عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد کی ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ اسلام آباد کی ہی ایک عدالت نے رواں برس تین فروری کو عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں دونوں کو سات سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔
خلاصہ
تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان رؤف حسن کے اوپر ہونے والے حملے کی ایف آئی آر تھانہ آبپارہ میں درج ہو گئی ہے۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پوری قوم جانتی ہے کہ ہماری قیادت پر ایسے حملے کون کروا رہا ہے۔‘
لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق ایک کیس میں درخواستِ ضمانت کی منظوری کے بعد تحریک انصاف کے رہنما پرویز الہی کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے اور وہ اپنی رہائش گاہ پہنچ چکے ہیں۔
وفاقی کابینہ نے فیض آباد دھرنا کمیشن کی انکوائری رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ انکوائری کمیشن نے اپنے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) کے مطابق کام نہیں کیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے احمد فرہاد کی مبینہ بازیابی سے متعلق کیس پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ’اگر ان کے ساتھ گمشدگی کے دوران کچھ بھی ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ریاست پر آئے گی۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ٹیریئن کیس میں عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست خارج کر دی ہے۔
لائیو کوریج
’متحدہ عرب امارات میں موجود بھائیوں سے مل کر ملکی معیشت کو تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں‘: وزیر اعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یواے ای) کی آئی ٹی کمپنوں کی شراکت داری سے متعلق راؤنڈ ٹیبل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، یہاں موجود بھائیوں سے مل کر ملکی معیشت کو تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
تقریب کے دوران وزیر اعظم نے پاکستان میں کامیاب کاروبار کرنے والی اماراتی کمپنیوں کے سربراہان کو ایوارڈز دیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’یہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اس بات کی عکاس ہے کہ ہم ایک ساتھ مل کر کیا کیا حاصل کر سکتے ہیں، میں یہاں آکر اور اس سیشن کا حصہ بننے پر خوشی محسوس کر رہا ہوں۔‘
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، معدنیات، نوجوانوں کو بااختیار بنانے، برآمدات ، صنعت اور دیگر شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، ہم نے کشکول توڑ دیا ہے کیونکہ اقوام عالم قرض یا امداد سے نہیں بلکہ دن رات محنت اور لگن سے ترقی کی منازل طے کرتی ہیں، اسی جذبہ کے ساتھ ہمیں خود انحصاری کی منزل کو حاصل کرنا ہے۔
پاکستان میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری میں باہمی تعاون چاہتے ہیں، ہمیں محنت اور لگن کے ساتھ کام کرتے ہوئے خود انحصاری کی منزل کو حاصل کرنا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم اپنی معیشت کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں، ہم پاکستان کی معشیت کو یو اے ای میں موجود اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، یہ جوائنٹ وینچرز، باہمی تعاون اور نالج شیئرنگ پارٹنرشپ کے ذریعے ہوسکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورہ یو اے ای کے دوروان اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کریں گے۔
اپنے ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد پاکستان امارات تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنا ہے، وہ دورے میں یواے ای قیادت کے ساتھ نتیجہ خیز تبادلہ خیال کے منتظر ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز کے مطابق وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کا یہ پہلا یو اے ای کا دورہ ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات میں تجارت اور سرمایہ کاری سمیت دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دورہ یو اے ای کے دوران اماراتی کاروباری برادری اور مالیاتی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتوں کا بھی امکان ہے۔
بلوچستان ہائیکورٹ: عمران خان کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے سے متعلق درخواست خارج, محمد کاظم، بی بی سی اردو
بلوچستان ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ قائم کرنے سے متعلق ایک آئینی درخواست کو دائرہ اختیار نہ ہونے کی وجہ سے خارج کر دیا ہے۔
عمران خان کے خلاف یہ آئینی درخواست سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے دائر کی تھی۔
درخواست گزار نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا ہے کہ عمران خان کا سابقہ قومی اسمبلی کو توڑنے کا اقدام غیر آئینی تھا۔
درخواست گزار نے ہائیکورٹ میں دائر پٹیشن میں یہ استدعا کی تھی کہ عمران خان کے قومی اسمبلی کو توڑنے کے غیر آئینی اقدام پر ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ دائر کرنے کا حکم صادر کیا جائے۔
سیّد اقبال شاہ ایڈووکیٹ سمیت تحریک انصاف کے دیگر وکلا نے جواب دعویٰ میں ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے خارج کرنے کی استدعا کی تھی۔
درخواست کی سماعت بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس شوکت رخشانی پر مشتمل بینچ نے کی۔
اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ہائیکورٹ نے اسے دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر نمٹا دیا۔
’1971 کی طرح آج بھی فرد واحد فیصلے کر رہا ہے، آئی ایس آئی کو سیاست زدہ کرنے کا نقصان ملک کو ہوگا‘: سیکریٹری جنرل تحریک انصاف عمر ایوب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کو اپنا پیشہ وارانہ کردار ادا کرتے رہنا چاہیے نہ کہ کسی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ آئی ایس آئی کو سیاست زدہ کرنے سے جہاں ادارہ کمزور ہوتا ہے وہیں اس کا نقصان پاکستان اور اس کے مفاد کو ہو گا۔
عمر ایوب خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز نے واضح طور پر چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھا کہ آئی ایس آئی نے کس طرح ان کے گھر والوں تک کو زدو کوب کیا گیا۔
عمر ایوب خان نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل یحیٰ کے کردار کی وجہ سے 1971 میں پاکستان دو لخت ہوا اور شیخ مجیب الرحمان سے مذاکرات کا رستہ بند کیا گیا۔ ان کے مطابق فوج فرد واحد کے فیصلوں میں شامل نہیں تھی۔
عمر ایوب نے کہا کہ ’آج بھی فیصلے فرد واحد کے ہو رہے ہیں۔ اس وقت ہمیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا فرد واحد کے فیصلے ادارے پر اثر انداز نہیں ہونے چاہیں۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان نے آج یہ میاں اسلم اقبال اور حماد اظہر کے لیے یہ پیغام بھیجا ہے کہ وہ باہر نکلیں اور پارٹی کی قیادت کریں۔ عمر ایوب کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ اگر حماد اظہر اور میاں اسلم اقبال کو اغوا کیا یا ان سے زبردستی بیان لیا گیا تو ہم اس بیان کو نہیں مانیں گے اور وہ دونوں رہنما تحریک انصاف کا حصہ ہی سمجھے جائیں گے۔
بلوچستان میں بدامنی اور شورش کا ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا پائیدار سیاسی حل بھی موجود ہے: گورنر بلوچستان, محمد کاظم، بی بی سی اردو
گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے ’بلوچستان میں امن اور استحکام کی جانب سفر‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی اور شورش کا مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا پائیدار سیاسی حل بھی موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’حالات جتنے بھی کشیدہ اور مایوس کن ہو پھر بھی ہمیں مشاورت اور مسلسل مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے۔‘
گورنر نے کہا کہ بعض اوقات کسی اجتماعی مسئلے کا بروقت حل نکالنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ اجتماعی مسئلے کو نظر انداز کرنے کی صورت میں ہم سیاسی اور سماجی سطح پر کئی دیگر خدشات و خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے بیوٹمز یونیورسٹی میں وائس آف بلوچستان کے زیر اہتمام تقریب ’بلوچستان میں امن اور استحکام کی جانب سفر‘ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر صوبائی وزرا راحیلہ حمید خان درانی، ظہور احمد بلیدی، میر ضیاء لانگو، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، اور صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند سمیت طلبہ بھی موجود تھے۔
گورنر بلوچستان گلزار امام اور سرفراز بنگلزئی کے قومی دھارے میں شامل ہونے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً یہ ہم سب کے لیے ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں شورش اور کشیدگی کے حوالے سے ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے اور اس سے سرکاری اور عوامی سطح پر بہت جانی اور مالی نقصانات بھی ہوئے ہیں۔
گورنر نے کہا کہ قومی دھارے میں شمولیت سے متعلق پروگرام کا انعقاد لائق تحسین عمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ کہ ’میں بذات خود اپنے ناراض بھائیوں سے نتیجہ خیز مذاکرات کرنے اور قومی مفاد کی خاطر ہتھیار ڈالنے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔‘
گورنر بلوچستان نے کہا کہ اس کے علاوہ بلوچستان میں پشتون بلوچ کی شاندار اقدار و روایات کے پیش نظر یہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ عوامی سطح پر بھی جرگہ و معرکہ کے ذریعے درپیش مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق یہ حقیقت ہے کہ صوبہ میں شورش، غربت، مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے بلوچستان کا عام آدمی بہت مشکل میں ہے لہٰذا ہمیں درپیش پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے فوری طور پر سنجیدہ فیصلے کرنے ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’اب بھی روشن امکانات موجود ہیں کہ ہم کشیدہ صورتحال اور سیاسی بحران کا قابل عمل اور سب کے لیے قابل قبول سیاسی حل ڈھونڈیں۔‘
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ, شہزاد ملک بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
بشریٰ بی بی کے سابق شوہر اور شکایت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی بارہا عدالت کو یقین دہانی کروانے کے باوجود بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت میں اس سال تین فروری کو عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں دونوں کو سات سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔
سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزا کی خلاف اپیلوں پر سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں دوبارہ شروع ہوئی۔
بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض خان نے جواب الجواب دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدت میں نکاح کیس کی شکائت تاخیر سے دائر کی گئی اور اس سے قبل پرائیویٹ شکائت دائر کی گئی لیکن وکیل تب بھی رضوان عباسی ہی تھے۔
انھوں نے کہا کہ ریکارڈ پر موجود ہے دورانِ عدت نکاح کی شکایت پانچ سال 11 ماہ بعد دائر کی گئی اور بدنیتی اور سیاسی انتقام لینے کے لیے دورانِ عدت نکاح کی شکائت دائر کی گئی۔
سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ شکائت کے ذریعے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی معاشرے میں عزت کو نقصان پہنچانا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کے ایک گواہ نکاح خواں مفتی سعید کو دورانِ ٹرائل سول عدالت نے روکا اور چںد سوالات کیےاور مفتی سعید سے سوالات پوچھنے کا مقصد مفتی سعید کے کیریکٹر کو واضح کرنا تھا۔
عثمان گل نے الزام عائد کیا کہ نوے کی دہائی میں رجیم چینج میں مفتی سعید کا بھی کردار تھا، جس سے کیریکٹر واضح ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سنہ 1996 میں میں مفتی سعید اس ٹیم کا ممبر تھا، جس نے حکومت گرانے کے لیے آپریشن خلیفہ کنڈکٹ کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ پہلی درخواست کا شکایت کنندہ محمد حنیف ایک اجنبی شخص تھا، دوسری اپیل خاورمانیکا نے کی لیکن ان دونوں کا وکیل ایک ہی تھا۔ انھوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاورمانیکا کی شکائت تو تقریباً چھ سال بعد دائر ہوئی اور شکایت تاخیر سے دائر کرنے کے سوال پر شکایت کنندہ کے وکیل وضاحت دینے میں ناکام رہے۔
عمران خان کی اہلیہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ خاورمانیکا کو کرپشن کیس میں گرفتار کیا گیا، جس کے بعد ضمانت ملنے پر شکائت دائر کی۔
انھوں نے کہا کہ یہ کیس صرف اور صرف سیاسی طور پر نشانہ بنانے کے لیے دائر ہوا ہے۔
عثمان ریاض گل ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ شکایت تاخیر سے دائر ہو سکتی ہے مگر اس کی وجوہات بتانا ہوتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جون 2023 میں اینٹی کرپشن اوکاڑہ میں درج ایف آئی آر میں خاور مانیکا گرفتار ہوئے اور جوڈیشل لاک اپ میں رہے اور نومبر 2023 کو جوڈیشل لاک اپ سے رہا ہونے کے گیارہ دن بعد خاور مانیکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف شکایت دائر کی اور نومبر 2023 کو پہلے شکایت کنندہ محمد حنیف نے اپنی شکایت واپس لی اور ساتھ یہ کہا گیا کہ تکنیکی بنیادوں پر شکایت واپس لی جارہی ہے اور پھر شکایت واپس لینے کے 48 گھنٹے کے بعد اسی وکیل راجہ رضوان عباسی کے ذریعے ایک اور شکایت دائر کر دی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کریمنل کورٹ کے پاس شادی کو جائز یا ناجائز قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں تھا اور فوجداری عدالت کے پاس اس کیس کی سماعت کا اختیار نہیں تھا، اس معاملے کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے سپیشل کورٹس موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ فیملی کورٹ کسی بھی شادی کو اگر غیر قانونی قرار دیتی ہے تو ہی فوجداری سماعت ہو سکتی ہے۔
عثمان گل کا کہنا تھا کہ فیملی کورٹ کی ڈیکلریشن کے بغیر کسی بھی شادی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
انھوں نے کہا کہ سابقہ پراسیکیوٹر رانا حسن عباس نے کیس کے حوالے سےحقائق عدالت کے سامنے رکھے تھے اور اگلے ہی روز ان کا ٹرانسفر آرڈر آ گیا۔
ان اپیلوں کی سماعت کرنے والے جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس کے بعد کیا توقع کرسکتے ہیں؟
بشریٰ بی بی کے وکیل نے عدت نکاح کیس میں فیصلہ کلعدم قرار دینے کی استدعا کر دی کیونکہ ان کے بقول جس انداز میں اس مقدمے کا ٹرائل چلایا گیا وہ شکوک وشہبات کو جنم دیتا ہے۔
اس مقدمے کے پراسیکیوٹر عدنان علی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دوران عدت نکاح پر ہم نے عمران خان اور بشریٰ کا نکاح ختم کرنے کے حوالے سے استدعا نہیں کی۔
پراسیکیوٹر کے اس جملے پر کمرہ عدالت میں موجود پاکستان تحریک انصاف کی خواتین نے ’شیم شیم‘ کے نعرے لگانا شروع کردیے۔
انھوں نے کہا کہ سنہ 1989 میں خاورمانیکا اور بشریٰ بی بی نے شادی کی اور وہ دونوں ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اٹھائیس سال شادی کا عرصہ رہا، پانچ بچے ہوئے لیکن عمران خان کی مداخلت کے باعث بشریٰ بی بی کو طلاق ہوئی۔
پراسیکیوٹر عدنان علی نے الزام عائد کیا کہ عمران خان بار بار خاورمانیکا، بشریٰ بی بی کی زندگی میں مداخلت کررہے تھے اور خاورمانیکا نے کہا عمران خان کی مداخلت کے باعث ہنستا بستا گھر اجڑ گیا۔
انھوں نے کہا کہ خاورمانیکا رجوع کرنا چاہتے تھے لیکن دورانِ عدت بشریٰ بی بی نے نکاح کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کے گواہان نے حلف پر گواہی دی جبکہ عمران خان نے حلف کے بغیر 342 کا بیان ریکارڈ کروایا۔
اس مقدمے کے پراسیکیوٹر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں ٹرائل کورٹ کے سزا کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی استدعا کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ ’مختصر مگر اہم دورے‘ پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف متحدہ عرب امارات کے ایک روزہ دورہ کے لیے ابو ظہبی پہنچ گئے ہیں۔
ابو ظہبی پہنچنے پر نائب صدر اور نائب وزیرِ اعظم نے وزیرِ اعظم کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمزی نے اُن کا استقبال کیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا وزارتِ عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد متحدہ عرب امارات کا یہ پہلا دورہ ہے۔ وزیراعظم نے اپنے ایک ٹویٹ میں اپنے اس دورے کو ’مختصر مگر انتہائی اہمیت کا حامل‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا وہ متحدہ عرب امارات کی قیادت کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی اور برادرانہ رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ملاقاتیں کریں گے۔
وزیرِ اعظم اپنے دورے کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والی پاکستانی اور متحدہ عرب امارات کی کاروباری شخصیات و سرمایہ کاروں سے ملاقات کریں گے۔
اس کے علاوہ وزیرِ اعظم متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور اماراتی کاروباری شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
وزیرِ اعظم کے ساتھ اس دورے پر اُن کے وفد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شامل ہیں۔
پیمرا کی جانب سے کورٹ رپورٹنگ پر پابندی کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
پیمرا کی جانب سے کورٹ رپورٹنگ پر پابندی کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
ثمرہ ملک ایڈووکیٹ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں پیمرا کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا گیا ہے جس میں پیمرا، وفاقی حکومت اور سیکریٹری انفارمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیمرا کا 21 مئی کو جاری کردہ نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے اور آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی ہے۔ اس لیے عدالت پیمرا کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے اور پٹیشن کے حتمی فیصلے تک پیمرا کا نوٹیفکیشن معطل کرے۔
عمران خان، بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کےخلاف اپیلوں پر سماعت میں ایک بجے تک وقفہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت میں ایک بجے تک وقفہ کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 15 مئی کو سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کیس کی سماعت میں عدالت نے آئندہ سماعت پر خاور مانیکا کے وکیل رضوان عباسی کو ویڈیو لنک پر آنے اور تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔
یہ بھی یاد رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت کے سینیئر سول جج قدرت اللہ نے رواں سال فروری میں اس کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو سات، سات سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔
عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت کے دوران نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر جمعرات کے روز سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج شاہ رخ ارجمند نے کی۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل عثمان ریاض گل جبکہ راجا رضوان عباسی ایڈووکیٹ کے معاون وکیل عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رضوان عباسی صاحب نے دلائل دینے ہیں، ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں ہے، جس پر جج نے عثمان ریاض گل سے استفسار کیا کہ آپ کو بھی تو دلائل دینے ہیں، اپنے فائنل کرلیں۔
عثمان ریاض گل ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے دلائل کے لیے 10 سے 15 منٹ لیں گے۔ جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیے کہ ایک بجے تک رضوان عباسی عدالت کے سامنے ہر حال میں اپنے دلائل دیں۔ ایک بجے تک ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل لازمی دیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سردار تنویر الیاس کے خلاف درج مقدمات پر فریقین سے کل تک جواب طلب کرلیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کی اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور کل تک جواب طلب کرلیا۔
درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی۔
سردار تنویر الیاس کے وکیل ہارون الرشید اور ملک غلام صابر عدالت میں پیش ہوئے جس پر عدالت نے ان سے درخواست سے متعلق استفسار کیا۔
سردار تنویر کی جانب سے وکلا نے بتایا کہ ان کے موکل تنویر الیاس کو مارگلہ پولیس نے فیملی معاملے میں ایک کیس میں گرفتار کیا ہے۔ مجسٹریٹ سے ضمانت ہوئی تو مقامی پولیس نے تنویر الیاس کو ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔
وکیل ہارون الرشید نے کہا کہ درخواست گزار اب تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں۔ استدعا ہے کہ درخواست گزار کے خلاف درج تمام مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور جسمانی ریمانڈ کے دوران فیملی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
عدالت نے پولیس ایف آئی اے و دیگر فریقین کل تک جواب جمع کروانے کی ہدایت کر دی اور تنویر الیاس کی دوران جسمانی ریمانڈ اہل خانہ سے ملاقات کی استدعا بھی منظورکر لی اور کل تک فریقین سے جواب طلب کرلیا۔
سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے پیکا قانون میں ترامیم کرکے مزید سخت بنایا جائے گا: رانا ثنا اللہ
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے حکومتی کمیٹی پیکا قانون میں ترامیم کرکے اس قانون کو مزید سخت اور موثر بنائے گی۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا کا کہنا تھا کہ پیکا قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے حکومتی کمیٹی بات چیت کے لیے تیار ہے اور اس کے لیے اپوزیشن کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ کمیٹی میں حکومت کے ساتھ بیٹھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’پیکا قانون میں مزید ترامیم کر کے اسے موثر بنانا چاہتے ہیں، سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر کوئی بندہ محفوظ نہیں ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی نہیں ہونی چاہیے لیکن ریگولیٹ ہونے چاہئیں۔‘
رانا ثنا اللہ کے مطابق ’اس کے غلط استعمال پر جو باتیں کی جا رہی ہیں اس میں ہم کہتے ہیں کہ کمیٹی ان تمام امورکو دیکھے گی۔ اپوزیشن اس معاملے میں ہمارے ساتھ بیٹھے۔‘
’آئین معطل ہے، جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے‘، مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کا مل کر تحریک چلانے کا اعلان
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف کے وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ’جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ مشترکات پر پارلیمنٹ میں ہماری آواز ایک ہونی چاہیے اور ملک میں ایک خوشگوار سیاسی ماحول پیدا کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا ہم اگر اختلافات ختم نہیں کر سکتے تو انھیں نرم کیا جا سکتا ہے۔
تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی پاسداری کے لیے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔
تحریک انصاف کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس ہوئی، اس کے بعد اسلام آباد پولیس نے ہمارے دفتر پر دعویٰ بول دیا، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔
سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ اس وقت ملک میں عملاً ’آئین معطل ہے، یہ ملک بنانا ری پبلک بنتا جا رہا ہے، آزادی اظہار رائے کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔‘
ان کے مطابق ان تمام امور پر مل کر جدوجہد کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ’آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک ہونا پڑے گا۔‘
اسد قیصر نے کہا کہ ’ہماری جدوجہد ’قانون کی عملداری قائم کرنے کے لیے ہے۔ ملک کو بحران سے نکالیں گے، قانون کی حکمرانی سے معیشیت مستحکم ہو گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’رؤف حسن کے ساتھ جو ہوا یہ واضح پیغام ہے کہ یہاں ایک جنگل کا قانون ہے۔ ‘
’مجھے معلوم ہے کہ روف حسن پر حملے کے واقعہ کے پیچھے کون ہے، کارکن سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار رہیں‘: عمران خان کی جیل میں میڈیا سے گفتگو, شہزاد ملک بی بی سی اردو
سابق وزیر اعظم عمران خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاونڈ کے مقدمے کی سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں معلوم ہے کہ روف حسن پر حملے کے واقعہ کے پیچھے کون ہے۔
انھوں نے کہا کہ رؤف حسن کے ساتھ جو ہوا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نظام ڈنڈے کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان نے اپنی جماعت کے کارکنوں کو تیار رہنے کا حکم دیا اور کہا کہ روف حسن کے معاملے پر سڑکوں پر نکلیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری برداشت ختم ہو رہی ہے اور ہم سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پہلے ملکی حالات کی وجہ سے سڑکوں پر نہیں نکل رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ معیشت اس قابل نہیں کہ احتجاج برداشت کر سکے، کوئی بھی نقصان ہوا تو حکمراں خود ذمہ دار ہوں گے۔
انھوں نے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیار رہیں، ہم اسمبلی اور بجٹ اجلاس نہیں چلنے دیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔
انھوں نے کہا کہ مشکل فیصلے تب ہوتے ہیں جب لیڈر قربانیاں خود سے شروع کرے اور نواز شریف شہباز شریف اور زرداری بیرون ملک رکھے گئے اربوں روپے واپس لے کر آئیں۔
انھوں نے کہا کہ قوم بہت قربانی دے چکی اب قوم پہلے آپ سے قربانی چاہے گی۔
کمرہ عدالت میں موجود اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ تمام کیسز براہ راست نشر کیے جائیں۔
قوم کو پتا لگے چوری کس نے کی۔ انھوں نے کہا کہ اگر ان کے خلاف غداری کا بھی کیس چلانا ہے تو چلائیں وہ پھانسی کے لیے بھی تیار ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ججز پر جو خوف تھا وہ اترتا جا رہا ہے اور ججز اپنی ساکھ کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں، اس لیے انھیں لگ رہا ہے کہ ڈیل ہو گئی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بنی گالہ کی سڑک توشہ خانہ کے تحائف بیچ کر بنوائی تھی اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سمجھ لیا کہ میرے ضمیر کی قیمت صرف ایک سڑک ہے۔
انھوں نے کہا کہ نیب ترامیم کا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس کی اگلی سماعت 30 مئی کو ہے اس لیے انھوں نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے کہ وہ خود عدالت میں پیش ہوکر اپنا مقدمہ لڑنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ سماعت کے دوران عمرا ن خان کو عدالتی حکم پر اڈیالہ جیل سے ’سکائپ‘ کے ذریعے پیش کیا گیا تھا اور اس کی اس روز کی عدالتی سماعت کے بعد چیف جسٹس نے اگلی سماعت یعنی 30 مئی کو بھی وہی انتظامات کرنے کا حکم دیا ہے۔
ابتدائی طور پر روف حسن پر حملہ کرنے والے خواجہ سرا ہی ہیں، کچھ چیزیں ایوان میں نہیں رکھ سکتا: وزیر قانون
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ’ابتدائی طور پر روف حسن پر حملہ کرنے والے خواجہ سرا ہی ہیں، کچھ چیزیں ایوان میں نہیں رکھ سکتا، حقائق سامنے رکھے تو لوگ بھاگ سکتے ہیں۔‘
سینیٹ میں رؤف حسن پر حملے کی رپورٹ کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیر داخلہ تہران گئے ہیں، وزیر داخلہ نے مجھے بریف کیا اور آئی جی کو اس مقدمے کی تفتیش کی ذمہ داری سونپی ہے۔
انھوں نے کہا کہ رؤف حسن کے اپنے بیان کے مطابق ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور سپیشل انویس ٹیگیشن ٹیم بنادی گئی ہے۔ وزیر قانون کے مطابق رؤف حسن نے بتایا کہ انھیں اور ان سے ملتے جلتے لوگوں کا ایک پہلے بھی واقعہ ہوا لیکن معمولی سمجھ کر انھوں نے رپورٹ نہیں کیا۔
وزیر قانون کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج فرانزک اور نادرا بھیج دی ہیں، حملہ آوروں کی شناخت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، حکومت سنجیدگی سے اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور سنجیدگی سے اس مقدمے کو لیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں اقدام قتل کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں، عام طور پر ایسے مقدمات میں اقدام قتل کے دفعات شامل نہیں کیے جاتے، ہم اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔
پاکستان مزید سکولوں کی اس بات پر حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ وہ چینی زبان کو اپنے لازمی نصاب میں شامل کریں: صدر آصف زرداری
،تصویر کا ذریعہAPP
صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان مزید سکولوں کی اس بات پر حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ وہ چینی زبان کو اپنے لازمی نصاب میں شامل کریں۔ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر تبادلوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے مزید پالیسیوں پر زور دیا۔
چینی عوام کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا چین کی کامیابی کی ایک اہم وجہ ہے اور پاکستان چین کی ترقی کے عمل میں مزید شامل ہونے کی امید کرتا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان ہمیشہ تاریخ کے صحیح رخ پر کھڑا رہنے کے راستے کا انتخاب کرتے ہوئے ’ون چائنا‘ کے اصول پر پختہ یقین رکھتا ہے۔ چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 73 ویں سالگرہ کے موقع پر بدھ کو شائع ہونے والے چینی میڈیا کو انٹرویو میں صدر نے کہا کہ پاکستانی عوام چین سے غیر مشروط محبت کرتے ہیں۔
مارچ میں دوسری بار صدر منتخب ہونے کے بعد کسی بھی غیر ملکی میڈیا سے صدر زرداری کی یہ پہلی بات چیت تھی۔دونوں ممالک کے سابق رہنماؤں کے درمیان قریبی روابط کو یاد کرتے ہوئے صدر آصف زرداری نے کہا کہ میرے مرحوم سسر، پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قوم سے کہا تھا کہ مشرق کی طرف دیکھو، چین کی طرف دیکھو۔صدرمملکت آصف زرداری، جنہوں نے پاکستانی صدر کے طور پر اپنی پہلی مدت کے دوران 9 بار چین کا دورہ کیا تھا، نے ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کی کسی بھی شکل کو مسترد کرتے ہوئے ون چائنا اصول کو تسلیم کرنے کے پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نےکہاکہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔
اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ چین کے ساتھ کھڑا رہے گا اور چین کے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کے نقطہ آغاز، گوادر پورٹ کی ترقی پر تبصرہ کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ 11 سال قبل سی پیک کے آغاز کے بعد سے گوادر پورٹ پر بہت زیادہ کام ہو چکا ہے، یہ بندرگاہ دنیا بھر سے سرمایہ کاروں کو ہمیشہ خوش آمدید کہے گی۔
چار افسران کی معطلی گندم سکینڈل کے اصل ذمہ داروں کو بچانے کے لیے کی گئی، تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے: کسان رابطہ کمیٹی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری فاروق طارق نے وفاقی کابینہ کی جانب سے گندم سکینڈل میں ملوث فوڈ سیکیورٹی کے چار افسران کی معطلی کے فیصلے کو ناکافی قرار دیا اور کہا ہے کہ ان افسران کو قربانی کا بکرابنا کر اصل ذمہ داران کو کلین چٹ دے دی گئی ہے۔
پاکستان کسان رابطہ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ گندم سکینڈل پر کسان رہنماؤں پر مشتمل کمیشن بنایا جائے جو اس کی تحقیقات کرکے اصل ذمہ داروں کا تعین کرے۔
فاروق طارق نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے گندم سکینڈل کی تحقیقاتی کمیٹی کا چیئرمین ایسے شخص کو لگایا جو سابق وزیر اعظم انوارالحق کا کڑ کی کابینہ کا سیکرٹری تھا۔
ان کے مطابق کامران علی افضل نے تحقیقاتی کمیٹی کے چیئر مین کے طور پر جانبداری کرتے ہوئے نگران حکومت کو کلین چٹ دے دی۔
انھوں نے کہا کہ ایک وفاقی سیکرٹری اپنے سابق باس وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کر ہی نہ سکتا تھا۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ گندم سکینڈل پر پردہ پوشی نہ کی جائے، اصل ذمہ داران جنھوں نے یہ کلیدی معاشی فیصلہ کیا وہ نگران حکومت اور اس کے وزرا تھے، انھوں نے امپورٹ کی اجازت دے کر دونوں ہاتھوں سے سرمایہ دار کمپنیوں کو لوٹنے کا موقع فراہم کیا۔
فاروق طارق کے مطابق گندم سکینڈل کی وجہ سے 60 کمپنیوں نے بے تحاشہ منافع کمایا جبکہ کسانوں کی اکثریت اپنی گندم کو سرکاری نرخوں پر فروخت کرنے سے محروم رہی اور اب تک اونے پونے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہے۔
فاروق طارق نے مزید کہا کہ 21 مئی کو ملک گیر کسانوں کے مظاہروں کے باوجود اگر حکومت نے گندم کی خریداری شروع نہ کی اور گندم سکینڈل کے اصل ذمہ داروں کے خلاف ایکشن نہ لیا تو پاکستان کسان رابطہ کمیٹی ملک بھر کے کسانوں کو لاہور اور اسلام آباد میں مظاہروں کے لیے آنے کی دعوت دے گی۔
صحافیوں نے پیمرا کے عدالتی کوریج پر پابندی کے نوٹیفکیشن کو مسترد کر دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عدالتی امور کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے پیمرا کا نوٹیفکیشن مسترد کر دیا ہے۔ ان صحافیوں کی ’پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ‘ اور ’اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن‘ نے پیمرا کے نئے نوٹیفکیشن کے خلاف اعلامیہ جاری کیا ہے۔
پیمرا نے 21 مئی کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے عدالتی امور کی براہ راست کوریج کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔
اس نوٹیفکیشن کے بعد صحافیوں کی دونوں تنظیموں کا اجلاس ہوا، جس میں پیمرا کے اس نوٹیفکیشن کا جائزہ لیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق عدالتی رپورٹنگ کرنے والی دونوں صحافتی تنظیمیں پیمرا کا نوٹیفکیشن مسترد کرتی ہیں۔
صحافیوں نے اس نوٹیفکیشن کو آزادی صحافت اور آزاد عدلیہ کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا عدالتی کارروائی کو رپورٹ کرنے پر پابندی لگانے کا اختیار نہیں رکھتا۔
صحافتی تنظیموں کے مطابق آئین کے آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے اور 19 اے عوام کو معلومات تک رسائی کا حق دیتے ہیں جبکہ پیمرا کا نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
اعلامیے میں پیمرا سے عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کا نوٹیفکیشن فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ صحافتی تنظیمیوں نے واضح کیا ہے اگر پیمرا کا نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
،تصویر کا ذریعہPress Association of Supreme Court
وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناللہ کو ایک اور وزارت مل گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناللہ کو ایک اور وزرات دے دی گئی ہے۔ رانا ثناللہ کو وزرات بین الصوبائی رابطہ کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن قبال نے بین الصوبائی وزرات کا چارج چھوڑ دیا ہے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
رؤف حسن کے مقدمے میں ایف آئی آر ان کی درخواست کے عین مطابق درج کی گئی: اسلام آباد پولیس
ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما رؤف حسن کیس میں تفتیش پروفیشنل طور پر عمل میں لارہی ہے۔
ان کے مطابق ’اس کیس کی ایف آئی آر ان (رؤف حسن) کی دستخط شدہ درخواست کے مطابق من و عن درج کی گئی ہے۔‘
ترجمان کے مطابق رؤف حسن کیس میں ایس ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں سپیشل انویسٹیگیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
اسلام آباد پولیس کیس کو میرٹ پر منطقی انجام تک پہنچائے گی۔
اس سے قبل تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ رؤف حسن کے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعہ بھی شامل کی جائے تا کہ مشترکہ تحقیقات ٹیم اس مقدمے کی تحقیقات کرے۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق وہ کسی بھی الزام نہیں لگاتے اور نہ اس میں کسی کو مورد الزام ٹھہرانا چاہتے ہیں مگر تحقیقات کے نتیجے میں سب سامنے آ جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں کسی قسم کا انتشار ہو، اس زیادتی کا ازالہ ہونا چاہیے، اس کی مکمل، ہر زاویے سے تحقیقات ہونی چاہیے کہ ان پر حملہ کیوں کیا گیا، ان پر حملے کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی جائیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ رؤف حسن پر حملہ تحریک انصاف کے لیڈرز پر حملہ ہے، انھوں نے سپریم کورٹ سے روؤف حسن پر حملے کانوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ حملے کا نوٹس لے۔
عمران خان کا پیغام ملا کہ اب آپ کا باہر آنے کا وقت ہو گیا ہے: تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر
،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/BARRISTER HAMMAD AZHAR
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے اپنی روپوشی ختم کر دی ہے۔ پارٹی کے پبلک سیکریٹریٹ پہنچ کر انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی طرف سے انھیں کل رات رؤف حسن پر حملے کے بعد یہ پیغام موصول ہوا ہے کہ اب آپ کے باہر آنے کا وقت ہو گیا ہے۔
حماد اظہر کے مطابق وہ عمران خان کی ہی ہدایات پر پہلے روپوش تھے۔ ان کے مطابق انھیں عمران خان نے یہ بتایا کہ ان پر تشدد ہو سکتا ہے، آپ محفوظ رہیں۔
حماد اظہر نے کہا کہ ’اب جو ہو گا دیکھا جائے گا۔‘ ان کے مطابق وہ اب پشاور جا کر اپنے خلاف مقدمات پر ضمانت حاصل کر سکیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ’مراد سعید سمیت پارٹی کے اب تمام رہنما بھی باہر نکلیں گے۔‘
’ان کا ہدف میری شہ رگ تھی، حملہ آور کہہ رہے تھے ہم آپ کو دو دن سے ڈھونڈ رہے تھے‘: رؤف حسن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے پارٹی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ روز ان پر جو حملہ ہوا اس میں ’ان کا ہدف میری شہ رگ تھی، میں نے ڈک کیا تو بچ گیا، وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے ہم آپ کو دو دن سے ڈھونڈ رہے تھے۔‘
رؤف حسن نے کہا کہ چند روز قبل جب وہ صحافی محمد مالک کے ٹی وی شو میں شریک ہو کر باہر نکلے تو ان کا چار لوگوں نے تعاقب کیا، انھیں دھکے اور گالیاں دیں۔ ان کے مطابق اس وقت وہ گاڑی تک پہنچ کر وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
رؤف حسن نے کہا کہ اس وقت ملک میں اس وقت ’جمہوریت کے دھویں کے پیچھے فرد واحد کی حکومت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آپ مار تو ہمیں سکتے ہیں مگر ہم آپ کے سامنے جھکیں گے نہیں، سرنگوں نہیں کریں گے۔‘
انھوں نے کہا ہم میں سے کوئی بھی ان فسطائی طاقتوں کے سامنے نہیں جھکے گے اور سرنگوں نہیں ہو گا۔ رؤف حسن کے مطابق عمران خان باہر آئیں گے اور وہ وزیراعظم بنیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’میرے ساتھ جو ہوا وہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے، جو میرے پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ہوا وہ ناقابل بیان ہے۔‘
رؤف حسن نے کہا کہ ’یہ زخم تو مائل ہو جائے گا، مگر شخص واحد کی آمریت نے جو اس ریاست کی روح پر جو گھاؤ لگائے ہیں مگر شاید وہ مائل نہیں ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کون ہے وہ، کیا اسے کوئی پوچھے گا، اسے کمرہ عدالت میں بلایا جائے گا۔ کس آئین اور قانون کے تحت یہ کیا گیا کیا کوئی وجہ بتائی جائے گی۔‘
عمر ایوب نے کہا کہ جس ٹولے نے رؤف حسن پر حملہ کیا وہ اب کہاں ہے؟ پولیس 24 گھنٹے کے بعد بھی بلیڈ حملہ کرنے والوں تک نہیں پہنچ سکی۔
اس موقع پر اعظم سواتی نے بھی رؤف حسن پر حملے کی مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ میرے اور میرے خاندان والوں کے ساتھ ہوا اور جو ’رجیم چینج کی ایف آئی آر (جنرل) باجوہ کے خلاف کاٹی جاتی تو یہ آج نہ ہوتا۔‘