یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کے قریب پرواز کرنے والے ایرانی ڈرون کو مار گرائے جانے کے باوجود وِٹکوف کی ایرانیوں کے ساتھ ملاقات کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہgettyimages
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کے قریب پرواز کرنے والے ایرانی ڈرون کو ما گرائے جانے کے باوجود وِٹکوف کی ایرانیوں کے ساتھ ملاقات کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ ’اگرچہ سینٹ کام فورسز نے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا جو طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کی جانب جا رہا تھا، امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اس ہفتے کے آخر میں ایرانی حکام سے بات کریں گے۔‘
ایرانی ڈرون مار گرائے جانے کی خبر کے چند گھنٹے بعد، لیویٹ نے اے ایف پی کو بتایا: ’میں نے ابھی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف سے بات کی ہے، اور بات چیت منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے۔‘
وائٹ ہاؤس کے ایک اور ترجمان نے کہا: ’صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں لیکن اس میں دونوں فریقوں کی سنجیدگی اور عزم ضروری ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPrime Minister's Office
بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور اسرائیل کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان ملاقات ختم ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے وٹکوف سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’تہران نے بارہا یہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے وعدوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم نے حماس کے تخفیفِ اسلحہ، غزہ کی پٹی کو غیر فوجی بنانے اور تعمیرِ نو سے قبل جنگی اہداف کے مکمل حصول کو ناقابلِ مصالحت مطالبات قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کا کہنا ہے کہ طیارہ بردار بحری بیڑے ابراہم لنکن کی طرف پرواز کرنے والے ایک ایرانی شاہد-139 ڈرون کو امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے نے نشانہ بنایا اور مار گرایا۔
امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایئر کرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کے ایک ایف-35 لڑاکا طیارے نے اپنے دفاع میں ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا تاکہ جہاز اور اس کے عملے کی حفاظت کی جا سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ بحری جہاز ایرانی ساحل سے تقریباً 500 میل دور تھا جب ڈرون اس کی جانب آیا۔
کیپٹن ٹم ہاکنز کا مزید کہنا تھا کہ کسی امریکی سامان کو نقصان نہیں پہنچا اور کوئی فوجی زخمی نہیں ہوا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب سفارت کار ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے جنگی جہاز ایران کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ’خراب نتائج‘ سامنے آ سکتے ہیں۔
طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن نے 14 جنوری کو بحیرہ جنوبی چین سے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنا سفر شروع کیا تھا اور مبینہ طور پر اب عمان کے ساحل کے قریب ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترک صدر ریاض پہنچ گئے ہیں۔
رجب طیب اردوغان کے سعودی عرب کے آخری دورے کو دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔
حالیہ برسوں میں ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں بتدریج بہتری آئی ہے، اور دونوں ممالک نے غزہ اور 2024 میں بشار الاسد کی معزولی کے بعد شام کی نئی حکومت کی حمایت سمیت متعدد سفارتی امور پر تعاون کیا ہے۔
بات چیت کے موضوعات کا باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن ترکی کی سرکاری انادولو ایجنسی کے مطابق اس کا مقصد دونوں ممالک میں تعاون کو مذید بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
خبر رساں ایجنسی نے مزید بتایا کہ اروغان بدھ کو قاہرہ جائیں گے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خبر رساں ادارے اے ایف پی نے دو ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ترکی کا سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

بلوچستان کے شہر نوشکی میں مسلح حملہ آوروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں اے ٹی ایف کےکم ازکم سات اہلکاروں کے علاوہ چار حملہ آور مارے گئے ہیں۔
نوشکی بلوچستان کے ان شہروں میں شامل تھا جن میں 31 جنوری کو مسلح حملہ آور داخل ہوئے اور انھوں نے سرکاری تنصیبات سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔
دیگر شہروں کے مقابلے میں نوشکی شہر میں مسلح حملہ آوروں کی موجودگی تین دن رہی جو کہ دیگر شہروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ دورانیہ تھا۔
سرکاری حکام کے مطابق ان تین روز کے دوران مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئی۔
فون پر رابطہ کرنے پر ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان جھڑپوں کے دوران اے ٹی ایف کے کم ازکم سات اہلکار مارے گئے جبکہ چار مسلح حملہ آور بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔
پولیس اہلکار کے مطابق منگل کی صبح سے شہر میں صورتحال معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے اور اور بازار کھل گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہIsraeli Prime Minister's Office
مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اسرائیل پہنچے ہیں جہاں وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کر رہے ہیں۔
وٹکوف کا یہ دورہ جمعہ کو امریکہ ایران کے مابین متوقع مذاکرات سے قبل ہو رہا ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد انصاری نے آج ’یقین دہانی‘ کروائی کہ خطے کے ممالک اس حوالے سے کوششیں کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ترکی ایک بڑا کردار ادا کر رہا ہے، اور اسی طرح مصر، عمان اور سعودی عرب بھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ خطے میں ہم سب اس وقت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کالز اور رابطے کر رہے ہیں کہ ہم ایک مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔‘
’اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کی مشترکہ کوشش ہے۔ یہ صرف قطر ہی نہیں ہے جو ایسا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ہم سب مل کر کام کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہHUM TV
آج راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کے قریبی رشتہ داروں کی ملاقات ہوئی ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ان کی بھابھی اور بیٹی کے ساتھ ہوئی جو تقریباً 45 منٹ تک جاری رہی۔
ملاقات میں صحت، زیرِ سماعت مقدمات اور موجودہ صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ اس ملاقات کے بعد بشریٰ بی بی کی بیٹی اور بھابھی نے بیرسٹر گوہر علی خان کو پیغام بھی پہنچایا۔
بشریٰ بی بی نے اپنے اہلِ خانہ کو بتایا کہ عمران خان کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے اور تصدیق کی کہ انھیں جیل سے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ ان کے مطابق علاج ڈاکٹروں کی ہدایت پر اور عمران خان کی مرضی سے کروایا گیا۔
پی ٹی آئی کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان سے بھی ملاقات ہونی چاہیے تھی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بشری بی بی سے ہونے والی ملاقات سے ’اب یہ تسلی ہو گئی ہے کہ خان صاحب کی طبعیت اچھی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
راولپنڈی کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی میڈیکل رپورٹ پیش نہ کرنے پر اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے چھ فروری کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم عمران خان کی وکلا ٹیم کی درخواست پر دیا تھا۔
عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں وڈیو لنک کی عدم دستیابی اور عمران خان کی عدم حاضری پر بھی سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس جاری کیا۔
دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میڈیکل رپورٹ لیک ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ رپورٹ لیک کیسے ہوئی اور کہا کہ یہ رپورٹس چند افراد کے پاس تھیں، لیکن ذمہ داروں کو اب تک معطل یا گرفتار نہیں کیا گیا۔
علیمہ خان نے جمعرات کے دھرنے سے کسی تعلق کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا جاری رکھنے کا تھا اور یہ کسی فرد یا فیملی کی ہدایت پر نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کی رہائی ہمارا بنیادی مطالبہ ہے، ان کی قید دراصل ’اغوا‘ ہے، قانونی گرفتاری نہیں۔ ان کے مطابق حکومت میں موجود افراد عمران خان سے ملاقات کروانے سے خوفزدہ ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPID
قزاقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ منگل کو صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے نورخان ایئربیس پر ان کا استقبال کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار،وفاقی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام بھی قزاقستان کے صدر کے استقبال کے لیے موجود تھے۔
قزاقستان کے صدر کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ قاسم جومارت توکایووف صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقاتیں کریں گے۔
اس کے علاوہ وہ پاکستان قزاقستان بزنس فورم سے خطاب بھی کریں گے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لینے، تعاون کے نئے مواقع پر غور کرنے بالخصوص تجارت، لاجسٹکس، علاقائی رابطہ کاری، عوامی روابط کے فروغ اور علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر تعاون کے امکانات کو دریافت کرنے کا ایک اہم اور موقع فراہم کرے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قزاقستان کے صدر کا دورہ پاکستان اور قزاقستان کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، تاریخی و ثقافتی قربتوں کو مؤثر عملی تعاون میں بدلنے کے باہمی عزم کو اجاگر کرتا ہے اور خطے میں امن و ترقی کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ خواہش کی نمائندگی کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے مرکزی صوبے یزد میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کو پرتشدد بنانے کے لیے سہولت کاری میں ملوث 139 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق گرفتار افراد کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی۔
پولیس کمانڈر احمد نگہبان نے ان افراد پر ’فساداتی کارروائیوں کو منظم کرنے، اکسانے اور ہدایت دینے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
انھوں نے ان افراد کی قومیت کا ذکر نہیں کیا، صرف اتنا کہا کہ وہ ’کچھ معاملات میں ملک سے باہر کے نیٹ ورکس سے جڑے ہوئے ہیں۔‘ ایران کے حکام ہمیشہ ایران میں ہونے والے مظاہروں کی وجہ غیر ملکی عوامل کو قرار دیتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یزد ایران کا ایک صحرائی اور کم آبادی والا صوبہ ہے، جس کی آبادی 10 لاکھ سے کچھ زائد ہے۔ یہ جنوری میں ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطر کی وزارت خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ملک کی سفارتی کوششوں کا اعلان کیا ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد انصاری نے کہا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے علاقائی تعاون جاری ہے۔
انھوں نے کہا کہ دوحہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں سرگرم ہے اور بحران کو بڑھنے سے روکنے اور سفارتی حل تک پہنچنے کے لیے مختلف فریقوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ’دوحہ تمام فریقین سے رابطے میں ہے‘۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بڑھتے ہوئے تناؤ کو روکنے کے لیے پرامن حل تلاش کرنے اور علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنازع میں کسی بھی طرح کی شدت علاقائی سلامتی کے لیے ’تباہ کن‘ نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے سنیچر کے روز تہران میں سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی سے ملاقات کی۔
متحدہ عرب امارات نے بھی آج ایران اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ جوہری معاہدے تک پہنچیں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے طویل مدتی حل تلاش کریں، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مشرق وسطیٰ کو ایک اور جنگ کی ضرورت نہیں ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ جمعے کو ترکی میں مذاکرات کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے علاوہ ترکی (مذاکرات کے میزبان)، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان اور عمان کو بھی مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPak PM Office
پاکستان کو ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی دعوت موصول ہو گئی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بی سی سی کو تصدیق کی ہے کہ دعوت موصول ہو چکی ہے۔ تاہم ان مذاکرات میں کون شرکت کرے گا اس حوالے سے فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی وزیر اعظم کی ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ان مذاکرات میں شرکت کا امکان ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش کی جائے گی۔
ایک عرب اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو یہ بھی بتایا کہ یہ ملاقات ممکنہ طور پر جمعہ کو ترکی میں ہوگی۔
ایک اور عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ مذاکرات کی ترجیح کسی بھی تنازعے کو روکنا اور دونوں فریقوں کے درمیان تناؤ کو کم کرنا ہے، اور یہ کہ متعدد علاقائی طاقتوں کو بھی مذاکرات میں مدعو کیا گیا ہے۔
عہدیدار نے بتایا کہ وزرائے خارجہ کی سطح پر پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت ممالک کو مدعو کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ملاقاتوں کا صحیح فارمیٹ ابھی واضح نہیں ہے تاہم ’اہم اجلاس‘ جمعہ کو ہوگا۔

بلوچستان میں حالیہ حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان حملوں میں انڈیا کے ملوث ہونے کے شواہد ہیں اور اب پاکستان کی طرف سے ایسی دہشتگرد کارروائیوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر کوئی گروہ انڈیا یا افغانستان کے ایجنٹ بنتا ہے تو وہ دراصل پاکستان کے دشمن کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔
منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہ انڈیا اور افغانستان سے سپانسرڈ فورسز استعمال کی جا رہی ہیں اور ان کا جواب اسی شدت سے دیا جائے گا۔ ان کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں دہشتگرد 170 لاشیں چھوڑ کر بھاگے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ اب انڈیا اپنی مئی کی شکست کا بدلہ پراکسیز کے ذریعے لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بلوچ عوام کی حمایت اور قومی عزم کے ساتھ پاکستان یہاں پر بھی انڈیا اور افغانستان کو شکست دے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہ@Financegovpk
اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے خیبر پختونخوا کے مشیرِ خزانہ مزمل اسلم سے ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزارتِ خزانہ اور صوبائی حکومت کے حکام بھی موجود تھے۔
ملاقات میں ضم شدہ اضلاع کے لیے فنڈز کی بروقت فراہمی، عارضی طور پر بے گھر افراد کی بحالی اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت صوبائی حقوق پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ خیبر پختونخوا کے وفد نے ضم شدہ اضلاع کی ترقیاتی ترجیحات اور جاری منصوبوں کے تسلسل کے لیے پیشگی اور بروقت مالی وسائل کی اہمیت پر زور دیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق وزیرِ خزانہ نے تعاون پر مبنی وفاقیت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کو این ایف سی اور دیگر مدات کے تحت جائز حقوق دلانے کی یقین دہانی کرائی۔
فریقین نے اتفاق کیا کہ تکنیکی فورمز کے ذریعے قریبی رابطہ رکھا جائے گا تاکہ باقی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا ہو اور ترقی، استحکام اور عوامی خدمت کو قومی مفاد میں آگے بڑھایا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہPM Office
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی وزیر اعظم شہباز شریف سے پیر کو اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد سہیل آفریدی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج کی ملاقات کی دعوت وزیرِ اعظم نے دی تھی جس میں این ایف سی ایوارڈ سمیت وفاق پر صوبے کی جانب واجب الادا رقوم کے حوالے سے بات ہوئی۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اب تک 26 ارب روپے اپنے جیب سے انضمام شدہ اضلاع میں لگا چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہباز شریف نے وفاقی وزیرِ برائے پلاننگ احسن اقبال اور ٹیم کو مزمل اسلام سے آج ہی میٹنگ کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران دہشتگردی کے حوالے سے ایک مشترکہ لائحہ عمل پر بات ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید ایک دو ملاقاتیں ہوں گی، اور جب باقاعدہ فیصلہ ہوں گے تو میڈیا کو بتا دیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
بلوچستان کے شہر نوشکی میں سنیچر کے روز ہونے والے حملے کے بعد چوتھے روز صورتحال معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے جبکہ آواران شہر میں گذشتہ شب بھی نامعلوم مسلح افراد نے سکیورٹی فورسز کے کیمپ سمیت دو مقامات پر حملہ کیا تاہم اس میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سنیچر کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد شہروں پر ہونے والے حملوں کے بعد سے کئی شہروں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے۔
اگرچہ قومی شاہراہوں پر ٹریفک کی آمدورفت معمول پر ہے تاہم کوئٹہ اور پاکستان کے دوسرے شہروں کے درمیان ٹرین سروس اب بھی معطل ہے۔
آواران شہر میں دو مقامات پر حملہ
آواران کا شمار بلوچستان کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جو شورش سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
ضلع کے ہیڈکوارٹر آواران شہر میں نامعلوم مسلح افراد نے گذشتہ شب بھی دو مقامات پر حملہ کیا۔
بی بی سی کی جانب سے رابطہ کرنے پر ایک پولیس اہلکار نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ شب دو مقامات پر حملے کیے گئے جن میں سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ کے علاوہ ایک چوکی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کاروائی کی جس کے باعث شہر میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
پولیس اہلکار نے بتایا کہ جوابی کارروائی کے باعث مسلح افراد شہر میں سویلین انتظامیہ کے دفاتر کی جانب نہیں آ سکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
تین روز بعد نوشکی شہر میں حالات معمول پر آنے لگے
سنیچر کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے جن شہروں میں مسلح افراد نے حملے کیے ان میں نوشکی بھی شامل تھا۔
نوشکی شہر میں جہاں انھوں نے سکیورٹی فورسز کے ہیڈکوارٹر پر حملے کیے وہاں انھوں نے ڈپٹی کمشنر کے گھر کے علاوہ سول انتظامیہ کے دفاتر، پولیس تھانے، سی ٹی ڈی کے دفتر اور جیل سمیت بعض دوسرے مقامات پر بھی حملے کیے۔
ان حملوں کے دوران ڈپٹی کمشنر نوشکی کے علاوہ انتظامیہ کے ایک اور افسر کو بھی یرغمال بنایا گیا تھا تاہم بعد میں ان کو چھوڑ دیا گیا۔
جن شہروں پر حملے کیے گئے وہاں مسلح افراد سات سے 10 گھنٹوں تک موجود رہے لیکن نوشکی میں وہ تین روز تک رہے۔
نوشکی میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ منگل کے روز اپنے تھانے آ گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر سرکاری دفاتر میں بھی اب مسلح افراد کی موجودگی نہیں۔
پولیس اہلکار کے مطابق نوشکی شہر میں مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں دونوں اطراف میں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں تاہم رابطوں میں مشکلات کی وجہ سے وہ کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
تاہم انھوں نے بتایا کہ مسلح افراد کے حملوں میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے سات اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
رابطہ کرنے پر نوشکی سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے بتایا کہ شہر میں منگل کو بازار کھل گئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ مسلح افراد گزشتہ شب شہر کے مرکزی علاقوں سے نکل گئے۔
ان کا کہنا تھا تین روز تک شہر بند رہنے کی وجہ سے سبزیوں اور بعض دیگر خوراک کی اشیا کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔
موبائل فون اور ٹرین سروس کی معطلی
سنیچر کو ہونے والے حملوں کے باعث کوئٹہ شہر اور بعض دیگر علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی تھی جو ابھی تک بحال نہیں ہو سکی۔
امن و امان کی صورتحال کی وجہ س کوئٹہ اور پاکستان کے دوسرے صوبوں کے درمیان ٹرین سروس بھی چوتھے روز معطل رہی۔

،تصویر کا ذریعہPTI
پشاور میں ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے زیرِ اہتمام ینگ لیڈرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے نوجوانوں کے لیے بلا سود قرضہ سکیم کی رقم تین ارب سے بڑھا کر پانچ ارب روپے کرنے کا اعلان کیا۔ انھوں نے ینگ پارلیمنٹ کے لیے دو ملین روپے گرانٹ دینے کا بھی اعلان کیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ وفاق اس وقت خیبر پختونخوا کا 4758 ارب روپے کا مقروض ہے اور قبائلی اضلاع کا مالی انضمام تاحال نہیں کیا گیا، جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق ایک طرف صوبے کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا اور دوسری طرف وفاق میں 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوٹے گئے پیسوں سے حکمران بیرون ملک جزیرے اور فلیٹس خرید رہے ہیں جبکہ تیراہ متاثرین کے لیے مختص چار ارب روپے پر شور مچایا جاتا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی کے مستقل خاتمے کے لیے جامع پالیسی ناگزیر ہے، بغیر پالیسی دہشتگردی ختم نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے زور دیا کہ نوجوان ہر فورم پر ان مسائل پر آواز اٹھائیں۔
اپنے خطاب میں انھوں نے وفاقی حکومت اور پنجاب کے حکمرانوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں عملی طور پر سول مارشل لا نافذ ہے اور سیاسی آزادی سلب کی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق بزرگ سیاستدانوں اور عمران خان کی اہلیہ کو ناحق قید کیا گیا، جو انتقامی سیاست کی بدترین مثال ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں پر بھی اڈیالہ جیل کے سامنے رات کے اندھیرے میں زہریلا پانی چھوڑا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ جو قوم خوددار نہ ہو وہ ترقی نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق بڑا انسان وہ نہیں جس کے پاس ڈگریاں اور دولت ہو بلکہ وہ ہے جس کی سوچ بڑی ہو۔ انھوں نے کہا کہ قومیں اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب ملک کا درد سینے میں ہو۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت کارکردگی کی بنیاد پر تیسری بار اقتدار میں آئی ہے اور اگر بقایاجات مل جائیں تو عوامی خدمت مزید بہتر ہو سکتی ہے۔ انھوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ زندہ قوم بن کر آواز اٹھائیں اور صوبے کے مفاد کے خلاف ہر فیصلے کی مزاحمت کریں۔

،تصویر کا ذریعہNA TV
پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں حالیہ حملوں کے دوران 177 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ فورسز کے 17 اہلکار مارے گئے، جن میں دس پولیس، چھ ایف سی اور ایک لیویز اہلکار شامل تھا۔
انھوں نے یہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر ہرنائی اور پنجگور میں پہلے 48 گھنٹوں کے دوران تین درجن سے زائد دہشتگرد مارے گئے اور کئی گرفتار بھی ہوئے جن سے اسلحہ برآمد کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ گوادر اور مکران کے 33 مزدور قتل کیے گئے، جن کی خواتین قرآن پاک سر پر اٹھا کر دہائیاں دیتی رہیں کہ وہ بلوچ ہیں، مگر دہشتگردوں کے نزدیک نہ مذہب کی کوئی قدر ہے نہ لسانیت کی۔ ان کے مطابق بی ایل اے والے بغیر داڑھی کے لسانیت کے نام پر وہی کام کر رہے ہیں جو ٹی ٹی پی والے داڑھی میں مذہب کے نام پر کرتے ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو اس وجہ سے بھی کچھ زیادہ وقت لگا کیونکہ یہ دہشتگرد عام عوام کے پیچھے چھپتے ہیں جن کے حقوق کو بنیاد بنا کر وہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ انڈیا کے اس طرح کے معاملات میں ملوث ہونے کے کئی شواہد عالمی سطح پر پیش کیے گئے، جس کی بنیاد پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق دنیا کے تمام ممالک نے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت کی ہے، سوائے انڈیا کے۔
وزیرِ مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان میں لاپتا افراد کی تعداد ڈھائی ہزار سے بھی کم ہے، جو دنیا کے کسی بھی ملک سے کم ہے۔ ان کے مطابق یہ لوگ یا تو پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں یا جرائم کی وجہ سے روپوش ہو جاتے ہیں۔
طلال چوہدری نے زور دیا کہ سکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑا ہونا ہوگا تاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنایا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کی قومی اسمبلی نے بلوچستان کے مختلف شہروں پر شدت پسندوں کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کا استحصال کر کے انھیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
منگل کے روز ایوان سے متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’یہ ایوان بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے جن میں نہ صرف معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور بلکہ خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے جیسے گھناؤنے اور غیر انسانی حربے اپنائے گئے۔‘
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کے استحصال، زبردستی، ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کے ذریعے انھیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اسلامی پاکستانی، اور بلوچ اقدار کے سراسر منافی ہے۔‘
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’شہری آبادی، خواتین اور بچوں پر حملے ناقابل معافی جرائم ہیں‘ اور ریاست سے ایسے عناصر کے خلاف عدم برداشت کے اصول کے تحت فیصلہ کن کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ متعدد واقعات میں بیرونی سرپرستی بالخصوص انڈیا کے کردار کے حوالے سے سنجيده خدشات پائے جاتے ہیں، جبکہ بعض ہمسایہ ممالک میں لاجسٹک اور آپریشنل سہولت کاری اور مالی معاونت اور تربیت کے ذریعے دہشت گردی کو تقویت دی جاتی ہے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان بیرونی سپانسرز اور اندرونی سہولت کاروں کے خلاف فوری اور مربوط قومی رد عمل یقینی بنایا جائے ’جس میں سیاسی، سفارتی عسکری انٹیلی جنس، قانونی اور بیانیاتی محاذ یکجا ہوں۔‘
واضح رہے کہ سنیچر کے روز مسلح افراد نے کوئٹہ، مستونگ، قلات، نوشکی، خاران، دالبندین، تربت، تمپ، گوادر اور پسنی سمیت بعض دیگر علاقوں میں مختلف تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کے مطابق ان حملوں میں مجموعی طور پر 31 شہری اور 17 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ ان کی جانب سے 145 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ںے ہارورڈ یونیورسٹی پر ایک ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے امریکی صدر کی انتظامیہ کو یونیورسٹی کے ساتھ مذاکرات میں 20 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کے اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔
سوموار کی رات ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں نیویارک ٹائمز کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے ہارورڈ یونیورسٹی پر اخبار کو ’بہت ساری فضوباتیں‘ بتانے کا الزام لگایا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا الزام ہے کہ یونیورسٹی فلسطینی حامی مظاہروں کے دوران سام دشمنی سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی۔ ہارورڈ اس الزام کو مسترد کرتا آیا ہے۔
گذشتہ سال اپریل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی حکومت کی جانب سے ہارورڈ کی دی جانے دو ارب ڈالر کی ریسرچ گرانٹ بند کر دی تھی۔
ہارورڈ یونیورسٹی نے ٹرمپ کے اس اقدام کو فیڈرل کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔ عدالت نے امریکی صدر کے اس اقدام کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
سوموار سے قبل امریکی حکومت گرانٹس غیر منجمد کرنے کے حوالے سے یونیورسٹی کے ساتھ مذاکرات کر رہی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا، ’ہم ان سے ایک ارب ڈالر ہرجانہ وصول کریں گے، اور اب ہم مستقبل میں ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔‘