احمد فرہاد گمشدگی کیس: ’عدالت کا یہ کہنا کہ فوج کے سینیئر افسران مطمئن نہ کر پائے تو وزیرِاعظم اور کابینہ کو عدالت میں بٹھایا جائے گا، یہ عدالتوں کا مینڈیٹ نہیں‘

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میڈیا میں احمد فرہاد کی مبینہ گمشدگی کیس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جو ریمارکس رپورٹ ہوئے ہیں ان سے تکلیف ہوئی۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’جبری گمشدگیوں کے معاملے میں وزیر اعظم کو بھی طلب کیا گیا لیکن بظاہر اس سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔‘

خلاصہ

  • کرغزستان سے پروازوں کے ذریعے پاکستانی طلبہ کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ لاہور ایئر پورٹ پہنچنے والے طلبہ کو وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ریسیو کیا۔
  • وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو کرغزستان کے شہر بشکیک بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ’پاکستانی طلبہ کی وطن واپسی کے حوالے سے جائزہ لیا جائے۔‘

لائیو کوریج

  1. احمد فرہاد گمشدگی کیس: ’عدالت کا یہ کہنا کہ فوج کے سینیئر افسران مطمئن نہ کر پائے تو وزیرِاعظم اور کابینہ کو عدالت میں بٹھایا جائے گا، یہ عدالتوں کا مینڈیٹ نہیں‘

    tarrar

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ عدالت کا احمد فرہاد گمشدگی کیس میں یہ کہنا کہ افواجِ پاکستان کے سینیئر افسران مطمئن نہ کر پائے تو وزیرِ اعظم اور پوری کابینہ کو عدالت میں بٹھایا جائے گا یہ عدالتوں کا مینڈیٹ نہیں ہے۔

    پیر کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ میڈیا میں احمد فرہاد کی مبینہ گمشدگی کیس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جو ریمارکس رپورٹ ہوئے ہیں ان سے تکلیف ہوئی ہے۔

    اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے احمد فرہاد کی مبینہ گمشدگی سے متعلق دائر درخواست پر سیکریٹری دفاع کو منگل کے روز ذاتی حثیت میں پیش ہو کر رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے جبکہ سیکرٹری داخلہ کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے۔

    کارروائی کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’جبری گمشدگیوں کے معاملے میں وزیر اعظم کو بھی طلب کیا گیا لیکن بظاہر اس سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔

    انھوں نے کہا کہ صرف اس حوالے سے پیش رفت یہ ہوتی ہے ک جب وزیر اعظم کو طلب کیا جاتا ہے تو اس روز مغوی برآمد ہو جاتا ہے یا پھر گھر پہنچ جاتا ہے۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’جبری گمشدیوں کا مسئلہ آج کا نہیں ہے، پچھلی چار دہائیوں سے پاکستان کو یہ مسئلہ درپیش ہے اس کی سب سے بڑی وجہ پڑوسی ملک افغانستان میں جنگ تھی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان نے اختیارات استعمال کرنے کے اصول وضع کیے ہیں۔ انتظامیہ کا کام ہے کہ لا اینڈ آرڈر قائم رکھے اور لوگ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں اگر ان کے حقوق سلب ہوں۔

    انھوں نے کہا کہ ’جب کسی کی گمشدگی کی پٹیشن دائر ہوتی ہے تو عدالت جواب طلب کرتی ہے اور حکومت کا کام ہے کہ سنجیدگی سے اس کا جواب دے، اگر معاملہ حل نہیں ہوتا تو اس کا پچاس، ساٹھ سال سے ایک ہی قانون ہے کہ پھر پولیس کو ذمہ داری سونپی جاتی ہے اور ایف آئی آر درج ہو جاتی ہے کہ ان کو برآمد کیا جائے اور اس بارے میں تفتیش کی جائے۔‘

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا ’احمد فرہاد کی گمشدگی کے معاملے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں وضاحت کے ساتھ بتایا ہے کہ وزارت دفاع کی رپورٹ کے مطابق احمد فرہاد ان کے کسی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ’کیونکہ ایف آئی آر درج ہو چکی ہے تو پولیس کو جس طرح کی معاونت چاہیے، وفاقی حکومت مہیا کرے گی۔

    ’اس کے باوجود یہ کہنا کہ یہ مسئلہ اس طرح سے حل نہیں ہو گا، سیکریٹری آ جائیں، اگر وہ مطمئن نہ کر پائے تو افواجِ پاکستان کے سینیئر افسران آ کر کھڑے ہوں۔ اگر وہ نہیں مطمئن کر پائے تو ہم وزیر اعظم اور پوری کابینہ کو یہاں پر بٹھائیں گے، یہ عدالتون کا مینڈیٹ نہیں ہے۔‘

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 248 وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کو عدالتی کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی باتیں کرنا کہ کابینہ کا اجلاس یہاں بٹھا کر کروایا جائے گا یہ پارلیمان اور کابینہ کے آئینی کردار کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔‘

    اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ عدالتوں کا کام آئین اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہے۔ ’کیا ہی اچھا ہو کہ جو بھی حکم ہو عدالتی آرڈر کے ذریعے پاس کر دی جائے۔‘

    احمد فرہاد کی اہلیہ نے بی بی سی کو ان کی گمشدگی کے بارے میں کیا بتایا؟

    مبینہ طور پر جبری طور پر گمشدہ ہونے والے شاعر احمد فرہاد کی اہلیہ عین نقوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے شوہر کو گذشتہ دو سالوں سے سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی تھیں اور انھیں کہا جارہا تھا کہ وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے خلاف لکھنا چھوڑ دیں ورنہ ان کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔

    عین نقوی کا کہنا تھا کہ اس عرصے کے دوران ان کے شوہر کو تین ٹی وی چینلز سے نکالا گیا تھا۔ انھوں دعویٰ کیا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے وابسطہ لوگ ان ٹی وی چینلز کے مالکان پر دباو ڈالتے تھے کہ وہ احمد فرہاد کو اس بات پر قائل کریں کہ وہ ان کے بارے میں سوشل میڈیا لکھنا بند کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ان کے شوہر یہ بات نہیں مانتے تو انھیں نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا تھا۔

    فرہاد کی اہلیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ہفتہ قبل بجلی اور اّٹے کی قیمتوں کے معاملے پر ان کے شوہر نے ذمہ داران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ وہ کہتہ ہیں کہ اس کے بعد 17 مئی کو ان کے شوہر کسی کام کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے تھے اور جب وہ گھر لوٹے اور گھنٹی بجائی تو اتنے میں کچھ نامعلوم افراد وہاں پہنچ گئے اور احمد فرہاد کو زبردستی اٹھا کر لے گئے۔

    عین نقوی کا کہنا تھا کہ دو روز قبل احمد فرہاد کے موبائیل نمبر سے انھیں کسی نامعلوم شخص کی واٹس ایپ کال ائی تھی۔ کال کرنے والے نے انھیں کہا کہ اگر وہ اپنی درخواست واپس لے لیں تو ان کا شوہر اگلے دو روز میں گھر پہنچ جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ان کے انکار پر اس شخص نے کال منقطع کردی اور پھر دوبارہ رابطہ نہیں کیا۔ واضح رہے کہ احمد فرہاد کی گمشدگی کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ لوئی بھیر میں درج کیا گیا تھا۔

  2. احمد فرہاد آئی ایس آئی اور ایم آئی کی تحویل میں نہیں: وزارتِ دفاع

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے احمد فرہاد کی مبینہ طور پر گمشدگی سے متعلق دائر درخواست پر سیکرٹری دفاع کو منگل کے روز ذاتی حثیت میں پیش ہو کر رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے جبکہ سیکرٹری داخلہ کو بھی ذاتی حثیت میں طلب کیا گیا ہے۔

    عدالت نے اس مقدمے کے تفتشی افسر کو حکم دیا ہے کہ وہ آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کا بیان ریکارڈ کرے اور اس ضمن میں رپورٹ جمع کروانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

    پیر کی شام احمد فرہاد کی مبینہ طور پر جبری گمشدگی سے متعلق درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ احمد فرہاد آئی ایس آئی اور ایم آئی کے پاس نہیں ہے جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف کہتے ہیں کہ درخواست واپس لے لیں تو بندہ واپس آجائے گا اور اگر انکار کر دیں تو کہتے ہیں کہ بندہ ہمارے پاس نہیں ہے۔

    جسٹس محسن کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع کے نمائندے کے بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ معاملہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اب یہ طے کرنا ہے کہ ایجنسیاں یہ ملک چلائیں گی یا اس ملک کو قانون کے مطابق چلنا ہے‘۔

    انھوں نے کہا کہ ملک کے تھانوں کے رجسٹرڈ جبری گمشدگیوں سے بھرے پڑے ہیں اور عدالت کو یہ بتایا جائے کہ اب تک ان میں سے کتنے بازیاب ہوئے ہیں۔

    محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے معاملے میں وزّیر اعظم کو بھی طلب کیا گیا لیکن بظاہر اسے سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ انھوں نے کہا کہ صرف اس حوالے سے پیش رفت یہ ہوتی ہے ک جب وزیر اعظم کو طلب کیا جاتا ہے تو اس روز مغوی برآمد ہو جاتا ہے یا پھر گھر پہنچ جاتا ہے۔

  3. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیے گئے

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

    تنویر الیاس پر نجی شاپنگ مال کے سکیورٹی انچارج پر حملہ کرنے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔

    ملزم کے وکیل نے مقامی عدالت کے جج مرید عباس کو بتایا کہ فریقین کے درمیان راضی نامہ ہوگیا ہے جس پر عدالت نے سردار تنویر الیاس کو جوڈیشل ریمانڈ پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل بھیج دیا

    ملزم کے وکلا نے عدالت میں ضمانت کی درخواست بھی دائر کردی ہے

    سردار تنویر الیاس کو اتوار کو اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ کی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

    یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سردار تنویر الیاس 2022 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے 14ویں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔

  4. ہیٹ ویو: پنجاب میں سکول ایک ہفتے کے لیے بند، سندھ میں امتحانات ملتوی

    پاکستان کے میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافے کے بعد پنجاب میں صوبائی حکومت نے ہیٹ ویو کے خدشے کے پیشِ نظر تعلیمی اداروں کو 25 سے 31 مئی تک بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    خیال رہے کہ صوبائی وزارتِ تعلیم پہلے ہی یکم جون سے صوبے بھر میں موسمِ گرما کی سالانہ تعطیلات کا اعلان کر چکی ہے یوں اب عملی طور پر یہ تعطیلات 25 مئی سے ہی شروع ہو جائیں گی۔

    اس سے قبل پنجاب میں شدید گرمی کی وجہ سے سکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کی گئی تھی اور انھیں کم کر کے صبح سات بجے سے ساڑھے 11 بجے تک کر دیا گیا تھا۔

    پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ تعطیلات جلد کرنے کا فیصلہ والدین کی آراء اور موسم کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق طلبہ کو موسم کی شدت کے اثرات سے بچانا اولین ترجیح ہے۔

    وزیرِ تعلیم کا کہنا تھا کہ جن نجی سکولوں میں امتحانات ہو رہے ہیں ان کے علاوہ تمام سکولوں میں چھٹیاں دی جا رہی ہیں اور امتحانات لینے والے نجی سکولوں کو سکول کھلے رکھنے کی مشروط اجازت ہو گی۔

    ادھر سندھ میں وزارتِ تعلیم نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات چند دن کے لیے ملتوی کیے ہیں اور ثانوی تعلیمی بورڈ کے اعلان مطابق 21 سے 27 مئی کے درمیان میٹرک بورڈ کے امتحانات نہیں ہوں گے۔

    اب میٹرک بورڈ کے امتحانات 28 مئی سے شیڈول کے مطابق ہوں گے۔

    اس سے قبل ہیٹ ویو کے پیش نظر 22 مئی سے شروع ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات بھی 27 مئی سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

  5. اسلام آباد میں توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمے میں عمران خان و دیگر رہنما بری

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے آزادی مارچ پر اسلام آباد کے تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمات میں سابق وزیر اعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور دیگر رہنماؤں کو بری کر دیا ہے۔

    عمران خان، فیصل جاوید، علی نواز اعوان، سیف اللہ نیازی، زرتاج گل اور اسد عمر کی بریت کی درخواستوں پر جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس خان نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھہ، سردار مصروف اور آمنہ علی عدالت میں پیش ہوئے اور بریت کی درخواستوں پر دلائل دیئے۔اس موقع پر اسد عمر، سیف اللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے جبکہ فیصل جاوید، زرتاج گل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔

    وکیل نعیم پنجوتھہ کا کہنا تھا کہ عمران خان پر 109 کا الزام ہے کہ ان کی ایما پر ہوا، مقدمہ درج کرنے کی اتھارٹی صرف اس کے پاس ہے، جس نے دفعہ 144 نافذ کی۔

    وکیل نعیم پنجوتھہ نے دلائل دیے کہ غیر مجاز شخص کی جانب سے ایف آئی آر درج کروائی گئی، جس ایف آئی آر کی بنیاد ہی غلط ہو وہ مقدمہ آگے کیسے چل سکتا ہے؟

    ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی ویڈیو شواہد بھی عمران خان کی حد تک پیش نہیں کیے جاسکے، پُرامن احتجاج پر بھی ایف آئی آر درج کی گئیں۔

    وکیل نعیم پنجوتھہ نے مؤقف اپنایا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف ایک ہی نوعیت کے مختلف تھانوں میں 19 مقدمات درج ہیں، اسی نوعیت کے مقدمات میں عدالتوں نے عمران خان کو بریت دی ہے۔ وکیل نعیم پنجوتھہ کا کہنا تھا کہ جو الزامات لگائے گئے اگر وہ بے بنیاد ہوں تو عدالت ملزمان کو بری کر سکتی ہے، عمران خان کے خلاف مقدمات سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے تھے۔

    عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان سمیت فیصل جاوید، علی نواز اعوان ، سیف اللہ نیازی، زرتاج گل اور اسد عمر کو بری کر دیا۔

  6. احمد فرہاد کی گمشدگی: ڈی جی آئی ایس آئی کو بتا دیں، بندہ ہر صورت چاہیے، جسٹس محسن اختر کیانی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے گذشتہ ہفتے اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والے شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کے سلسلے میں دائر درخواست پر سیکریٹری دفاع کو جواب داخل کروانے کے لیے شام تین بجے تک کی مہلت دی ہے۔

    احمد فرہاد مزاحمتی شاعری کے لیے بھی مشہور ہیں اور حال ہی میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے احتجاج کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خاصے سرگرم تھے اور ان کی کچھ متنازعہ پوسٹس بھی سامنے آئی تھیں۔’

    پیر کو احمد فرہاد کی اہلیہ کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی تو مدعی کی وکیل ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا کہ 17 مئی کو احمد فرہاد کے نمبر سے واٹس ایپ کال موصول ہوئی اور ’ہمیں کہا گیا درخواست واپس لے لیں، احمد فرہاد واپس آ جائے گا‘۔

    ایمان مزاری نے دعویٰ کیا کہ ’تین ڈرافٹس ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان شیئر ہوئے‘ اور انھیں کہا گیا کہ آپ عدالت کے سامنے کہیں کہ ان کی موکلہ کے شوہر خود کہیں گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’احمد فرہاد واپس نہیں آئے اس لیے ہم درخواست واپس نہیں لے رہے۔‘

    سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ ’کیا احمد فرہاد دہشت گرد ہے؟‘ جس پر ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ جسٹس کیانی نے ریمارکس دیے کہ ادارے جو کر رہے ہیں اس کی سزا سب نے بھگتنی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’مجھے بندہ آئی ایس آئی سے چاہیے۔۔۔ ڈی جی آئی ایس آئی کو بتا دیں، بندہ ہر صورت چاہیے‘۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انھوں نے مقدمے کے تفتیشی افسر سے بھی کہا کہ وہ سیکٹر کمانڈر اور ڈی جی آئی ایس آئی کا سیکشن 161کا بیان لیں۔

    سماعت کے دوران وزارتِ دفاع کے حکام نے جواب دینے کے لیے دو دن کا وقت مانگا تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکرٹری دفاع سے تین بجے تک جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے کہا کہ کیا یہ پوچھیں گے باجوڑ والے سیف ہاؤس میں ہیں یا کشمیر والے سیف ہاؤس میں؟‘۔

    جسٹس کیانی کا کہنا تھا کہ ’آپ اپنے سے لیبل ہٹائیں کہ اغوا کرتے ہیں۔۔۔مت لے کر آئیں اس نہج پر کہ اداروں کا رہنا مشکل ہو جائے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست کا فرنٹ فیس نامعلوم افراد نہیں پولیس ہے۔‘

    جسٹس کیانی نے یہ بھی کہا کہ ’جو اغوا ہوئے، ان پر کیا گزرتی ہے انھیں ہی پتا ہے۔ ڈریں اس وقت سے جب سب اغوا ہو جائیں‘۔

    عدالت نے وزارت دفاع کے نمائندے سے استفسار کیا کہ آیا کبھی ان کا کوئی جاننے والا اغوا ہوا اور انکار پر جسٹس کیانی نے کہا کہ ’اسی لیے آپ کو احساس نہیں۔ جن کا اغوا ہوتا ہے احساس ان سے پوچھیں۔‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اگر تین بجے تک جواب نہیں آتا تو وہ حکم جاری کر دیں گے۔ ’تین بجے تک انتظار کروں گا پھر آرڈر دوں گا وہ آپ کو بہت متاثر کرے گا‘۔

    اس کے بعد عدالت نے سماعت میں تین بجے تک وقفہ کر دیا ہے۔

  7. بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس اسلام آباد سے گرفتار

    Sardar Tanvir

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کو اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ پولیس نے گرفتار کر لیا۔

    تنویر الیاس کے خلاف نجی کمپنی کے دفتر پر حملے کا مقدمہ درج ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سردار تنویر الیاس 2022 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے 14ویں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔

  8. این اے 148 کا ضمنی انتخاب: پیپلز پارٹی کے علی قاسم گیلانی کامیاب

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 148 کے ضمنی الیکشن میں غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے علی قاسم گیلانی کامیاب ہو گئے ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار ملک تیمور الطاف دوسرے نمبر پر رہے۔

    حلقہ این اے 148 کے ضمنی الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے علی قاسم گیلانی نے 85 ہزار 863 ووٹ حاصل کئے جبکہ پی ٹی آئی کے ملک تیمور نے 52 ہزار354 ووٹ حاصل کئے۔

    علی قاسم گیلانی اپنے مد مقابل سے 33 ہزار 509 ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے، غیر سرکاری نتائج میں علی قاسم گیلانی کی کامیابی کا اعلان ہوتے ہی ملتان کے پیپلز پارٹی کے رہنما اور ورکرز گیلانی ہاؤس پہنچ گئے۔

    یاد رہے عام انتخابات میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے تیمور الطاف ملک کو شکست دی تھی، بعد میں چیئرمین سینیٹ بننے کے لیے یوسف رضا گیلانی نے یہ نشست چھوڑ دی تھی۔

  9. بشکیک سے 360 پاکستانی طالب علموں کو لے کر دو پروازیں لاہور اور اسلام آباد پہنچ گئیں

    کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک سے پاکستانی طالب علموں کو لے کر دو پروازیں لاہور اور اسلام آباد پہنچ گئیں۔

    لاہور ائیر پورٹ پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور اسلام آباد میں وفاقی وزیر مصدق ملک نے طالب علموں کو خوش آمدید کہا۔

    لاہور اور اسلام آباد آنے والی دونوں پروازیں مجموعی طور پر 360 طالبعلموں کو وطن لے کر آئیں ہیں۔

    وفاقی وزیر مصدق ملک نے طالب علموں سے گفتگو میں کہا کہ معاملے پر کرغزستان حکومت سے رابطے میں ہیں۔ کمرشل پروازوںسے مزید 540 طلب علم بشکیک سے پاکستان پہنچیں گے جبکہ ایک خصوصی پرواز130 طالب علموں کو وطن واپس لائے گی۔

  10. ’540 پاکستانی طلبا کمرشل پروازوں کے ذریعے وطن واپس پہنچیں گے‘

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بشکیک سے اب تک 130 طلبا کمرشل پرواز کے ذریعے پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں جب کہ 540 مزید طلبا آج تین کمرشل پروازوں کے ذریعے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئر فورس کا ایک طیارہ آج شام بشکیک روانہ ہوگا۔ اس طیارہ میں 130 افراد کو لایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا اب تک صرف 50 طلبا نے پاکستانی سفارتخانے سے اس طیارے کے ذریعے واپس آنے کے لیے رجوع کیا ہے۔

    بشکیک میں بین الاقوامی طلبا کے ساتھ پیش آنے والے پر تشدد واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات میں کوئی پاکستانی طالب عالم ہلاک نہیں ہوا ہے۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا انھیں کرغز حکومت نے بتایا ہے کہ ان واقعات میں زخمی ہونے کے نتیجے میں 16 طلبا ہسپتال میں داخل ہیں جن میں سے 4-5 کا تعلق پاکستان سے ہے۔

    نائب عزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا نشانہ پاکستانی طلبا نہیں تھے۔ بشکیک میں زخمی ہونے والوں میں پاکستانیوں کے علاوہ انڈین، عرب، مصری اور بنگلہ دیشی طلبا بھی شامل ہیں۔

  11. کرغزستان کے وزیر خارجہ کی درخواست پر بشکیک کا دورہ ملتوی کرنا پڑا: اسحاق ڈار

    Ishaq Dar Press Conference in Islamabad

    ،تصویر کا ذریعہSREENGRAB

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ انھوں نے کرغزستانی وزیر خارجہ کی درخواست پر اپنا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔

    وہ اتوار کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے کشمیر امور امیر مقام اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

    اس سے قبل سنیچر کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے نائب اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر برائے کشمیر امور کو کرغزستان بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کرغزستانی وزیر خارجہ نے انھیں یقین دلایا ہے کہ جمعے کے بعد پاکستانی طلبہ کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کرغزستان کے وزیر خارجہ نے انھیں یقین دلایا ہے کہ ان کے ساتھ کرغزستان کے صدر اور ان کی کابینہ کے چیئرمین بھی حالات کا خود جائزہ لے رہے ہیں۔

    ’کرغزستانی وزیر خارجہ نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ آپ خود نہ آئیں۔ آپ سینیئر ہیں اور آپ کے دورے سے غلط تاثر ملے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ کرغزستان کے وزیر خارجہ نے انھیں بتایا ہے کہ ان کے ملک میں اپوزیشن کی جانب سے غیر ملکی طلبہ کے خلاف مہم چلائی جاتی رہی ہے اور پاکستانی وزیر خارجہ کی آمد سے انھیں موقع ملے گا۔

    ’کرغزستانی وزیر خاجہ نے درخواست کی ہے کہ آپ ہم پر بھروسہ کریں۔‘

    نائب وزیر اعظم نے بتایا کہ کرغز وزیر خارجہ کی جانب سے مہیا کی گئی اور کرغزستان میں پاکستانی سفیر سے ملنے والی اطلاعات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ کے دو افسران کو پہلے ہی کرغزستان روانہ کیا جا چکا ہے۔

    ’اگر ضرورت پڑی تو سیکریٹری خارجہ یا ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ کو تصدیق کے لیے بھیجا جاسکتا ہے۔‘

  12. بشکیک میں زخمی پاکستانی طلبہ کو ترجیحی بنیادوں پر واپس لایا جائے، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ایک خصوصی طیارہ آج شام کرغزستان کے شہر بشکیک کے لیے روانہ ہو گا۔

    طیارہ آج رات ہی 130 طلباء کو لے کر پاکستان واپس پہنچے گا۔

    وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے کرغزستان میں پاکستان کے سفیر حسن علی ضیغم کو ہدایت جاری کی ہیں کہ ’کرغزستان میں موجو تمام پاکستانی طلبہ اور ان کے خاندانوں کے ساتھ رابطے میں رہا جائے۔ زخمی پاکستانی طلبہ کو ترجیحی بنیادوں پر پاکستان لایا جائے۔‘

    ’ایسے طلبہ جن کے ساتھ ان کے خاندان کے افراد کرغزستان میں مقیم ہیں، ان کی وطن واپسی کا انتظام بھی ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے۔‘

    پاکستانی سفیر نے وزیراعظم کو بتایا کہ کرغز حکومت کے مطابق حالات اب مکمل طور پر قابو میں ہیں۔

    پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ کرغز حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کل رات اور آج تشدد کا کوئی نیا واقہ نہیں ہوا جبکہ سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر آنے کے باوجود اگر کوئی پاکستانی طالب علم وطن واپس چاہتا ہے تو اسے ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

  13. بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سیمینار کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب کی مبینہ تالابندی، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی مذمت, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ سیمینار کے موقع پر انتظامیہ کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کی مبینہ تالا بندی کے واقعے پر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو آزادی صحافت پر حملہ اور آئین کے آرٹیکل 19 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

    سینیچر کو کوئٹہ پریس کلب میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے گوادر میں باڑ لگانے کے مبینہ اقدام کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا تھا جس کا موضوع ’گوادر کا باڑ میگا پروجیکٹ سے میگا پریزن تک‘ تھا۔

    اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر نہ صرف کوئٹہ پریس کلب کی تالا بندی کی گئی بلکہ اس کے احاطے اور تمام داخلی راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ جبکہ پریس کلب کے سامنے پولیس کی بھاری نفری تعینات کرکے شارع عدالت اور پریس کلب کے بالمقابل رستم جی لین کو بھی بند کیا گیا تھا۔

    بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے جاری اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کروائی جائے۔

    سیمنار کے شرکا اور پریس کلب کے عہدیداروں کی جانب سے بتایا گیا کہ پریس کلب کے گیٹ پر شرکا اور پولیس میں دھکم پیل اور کشیدگی کے بعد پریس کلب کی گیٹ کو اندر سے پولیس اور مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر تالا لگا دیا تھا۔

    پریس کلب کے جنرل سیکریٹری بنارس خان کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے پریس کلب کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کو سیمنار کرنے کی اجازت نہ دی جائے جس پر پریس کلب انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ کسی پر پابندی نہیں لگاسکتے ہیں۔

    انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ میڈیا کو بھی اس تقریب کی کوریج نہ کرنے کا کہا گیا۔

    جبکہ پولیس کے ایک سینیئر آفیسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سیمنار پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی سیمنار میں شرکت سے کسی کو روکا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی نفری کی موجودگی سیمنار کی سیکورٹی کے لیے تھی اور سیکورٹی کے انتظامات اس لیے کیے گئے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا ہے کہ حکومت اور پولیس کی جانب سے ہرممکن کوشش کی گئی کہ اس سیمنار کا انعقاد نہ ہو لیکن جب وہ اس میں ناکام رہے تو پولیس کے اہلکاروں نے پریس کلب کو اندر سے تالا لگادیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پریس کلب کو اندر سے بند کرنے کا کوئی جواز نہیں بتایا گیا اور ہمارے استفسار پر یہ بتایا گیا کہ انتظامیہ کی جانب سے آپ کو کانفرنس کے انعقاد کی اجازت نہیں ہے۔

    اس سوال پر کہ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ گوادر میں باڑ لگانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے تو ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ اگر باڑ نہیں لگائی جا رہی ہے تو گوادر میں طویل خندقیں کس لیے کھودی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا ان خندقوں کے کھودنے پر گوادر کے عوام میں تشویش ہے اور انھوں نے اس کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے۔

    تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان اور گوادر انتظامیہ کی جانب سے گوادر میں باڑ لگاکر شہر کو بند کرنے کے تائثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا اس حوالے سے ایک بیان میں کہنا ہے کہ گوادر شہر کو باڑ لگانے کی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں اور سابق رکن بلوچستان اسمبلی اور ایک تنظیم کی جانب سے کیا گیا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

  14. بشکیک سے پاکستانی طلبہ کی واپسی کا سلسلہ شروع

    بشکیک سے پاکستانی طلبہ کی واپسی

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    وزارت داخلہ کے ایک بیان اور سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کے مطابق کرغزستان سے پروازوں کے ذریعے پاکستانی طلبہ کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ لاہور ایئر پورٹ پہنچنے والے طلبہ کو وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ریسیو کیا اور ان کے ساتھ بشکیک میں پُرتشدد واقعے پر افسوس ظاہر کیا۔

    ایک پیغام کا مطابق وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ’دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ٹرانسپورٹ کی سہولت دی جائے گی۔ کرغزستان میں پاکستانی طلبہ قوم کے بچے ہیں۔ وزیراعظم نے اس واقعے کے فوری بعد پاکستانی طلبہ کے تحفظ کے لیے تیزی سے اقدامات کیے۔‘

    ’کرغزستان میں موجود دیگر طلبہ کو بھی پاکستان واپس لایا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت پر وفاقی وزرا اسحاق ڈار اور امیر مقام بھی کرغزستان جائیں گے۔ پاکستانی بچوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کل مزید پروازوں کے ذریعے طلبہ وطن واپس لائیں گے۔‘

    سرکاری چینل پی ٹی وی کے مطابق تقریباً 40 پاکستانی طلبہ معمول کی ایرونومیڈ چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے لاہور واپس آئے ہیں۔ حکومتِ پاکستان آج شام اسلام آباد سے بشکیک خصوصی پرواز بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور اضافی ایرونومیڈ چارٹرڈ فلائٹس بھی شیڈول کی جا رہی ہیں۔

  15. وزیراعظم کا اسحاق ڈار کو بشکیک بھیجنے کا فیصلہ

    بشکیک میں پاکستانی طلبہ پر حملوں کے حوالے سے پاکستانی حکام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے نائب اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو کرغزستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سنیچر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ کے ہمراہ، وفاقی وزیر برائے کشمیر امور امیر مقام بھی کرغزستان جائیں گے۔ دونوں وزرا اتوار کی علی الصبح خصوصی طیارے کے ذریعے بشکیک روانہ ہوں گے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم آج پورا دن صورتحال کا جائزہ لیتے رہے اور بشکیک میں پاکستانی سفیر سے بھی رابطے میں رہے۔ ’صورتحال تسلی بخش ہونے کے باوجود پاکستانی طلبہ کو ضروری تعاون اور سہولت کی فراہمی کے لیے یہ وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

    نائب وزیرِ اعظم وزیر خارجہ بشکیک میں اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور زخمی طلبہ کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

    نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ پاکستانی طلبہ کی وطن واپسی کے حوالے سے بھی معاملات کا جائزہ لیں گے۔

  16. میرا گلہ قوم سے بھی ہے، ایک وزیرِاعظم کو جھوٹے کیس میں نا اہل کر دیا گیا اور قوم خاموش بیٹھی رہی: نواز شریف

    nawaz

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab/PTV News

    پاکستان مسلم ن کے صدر نے جماعت کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جن کاموں نے پاکستان کو تباہ و برباد کیا ان کا احتساب کیوں نہیں ہونا چاہیے، اور خود ان ججز کا بھی احتساب ہونا چاہیے جنھوں نے یہ فیصلے کیے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میرے پاس ثاقب نثار کی وہ لیکڈ آڈیو بھی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اور میرم کو قید میں رکھنا ہے اور عمران خان کو لانا ہے۔‘

    وہ آج پاکستان مسلم لیگ ن کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریر کے دوران نواز شریف نے اپنی جماعت کے ساتھ ماضی میں ہونے والی مبینہ ناانصافیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔

    انھوں نے اس دوران پاکستانی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا آپ ووٹ دیتے وقت یہ سوچتے ہیں کہ نواز شریف کی کارکردگی کیا تھی اور مخالفین کی کارکردگی کیا تھی، قوم کو اس جواب ضرور دینا چاہیے۔

    ’میرا کچھ گلہ قوم سے بھی ہے، ایک وزیرِ اعظم کو جھوٹے کیس میں نا اہل کر دیا گیا اور قوم خاموش بیٹھی رہی، یہ بھی کوئی بات نہیں ہے۔‘

    اپنی تقریر کے آغاز میں انھوں نے کہا کہ ’بہت خوشی ہو رہی ہے آپ سب کو یہاں پر دیکھ کر اور بہت عرصے بات میں نے ایک ساتھ اتنے پارٹی رہنما ساتھ بیٹھے دیکھے ہیں، بہت اچھا لگ رہا ہے کہ تمام صوبوں کی قیادت یہاں موجود ہے۔ بہت عرصہ ہم جدا بھی رہے، کوئی جیل میں تھا، کوئی بیرونِ ملک اور کوئی ملک میں رہ کر مشکل صورتحال برداشت کر رہا تھا۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ان لوگوں کو میں پیار بھرا پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ مسلم لیگ ن کے بہترین ساتھی ہیں۔‘

    نواز شریف نے اپنی تقریر کے دوران 90 کی دہائی ان کی حکومت کا تختہ الٹائے جانے کے حوالے سے بھی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ’کیا وجہ تھی کہ 1993 میں ہماری حکومت کا تختہ کیوں الٹا گیا؟ اگر وہ مومنٹم جاری رہتا تو ہم دنیا میں ایک مقام حاصل کر چکے ہوتے۔

    ’موٹرویز اس زمانے میں بننا شروع ہو گئے تھے، بڑے بڑے پراجیکٹ لگے جن کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت جنھوں نے مجھے نکالا وہ بھی کہتے تھے کہ نواز شریف کیوں موٹرویز پر پیسہ لگا رہا ہے، کیوں ضائع کر رہا ہے، آج سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت میں موٹرویز نے کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔

    ’ہم نے 1997 میں ایک بار پھر اسی رفتار کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کیا اور نہ صرف معیشت بلکہ دفاع میں حصہ ڈالا اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘

    نواز شریف نے کہا کہ ’اس زمانے میں صدر کلنٹن نے ہمیں کہا کہ ہم آپ کو پانچ ارب ڈالر دیتے ہیں آپ ایٹمی دھماکے نہ کریں۔ لیکن ہم نے ایٹمی دھماکے کر کے اور پانچ ارب ڈالر نہ لے کر اچھا فیصلہ کیا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اس کے بعد پرویز مشرف صاحب نے مارشل لگا دیا اور مجھے ہائی جیکر بنا دیا، میں صبح وزیرِ اعظم تھا اور شام کو ہائی جیکر اور پھر مجھ پر مقدمہ بنا دیا گیا اور 27 سال قید دے دی گئی۔

    ’پھر جلاوطنی ہوئی، ہم واپس آئے پھر 2013 میں دوبارہ حکومت آئی تو ہم واپس آئے تو ہم عمران خان کے پاس گئے جو 35 پنچر والی رٹ لگا رہے تھے اور کہا کہ آپ اپوزیشن لیڈر اس لیے ہم سب مل کر پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں اور پاکستان کی خدمت کریں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب ہم اٹھنے لگے تو انھوں نے کہا کہ بنی گالہ کی سڑک بنوا دیں، وہ ہم نے کچھ ہفتوں میں بنا دی۔ اس کے بعد مجھے نہیں پتا لگا کہ کیا ہوا، عمران خان، چوہدری پرویز الٰہی، طاہر القادری اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام بھی پہنچ گئے اور وہاں بیٹھ کر انھوں نے سازش کا جال بنا اور دھرنے شروع کر دیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان کا اخلاقی فرض بنتا تھا کہ وہ ہمارے پاس آتے اور کہتے کہ آپ میرے پاس آئے تھے ہمیں ان چیزوں پر آپ سے اعتراض ہے، ہم دھرنے شروع کرنے لگے ہیں۔

    ’انھوں نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا، ایک طرف تعاون کی یقین دہانی کروائی اور دوسری طرف دھرنے کرنے لگے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تین بندے بیٹھے کر 25 کروڑ عوام کے منتخب وزیرِ اعظم کو تاحیات نااہل قرار دے رہے ہیں، یہ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ میرا حق ہے اور رہے گا تا دمِ مرگ۔

    ’مجھے پارٹی کی صدارت سے ہٹانے کا حق بھی آپ کا فیصلہ نہیں ان ہی (عدلیہ) کا ہے۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’مظاہر علی نقوی کو بھی نیب سے گزرنا چاہیے، جن چیزوں نے پاکستان کو تباہ و برباد کر رہا ہوں۔ جن کاموں نے پاکستان کو تباہ و برباد کیا ان کا احتساب کیوں نہیں ہونا چاہیے، اور خود ان ججز کا بھی احتساب ہونا چاہیے جنھوں نے یہ فیصلے کیے۔

    ’اگر احتساب ہوتا رہتا تو ہم ایک مختلف جگہ پر ہوتے۔‘

  17. پاکستان میں موجود مشن کی سفارشات کی بنیاد پر اگلے پروگرام کا فیصلہ کیا جائے گا: آئی ایم ایف

    ئی ایم ایف کی ڈائیریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک کا کہنا تھا کہ نیتھن پورٹر کی قیادت میں ایک ٹیم اس ہفتے پاکستانی حکام سے ملاقات کر رہی ہے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ فنڈ کا ایک مشن اس وقت پاکستان میں موجود ہے جس کی سفارشات کے بعد ہی اگلے پروگرام کے بارے میں کچھ کہا جا سکے گا۔

    جمعرات کے روز، واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف کی ڈائیریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک سے سوال کیا کہ آیا پاکستان کے ساتھ نئے قرض پروگرام پر سٹاف لیول معاہدے کی توقع کی جا سکتی ہے یا اس میں ابھی وقت ہے؟

    اس کے جواب میں کوزیک کا کہنا تھا کہ نیتھن پورٹر کی قیادت میں ایک ٹیم اس ہفتے پاکستانی حکام سے ملاقات کر رہی ہے تاکہ پاکستان کے ساتھ اگلے مرحلے پر بات چیت کی جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ فی الحال آئی ایم ایف پاکستان میں موجود اپنے مشن کے دورے کے مکمل ہونے کا انتظار کرے گا اور اس کی سفارشات کی بنیاد پر ہی کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔

  18. اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ ملک کی خاطر آرمی چیف کو خط لکھوں گا: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو خط لکھ کر بتائیں گے کہ ’عوام اور فوج کو آمنے سامنے کبھی نہیں آنا چاہیے۔‘

    پاکستان تحریک انصاف نے جماعت کے بانی کا اڈیالہ جیل سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’آرمی چیف کو خط اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ ملک کے لیے لکھوں گا۔ وکلا کو خط تیار کرنے کی ہدایات دے دی ہیں۔‘

    عمران خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو بذریعہ خط یہ بتایا جائے گا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کیا ہو رہا ہے اور ملک کہاں جا رہا ہے۔ ’اس پر ہمیں سوچنا پڑے گا۔ فوج اور لوگوں کو آمنے سامنے نہیں کیا جاتا۔‘

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’فوج ملک کا ایک نہایت اہم ادارہ ہے۔ عوام اور فوج کو آمنے سامنے کبھی نہیں آنا چاہیے لیکن ہم آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔‘

    پی ٹی آئی کے مطابق اس پیغام میں عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ ’ہمارا یہ سوال ہے کہ ہماری نو مئی اور آٹھ فروری کے حوالے سے پٹیشنز کو کیوں نہیں سنا جا رہا؟ ۔۔۔ یہ نظامِ انصاف کی شکست ہے۔ اس سے عام آدمی کا نظامِ انصاف سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔‘

    ’جھوٹ کو بچانے کے لیے ججز اور میڈیا پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔‘

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس میں پیشی سے متعلق عمران خان نے کہا کہ ’میں بولنے کے لیے مکمل تیار تھا لیکن مجھے بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اس کیس کی کارروائی کو لائیو نشر کیا جانا چاہیے تھا۔ امید کرتا ہوں اگلی بار مجھے بولنے کا موقع دیا جائے گا۔‘

    جبکہ مذاکرات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’فارم 47 والوں سے کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔ نگران وزیراعظم کے بیان کے بعد اس حکومت کے قائم رہنے کا کیا جواز ہے۔ کاکڑ نے حنیف عباسی کو طعنہ دے کر شہباز شریف کو پیغام بھیجا۔ انوار الحق کاکڑ اور کمشنر راولپنڈی کے بیانات کی روشنی میں فارم 47 کی حقیقت کھلے گی تو یہ حکومت خود بخود گر جائے گی، ان سے کیا بات کروں۔‘

    انھوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے سوال کیا ہے کہ ’کیا مجھے فئیر ٹرائل دیا جا رہا ہے؟ ہم امید کرتے ہیں کہ انصاف ہو گا۔‘

  19. ’ججوں کے خط کا معاملہ آؤٹ آف کورٹ حل کرنا ہوگا‘ رانا ثنا اللہ

    Rana

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کے دوران وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ 6 ججوں کے خط کا معاملہ آؤٹ آف کورٹ حل کرنا ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ ’6 ججوں کے خط کے معاملے میں کسی کو کٹہرے میں کھڑا کرکے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے، حل اس کے سوا کوئی نہیں کہ ادارے اور لوگ ایک جگہ بیٹھ کر معاملے پر بات کریں۔‘

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’میری وزیراعظم سے بات ہوئی ہے، شہباز شریف کا خیال ہے کہ اس طرح معاملات چلتے رہے تو ملک کو کیسے بہتری کی طرف لے جاسکتے ہیں۔‘

    وزیر اعظم کے مشیر نے یہ بھی کہا کہ ’ایک طرف سیاستدان یا حکومت، دوسری طرف عدلیہ اور تیسری طرف نشانہ اسٹیبلشمنٹ ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ کسی کے بھی حق میں یہ بہتر ہوسکتا ہے شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا، سیاستدان، عدلیہ ،اسٹیبلشمنٹ سب کو ماضی سے نکلنا ہوگا۔‘

    رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ ’اگر عدلیہ کہے کہ ہم نے تو بالکل آئین اور قانون کی پاسداری کی ہے وہ بھی درست نہیں ہوگا، اسٹیبلشمنٹ کہے کہ کبھی کسی کے معالے میں دخل نہیں دیا تو یہ بات بھی سچ نہیں ہوگی۔‘

    وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ’جن جج صاحبان نے خط لکھا ہے وہ سارے ہی قابل عزت اور بہترین انسان ہیں، اگر بات یہ کریں کہ یہ ہوتا رہا ہے اور آج کے بعد نہیں ہونا چاہیے تو یہ ہوسکتا ہے۔‘

  20. عمران خان کے خلاف ٹیریئن وائٹ نا اہلی کیس: نیا 3 رکنی لارجر بینچ تشکیل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    عمران حان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعے کے روز ٹیریان جیڈ کا نام ظاہر نہ کرنے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف نا اہلی کیس کی سماعت کے لیے نیا لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔

    بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کے خلاف ٹیریان کو کاغذات نامزدگی میں چھپانے پرنا اہلی کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی سربراہی میں 3 رکنی نیا لارجر بینچ تشکیل دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے بنائے جانے والے بینچ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کے علاوہ جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی شامل ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجربینچ اس کیس کی سماعت 21 مئی کو کرے گا۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے خود کو ٹیریان جیڈ وائٹ کیس سے الگ کر لیا۔

    اس سے قبل چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی لارجربینچ سماعت کر رہا تھا۔ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر بھی اُس لارجر بینچ کا حصہ تھے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب طاہر نے اپنی رائے ویب پر اپ لوڈ کر دی تھی۔ تاہم دو ججز کی رائے کو ہائیکورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ دو ججز نے اپنے فیصلے میں ٹیریان کیس ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔

    دونوں ججز نے چیف جسٹس سے مشاورت کے بغیر اپنی رائے کو فیصلہ قرار دے کر اپ لوڈ کرایا تھا، چیف جسٹس کے دستخط سے فیصلہ جاری نا ہونے کے باعث معاملے کی انکوائری کا آرڈر کیا گیا تھا۔