فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس: آپ ہمیں پراکسیز کے ذریعے دھمکا رہے ہیں؟ جسٹس اطہر من اللہ

گذشتہ روز فیصل واوڈا نے اپنے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’بار بار انٹیلی جنس اداروں کا نام لیا جارہا ہے، اب الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا، اب اگر کسی نے پگڑی اچھالی تو پگڑی کی فٹبال بنائیں گے اور ڈبل پگڑی اچھالیں گے۔‘ تاہم آج نیب ترامیم سے متعلق انٹرکورٹ اپیلوں کی سماعت ملتوی ہونے پر کسی کا نام لیے بغیر اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’آپ ہمیں پراکسز کے ذریعے دھمکا رہے ہیں۔‘

خلاصہ

  • نیب قوانین میں ترامیم کا کیس: سابق وزیراعظم عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں شریک
  • حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان، 15 روپے 39 پیسے کی کمی کے بعد پیٹرول 273 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے
  • حکومت مستعفیٰ ہو، انتِخابات دوبارہ ہوں اور اسٹیبلشمنٹ انتخابات سے دور رہے: مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ
  • اسلام آباد ہائی کورٹ: عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت منظور، 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں بانی تحریک انصاف عمران خان کی ضمانت منظور کر لی ہے

لائیو کوریج

  1. مصطفیٰ کمال اور عون چوہدری کی عدلیہ پر تنقید: ’ہمیں کہا جارہا ہے کہ پگڑیوں کو فٹ بال بنائیں گے‘ جسٹس اطہر من اللہ

    اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں جمعرات کے روز دو پریس کانفرنس ہوئیں جن میں سے ایک میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال اور دوسری میں استحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری نے عدلیہ پر تنقید کی۔

    پہلے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اگر دہری شہریت پر کوئی شخص رکن قومی اسمبلی نہیں بن سکتا، تو کیا تمام اداروں میں دہری شہریت کے قوانین لاگو ہونے چاہئیں؟

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ ’اب لگ یوں رہا ہے کہ عدلیہ اور فوج کے درمیان کوئی جنگ چل رہی ہے اور صرف فوج ہی نہیں بلکہ سب کے سب سکیورٹی کے اداروں کو اس میں گھسیٹا جا رہا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے کو عوامی سطح پر لائے بغیر ہی حل ہو جانا چاہیے، یہ سب کام وہ کر رہے ہیں کہ جن کا اپنا ماضی متنازع ہے۔‘

    اس کے بعد استحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں نیشنل پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دہری شہریت پر سیاستدانوں کو تو نکال باہر کیا جاتا ہے، ایک سیاسی جماعت کے رہنما کو تو گر بھیج دیا گیا، تو کیا یہ صرف سیاستدانوں کے لیے ہے؟ یہ تو سب کے لیے پھر ایک ہی قانون ہونا چاہیے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہاں پر ایسا کہا جا رہا ہے کہ اداروں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے، اگر ایسا ہے تو آپ کو کمیشن بنانا چاہیے تحقیقات کرنی چاہیے۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اس طرح کا بحران کی وجہ کون لوگ ہیں۔‘

    عون چوہدری کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ میں بھی اپنے لوگوں سے اُن کی حالت پوچھنے کی ضرورت ہے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں سینئرز کی طرح سے دھمکایا جاتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’بڑے آرام سے آپ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر آپ یہ کہ دیتے ہیں کہ ادارے کون ہوتے ہیں مداخلت کرنے والے کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ اگر یہ ادارے نہ ہوں تو ہمیں باہر سے لوگ آکر نقصان پہنچا کر آرام سے واپس چلے جائیں، اگر یہ ادارے اس مُلک میں نہ ہوں تو یہاں قانون نام کی کوئی چیز نہ ہو۔‘

    عون چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ہم سیاستدان تو اپنا احتساب کرواتے ہیں مگر یہ کام سب کے ساتھ ہونا چاہیے، ہمیں اس مُلک میں انصاف چاہیے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’جب رات میں عدالتیں کُھل سکتی ہیں اور فیصلے سُنائے جا سکتے ہیں تو جب کسی ادارے پر اُنگلی اُٹھائی جاتی ہے تو تب بھی آپ کو ویسے ہی ایکشن لیں اور ویسے ہی فیصلہ کریں۔‘

    استحکامِ پاکستان پارٹی کی عون چوہدری نے کہا کہ ’آپ کے پاس ایک ایسا کیس آتا ہے کہ انھیں تین تین دن میں ضمانت بھی دیتے ہیں اور ویڈیو لنک بھی مہیا کرتے ہیں تو یہ سب کے لیے کیوں نہیں ہو سکتا، یہاں اس مُلک میں قانون سب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’یہاں انصاف اور قانون کا نظام ایسا ہونا چاہیے کہ یہاں کوئی اس مُلک کے کسی ادارے پر اُنگلی نہ اُٹھائے۔ یہاں ہمارے مُلک کے ہر شہری کی عزت ہے اور یہاں سب کے لیے قانون یہاں برابر ہونا چاہیے۔‘

    تاہم اس جمعرات کے روز سماعت کے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے نیب ترامیم سے متعلق انٹرکورٹ اپیلوں کی سماعت ملتوی ہونے پر کسی کا نام لیے بغیر اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ہمیں پراکسز کے ذریعے دھمکا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں کہا جارہا ہے کہ پگڑیوں کو فٹ بال بنائیں گے جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہ ایسا ہو رہا ہے اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔‘

    واضح رہے کہ جمعرات کے روز ہی چیف جسٹس آف پاکستان نے فیصل واوڈا کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس پر از خود نوٹس بھی لیا ہے جس کی سماعت جمعے کے روز چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ میں جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس نعیم اختر شامل ہوں گے جو اس از خود نوٹس کی سماعت کریں گے۔

  2. فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس: آپ ہمیں پراکسیز کے ذریعے دھمکا رہے ہیں؟ جسٹس اطہر من اللہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    واوڈا

    ،تصویر کا ذریعہFile Photo

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصل واوڈا کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس پر از خود نوٹس لے لیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز فیصل واوڈا نے اپنے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’بار بار انٹیلی جنس اداروں کا نام لیا جارہا ہے، اب الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا، اب اگر کسی نے پگڑی اچھالی تو پگڑی کی فٹبال بنائیں گے اور ڈبل پگڑی اچھالیں گے۔‘

    فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس میں اس گفتگو کے بعد آج نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران بھی فیصل واڈا کی پریس کانفرنس کا ذکر ہوا تھا۔

    آج ہونے والی سماعت کے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے نیب ترامیم سے متعلق انٹرکورٹ اپیلوں کی سماعت ملتوی ہونے پر کسی کا نام لیے بغیر اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ہمیں پراکسز کے ذریعے دھمکا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں کہا جارہا ہے کہ پگڑیوں کو فٹ بال بنائیں گے جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہ ایسا ہو رہا ہے اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔‘

    سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ’ججز کو الزامات سے دور ہونا چاہیے، اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھے 15 دن ہوگئے لیکن جواب نہیں آیا، کوئی کاغذ اور ثبوت نہیں آرہا جس کی وجہ سے لوگوں میں شک پیدا ہو رہا ہے، امید ہے جلد جواب آئے گا اور جواب لیں گے۔‘

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ میں جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس نعیم اختر شامل ہوں گے جو اس از خود نوٹس کی سماعت کریں گے۔

  3. ’یوں لگ رہا ہے کہ عدلیہ اور فوج کے درمیان کوئی جنگ چل رہی ہے‘ مصطفیٰ کمال

    MQM

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اگر دہری شہریت پر کوئی شخص رکن قومی اسمبلی نہیں بن سکتا، تو کیا تمام اداروں میں دہری شہریت کے قوانین لاگو ہونے چاہئیں؟

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ ’اب لگ یوں رہا ہے کہ عدلیہ اور فوج کے درمیان کوئی جنگ چل رہی ہے اور صرف فوج ہی نہیں بلکہ سب کے سب سکیورٹی کے اداروں کو اس میں گھسیٹا جا رہا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے کو عوامی سطح پر لائے بغیر ہی حل ہو جانا چاہیے، یہ سب کام وہ کر رہے ہیں کہ جن کا اپنا ماضی متنازع ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایک جج دہری شہریت پر عوامی نمائندے کو گھر بھیج سکتا ہے تو خود اس کے لیے یہ پابندی کیوں نہیں؟ ایک غریب اور مڈل کلاس آدمی بغیر پیسہ خرچ کیے انصاف کی امید نہیں رکھ سکتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ملک میں جاری خلفشار کی وجہ سے ریاست میں کشمکش ہے، اس طرح کی سیاسی صورتحال سے ایک سیاسی کارکنان خاموش نہیں رہ سکتا ہے، عدلیہ نے نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر گھر بھیج کر ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔‘

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ’ملک میں جعلی ڈگریوں، دہری شہریت پر ایم این ایز، سینیٹرز کو گھر جاتے دیکھا ہے، عدلیہ جیسے ادارہ میں قول و فعل میں تضاد آ رہا ہے، کیا دہری شہریت والے کسی شخص کو عدالت کا جج ہونا چاہیے؟‘

  4. نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی: سیاستدان ایسے معاملات عدالتوں میں لا کر خود پارلیمان کو کمزور کرتے ہیں، جسٹس اطہر من اللہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے نیب ترامیم سے متعلق انٹر کورٹ اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر پارلیمان مضبوط ہو تو اس طرح کے معاملات وہیں پر حل کیے جاسکتے ہیں لیکن سیاستدان ایسے معاملات کو عدالتوں میں لاکر خود پارلیمان کو کمزور کرنے کی کاوشوں میں حصہ ڈال رہے ہیں۔‘

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے انٹرکورٹ اپیلوں کی سماعت کی۔ وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین نے یہ انٹرکورٹ اپلیں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی ہیں جس میں سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف سے دائر کی گئی اپیل کو منظور کرتے ہوئے نیب ارڈیننس میں کی جانے والی ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا۔

    سپریم کورٹ کا عمران خان کی درخواست کے حق میں یہ فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے آیا تھا۔

    حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے انٹر کورٹ اپیل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’نیب آرڈیننس میں ترامیم پارلیمان میں متنازع ہوا جسے پارلیمنٹ میں ہی حل کیا جانا چاہیے تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’درخواست گزار یعنی عمران خان جب وزیر اعظم تھے وہ اس ارڈیننس میں ترامیم کرسکتے تھے لیکن انھوں نے اس ضمن میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اس قانون کو چلاتے رہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پارلیمان میں ہونے والی اس قانون سازی کو ایک سازش کے تحت سپریم کورٹ میں لایا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’درخواست گزار نے ایک مرتبہ بھی اس قانون میں ترمیم کرنے کی کوشش بھی نہیں کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہی نہیں تھے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر اڈریننس کے ذریعے ہی قانون سازی کرنی ہے تو بہتر ہے کہ پارلیمنٹ کو بند کردیں۔‘

    مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ ’جب یہ بل پارلیمان سے منظور ہوا تھا تو اس وقت درخواست گزار کی جماعت یعنی پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمان میں 182 ارکان موجود تھے لیکن انھوں نے اس معاملے میں کی جانے والی قانون سازی میں حصہ نہیں لیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب پی ٹی آئی نے اس معاملے میں کی جانے والی قانون سازی میں حصہ ہی نہیں لیا تو اس جماعت کا بانی کیسے اس قانون سازی کو چیلنج کرسکتا ہے۔‘

    بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے میں تمام سوالات کے جواب درخواست گزار یعنی عمران خان سے لیں گے۔‘عدالت نے ان انٹرکورٹ اپیلوں کی سماعت غیر معینہ مدتتک کے لیے ملتوی کردی۔

  5. نیب ترامیم کیس: عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی بل کیس کی کارروائی کے دوران بذریعہ ویڈیو لنک پیش کر دیا گیا ہے۔

    جمعرات کو نیب ترامیم کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران عمران خان اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔

    ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    اس کیس کی گذشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکومت کو احکامات جاری کیے تھے کہ وہ آئندہ سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اس کیس کی کارروائی میں شامل ہونے اور اپنے دلائل دینے کے لیے درکار ضروری انتظامات کریں۔

    سپریم کورٹ نے یہ ہدایت بھی جاری کی تھی کہ عمران خان کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کے انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

    یاد رہے کہ نیب کے قانون میں 27 ترامیم سے متعلق ایک بِل گذشتہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے مئی 2022 میں منظور کیا گیا تھا تاہم صدر عارف علوی نے اس بِل پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت نے جون 2022 قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اس مسودہ قانون کی منظوری حاصل کر لی تھی۔

    اس قانون سازی کے تحت بہت سے معاملات کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان ترامیم کو قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے آغاز سے نافذ العمل سمجھا جائے گا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے نیب کے قوانین میں ان ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اپنی درخواست میں وفاق اور نیب کو فریق بنایا تھا اور اس میں کہا گیا تھا کہ نیب کے قانون کے سیکشن 2،4،5، 6،25، 26 14،15، 21، 23 میں کی جانے والی ترامیم آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9، 14، 19اے, 24, 25 کے برعکس ہیں۔

    پی ٹی آئی اور دیگر درخواستگزاروں کی استدعا پر سپریم کورٹ نے ان ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف وفاق اور صوبائی حکومتوں نے انٹرا کورٹ اپیلیں فائل کر رکھی ہیں۔

  6. سپریم کورٹ کی جانب سے کالعدم قرار دیا گیا نیب ترمیمی بِل کیا تھا؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رُکنی بینچ نیب قوانین سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    نیب کے قانون میں 27 ترامیم سے متعلق بل گذشتہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے مئی 2022 میں منظور کیا گیا تھا تاہم صدر عارف علوی نے اس بل پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت نے جون 2022 قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اس کی منظوری دی تھی۔

    اس قانون سازی کے تحت بہت سے معاملات کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا تھا اور یہ بھی قرار دیا گیا تھا کہ ان ترامیم کا اطلاق قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے آغاز سے نافذ سمجھا جائے گا۔

    قانون میں جو اہم ترمیم کی گئیں تھیں ان میں کہا گیا تھا کہ نیب 50 کروڑ سے کم مالیت کے معاملات کی تحقیقات نہیں کر سکتا اور نیب دھوکہ دہی کے کسی مقدمے کی تحقیقات بھی تبھی کر سکتا ہے جب اس کیس میں متاثرین کی تعداد 100سے زیادہ ہو۔

    نیب آرڈیننس میں یہ بھی ترمیم کی گئی تھی کہ نیب کسی بھی ملزم کا زیادہ سے زیادہ 14 دن کا ریمانڈ لے سکتا ہے تاہم بعد ازاں اس میں مزید ترمیم کرتے ہوئے اس مدت کو 30 دن تک بڑھا دیا گیا تھا۔ اس قانون کے مطابق نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکتا اور ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو بھی نیب کے دائرہ کار سے باہر نکال دیا گیا تھا۔

    بل میں کہا گیا تھا کہ اس آرڈیننس کے تحت افراد یا لین دین سے متعلق زیر التوا تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز یا کارروائیاں متعلقہ قوانین کے تحت متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں کو منتقل کی جائیں گی۔ ان ترامیم کے بعد چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت میں بھی ایک برس کی کمی کر کے اسے تین سال کر دیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ نیب کا ڈپٹی چیئرمین، چیئرمین کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بیورو کا قائم مقام چیئرمین بنے گا۔

    ایک ترمیم کے تحت احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے بھی تین سال کی مدت بھی مقرر کی گئی تھی اور عدالتوں کو ایک سال کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کا پابند بھی بنایا گیا تھا۔ ترمیمی قانون کے تحت نیب کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے۔

    تاہم اس بل کی منظوری کے خلاف تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے نیب آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے نیب کی ان ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ دو، ایک کی اکثریت سے سنایا تھا جبکہ اس بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اختلافی نوٹ بھی لکھا تھا۔

    نیب ترامیم سے کون مستفید ہوا تھا؟

    سپریم کورٹ میں اس کیس میں ہونے والی سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو نے ان ترامیم سے فائدہ حاصل کرنے والے ملزمان سے متعلق رپورٹ بھی جمع کروائی تھی جس کے مطابق سنہ 2023 میں مجموعی طور پر 22 مقدمات احتساب عدالتوں سے واپس ہوئے جبکہ ترامیم کی روشنی میں 25 مقدمات دیگر متعلقہ فورمز کو بھیج دیے گئے۔

    اسی رپورٹ کے مطابق ترامیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں متعدد سابق وزرائے اعظم سمیت ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کے کلیدی رہنما بھی شامل تھے۔

    ان ترامیم کے بعد احتساب عدالتوں نے سابق صدر آصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر ملزمان کے خلاف 50 سے زائد ریفرنس عدالتی دائرہ اختیار ختم ہونے پر نیب کو واپس کر دیے تھے۔

    جو مقدمات واپس کیے گیے ہیں ان میں آصف زرداری کے خلاف پارک لین اور منی لانڈرنگ ریفرنس، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس، سابق وزیر اعظم اور موجودہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کے چھ ریفرنس، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف یو ایس ایف فنڈ ریفرنس، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کے خلاف کڈنی ہلز ریفرنس، سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار مہتاب عباسی کے خلاف نیب ریفرنس، اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد کے خلاف لوک ورثہ میں مبینہ خرد برد کے ریفرنسز کو واپس کیا گیا ہے۔

    احتساب عدالتوں نے مضاربہ سکینڈل اور کمپنیز فراڈ کے وہ ریفرنس بھی نیب کو واپس کر دیے ہیں جن میں متاثرین اور شکایت کنندگان کی تعداد 100 سے کم تھی۔

  7. وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر آج مظفر آباد جائیں گے

    وزیراعظم شہباز شریف آج (جمعرات) ایک روزہ دورے پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد پہنچیں گے۔

    وزیراعظم ہاؤس سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس دورے کے دوران شہباز شریف کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق سے ملاقات کریں گے اور کشمیر کی کابینہ سے خطاب بھی کریں گے۔

    اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نیلم، جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا دورہ بھی کریں گے جہاں انھیں منصوبے سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ رواں ہفتے کے آغاز پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے عوامی مظاہروں کے بعد کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا جس پر وفاقی حکومت نے ان کے مطالبات کو منظور کر لیا تھا۔ ان پرتشدد مظاہروں کے دوران تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  8. نیب ترامیم کیس: سابق وزیراعظم عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیشی متوقع, اسماعیل شیخ، بی بی سی اُردو

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو آج سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی بل کیس کی کارروائی کے دوران بذریعہ ویڈیو لنک پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    اس کیس کی گذشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکومت کو احکامات جاری کیے تھے کہ وہ آئندہ سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اس کیس کی کارروائی میں شامل ہونے اور اپنے دلائل دینے کے لیے درکار ضروری انتظامات کریں۔

    سپریم کورٹ نے یہ ہدایت بھی جاری کی تھی کہ عمران خان کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کے انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ اس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رُکنی لارجر بینچ آج دن ساڑھے گیارہ بجے کرے گا۔

    یاد رہے کہ نیب کے قانون میں 27 ترامیم سے متعلق ایک بِل گذشتہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے مئی 2022 میں منظور کیا گیا تھا تاہم صدر عارف علوی نے اس بِل پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت نے جون 2022 قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اس مسودہ قانون کی منظوری حاصل کر لی تھی۔

    اس قانون سازی کے تحت بہت سے معاملات کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان ترامیم کو قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے آغاز سے نافذ العمل سمجھا جائے گا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے نیب کے قوانین میں ان ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اپنی درخواست میں وفاق اور نیب کو فریق بنایا تھا اور اس میں کہا گیا تھا کہ نیب کے قانون کے سیکشن 2،4،5، 6،25، 26 14،15، 21، 23 میں کی جانے والی ترامیم آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 9، 14، 19اے, 24, 25 کے برعکس ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    15 ستمبر 2023 کو سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے دو، ایک کی اکثریت سے نیب آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

  9. بریکنگ, حکومت کا پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے 39 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی گئی ہے اور پیٹرول کی قیمت 15 روپے فی لیٹر کم ہونے کے بعد اب 273 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے 39 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 273 روپے 10 پیسے ہو گئی ہے۔

    ادھر ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں سات روپے 88 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 274 روپے 8 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔

  10. حکومت مستعفی ہو، انتِخابات دوبارہ ہوں اور اسٹیبلشمنٹ انتخابات سے دور رہے: مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نہیں لگتا کہ یہ حکومت ڈیلیور کر سکے گی۔ انھوں نے موجودہ حکومت کے مستعفی ہونے اور انتخابات از سر نو کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ انتخابات سے دور رہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 2018 میں بھی تحریک انصاف کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی، اگر ہم اپنے پرائے والی سیاست کرتے تو آج مسلم لیگ کے ساتھ حکومت میں شریک ہوجاتے، ہمارے تعلقات بھی اچھے ہیں اور ایک لمبی جدوجہد بھی ہم نے ساتھ میں کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس ذہنیت کو ختم کرنا ہے کہ کیا ہم ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی کے بغیر کوئی تحریک نہیں چلا سکتے، کیا ہمارا الیکشن ان کی مرضی سے ہو گا،اس کے خلاف ہمیں جنگ لڑنی ہے۔‘

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’ہم نے آئین کا حلف اٹھایا ہوا ہے تو آئین کو بالادست ہونا چاہیے، آئینی اداروں کو بالادست ہونا چاہیے، یہ نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ملازم بھی ہو اور حاکم بھی ہو، بیک وقت دو چیزیں نہیں ہو سکتیں۔‘

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’میں تو نہیں سمجھتا کہ کوئی اکثریت ملک پر حکومت کررہی ہے بلکہ مسلم لیگ کی تعداد حکومت کررہی ہے۔‘

    دبئی لیکس میں نام نہ ہونے کے حوالے سے سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’میرا کبھی کسی زمانے میں کوئی نام آیا ہے، پوری تاریخ دیکھ لیجیے، اگر میں الیکشن کے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے لیے ڈی آئی خان یا ٹانک کی عدالت میں نہ جاتا تو مجھےعلم بھی نہ ہوتا کہ عدالت کا نقشہ کیا ہوتا ہے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر عوام مجھے ووٹ دیں گے اور میں اس پوزیشن میں ہوں تو میں صدر بھی بنوں گا، وزیراعظم بھی بنوں گا، وزیراعلیٰ بھی بنوں گا، وہ میری آئینی اور قانونی اساس ہو گی۔‘

  11. مسئلہ کشمیر پر چین کی مسلسل حمایت پر چین کے شکر گزار ہیں: اسحاق ڈار

    وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاک چین دوستی علاقائی اور عالمی امن واستحکام کے لیے ضروری ہے۔

    بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار نے کہا کہ چین کی طرف سے گرم جوشی پر مبنی استقبال کو سراہتا ہوں، پاک چین سٹریٹیجک مذاکرات پانچویں دور کے ایک سال بعد ہورہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاک چین دوستی علاقائی اور عالمی امن واستحکام کے لیے ضروری ہے۔’میری چینی نائب وزیراعظم سے مختلف موضوعات پر تعمیری اور مفیدبات چیت ہوئی، سی پیک،علاقائی جغرافیائی صورتحال سمیت مختلف امور پر بات چیت ہوئی ہے۔‘

    اسحاق ڈار نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر چین کی مسلسل حمایت پر چین کے شکر گزار ہیں۔ پاک چین دوستی علاقائی اور عالمی امن واستحکام کے لیے ضروری ہے۔

    اس موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ چین اور پاکستان سٹریٹیجک شراکت دار ہیں، پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں، دونوں ملکوں کی دوستی چٹان کی طرح مضبوط ہے۔

  12. کوئٹہ پریس کلب کے باہر فلسطین پر جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    کوئٹہ میں فلسطین میں اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فلسطین میں اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    کوئٹہ پریس کلب کے باہر فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ مظاہرے میں بعض شرکا کے ہاتھوں میں فلسطینی بچوں کے علامتی کفن تھے۔

    کوئٹہ میں فلسطین میں اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

    مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے فلسطین میں ایک انسانی المیہ نے جنم لیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلاامتیاز بمباری کی وجہ سے خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں فلطسطینی ہلاک ہوئے جبکہ بہت بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔

    مظاہرین نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  13. اپوزیشن اسٹیبلشمنٹ کے پاؤں پکڑ کر زبردستی مداخلت کروا رہی ہے: بلاول بھٹو

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ’اپوزیشن بات آئین کی بالا دستی کی کرتی ہے لیکن اپنی بات اسٹیبلشمنٹ سے کرتی ہے۔ اپوزیشن اسٹیبلشمنٹ کے پاؤں پکڑ کر زبردستی مداخلت کروا رہی ہے۔‘

    قومی اسمبلی کے بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں حزبِ اختلاف پر تنقید کی جس دوران اپوزیشن کی جانب سے اجلاس میں نعرے بازی اور احتجاج کیا گیا۔

    بلاول بھٹو نے اجلاس میں خطاب کے دوران الزام عائد کیا کہ ’حزبِ اختلاف بات حقیقی آزادی کی کرتی ہے لیکن پاؤں اسٹیبلشمنٹ کے پکڑتی ہے۔ اپوزیشن جانتی ہے کہ کس کے پاؤں پکڑنے ہیں اس لیے سیاستدانوں کی بات نہیں کرتی۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اگرنو مئی کے واقعات پر معافی نہیں مانگیں گے تو ان کا رونا دھونا جاری رہے گا۔ اگر وہ مذمت اور توبہ کے لیے تیار نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ قبول کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ جمہوریت میں احتجاج کا حق ہے لیکن دہشت گردی کرنا ان کا حق نہیں۔ اگر آئین کی بات کرنا ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی موجود ہے ہم سے بات کریں۔

    بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے گو ذرداری گو کے نعرے لگائے گئے جس کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

  14. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ: عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت منظور، 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہFace Book/Imran Khan

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ضمانت منظور کر لی ہے اور انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کی درخواست پر فیصلہ سنایا ہے اور انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رہائی ملنے کے باوجود وہ جیل سے رہا نہیں ہو سکیں گے کیونکہ سائفر کے مقدمے کےعلاوہ انھیں عدت کے دوران نکاح کے کیس میں بھی سزا سنائی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس درخواست پر منگل کے روز فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    اس پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان اور بشری بی بی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطل کرچکی ہے سائفر کا مقدمہ بھی حتمی مراحل ہے اور آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہونا تھی لیکن اس کو ڈی لسٹ کردیا گیا ہے۔

    190 ملین پاؤنڈ میں احتساب عدالت کی جانب سے 30 سے زائد گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں جبکہ نیب حکام کے مطابق مذید 10 گواہوں کے بیانات قلمبند ہونا ہیں۔

    عمران خان کے خلاف 190ملین پاؤنڈ کیس کیا ہے؟

    القادر ٹرسٹ کیس دراصل اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔

    پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے۔

    حکومت کا دعویٰ تھا کہ 'بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔

    جس ٹرسٹ کو یہ زمین دی گئی تھی اس کے ٹرسٹیز میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے علاوہ تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری اور بابر اعوان شامل تھے تاہم بعدازاں یہ دونوں رہنما اس ٹرسٹ سے علیحدہ ہو گئے تھے۔

    جون 2022 میں پاکستان کی اتحادی حکومت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بحریہ ٹاؤن کے ساتھ معاہدے کے بدلے اربوں روپے کی اراضی سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام منتقل کی۔

  15. بریکنگ, عمران خان لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے دو مقدمات میں بری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو،اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو مقدمات میں بری کردیا ہے۔ اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ صہیب بلال کی عدالت میں عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے دو مقدمات میں بریت کی درخواست دائر کی گئی تھیں۔

    عدالت نے عمران خان کی ان مقدمات میں بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات میں ملزم کے خلاف اعانت مجرمانہ ( جرم میں ساتھ دینا یا معاونت کرنا) کی دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا۔

    عدالت کے مطابق اس حوالے سے استغاثہ کی جانب سے ایسے شواہد پیش نہیں کیے گئے جس میں ملزم عمران خان کے خلاف جرم ثابت ہوتا ہو، اس لیے عدالت عمران خان کی جانب سے ان مقدمات میں بریت کی درخواست منظور کرتی ہے۔

    یاد رہے کہ سنہ 2022 میں تھانہ کھنہ میں درج ہونے والے ان مقدمات عمران خان پر دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام تھا۔

  16. نو مئی کے مقدمات میں نامزد شبلی فراز، راجہ بشارت، زرتاج گل، زین قریشی سمیت 20 سے زائد ملزمان کی ضمانت منظور, شہزاد ملک، بی بی سی اردو - اسلام آباد

    راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے نو مئی کے مقدمات میں شبلی فراز، راجہ بشارت، زرتاج گل، زین قریشی سمیت 20 سے زائد ملزمان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

    بدھ کے روز ہونے والی سماعت میں راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی نو مئی کے پر تشدد واقعات میں نامزد پانچ سو سے زائد ملزمان پیش ہوئے۔عدالت میں پیش ہونے والے تمام نامزد ملزمان کی حاضری لگائی گئی۔عدالت نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی اور انھیں اگلی سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

    سماعت 29 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔ عدالت کے مطابق نو مئی کے مقدمات کی آئندہ سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ہو گی۔

    اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت میں نو مئی کے مقدمات کے ملزمان پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب زرتاج گل نے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان جیل سے پاکستان کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اس لیے معافی ان سے مانگنی چاہیے۔اگر بانی پی ٹی آئی آرمی چیف کو خط لکھیں گے تو اچھی بات ہے کیونکہ عمران خان اداروں پر یقین رکھتے ہیں۔

  17. عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف مبینہ عدت کے دوران نکاح کیس کی سماعت 23 مئی تک ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کا کیس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف مبینہ عدت کے دوران نکاح کیس کی سماعت میں عدالت نے آئندہ سماعت پر خاور مانیکا کے وکیل رضوان عباسی کو ویڈیو لنک پر آنے اور تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں مبینہ طور پر عدت کے دوران نکاح کیس کی سزا کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت جج شاہ رخ ارجمند نے کی۔

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے ۔ سماعت کے آغاز پر درخواست گزار اور بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کی جانب سے معاون وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وکیل رضوان عباسی ایڈوکیٹ بیرون ملک جا رہے ہیں۔

    جس پر سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ کیس کے دوران ایک وکیل غائب ہوجاتا ہے ، عدالت اس معاملے سنجیدگی سے لے۔ ڈنمارک جا کر وکیل صاحب کہیں کہ میں نہیں آسکتا ، تو ہم کیا کریں گے ۔آپ رضوان عباسی سے بات کریں ان سے کہیں ویڈیو لنک کے ذریعے آجائیں۔

    جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیے کہ رضوان عباسی اگلے ایک دو دن میں ویڈیو لنک کے ذریعے آجائیں ، 28 مئی تک انتظار نہیں کیا جاسکتا ۔ رضوان عباسی سے رابطہ کرکے بتائیں کہ ای کورٹ کے ذریعے دلائل دیں۔

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب الجواب دلائل کے آغاز میں سپریم کورٹ کی ججمنٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے عورت کی پرائیویسی اور تکریم کو دیکھ کر فیصلہ کیا۔ عدت کے حوالے سے سپریم کورٹ نے 39 دن کا فیصلہ دیا ہوا ہے۔ عدت کے حوالے سے دیا گیا سپریم کورٹ کا فیصلہ خود سپریم کورٹ ہی تبدیل کرسکتی ہے۔

    سلمان اکرم راجہ نے حوالہ دیا کہ ایک ویڈیو انٹرویو میں خاور مانیکا کے مطابق بشریٰ بی بی ایک پاک باز خاتون ہیں۔ خاور مانیکا نے ویڈیو میں بشریٰ بی بی کو اپنی سابقہ اہلیہ کہا ہے۔ اپنے انٹرویو میں خاور مانیکا نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو کلیئر کیا تھا، اور خاور مانیکا نے اپنے انٹرویو کو عدالت کے سامنے قبول بھی کیا ہے کہ انھوں نے ایسا کہا ہے۔ خاور مانیکا کو گرفتار کیا جاتا ہے اور کیسز بنائے جاتے ہیں۔

    سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ نے دلائل میں کہا کہ پانچ سال 11 ماہ بعد خاور مانیکا کو یاد آیا کہ انھیں رجوع کرنا تھا۔ خاور مانیکا نے ٹرائل کورٹ کے سامنے بھی جھوٹ بولا اور اس عدالت پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

    سلمان اکرم راجہ نے عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید کا بیان پڑھ کر سنایا اور کہا کہ مفتی سعید نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا زبانی نکاح کرایا مگر گواہوں کے نام یاد نہیں۔

    سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ کی استدعا پر عدت میں نکاح کرنے کے حوالے سے مفتی سعید کا ویڈیو بیان عدالت کے سامنے چلایا گیا۔

    سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ عورت کی اپنی عدت کے حوالے سے گواہی حتمی ہے۔ اس ویڈیو بیان کو دکھانے کا مقصد مفتی سعید کے کردار کو سامنے لانا ہے ۔

    سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ نے طلاق دینے کے حوالے سے مختلف ججمنٹس کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی پر سیکشن سات اپلائی نہیں کرتا اور نا ہی 90 دن دورانیہ اپلائی کرتا ہے ۔

    انھوں نے عدالت کے روبرو کہا کہ اس کیس میں کوئی بھی ایسا ثبوت موجود نہیں ہے جو براہ راست بشری بی بی کو گناہ گار ثابت کر سکے۔ جو سزا دی گئی وہ اس صورت میں دی جاسکتی تھی کہ فراڈ شادی ہوتی اور ثبوت بھی موجود ہوتے

    عدالت نے کیس کی سماعت رضوان عباسی کے جواب آنے تک 23 مئی تک ملتوی کر دی۔

  18. اڈیالہ جیل میں عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی سماعت سکیورٹی وجوہات کے باعث ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    190 ملین پاؤنڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناڈیالہ جیل 1970 کی دہائی کے اواخر اور 1980 کی دہائی کے اوائل میں تعمیر کی گئی

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت سکیورٹی وجوہات کے باعث ملتوی کر دی گئی ہے۔

    بدھ کے روز عدالتی عملے کی جانب سے بتایا گیا کہ سیکورٹی وجوہات کے باعث سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔

    عمران خان کی وکلا ٹیم میں شامل خالد یوسف چودھری نے اس ضمن میں میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے اہل خانہ کی ملاقات بھی منسوخ کردی گئی ہے۔

    ان کے مطابق عدالتی عملے کی جانب سے وکلا کو آگاہ کر دیا گیا ہے تاہم عدالتی عملے کی جانب سے تاحال نئی تاریخ نہیں دی گئی۔

    اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ نے اس ضمن میں احتساب عدالت کے جج کو تحریری طور پر استدعا کی تھی کہ اس مقدمے کی سماعت ملتوی کی جائے کیونکہ صوبے کی مختلف جیلوں کو سکیورٹی تھریٹ ہے جس میں اڈیالہ جیل بھی شامل ہے۔

    احتساب عدالت کے جج کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں مجموعی طور پر 2100 قیدیوں کی گنجائش موجود ہے جبکہ اس وقت قیدیوں کی تعداد 7000 سے زائد ہے جو کہ سکیورٹی خدشات کی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

  19. سٹاک مارکیٹ 75 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گئی: مگر تاریخی تیزی کی وجوہات کیا ہیں؟, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز شروع ہونے والے کاروباری روز کے آغاز سے ہی تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور کاروبار کے پہلے ایک گھنٹے میں انڈیکس میں 500 پوائنٹس سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اس اضافے کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار 75000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا ہے۔

    سٹاک ایکسچینج میں گذشتہ کئی ہفتوں سے تیزی رجحان ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور رواں کاروباری ہفتے کے آغاز میں انڈیکس نے 74000 پوائنٹس کی سطح عبور کی تھی اور اس دوران مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے سٹاک مارکیٹ میں خریداری کا رجحان غالب رہا ہے۔

    پاکستان میں سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کے محاذ پر چند حالیہ مثبت پیش رفت سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی وجہ بنی ہیں۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف سے ایک نئے پروگرام کے لیے مذاکرات کر رہا ہے جس کے تحت پاکستان آئی ایم ایف سے آٹھ ارب ڈالر کا قرض حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔ دوسری جانب ملک میں مہنگائی میں کمی کی وجہ سے شرح سود میں بھی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    مارکیٹ تجزیہ کار محمد سہیل نے بی بی سی کو بتایا کہ مارکیٹ میں تیزی کی دیگر وجوہات کے علاوہ سب سے بڑی وجہ بین الاقوامی ادارے ’مارگن سٹینلے کیپٹل انٹرنیشنل کی جانب سے اپنے انڈیکس میں پاکستانی کمپنی کو شامل کرنا ہے۔ اس ادارے کی جانب سے نیشنل بینک آف پاکستان کو اپنے انڈیکس میں شامل کیا گیا ہے جس کا مثبت اثر پاکستان کی سٹاک ایکسچینج پر بھی پڑا جس کے بعد انڈیکس پہلی بار 75000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔

    انھوں نے کہا سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی ایک اور وجہ بیرونی سرمایہ کاری بھی ہے کیونکہ اس وقت بیرونی سرمایہ کار پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں کافی خریداری کر رہے ہیں۔