یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے عوام کے مطالبات کو قانون کے مطابق پورا کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’تمام سٹیک ہولڈرز تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘ مظفر آباد سے آئے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ کشمیر کے مسائل بات چیت اور باہمی مشاورت سے حل کریں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
افغانستان کی سرحد سے متصل بلوچستان کے شہر چمن میں صوبائی وزیرداخلہ میرضیا اللہ لانگو اور سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کی قیادت میں ڈپٹی کشمنر کمپلیکس میں قبائلی جرگہ جاری ہے۔
قبائلی، سیاسی، کاروباری مذہبی اور سماجی عمائدین شریک ہیں۔
اس جرگے میں چمن باڈر، احتجاج، سکیورٹی اور عوامی مسائل سے متعلق صورتحال پرتفصیلی غور ہوا۔
وزیرداخلہ بلوچستان میرضیا اللہ لانگو کا جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’چمن کے محب وطن ہمارے ہی لوگ ہیں، تمام مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔
ان کے مطابق ’حکومت کو یہاں کے لوگوں کے مسائل کااحساس ہے اس لیے حکومتی وفد چمن آیا ہے۔‘
ضیااللہ لانگو نے کہا کہ ’ملکی معیشت میں چمن کے عوام کا اہم کردارہے۔‘
انھوں نے کہا کہ حکومت نے روز اول سے تمام جائز مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ حکومت آئین میں رہتے ہوئے فیصلے کرتی ہے جس پر چمن کے عوام کا تعاون درکار ہے۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ ’حکومت کو آپ لوگوں کے تکالیف اور مشکلات کا احساس ہے جس کے حل کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKhawaja Kabeer
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے عوام کے مطالبات کو قانون کے مطابق پورا کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’تمام سٹیک ہولڈرز تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘
صدر آصف علی زرداری سے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ممبران کے وفد کی ملاقات ہوئی جس میں انھوں نے خطے میں جاری احتجاج اور عوام کے مطالبات سے انھیں آگاہ کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ کشمیر کے مسائل بات چیت اور باہمی مشاورت سے حل کریں۔
آصف زرداری نے وفد سے کہا کہ ’سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو ذمہ داری سے کام لینا چاہیے تاکہ دشمن عناصر حالات کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔‘
صدر مملکت نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ’موجودہ صورتحال کا حل نکالنے کے لیے آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی شکایات پر وزیر اعظم پاکستان سے بات کروں گا۔‘
آصف زرداری نے کہا کہ ’صحت، تعلیم، سیاحت اور انفراسٹرکچر کی ترقی سمیت آزاد جموں و کشمیر کی سماجی و اقتصادی ترقی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔‘
آصف زرداری نے دور دراز علاقوں کو ملک کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور پولیس اہلکار کی ہلاکت پر تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری پُرتشدد مظاہروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بدقسمتی سے افراتفری اور اختلافی صورتحال میں بھی ہمیشہ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرتے ہیں۔‘
اتوار کو سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’بحث و مباحثہ، گفت و شنید اور پرُامن احتجاج جمہوریت کی خوبصورتی ہے، تاہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے عمل کو بالکل برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
خیال رہے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والا احتجاج پرتشدد رخ اختیار کر گیا ہے اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان دو دن تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی جبکہ ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا ہے۔
اس وقت کئی شہروں سے احتجاجی قافلے دار الحکومت مظفرآباد کی جانب رواں ہے اور مظفرآباد سمیت کشمیر کے متعدد شہروں میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر 11 مئی کو احتجاج کیا جانا تھا، تاہم اس سے پہلے ہی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے وفاقی حکومت سے ایف سی اور پنجاب کانسٹیبلری کے 1200 اہلکار طلب کیے تھے جس کا مقصد بظاہر انسٹالیشنز، ہائیڈل پراجیکٹس اور اسمبلی کی حفاظت کرنا تھا۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’میں آزاد جموں کشمیر کے وزیرِ اعظم سے بات کر چکا ہوں اور پاکستان مسلم لیگ ن کے عہدیداران کو ہدایت دے چکا ہوں کہ وہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے بات کریں۔‘
’میں تمام فریقین سے درخواست کروں گا کہ وہ مطالبات کو پورا کرنے کے لیے پُرامن راستہ اختیار کریں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے گوادر میں باڑ لگا کر شہری علاقے کو بند کرنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔
گوادر میں رواں سال مارچ کے مہینے میں گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر حملے کے بعد سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک بار پھر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گوادر میں باڑ لگانے کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گوادر شہر کے گرد باڑ لگانے کی افواہوں میں صداقت نہیں اور سابق رکن صوبائی اسمبلی اور ایک تنظیم کی جانب سے کیا گیا دعویٰ بے بنیاد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’گوادر اور مکران کے بیشتر علاقوں سے متعلق حکومتی فیصلے منتخب نمائندوں کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ گوادر کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں میں مولانا ہدایت الرحمٰن بطور ایم پی اے میٹنگز کا حصہ رہے ہیں اور انہیں اعتماد میں لیا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ گوادر میں باڑ لگانے کے منصوبے کا باقاعدہ آغاز سنہ 2021 میں گوادر میں پی سی ہوٹل پر ہونے والے حملے اور اس کے بعد ہونے والے دیگر دہشتگرد حملوں کی وجہ سے کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کے تحت گوادر کے بعض علاقوں میں باڑ لگانے کے لیے کھمبے بھی لگائے گئے تھے لیکن عوامی سطح پر اس کی مخالفت اور بلوچستان ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر ہونے کے بعد حکومت نے اس منصوبے کو ترک کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہSardar Saeed Iqbal
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرین اور پولیس میں مبینہ تصادم سے ایک اہلکار کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اس خطے کی حکومت کے ترجمان عبدالماجد خان نے دعویٰ کیا ہے کہ میرپور اسلام گڑھ میں مظاہرین کی فائرنگ سے ایک پولیس انسپکٹر عدنان قریشی چھاتی پر گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کی لاش کو ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرپور لایا گیا ہے۔
ان کے مطابق عدنان قریشی عوام کے جان ومال کی حفاظت کررہے تھے۔ ترجمان نے کہا کہ ان مظاہرین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مظفر آباد میں بھی کچھ مقامات پر چھوٹی موٹی جھڑپیں جاری ہیں، پولیس شر پسندوں پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAbdul Waheed
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر لانگ مارچ اور مظفر آباد دھرنا کے موقع پرحکومت نے مظاہرین کو روکنے کے لیے مظفر آباد کے داخلے اور خارجی راستے بند کرنے کے علاوہ تمام اضلاع کے بھی داخلی اور خارجی راستوں کو بند کردیا ہے۔
کشمیر کے کئی علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کی اطلاعات ہیں۔
یہ کمیٹی بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگے داموں آٹے کی فروخت کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔
کشمیر کے داالحکومت مظفر آباد، ڈھوڈیال، کوٹلی اور دیگر علاقوں میں گذشتہ دو روز سے نظام زندگی معطل، شیلٹر او رپہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔
مظاہرین کی قیادت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے پورے کشمیر میں کئی لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے مگر اس کے باوجود عوام بڑی تعداد میں باہر نکل چکے ہیں اور اپنے مطالبات کے حق تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
کشمیر حکومت کے ترجمان اور ممبر اسمبلی عبدالماجد خان نے مظاہرین کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ راستے بند نہیں ہیں اس وقت کشمیر اور پاکستان کے داخلی اور خارجی راستے کھلے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پر امن احتجاج ہر کسی کا حق ہے مگر امن و امان تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ گذشتہ رات مظفر آباد میں گرڈ سٹیشن پر کچھ شر پسندوں نے حملہ کرکے قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ ڈھڈیال میں پولیس اور اسٹنٹ کمشنر پر حملہ ہوا تھا جس کے بعد پولیس نے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کی تھی۔
اس وقت کوٹلی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عوام کوٹلی کے مرکزی چوک میں اکھٹے ہیں اور وہ میرپور سے آنے والے قافلوں کا انتظار کررہے ہیں، جس کے بعد یہ قافلے مظفر آباد کی جانب روانہ ہوگئے۔
میرپور کی کوٹلی طرف روانہ ہونے والے قافلے کے ایک رہنما سعد انصاری کا کہنا تھا کہ میرپور کے داخلی اور خارجی راستے انتظامیہ اور پولیس نے بند کردیے ہیں مگر یہ بات ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتی ہے اور نہ روک سکتی ہے، ہم نکل پڑے ہیں اور ہمارے پاس بھاری مشنیری بھی موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہKhawaja Kabeer
انھوں نے کہا کہ ’ہم راستوں کو کھولتے ہوئے کوٹلی اور پھر مظفر آباد پہنچیں گے۔ کوٹلی سے خاتون رہنما شبیلہ قاسم کا کہنا تھا کہ ہم میدان میں نکل چکے ہیں۔ اس حکومت نے گیارہ مئی سے پہلے ہی گرفتاریاں شروع کردیں تھیں۔ میرے گھر پر میرے خاوند کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے گئے تھے، بچوں کو ہراساں کیا گیا مگر ہم ڈرے نہیں تھے بلکہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم گرفتاری نہیں دیں گے اور گیارہ مئی کو مظفر آباد میں دھرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم مظفر آباد جانے کے لیے تیار ہیں۔ راستے میں کسی بھی رکاوٹ کو برداشت نہیں کریں گے۔
ڈھڈیال سے صحافی حافظ مقصود کے مطابق ڈھڈیال میں بھی گذشتہ دو روز سے ہڑتال جاری ہے اور دو روز قبل پولیس اور مظاہرین کے درمیاں تصادم بھی ہوا تھا، جس کے بعد حالات سنگین ہو گئے تھے۔
حافظ مقصود کے مطابق آج ڈھڈیال میں لوگ صبح ہی باہر نکل آئے تھے۔ اس وقت پر ایکشن کمیٹی کے رہنما خواجہ مہران جو کہ گرفتاری کی وجہ سے روپوش تھے وہ بھی اپنی والدہ کے ہمراہ منظر عام پر آ گئے ہیں اور انھوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور سب سے کہا کہ امن کو قائم رکھا جائے اور اگر انتظامیہ بند راستے نہیں کھولے گی تو ڈھڈیال شہر میں دھرنا دیا جائے گا۔
حافظ مقصود کا کہنا تھا کہ اس کے بعد مظاہرین نے خیمے لگا کر دھرنا دے دیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ جب تک راستے نہیں کھلیں گے دھرنا ختم نہیں ہوگا اور رود کو بھی کھولا نہیں جائے گا۔
کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے صحافی طارق نقاش کے مطابق مظفر آباد میں دو روز سے نظام زندگی معطل ہے۔
دوسرے روز بھی شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ بہت کم لوگ سڑکوں پر موجود ہیں۔
اس وقت پولیس کی بھاری نفری مظفر آباد کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔ مظفر آباد کے تمام داخلی اور خارجی راستے انتظامیہ اور پولیس نے بند کردیے ہیں۔
طارق نقاش کے مطابق گذشتہ روز پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا تھا جس میں سارا دن پولیس شیلنگ کرتی رہی جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ آج ایک دو مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیاں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAbdul Waheed
مظفر آباد سے ایکشن کمیٹی کے ممبر امجد خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ موجودہ احتجاج کا اعلان اپنے گذشتہ احتجاج اور دھرنا جو کہ فروری میں ہوا تھا کا تسلسل تھا۔
اس وقت جب احتجاج اور دھرنا ختم کیا گیا تھا تو اس وقت ہی کہہ دیا تھا کہ اگر ہمارے دس نکاتی مطالبات جن میں بجلی کی قیمت میں کمی، آٹا پر سبسڈی، پراپرٹی پر ٹیکس، روزگار کے مواقع، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی جیسے مطالبات منظور نہ ہوئے تو گیارہ مئی کو مظفر آباد میں احتجاج او ردھرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوئے۔ حکومت صرف مزاکرات کرتی رہی مطالبہ کوئی تسلیم نہیں کیا جس کے بعد گیارہ مئی کے دھرنے پر عمل در آمد کا اعلان کیا گیا۔
امجد خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ حکومت بوکھلائی ہوئی تھی اس نے گیارہ مئی سے پہلے ہی گرفتاریاں شروع کردیں، جس کی وجہ سے لوگ مزاحمت پر اتر آئے اور انھوں نے احتجاج شروع کردیا۔
ان کے مطابق حکومت نے اس احتجاج کو دبانے کے لیے تشدد کا سہارا لیا مگر لوگ ڈٹے رہے تو انھوں نے اب پورے کشمیر کو پولیس کالونی میں تبدیل کردیا ہے۔
امجد خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اس وقت کشمیر میں مختلف مقامات پر بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی ہیں۔ لوگ ان رکاوٹوں کو عبور کریں گے اور اگر عبور نہیں کرسکے تو وہاں ہی پر دھرنا ہوگا۔ مگر احتجاج ختم نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ مظفر آباد میں لوگ تیار ہیں۔ قافلے پہنچنے پر اسمبلی کے سامنے دھرنا ہوگا اور یہ پر امن ہوگا۔ حکومت فی الفور تمام رکاوٹیں ختم کرے۔
عبدالماجد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ بے بنیاد احتجاج ہے۔ حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کے ساتھ مزاکرات کیے، ان میں جو مطالبات منظور ہوسکتے ہیں، منظور کیے۔ مگر اب یہ لوگ خود معاہدے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ان کے مطابق اب یہ مظاہرین مزاکرات پر بھی راضی نہیں ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبے کے گورنر کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انھوں نے دوبارہ سیاسی بیانات دیے تو وہ گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھول دیں گے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’آپ پرہیز کریں۔ آپ کی گاڑی کا تیل بھی میرے بجٹ سے جاتا ہے۔ آپ کی گاڑی کا تیل تک نہیں ہوگا۔ گورنر ہاؤس آپ کی ملکیت نہیں ہے۔ ایسا نہ ہو میں اسے عوام کے کھول دوں اور اعلان کر دوں کہ یہ عوام کی پراپرٹی ہے۔‘
’میں اسے عجائب گھر بنا کر آپ کو دو کمروں میں شفٹ کر دوں گا۔ اپنی اوقات میں رہو، تم گورنر ہو سیاست سے تمھارا کام نہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’میں مینڈیٹ کے ساتھ آیا ہوں، اگر دوبارہ ایسا بیان دیا تو کہوں گا اس کو ہٹاؤ۔ اگر میں کھڑا ہوگیا تو جس ایک خط پر تم نوٹیفائی ہوئے ہو اسی پر ڈی نوٹیفائی ہوجاؤ گے۔‘
’یہ تمھاری حیثیت ہے۔ ایک خط۔ تمھارے پاس مینڈیٹ نہیں ہے۔‘
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وہ ایک آئینی عہدے پر ہیں اور اگر گورنر ہاؤس پر قبضے کی کوشش کی گئی تو وہ انھیں سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضال مروت کو ’غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے‘ پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے پارٹی موقف کی خلاف ورزی نہ کرنے کی واضح ہدایات کے باوجود شیر افضل مروت نے ’غیر ذمہ دارانہ بیانات‘ جاری کیے جس سے پارٹی کی ساکھ اور مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔
پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو جواب جمع کروانے کے لیے تین دن کی مہلت دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے صدر آصف علی زرداری کو پارک لین اور توشہ خانہ ریفرنس میں صدارتی استثنیٰ دے دی ہے۔
احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے صدارتی استثنیٰ کی درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے صدر کے خلاف کارروائی روک دی ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ جب تک آصف علی زرداری صدر ہیں ان کے خلاف کیسز کی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پراسکیوشن کی جانب سے بھی ان درخواستوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا اور نہ ہی مخالفت کی گئی ہے۔
آئین کے آرٹیکل 248 کی شق (2) کے تحت صدر کے خلاف کیس دائر ہو ہوسکتا اور نہ کوئی کارروائی جاری رہ سکتی ہے۔
گذشتہ سال سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے قانون میں کی گئی ترامیم کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد، نیب نے آصف علی زرداری، نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی اور دیگر کے خلاف کرپشن اور توشہ خانہ ریفرنس دوبارہ کھول دیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کا اجلاس 13 مئی سہ پہر 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا ہے۔
اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 کی شق (1) کے تحت تفویض شدہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے طلب کیا گیا ہے۔
یہ موجودہ قومی اسمبلی کا پانچواں اجلاس ہوگا۔

بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں جن سرکاری دفاتر اور بینکوں کو دھرنے کے شرکا نے تالا لگایا تھا ان کو تاحال نہیں کھولا جاسکا۔
دھرنے کے شرکا نے دفاتر اور بینکوں کو تالا لگانے کا اقدام چمن شہر میں گذشتہ سینیچر کے روز فائرنگ کے اس واقعے کے بعد کیا تھا، جس میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جن دفاتر کو تالے لگائے گئے ان میں کسٹمز آفس، پاسپورٹ آفس، نادرا آفس اور بینکوں کے علاوہ بعض دیگر دفاتر شامل ہیں جبکہ اس سے قبل چمن پریس کلب کو بھی تالا لگایا گیا تھا۔
فون پر رابطہ کرنے پر چمن پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ تاحال ان دفاتر کو نہیں کھولا جاسکا جن کو دھرنے کے شرکا نے تالا لگایا تھا۔
دوسری جانب فائرنگ کے واقعے کے بعد کوئٹہ اور چمن کے درمیان شاہراہ کو بھی مظاہرین نے بڑی گاڑیوں کے لیے بند کیا ہے۔

چمن سے افغانستان آمد ورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف گذشتہ سال اکتوبر سے چمن میں جو دھرنا دیا جا رہا ہے وہ نہ صرف چمن کی تاریخ کا طویل بلکہ بڑا دھرنا ہے۔
دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی نے بتایا کہ چمن کے لوگ یہ طویل دھرنا دینے پر اس لیے مجبور ہیں کہ پاسپورٹ کی شرط سے چمن کے ہزاروں لوگ معاش اور روزگار سے محروم ہوئے۔
ان کا کہنا تھا چمن کے عوام کی جائز مطالبے کو تسلیم کرنے کی بجائے گذشتہ سینیچر کو پر امن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد دفاتر اور بینکوں کو تالا لگا دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک چمن سے دوبارہ قومی شناختی کارڈ پر لوگوں کی آمد ورفت کو بحال نہیں کیا جاتا اس وقت تک دھرنا جاری رہے گا۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ آپ پاسپورٹ کے بغیر سفر کریں۔
انھوں نے کہا کہ چمن بارڈر سے پاسپورٹ کی شرط کے بعد وہاں پاسپورٹ آفس بنایا گیا اور نادرا آفس اور پاسپورٹ آفس میں عملے اور سہولیات کو بڑھایا گیا تا کہ لوگوں کے پاسپورٹ جلدی بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بالآخر اس ریاست کو ایک سافٹ ریاست سے ایک ہارڈ ریاست بنانا پڑے گا اور دنیا میں جو پریکٹسز دوسرے ممالک اختیار کررہے ہیں وہ ہمیں بھی اختیار کرنے پڑیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے فوج کی طرف سے معافی کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس غیرآئینی، غیرقانونی، اختیارات سے تجاوز اور تضادات کا مجموعہ اور افواجِ پاکستان کی ساکھ اور آئینی کردار کے لیے نہایت منفی اثرات کی حامل ہے۔‘
پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق ’ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے کروڑوں پاکستانیوں کی نمائندہ سیاسی جماعت کو ’انتشاری گروہ‘ قرار دے کر ’معافی‘ کا مطالبہ بھی متفقہ طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔‘
پی ٹی آئی کے اعلامیے کے مطابق ’پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کی جانب سے 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی اور کروڑوں پاکستانیوں کی نمائندہ جماعت کے خلاف ریاستی وسائل سے برپا کیا گیا جھوٹا، زہریلا، گمراہ کن اور بے بنیاد پراپیگنڈہ مسترد کرتی ہے۔‘
اعلامیے کے مطابق ’پی ٹی آئی نے تسلسل سے 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی مذمت کی اور جلاؤ گھیراؤ، نہتے شہریوں کے بہیمانہ قتل سمیت پرتشدد واقعات کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے اعلیٰ سطح عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔‘
تحریک انصاف نے سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کے بیان کی روشنی میں آٹھ فروری کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اسلامی جمیعت طلبہ کے کارکنان نے اسرائیل کی طرف سے غزہ جنگ کے خلاف احتجاج کیا۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس احتجاج میں طلبہ تنطیم کے ساتھ جماعت اسلامی کے کارکنان سمیت تین سو سے ساڑھے تین سو مظاہرین نے ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع امریکی سفارت خانے کے سامنے جا کر احتجاجی مظاہرے کی کوشش کی تو وہاں موجود اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے ان مظاہرین کو ڈپلومیٹک انکیلو کی طرف پیشقدمی سے روکا۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا۔
سینیٹر مشتاق احمد خان بھی اس احتجاج میں شریک ہیں۔ سٹیج سے ان طلبہ کو ڈپلومیٹک انکلیو جانے سے منع کرنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کے کارکنان اس وقت ایمبیسی روڈ پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے ریڈ زون میں داخلے کی کوشش کی ہے۔ امن و امان قائم رکھنے کے لیے اسلام آباد پولیس الرٹ ہے۔ ریڈ زون میں مظاہرین کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ترجمان کے مطابق لا اینڈ آرڈر کی تمام صورتحال کی نگرانی ڈی آئی جی آپریشنز براہ راست کر رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے رینجرز بھی طلب کر لی گئی ہے۔
ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد ایران نے 28 پاکستانی قیدیوں کی سزا معاف کر کے انھیں رہا کر کے پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔
ایران کے مطابق ان قیدیوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں واقع ایرانی سفارتخانے نے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے اپنے بیان میں اپنے صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہPTV
لاہور میں منعقدہ ایک تقریب میں سردار سلیم حیدر نے گورنر پنجاب کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے سردار سلیم حیدر سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔
اس تقریب میں پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف بھی موجود تھیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ ’ہمارے صوبے کے بقایا جات واپس کریں، اپنے لوگوں کو ان کا حق دینا چاہتے ہیں۔‘
علی امین گنڈا پو رنے کہا کہ وفاق ہمارے صوبے کے واجب الادا فنڈز فوری فراہم کرے،میں دھمکی نہیں وارننگ دیتا ہوں وارننگ اور دھمکی میں فرق ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’خیبرپختونخوا کے لوگ لوڈ شیڈنگ برداشت نہیں کریں گے، ہم خیرات نہیں مانگ رہے، ہمیں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے۔‘
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ 120 ارب کا خسارہ ہے، یہ لوگ اقتدار میں رہے سسٹم کیوں ٹھیک نہیں کیا؟ بجلی اور گیس کے بل بہت زیادہ آ رہے ہیں، ہم خیرات نہیں مانگ رہے اپنا حق مانگ رہے ہیں۔
خبیر پختونخوا میں بھی بجلی چوری ہوتی ہوگی لیکن عوام کو چور نہ کہیں، میرے صوبے کے عوام کو چور نہ کہیں، ایسی گفتگو برداشت نہیں کروں گا، خیبرپختونخوا کو بجلی پوری دی جائے اس کے بعد چوری ہوتو بات کریں، اس وقت ہمیں توانائی کے مسائل کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ صوبے میں سستی توانائی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’میرے لوگوں کو حق نہ ملا تو پھر ایسے اقدام پر مجبور ہوں گا کہ پھر نہ کہنا کہ غدار ہے۔‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’جو کچھ ہمارے ساتھ کیا گیا وہ ناقابل بیان ہے، آئین شکنی تک کی گئی، اس کے باوجود سب کو معاف کیا کہ آگے بڑھو۔‘
انھوں نے کہا کہ صوبے میں میرے پوری پارٹی اور لیڈرشپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ مگر ہم اصلاح کے ساتھ آگے سب کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔ انھوں نے کا کہ اگر کوئی اصلاح کے لیے تیار نہیں ہے تو پھر سزا کے لیے تیار ہو جائے۔
انھوں نے کہا کہ ’کرپشن پر نہ صرف ملازمت سے فارغ کر دوں گا بلکہ وصول کردہ تنخواہیں بھی وصول کروں گا۔‘
لاہور کی ایک فیملی عدالت نے پنجاب کے ہوم سیکریٹری نوالامین مینگل کو ان کی آٹزم کی شکار پانچ برس کی بیٹی کے لیے ماہانہ خرچ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ اپنے عبوری فیصلے میں عدالت نے انھیں ڈیڑھ لاکھ روپے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ نورالامین مینگل ہر مہینے کی 14 تاریخ کو بیٹی کا خرچہ ڈیڑھ لاکھ روپے عدالت میں جمع کرائیں گے۔
ہوم سیکریٹری پنجاب نورالامین مینگل کے خلاف آٹزم بیماری کی شکار بیٹی اور اہلیہ کے خرچے کے کیس کی سماعت فیملی عدالت لاہور کی جج شازیہ کوثر نے کی۔
یہ درخواست ان کی بیٹی ایلیہا نور اور بیوی عنبرین سردار نے دائر کی تھی۔ درخواست گزار ماں بیٹی کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
عدالت نے نورالامین مینگل کا کم آمدن شخص ہونے کا موقف بھی مسترد کر دیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہوم سیکریٹری نورالامین مینگل عدالتی حکم کے باوجود مصالحت کے لیے پیش نہیں ہوئے۔
عدالت نے لکھا کہ ’ہوم سیکریٹری پنجاب نورالامین مینگل کا بیمار بیٹی کے کیس میں رویہ افسوسناک ہے۔ عدالت نے کہا کہ نورالامین مینگل نے گریڈ 21 کا سرکاری افسر ہونا تسلیم کیا ہے اور انھوں نے پہلی بیوی سے بچوں کا ایچی سن کالج میں زیر تعلیم ہونا بھی تسلیم کیا ہے۔
فیملی عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ بیٹی کی ماں کا مؤقف ہے کہ آٹزم بیماری کی وجہ سے بیٹی کی پرورش پر ماہانہ ساڑھے تین لاکھ اخراجات آتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسی صورتحال میں بیمار بیٹی کے ساتھ مساوی سلوک سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔
فیملی عدالت نے 30 مئی کو کیس باضابطہ ٹرائل کے لیے مختص کر دیا۔ فیملی عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئندہ سماعت پر فریقین اپنی شہادتیں پیش کریں۔
اسلام آباد کی ایک ڈسترکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے نو مئی کو احتجاجی ریلی نکالنے کے معاملے پر درج مقدمہ میں تحریک انصاف چیئرمین یرسٹر گوہر سمیت شعیب شاہین اور عامر مسعود مغل کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔
تحریک انصاف رہنماوں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ ارشد محمود جسرا نے سماعت کی جس کے دوران بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین اور عامر مغل وکلاء کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے۔
عدالت نے ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے پانچ پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کر لی۔
عدالت نے عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 21 مئی کو دلائل طلب کر لیے اور فریقین کو نوٹس جاری کرتے کیس کی سماعت 21 مئی تک ملتوی کر دی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں میں جہاں درجہ حرارت میں اچانک اضافہ ہوا ہے اس سے بالائی علاقوں میں گلیشیرز کے پھٹنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں جبکہ آج سے ملک کے چید چیدہ علاقوں میں بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں محکمہ موسمیات کے ریسرچ ڈویژن کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ 10 مئی تک علاقے میں درجہ حرارت معمول سے 3 سے 4 درجے تک زیادہ رہے گا جس سے گلیشیئر کے پگھلنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ 11 اور 12 مئی کے دوران تیز ہواؤں اور گرچ چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے اور اس سے گلگت بلتستان اور چترال کے برف سے ڈھلے پہاڑی علاقوں میں گولف یا گلیشیئر کے پھٹنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان کے مختلف علاقوں خاص طور پر صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے میدانی اور وسطی شہروں میں درجہ حرارت میں اضافہ جبکہ ہفتہ /اتوار کو تیز ہواوں اور گرج چمک کے ساتھ بعض علاقوں میں بارش کا امکان ظاہر کیے گئے ہیں۔
صوبہ پنجاب میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 10 مئی تک پنجاب میں دن کے درجہ حرارت میں 5 ڈگری اضافے کا امکان ہے۔
میدانی علاقے خاص طور پر ہیٹ ویو کی زد میں آنے کے امکانات ہیں جبکہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 10 سے 12 مئی تک گرد آلود ہوائیں، گرج چمک کے ساتھ بارش کے بھی امکانات ہیں۔
خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام ضلعی انتظامیہ کو موسمی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا گیا۔
پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو گرد آلود ہوائیں آندھی جھکڑ چلنے اورگرج چمک کے باعث کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے پیشگی نمٹنے کے لیے ہدایات جاری کر دیں ہیں۔
بارشوں کے باعث بالائی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور تیز ہواوں کے باعث کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتے سے ملک میں درجہ حرارت بڑھنے کے امکانات ہیں اور درجہ حرارت میں اضافے کے پیش نظر عوام کو دن کے اوقات میں تیز دھوپ بچنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کسان اپنی فصلوں کو پانی دینے کے معمولات اور خصوصاً گندم کی کٹائی کے علاقوں میں موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے معمولات ترتیب دیں۔