اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
بشریٰ بی بی کے سابق شوہر اور شکایت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی بارہا عدالت کو یقین دہانی کروانے کے باوجود بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت میں اس سال تین فروری کو عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں دونوں کو سات سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔
سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزا کی خلاف اپیلوں پر سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں دوبارہ شروع ہوئی۔
بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض خان نے جواب الجواب دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدت میں نکاح کیس کی شکائت تاخیر سے دائر کی گئی اور اس سے قبل پرائیویٹ شکائت دائر کی گئی لیکن وکیل تب بھی رضوان عباسی ہی تھے۔
انھوں نے کہا کہ ریکارڈ پر موجود ہے دورانِ عدت نکاح کی شکایت پانچ سال 11 ماہ بعد دائر کی گئی اور بدنیتی اور سیاسی انتقام لینے کے لیے دورانِ عدت نکاح کی شکائت دائر کی گئی۔
سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ شکائت کے ذریعے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی معاشرے میں عزت کو نقصان پہنچانا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کے ایک گواہ نکاح خواں مفتی سعید کو دورانِ ٹرائل سول عدالت نے روکا اور چںد سوالات کیےاور مفتی سعید سے سوالات پوچھنے کا مقصد مفتی سعید کے کیریکٹر کو واضح کرنا تھا۔
عثمان گل نے الزام عائد کیا کہ نوے کی دہائی میں رجیم چینج میں مفتی سعید کا بھی کردار تھا، جس سے کیریکٹر واضح ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سنہ 1996 میں میں مفتی سعید اس ٹیم کا ممبر تھا، جس نے حکومت گرانے کے لیے آپریشن خلیفہ کنڈکٹ کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ پہلی درخواست کا شکایت کنندہ محمد حنیف ایک اجنبی شخص تھا، دوسری اپیل خاورمانیکا نے کی لیکن ان دونوں کا وکیل ایک ہی تھا۔ انھوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاورمانیکا کی شکائت تو تقریباً چھ سال بعد دائر ہوئی اور شکایت تاخیر سے دائر کرنے کے سوال پر شکایت کنندہ کے وکیل وضاحت دینے میں ناکام رہے۔
عمران خان کی اہلیہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ خاورمانیکا کو کرپشن کیس میں گرفتار کیا گیا، جس کے بعد ضمانت ملنے پر شکائت دائر کی۔
انھوں نے کہا کہ یہ کیس صرف اور صرف سیاسی طور پر نشانہ بنانے کے لیے دائر ہوا ہے۔
عثمان ریاض گل ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ شکایت تاخیر سے دائر ہو سکتی ہے مگر اس کی وجوہات بتانا ہوتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جون 2023 میں اینٹی کرپشن اوکاڑہ میں درج ایف آئی آر میں خاور مانیکا گرفتار ہوئے اور جوڈیشل لاک اپ میں رہے اور نومبر 2023 کو جوڈیشل لاک اپ سے رہا ہونے کے گیارہ دن بعد خاور مانیکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف شکایت دائر کی اور نومبر 2023 کو پہلے شکایت کنندہ محمد حنیف نے اپنی شکایت واپس لی اور ساتھ یہ کہا گیا کہ تکنیکی بنیادوں پر شکایت واپس لی جارہی ہے اور پھر شکایت واپس لینے کے 48 گھنٹے کے بعد اسی وکیل راجہ رضوان عباسی کے ذریعے ایک اور شکایت دائر کر دی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کریمنل کورٹ کے پاس شادی کو جائز یا ناجائز قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں تھا اور فوجداری عدالت کے پاس اس کیس کی سماعت کا اختیار نہیں تھا، اس معاملے کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے سپیشل کورٹس موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ فیملی کورٹ کسی بھی شادی کو اگر غیر قانونی قرار دیتی ہے تو ہی فوجداری سماعت ہو سکتی ہے۔
عثمان گل کا کہنا تھا کہ فیملی کورٹ کی ڈیکلریشن کے بغیر کسی بھی شادی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
انھوں نے کہا کہ سابقہ پراسیکیوٹر رانا حسن عباس نے کیس کے حوالے سےحقائق عدالت کے سامنے رکھے تھے اور اگلے ہی روز ان کا ٹرانسفر آرڈر آ گیا۔
ان اپیلوں کی سماعت کرنے والے جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس کے بعد کیا توقع کرسکتے ہیں؟
بشریٰ بی بی کے وکیل نے عدت نکاح کیس میں فیصلہ کلعدم قرار دینے کی استدعا کر دی کیونکہ ان کے بقول جس انداز میں اس مقدمے کا ٹرائل چلایا گیا وہ شکوک وشہبات کو جنم دیتا ہے۔
اس مقدمے کے پراسیکیوٹر عدنان علی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دوران عدت نکاح پر ہم نے عمران خان اور بشریٰ کا نکاح ختم کرنے کے حوالے سے استدعا نہیں کی۔
پراسیکیوٹر کے اس جملے پر کمرہ عدالت میں موجود پاکستان تحریک انصاف کی خواتین نے ’شیم شیم‘ کے نعرے لگانا شروع کردیے۔
انھوں نے کہا کہ سنہ 1989 میں خاورمانیکا اور بشریٰ بی بی نے شادی کی اور وہ دونوں ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اٹھائیس سال شادی کا عرصہ رہا، پانچ بچے ہوئے لیکن عمران خان کی مداخلت کے باعث بشریٰ بی بی کو طلاق ہوئی۔
پراسیکیوٹر عدنان علی نے الزام عائد کیا کہ عمران خان بار بار خاورمانیکا، بشریٰ بی بی کی زندگی میں مداخلت کررہے تھے اور خاورمانیکا نے کہا عمران خان کی مداخلت کے باعث ہنستا بستا گھر اجڑ گیا۔
انھوں نے کہا کہ خاورمانیکا رجوع کرنا چاہتے تھے لیکن دورانِ عدت بشریٰ بی بی نے نکاح کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کے گواہان نے حلف پر گواہی دی جبکہ عمران خان نے حلف کے بغیر 342 کا بیان ریکارڈ کروایا۔
اس مقدمے کے پراسیکیوٹر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں ٹرائل کورٹ کے سزا کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی استدعا کردی۔