یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
10 مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
شام کی عبوری حکومت نے امریکہ اور اقوام متحدہ کے مطالبات کے بعد ملک میں مبینہ طور پر سینکڑوں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے ایک سات رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس وقت شام کے دارالخلافہ دمشق میں بڑی تعداد میں لوگ ان ہلاکتوں اور انسانی حققوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
10 مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور اقوام متحدہ کے مطالبات کے بعد شام کی عبوری حکومت نے ملک میں عام شہریوں اور اقلیتوں کے مبینہ قتل عام کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے ایک سات رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا جب شام میں عام شہریوں کے قتل عام پر امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو یہ مطالبہ کیا تھا کہ شامی حکام اس قتل عام کے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔
اس وقت شام کے دارالخلافہ دمشق میں بڑی تعداد میں لوگ ان ہلاکتوں اور انسانی حققوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع نے اتوار کی صبح دمشق کی ایک مسجد میں اپنے ایک وعظ میں ’قومی وحدت اور امن عامہ کو برقرار رکھنے‘ پر زور دیا ہے۔
انھوں نے شام کے ساحل پر جمعرات کو شروع ہونے والی جھڑپوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ متوقع چیلنجز ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں ہر ممکن حد تک قومی وحدت اور شہری امن کا تحفظ کرنا چاہیے۔‘
اپنے ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ غیرملکی جہادیوں سمیت اسلامی شدت پسند دہشتگردوں کی مذمت کرتا ہے جنھوں نے حالیہ دنوں میں مغربی شام میں لوگوں کو قتل کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ شام کی مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے ساتھ کھڑا ہے جس میں مسیحی، دروز، علوی اور کرد شامل ہیں۔ انھوں نے اس تشدد سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ شام کی عبوری حکومت ان اقلیتی کمیونیٹیز کے قتل عام کرنے والے مجرمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شام کے ایوان صدر سے جاری بیان میں مزید کیا کہا گیا؟
شام کے عبوری سربراہ احمد الشرع کے دفتر سے جاری ایک میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں عام شہریوں کے خلاف ان واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو ذمہ داران کا تعین کرے گی۔
ٹیلیگرام پر صدر کے دفتر کی طرف سے یہ پوسٹ بھی کی گئی کہ یہ سات ارکان پر مشتمل ایک آزاد کمیٹی ہو گی۔
بیان کے مطابق یہ کمیٹی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گی اور ذمہ داران کا تعین کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
شام شہریوں کی زندگی بچانے کے لیے جلد اقدامات کرے: اقوام متحدہ
اس سے قبل اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ اسے شام میں تشدد اور جھڑپوں سے متعلق بہت پریشان کن اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ عالمی ادارے نے شام کی قیادت پر زور دیا تھا کہ وہ شہریوں کے تحفظ کے لیے جلد اقدامات اٹھائے۔
اپنے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق بشارالاسد کی سابقہ حکومت سے وابستہ عناصر اور دیگر مسلح گروہوں نے ملک میں منظم حملے کیے ہیں اور ایسے میں ہمیں یہ افسوسناک خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ ان جھڑپوں میں خواتین، بچے اور غیر مسلح شہری مارے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم ہوا ہے کہ متحارب گروہوں جن میں شام کی فوج بھی شامل ہے کی طرف سے فرقہ وارانہ بنیادوں پر بھی قتل کیے گیے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان ہلاکتوں اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق شامی حکومت کو جلد، شفاف اور غیرجانبدارانہ کارروائی کرنا ہوگی اور جو لوگ اس سب کے ذمہ دار ہیں انھیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی سیکرٹ سروس نے اتوار کی صبح وائٹ ہاؤس کے باہر ایک مسلح تصادم کے بعد ایک شخص کو گولی مار کر زخمی کر دیا ہے۔
سیکرٹ سروس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس واقعے کی تصدیق کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسے پہلے مقامی پولیس سے ایک خودکشی کرنے والے فرد کے بارے میں اطلاع ملی تھی جو ریاست انڈیانا سے شاید واشنگٹن ڈی سی کی طرف سفر کر رہا ہے۔
سیکرٹ سروس کے اہلکار اس وضع قطع کے ایک شخص تک پہنچے جس نے آتشیں اسلحہ پھینکا اور فائرنگ بھی کی۔
اہلکاروں کے مطابق وہ شخص اس وقت ایک ہسپتال میں ہے اور اس کی حالت کے بارے میں تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔
جب یہ واقعہ ہوا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اندر موجود نہیں تھے۔ صدر ٹرمپ اپنی فلوریڈا والی رہائش گاہ ’مارا لاگو‘ پر موجود تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جیسے ہی افسران اس کے قریب پہنچے تو اس شخص نے آتشیں ہتھیار پھینکے اور مسلح تصادم شروع ہو گیا، جس کے دوران ہمارے اہلکاروں کی طرف سے گولیاں چلائی گئیں۔‘
واشنگٹن کی میٹروپولیٹن پولیس کا واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی انڈیا کے تاریخی شہر ہیمپی کے ایک مندر میں دو خواتین کا گینگ ریپ کیا گیا ہے۔
پولیس اہلکار رام اراسدی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ دو خواتین، ایک اسرائیلی سیاح اور ایک انڈین ’ہوم سٹے آپریٹر‘ کرناٹک کے شہر ہمپی میں ایک جھیل کے قریب اپنے گروپ کے تین مرد سیاحوں کے ساتھ ستاروں کا نظارے میں مشغول تھیں کہ جمعرات کی رات ان پر چند افراد نے ہلاک کر دیا۔
پولیس اہلکار کے مطابق حملہ آوروں نے خواتین کو گینگ ریپ کرنے سے پہلے مردوں کو دریائے تنگبھادرا نہر میں پھینک دیا۔
آسٹریلیا میں انڈین نژاد شہری کو 40 سال قید کی سزا: ’وہ نوکری کا جھانسہ دے کر خواتین کا ریپ کرتا تھا‘
دو میں سے ایک شخص امریکہ کا شہری تھا جو کہ زندہ بچ گیا جبکہ ایک تیسرے شخص کی لاش سنیچر کی صبح دریا سے نکال لی گئی۔
پولیس اہلکار کے مطابق یہ کل تین مرد اور دو خواتین پر مشتمل گروپ تھا جس پر صناپور کے قریب حملہ کیا گیا۔
ان میں سے ایک اسرائیلی خاتون اور دوسرے غیرملکی امریکی شہری تھے۔
اس حملے میں ملوث دو ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ رام اراسدی کے مطابق پولیس کو یہ شک ہے کہ ان ملزمان نے اس گروپ کا تعاقب کیا تھا۔
امریکہ کے محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ان تک بھی خبریں پہنچی ہیں کہ اس حملے میں ان کے ایک شہری کو بھی اس گھناؤنے جرم کا ہدف بنایا گیا ہے۔
ایک خاتون کی شہادت کے مطابق وہ سب صناپور کے ایک مندر سے ستاروں کا نظارہ کر رہے تھے جب موٹرسائیکل پر تین افراد وہاں پہنچے اور ان سے یہ دریافت کیا کہ انھیں پٹرول کہاں سے مل سکتا ہے۔
جب اس گروپ میں سے ایک مرد ان تینوں افراد کو پیٹرول پمپ کی سمت سمجھا رہا تھا تو ایسے میں انھوں نے سیاحوں سے سو روپے بھی مانگ لیے۔
پولیس کے مطابق ہوم سٹے آپریٹر خاتون نے ان اجنبی مردوں سے کہا کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔
جب ان تینوں نے رقم دینے پر اصرار کیا تو ایک مرد سیاح نے انھیں 20 روپے تھما دیے۔ اس کے بعد تینوں افراد نے مبینہ طور پر ان سیاحوں سے تکرار شروع کر دی۔
اس حملے کے بعد ایک سیاح کی لاش تنگبھدرہ نہر سے کرناٹکا کے کوپل ضلع سے ملی۔
گنگاوتھی پولیس رورل پولیس سٹیشن پر بھتے، ڈکیتی، گینگ ریپ اور قتل کی کوشش کی دفعات کے تحت ان ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس حملے کے متاثرین کا ایک سرکاری ہسپتال میں علاج جاری ہے۔
ہیمپی انڈیا کا ایک تاریخی شہر ہے جو انڈیا کی جنوبی کرناٹکا ریاست میں واقع ہے۔ اس شہر میں وجے ناگرا دور کے کئی کھنڈرات اور مندر واقع ہیں۔ سنہ 1986 میں اس شہر کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں اس صوبے کے وزیراعلیٰ نے لکھا کہ یہ ایک بہت گھناؤنا جرم ہے۔ انھو نے کہا کہ اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد انھوں نے پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور اس واقعے کی تحقیقات کروائی ہیں۔
کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کے مطابق انھوں نے پولیس کو مجرمان کی جلد سے جلد گرفتاری کی ہدایات بھی کی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حماس کے وفد نے مصری جنرل انٹیلیجنس سروس کے سربراہ سے ملاقات میں جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد، اسرائیلی یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کی ہے۔ حماس نے غزہ کی پٹی میں عارضی جنگ بندی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
حماس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ محمد درویش کی سربراہی میں ایک وفد نے قاہرہ میں مصری جنرل انٹیلیجنس سروس کے سربراہ میجر جنرل حسن رشاد سے ملاقات کی ہے، جس میں جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد اور مختلف مراحل میں قیدیوں کے تبادلے سمیت ’بہت سے اہم امور پر مثبت اور ذمہ دارانہ انداز میں بات چیت ہوئی۔‘
حماس کے وفد نے معاہدے کی تمام شرائط پر عمل کرنے اور فوری طور پر دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع کرنے، کراسنگ کھولنے اور امدادی سامان کو بغیر کسی پابندی یا شرائط کے سیکٹر میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس نے تصدیق کی کہ غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے آزادانہ قومی رہنماؤں پر مشتمل ایک کمیونٹی سپورٹ کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق کیا ہے۔
حماس کے مطابق یہ کمیٹی اس وقت تک کام کرتی رہے گی جب تک فلسطینی ایوان کو منظم نہیں کیا جاتا اور قومی، صدارتی اور قانون سازی کے تمام سطحوں پر عام انتخابات کا انعقاد نہیں ہو جاتا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
برطانیہ میں کام کرنے والے ایک انسانی حقوق کے ادارے نے الزام عائد کیا ہے کہ شامی سکیورٹی فورسز نے ملک کی اقلیتی علوی گروپ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد کا قتل عام کیا ہے۔
جنگ کی مانیٹرنگ کرنے والے ادارے سریئن اوبزویٹری فار ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر) کا کہنا ہے کہ جمعے اور سنیچر کو علوی کمیونٹی کے خلاف قتل عام کے 30 واقعات میں 745 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تاہم بی بی سی نیوز اس دعوے کی آزادانہ طور پر تحقیقات نہیں کر سکی۔
ادھر شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع نے اتوار کی صبح دمشق کی ایک مسجد میں اپنے ایک وعظ میں ’قومی وحدت اور امن عامہ کو برقرار رکھنے‘ پر زور دیا ہے۔
انھوں نے شام کے ساحل پر جمعرات کو شروع ہونے والی جھڑپوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ متوقع چیلنجز ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں ہر ممکن حد تک قومی وحدت اور شہری امن کا تحفظ کرنا چاہیے۔‘
اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں سینکڑوں لوگ اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں شام کے معزول صدر بشاالاسد رہتے تھے جو خود بھی علوی طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔
ایس او ایچ آر کے مطابق گذشتہ دو دنوں میں 1000 سے زائد لوگ مارے گئے ہیں جو کہ دسمبر میں یہ بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سب سے سنگین تشدد کا واقعہ ہے۔
ہلاک ہونے والے افراد میں سابق حکومت کے درجنوں فوجی اور بشارالاسد کے وفادار سمجھے جانے والے گن مین بھی شامل ہیں، جنھیں جھڑپوں کے بعد جمعرات سے لازقیہ اور طرطوس صوبوں میں قید رکھا گیا تھا۔
ایس او ایچ آر کی رپورٹ کے مطابق پرتشدد واقعات میں شامی حکومت کے 125 ارکان جبکہ بشارالاسد کے 148 حامی مارے گئے ہیں۔
علوی کمیونٹی کو اہل تشیع کا ہی ایک فرقہ سمجھا جاتا ہے اور ان کی سنی اکثریتی شام میں آبادی تقریباً دس فیصد بنتی ہے۔
شام کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے حکومتی خبر رساں ادارے ثنا نیوز کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز پر اچانک کیے جانے والے حملوں کے بعد اس علاقے کا انتظام سنبھال لیا ہے۔
شہر کے سماجی کارکن نے جمعے کو بی بی سی کو بتایا کہ ان حملوں کے بعد علوی کمیونٹی کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے بعد سینکڑوں لوگ متاثرہ علاقوں سے اپنے گھر چھوڑ کر نکل گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان شہریوں کی بڑی تعداد نے لازقیہ کے علاقے حميميم کے روسی اڈے پر پناہ لے لی۔
روئٹرز کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس روسی فوجی اڈے کے باہر لوگ پناہ حاصل کرنے کے لیے نعرے لگا رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق درجنوں خاندان شام چھوڑ کر پڑوسی ملک لبنان فرار ہو گئے ہیں۔
شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے گیئر پیڈرسن کا کہنا ہے کہ انھیں شام کے ساحلی علاقوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی پریشان کن خبروں پر تشویش ہے۔
انھوں نے فریقین سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی کارروائیوں کے باز رہیں جس سے ملک عدم استحکام کی طرف جا سکتا ہے اور یہ تشدد ملک میں نئی مخلوط حکومت کی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین نے پاکستان کے ذمے واجب الادا دو ارب ڈالر قرض کی ادائیگی کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔
سنیچر کے روز بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کو اس بات کی تصدیق وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بذریعہ ٹیکسٹ میسج کی۔
گذشتہ سال ستمبر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے سات ارب ڈالرز کا قرض منظور کیا تھا۔ اس کے بعد سے پاکستان زرِ مبادلہ کے ذخائر مضبوط کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔
فی الحال آئی ایم ایف قرض کی پہلی قسط کا جائزہ لے رہا ہے۔ منظور ہو جانے کی صورت میں نئے قرض پروگرام کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالرز ملیں گے۔
قرض معاہدو٘ں کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے لگائی جانے والی شرائط میں سے ایک بڑی شرط بیرونی مالی اعانت کا حصول رہا ہے۔
کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ کے مطابق، مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کے ذمے 22 ارب ڈالرز کے بیرونی قرضے واجب الادا ہیں۔
دوسری جانب، دسمبر میں جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی انٹرنیشنل ڈیبٹ رپورٹ کے مطابق 2023 میں پاکستان کا کل بیرونی قرض 130.85 ارب ڈالرز تھا جس میں سے چین کے قرضوں کا تناسب 22 فیصد (تقریباً 28.786 ارب ڈالرز) تھا، اس کے بعد ورلڈ بینک کا 18 فیصد (23.55 ارب ڈالرز) اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا 15 فیصد حصہ (19.63 ارب ڈالر) ہے۔

،تصویر کا ذریعہFile Photo - Getty Images
بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے اورناچ میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے پولیس اور لیویز فورس کے تھانوں کو نذر آتش کر دیا ہے۔
اورناچ میں پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سنیچر کی شام مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد شہر میں داخل ہوئی تھی اور انھوں نے پولیس اور لیویز فورس کے عملے کو یرغمال بنایا اور اس کے بعد دونوں تھانوں کو نذر آتش کر دیا۔
پولیس اہلکار کے مطابق مسلح افراد جاتے ہوئے پولیس اور لیویز فورس کے اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین کر لے گئے ۔
سرکاری حکام کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے جبکہ سیکورٹی کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیےسیکورٹی فورسز کی بھاری نفری اورناچ بھیج دی گئی ہے۔
اس حملے کے بارے میں حکام نے کیا بتایا؟
اورناچ میں پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سنیچر کی شام 6 بجکر 25 منٹ پرمسلح افراد کی ایک بڑی تعداد اورناچ ٹامیں داخل ہوئی تھی۔
اہلکار کے مطابق مسلح افراد کی تعداد 60 سے زیادہ تھی جنھوں نے آتے ہی مختلف علاقوں میں پوزیشن سنبھال لی۔
’مسلح افراد نے ٹاؤن میں پولیس اور لیویز فورس کے تھانوں کا محاصرہ کرکے ان کے عملے کو یرغمال بنالیا۔‘
پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے پولیس اورلیویز فورس کے تھانوں سے اسلحہ چھیننے کے علاوہ تھانوں کو نذرآتش کرنے کے ساتھ ساتھ لیویز فورس کی دو گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔
پولیس اہلکار کے مطابق مسلح افراد وہاں آدھے سے پونے گھنٹے تک موجود رہے اور جاتے ہوئے پولیس کی ایک گاڑی کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے ایک سینیئر اس حوالے سے کہتے ہیں کہ مسلح افراد پولیس تھانے سے دس کے قریب بندوقیں لے گئے، جبکہ لیویز فورس کے اہلکاروں سے چھینی گئیں بندوقوں کی تعداد دو تھی۔
انھوں نے بتایا کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ واردات کے بعد مسلح افراد پہاڑوں کی جانب فرار ہوگئے۔
خضدار میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اورناچ میں سکیورٹی کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے فورسز کی بھاری نفری علاقے میں بھیج دی گئی ہے۔
اورناچ کہاں واقع ہے؟
اورناچ ضلع خضدار کا سب ڈویژن ہے اور یہ ایک دشوارگزار پہاڑی علاقہ ہے۔
اورناچ خضدار شہر سے اندازاً 130 کلومیٹر کے فاصلے پرجنوب مغرب میں واقع ہے۔
اورناچ کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ جہاں ضلع خضدار کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے متاثر ہیں وہیں اس کا علاقہ اورناچ ضلع آواران کے بھی قریب واقع ہے جس کا شمار بھی شورش سے سب سے زیادہ متاثر اضلاع میں ہوتا ہے۔
ضلع خضدار میں ایسی نوعیت کا دوسرا واقعہ
اورناچ میں مسلح افراد کی بڑی تعداد میں آمد اور وہاں پولیس اور لیویز فورس کے تھانوں کو نذرآتش کیے جانا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔
اس سے قبل رواں سال جنوری کے آغاز میں ضلع خضدار کے زہری ٹاؤن میں 70 سے زائد مسلح افراد داخل ہوئے تھے۔
زہری ٹاؤن میں مسلح افراد نے لیویز فورس کے تھانے اور نادرا کے دفتر کو نذراتش کیا تھا جبکہ لیویز فورس کے تھانے سے اسلحہ کے علاوہ ایک گاڑی اور موٹر سائیکل بھی لے گئے تھے۔
اورناچ میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے، جبکہ زہری میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔
زہری میں ہونے والے حملے کے بعد 31 جنوری اور یکم فروری کی شب مسلح افراد کی بڑی تعداد نے ضلع خضدار سے متصل ضلع قلات کی تحصیل منگیچر کے ہیڈکوارٹر منگیچر ٹاؤن اور وہاں کوئٹہ، کراچی شاہراہ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
اس موقع پر مسلح افراد کے حملے میں 18 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 12عسکریت پسند مارے گئے تھے۔
عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے رات کے اوقات میں شاہراہوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد دور دراز کے علاقوں میں داخل ہونے کا رحجان سامنے آرہا ہے۔
تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند کسی علاقے کو 10 یا 15 منٹ سے زیادہ اپنے کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
منگیچر میں ہونے والے حملے کے بعد وزیر اعلیٰ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان دس پندرہ منٹ کے دوران وہ کبھی عام شہریوں کا بڑا نقصان کرتے ہیں اور کبھی ان سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں جو چھٹیوں پر جارہے ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ نے مذاکرات پر اصرار کرنے والی ’ہٹ دھرم حکومتوں‘ پر تنقید کرتے ہوئے یورپی ممالک کو ’بے شرم اور اندھا‘ قرار دیا ہے کیونکہ انھوں نے جوہری معاہدے پر علمدرآمد نہ کرنے پر تہران پر تنقید کی تھی۔
ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ انھوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے آیت اللہ علی خامنہ ای کو خط لکھا ہے۔
حکومتی اداروں کے حکام کی موجودگی میں ایک اجلاس کے دوران آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ: ’حقیقت یہ ہے کہ مذاکرات پر اصرار کرنے والی ہٹ دھرم حکومتیں مسائل حل نہیں کرنا چاہتیں بلکہ ہم پر برتری حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات اس لیے ہونے چاہییں تاکہ وہ مذاکرات کرنے والے دوسرے فریق پر اپنی مرضی مسلط کر سکیں۔‘
بی بی سی فارسی کے مطابق ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جو مذاکرات امریکہ چاہتا ہے وہ ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہوں گے۔
’وہ اپنی توقعات ایران کی دفاعی اور بین الاقوامی صلاحیتوں کے حوالے سے بڑھا رہے ہیں جو کہ ایران پوری نہیں کرسکتا۔ وہ کہیں گے کہ فلاں شخص سے نہ ملو، آپ کے میزائل کی رینج زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔‘
جمعے کو فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ کو ایک خط لکھ کر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں ایران کے ساتھ مذاکرات اور اس کے نتیجے میں کسی معاہدے تک پہنچنے کو ترجیح دوں گا۔‘
آیت اللہ خامنہ ای نے سرکاری عہدیداران کے ساتھ اپنی گفتگو میں امریکی صدر کا کوئی ذکر نہیں کیا لیکن انھوں نے یورپی طاقتوں کو ضرور تنقید ک نشانہ بنایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یورپی طاقتیں کہتی ہیں کہ ایران نے (ماضی میں) جوہری معاہدے میں شامل اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ کیا انھوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟ جب امریکی معاہدے سے نکل گیا تو آپ (یورپی ممالک) نے وعدہ کیا کہ آپ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے لیکن آپ نے اپنا وعدہ توڑ دیا۔‘
ماضی میں ایران اور دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ کیا تھا؟
یہ پی فائیو پلس ون (اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے علاوہ جرمنی) اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ تھا جو کہ جنوری 2016 میں طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔
ایران نے اپنی یورینیم افزودگی اور ذخیرہ اندوزی پر پابندیاں قبول کرنے، متعدد جوہری مقامات پر تنصیبات کو بند کرنے یا ان میں ترمیم کرنے اور بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو تنصیبات کے دوروں کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے بدلے میں، ایران پر سے کئی بین الاقوامی مالیاتی پابندیاں ہٹا دی گئیں تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پی فائیو پلس ون کا خیال تھا کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دے گا۔ ایران کو امید تھی کہ پابندیوں کے خاتمے سے اس کی مشکلات کی شکار معیشت کو بڑے پیمانے پر فروغ ملے گا۔
معاہدہ ختم کیوں ہوا تھا؟
اس معاہدے پر براک اوباما کے دورِ صدارت میں دستخط کیے گئے تھے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس پہنچنے سے بہت پہلے یہ واضح کر دیا تھا کہ ان کے خیال میں یہ ‘بدترین معاہدہ‘ ہے۔
انھوں نے بار بار اسے ‘خوفناک‘ اور ‘مضحکہ خیز‘ قرار دیا تھا اور طنز کا نشانہ بنایا تھا۔
ان کا خیال تھا کہ اس معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں بھی شامل ہونی چاہیے تھیں اور یہ کہ معاہدے کی شرائط زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہیں گی۔
صدر ٹرمپ نے مئی 2018 میں امریکہ کو اس معاہدے سے نکال لیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں لگا دی تھیں۔
اس کے جواب میں ایران نے یورینیم کی افزودگی اس مقررہ حد سے زیادہ کرنا شروع کی جس کی اسے معاہدے میں اجازت تھی اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کے ساتھ اپنا تعاون کم کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ خارجہ نے ’دہشتگردی‘ اور ’متوقع مسلح تنازع‘ کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کو پاکستان کی طرف سفر کرنے کے ارادوں پر نظرِ ثانی کرنے کی تجویز دی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف قونصلر افیئرز کی جانب سے جاری کی گئی ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری ’دہشتگردی‘ کے خطرات کے پیشِ نظر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا سفر نہ کریں۔
اس ٹریول ایڈوائزری میں امریکی شہریوں کو لائن آف کنٹرول کے اطراف انڈیا اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں جانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
ٹریول ایڈوائزری میں امریکی شہریوں کو مطلع کیا گیا ہے کہ ’مقامی قوانین کے مطابق (پاکستان میں) بلا اجازت احتجاج کرنے پر پابندی ہے۔ کسی بھی احتجاج کے قریب ہونے پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چھان بین کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
’احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے، سوشل میڈیا پر پاکستانی حکومت، فوج اور حکام کے خلاف سوشل میڈیا پر تنقیدی مواد پوسٹ کرنے پر بھی امریکی شہریوں کو حراست میں لیا جاتا رہا ہے۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے یہ ٹریول ایڈوائزری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب منگل کو صدر ڈوبلڈ ٹرمپ نے سنہ 2021 میں کابل ایئرپورٹ پر امریکی فوجیوں پر ہونے والے خودکش حملے کے ایک منصوبہ ساز کی گرفتاری میں مدد کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا۔
یاد رہے کہ منگل کو محکمہ دفاع کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا تھا کہ شریف اللہ کو تقریباً دس روز قبل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یورپی یونین کے متعدد ممالک اور برطانیہ نے غزہ کی تعمیرِ نو کے عرب منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل نے مسترد کر دیا تھا۔
غزہ کی تعمیرِ نو کا منصوبہ مصر نے بنایا ہے اور دیگر عرب ممالک نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔ اس پانچ سالہ منصوبے کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو پر 53 بلین ڈالر کی لاگت آئے گئے اور فلسطینیوں کو اپنی زمین بھی نہیں چھوڑنی پڑے گی۔
اس سے قبل امریکی صدر غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اپنا ایک الگ منصوبہ پیش کر چکے ہیں۔
سنیچر کو فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرا خارجہ نے مصر کی جانب سے بنائے گئے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے ’حقیقت‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔
ایک بیان میں چاروں ممالک کے وزرا خارجہ کا کہنا تھا کہ غزہ کی تعمیرِ نو کی تجویز میں غزہ کے لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ’عرب منصوبے پر کام کرنے کے لیے پُرعزم‘ ہیں اور وہ اس میں ’فلسطینی اتھارٹی کے مرکزی کردار اور اس کے اصلاحی ایجنڈے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔‘
* غزہ میں رقص کرتے ٹرمپ، بکنی میں ملبوس مرد اور بلند عمارتیں: امریکی صدر کی جانب سے پوسٹ کردہ ویڈیو پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟
مصر کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے میں کہا گیا ہے کہ عارضی طور پر غزہ کی انتظامیہ آزاد ماہرین کی ایک کمیٹی چلائے گی اور وہاں امن فوج کے دستے تعینات کیے جائیں گے۔
مصر نے اپنا منصوبہ منگل کو عرب لیگ کے اجلاس میں پیش کیا تھا اور فلسطینی اتھارٹی اور حماس نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ خارجہ اور وائٹ ہاؤس نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس تجویز کردہ منصوبے میں زمینی حقائق کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ منصوبے میں غزہ کی آبادی کو دیگر ممالک منتقل کرنے کی بات کی گئی تھی۔
منگل کو ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز کا مصر کے منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ: ’غزہ کے رہائشی کسی ایسی جگہ پر نہیں رہ سکتے جو کہ ملبے کا ڈھیر ہو اور وہاں بارود موجود ہو۔‘
’صدر ٹرمپ حماس سے آزاد غزہ کی تعمیرِ نو کے حوالے سے اپنے خیال پر قائم ہیں۔‘
قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی نے ایک انٹرویو میں ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ یہ عمل جنگ اور ’بڑی ماحولیاتی تباہی‘ کا سبب بنے گا۔
ٹکر کارلسن، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور ایک قدامت پسند میڈیا شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں‘ نے قطری وزیر اعظم کا انٹرویو کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی کانگریس کی جانب سے بہت جلد ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملوں کی منظوری دی جا سکتی ہے۔‘
جس پر قطری وزیر اعظم نے جواب دیا کہ ’قطر کے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے تحفظات ہیں لیکن ہم ایران کے جوہری مسئلے کے کسی عملی حل تک پہنچنے کے بارے میں پر امید ہیں کیونکہ ایران کے سپریم لیڈر نے ایک فتویٰ جاری کیا تھا کہ ان کا ملک کبھی بھی ایٹم بم بنانے کی کوشش نہیں کرے گا۔‘
ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے کے بارے میں محمد بن عبدالرحمن الثانی نے مزید کہا کہ ’ایسا عمل صرف جنگ ہی شروع کرے گا، جس کی زد میں ہورا خطے آئے گا کیونکہ یہ فطری بات ہے کہ جس بھی ملک پر حملہ کیا جائے گا، وہ جواب دے گا۔‘
قطری وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ ایسا کوئی حملہ خطے کے پانیوں کو آلودہ کر دے گا جبکہ قطر اور دیگر ممالک کے لیے سنگین نتائج کے ساتھ ساتھ ’بڑی ماحولیاتی تباہی‘ کا سبب بنے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ایران کی جوہری تنصیبات پر فوجی حملہ ہوتا ہے تو ایران صرف اپنی حدود میں نہیں بلکہ خطے میں بھی اس کا جواب دے گا اور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا۔ قطر کسی فوجی حملے کی حمایت نہیں کرتا۔ ہم ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی معاہدے کی امید کرتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور اس کے نتیجے میں کسی معاہدے تک پہنچنے کو ترجیح دیں گے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق امریکی نیوز چینل ’فاکس نیوز‘ کو ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور اسی ضمن میں انھوں نے جمعرات کو ایرانی قیادت کو ایک خط لکھا، جس میں صدر ٹرمپ کی جانب اس امید کا اظہار کیا گیا کہ ایرانی رہنما بات چیت پر راضی ہو جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ مذاکرات کرنے پر تیار ہو جائیں گے کیونکہ یہ ایران کے لیے بہت بہتر ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہgetty
محکمہ انسداد دہشت گردی نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر پنجاب کے مختلف شہروں میں سے 10 شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں سے دو شدت پسندوں کا تعلق ٹی ٹی پی سے ہے جنھیں بارودی مواد سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق خوشاب، جہلم، راولپنڈی، ٹوبہ ٹیک سنگھ، رحیم یار خان سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں 73 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔
ترجمان کے مطابق دہشت گردوں سے دھماکہ خیز مواد، آئی ای ڈی بم ، ڈیٹونیٹر، حفاظتی فیوز تار، پمفلٹت نقدی اور موبائل فون برآمد ہوئے۔
بیان کے مطابق دہشت گرد مختلف مقامات پر کارروائی کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے تھے۔
بیان کے مطابق رواں ہفتے میں 758 کومبنگ آپریشنز کے دوران107 مشتبہ افراد گرفتار کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امن کی کوششوں کے دوران روس کے مقابلے میں انھیں یوکرین سے نمٹنا زیادہ مشکل محسوس ہو رہا ہے۔
صدرٹرمپ نے جمعے کہ روز اوول آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں بتایا کہ امن کی کوششوں کے حوالے سے امریکہ اور روس کے درمیان تعاون بہت اچھا جاری ہے جبکہ یوکرین کے ساتھ معاملات طے کرنا آسان نہیں۔
یاد رہے کہ اس سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ یہ بھی عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ یوکرین کے ساتھ جنگ بندی ہونے تک روس پر بڑے پیمانے پر پابندیوں اور محصولات عائد کرنے کے حوالے غور کر رہے ہیں۔
دوسی جانب خلائی ٹیکنالوجی کمپنی میکسار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ اس سے قبل امریکہ نے کچھ سیٹلائٹ تصاویر تک یوکرین کی رسائی بھی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل یوکرین کی فوجی امداد روکنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان وائٹ ہاؤس میں یوکرین کے صدر کے ساتھ ٹرمپ کی کشیدگی پر مبنی گفتگو کے ٹھیک ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ زیلینسکی پر کڑی تنقید کے بعد رواں ہفتے ٹرمپ نے کیئو کے ساتھ امریکی فوجی امداد اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو روک دیا۔
روس نے جمعرات کی رات یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے پہلے سے ہی بھاری پابندیوں والے روس پر مزید پابندیوں کی دھمکی بظاہر اس حملے کے ردعمل میں تھی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ نئے محصولات پر غور کر رہے ہیں کیونکہ روس اس وقت میدان جنگ میں یوکرین کو پوری شدت سے نشانہ بنا رہا ہے۔
تاہم اس کے چند گھنٹوں کے اندر ہی صدر ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن وہی کام کر رہے ہیں جیسا کہ کوئی اور کرتا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے خیال میں وہ انھیں (یوکرین) کو اتنا ہی مار رہا ہے جتنا کہ خود انھیں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ شاید اس پوزیشن میں کوئی بھی شخص ایسا ہی کرے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ انھیں یقین ہے کہ پوتن جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ یوکرین کے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے۔
اس سوال پر کہ انھوں نے کیئو کی امداد کیوں روکی، صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ (یوکرین) مسلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں کیونکہ میں نہیں جانتا کہ ان کا ارادہ کیا ہے؟‘
صدر ٹرمپ کی روسی صدر پوتن کے ساتھ براہ راست سفارتکاری نے نیٹو کے اتحادیوں کوحیران کر دیا ہے۔کیونکہ مغرب نے فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد سے ماسکو کے ساتھ تعلقات منقطع کیے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ کی زیلینسکی سے کشیدگی کے باوجود ان کی خارجہ پالیسی ٹیم نے پچھلے دو دنوں میں یوکرین کے لیے زیادہ مصالحانہ لہجہ اپنایا ہے۔
امریکہ چاہتا ہے کہ زیلینسکی ایک ایسا معاہدہ کریں جو انھیں یوکرین کے معدنی وسائل میں بڑا حصہ دے اور وہ ماسکو کے ساتھ جلد جنگ بندی پر رضامند ہو جائیں۔
زیلینسکی اس معاہدے کا حصہ بننے کے لیے کیئو کے لیے مضبوط سکیورٹی کی ضمانتیں چاہتے ہیں۔
جمعے کے روز ٹرمپ نے کہا کہ ایسی سکیورٹی ضمانتوں پر بعد میں بات ہو سکتی ہے اور یہ ’آسان مرحلہ‘ ہوگا۔
اسی دوران خلائی ٹیکنالوجی کمپنی میکسر نے بی بی سی ویری فائی کو بتایا کہ امریکہ نے یوکرین کی جی ای جی ڈی پروگرام کے تحت کچھ اعلیٰ معیار کی سیٹلائٹ تصاویر تک رسائی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
یاد رہے کہ سیٹلائٹ تصاویر افواج کو دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے میں مدد دینے کے باعث جنگ کے دوران انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ اگلے ہفتے ٹرمپ حکومت کے سینیئر حکام زیلینسکی کی ٹیم سے ملاقات کے لیے سعودی عرب جائیں گے کیونکہ ان پر ٹرمپ کی شرائط کو ماننے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
یوکرینی صدر نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات ’بامعنی‘ ہوں گے۔
جمعے کے روز زیلینسکی نے کہا تھا کہ ان کا ملک ’جتنی جلدی ممکن ہو سکے امن کے لیے تیار ہے‘ اور اس کے لیے انھوں نے ’ٹھوس اقدامات‘ تجویز کیے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہر روز، روس کے نئے حملے اس بات کو ثابت کر رہے ہیں کہ روس کو امن پر مجبور کیا جانا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہSocial media
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں جے یو آئی کے رہنما اور ممتاز مذہبی عالم مفتی شاہ میر عزیز ہلاک ہو گئے ہیں۔
جمعے کی شام مفتی شاہ میر عزیر کو ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت شہر میں نامعلوم افراد نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ نمازِ عشا ادا کر رہے تھے۔
ضلع کیچ پولیس کے سربراہ راشد الرحمان زہری نے فون پر بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے نمازِ عشا کے دوران مسجد میں مفتی شاہ میر کو ٹارگٹ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے مفتی شاہ میر موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ مسجد کا پیش امام زخمی ہوا۔ مفتی شاہ میر کی لاش کو پوسٹ مارٹم جبکہ امام مسجد کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت مبتقل کیا گیا۔
کیچ پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس واقعے کی تاحال کسی نے ذمہ دارج قبول نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ مفتی شاہ میر عزیر کے قتل کا واقعہ ایک ایسے دن پیش آیا جب جے یو آئی نے خضدار میں گذشتہ ہفتے اپنے ایک رہنما وڈیرہ غلام سرور اور اکوڑہ خٹک میں مسجد میں خود کش حملے کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاج کیا تھا۔
ایک ہفتے کے دوران بلوچستان میں جے یو آئی کے رہنمائوں پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔
اس سے قبل بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں نامعلوم مسلح افراد نے جے یوآئی کے رہنما وڈیرہ غلام سرور پر حملہ کیا تھا جس میں نہ صرف بلکہ ان کے ساتھ ایک اور مذہبی عالم مولانا امان اللہ بھی مارے گئے تھے۔
جمعہ کے روز جے یو آئی کے زیر اہتمام خضدار میں پارٹی کے رہنما وڈیرہ غلام سرور اور مولانا امان اللہ کے قتل اور خیبر پشتونخوا میں اکوڑہ خٹک میں مسجد میں خود کش حملے کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں احتجاج کیا گیا۔
پشاور میں واٹس ایپ گروپ سے نکالے جانے پر اختلاف کے بعد ایک شخص نے دوسرے شخص کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔
پشاور کے تھانہ ریگی کے سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) معراج خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کہ ریگی کے علاقے میں مقامی افراد اور قبیلے کے لوگوں کا ایک وٹس ایپ گروپ ہے جس میں سے ایک شخص کو نکالنے پر اختلاف پیدا ہوگیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ قتل کے واقعے سے پہلے بھی ان افراد میں بحث ہوئی جس کے بعد بات مزید بڑھ گئی۔
تھانہ ریگی میں درج ایف آئی آر کے مطابق مقتول مشتاق کے سوتیلے بھائی ہمایوں نے پولیس کو بتایا کہ قتل سے ایک دن قبل واٹس گروپ سے نکالے جانے پر اشفاق اور مشتاق کے درمیان بحث ہوئی تھی اور اگلے دن دونوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ کر دی۔
پولیس رپورٹ میں ہمایوں نے مزید بتایا کہ وہ اور ان کے بھائی مشتاق راضی نامہ کروانے کے لیے ایک مقامی شخص کے حجرے کی طرف جا رہے تھے کہ اس دوران راستے میں اشفاق نے ان دونوں پر دوبارہ فائرنگ کی۔
ہمایوں نے پولیس کو بتایا کہ فائرنگ کے بعد ان کے بھائی اپنی جان بچانے کے لیے قریب ہی واقع ایک پیٹرول پمپ کے کمرے میں چلے گئے جہاں اشفاق نے انھیں گولی مار کر قتل کر دیا۔
ایس ایچ او معراج خان نے بتایا کہ یہ واقعہ گزشتہ روز بعد دوپہر پیش آیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں تفتیش کر رہے ہیں اور قاتل کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا میں معمولی باتوں اور خاندانی دشمنی پر اکثر قتل کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ذاتی دشمنی اور معمولی باتوں پر اختلاف پر قتل کے واقعات دہشت گردی کے واقعات سے زیادہ رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ رات گئے یوکرین پر ہونے والے فضائی حملوں کو دیکھتے ہوئے وہ روس پر نئی پابندیاں اور ٹیرف لگانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’اس حقیقت کی بنیاد پر کہ روس اس وقت میدان جنگ میں یوکرین پر مسلسل ’بمباری کر رہا ہے، میں روس پر اس وقت تک بڑے پیمانے پر پابندیوں، بینکنگ پابندیوں اور ٹیرف عائد کرنے پر غور کر رہا ہوں جب تک کہ جنگ بندی اور امن کے لیے حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’روس اور یوکرین فوراً (مذاکرات) کی ٹیبل پر آ جائیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ شکریہ۔۔۔‘
واضح رہے کہ روس کو نئی پابندیوں سے متعلق خبردار کرنے سے پہلے امریکی صدر یوکرین پر بھی جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال چکے ہیں۔
اس ہفتے کے آغاز میں وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ وہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یوکرین کے لیے فوجی امداد کو بند کر سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط لکھ کر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق امریکی نیوز چینل ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کو ترجیح دیں گے۔
یہ انٹرویو ’فاکس نیوز بزنس‘ سے جمعہ کے روز نشر ہوا ہے۔ اس میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں ایران کے ساتھ مذاکرات اور اس کے نتیجے میں کسی معاہدے تک پہنچنے کو ترجیح دوں گا۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور اسی ضمن میں انھوں نے جمعرات کو ایرانی قیادت کو ایک خط لکھا ہے جس میں صدر ٹرمپ کی جانب اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایرانی رہنما بات چیت پر راضی ہو جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ مذاکرات کرنے پر تیار ہو جائیں گے کیونکہ یہ ایران کے لیے بہت بہتر ہو گا۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے خیال میں انھیں اس خط کی ضرورت بھی ہے۔ دوسرا متبادل یہ ہے کہ ہمیں کچھ کرنا ہو گا، کیونکہ آپ ایک اور جوہری ہتھیار نہیں بننے دے سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
یوکرین کی فضائیہ نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے گذشتہ رات کیے گئے فضائی حملوں میں یوکرین کی گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یوکرینی فضائیہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ روس کی جانب سے کیے گئے اس حملے میں مجموعی طور پر 67 میزائلوں، بشمول 43 کروز میزائل، تین کلیبر بیلسٹک میزائل اور آٹھ دیگر میزائل، کے ساتھ ساتھ 194 ڈرون بھی داغے گئے ہیں۔
یوکرین کی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کی جانب سے داغے گئے 33 کروز میزائلوں، 100 ڈرونز اور ایک ’کے ایچ 59/69‘ میزائل کو ہدف پر پہنچنے سے قبل ہی مار گرایا گیا۔
یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس کی جانب سے رات گئے کیے جانے والے حملے کو پسپا کرنے کے لیے ایف 16 اور میراج 2000 طیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ یوکرین کی فضائیہ کا کہنا ہے کہ ایک ماہ قبل یوکرین پہنچنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب فرانسیسی میراج طیاروں کو روس کے خلاف تعینات کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہECPAD HO via Reuters
یاد رہے کہ فرانس کے صدر ایمونوئل میخواں نے جون 2024 میں یوکرین کو روس کے خلاف دفاع کی غرض سے فرانسیسی میراج طیارے دینے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یوکرینی پائلٹوں کو ان طیاروں کو اڑانے کی تربیت دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔
دسمبر 2024 میں یوکرینی پائلٹوں کی تربیت مکمل ہونے کے بعد یہ طیارے فروری 2025 میں یوکرین پہنچائے گئے ہیں اور اب مارچ میں ان کا پہلی مرتبہ روس کے خلاف دفاع میں استعمال کیا گیا ہے۔
یوکرین کے مقامی حکام نے بتایا کہ رات بھر جاری رہنے والے اس بڑے روسی حملے میں چار بچوں سمیت کم از کم 18 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی فی الحال کوئی اطلاع نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین کے لیے امریکی فوجی امداد کی معطلی کے بعد سے یہ روس کی جانب سے متعدد ہتھیاروں اور میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے یوکرین پر کیے جانے والا پہلا بڑا حملہ تھا۔ یوکرین کے وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ اس حملے میں یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور گیس کی پیداوار کی سہولیات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب روس نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے کہ ان کی جانب سے گذشتہ رات کیے گئے حملے فرانسیسی صدر ایمونوئل میکخواں کی جانب سے حال ہی میں جنگ بندی کی تجویز کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔
پاکستان کی وفاقی کابینہ کے نئے اراکین کو وزارتوں کے قلمدان سونپ دیے گئے ہیں اور کابینہ ڈویژن نے وزیر اعظم کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق طارق فضل چوہدری کو پارلیمانی امور، علی پرویز کو وزارت پیٹرولیم اور حنیف عباسی کو وزیر ریلوے مقرر کیا گیا ہے۔
سردار محمد یوسف کو وزارت مذہبی امور، خالد مگسی کو سائنس اور ٹیکنالوجی اور شزہ فاطمہ خواجہ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کی وزارت سونپی گئی ہے۔
رانا مبشر اقبال کو پبلک افیئرز یونٹ اور مصطفیٰ کمال کو نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کی وزارت دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہCabinet Division