شکستوں سے بچا نہیں جا سکتا لیکن ہار مان لینا ناقابلِ معافی عمل ہے: ٹرمپ کی فتح کے بعد بائیڈن کا پہلا خطاب

امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کے حوالے سے قوم سے پہلا خطاب کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کو قبول کرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ہم مضبوط ترین معیشت چھوڑ رہے ہیں، ہماری مدت کے مکمل ہونے میں ابھی 74 دن باقی ہیں۔

خلاصہ

  • نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے
  • ٹرمپ کی بطورِ صدر تقریبِ حلف برداری سے قبل امریکی صدارتی انتخاب کے تمام معاملات 17 دسمبر تک طے ہو جائیں گے
  • ٹرمپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن نے نو منتخب صدر کو ان کی جیت پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا ہے اور انھیں انتظامیہ کی منتقلی پر بات کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہے
  • امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کا نتیجہ توقعات کے برعکس آیا مگر اقتدار کی پرامن منتقلی میں شامل رہوں گی‘
  • امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے موقع پر بِٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 75 ہزار ڈالر پر پہنچ گئی ہے

لائیو کوریج

  1. شکستوں سے بچا نہیں جا سکتا لیکن ہار مان لینا ناقابلِ معافی عمل ہے: ٹرمپ کی فتح کے بعد بائیڈن کا پہلا خطاب

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے قوم سے پہلا خطاب کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کو قبول کرتے ہیں۔‘

    وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں اپنے خطاب کے دوران جو بائیڈن نے امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس کی تعریف کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’شکستوں سے بچا نہیں جا سکتا لیکن ہار مان لینا ناقابلِ معافی عمل ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہم مضبوط ترین معیشت چھوڑ رہے ہیں، ہماری مدت کے مکمل ہونے میں ابھی 74 دن باقی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی کامیابی پر مبارکباد دینے اور اقتدار کی منظم منتقلی میں ان کی مدد کرنے پر بات کی ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ 20 جنوری کو اقتدار کی پرامن منتقلی ہوگی، اور میں صدر کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کروں گا۔

    جو بائیڈن نے اپنے خطاب کے دوران اپنی کابینہ کا دفاع بھی کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں انتخابات میں ناکامی ضرور ہوئی ہے مگر اس کے باوجود ہمیں متحرک اور یکجا رہنا ہوگا۔

    امریکی صدر کے خطاب کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار برنڈ ڈیبسمان جونئیر کے مطابق امریکی صدر نے اپنے مختصر خطاب کے بعد وہاں موجود صحافیوں کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ امریکی صدر سے یہ سوال بھی ہوا کہ ’انتخابی مہم میں کہا غلطی ہوئی اور کیا آپ امریکہ میں جمہوریت کو خطرے میں دیکھ رہے ہیں؟‘ تاہم انھوں نے اس کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔

  2. نیٹو چیف ٹرمپ کے ساتھ روس اور شمالی کوریا سے متعلق بات کرنا چاہتے ہیں

    نیٹو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے بوداپیست میں ہونے والے یورپی ممالک کے رہنماؤں کے اجلاس سے قبل میڈیا سے بات کی۔

    یوکرین کی جنگ میں شمالی کوریا کے کردار اور روس کی جانب سے شمالی کوریا کو ٹیکنالوجی کی فراہمی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بیٹھ کر اس قسم کے خطرات پر بات کرنے کا منتظر ہوں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان دونوں ممالک یعنی روس اور شمالی کوریا کا اتحاد نہ صرف نیٹو کے یورپی رکن ممالک کے لیے خطرہ ہے بلکہ امریکا کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔‘

    گزشتہ ماہ نیٹو کی جانب سے پہلی مرتبہ اس بات کا اظہار کیا گیا تھا کہ شمالی کوریا کے فوجی روس میں جنگی محاذ پر تعینات کیے گئے ہیں۔ نیٹو نے اسے ایک بڑی اشتعال انگیزی قرار دیا تھا۔‘

  3. ٹرمپ کی کابینہ میں کون کون ہو سکتا ہے؟

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ وعدے کیے تھے جن میں سے کچھ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کے حامل نظر آئے یعنی یہ کہ وہ اپنی انتظامیہ یا کابینہ میں کسے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ وہ اپنی دوسری مدت کے دوران کن کن کو اپنے ساتھ شامل کر سکتے ہیں:

    سوزی ولز: انھوں نے ٹرمپ کی صدارتی مہم میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ممکنہ طور پر وہ ان کے آئندہ دورِ حکومت میں چیف آف سٹاف ہو سکتی ہیں۔ ہاں یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ مُمکنہ طور پر یہ کام سابق پالیسی ایڈوائزر بروک رولنز کے حوالے بھی کیا جا سکتا ہے۔

    رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر: ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس بات کا اظہار کیا تھا کہ اگر وہ منتخب ہو گئے تو سابق آزاد امیدوار اور کووڈ ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات رکھنے والی یہ شخصیت خوراک اور دواؤں سے متعلق ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے والے ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ سینیٹ کی جانب سے کینیڈی کو کابینہ میں تعیناتی کی اجازت ملے گی یا نہیں۔

    مائیک پومپیو: سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر اور ٹرمپ کے گزشتہ دورِ صدارت میں وزیر خارجہ رہنے والے مائیک پومپیو کو اس مرتبہ وزیرِ دفاع کے طور پر سامنے لایا جا سکتا ہے۔

    رک گرینیل: وہ ٹرمپ کی گزشتہ انتظامیہ میں جرمنی میں امریکی سفیر اور قومی انٹیلی جنس کے قائم مقام ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انھیں وزیر خارجہ یا قومی سلامتی کے مشیر کا امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    ایلون مسک: ہم نے دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے بارے میں بہت کچھ دیکھا اور سنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ مسک کا حکومت میں کردار ہوگا۔ اس پر ایلون مسک نے کہا تھا کہ ٹرمپ اور میں ایک محکمہ بنائیں گے جو فضول سرکاری اخراجات پر نظر رکھے گا۔ مسک نے اسے حکومت کی استعداد بڑھانے کا محکمہ قرار دیا تھا۔

  4. وہ سات کام جن کا ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے

    ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس لوٹ رہے ہیں اور سینیٹ پر ریپبلکن پارٹی کے دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد انھیں کانگریس میں اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے کافی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے۔

    اپنی وکٹری کی تقریر میں ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے جا رہے ہیں۔

    1- دستاویزات کے بغیر امریکہ میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری

    انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے امریکہ میں دستاویزات کے بغیر مقیم تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر ملک بدر کرنے کا وعدہ کیا۔

    انھوں نے میکسیکو کی سرحد پر اس دیوار کی تعمیر مکمل کرنے کا بھی وعدہ کیا جو ان کے پہلے دور صدارت میں شروع ہوئی تھی۔

    ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ٹرمپ کے ملک بدری کے وعدے کو بڑے قانونی اور لاجسٹک چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس سے اقتصادی ترقی کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔

    2- معیشت، ٹیکس اور ٹیرف

    ایگزٹ پول کے اعداد و شمار تجویز کرتے ہیں کہ ووٹروں کے لیے معیشت ایک اہم مسئلہ تھا۔

    ٹرمپ نے مہنگائی کو ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے جو اگرچہ اب کم ہوئی ہے مگر صدر جو بائیڈن کے دور میں اعلی سطح پر پہنچ گئی تھی۔ لیکن صدر کا قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہونے کا اختیار بھی محدود ہے۔

    انھوں نے بڑے پیمانے پر ٹیکسوں میں کٹوتیوں کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے زیادہ تر غیر ملکی اشیا پر کم از کم 10 فیصد کے نئے ٹیرف تجویز کیے ہیں۔

    انھوں نے کہا ہے کہ چین سے درآمدات پر 60 فیصد اضافی ٹیرف برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ کچھ ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے عام لوگوں کے لیے اشیا کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

    3- کلائمنٹ ریگولیشنز

    اپنی پہلی صدارت کے دوران ٹرمپ نے ماحولیات کے حوالے سے سینکڑوں ریگولیشنز کو واپس لیا اور امریکہ کو پیرس کلائمنٹ ایگریمنٹ سے دستبردار ہونے والا پہلا ملک بنا دیا۔

    اس بار بھی ٹرمپ نے ریگولیشنز میں کمی کا عزم ظاہر کیا ہے ان کا ماننا ہے کہ اس سے وہ امریکی کار انڈسٹری کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے مسلسل الیکٹرک گاڑیوں پر تنقید کی ہے۔

    ٹرمپ نے فوسل فیول کی پیداوار میں اضافہ کرنے کا عہد کیا ہے اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کے لیے ڈرلنگ کا بھی عہد کیا ہے۔ وہ آرکٹک کے بیابان علاقوں کو تیل کی کھدائی کے لیے کھولنا چاہتے ہیں۔

    4- یوکرین میں جنگ کا خاتمہ

    ڈونلڈ ٹرمپ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یوکرین کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی امریکی فوجی امداد پر لمبے عرصے سے تنقید کرتے آئے ہیں۔

    ٹرمپ نے منتخب ہونے کی صورت میں اس تنازعے کو ’24 گھنٹوں کے اندر‘ ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکہ غیر ملکی تنازعات سے خود کو الگ کرے۔ غزہ میں جنگ کے حوالے سے ٹرمپ نے خود کو اسرائیل کا کٹر حامی قرار دیا ہے لیکن اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا آپریشن ختم کر دے۔

    انھوں نے لبنان کے ساتھ جنگ بھی ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اس کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    5- اسقاط حمل پر پابندی کا خاتمہ

    اپنے کچھ حامیوں کی خواہشات کے برعکس ٹرمپ نے کملا ہیرس کے ساتھ صدارتی مباحثے کے دوران کہا کہ وہ اسقاط حمل پر پابندی کے قانون پر دستخط نہیں کریں گے۔

    2022 میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کے ملک گیر آئینی حق کو ختم کر دیا تھا۔

    ٹرمپ نے باقاعدگی سے کہا ہے کہ ریاستوں کو اسقاط حمل کے بارے میں اپنے قوانین خود طے کرنے کے لیے آزاد ہونا چاہیے۔

    6- چھ جنوری کے دن فساد کرنے والوں کو عام معافی

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 6 جنوری 2021 کو واشنگٹن ڈی سی میں فسادات کے دوران جرائم کے مرتکب افراد میں سے کچھ کو ’آزاد‘ کر دیں گے۔

    یاد رہے اس دن ان کے حامیوں نے جو بائیڈن کی 2020 کے انتخابی فتح کو ناکام بنانے کی کوشش میں کیپیٹل کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔

    ٹرمپ پر اس تشدد میں شامل افراد کو اکسانے کا الزام لگایا تھا۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ ’غلطی سے قید ہیں‘۔

    7- عہدہ سنبھالنے کے ’دو سیکنڈ کے اندر‘ تجربہ کار پراسیکیوٹر کو برطرف کرنے کا عہد

    ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے ’دو سیکنڈ کے اندر‘ تجربہ کار پراسیکیوٹر کو برطرف کرنے کا عہد کیا ہے جو ان کے خلاف دو مجرمانہ تحقیقات کی قیادت کر رہے ہیں۔

    سپیشل کونسل جیک سمتھ نے ٹرمپ پر 2020 کے انتخابات کو اپنے حق میں کرنے کی مبینہ کوششوں اور خفیہ دستاویزات کے مبینہ غلط استعمال پر فرد جرم عائد کی ہے۔

    ٹرمپ کسی بھی غلط کام کی تردید کرتے ہیں اور انتخابات سے پہلے کسی بھی مقدمے کی سماعت کو روکنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سمتھ نے انھیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ وہ پہلے صدر ہوں گے جن پر جرم ثابت ہوا۔

  5. کیا ٹرمپ بڑے پیمانے پر تارکینِ وطن کو امریکہ سے نکال سکتے ہیں؟

    ٹرمپ نے گذشتہ دورِ صدارت میں جارحانہ امیگریشن پالیسیاں اپنائی تھیں اور انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد وہ ان سے ایک قدم آگے جائیں گے۔

    انھوں نے اعلان کیا کہ ان کی صدارت کے پہلے دن ہی ’امریکہ کی تاریخ میں ملک بدری کا سب سے بڑا آپریشن شروع ہو جائے گا۔‘

    انھوں نے دستاویزات کے بغیرامریکہ میں مقیم تارکین وطن کے بچوں کے لیے پیدائشی حق شہریت ختم کرنے اور میکسیکو کے منشیات فروشوں کے خلاف جنگ لڑنے کا عہد کیا ہے۔

    اور گذشتہ برس انھوں نے تجویز کیا تھا کہ وہ کئی مسلم اکثریتی ممالک کے لوگوں پر اپنی سابقہ، انتہائی متنازعہ سفری پابندیوں کو بڑھائیں گے۔

    ڈورس میسنر یو ایس امیگریشن اینڈ نیچرلائزیشن سروس کی سابق کمشنر اور واشنگٹن ڈی سی میں قائم مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ماہر ہیں، وہ کہتی ہیں کہ لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کی کوشش کے علاوہ (جن میں سے بہت سے کئی دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہیں) ٹرمپ قانونی امیگریشن کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ کی ویب سائٹ کے مطابق انھوں نے گذشتہ دورِ صدارت میں امریکی پناہ گزینوں کی آبادکاری کے پروگرام کو معطل کر دیا تھا۔ میسنر کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ ایسا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    میسنر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو اپنے منصوبوں میں قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جیسا کہ پچھلی مرتبہ ہوا تھا جب عدالتوں نے سفری پابندی جیسے فیصلوں میں مداخلت کی تھی۔ اور ان کا ملک بدری کا منصوبہ اس لیے قابلِ عمل نہیں کہ وفاقی حکومت کے پاس لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کو حراست میں لینے اور رکھنے کے وسائل نہیں ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صدر بائیڈن نے انسانی بنیادوں پر امیگریشن پالیسی کا وعدہ کیا اور ٹرمپ کے دور کی متعدد سرحدی پالیسیوں کو معطل یا منسوخ کر دیا۔ لیکن اس بار پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائیں اور دائیں دونوں جانب کے ووٹرز امیگریشن کے بارے میں فکر مند ہیں۔

    گزشتہ جون میں بائیڈن نے ایک حکم جاری کیا جس کے تحت حکام کو ان تارکین وطن کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کی اجازت دی گئی جو اپنے پناہ کے دعووں پر کارروائیوں سے قبل ہی غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوتے ہیں۔

    دو ہفتے بعد انھوں نے ایک ایسی پالیسی منظور کی جو لاکھوں امریکی شہریوں کے ان شریکِ حیات کو ملک بدری سے بچاتی ہے جو دستاویزات کے بغیر امریکہ میں مقیم ہیں۔

  6. ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد نیٹو کا مستقبل کیا ہو گا ؟

    ڈونلڈ ٹرمپ کے ’سب سے پہلے امریکہ‘ والے نظریے میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ نیٹو کا مستقبل کیا ہو گا۔

    دوسری جنگ عظیم کے بعد اور سوویت یونین کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار کے طور پر بننے والا یہ فوجی اتحاد آج امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس سمیت 32 ممالک پر مشتمل ہے۔

    اور یہ ان موضوعات میں سے ایک ہے جن سے ٹرمپ نفرت کرتے ہیں۔

    بطورِ صدر وہ اکثر دھمکی دیتے تھے کہ اگر دیگر اراکین دو فیصد جی ڈی پی کا طے شدہ ہدف پورا نہیں کرتے ہیں تو وہ امریکہ کو اس تنظیم سے نکال لیں گے۔

    نیٹو قوانین کے تحت کسی رکن ملک پر حملہ بلاک کے تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

    لیکن اس سال فروری میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ان ممالک کی حفاظت نہیں کریں گے جنھوں نے ’ادائیگی نہیں کی‘ اور ماسکو ان کے ساتھ ’جو چاہے‘ کرے۔

    ان کی انتخابی مہم کی ویب سائٹ کے مطابق ان کا مقصد نیٹو کے مقصد اور مشن کا ’دوبارہ جائزہ لینا‘ ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آیا وہ امریکہ کو اتحاد سے نکال سکتے ہیں یا نہیں، اس بارے میں رائے منقسم ہے۔

    لندن میں قائم ایک دفاعی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے ایڈ آرنلڈ کا کہنا ہے کہ اگر روس نیٹو کے رکن ممالک پر حملہ کرتا ہے تو وہ امریکہ کو نیٹو سے نکالے بغیر بھی یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی لا کر یا امریکی ردِعمل کے لیے شرائط لاگو کرکے اس ملک کو (جس پر حملہ ہوا ہو) کمزور کر سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کے اتحادیوں کا ماننا ہے کہ ان کے سخت الفظ محض ایک مذاکراتی حربہ ہے تاکہ دیگر اراکین اس اتحاد کے دفاعی اخراجات میں حصہ ڈالیں۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کی جیت کے بعد نیٹو کے رہنما اس اتحاد کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہوں گے۔

  7. کیا ٹرمپ صدر بننے کے بعد یوکرین کی عسکری و مالی امداد جاری رکھیں گے؟, ٹرمپ منتخب ہونے کے بعد یوکرین کو ’ایک پیسہ بھی نہیں دیں گے‘ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈونلڈ ٹرمپ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یوکرین کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی امریکی فوجی امداد پر لمبے عرصے سے تنقید کرتے آئے ہیں۔

    ٹرمپ نے منتخب ہونے کی صورت میں ’24 گھنٹوں کے اندر‘ جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

    انھوں نے اس تفصیلات تو نہیں فراہم کی تھیں جس سے خدشہ پیدا ہوا کہ وہ یوکرین پر اپنے کچھ علاقے روس کو دینے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

    مئی میں ٹرمپ کے دو سابق قومی سلامتی کے مشیروں کی طرف سے لکھے گئے ایک تحقیقی مقالے میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کو یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی جاری رکھنی چاہیے لیکن یہ اس شرط پر ہو کہ یوکرین روس کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرے۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ سابق مشیروں کی دستاویز ٹرمپ کی اپنی سوچ کی کس حد تک نمائندگی کرتی ہے لیکن اس سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے کہ وہ کس قسم کے مشورے حاصل کر سکتے ہیں۔

    دوسری طرف امریکی کانگریس میں یوکرین کے لیے 60 بلین ڈالر کی فوجی امداد کے بل کو منظوری سے قبل ریپبلکن حامیوں نے مہینوں تک روکے رکھا تھا۔

    تاہم ٹرمپ کے ایک اتحادی ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے مارچ میں فلوریڈا میں ان سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ٹرمپ منتخب ہونے کے بعد یوکرین کو ’ایک پیسہ بھی نہیں دیں گے۔‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اوربان کے تبصرے کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے ٹائم میگزین کو بتایا: ’میں تب تک ایک پیسہ بھی نہیں دوں گا جب تک کہ یورپ امریکہ جتنی رقم نہ دینا شروع کرے۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ یوکرین کی مدد کرنے کی کوشش کریں گے لیکن یورپ اپنا مناسب حصہ ادا نہیں کر رہا ہے۔

    فوجی امداد میں کٹوتی ریپبلکن ووٹروں کی خواہشات کی عکاسی ہے۔

    پیو ریسرچ سینٹر کے 8 مئی کو جاری کیے گئے ایک سروے میں 17 فیصد ڈیمو کریٹک ووٹروں کے مقابلے میں 49 فیصد ریپبلکنز نے کہا کہ واشنگٹن یوکرین میں بہت زیادہ پیسہ خرچ کر رہا ہے۔

    لندن کی رائل ہولوے یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کی ماہر مشیل بینٹلی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے تبصرے اور پیغامات ملک سے باہر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں کیونکہ ’پوتن اب خاصا پرسکون محسوس کر رہے ہوں گے۔‘

  8. امریکہ میں اقتدار کی منتقلی کا طریقہ کار کیا ہے؟, جارج باؤڈن، بی بی سی

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری 2025 کو صدارتی حلف اٹھائیں گے۔

    اسی وقت وہ قانونی طور پر صدارت کے اختیارات اور ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

    یاد رہے امریکہ میں صدر کا انتخاب براہِ راست عام ووٹر نہیں کرتے بلکہ یہ کام الیکٹورل کالج کا ہے۔

    امریکی صدارتی انتخاب میں سب سے اہم اور پیچیدہ ادارہ الیکٹورل کالج ہے۔ بنیادی طور پر الیکٹورل کالج ایک ایسا ادارہ ہے جو صدر کا انتخاب کرتا ہے اور اس کالج کے ارکان جنھیں ’الیکٹر‘ بھی کہا جاتا ہے، عوام کے ووٹوں سے جیتتے ہیں۔

    یعنی جب امریکی عوام صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے جاتے ہیں تو دراصل وہ ایسے افراد کے لیے ووٹ ڈال رہے ہوتے ہیں جو مل کر الیکٹورل کالج بناتے ہیں اور ان کا کام ملک کے صدر اور نائب صدر کو چننا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکٹورل کالج کا کام جنوری سے پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ عام طور پر ہر ریاست اپنے الیکٹورل کالج ووٹ اسے دیتی ہے جو مقبول ووٹ جیتتا ہے۔ اس کی تصدیق 17 دسمبر کو ہوتی ہے۔

    اس کے بعد نئی امریکی کانگریس 6 جنوری کو الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی تصدیق کے لیے میٹنگ کرتی ہے۔ اس طرح باضابطہ طور پر اگلے صدر کی تصدیق ہوتی ہے۔

    یاد رہے سنہ 2021 میں بائیڈن سے شکست کے بعد جب ٹرمپ نے ہار ماننے سے انکار کر دیا تو ان کے حامیوں نے اسی عمل کو روکنے کی کوشش میں کیپیٹل پر دھاوا بولا تھا۔

  9. بائیڈن نے نو منتخب صدر کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہے: ٹرمپ کے ترجمان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹرمپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن نے نو منتخب صدر کو ان کی جیت پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا ہے اور انھیں انتظامیہ کی منتقلی پر بات کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہے۔

    ٹرمپ کے ترجمان سٹیون چیونگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اس ملاقات کے منتظر ہیں جو جلد ہی ہو گی۔

    یہاں یہ یاد رہے کہ ٹرمپ نے روایت سے ہٹ کر 2020 کے صدارتی انتخابات میں ہارنے کے بعد بائیڈن کو یہ دعوت نہیں دی تھی۔

    صدور عام طور پر آنے والی انتظامیہ کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کرتے ہیں اور افتتاحی تقریب کے لیے ان کے ساتھ یو ایس کیپیٹل تک سواری کرتے ہیں۔

    ٹرمپ نے 2021 میں اس تقریب میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔

  10. الیکشن کا نتیجہ توقعات کے برعکس آیا مگر اقتدار کی پرامن منتقلی میں شامل رہوں گی: کملا ہیرس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈونلڈ ٹرمپ سے انتخاب میں شکست کے بعد اپنے پہلے خطاب میں ڈیموکریٹس کی امیدوار کملا ہیرس کا کہنا ہے کہ ان کا دل پرسکون ہے ’آپ نے مجھ پر جو بھروسہ کیا ہے اس کے لیے میں شکرگزار ہوں۔‘

    اب سے کچھ دیر قبل کملا ہیرس نے واشنگٹن ڈی سی میں ہاورڈ یونیورسٹی میں جمع ہونے والے مداحوں سے خطاب کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ الیکشن کا نتیجہ ان کی توقعات کے برعکس آیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ہمیں انتخابی نتائج کو قبول کرنا ہو گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹرمپ سے بات کی ہے اور انھیں مبارکباد دی ہے۔

    ہیرس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹرمپ کو بتایا ہے کہ وہ ’اقتدار کی پرامن منتقلی‘ میں شامل ہوں گی اور اس عمل میں مدد کریں گی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جمہوریت کا ایک بنیادی اصول‘ نتائج کو قبول کرنا ہے۔ ہیرس کا کہنا ہے کہ یہ جمہوریت کو فسطائیت سے جدا کرتا ہے۔

    ہیریس کا کہنا ہے کہ ’میں الیکشن میں شکست تسلیم کرتی ہوں، مگر لڑائی جاری رکھوں گی‘۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ ان مسائل پر لڑائی جاری رکھیں گی جو ان کی مہم کا حصہ تھے۔

    نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے انھوں نے کہا ’اداس ہونا اور مایوسی میں کچھ برائی نہیں ہے مگر یقین رکھیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘

    کملا کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی لڑائی میں وقت لگتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جیت نہیں پائیں گے۔ بس آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔

    ہیرس کا کہنا ہے کہ ’بہت سے لوگوں کو لگ رہا ہو گا کہ ہم ایک تاریک دور میں داخل ہو رہے ہیں لیکن مجھے امید ہے ایسا نہیں ہو گا۔ کیونکہ جب اندھیرا زیادہ ہو تبھی ہم آسمان میں ستاروں کو دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔‘

  11. امریکہ کے صدارتی انتخاب کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    bbc

    آگر آپ ہمیں ابھی جوائن کر رہے ہیں تو آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ امریکہ کے صدارتی انتخاب میں اب تک کیا ہوا ہے:

    • امریکہ کے صدارتی انتخاب کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے تاہم اہم سوئنگ ریاستوں وسکونسن، شمالی کیرولائنا، جارجیا اور پینسلوینیا میں فیصلہ کُن برتری حاصل کرنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کا صدارتی انتخاب جیت چکے ہیں۔
    • ڈونلڈ ٹرمپ نے 294 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ کملا ہیرس کو 223 ووٹ ملے ہیں۔
    • اگلے نتائج ریاست نیواڈا سے آئیں گے۔ یہ ایک سوئنگ سٹیٹ ہے جس کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد چھ ہے۔ وہاں اب تک 90 فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے اور اب تک آنے والے نتائج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کا امکان ہے۔
    • اس کے علاوہ ایک اور سوئنگ ریاست ایریزونا سے نتائج آنا ابھی باقی ہیں اور اب تک کے ووٹوں کی گنتی کے مطابق ٹرمپ، ہیرس سے آگے ہیں۔
    • وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کو اقتدار کی منتقلی کی قیادت کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’آنے والے دنوں اور ہفتوں‘ میں اپنی کابینہ کا انتخاب شروع کریں گے۔
    • اس کے علاوہ ریپبلکنز نے امریکی سینیٹ پر بھی دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اور اگرچہ حتمی نتیجہ آنے میں چند دن لگ سکتے ہیں تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ ایوان نمائندگان پر بھی ریپبلکنز کا غلبہ ہو گا۔
  12. بریکنگ, امریکی صدارتی انتخاب 2024: کملا ہیرس کی ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکشن جیتنے پر مبارکباد

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو 2024 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

    بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز نے خبر دی ہے کہ کملا ہیرس نے مبارکباد کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیلیفون کیا اور بات چیت کے دوران کملا ہیرس نے اقتدار کی پرامن منتقلی پر زور دیا۔

    انھوں نے ساتھ ہی اس امید کا اظہار کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ تمام امریکیوں کے صدر ہوں گے۔ یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ کملا ہیرس آج کسی وقت عوام سے خطاب بھی کریں گی۔

  13. پاکستان ٹرمپ کی ترجیحات میں نہیں، عمران خان کی حمایت کرنے والے ڈیموکریٹس الیکشن ہار گئے: عزیر یونس

    ،ویڈیو کیپشنصدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد پاکستان اور دنیا پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟

    امریکہ کے صدارتی انتخاب کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے تاہم اہم سوئنگ ریاستوں وسکونسن، شمالی کیرولائنا، جارجیا اور پینسلوینیا میں فیصلہ کُن برتری حاصل کرنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کا صدارتی انتخاب جیت چکے ہیں۔

    صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی واضع کامیابی کے بعد پاکستان اور دنیا پر اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ امریکہ میں موجود بی بی سی اردو کی نامہ نگار ترہب اصغر نے تجزیہ کار عزیر یونس سے گفتگو کی جن کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹرمپ کی ترحیجات میں بہت نیچے ہے۔

    ٹرمپ کی پاکستان سے متعلق پالیسی پر عزیر یونس کی کیا رائے ہے، آئیے سُنتے ہیں۔

  14. صدر منتخب ہونے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی عدالتوں میں متعدد مقدمات کا سامنا, میڈلین ہالپرٹ، بی بی سی نیوز

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہفتوں پر محیط انتخابی مہم اور سخت مقابلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدارتی امیدوار میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

    وہ امریکہ کے پہلے سابق صدر ہیں جنہیں کسی بھی مقدمے میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے اور ان کے خلاف اب بھی کئی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔

    ان تمام تر الزامات کے باوجود رپبلکن امیدوار کی جیت نے امریکہ کو ایسی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں قدم رکھتے ہوئے ان چار قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    پورن سٹار کو رقم کی ادائیگی

    ڈونلڈ ٹرمپ کو نیویارک میں کاروباری ریکارڈ میں ردوبدل کے 34 سنگین الزامات میں پہلے ہی مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ رواں برس مئی میں نیویارک میں ایک جیوری نے انہیں ایک پورن سٹار کو خاموش رہنے کے عوض رقم کی ادائیگی سے متعلق الزامات میں قصوروار ٹھہرایا تھا، لیکن اس مقدمے میں ابھی سزا کا اعلان نہیں ہوا ہے۔

    جج جوان مرچن نے ٹرمپ کی سزا کا وقت ستمبر سے مؤخر کرکے 26 نومبر مقرر کیا ہے۔ بروکلین کے سابق پراسیکیوٹر جولی رینڈل مین کے مطابق جج ٹرمپ کی جیت کے باوجود اس تاریخ پر سزا سنانے کا عمل جاری رکھ سکتے ہیں۔

    قانونی ماہرین کے مطابق اس بات کا امکان کم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو قید کی سزا سنائی جائے۔ کیونکہ وہ پہلی بار کسی جرم کے مرتکب ہونے والے ایک عمر رسیدہ شہری ہیں۔

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنسٹارمی ڈینیلز

    تاہم اگر انہیں قید کی سزا سنائی جاتی ہے تو ان کے وکلا فوری طور پر اس سزا کے خلاف اپیل دائر کریں گے اور یہ مؤقف اختیار کریں گے کہ جیل جانا ان کے سرکاری فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ بنے گا۔

    رینڈل مین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں اپیل کا عمل سالوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

    کیپٹل ہل پر حملہ کیس

    سپیشل پراسیکیوٹر جیک سمتھ نے گزشتہ سال ٹرمپ پر الزامات عائد کیے تھے جن کا تعلق ان کی 2020 کے انتخابی نتائج کو بدلنے کی مبینہ کوششوں سے تھا۔

    ٹرمپ ان الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔

    یہ کیس میں قانونی پیچیدگیاں بےشمار ہیں۔ سپریم کورٹ نے رواں برس یہ قرار دیا تھا کہ سرکاری فرائض کے دوران کیے گئے اقدامات پر سابق صدر کو فوجداری کارروائی سے جزوی استثنا حاصل ہے۔

    سابق وفاقی پراسیکیوٹر نعیمہ رحمانی کے مطابق چونکہ ٹرمپ جیت چکے ہیں اس لیے ان کے مجرمانہ معاملات ’ختم‘ ہوجائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ کسی موجودہ صدر پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا، اس لیے انتخابی دھوکہ دہی کا مقدمہ ختم کر دیا جائے گا۔‘

    رحمانی کا کہنا ہے کہ اگر جیک سمتھ نے مقدمہ ختم کرنے سے انکار کیا تو ٹرمپ انہیں برطرف کر سکتے ہیں، جس کا اظہار وہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اکتوبر میں ایک ریڈیو انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’میں انہیں دو سیکنڈوں کے اندر برطرف کر دوں گا۔‘

    خفیہ دستاویزات کا مقدمہ

    سپشل پراسیکیوٹر جیک سمتھ ٹرمپ کے خلاف ایک اور مقدمے کو بھی لیڈ کر رہے ہیں، جس میں ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد بھی خفیہ دستاویزات کو اپنے پاس رکھا۔

    ٹرمپ ان الزامات کی بھی تردید کر چکے ہیں۔

    ان پر الزام ہے کہ انہوں نے حساس دستاویزات کو اپنے گھر میں رکھا اور ان فائلوں کی واپسی میں رکاوٹ ڈالی۔

    کیس پر مامور جج ایلن کینن ٹرمپ کے نامزد کردہ ہیں۔ جج کینن نے جولائی میں یہ کہتے ہوئے الزامات کو ختم کر دیا تھا کہ محکمہ انصاف نے اس کیس کی پیروی کے لیے جیک سمتھ کو صحیح طریقے سے نامزد نہیں کیا ہے۔

    سمتھ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔

    سابق وفاقی پراسیکیوٹر نیما رحمانی کے مطابق ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کی صورت میں خفیہ دستاویزات کے کیس کا بھی وہی انجام ہو گا جو انتخابی کیس کا ہوگا۔

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انہوں نے کہا کہ ’محکمہ انصاف گیارہویں سرکٹ میں خفیہ دستاویزات کیس کے خاتمے کے خلاف اپیل کو مسترد کر دے گا۔‘

    انتخابی نتائج کو تبدیل کرانے کی مبینہ کوشش کا مقدمہ

    ٹرمپ پر الزام ہے کہ انھوں نے 2020 میں جارجیا میں مبینہ طور پر انتخابی نتائج کو تبدیل کرچانے کی کوشش کی تھی۔

    اس مقدمے میں بھی متعدد رکاوٹیں سامنے آئی ہیں۔ ڈسٹرکٹ اٹارنی فانی ولیس کو اس بنیاد پر نااہل کروانے کی کوشش ہو رہی ہے کہاس مقدمے کے لیے انہوں نے جس وکیل کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں اس کے ان سے ’تعلقات‘ ہیں۔

    ایک ایپلٹ کورٹ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا فانی ولیس کو اس مقدمے پر کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

    لیکن اب جبکہ ٹرمپ اگلے صدر ہیں تو اس مقدمے کو مزید تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یا ممکنہ طور پر اسے ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔

    قانونی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی مدتِ صدارت میں اس مقدمے کی کارروائی روک دی جائے گی۔

    جج نے ٹرمپ کے وکیل سٹیو سیڈو سےسوال کیا کہ اگر ٹرمپ منتخب ہو جاتے ہیں تو کیا ان پر مقدمہ چلایا جا سکے گا؟

    ٹرمپ کے وکیل نے کہا ’اس کا جواب یہ ہے کہ میرے خیال میں سپرمیسی کلاز کی موجودگی اور امریکہ کے صدر کی حیثیت سے ان کی ذمہ داریوں کے مدِنظر یہ مقدمہ ان کی مدتِ صدارت کے اختتام تک ملتوی رہے گا۔‘

  15. اسرائیل کی حمایت میں اضافہ یا جنگ کا خاتمہ: ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کیا ہوگی؟, جو اِنوڈ، بی بی سی نیوز یروشلم

    اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کی صورت میں اسرائیلی رہنماؤں کی جانب سے مبارکباد اور حمایت کے پیغامات سامنے آئیں گے۔

    وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخاب میں کامیابی کو ’عظیم ترین کامیابی‘ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی صدر نے ٹرمپ کو ’امن کا چیمپیئن‘ اور اپوزیشن لیڈر نے انھیں ’اسرائیل کا حقیقی دوست‘ قرار دیا ہے۔

    اس بات کا امکان ہے کہ بطور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی عسکری اور سفارتی امداد جاری رکھیں گے اور شاید اس میں اضافہ بھی کردیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کر دیا تھا جو کہ اس وقت بین الاقوامی طور پر ایک متنازع مگر اسرائیل میں مقبول اقدام قرار دیا گیا تھا۔

    لیکن اسرائیل کے حوالے سے ٹرمپ کی متوقع پالیسی پر ایک رائے اور بھی ہے۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ’جنگوں کو روکیں گے۔‘

    اسرائیلی میڈیا میں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ ٹرمپ نے نتن یاہو کو کہا تھا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

    لیکن ہم ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ایک بات جانتے ہیں کہ ان کے کسی بھی فیصلے یا قدم کی پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے۔

  16. امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح: بِٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی, ٹوم جرکن، بی بی سی نیوز

    بِٹ کوائن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے موقع پر بِٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 75 ہزار ڈالر پر پہنچ گئی ہے۔

    بدھ کی صبح بِٹ کوائن کی قیمت 75 ہزار ڈالر پر پہنچی تھی لیکن بعد میں اس میں تھوڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    گذشتہ چند برسوں میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ میں واضح فرق آیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ وہ اسے دھوکا قرار دیتے تھے لیکن صدارتی مہم کے دوران ایک موقع پر انھوں نے کہا کہ وہ امریکہ کو ’بِٹ کوائن کا دارالحکومت‘ بنانے میں مدد کریں گے۔

    ٹرمپ کی کامیابی کے بعد اب تمام تر توجہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی طرف ہوں گی جو کہ کرپٹو کرنسی کا مخالف رہا ہے۔

    ماضی میں ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے تو وہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے سربراہ گیری گینسلر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیں گے۔

    یہ ایک ایسا قدم ہوگا جس سے کرپٹو کرنسی میں دلچسپی رکھنے والے افراد ضرور خوش ہوں گے۔

  17. ٹرمپ کا دوسرا دورِ اقتدار دنیا کے لیے کیسا ہوگا؟, جیمز لینڈیل، نامہ نگار برائے سفارتی امور

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

    سفارتی تعلقات کی اگر بات کی جائے تو ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا دورِ اقتدار فیصلہ سازی کے حوالے سے غیریقینی پر مبنی ہو سکتا ہے۔

    یوکرین

    ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ولادیمیر زیلینسکی کو ولادیمیر پوتن کے ساتھ کسی ڈیل پر پہنچنے پر قائل کریں گے، یہ ایک ایسی ڈیل بھی ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں شاید یوکرین کو اپنا کچھ زمینی رقبہ کھونا پڑے۔

    یوکرین کو یہ خوف بھی لاحق ہوگا کہ ٹرمپ کے دور میں فوجی اور مالی امداد میں کمی آئے گی۔ لیکن یہاں یہ بات غیر واضح ہے کہ پوتن یوکرین کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنا بھی چاہیں گے یا نہیں۔

    لیکن اگر روس لڑائی جاری رکھتا ہے تو شاید ٹرمپ یہ نہ چاہیں کہ یوکرین ان کی نگرانی میں ’شکست‘ کھا جائے۔

    ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اس خطے میں بڑھنے والے تناؤ کے امکانات سے بھی خوفزدہ نہیں ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاید وہ یوکرین کی امداد میں اضافہ بھی کر دیں۔

    یوکرین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مشرقِ وسطیٰ

    ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار میں شاید اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کو حماس، حزب اللہ اور ایران کے خلاف کارروائیاں کرنے میں زیادہ چھوٹ حاصل ہوگی۔ ایسے میں ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملہ بھی خارج الامکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔

    یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑی ڈیل کی حمایت کریں جس کا حصہ سعودی عرب اور اسرائیل دونوں ہوں۔

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین

    ٹرمپ پہلے ہی دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ امریکہ میں داخل ہونے والی چینی برآمدات پر ٹیکس میں اضافہ کریں گے۔ ایسے میں ایک تجارتی جنگ شروع ہو سکتی ہے جس کے بین الاقوامی معیشت پر اچھے اثرات نہیں مرتب ہوں گے۔

    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپ

    ٹرمپ پوری کوشش کریں گے کہ یورپ اپنے دفاع پر خود زیادہ پیسے خرچ کرے۔ وہ شاید امریکہ آنے والی یورپی مصنوعات پر بھی ٹیکس بڑھا دیں گے۔

    کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا کوئی بھی ایسا اقدام یورپ پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ اپنے دفاع پر پیسے خرچ کریں، معاشی اصلاحات لائیں اور چین کے حوالے سے پالیسی پر نظرِ ثانی کریں۔

  18. ڈونلڈ ٹرمپ بطور امریکی صدر عہدے کا حلف کب لیں گے؟

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے برس 20 جنوری کو ایک تقریب کے دوران اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے۔

    ان کی تقریبِ حلف برداری سے قبل امریکی صدارتی انتخاب کے تمام معاملات 17 دسمبر تک طے ہو جائیں گے۔

    اس کے بعد امریکی کانگریس 6 جنوری کو باقاعدہ الیکٹورل کالج ووٹوں کی گنتی کرے گی اور نئے صدر کے انتخاب پر مہر ثبت کردے گی۔

  19. امریکی صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی جیت: لبنان میں لوگوں کے کیا جذبات ہیں؟, ہیوگو بچیگا، بی بی سی بیروت

    امریکہ میں صدارتی انتخاب سے قبل لبنان اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں صدر جو بائیڈن کی غزہ پالیسی پر ناراضی پائی جاتی تھی۔

    بہت سارے افراد کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن بھی اسرائیل اور حماس کی جنگ میں 40 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کی اموات کے ذمہ دار ہیں۔

    لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل جاری رکھی اور یہی گولہ بارود غزہ اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔

    میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والی ثنا البینجی کہتی ہیں کہ ’ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ٹرمپ اور کملا دونوں کی پالیسی ایک ہی ہے۔‘

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہLee Durant

    ،تصویر کا کیپشنثنا البینجی

    ’وہ اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں اور انھیں جنگ یا لبنان کی صورتحال سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ ہمیشہ اسرائیل کی پالیسی کو ہی سپورٹ کرتے ہیں۔‘

    لیکن ثنا کا یہ بھی کہنا تھا کہ: ’ٹرمپ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تُند مزاج، شفاف اور صاف گو ہیں۔‘

    وفا کرامی ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ: ’ٹرمپ اور کملا دونوں ایک ہی جیسے ہیں لیکن ہمیں امید ہے کہ ٹرمپ کی آمد کے بعد چیزیں گذشتہ چار سالوں کے مقابلے میں بہتر ہوں گی۔‘

    عمر نامی لبنانی شہری رپبلکن امیدوار کی فتح پر الگ مؤقف رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ’ہمیں بس یہی امید ہے کہ وہ دنیا کے اس حصے میں امن لائیں گے۔ وہ جو کہتے ہیں کرتے ہیں۔‘

  20. وسکونسن میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کملا ہیرس کے مقابلے میں صرف ایک فیصد زیادہ ووٹ لیے

    وسکونسن میں جیت کے بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارتی انتخاب جیتے ہیں لیکن یہاں کملا ہیرس کے مقابلے میں ان کی فتح کا مارجن انتہائی کم رہا ہے۔

    وہ اس سوئنگ ریاست میں کملا ہیرس کے مقابلے میں صرف 1 فیصد ووٹ زیادہ لے سکے ہیں۔

    اس ریاست میں فتح کے لیے کملا ہیرس کو میڈیسن اور ملواکی کے نواحی علاقوں میں زیادہ ووٹ لینے تھے۔ ان علاقوں میں لوگوں نے انھیں بڑی تعداد میں ووٹ بھی دیے لیکن انھیں یہاں سے اتنے ووٹ نہیں ملے جتنے انھیں درکار تھے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے وسکونسن میں دیگر کاؤنٹیز میں بھی اچھی تعداد مین ووٹ لیے ہیں۔