کسی کو پارلیمنٹ کی عزت و توقیر کو مجروح کرنے کا حق حاصل نہیں: سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ کسی کو پارلیمنٹ کی عزت اور توقیر کو مجروح کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور پارلیمنٹ کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خلاصہ

  • اردن کے شاہ عبداللہ امریکہ کے صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے ہیں۔
  • ملاقات سے قبل ٹرمپ نے غزہ کے شہریوں کو قبول نہ کرنے کی صورت میں اردن اور مصر کی امداد روکنے کی دھمکی دی ہے۔
  • شاہ عبداللہ نے واضح کیا ہے کہ یہ منصوبہ اردن میں افراتفری اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
  • شامی صدر احمد الشراح کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے لیے اخلاقی اور سیاسی طور پر یہ درست نہیں کہ وہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالنے کی کوشش کریں۔
  • اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ ہم اس وقت تک سخت کارروائیاں جاری رکھیں گے جب تک کہ تمام یرغمالیوں، زندہ اور مرنے والوں کو واپس نہیں لاتے۔
  • آئی ایم ایف کے خصوصی وفد نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی ہے جس میں چیف جسٹس نے وفد کو عدالتی نظام اور اصلاحات سے متعلق آگاہ کیا۔
  • اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حماس سے اپیل کی ہے وہ یرغمالیوں کی رہائی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت جاری رکھیں۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر 15 فروری تک حماس نے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو جنگ بندی معاہدہ ختم کر دینا چاہیے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ ابھی اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    تازہ ترین خبروں کے لیے آپ ہمارے اس لنک پر کلک کیجیئے۔

  2. ٹرمپ کے بیانات نسل پرستانہ ہیں، غزہ سے فلسطینیوں کو ’نکالنے‘ کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو گا: حماس

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سنیچر کی ڈیڈ لائن دینے اور بصورتِ دیگر معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی کے جواب میں حماس کا کہنا ہے کہ وہ ’جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہے‘۔

    ایک بیان میں حماس نے ’تعمیر نو کے بہانے‘ غزہ کی پٹی سے شہریوں کی نقل مکانی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو ایک بار پھر مسترد کیا ہے۔

    حماس نے ٹرمپ کے بیانات کو ’نسل پرستانہ‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کو ’نکالنے‘ کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو گا۔

    ’حماس تحریک اس وقت تک جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہے جب تک کہ اسرائیل اس کی پاسداری کرتا رہے گا۔‘

    گروپ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دیگر ممالک کی ثالثی میں بین الاقوامی برادری کے سامنے ہوا۔

    حماس کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل اپنے وعدوں پر قائم رہنے میں ناکام رہا ہے اور معاہدے پر عمل درآمد اور یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر کی تمام تر ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔‘

  3. مشرقِ وسطیٰ میں استحکام لانا کوئی مشکل کام نہیں ہے: ٹرمپ

    اردن کے شاہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے غزہ کے باشندوں کو ہمسائیہ ممالک (مصر اور اردن) میں بسانے کا منصوبہ دہرایا ہے۔

    انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں ممالک کے ساتھ ’زبردست پیش رفت‘ ہونے والی ہے، تاہم دونوں ممالک نے ٹرمپ کی تجویز پر تنقید کی ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی پر امریکہ کے کنٹرول کے ساتھ ’پہلی بار مشرق وسطیٰ میں استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’فلسطینی یا وہ لوگ جو اس وقت غزہ میں رہتے ہیں وہ کسی اور مقام پر زندگی گزار رہے ہوں گے۔ وہ محفوظ طریقے سے زندگی گزار رہے ہوں گے۔ انھیں قتل نہیں کیا جا رہا ہو گا اور ہر دس سال بعد انھیں اپنے گھروں سے بے دخل نہیں ہونا پڑے گا۔‘

  4. ٹرمپ کی شاہ عبداللہ سے ملاقات: غزہ پر قبضے کا تذکرہ ’خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، ہم بس غزہ کو حاصل کر لیں گے‘

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    وائٹ ہاؤس میں اردن کے شاہ عبداللہ سے ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پر قبضے والی بات دہرائی ہے۔

    امریکہ کے ٹیکس دہندگان کے ڈالر اس علاقے کو خریدنے کے لیے استعمال کیے جانے کے سوال پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    انھوں نے کہا ’ہم کچھ خریدنے نہیں جا رہے، خریدنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں، ہم بس اسے حاصل کر لیں گے۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے الٹی میٹم کے بعد ٹرمپ نے دہرایا ہے کہ حماس کو سنیچر کی دوپہر تک اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنا ہو گا۔

  5. غزہ پر قبضے کے لیے ٹرمپ کا دباؤ: ’مصر کے منصوبوں کا انتظار کریں‘ شاہ عبداللہ

    صحافیوں کے ساتھ سوال و جواب کے سیشن کے دوران اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ پر قبضے کی تجویز کے حوالے سے مصر امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منصوبہ پیش کرے گا۔

    ’مصر کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ صدر کے سامنے منصوبہ پیش کریں اور تب تک قیاس آرائیوں سے گریز کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے ملک کا مفاد دیکھیں گے۔

    شاہ عبداللہ نے کہا کہ ’علاقائی رہنما سعودی عرب میں ملاقات کریں گے اور اس حوالے سے بات چیت کریں گے کہ ہم صدر ٹرمپ اور امریکہ کے ساتھ کیسے کام کر سکتے ہیں۔‘

  6. حماس سنیچر کے روز اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرے گی: ٹرمپ کا خدشہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اردن کے شاہ عبداللہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے ہیں۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دوران جنگ بندی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں ہے کہ حماس سنیچر کے روز اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔

    ’سنیچر کی ڈیڈ لائن ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس روز اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کریں گے۔ میرا خیال ہے کہ وہ خود کو سخت جان دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم دیکھ لیں گے کہ ان میں کتنا دم ہے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر نہیں چاہتے اور متنبہ کیا کہ ’وہ انھیں سنیچر کو 12:00 بجے تک رہا کر دیں یا پھر تمام شرطیں ختم ہو جائیں گی‘۔

    قبل ازیں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر حماس نے سنیچر کی ڈیڈ لائن تک تمام یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا تو ’جہنم کا قہر ٹوٹ پڑے گا۔‘

  7. آئی ڈی ایف کو غزہ میں فوج جمع کرنے کا حکم ’سنیچر تک یرغمالی رہا نہ ہوئے تو جنگ بندی معاہدہ ختم ہو جائے گا‘ نیتن یاہو کا الٹی میٹم

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’اگر حماس سنیچر کی دوپہر تک ہمارے یرغمالیوں کو واپس نہیں کرتی تو جنگ بندی معاہدہ ختم کر دیا جائے گا اور آئی ڈی ایف دوبارہ سے شدید لڑائی کا آغاز کرے گی جو حماس کو مکمل شکست دینے تک جاری رہے گی۔‘

    تقریباً چار گھنٹے تک کابینہ اجلاس کی صدارت کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حماس کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی اور ہمارے یرغمالیوں کو رہا نہ کرنے کے فیصلے کی روشنی میں، میں نے کل رات آئی ڈی ایف کو حکم دیا کہ وہ غزہ کی پٹی کے اندر اور اس کے ارد گرد فوج جمع کریں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اس وقت یہ آپریشن ہو رہا ہے اور جلد ہی مکمل ہو جائے گا۔‘

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران ہم سب نے صدر ٹرمپ کے سنیچر کی دوپہر تک یرغمالیوں کی رہائی کے مطالبے اور غزہ کے مستقبل کے لیے صدر کے انقلابی وژن کا خیر مقدم کیا۔

  8. سلمان رشدی پر حملے کے مقدمے میں دوسرے روز کی سماعت کا احوال ’خون کی ایک جھیل تھی اور وہ میرا خون تھا‘

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    برطانوی مصنف سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے نوجوان ہادی ماطر کے خلاف مقدمے کی سماعت دوسرے روز جاری ہے۔

    گذشتہ روز عدالت نے دو گواہوں کے بیانات سنے تھے۔ آج کی سماعت میں سلمان رشدی نے خود عدالت میں پیش ہو کر ہادی ماطر کے خلاف ثبوت دیے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے۔

    برطانوی نژاد امریکی مصنف نے عدالت کو اس تقریب کے بارے میں بتایا جس میں وہ حملے کے وقت شریک تھے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے چھ ماہ قبل لیکچر میں حصہ لینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

    رشدی نے حملے کے لمحات بیان کیے اور جیوری کو اپنی زخمی آنکھ دکھاتے ہوئے کہا اب اس میں بینائی نہیں رہی اور سب کچھ بہت جلدی میں ہوا۔

    رشدی کا کہنا تھا کہ ’خون کی ایک جھیل تھی اور وہ میرا خون تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ آنکھ سے نکلتے ’خون کی جھیل‘ کو دیکھتے ہوئے وہ سوچ رہے تھے کہ ’میں مر رہا ہوں۔‘

    رشدی نے ماطر کی ٹیم کی طرف سے اظہار رائے کی آزادی کی اہمیت کے بارے میں اٹھائے گئے نکات سے اتفاق کیا کہ منصفانہ ٹرائل ایک ’بنیادی انسانی حق‘ ہے۔

    عدالت میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق سماعت کے دوران ملزم اور رشدی ایک دوسرے کی جانب دیکھتے ہوئے نظر نہیں آئے۔

    رشدی کا بیان سننے کے بعد عدالت نے کھانے کے لیے وقفہ دیا ہے۔

    یاد رہے سلمان رشدی پر یہ حملہ اگست 2022 میں ریاست نیویارک کے ایک تعلیمی ادارے میں اُس وقت ہوا تھا جب وہ سٹیج پر موجود تھے اور سامعین کو ایک لیکچر دینے کی تیاری کر رہے تھے۔

    76 سالہ انڈین نژاد برطانوی-امریکی مصنف سلمان رشدی کو جدید دور کے بااثر مصنفین میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان پر حملے کی خبر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں رہی۔

    سنہ 1988 میں اُن کی متنازع کتاب ’دی سیٹینک ورسز‘ شائع ہونے کے بعد انھیں بڑے پیمانے پر جان کی دھمکیاں ملیں جس کے باعث انھوں نے کئی سال روپوشی میں گزارے۔

    ہادی ماطر پر الزام ہے کہ انھوں نے مصنف سلمان رشدی پر تقریباً دس بار چاقو سے وار کیے۔ اس حملے میں سلمان رشدی کا ایک ہاتھ مفلوج ہوا، ان کے جگر کو نقصان پہنچا اور وہ ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے۔

    ہادی پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ حزب اللہ کی حمایت کرتے ہیں جو کہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور امریکہ میں اس پر پابندی عائد ہے۔

    پولیس نے سلمان رشدی پر حملے کے بعد نیو جرسی کے علاقے فیئر ویؤ سے تعلق رکھنے والے ہادی مطر کو گرفتار کیا تھا۔

    ہادی ماطر نے جرم سے انکار کیا ہے۔

  9. یرغمالیوں کو صورتحال بہتر ہونے پر رہا کیا جائے گا: حماس

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    غزہ میں جنگ بندی خطرے میں پڑنے کے بعد حماس کے ایک سینیئر سیاستدان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس کا ذمہ دار ہے۔ جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

    ڈاکٹر باسم نعیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس معاہدے کے لیے پرعزم ہے اور ’اگر صورت حال بہتر ہو جاتی ہے تو وہ اگلے ہفتے قیدیوں کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    حماس نے پیر کے روز اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’طے شدہ تاریخ کے مطابق اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ملتوی کر رہی ہے۔‘

    نعیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’معاہدے کی یہ مسلسل خلاف ورزیاں معاہدے کو نقصان پہنچائیں گی اور اسے سبوتاژ کر دیں گی جس کے نتیجے میں غزہ کے بے گھر افراد کی واپسی میں 48 سے 72 گھنٹے تک تاخیر ہو سکتی ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب بھی غزہ میں اہم امداد، جیسے خوراک اور ادویات دستیاب نہیں ہیں، نعیم نے اسے معاہدے میں تاخیر کی ایک اور وجہ قرار دیا ہے۔

    لیکن نعیم کے مطابق سب سے اہم نیتن یاہو کی دھمکیاں ہیں جنھیں ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے اور ایسے بیانات کہ وہ غزہ کے 20 لاکھ لوگوں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

  10. کسی کو پارلیمنٹ کی عزت و توقیر کو مجروح کرنے کا حق حاصل نہیں: سپیکر قومی اسمبلی کی ہائی کورٹ کے جج کے ریمارکس پر رولنگ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ کسی کو پارلیمنٹ کی عزت اور توقیر کو مجروح کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور پارلیمنٹ کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک اہم رولنگ دی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کی جانب سے عدلیہ، انتظامیہ اور پارلیمنٹ سے متعلق ریمارکس پر تبصرہ کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی پارلیمنٹ کی عزت کو مجروح کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

    انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انتظامیہ اور عدلیہ دونوں ریاست کے اہم ستون ہیں اور اس قسم کے بیانات پارلیمنٹ پر حملے کے مترادف ہیں جو کسی طور قابل قبول نہیں۔

    انھوں نے پارلیمنٹ کی عظمت اور وقار کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    یاد رہے اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے نتائج روکنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا تھا کہ ’عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ سمیت تمام ستون گر چکے ہیں۔‘

  11. حوثیوں کی اسرائیل کو دھمکی: غزہ پر حملے دوبارہ شروع ہوئے تو ہم اسرائیل پر حملے کے لیے تیار ہیں

    ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کا کہنا ہے کہ اگر غزہ پر حملے دوبارہ شروع ہوئے تو وہ اسرائیل پر حملے کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی نے یہ بیان ایک ٹیلی ویژن تقریر کے دوران دیا ہے۔

    جب سے غزہ میں جنگ شروع ہوئی ہے حوثیوں نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ تاہم ان میں سے زیادہ تر کو فضا میں ہی روک دیا گیا۔

    حوثیوں نے غزہ کے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی بحری جہازوں پر بھی حملہ کیا ہے۔

  12. غزہ پر ٹرمپ کے بیانات سے نیتن یاہو کی حوصلہ افزائی اور دونوں اطراف موڈ بدل گیا ہے, جیریمی بوؤن، بین الاقوامی امور کے نامہ نگار

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    حماس کا دعویٰ ہے کہ انھیں وعدے کے مطابق امداد نہیں مل رہی۔

    اس کے علاوہ حماس اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کو گولیوں سے نشانہ بنائے جانے کی مذمت کر رہی ہے۔ جس کی حماس مذمت کر رہی ہے۔ اور عارضی شیلٹروں کے متعلق بھی سوالات جواب طلب ہیں۔

    مسائل حل کے لیے کافی دن باقی ہیں لیکن اگر دونوں فریقین جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی جاری رکھنا چاہتے ہیں تو انھیں ایک دوسرے سے ان امور پر تعاون جاری رکھنا پڑے گا۔

    تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اور غزہ پر ان کے بیانات کی وجہ سے اب موڈ بدل گیا ہے۔

    ان سے دائیں بازو کے اسرائیلی شہریوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور نیتن یاہو کو واقعی ایسا لگنے لگا ہے جیسے وقت ان کا ساتھ دینے لگا ہے مگر فلسطینی پہلے سے کہیں زیادہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔

    خاص طور پر اس امکان کے بعد کہ غزہ سے 20 لاکھ سے زیادہ افراد کو بے دخل کیا جا سکتا ہے۔

    اگر سنیچر کے روز یرغمالیوں کو واپس نہیں کیا گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’قہر ٹوٹ پڑے گا‘۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ’اگر میں آپریشن کی قیادت کر رہا ہوتا تو ایسا کرتا۔۔‘ ان کے تمام بیانات بہت مبہم ہیں۔

    جب ٹرمپ بیانات دیتے ہیں، چاہے ان کے منصوبے پورے نہ بھی ہوں لیکن ان کا اثر ضرور پڑتا ہے اور یہ دونوں طرف رویوں میں تبدیلی لاتا ہے۔

    اگر یرغمالیوں کی رہائی منصوبے کے مطابق طے پاتی ہے تو بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آیا فریقین معاہدے کے دوسرے مرحلے پر پہنچیں گے یا نہیں؟

    اگلا مرحلہ غزہ میں کس کی حکمرانی ہو گی اور مزید یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی سے متعلق ہے۔

    اس وقت نیتن یاہو کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ کا نیا منصوبہ شاندار ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے تیار کیے گئے منصوبوں کی اب گنجائش نہیں رہی۔

  13. امریکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور عوامی توقعات کے بیچ جھولتی رسی پر احتیاط سے چلتا اردن, لوسی ولیمسن ۔ اردن میں بی بی سی کی نامہ نگار

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    تنازعات میں گھرا اور پناہ گزینوں سے بھرا ایک چھوٹا سا ملک اردن۔۔ ایک غیر مستحکم خطے میں استحکام کی ایک سپر پاور ہے جسے اب اپنے امریکی اتحادی کے ساتھ تنازعات کا سامنا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی آبادی کو اردن منتقل کرنے کے مطالبے کے خلاف گذشتہ ہفتے ملک میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔ اس منصوبے کو اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قوم پرستوں کو فلسطینی سرزمین پر قبضہ کرنے میں مدد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    اردن پہلے ہی بیس لاکھ سے زائد فلسطینوں کو پناہ دیے ہوئے ہے۔ یہاں کے کیمپوں میں کچھ خاندان ایسے بھی ہیں 1967 کی عرب اسرائیلی جنگ کے بعد عارضی پناہ کی تلاش میں غزہ سے آئے تھے۔ دہائیوں بعد وہ اب بھی یہیں رہنے پر مجبور ہیں۔

    اس وقت اردن کی حکومت اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات اور فلسطینیوں کے ساتھ اس کے عوام کے تعلقات کے درمیان ایک کشمکش میں پھنسی ہے۔

  14. ٹرمپ اور شاہ عبداللہ کی ملاقات جلد متوقع

    jardan & US

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اردن کے شاہ عبداللہ سے ملاقات کر رہے گے جس میں ممکنہ طور پر وہ اپنے غزہ منصوبے پر بھی بات کریں گے۔

    یاد رہے شاہ عبداللہ سے ملاقات سے قبل ٹرمپ نے غزہ کے شہریوں کو قبول نہ کرنے کی صورت میں اردن اور مصر کی امداد روکنے کی دھمکی دی ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے مطابق اردن میں پہلے ہی تقریباً 24 لاکھ فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اردن دنیا میں مہاجرین کو پناہ دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

    اردن میں بہت سے عراقی اور شامی مہاجرین بھی موجود ہیں جو سنہ 2000 اور 2010 کے دوران وہاں آئے۔

    شاہ عبداللہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔

    بی بی سی کو اردن کے دارالحکومت میں موجود ایک فوڈ بینک نے بتایا کہ وہ ایک دن میں کھانے کے ہزاروں پیکٹس تقسیم کرتے ہیں۔

  15. امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے اہم اتحادی کے درمیان تنازعے کا خدشہ, لوسی ولیمسن ۔ اردن میں بی بی سی کی نامہ نگار

    جب اردن کے بادشاہ عبداللہ آج وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے تو صرف غزہ ہی نہیں بلکہ اردن کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا۔

    ٹرمپ کا یہ عزم کہ غزہ کی آبادی کو اردن منتقل کیا جائے، اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے ایک اہم اتحادی کے درمیان تنازعے کا خدشہ ہے۔

    شاہ عبداللہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ اردن اس منصوبے پر کبھی اتفاق نہیں کرے گا۔ جس کے بعد ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ امداد روکنے پر غور کر سکتے ہیں۔

    اردن ہر سال امریکہ سے کم از کم 1.45 ارب ڈالر کی فوجی اور اقتصادی امداد وصول کرتا ہے۔

    اسرائیل اور مصر کے ساتھ ساتھ، اردن مشرق وسطیٰ میں امریکہ سے سب سے زیادہ امداد حاصل کرنے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن چونکہ اردن کی معیشت نسبتاً چھوٹی ہے اس لیے اس امداد کا ملک کی معیشت میں بہت بڑا کردار ہے جو جی ڈی پی کا تقریباً ایک فیصد بنتی ہے۔

    ٹرمپ نے پہلے ہی امریکی عالمی فنڈنگ کے جائزے کے حصے کے طور پر اردن کو امداد معطل کر دی ہے۔ امریکی امداد کے نقصان کے نتائج اردن جیسے ملک میں شدید ہو سکتے ہیں جہاں آبادی کا چوتھائی حصہ غربت میں زندگی گزار رہا ہے اور تقریباً نصف نوجوان بے روزگار ہیں۔

    لیکن اہم سیاسی شخصیات کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دباؤ کے سامنے جھکنے کے نتائج اور بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔ اردن میں لاکھوں پناہ گزین ہیں جن میں سے بہت سے فلسطینیوں سے گہرے تعلقات رکھتے ہیں اور اگرچہ بہت سے مقامی اردنی فلسطینی عوام کے ساتھ گہری ہمدردی رکھتے ہیں لیکن اردن میں پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور روزگار کی کمی کے باعث مایوسی بھی بڑھ رہی ہے۔

    اردن کی حکومت کے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون نے کبھی کبھار اسے مشکلات میں بھی ڈالا ہے۔

    بادشاہ عبداللہ کے سامنے ایک مشکل انتخاب ہے: ایک غیر متوقع عالمی طاقت اور اپنے اتحادی کی شرائط کو مسترد کریں یا اپنے ملک میں ایسی صورتحال کو قبول کریں جو ایک سنگین بحران کا سبب بن سکتی ہیں۔

  16. ٹرمپ کا غزہ منصوبہ اردن کے اسرائیل کے ساتھ دہائیوں سے قائم تعلقات میں کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے, ٹام بیٹ مین، بی بی سی

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے فلسطینوں کو قبول کرنے سے انکار کرنے کی صورت میں مصر کے ساتھ ساتھ اردن کی مالی امداد روکنے کا اعلان کیا ہے۔

    اردن نے اس خیال کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دینے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

    اردن نے واضح کیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے اس خیال کو اردن کے وجود کے خلاف خطرہ سمجھتا ہے۔

    اردن میں پہلے سے لاکھوں کی تعداد میں ایسے فلسطینی مہاجرین مقیم ہیں جنھیں سنہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد ان کے وطن سے جبری طور پر نکالا گیا تھا۔

    اس کے علاوہ اس ملک نے شامی مہاجرین کو بھی پناہ دے رکھی ہے۔

    ایک ایسا ملک جو امریکی امداد پر انحصار کرتا ہے وہاں کے شاہ عبداللہ کا ٹرمپ کے لیے پیغام بہت واضح ہے: ان کا غزہ کے شہریوں کو وہاں سے نکال کر کہیں اور بسانے کا منصوبہ اردن میں افراتفری کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے پڑوسی اسرائیل کے ساتھ دہائیوں سے قائم بہتر تعلقات میں کشیدگی کا بھی خدشہ ہے۔

  17. سیز فائر کے حوالے سے اسرائیل اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا ہے: ترک صدر

    rajab tayab

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ اسرائیل سیز فائر کے حوالے سے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں ترک صدر نے کہا کہ غزہ سے اسرائیلی قبضے کو ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا قبضہ ہی باقی رہ جانے والا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

    صدر اردوغان کا مزید کہنا تھا کہ ترکی غزہ کے لیے اپنی امداد بھجوا رہا ہے اور وہ مسلسل طور ہر اس سلسلے کو جاری رکھے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ترکی کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ بھی جاری رہے گا۔

  18. ٹرمپ کا غزہ کے لیے مجوزہ منصوبہ،’یہ ایک سنگین نوعیت کا جرم ہے جو ناکام ہو گا‘: شامی صدر

    احمد الشراح

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شامی صدر احمد الشراح کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے لیے اخلاقی اور سیاسی طور پر یہ درست نہیں کہ وہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالنے کی کوشش کی قیادت کریں۔

    اپنے ایک انٹرویو میں شامی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے دیے جانے والے مجوزہ منصوبے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’یہ ایک سنگین نوعیت کا جرم ہے جو کہ بالآخر ناکام ہو گا۔‘

    شامی صدر نے امریکی ہم منصب کے نام پیغام میں یہ بھی کہا کہ وہ ان کے ملک پر عائد پابندیوں کو ختم کریں کیونکہ اب شام بہت چکا ہے۔

    دوسری جانب مصر کے صدر نے اپنے بیان میں امریکی ہم منصب کے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔

    عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو فلسطینیوں کو ان کے علاقے سے نکالے بغیر کیا جائے۔

    ملک کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ مصر کے وزیر خارجہ نے امریکی ہم منصب سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں کی اپنی سرزمین سے انسیت کو دیکھتے ہوئے انھیں فلسطین میں ہی رہنے دیا جائے۔

  19. حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی پر تنازع: اب تک ہم کیا جانتے ہیں

    حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کا عمل تا حکم ثانی معطل کیے جانے کے بعد اسرائیل کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ گذشتہ روز سے اب تک کیا ہوا ہے۔

    • حماس نے پیر کی رات اعلان کیا تھا کہ وہ تاحکم ثانی یرغمالیوں کی رہائی کو روک رہا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین ہفتوں کے دوران تحریک کی قیادت نے دشمن کی خلاف ورزیوں اور معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے میں ناکامی کا مشاہدہ کیا۔
    • حماس کی جانب سے 17 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ابھی باقی ہے ان میں سے آٹھ ہلاک ہو چکے ہیں۔
    • اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت تک پرعزم اور سخت کارروائی جاری رکھیں گے جب تک کہ ہم اپنے تمام یرغمالیوں، زندہ اور مرنے والوں کو واپس نہیں کر لاتے۔
    • اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر نے ملک کے وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دوہا جائیں اور حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی معطل کیے جانے کے عمل کو ختم کروائیں۔
    • حماس کے اعلان کے بعد تل ابیب میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور احتجاج کرنے والے اسرائیلی شہری یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے یروشلم جانے والی مرکزی شاہراہ کو بند کر دیا ہے۔
    • امریکی صدر نے ایک بار پھر غزہ کے معاملے پر بات کی ہے اور کہا ہے کہ اگر حماس نے سنیچر تک یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو جنگ بندی کو ختم کر دیا جائے۔ ان کا پیغام تھا کہ ’جہنم کو پھٹنے دو۔‘
    • امریکی صدر کے بیان پر حماس نے کہا ہے کہ دھمکی آمیز بیانات کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
    • امریکی صدر کے غزہ کے لیے مجوزہ پلان پر غزہ کے شہری سخت ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں ایک شہری نے کہا کہ ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ ہم غزہ چھوڑ رہے ہیں کیا غزہ ان کی ملکیت ہے کہ وہ لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ اسے چھوڑ دو۔سمیرہ نامی فلسطینی خاتون نے کہا کہ ٹرمپ غزہ کو جہنم بنانا چاہتے ہیں اور ایسا کبھی نہیں ہو گا۔
    • اقوام متحدہ نے حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کو جنگ بندی کے نازک معاہدے کے اپنے موقف کی پاسداری کرنی چاہیے۔
    • اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ اسرائیلی جیلوں سے 500 سے زائد فلسطینی قیدیوں کے بدلے غزہ سے 21 یرغمالیوں (16 اسرائیلی اور پانچ تھائی شہری) کو رہا کیا گیا۔
  20. عمران خان کا خط سنجیدہ نوعیت کا ہے، آئینی بینچ نے اسے دیکھنا ہے: چیف جسٹس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    CHIEF JUSTIC

    ،تصویر کا ذریعہSCP

    آئی ایم ایف کے خصوصی وفد نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی جس میں چیف جسٹس نے وفد کو عدالتی نظام اور اصلاحات سے متعلق آگاہ کیا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے آئی ایم ایف کے چھ رکنی وفد نے ملاقات کی۔

    پیر کو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے عدالتی اصلاحات کے لیے ایجنڈا مانگا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے آئی ایم ایف کے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کا بتایا، میں نے وفد کو بتایا کہ ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں۔ وفد نے کہا معاہدوں کی پاسداری، اور پراپرٹی حقوق کے بارے ہم جاننا چاہتے ہیں، میں نے جواب دیا اس پر اصلاحات کر رہے ہیں۔‘

    تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں نے آئی ایم ایف وفد کو جواب دیا ہے کہ ہم نے آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کا حلف اٹھا رکھا ہے، یہ ہمارا کام نہیں ہے آپکو ساری تفصیلات بتائیں۔‘

    صحافیوں سے گفتگو میں چیف جسٹس نے کہا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی پر بھی بات کروں گا۔

    ’میں نے آئی ایم ایف کے وفد کو بتایا ہم تجویز دیں گے، ہائیکورٹس میں جلد سماعت کے لیے بینچز بنائیں گے۔ میں نے وفد سے کہا جو آپ کہہ رہے ہیں وہ دو طرفہ ہونا چاہیے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے وفد نے کہا ہم پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا تحفظ چاہتے ہیں،

    چیف جسٹس نے بتایا کہ مجھے وزیراعظم کا خط بھی آیا، وزیراعظم کو اٹارنی جنرل کے ذریعے سلام کا جواب بھجوایا اور پیغام دیا کہ ان کے خط کا جواب نہیں دوں گا، میں نے وزیراعظم صاحب کو بذریعہ اٹارنی جنرل کہا اپنی ٹیم کے ساتھ آئیں۔ ہم نے قائد خزب اختلاف سے بھی بڑی مشکل سے رابطہ کیا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو سپریم کورٹ مدعو کیا ہے۔

    ’ہم نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے عدالتی اصلاحات کیلئے ایجنڈا مانگا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے بتایا کہ بانی پی ٹی آٸی کا خط موصول ہوا ہے۔ خط کے مندرجات سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔ بانی پی ٹی آٸی نے خط کے ساتھ دیگر مواد بھی لگایا ہے۔ بانی پی ٹی آئی جو ہم سے چاہتے ہیں، وہ آرٹیکل ایک سو چراسی کی شق تین سے متعلق ہیں، میں نے کمیٹی سے کہا اس خط کا جائزہ لیکر فیصلہ کریں، بانی پی ٹی آئی کا خط ججز آئینی کمیٹی کو بجھوایا ہے، وہ طے کریں گے۔‘

    ’خط لکھنے والے ججز اگر کمیشن اجلاس تک انتظار کر لیتے تو اچھا ہوتا‘

    چید جسٹس سے ملاقات کے دوران صحافیوں نے سوال کیے کہ بانی پی ٹی آئی کے خط کو ججز آئینی کمیٹی کو بھیجنے کے لیے کن وجوہات یا اصولوں کو مدنظر رکھا گیا، عدلیہ میں اختلافات کو ختم کرنے کیلئے کیا اقدامات کریں گے؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ خط لکھنے والی ججز کی پرانی چیزیں چل رہی ہیں، انھیں ٹھیک ہونے میں ٹائم لگے گا۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ خط لکھنے والے ججز کی وجہ سے ایک اہل جج سپریم کورٹ کا حصہ بننے سے رہ گیا، چیف جسٹس کو لکھا جانے والا خط مجھے ملنے سے پہلے میڈیا کو پہنچ جاتا ہے۔ ججز کو شائداعتبار نہیں رہا اس میں قصور میرا ہے کیونکہ میں بطور سربراہ میں انکے مسائل حل نہیں کر پا رہا۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں چیزوں کو مکس نہیں حل کرنا ہے، ہمیں سسٹم پر اعتبار کرنا ہوگا۔

    ’میں نے ججز سے کہا سسٹم کو چلنے دیں، سسٹم کو نہ روکیں، میں نے کہا مجھے ججز لانے دیں۔ میرا مسئلہ ہے کہ میں مختلف نوعیت کا جج ہوں، خط لکھنے والے ججز اگر کمیشن اجلاس تک انتظار کر لیتے تو اچھا ہوتا۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ کا جج بنانا چاہتا تھا، میرے بھائی ججز جو کارپوریٹ کیسز کرتے تھے، وہ آج کل کیسز ہی نہیں سن رہے۔

    ’کمیشن کو کہا مجھے ٹیکس اور کارپوریٹ والے ججز درکار ہیں، کمیشن ارکان نے کہا رولز کے مطابق دو مرتبہ ووٹنگ ہوچکی ہے، ایک تجویز آئی کہ عارضی جج لگا دیں پھر وہ سپریم کورٹ میں بھی مستقل ہوسکیں گے، اگر کل ججز بائیکاٹ نہ کرتے تو ایک سینئر اچھا ججز آجاتا۔ ‘

    چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’جب وقت آئے گا جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا نام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے زیر غور ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے تمام ججز کو ایک ساتھ بلا کر بات کی تھی، تمام ججز نے کہا جو بھی سپریم کورٹ آئے انہیں اعتراض نہیں ہوگا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ جیلوں میں جاتا ہوں تو لوگ مجھے قصوروار سمجھتے ہیں، آئندہ ہفتے سے دو مستقل بینچ صرف کرمنل مقدمات سنیں گے، ججز ہوں گے تو ہی بنچز بنا سکوں گا