جعفر ایکسپریس کے 80 مسافر مچھ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے، عسکری ذرائع کا 104 مسافروں کی بازیابی اور 16 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

بلوچستان میں درۂ بولان کے علاقے ڈھاڈر میں جعفر ایکسپریس پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 16 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ بازیاب ہونے والے 80 مسافر بذریعہ ٹرین مچھ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے ہیں جہاں انھیں ابتدائی طبی امداد دی جا رہی ہے۔

خلاصہ

  • بلوچستان کے ضلع سبّی میں منگل کی سہ پہر نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
  • پاکستان کے عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد اب تک 104 مسافروں کو شدت پسندوں سے بازیاب کروا لیا گیا ہے جبکہ آپریشن کے دوران 16 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
  • عسکری ذرائع کے مطابق دس گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی کلیئرنس آپریشن جاری ہے جس میں اضافی نفری بھی حصہ لے رہی ہے۔
  • جعفر ایکسپریس کے 80 مسافر مچھ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے ہیں جہاں انھیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
  • ریلوے حکام کے مطابق یہ ٹرین نو بوگیوں پر مشتمل تھی اور اس میں 400 سے زیادہ مسافر سوار ہیں۔
  • بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
  • وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد بہت سارے مسافروں کو شدت پسند ٹرین سے لے کر پہاڑی علاقے میں لے گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا تاہم بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے اور جعفر ایکسپریس پر حملے سمیت دیگر اہم خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. جعفر ایکسپریس حملہ: تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    jaffar express

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    بلوچستان کے ضلع سبّی میں منگل کی سہ پہر نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

    اگر آپ ہمارا لائیو پیج ابھی جوائن کر رہے ہیں تو تازہ ترین صورتحال کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔

    • پاکستان کے عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد اب تک 104 مسافروں کو شدت پسندوں سے بازیاب کروا لیا گیا ہے جبکہ آپریشن کے دوران 16 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
    • شدت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ان کی جانب سے بھی متعدد سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
    • حملے کے 12 گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی عسکری ذرائع کے مطابق کلیئرنس آپریشن جاری ہے جس میں اضافی نفری بھی حصہ لے رہی ہے۔
    • جعفر ایکسپریس کے 80 مسافر مچھ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے ہیں جہاں انھیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔
    • ریلوے حکام کے مطابق یہ ٹرین نو بوگیوں پر مشتمل تھی اور اس میں 400 سے زیادہ مسافر سوار ہیں۔
    • وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد بہت سارے مسافروں کو شدت پسند ٹرین سے لے کر پہاڑی علاقے میں لے گئے ہیں۔
  3. 104 مسافر بازیاب اور 16 شدت پسند ہلاک، آپریشن اب بھی جاری ہے: عسکری ذرائع

    پاکستان کے عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد اب تک 104 مسافروں کو شدت پسندوں سے بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بازیاب کروائے جانے والوں میں 58 مرد، 31 عورتیں اور 15 بچے شامل ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ’اب تک 16 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جبکہ 17 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    تاہم ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کا آپریشن اب بھی جاری ہے۔

  4. جعفر ایکسپریس کے 80 مسافر مچھ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے, محمد کاظم اور زبیر خان، بی بی سی اردو

    train

    منگل کی دوپہر شدت پسندوں کے حملے کا نشانہ بننے والی جعفر ایکسپریس کے 80 مسافر مچھ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے ہیں جہاں انھیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    مچھ کے مقامی صحافی عمران سمالانی جو اس وقت مچھ سٹیشن پر ہی موجود ہیں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان مسافروں کو پہنچانے والا ریلیف ٹرین 11 بجے سٹیشن پہنچی ہے اور اس موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    ریلوے کے حکام کے مطابق 80 مسافروں کو ریلیف ٹرین کے ذریعے پنیر سٹیشن سے مچھ پہنچایا گیا ہے۔

    ریلوے ایک اہلکار نے بتایا کہ 80 مسافروں میں 43 مرد، 26 خواتین اور 11 بچے شامل ہیں۔

    بلوچستان ریسیکو کے مطابق مچھ ریلوے سٹیشن پر پہنچنے والے جعفر ایکسپریس کے مسافروں میں اکثریت خواتین، بچوں اور بڑی عمر کے افراد کی ہے۔ ان میں صرف دو خواتین ایسی ہیں ککہ جو گولیاں لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئی ہیں۔ تاہم زخمی ہونے والوں کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ زخمی ہونے والی خواتین کے حوالے سے بلوچستان ریسکیو کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اُن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    ریسیکو کے مطابق مچھ ریلوے سٹیشن پہچنے والے جعفر ایکسپریس کے مسافر بہت ڈرے ہوئے ہیں۔ مچھ پہنچنے والے کچھ مسافر معمولی زخمی ہیں جنھیں ہسپتال داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کے رشتہ دار وغیرہ مچھ ریلوے سٹیشن پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کا وہاں پر اندراج ہورہا ہے جس کے بعد ان کو سکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت میں اپنے اپنے گھروں کی جانب روانہ کر دیا جائے گا۔

  5. جعفر ایکسپریس حملے میں ملوث 13 شدت پسند ہلاک، آپریشن میں اضافی نفری حصہ لے رہی ہے: عسکری ذرائع

    پاکستان کے عسکری ذرائع نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس حملے میں ملوث 13 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ ان میں سے متعدد زخمی بھی ہیں۔

    عسکری ذرائع کے مطابق آپریشن کے باعث شدت پسند چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم ہو گئے ہیں اور شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

    عسکری ذرائع کے مطابق زخمی مسافروں کو قریبی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ آپریشن میں اضافی نفری حصہ لے رہی ہے۔

  6. جعفر ایکسپریس سے متعدد یرغمالیوں کو شدت پسند پہاڑی علاقے میں لے گئے، ٹرین میں سرکاری اہلکار اور ان کے اہلِخانہ موجود تھے: وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری

    talal chaudhry

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد بہت سارے مسافروں کو شدت پسند ٹرین سے لے کر پہاڑی علاقے میں لے گئے ہیں اور خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے انھوں نے تصدیق کی کہ ٹرین میں سرکاری اہلکار اور ان کے خاندان کے لوگ بھی ہیں اور اس میں عام شہری بھی ہیں۔

    انھوں نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’آج دوپہر کے وقت یہ واقعہ پیش آیا جس میں ٹرین کو اغوا کیا گیا۔ یہ ایک دور دراز علاقہ ہے اور دو سٹیشنز کے درمیان میں ایک سرنگ ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔

    ’جب سکیورٹی فورسز وہاں پہنچیں تو کچھ افراد جن کا نمبر فی الحال میں بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، ان کو وہاں سے چھڑوا لیا گیا اور انھیں قریبی سٹیشن اور پھر منزل مقصود کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس میں کوئی سچائی نہیں ہے کہ انھوں نے خواتین اور بچوں کو چھوڑ دیا ہے، بلکہ خواتین اور بچوں کی وجہ سے ہی سکیورٹی فورسز انتہائی احتیاط سے کام لے رہی ہیں اور اس وقت بھی سکیورٹی آپریشن جاری ہے۔‘

  7. رہائی پانے والے 80 یرغمالی کوئٹہ روانہ: ریلوے حکام, عثمان زاہد، بی بی سی

    بلوچستان کے ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ رہائی پانے والے 80 یرغمالی پانیر سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

    بی بی سی سے گفتگو میں ایک ریلوے افسر نے بتایا کہ رہائی پانے والے 80 یرغمالیوں میں 26 خواتین، 11 بچے اور 43 مرد شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ یرغمال بنائے گئے مسافروں کی تعداد 400 سے زائد ہے، رہائی پانے والے یرغمالیوں کے بارے میں یہ سامنے آیا تھا کہ ان سب کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

    ریلوے حکام نے بتایا ہے کہ رہا ہونے والے افراد چند گھنٹوں میں کوئٹہ پہنچ جائیں گے۔

  8. کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر جعفر ایکسپریس کے مسافروں کے اہلخانہ منتطر, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    جعفر ایکسپریس پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد 400 سے زیادہ افراد کو یرغمال بنایا گیا اور اس وقت کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر ان کے اہلخانہ کی بڑی تعداد موجود ہے۔

    خیال رہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں آپریشن کی اطلاعات ہیں جبکہ کم ازکم 80 یرغمالیوں کو ٹرین سے اتارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے جو کہ اس وقت پانیر ریلوے سٹیشن کے قریب ہیں۔

    یرغمال ہونے کے بعد رہائی پانے والے ایک شخص غلام مرتضیٰ کے بیٹے عادل نے بی بی سی کو بتایا کہ میرے والد نے مجھے کال پر بتایا ہے کہ وہ ’پانیر ریلوے سٹیشن پہنچ گئے ہیں۔ اور تھوڑی دیر میں کویٹہ کے لیے روانہ ہوں گے۔‘

    عادل کا کہنا تھا کہ سگنل کے مسئلے کی وجہ سے مزید بات نہیں ہوئی اور کال کٹ گئی۔

    ریلوے سٹیشن پر ہی موجود عبدالرؤف جن کے والد عمر فاروق نے آبدیدہ لہجے میں کہا مجھے کچھ خبر نہیں میرے والد کہاں ہیں وہ شوگر اور دل کے مریض ہیں، ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ اس آپریشن کو جلد ختم کرے اور ہمارے پیاروں کا پتہ چلے کہ وہ کہاں پر ہیں۔

    محمد ساجد نامی شخص نے مجھے فون پر بتایا کہ ’میری بیوی میرے بیٹے اور اپنے بھائی کے ہمراہ پنجاب جا رہی تھی، اسے اور میرے بیٹے کو تو چھوڑ دیا گیا ہے لیکن اس کا 22 سالہ بھائی اب بھی یرغمال ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا کسی سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

    خیال رہے کہ ضلع سبی کے مرکزی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ ہے۔

    ایم ایس ڈاکٹر گرمکھ داس نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک ہمیں ڈرائیور کے علاوہ کسی اور شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ جن دو ایمبولینسز کو ہم نے کچی ڈسٹرکٹ ہسپتال بھجوایا تھا انھیں حکام نے راستے سے واپس لوٹا دیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ہمیں اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

  9. معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا ایک بزدل عمل ہے: بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی ٹرین جعفر ایکسپریس پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے بلوچستان کے درۂ بولان کے علاقے میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے مسافروں کو یرغمال بنا لیا ہے۔

    مسافر ٹرین پر حملے کے بعد اپنے بیان میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا ایک بزدل عمل ہے۔

    بلاول بھٹو نے تجویز دی کہ بلوچستان گورنمنٹ کا فوری طور پہ ایمرجنسی نفاذ موجودہ صورتحال سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    اس سے قبل وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی بولان کے قریب جعفر ایکسپریس پر فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ معصوم مسافروں پر فائرنگ کرنے والے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

  10. جعفر ایکسپریس پر حملہ: بچوں اور عورتوں سمیت 80 یرغمالیوں کی رہائی کی اطلاع, عثمان زاہد، محمد کاظم

    بلوچستان ریلوے کے ایک افسر نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ منگل کی دوپہر جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے مسافروں میں سے عورتوں اور بچوں سمیت کم ازکم 80 کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ انھیں ٹرین سے اتار دیا گیا تھا اور وہ اب پانیر ریلوے سٹیشن کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

    ریلوے افسر نے مزید کہا کہ رہائی پانے والے افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

    خیال رہے کہ اس ٹرین میں 400 سے زیادہ افراد سوار ہیں اور شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے منگل کو ڈھاڈر کے مقام پر ٹرین پر حملہ کیا اور وہاں واقع ایک سرنگ میں اسے روک کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ حکام کی جانب سے کلیئرنس آپریشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے تاہم اس حوالے سے مزید کوئی اطلاع سامنے نہیں آ رہی۔

    یہ حملہ منگل کی دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب کیا گیا جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق ریل گاڑی کا ڈرائیور زخمی ہوا ہے۔

  11. بلوچستان میں شدت پسندوں کا جعفر ایکسپریس پر حملہ، سکیورٹی حکام کا کلیئرنس آپریشن جاری

    ،ویڈیو کیپشنبلوچستان میں شدت پسندوں کا جعفر ایکسپریس پر حملہ، سکیورٹی حکام کا کلیئرنس آپریشن جاری

    بلوچستان میں شدت پسندوں نے جعفر ایکسپریس کو ایک سرنگ میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا جبکہ سکیورٹی حکام کا شدت پسندوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    اس ٹرین میں 400 سے زیادہ افراد سوار ہیں اور شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    اس بارے میں مزید جانیے کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر موجود ہمارے ساتھی محمد کاظم اور خیر محمد سے۔۔۔

  12. کوئٹہ ریلوے سٹیشن کا احوال: ’یہاں بھی یہی جواب ملا کہ کوئی معلومات نہیں‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    quetta railway station

    جب آج سہ پہر ہم کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن پہنچے تو یہاں زیادہ رش نہیں تھا۔

    جعفر ایکسپریس پر حملے کی اطلاعات کے بعد کچھ لوگ اپنے رشتہ داروں کے بارے میں پوچھنے کے لیے سٹیشن پر موجود معلوماتی کاؤنٹر پر آئے، تاہم انھیں بھی واقعے کے بارے میں زیادہ معلومات اس لیے نہیں ہیں کیونکہ جس علاقے میں یہ حملہ ہوا وہاں موبائل اور ٹیلی فون نیٹ ورک نہیں ہے۔

    یہاں ایک پولیس اہلکار سے ہماری بات ہوئی جن کا بھائی شریف اللہ جعفر ایکسپریس کے گارڈ کے فرائض سرانجام دیتا ہے، وہ اس کے لیے خاصے پریشان تھے لیکن یہاں بھی انھیں یہی جواب ملا ہے کہ یہاں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

    اس دوران ایسے افراد کے اہلِخانہ بھی یہاں آنے لگے جن کے پیارے پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس پر سوار ہیں، تاہم اب ریلوے حکام نے بتایا ہے کہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس اور کراچی سے کوئٹہ آنے والی بولان میل کو سبی پر ہی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر روک لیا گیا ہے اور انھیں بولان کے اس دشوار گزار علاقے میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔

    جعفر ایکسپریس چھ بج کر 55 منٹ جبکہ بولان میل لگ بھگ آٹھ بجے کوئٹہ پہنچنی تھی۔

  13. جعفر ایکسپریس پر شدت پسندوں کا حملہ، عسکری ذرائع کی مسافروں کو یرغمال بنائے جانے کی تصدیق

    پاکستان میں عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے بلوچستان کے درۂ بولان کے علاقے میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے مسافروں کو یرغمال بنا لیا ہے۔

    جعفر ایکسپریس پر حملے کی اطلاعات منگل سہ پہر موصول ہوئی تھیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے منگل کو ڈھاڈر کے مقام پر ٹرین پر حملہ کیا اور وہاں واقع ایک سرنگ میں اسے روک کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔

    یہ چند ماہ میں دوسرا موقع ہے کہ بلوچ شدت پسندوں نے جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر ہونے والے دھماکے میں 26 افراد ہلاک اور 62 زخمی ہوئے تھے جن میں سے 12 کا تعلق لیویز، ایف سی اور فوج سے تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ عسکری ذرائع نے یرغمال بنائے جانے والے افراد کی تعداد تو نہیں بتائی تاہم کوئٹہ میں ریلوے کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس ٹرین پر 400 سے زیادہ افراد سفر کر رہے ہیں۔

    عسکری ذرائع کے مطابق جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا وہ انتہائی دشوار گزار اور مرکزی سڑک سے دور ہے تاہم سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے جو شدت پسندوں کے خاتمے تک جاری رہے گا۔

    اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے قبول کی گئی ہے اور تنظیم کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں میں تمام سرکاری ملازمین ہیں جن کا تعلق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ہے۔

    ریلوے حکام کے مطابق جس جگہ یہ حملہ ہوا، وہاں موبائل اور ٹیلی فون نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے ٹرین کے عملے سے رابطہ ممکن نہیں ہے۔

  14. جعفر ایکسپریس پر سوار مسافروں کے اہلِخانہ: ’دن دو بجے کے بعد سے والد سے رابطہ نہیں ہو رہا‘

    railway station

    جعفر ایکسپریس پر سوار مسافروں کے اہلِخانہ کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر کاؤنٹر سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ایک مسافر محمد اشرف جو آج صبح کوئٹہ سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے تھے ان کے بیٹے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اپنے والد سے دن دو بجے کے بعد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ انھیں کوئٹہ ریلوے سٹیشن سے تاحال کوئی معلومات نہیں ملی ہیں۔

  15. سبّی: سرکاری ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ، ڈرائیور کے علاوہ کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی: طبّی حکام, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    heli copter

    کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملے کے نتیجے میں سبّی کے سرکاری ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاہم ابھی تک ڈرائیور کے علاوہ مزید کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    خیال رہے کہ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر گڈالر اور پیرو کنری کے درمیان حملے کی اطلاع ملی۔

    نامہ نگار کے مطابق کوئٹہ ریلوے سٹیشن سے درہ بولان کی جانب ہیلی کاپٹرز کی پروازیں جاری ہیں۔

    انھوں نے بتایا اب تک پانچ ہیلی کاپٹرز پرواز کر چکے ہیں۔

    خیال رہے کہ مشکل گزار راستے کی وجہ مسافر ٹرین تک زمینی رسائی مشکل دکھائی دے رہی ہے۔

    سبی ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر گرمکھ داس نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور دوایمبولینسز جائے وقوعہ کے قریب واقع ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈھاڈھر، کچی بھجوا دیے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانچ ایمولینسز اور ہسپتال کا عملہ الرٹ ہے۔

    تاہم ایم ایس ڈاکٹر گرمکھ داس نے بتایا کہ جائے وقوعہ کچی کے سرکاری ہسپتال سے بھی دس سے پندرہ کلومیٹر کی دوری پر ہے اور نیٹ ورک کے مسائل اور زمینی راستہ دشوار گزار ہونے کی وجہ سے وہاں ایمولینس کی رسائی ممکن نہیں۔

    طبّی حکام کا کہنا ہے کہ ریلوے حکام اور حملے کی زد میں آنے والے علاقے میں موجود طبی مراکز کے عملے سے رابطے میں ہیں مگر ابھی کوئی مزید اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

  16. سبی میں جعفر ایکسپریس پر حملہ: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    • بلوچستان کے ضلع سبّی میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا ہے۔
    • ریلوے حکام کے مطابق یہ ٹرین نو بوگیوں پر مشتمل تھی اور اس میں 400 سے زیادہ مسافر سوار ہیں۔
    • بلوچستان حکومت کے ترجمان کے مطابق ٹرین پر شدید فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔
    • کوئٹہ سے درہ بولان کی جانب ہیلی کاپٹرز کی پروازیں جا ری ہیں اور ممکنہ طور پر دشوار گزار علاقے کا جائزہ لیا جائے گا۔
    • بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
    • ریلوے ترجمان کے مطابق جس مقام پر ٹرین کو روکا گیا ہے وہ مرکزی سڑک سے 24 کلومیٹر دور ایک سرنگ کے پاس واقع ہے جہاں موبائل اور ٹیلی فون سروس کام نہیں کر رہی۔
    • کوئٹہ میں ریلویز کنٹرولر کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے نتیجے میں ٹرین کا ڈرائیور زخمی ہے۔
    • سول ہسپتال سبی میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
  17. جعفر ایکسپریس پر کس جگہ حملہ ہوا؟

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بولان کے علاقے میں جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوا ہے، بولان دراصل بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور سبی کے درمیان سو کلومیٹر سے زیادہ کا دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے۔

    اس علاقے میں کوئٹہ کے جنوب مشرق میں کولپور سے سبی تک ریلوے لائن پر 17 سرنگیں ہیں۔ ریلوے حکام کے مطابق دشوار گزار علاقہ ہونے کی وجہ سے بولان کے علاقے میں ٹرین کی رفتار معمول سے بہت کم ہوتی ہے۔

    بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے بولان میں اب تک ٹرینوں اور ریلوے ٹریک پر متعدد حملے ہوئے ہیں۔ ماضی میں اس علاقے میں ریلوے ٹریک پر دور سے راکٹوں یا ریموٹ کنٹرولڈ بموں کے ذریعے حملے ہوتے رہے ہیں۔

    تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے ٹرین کو روک دیا ہے اور یرغمال بنا دیا ہے۔ ماضی میں اس علاقے میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی قبول کرتی رہی ہے۔

  18. سبّی میں مسلح افراد کا جعفر ایکسپریس پر حملہ، ڈرائیور زخمی: ریلوے حکام, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    Jaffar Railways

    ،تصویر کا ذریعہMansoor Akbar Kundi

    ،تصویر کا کیپشن(فائل فوٹو) بلوچستان میں ایک ٹرین کا منظر

    بلوچستان کے ضلع سبّی میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ڈرائیور زخمی ہو گیا ہے۔

    بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر گڈالر اور پیرو کنری کے درمیان شدید فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

    میڈیا کو جاری بیان کے مطابق حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ سبّی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور ایمبولینسز جائے وقوعہ کی جانب روانہ کردی گئی ہیں۔

    کوئٹہ میں ریلویز کنٹرول کے سینیئر اہلکار محمد شریف نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد کے حملے کے باعث سبی کے قریب ٹرین رکی ہوئی ہے۔

    چار سو مسافر سوار

    ان کا کہنا تھا ہمیں اس وقت جو اطلاع ملی ہے اس کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں ٹرین کا ڈرائیور زخمی ہے۔

    ریلویز کنٹرول کے سینیئر اہلکار محمد شریف نے بتایا کہ ٹرین صبح نو بجے کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

    ریلوے ترجمان کے مطابق جعفر ایکسپریس ٹرین میں چار سو سے زیادہ مسافر سوار ہیں اور مجموعی طور پر نو بوگیاں ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس میں ز یادہ تر سرکاری ملازمین سوار ہیں اور ڈرائیور زخمی ہوچکا ہے۔

    ’ڈرائیور اس وقت زخمی ہوا جب ٹرین کو یرغمال بنانے کی کوشش کی جارہی تھی اور ڈرائیور ٹرین کو لے جانے کی کوشش کررہا تھا۔‘

    ’واقعہ دہشت گردی کا شاخسانہ ہو سکتا ہے‘

    ضلع کچھی میں ایک سینئر پولیس اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ ضلع سبی میں ٹنل نمبر آٹھ کے قریب ہوا ہے جس کہ وجہ سے ٹرین اس علاقے میں رکی ہوئی ہے۔

    حکومتی ترجمان شاہد رند کا مزید کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز مذکورہ علاقے کی جانب روانہ ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ دہشت گردی کا شاخسانہ ہو سکتا ہے، تحقیقات جاری ہیں۔

    علاقے میں نیٹ ورک نہیں اور رسائی مشکل ہے

    حکومتی ترجمان کے مطابق پہاڑی اور دشوار گزار علاقہ ہونے کے باعث جائے وقوعہ تک رسائی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ محکمہ ریلوے کی جانب سے امدادی ٹرین جائے وقوعہ پر روانہ کردی گئی ہے۔

    ریلوے ترجمان کے مطابق جس مقام پر ٹرین کو روکا گیا ہے وہاں پر موبائیل اور ٹیلی فون سگنل کام نہیں کررہے ہیں۔ ٹرین کو روڈ سے 24 کلو میٹر دور سرنگ میں روکا گیا ہے اور ریلوے ٹریک کو تباہ کیا گیا ہے۔

    کوئٹہ میں ریلویز کے سیکورٹی آفیسر ضیا کاکڑ نے بتایا کہ چونکہ علاقے میں نیٹ ورک کا مسئلہ ہے اس لیے ٹرین کے عملے میں کسی سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔

  19. ’بظاہر یہ یوکرین کی جانب سے ماسکو پر کیا گیا سب سے بڑا ڈرون حملہ ہے‘, سٹیو روزنبرگ، ایڈیٹر روس

    روس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنبظاہر ایسا لگتا ہے کہ روس، یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد یہ یوکرین کی جانب سے ماسکو اور اس کے اطراف میں کیا جانے والا سب سے بڑا ڈرون حملہ ہے۔

    بظاہر ایسا لگتا ہے کہ روس، یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد یہ یوکرین کی جانب سے ماسکو اور اس کے اطراف میں کیا جانے والا سب سے بڑا ڈرون حملہ ہے۔ اس حملے میں درجنوں ڈرون داغے گئے ہیں جن میں سے چند نے کچھ رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ماسکو کے گورنر کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں اب تک ایک شخص ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔ کثیر منزلہ رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ ایک کار پارکنگ کے ایریا میں آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔

    اس صورتحال کے باعث ماسکو کے چار ایئرپورٹس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    ماسکو کے میئر کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس کے محکمہ فضائی دفاع نے ماسکو پہنچنے والے 60 سے زیادہ ڈرونز کو فضا میں ہی مار گرایا ہے۔

    ماسکو میں رات گئے ہونے والا یہ حملہ یوکرین اور امریکی حکام کے درمیان سعودی عرب میں طے شدہ مذاکرات سے چند گھنٹے قبل ہوا ہے۔

    یاد رہے کہ سعودی عرب کی ثالثی میں دونوں ممالک جنگ بندی پر بات کریں گے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں۔

    گذشتہ ماہ وائٹ ہاؤس میں صدر زیلنسکی اور صدر ٹرمپ کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس کے بعد امریکا نے یوکرین کے ساتھ انٹیلیجنس شیئرنگ روکنے کے علاوہ اس کی فوجی امداد معطل کر دی تھی۔

  20. افغانستان میں موجود شدت پسند تنظیمیں ٹی ٹی پی کی سرپرستی میں کام کر رہی ہیں، اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر کا دعویٰ

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی القاعدہ کے ساتھ طویل وابستگی اسے عالمی دہشت گردی کے خطرے میں تبدیل کر سکتی ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی القاعدہ کے ساتھ طویل وابستگی اسے عالمی دہشت گردی کے خطرے میں تبدیل کر سکتی ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند تنظیمیں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرپرستی میں کام کر رہی ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، سلامتی کونسل میں افغانستان کے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منیر اکرم نے کہا کہ ان تنظیموں کا مقصد خطے کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ ٹی ٹی پی کی القاعدہ کے ساتھ طویل وابستگی اسے عالمی دہشت گردی کے خطرے میں تبدیل کر سکتی ہے۔

    پاکستانی سفیر نے دعویٰ کیا کہ ٹی ٹی پی سرحدی محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان پر حملے کرتی ہے جن میں پاکستانی فوجی، شہری اور ریاستی ادارے نشانہ بن رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد ہیں کہ کابل حکام نہ صرف ان حملوں کی اجازت دے رہے ہیں بلکہ ان کی سرپرستی بھی کر رہے ہیں۔

    منیر اکرم نے دعویٰ کیا کہ ٹی ٹی پی کے علاوہ، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ بھی افغانستان میں موجود دیگر شدت پسند گروہوں کے ساتھ مل کر سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ ’افغانستان کی صورتحال اور اس کے بین الاقوامی امن و سلامتی پر اثرات‘ میں دہشت گردی کے تذکرے کے فقدان پر شدید حیرت اور مایوسی کا بھی اظہار کیا۔