو ’درانداز‘ قرار دینے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔‘

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ واقعہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس سے بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کی زندگی کے تحفظ کے حوالے سے بھی تشویش پیدا ہوئی ہے۔

    پاکستان نے انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مناسب قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے اور تحقیقات کے نتائج اور کی گئی کارروائی سے پاکستانی حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے۔

    وزارتِ خارجہ نے انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا احترام یقینی بنائے، متعلقہ دوطرفہ معاہدوں اور سرحدی طریقہ کار کی پابندی کرے، ایسے حالات میں زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    واضح رہے کہ گذشتہ شب پاکستان اور انڈیا کے درمیان سرحد پر قائم شہر قصور میں بین الاقوامی سرحد پر انڈین بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا تھا۔

    تاہم ان ہلاکتوں کے حوالے سے انڈیا اور پاکستان کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آ آتے رہے۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ضلع قصور کے ’لدھڑ گاؤں سے تعلق رکھنے والے تین مقامی پاکستانی شہری سرحدی پِلر سے چند قدم آ گے ہی بڑھے تھے کہ انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز نے انھیں بغیر وارننگ دیے ہدف بنایا۔‘

    دوسری جانب انڈیا کے سرکاری میڈیا ’آل انڈیا ریڈیو‘ نے بی ایس ایف کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے دونوں پاکستانی شہری انڈین پنجاب میں ’دراندازی‘ کی کوشش کر رہے تھے اور ’غیرقانونی طور پر انڈیا پاکستان سرحد پار کر رہے تھے۔‘

    پاکستان کے سرکاری میڈیا نے ہلاک ہونے والے دو شہریوں کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے ناموں سے کی تھی۔

    پاکستانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا تھا کہ انڈین میڈیا نے بھی فالس فلیگ آپریشن کی روش کو زندہ رکھتے ہوئے معصوم شہریوں کو درانداز قرار دیا، مگر حقیقت میں ان تینوں افراد میں سے کسی نے بھی سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

  4. ترکی اور عراق کے درمیان تیل و گیس کے شعبے میں طویل مدتی معاہدے کے لیے مذاکرات

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    عراق اور ترکی نے تیل و گیس کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک طویل مدتی معاہدے تک پہنچنے کی خاطر مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

    عراقی سرکاری خبر رساں ادارے (آئی این اے) کے مطابق عراقی وزیرِ تیل باسم محمد خضیر اور ترکی کے وزیرِ توانائی و قدرتی وسائل الپ ارسلان بایراکتار نے انقرہ میں ملاقات کی۔

    عراقی وزارتِ تیل کے مطابق ملاقات میں تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، پیٹروکیمیکل صنعت اور دونوں ملکوں کے درمیان توانائی کی تجارت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔

    آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عراق کی تیل برآمدات میں 80 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد بغداد متبادل راستوں کے ذریعے اپنی تیل کی برآمدات جاری رکھنے اور ترکی کے ساتھ طویل مدتی تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دونوں ملکوں نے ان مشکلات سے بچنے کے لیے اب متبادل ترسیلی راستوں کا رخ کیا ہے۔

    اگست میں ترکی کی سرکاری کمپنی ’بوتاش‘ اور عراق کی سرکاری تیل کمپنیوں ’سومو‘ اور ’این او سی‘ کے درمیان کرکوک - جیہان آئل پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی ترسیل بڑھانے کے لیے ایک سالہ معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

  5. فرانس میں تعلیمی نظام کے خلاف طلبہ کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں، 1,747 افراد گرفتار

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفرانس میں احتجاج کے مناظر

    فرانس میں تعلیمی معیار اور سکولوں کی صورتحال کے خلاف ہزاروں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    احتجاج کے باعث ملک بھر میں 700 سے زیادہ سکول متاثر ہوئے جبکہ سڑکوں پر بھی آگ لگانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    مظاہرین اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور سکولوں کی خستہ حال عمارتوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

    فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ جمعے کو 1747 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں صورتحال ’فسادات اور شہری تشدد‘ کی جانب بڑھ رہی ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے تمام دستیاب اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    Reuters
    ،تصویر کا کیپشنملک کے 3700 سکولوں میں سے 735 کسی نہ کسی طرح ان پرتشدد مظاہروں سے متاثر ہوئے ہیں

    فرانس کے وزیر انصاف ژیرال دارمانین نے کہا کہ ’احتجاج اب ہائی سکول کے طلبہ کے مظاہروں سے بڑھ کر امنِ عامہ کے لیے مسئلہ بن چکا ہے۔‘ ان کے مطابق ملک کے 3700 سکولوں میں سے 735 کسی نہ کسی طرح ان پرتشدد مظاہروں سے متاثر ہوئے ہیں۔

    یہ احتجاج گذشتہ ہفتے پیرس سے شروع ہوا تھا اور اب مونپیلیے، نانٹ اور مارسیلے سمیت ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گیا ہے۔

    طلبہ کا کہنا ہے کہ سکول کے اوقات بہت طویل ہیں، کلاس رومز بہت گرم ہیں اور عملے کے بہت سے ارکان کام سے غیر حاضر رہتے ہیں۔

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفرانس میں تعلیمی معیار اور سکولوں کی صورتحال کے خلاف ہزاروں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں

    فرانس کے وزیر تعلیم ایڈوار ژیفغے نے الزام عائد کیا ہے کہ ’طلبہ کی اس تحریک کو غیر طلبہ افراد نے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا ہے۔‘

    احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حکومت کی جانب سے مجوزہ بجٹ میں کمی کے منصوبوں سے تعلیم کے لیے مختص فنڈز بھی متاثر ہوں گے، جس پر نوجوان مظاہرین میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

    والدین کو بھی خدشہ ہے کہ ان کے بچے احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد اور بدامنی کی زد میں آ سکتے ہیں۔

    فرانس کی متعدد ٹریڈ یونینز نے طلبہ کے احتجاج کی حمایت کی ہے۔ یونین فیڈریشن سولیڈیئرز نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہمیں اپنے بچوں پر حملہ نہیں ہونے دینا چاہیے‘ اور کہا کہ ’سیکنڈری سکول کے طلبہ کو اجتماع، تنظیم سازی اور مظاہرے کا حق حاصل ہے۔‘

    EPA/Shutterstock
    ،تصویر کا کیپشنفرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ جمعے کو 1747 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے
  6. غزہ میں رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملہ، پانچ فلسطینی ہلاک

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی فوج کے غزہ میں تازہ حملوں کے بعد کے مناظر

    غزہ میں محکمہ صحت کے حکام اور امدادی کارکنوں نے بتایا ہے کہ ہفتے کی صبح شہر میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

    اسرائیلی فوج نے تاحال اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    گذشتہ سال امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، تاہم مذاکرات کار ابھی تک حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کی شرائط پر کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

    اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں غزہ پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ حماس دوبارہ ہتھیار جمع کر رہی ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملے کر رہی ہے۔

    تاہم حماس کا کہنا ہے کہ وہ نہ تو حملوں کی کوشش کر رہی ہے اور نہ ہی اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے کو دوبارہ بڑھا رہی ہے۔ حماس نے اسرائیل پر غزہ میں امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

    غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق گذشتہ اکتوبر جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,400 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران غزہ میں مسلح افراد کے ہاتھوں اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    Getty Images
  7. ایران کے ساتھ جنگ شاید ’وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد‘ ختم ہو جائے گی: ٹرمپ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریاست الاباما میں موجود

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست الاباما کے شہر موبائل میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ ’ایران کے ساتھ جنگ شاید وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔‘

    این بی سی نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں کے دوران کئی بار اس طرح کے بیانات دیے ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ جنگ کی مخالفت کرنے والے امریکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایران کے معاشی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ایران میں افراطِ زر تقریباً 310 فیصد ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ان کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، ان کے پاس ایک چیز ہے جو واقعی موجود ہے اور وہ ہے ’افراطِ زر۔۔۔‘ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا ہوتا ہے۔‘

    ٹرمپ نے ریلی میں شریک لوگوں سے کہا کہ ’یہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی، شاید انتخابات کے فوراً بعد۔ لیکن جیسے ہی یہ ختم ہوگی، تیل کی قیمت میں نمایاں کمی آئے گی۔‘

    انھوں نے کئی مرتبہ زور دیا کہ یہ جنگ ’کسی نہ کسی طرح‘ جلد ختم ہو جائے گی۔

    رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دستیاب اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں ایک گیلن پیٹرول کی اوسط قیمت اس وقت 39 اعشاریہ چار ڈالر ہے۔

  8. آسٹریلیا میں ہجوم پر گاڑی چڑھ جانے سے متعدد افراد زخمی، بچوں سمیت کئی کی حالت تشویشناک

    آسٹریلیا کے شہر نیوکاسل میں سنیچر کے روز ایک گاڑی ہجوم میں گھس گئی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے، جبکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    پولیس کے مطابق گاڑی کے ڈرائیور کو واقعے کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا۔ نیوکاسل شہر سڈنی سے تقریباً 110 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

    پولیس کے ترجمان نے کہا کہ زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعے کا دہشت گردی سے تعلق نہیں ہے۔

    نیوکاسل کے میئر گیون مورس نے بتایا کہ زخمیوں میں متعدد بچے بھی شامل ہیں اور کئی افراد کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔

    آسٹریلوی نشریاتی ادارے کے مطابق شہر کی سڑکوں پر ہزاروں افراد جمع تھے تاکہ نیوکاسل نائٹس رگبی ٹیم کو الوداع کہہ سکیں، جو اتوار کو سڈنی میں ہونے والے نیشنل رگبی لیگ کے فائنل میں شرکت کرنے والی ہے۔ اسی دوران ایک گاڑی ہجوم میں داخل ہو گئی اور متعدد افراد کو کچل دیا۔

  9. عمان کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے سنیچر کی صبح جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عمان سے چار ناٹیکل میل مشرق میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم سمت سے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ادارے کے مطابق ٹینکر پر سوار عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور فی الحال کسی ماحولیاتی نقصان یعنی بحری جہاز سے تیل کے رساؤ کی اطلاع نہیں ملی۔

    اتھارٹی نے اس سے قبل بتایا تھا کہ جمعے کو آبنائے ہرمز سے نکلتے ہوئے ایک تیل براد بحری جہاز کو بھی ایک نامعلوم سمت سے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں جہاز پر معمولی آگ بھڑک اٹھی اور بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی تھی۔

  10. دو ایرانی شہریوں پر مانچسٹر کی یہودی برادری پر حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کا الزام

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    برطانیہ کی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے کہا ہے کہ دو ایرانی شہریوں پر ’مانچسٹر کی یہودی برادری پر حملے کی منصوبہ بندی‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    پولیس نے دونوں افراد کی شناخت 35 سالہ رحمان صالحی اور 36 سالہ سلام احمدیان کے نام سے کی ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ دونوں مشتبہ افراد نے سنہ 2020 اور سنہ 2023 میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ ان میں سے ایک کو پناہ مل چکی ہے جبکہ دوسرے کی پناہ کی درخواست پر کارروائی جاری ہے۔

    پولیس نے مزید بتایا کہ دونوں افراد اپنی مبینہ ’سازش‘ کے سلسلے میں ایک تیسرے شخص سے رابطے میں تھے، جو برطانیہ سے باہر یا پھر ممکنہ طور پر ایران میں موجود ہے۔

    ایران اس سے قبل ایسے حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی سختی سے تردید کر چکا ہے۔ تاہم ان دونوں افراد کو آج یعنی سنیچر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

  11. فلائی دبئی طیارہ تباہ کرنے کی سازش میں ایران ملوث ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی: ٹرمپ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل جانے والی فلائی دبئی پرواز کو تباہ کرنے کی کوشش میں ایران کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تو تہران کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور اسے ’بہت سخت‘ جواب دیا جائے گا۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تفتیش کار اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں جس میں پرواز کے معاون پائلٹ (کو پائلٹ) نے مبینہ طور پر کپتان پر چاقو سے حملہ کر دیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں طیارہ تیزی سے نیچے آیا، تاہم جہاز میں موجود دیگر افراد نے صورتحال پر قابو پا لیا اور طیارے کو بحفاظت سعودی عرب میں اتار لیا۔

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا انھیں اس حملے میں ایران کے کسی ممکنہ کردار کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے؟

    اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اس وقت اس معاملے پر کام کر رہے ہیں۔ جو معلومات مجھے مل رہی ہیں، ان کی بنیاد پر میرا جواب ہاں میں ہے، لیکن تحقیقات ابھی جاری ہیں۔‘

    تاہم امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کن وجوہات کی بنا پر ایران کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کر رہے ہیں۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایران اس واقعے کے پیچھے نکلا تو کیا امریکہ جوابی کارروائی کرے گا، تو ٹرمپ نے کہا ’اوہ، انھیں نشانہ بنایا جائے گا، بہت سختی سے، فکر نہ کریں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ خود ان سے پوچھ لیں۔ انھیں معلوم ہے کیا ہوا ہے۔ انھیں بہت سخت جواب ملے گا۔‘

  12. پاسدارانِ انقلاب کا صوبے سیستان بلوچستان میں حالیہ حملوں میں ملوث گروہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انھوں نے مُلک کے اہم صوبے سیستان بلوچستان میں حالیہ حملوں میں ملوث ایک ’دہشت گرد گروہ‘ کا سراغ لگا کر اسے ختم کر دیا ہے۔‘

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے القدس فورس کے تعلقاتِ عامہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’اس کارروائی کے نتیجے میں گروہ کے دو ارکان مارے گئے جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔‘

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ ’تکفیری گروہ‘ اس سے قبل بلوچ سنی رکن عبدالرؤف اسحاقی کو قتل کرنے کے علاوہ راسک شہر میں ایک چیک پوسٹ پر بھی حملہ کر چکا ہے۔

    جمعرات کو ایرانی خبر رساں اداروں نے بتایا تھا کہ ’سیستان بلوچستان کے شہر راسک میں ایک چیک پوسٹ پر مسلح حملے کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔‘

    ایران کے اس اہم صوبے سیستان بلوچستان کی سرحدیں پاکستان اور افغانستان سے ملتی ہیں اور یہ صوبہ طویل عرصے سے سکیورٹی کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، جن میں مسلح گروہوں کے حملے اور منشیات و سامان کے سمگلروں کے ساتھ جھڑپیں شامل ہیں۔

    حالیہ مہینوں میں ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور زاہدان، مہرستان اور سراوان میں مہلک جھڑپوں کی اطلاعات بھی بارہا سامنے آتی رہی ہیں۔

  13. امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان تیل کے منصوبے کے لیے 8.4 ارب ڈالر کا معاہدہ

    Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ جنوبی کوریا کے ساتھ ان کے ملک کے تجارتی معاہدے میں تیل کی پیداوار بحال کرنے کے ایک منصوبے کے لیے آٹھ اعشاریہ چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’جمہوریہ کوریا کے ساتھ معاہدہ مزید بہتر ہوتا جا رہا ہے! تیل کی پیداوار بحال کرنے کے ایک منصوبے کے لیے آٹھ آعشاریہ چار ارب ڈالر، تیل اور گیس کی زیادہ پیداوار کا مطلب امریکہ کی توانائی کے شعبے میں بالادستی اور دنیا کی مستقبل کی توانائی کی سلامتی ہے۔‘

    یہ اعلان اقتصادی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جنھیں صدر ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل نمایاں کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ جنگ اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکی ووٹرز کی اہم تشویشات میں شامل ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے بدھ کو بھی اعلان کیا تھا کہ جنوبی کوریا امریکہ میں مختلف منصوبوں پر 200 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کرے گا۔ ان منصوبوں میں آٹھ بڑے جوہری بجلی گھر، الاسکا میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا ایک منصوبہ اور ٹیکساس میں چھ گیگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا ایک پلانٹ شامل ہیں۔

    تاہم جنوبی کوریا نے واضح کیا ہے کہ الاسکا میں 54 ارب ڈالر کے ایل این جی منصوبے میں اس کی شمولیت کو تاحال حتمی شکل نہیں دی گئی۔

    جنوبی کوریا کے مطابق اس منصوبے پر اسی صورت میں پیش رفت ہوگی جب ضروری تجارتی اور قانونی شرائط پوری ہوں گی۔

    جنوبی کوریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے معاشی جائزے اور قانونی کارروائی کا عمل جاری رہے گا۔

  14. آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا گیا

    برطانیہ کی تنظیم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن ایک آئل ٹینکر پر میزائل حملہ کیا گیا۔

    ادارے کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں جہاز پر معمولی آگ بھڑک اٹھی اور اس کی بجلی بھی منقطع ہو گئی۔

    تاہم بیان میں کہا گیا ہے کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور واقعے میں عملے کے کسی رکن کے زخمی ہونے یا تیل کے لیک ہونے سے ماحولیات کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

  15. جنوبی سعودی عرب کی جانب داغے گئے تین بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے: سعودی قیادت میں قائم اتحاد کا دعویٰ

    یمن میں حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے جمعہ کو کہا ہے کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط کی طرف داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔

    دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب نے یمن میں 94 حملے کیے ہیں۔

    ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی، 2022میں اقوام متحدہ کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد اپنی شدید ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    اسی دوران یمن کے اہم شہر تعز کے اطراف جھڑپوں میں بھی شدت آ گئی ہے۔ لڑائی اب ان پہاڑی علاقوں تک پھیل چکی ہے جو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر نظر رکھتے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ عرصے میں ان میں سے بعض علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔

    تعز یمن کا تیسرا بڑا شہر اور اس کا ثقافتی دار الحکومت سمجھا جاتا ہے، جہاں تقریباً 10 لاکھ افراد آباد ہیں۔

  16. خاران کے اغوا ہونے والے ڈپنی کمشنر بازیاب: حکام, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر سومرو کو جمعے کے روز بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

    بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے ایک بیان میں ڈپٹی کمشنر کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بازیابی خوش آئند ہے۔

    ڈپٹی کمشنر خاران کو 20 ستمبر کو نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے ضلع خاران کے علاقے برشونکی سے اغوا کرلیا تھا

    ان کے اغوا کے وقت سرکاری حکام نے بتایا تھا کہ ڈپٹی کمشنر ایک پرائیویٹ گاڑی میں سفر کررہے تھے اور ان کے ساتھ تین دیگر افراد بھی موجود تھے، جنھیں اغوا کر لیا گیا تھا۔

    اغوا کے تیسرے روز مسلح افراد نے ڈپٹی کمشنر کے ڈرائیور اور سیکورٹی گارڈ کو چھوڑ دیا تھا۔

    ان کے اغوا کے روز بلوچستان کابینہ کے ایک رکن نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کی بازیابی کے لیے دیگر ذرائع کے علاوہ قبائلی اثرورسوخ کا بھی استعمال کیا جارہا ہے ۔

    اگرچہ سرکاری حکام اور ڈپٹی کمشنر کے خاندانی ذرائع دونوں نے ڈپٹی کمشنر کی بحفاظت بازیابی کی تصدیق کی، تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ڈپٹی کمشنر کی بازیابی غیر مشروط طور پر ہوئی یا اس حوالے سے اغوا کاروں کے کوئی شرائط مانی گئی ہے۔

    محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ سرکاری افسران اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

  17. جی سیون ممالک چار ماہ کے اندر ’100 ملین بیرل تک‘ تیل جاری کریں گے: صدر میکخواں

    فرانس کے صدر

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا ہے کہ جی سیون ممالک کے رہنماؤں نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے ’مربوط انداز میں‘ کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    ایکس پر ایک پیغام میں فرانس کے صدر نے کہا کہ اس مقصد کے لیے درج ذیل اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے:

    • ریفائنریوں میں پیداوار کو بڑھانے کے لیے اسے ’مزید لچکدار‘ بنایا جائے گا۔
    • بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ’اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر‘ چار ماہ کے اندر سٹریٹجک ذخائر سے ’100 ملین بیرل تک‘ تیل جاری کیا جائے گا۔
    • ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے گا جو شراکت دار ممالک کے درمیان توانائی اور پیٹرولیم مصنوعات کے تبادلے میں رکاوٹ بن سکتے ہوں۔
  18. قصور: انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری ہلاک، ایک زخمی

    قصور

    قصور میں بین الاقوامی سرحد پر انڈین بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔

    تاہم ان ہلاکتوں کے حوالے سے انڈیا اور پاکستان کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع قصور کے ’لدھڑ گاؤں سے تعلق رکھنے والے تین مقامی پاکستانی شہری سرحدی پِلر سے چند قدم آ گے ہی بڑھے تھے کہ انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز نے انھیں بغیر وارننگ دیے ہدف بنایا۔‘

    دوسری جانب انڈیا کے سرکاری میڈیا ’آل انڈیا ریڈیو‘ نے بی ایس ایف کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے دونوں پاکستانی شہری انڈین پنجاب میں ’دراندازی‘ کی کوشش کر رہے تھے اور ’غیرقانونی طور پر انڈیا پاکستان سرحد پار کر رہے تھے۔‘

    پاکستان کے سرکاری میڈیا نے ہلاک ہونے والے دو شہریوں کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے ناموں سے کی ہے۔

    پاکستانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا کہ انڈین میڈیا نے بھی فالس فلیگ آپریشن کی روش کو زندہ رکھتے ہوئے معصوم شہریوں کو درانداز قرار دیا، مگر حقیقت میں ان تینوں افراد میں سے کسی نے بھی سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

  19. چھ ممالک نے مکہ معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی ظاہر کی ہے: پاکستانی وزیر خارجہ

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ایران یمن میں حوثیوں اور عراقی مسلح گروہوں سے ’لاتعلقی‘ کا اظہار کر رہا ہے اور کہا ہے کہ ’ہمارا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘

    جمعے کو صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ان کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اس معاملے پر گفتگو ہوئی ہے اور انھوں نے انھیں بتایا ہے کہ ’ہم ایک دفاعی معاہدے کا حصہ ہیں اور بطور مسلمان ہمیں اس کی پاسداری بھی کرنی ہے اور کریں گے۔‘

    پاکستانی نائب وزیر اعظم کے مطابق عباس عراقچی نے گفتگو کے دوران رائے دی کہ حوثیوں اور عراقی گروہوں ’پر حملے کرنے کے بجائے ان سے سیاسی رابطے کیے جائیں۔‘

    تاہم انھوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت بننے والی سٹریٹجک پالیٹیکل اینڈ ڈیفینس کمیٹی (ایس پی ڈی سی) کرے گی، جس کا اجلاس آئندہ کچھ روز میں سعودی عرب میں ہوگا۔

    اسحاق ڈار نے کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ کم از کم چھ ممالک مکہ معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

    ’لیکن جب تک ہم اس کے سیکریٹیریٹ کو مکمل طور پر فعل نہیں کرتے، میرا نہیں خیال کے ہم کسی کی درخواست کو پورا کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کی دستاویز میں لکھا ہے کہ ’اس کی نوعیت دفاعی ہے اور اس کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں ہے۔‘

    ’دستاویز میں یہ بھی لکھا ہے کہ دیگر ممالک بھی اس میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔‘

  20. القادر ٹرسٹ کیس: سزاؤں کے خلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد ہائی کورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی القادر ٹرسٹ کیس میں سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت 5 اکتوبر کو مقرر کر دی ہے۔

    چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ کیس کی سماعت کرے گا، جبکہ عدالت نے دونوں فریقوں کے وکلا سے حتمی دلائل طلب کر رکھے ہیں۔

    خیال رہے اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے جنوری 2025 میں 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی سات برس قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

    عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاونڈز یا القادر ٹرسٹ کیس اس 450 کینال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔