ہفتوں پر محیط انتخابی مہم اور سخت مقابلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدارتی
امیدوار میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
وہ امریکہ کے پہلے سابق صدر ہیں جنہیں کسی بھی مقدمے میں مجرم قرار دیا جا چکا
ہے اور ان کے خلاف اب بھی کئی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
ان تمام تر الزامات کے باوجود رپبلکن امیدوار کی جیت نے امریکہ کو ایسی
صورتحال سے دوچار کر دیا ہے جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں قدم رکھتے ہوئے ان چار قانونی چیلنجز کا سامنا
کرنا پڑے گا۔
پورن سٹار کو رقم کی ادائیگی
ڈونلڈ ٹرمپ کو نیویارک میں کاروباری ریکارڈ میں ردوبدل کے 34 سنگین الزامات میں
پہلے ہی مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ رواں برس مئی میں نیویارک میں ایک جیوری نے انہیں
ایک پورن سٹار کو خاموش رہنے کے عوض رقم کی ادائیگی سے متعلق الزامات میں قصوروار
ٹھہرایا تھا، لیکن اس مقدمے میں ابھی سزا کا اعلان نہیں ہوا ہے۔
جج جوان مرچن نے ٹرمپ کی سزا کا وقت ستمبر سے مؤخر کرکے 26 نومبر مقرر کیا ہے۔
بروکلین کے سابق پراسیکیوٹر جولی رینڈل مین کے مطابق جج ٹرمپ کی جیت کے باوجود اس
تاریخ پر سزا سنانے کا عمل جاری رکھ سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس بات کا امکان کم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو قید کی سزا
سنائی جائے۔ کیونکہ وہ پہلی بار کسی جرم کے مرتکب ہونے والے ایک عمر رسیدہ شہری ہیں۔
تاہم اگر انہیں قید کی سزا سنائی جاتی ہے تو ان کے وکلا فوری طور پر اس سزا کے
خلاف اپیل دائر کریں گے اور یہ مؤقف اختیار کریں گے کہ جیل جانا ان کے سرکاری
فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ بنے گا۔
رینڈل مین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں اپیل کا عمل سالوں تک جاری رہ سکتا ہے۔
سپیشل پراسیکیوٹر جیک سمتھ نے گزشتہ سال ٹرمپ پر الزامات عائد کیے تھے جن کا
تعلق ان کی 2020 کے انتخابی نتائج کو بدلنے کی مبینہ کوششوں سے تھا۔
ٹرمپ ان الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔
یہ کیس میں قانونی پیچیدگیاں بےشمار ہیں۔ سپریم کورٹ نے رواں برس یہ قرار دیا
تھا کہ سرکاری فرائض کے دوران کیے گئے اقدامات پر سابق صدر کو فوجداری کارروائی سے
جزوی استثنا حاصل ہے۔
سابق وفاقی پراسیکیوٹر نعیمہ رحمانی کے مطابق چونکہ ٹرمپ جیت چکے ہیں اس لیے
ان کے مجرمانہ معاملات ’ختم‘ ہوجائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کسی موجودہ صدر پر مقدمہ نہیں چلایا
جا سکتا، اس لیے انتخابی دھوکہ دہی کا مقدمہ ختم کر دیا جائے گا۔‘
رحمانی کا کہنا ہے کہ اگر جیک سمتھ نے مقدمہ ختم کرنے سے انکار کیا تو ٹرمپ
انہیں برطرف کر سکتے ہیں، جس کا اظہار وہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔
اکتوبر میں ایک ریڈیو انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’میں انہیں دو سیکنڈوں
کے اندر برطرف کر دوں گا۔‘
سپشل پراسیکیوٹر جیک سمتھ ٹرمپ کے خلاف ایک اور مقدمے کو بھی لیڈ کر رہے ہیں،
جس میں ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد بھی خفیہ دستاویزات
کو اپنے پاس رکھا۔
ٹرمپ ان الزامات کی بھی تردید کر چکے ہیں۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے حساس دستاویزات کو اپنے گھر میں رکھا اور ان
فائلوں کی واپسی میں رکاوٹ ڈالی۔
کیس پر مامور جج ایلن کینن ٹرمپ کے
نامزد کردہ ہیں۔ جج کینن نے جولائی میں یہ کہتے ہوئے الزامات کو ختم کر دیا تھا کہ
محکمہ انصاف نے اس کیس کی پیروی کے لیے جیک سمتھ کو صحیح طریقے سے نامزد نہیں کیا
ہے۔
سمتھ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔
سابق وفاقی پراسیکیوٹر نیما رحمانی کے مطابق ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کی صورت میں
خفیہ دستاویزات کے کیس کا بھی وہی انجام ہو گا جو انتخابی کیس کا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ’محکمہ انصاف گیارہویں سرکٹ میں خفیہ دستاویزات کیس کے خاتمے
کے خلاف اپیل کو مسترد کر دے گا۔‘
انتخابی نتائج کو تبدیل کرانے کی مبینہ کوشش کا مقدمہ
ٹرمپ پر الزام ہے کہ انھوں نے 2020 میں جارجیا میں مبینہ طور پر انتخابی نتائج
کو تبدیل کرچانے کی کوشش کی تھی۔
اس مقدمے میں بھی متعدد رکاوٹیں سامنے آئی ہیں۔ ڈسٹرکٹ اٹارنی فانی ولیس کو اس
بنیاد پر نااہل کروانے کی کوشش ہو رہی ہے کہاس مقدمے کے لیے انہوں نے جس وکیل کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں اس کے ان سے ’تعلقات‘
ہیں۔
ایک ایپلٹ کورٹ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا فانی ولیس کو اس مقدمے پر کام جاری رکھنے کی اجازت دی
جائے یا نہیں۔
لیکن اب جبکہ ٹرمپ اگلے صدر ہیں تو اس مقدمے کو مزید تاخیر کا سامنا کرنا پڑ
سکتا ہے، یا ممکنہ طور پر اسے ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی مدتِ صدارت میں اس مقدمے کی کارروائی روک دی
جائے گی۔
جج نے ٹرمپ کے وکیل سٹیو سیڈو سےسوال کیا کہ اگر ٹرمپ منتخب ہو جاتے ہیں تو کیا
ان پر مقدمہ چلایا جا سکے گا؟
ٹرمپ کے وکیل نے کہا ’اس کا جواب یہ
ہے کہ میرے خیال میں سپرمیسی کلاز کی موجودگی اور امریکہ کے صدر کی حیثیت سے ان کی
ذمہ داریوں کے مدِنظر یہ مقدمہ ان کی مدتِ صدارت کے اختتام تک ملتوی رہے گا۔‘