حماس کا غزہ معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل جاری رکھنے کا اعلان

حماس کی جانب سے غزہ معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ قاہرہ میں مذاکرات کے بعد حماس نے کہا ہے کہ مصر اور قطر کے ثالثوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ معاہدے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے۔

خلاصہ

  • حماس کی جانب سے غزہ معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
  • پاکستان اور ترکی کے درمیان متعدد نئے معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتوں پر جمعرات کے روز وفاقی دارلحکومت میں دستخط ہوئے۔
  • انڈیا اور فرانس نے مشترکہ طور پر موڈیولر نیوکلیئر ری ایکٹرز بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
  • ڈونلڈ ٹرمپ کا روسی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ: امریکی صدر کا کہنا ہے کہ صدر پوتن نے یوکرین میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہیں۔
  • عمران خان کی ہدایت پر شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا ہے۔
  • حماس کے زیر نگرانی میڈیا کے مطابق حماس کا ایک وفد سیز فائر پر بات چیت کے لیے قاہرہ پہنچ گیا ہے۔
  • الفارعہ کیمپ میں موجود مہاجرین کا کہنا ہے کہ 'اسرائیل نے خوراک اور پانی کی ترسیل دس روز سے روک رکھی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ڈاکٹر شاہنواز قتل: ’پولیس افسران تحریکِ لبیک کے رہنما سے رابطے میں تھے اور سیاست دانوں سے مدد لینے کی کوشش کرتے رہے‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    ڈاکٹر شہنواز

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں توہین مذہب کے الزام میں گرفتار اور بعد میں پولیس مقابلے میں مارے جانے والے ڈاکٹر شاہنواز کنبہار کے کیس کا حتمی چالان ایف آئی اے نے پیش کر دیا ہے۔

    انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میرپور خاص میں ایف آئی اے کی جانب سے پیش کیے گئے چالان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پولیس افسران اور اہلکار تحریکِ لبیک کے رہنما پیر عمر جان سرہندی سے مسلسل رابطے میں تھے، اس کے علاوہ پولیس افسران تفتیشی ٹیم پر اثر انداز ہونے کے لیے سیاسی شخصیات سے بھی مدد کی کوشش کرتے رہے۔

    ایف آئی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’کھپرو میرپور خاص روڈ پر سبزل کا علاقہ جس کو جائے وقوعہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ شاہنواز کے ساتھ یہاں مقابلہ ہوا تھا۔ اس جگہ سی آئی اے اور سندھڑی تھانے کی دو پولیس موبائلیں (گاڑیاں) 19 نومبر کی شب بارہ بج کر پچیس منٹ پر پہنچی ہیں اور انجن بند کیا گیا ایک منٹ کے بعد انجن سٹارٹ ہوا اور اگلے لمحے دونوں موبائلیں سندھڑی کی طرف روانہ ہو گئیں۔

    ’ان میں سے سندھڑی پولیس کے موبائل بارہ بج کر اڑتالیس منٹ پر پہنچی ہے جبکہ سی آئی اے کی موبائل ایک بج کر اٹھارہ منٹ پر شاہنواز کی لاش سمیت سول ہسپتال میرپور خاص پہنچی۔‘

    تفتشیی ٹیم کے مطابق وقوعہ کے وقت ایس ایس پی اسد چوہدری سی آئی اے سینٹر پر موجود تھا۔ وہ ایک مشکوک فون نمبر کے ساتھ بھی رابطے میں تھے، اس کے علاوہ وہ سی آئی اے ٹیم کے اہلکار محمد اقبال سے بھی رابطے میں تھے جس کے فون کی لوکیشن پیر عمر جان کے ساتھ تھی۔

    ایف آئی اے کے حتمی چالان سے پتا چلتا ہے کہ ڈاکٹر کنبہار کو گرفتار کرنے والی ٹیم میں شامل پولیس کانسٹیبل معشوق پیر عمر جان کی ٹیم سے رابطے میں تھا۔

    عمرکوٹ

    ایف آئی اے کے چلان کے مطابق ’ایف آئی اے نے عمر جان کی موبائل کا فارنزک کیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ 18 نومبر کو اس نے ایس ایس پی عمرکوٹ آصف رضا سے رابطہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر شاہنواز کی کراچی سے گرفتاری کی خبر شیئر کی تھی، پیر عمر جان نے ایف آئی اے کو اپنی دو ویڈیوز پیش کی ہیں جس میں ڈاکٹر شاہنواز کے بارے میں ان کا مؤقف تھا اور پندرہ تصاویر بھی۔

    ایف آئی اے کے مطابق دو تصاویر میں جعلسازی کی گئی ہے تاہم اس چالان میں ان تصاویر کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔

    ایف ائی اے کے چالان میں بتایا گیا ہے کہ ڈی آئی جی جاوید سونھارو جسکانی وقوعہ کے وقت اپنے دفتر/رہائش گاہ میں موجود تھے اور ان کا صرف ایس ایس پی اسد چوہدری سے رابطہ تھا جبکہ ایس ایس پی آصف رضا اور عمر جان سے موبائل فون کے ذریعے رابطے کے ثبوت نہیں ملے تاہم پی ٹی سی ایل نمبر کا ذکر نہیں کیا گیا۔

    چلان کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد ملزمان میں ایک 15 لاکھ کی رقم کی مشکوک منتقلی پر بھی بات چیت کے ثبوت ملے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہوا کہ یہ رقم کس کو اور کیوں دینی تھی۔

    انسپیکٹر عنایت کو ایس ایس پی اسد چوہدری کا میسیج وصول ہوا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ڈی آئی جی صاحب نے پانچ لاکھ بھیجے ہیں، ایک دوسرے پیغام میں وہ چوہدری اسد عنایت کو کہتے ہیں کہ ’میں آج رات پانچ لاکھ بھیج دوں گا میں نے شبیر جسکانی ( ڈی آئی جی جاوید جسکانی کے بھائی) کو کہا ہے کہ ’وہ پانچ لاکھ بھیجے گا اس نے کہا ہے ٹوٹل پندرہ لاکھ۔ وہ کال کرے گا۔‘

    چالان میں پیش کیے گئے انسپیکٹر عنایت زرداری کے موبائل ریکارڈ کے مطابق ایس ایس پی چوہدری اسد نے عنایت زرداری کو میسیج فارورڈ کیا جس میں لکھا ہے کہ ڈی آئی جی جاوید جسکانی کا میسیج ہے اس میسیج میں لکھا ہے کہ ’عنایت کو کہو بڑے صاحب سے سردار شاہ کو ایک فون کروائے۔‘

    یاد رہے کہ صوبائی وزیر سردار شاہ نے سندھ اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے پہلی بار اس مقابلے پر شک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

    ایس ایس پی چوہدری نے ایک اور میسیج فارورڈ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’عنایت کو کہو کہ ادی سے ہوم منسٹر کو کال کروا دے۔ میں نے ان کو میسیج کیا ہے پر میرا میسیج شاید اتنے کام کا نہ ہو۔‘

    ایف آئی اے کے حتمی چالان میں تحریک لبیک کے رہنما پیر عمر جان سرہندی، ڈی آئی جی جاوید جسکانی، ایس ایس پی آصف رضا، ایس ایس پی اسد علی چوہدری، عنایت علی زرداری، ہدایت اللہ، ندار پرویز، غلام قادر، نیاز محمد کھوسو، دانش بھٹی سمیت 23 ملزمان کے خلاف ٹرائل کی گزارش کی گئی ہے۔

  2. یوکرین کے بغیر یوکرین کے بارے میں کوئی بات نہیں ہو سکتی: زیلینسکی

    zelensky

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے یوکرین جنگ سے متعلق ٹیلی فونک گفتگو کے بارے میں رپورٹرز سے بات کی ہے۔

    زیلینسکی نے رپورٹرز کو کیا بتایا:

    زیلینسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین ’کسی بھی ایسے معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گا‘ جو ملک کی شمولیت کے بغیر کیے جائیں گے۔

    ان کا مزید کا کہنا ہے کہ ’یہ اہم ہے کہ تمام چیزیں پوتن کے منصوبے کے مطابق نہ ہوں‘، اور پوتن چاہتے ہیں کہ مذاکرات روس اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ گفتگو میں بدل جائیں۔

    یوکرین کے صدر کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کی پوتن کو فون کال کو اس نظر سے نہیں دیکھتے کہ ’روس سے بات کرنا امریکی صدر کی ترجیح ہے۔‘

    تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کسی بھی صورت اچھی بات نہیں ہے۔ یوکرین کے بغیر یوکرین کے بارے میں کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ یورپی رہنماؤں کو مذاکرات کی میز پر ہونا چاہیے۔‘

    زیلینسکی کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے ٹرمپ کو بتایا تھا کہ ان کے ملک کے لیے پہلی ترجیح ’سکیورٹی کی گارنٹی‘ ہے اور وہ امریکی حمایت کے بغیر یہ ہوتا نہیں دیکھ رہے۔

  3. حماس کا غزہ معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل جاری رکھنے کا اعلان

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حماس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ غزہ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور طے شدہ وقت کے اندر یرغمالیوں کی رہائی جاری رکھے گی۔

    قاہرہ میں مذاکرات کے بعد حماس نے کہا کہ مصر اور قطر کے ثالثوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ معاہدے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں گے۔

    مصر اور قطر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ثالثوں نے فریقین کے درمیان خلا کو کم کر دیا ہے اور دونوں اس پر عمل درآمد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    تاحال اسرائیل کی جانب سے حماس کی جانب سے جاری اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم منگل کے روز اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اگر حماس نے سنیچر کے روز یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا تو جنگ بندی ختم ہو جائے گی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل حماس نے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں پر رہائی ملتوی کر رہی ہے۔

    حماس نے کہا تھا کہ اسرائیل خیمہ بستیوں اور پناہ گاہوں سمیت اہم انسانی امداد کی طے شدہ مقدار کی اجازت نہیں دے رہا تاہم اس بات سے اسرائیلی انتظامیہ انکار کرتی ہے۔

    حماس کی جانب سے اس بیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو تجویز پیش کی تھی کہ وہ اس معاہدے کو منسوخ کر دے اور اگر سنیچر تک ’تمام یرغمالیوں‘ کو حماس کی جانب سے رہا نہیں کیا جاتا اور اُن کی واپسی مُمکن نہیں ہوتی تو حماس کی خلاف دوبارہ جنگ کا آغاز کر دیا جائے۔

  4. مُجھے کوئی خط نہیں ملا اور ملا بھی تو وزیراعظم کو بھیج دوں گا: جنرل عاصم مُنیر

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ انھیں سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کوئی خط موصول نہیں ہوا ہے اور اگر ایسا کوئی خط ان کے نام آیا بھی تو وہ اسے وزیراعظم شہباز شریف کو بھیج دیں گے۔

    عمران خان کے وکلا کا دعویٰ ہے کہ تحریکِ انصاف کے بانی نے ملک کی بری فوج کے سربراہ کو کئی خطوط تحریر کیے ہیں جن میں نہ صرف ان کی جماعت کے تئیں فوج کی ’موجودہ پالیسی‘ میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ہے بلکہ انتخابی دھاندلی اور جیل میں ان سے روا رکھے گئے رویے پر بات کی گئی ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد میں ترک صدر رجب طیب اردوغان کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ’مجھے کسی کا کوئی خط نہیں ملا اور اگر کوئی خط ملا بھی تو وزیراعظم کو بھجوادوں گا۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان آگے بڑھ رہا ہے، پاکستان میں ترقی ہو رہی ہے اور پاکستان کو آگے بڑھنا ہے۔‘

    عمران خان کے وکلا اور تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کے مطابق عمران خان کی جانب سے پاکستانی فوج کے سربراہ کو پہلا خط تین فروری کو لکھا گیا تھا جس میں انھوں نے پاک فوج کے سربراہ سے پالیسیوں میں تبدیلی کی اپیل کی تھی۔

    اس کے بعد عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کو دوسرا خط مبینہ طور پر آٹھ فروری کو لکھا گیا اور سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والے متن کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’گن پوائنٹ پر 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام پر قبضہ کیا گیا۔‘

    اپنے اس دوسرے خط میں عمران خان کی جانب سے اُن کے ساتھ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں روا رکھے جانے والے روئیے پر بھی بات کی گئی تھی۔

    عمران خان نے آرمی چیف کے نام تیسرا خط گذشتہ روز لکھا جس کی تصدیق عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کی تھی۔ فیصل چوہدری نے بتایا کہ عمران خان کی جانب سے اس تیسرے خط میں انھوں نے مبینہ انتخابی دھاندلی کا معاملہ اٹھایا ہے اور دہشت گردی کی وجوہات پربات کی ہے۔

  5. پاکستان اور ترکی کے درمیان ائیر فورس الیکٹرانک وارفیئر سمیت متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    PM Office

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    پاکستان اور ترکی کے درمیان متعدد نئے معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتوں پر جمعرات کے روز وفاقی دارلحکومت میں دستخط ہوئے۔

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ اس تقریب میں ترک صدر رجب طیب اردوغان بھی موجود تھے۔

    اسلام آباد میں اس حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اُمید ہے صدر رجب طیب اردوغان کا دورہ پاکستان کے لیے مفید ثابت ہوگا اور پاکستان اور ترکی کے برادرانہ تعلقات ہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے بھی متاثر ہوا ہے اور ہو رہا ہے اور گزشتہ سال پاکستان کو بڑے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے بجہ سے مُلک میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مُشکل کی اس گھڑی میں ترکی نے پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔

    دونوں ممالک کے درمیان ائیر فورس الیکٹرانک وارفیئر اور انرجی ٹرانزیشن کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔

    اس کے علاوہ کان کنی کے شعبے میں تعاون، ہائیڈروکاربنز کے شعبے میں پاک ترک تعاون کے معاہدے میں ترمیم کے پروٹوکول پر بھی دستخط کیے گئے۔

    ایکسپورٹ کریڈٹ بینک ترکی اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک پاکستان میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، سامان کی تجارت بڑھانے کے حوالے سے مشترکہ وزارتی اسٹیٹمنٹ پر بھی دستخط کیے گئے۔

    صنعتی پراپرٹی میں تعاون کے علاوہ ترکی سیکرٹریٹ آف ڈیفنس انڈسٹریز اور وزارت دفاعی پیداوار میں بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

    ترکی ایرو اسپیس انڈسٹریز اور نیول ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ اور پاکستان میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

    PM Office

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    حلال ایکریڈیٹیشن اتھارٹی آف ترکی اور پاکستان حلال اتھارٹی، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے جبکہ لیگل میٹرولوجی انفرا اسٹرکچر کے قیام کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

    پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت بڑھانے، صنعتی پراپرٹی میں تعاون، تجارت میں استعمال ہونے والے اوریجن سرٹیفکیٹس کی تصدیق کی ڈیجیٹائز یشن، ائیر فورس الیکٹرانک وارفیئر، ترکی کے سیکریٹریٹ آف ڈیفنس انڈسٹریز اور پاکستان کی وزارت دفاعی پیداوار کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

    ان کے علاوہ دونوں مُمالک کے درمیان ترکی کی ایرو سپیس انڈسٹریز اور نیول ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ، پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے علاوہ حلال تجارت کے شعبے میں تعاون، لیگل میٹرولوجی انفرااسٹرکچر کے قیام، زرعی بیجوں کی پیدوار، پانی کے شعبے میں تعاون اور صحت اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں میں تکنیکی تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔

  6. پوتن سے ملاقات کے لیے سعودی عرب ٹرمپ کا اولین انتخاب کیوں ہے؟, فرینک گارڈنر، نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    محمد بن سلمان ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے ملاقات سعودی عرب میں ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے ملاقات کے لیے سعودی عرب کا انتخاب ایک طرح سے فطری عمل ہے۔

    2017 میں جب ٹرمپ پہلی مرتبہ صدر منتخب ہوئے تو بطور صدر پہلا دورہ انھوں نے سعودی عرب کا کیا تھا۔

    مجھے بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب دورے کی تجویز روپرٹ مردوک نے دی تھی اور ان کا وہ دورہ کافی کامیاب رہا۔

    ٹرمپ کے اس دورے کے دوران متعدد معاہدوں پر دستخط ہوئے اور اس کے اگلے مہینے سعودی عرب کے شاہ سلمان کے چہیتے بیٹے محمد بن سلمان ولی عہد بن گئے۔

    دورے کے بعد بھی محمد بن سلمان کے ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر نے قریبی تعلقات قائم رکھے۔

    لیکن سعوی شاہی خاندان بالخصوص محمد بن سلمان کے روسی صدر پوتن سے بھی اچھے تعلقات ہیں۔

    2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد بھی سعودی عرب نے مغربی ممالک کا ہمنوا بن کر روس کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔

    نہ صرف روس اور سعودی عرب کے مابین تیل کی تجارت کو لے کر تعاون جاری رہا بلکہ سعودی عرب نے یوکرین جنگ میں قیدیوں کے تبادلے میں بھی ثالث کا کردار ادا کیا۔

    لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے بائیڈن انتظامیہ سے تعلقات خوشگوار نہیں تھے۔

    وہ 2018 میں جمال خاشقجی کے قتل کے بعد جو بائیڈن کے اس بیان کو کبھی نہیں بھولے جس میں انھوں نے سعودی عرب کو ایک ’اچھوت ریاست‘ کہا تھا جبکہ دوسری جانب ٹرمپ اس قتل میں محمد بن سلمان کے مبینہ کردار پر ان کی مذمت کرنے سے گریزاں تھے۔

  7. انڈیا اور فرانس کا موڈیولر نیوکلیئر ری ایکٹرز بنانے کا اعلان

    نریندر مودی اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا ہے کہ ’توانائی کی سکیورٹی‘ اور ’کاربن کا کم اخراج کرنے والی معیشت‘ کے قیام کے لیے جوہری توانائی پر کام کرنے ضرورت ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشننریندر مودی اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا ہے کہ ’توانائی کی سکیورٹی‘ اور ’کاربن کا کم اخراج کرنے والی معیشت‘ کے قیام کے لیے جوہری توانائی پر کام کرنے ضرورت ہے۔

    انڈیا اور فرانس نے مشترکہ طور پر موڈیولر نیوکلیئر ری ایکٹرز بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

    انڈین وزارتِ خارجہ کا یہ بیان وزیرِ اعظم نریندر مودی کے فرانس کے دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    نریندر مودی اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا تھا کہ ’توانائی کی سکیورٹی‘ اور ’کاربن کا کم اخراج کرنے والی معیشت‘ کے قیام کے لیے جوہری توانائی پر کام کرنے ضرورت ہے۔

    اس اعلان سے ایک روز قبل انڈیا نے کہا تھا کہ وہ اپنے سخت جوہری قوانین میں تبدیلی لانے جا رہا ہے۔

    موجودہ قانون کے تحت کسی بھی حادثے کی ذمہ داری آپریٹرز پر عائد ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس ہی قانون کے باعث ماضی کے جوہری منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے۔

    توقع کی جا رہی ہے کہ اپنے دورہ امریکہ کے دوران نریندر مودی امریکی کمپنیوں سے جوہری منصوبوں میں سرمایہ کاری کے بارے میں بھی بات کریں گے۔

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ سویلین استعمال کے لیے انڈیا اور فرانس مشترکہ طور چھوٹے موڈیولر نیوکلیئر ری ایکٹرز اور ایڈوانس نیوکلیئر ری ایکٹرز بنائیں گے۔

    یہ ایسے ری ایکٹرز ہوتے ہیں جنھیں فیکٹریوں میں تیار کیا جا سکتا ہے اور ضرورت کے مقام پر لے جا کر نصب کیا جا سکتا ہے۔

    ان ری ایکترز کے لیے زیادہ زمین یا وسیع انفراسٹرکچر کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ روایتی نیوکلیئر ری ایکٹرز سے کافی چھوٹے ہوتے ہیں۔

    فرانس کے ساتھ مجوزہ شراکت داری انڈیا کی جوہری توانائی کی پالیسی میں تبدیلی کی جانب واضح اشارہ ہے۔

    انڈین حکومت جو پہلے جوہری توانائی کے سخت ضوابط کے لیے جانی جاتی تھی بظاہر اب بین الاقوامی تعاون اور نجی شعبے کی شراکت داری کے راضی دکھائی دیتی ہے۔

    انڈیا کی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے رواں ماہ کے شروع میں جوہری توانائی کے نئے اہداف کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق انڈیا سال 2047 تک جوہری توانائی پیدا 100 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    مودی حکومت نے جوہری تحقیق پر دو ارب ڈالرز سے زیادہ رقم لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس میں سے بیشتر فنڈ 2033 تک پانچ مقامی ری ایکٹرز تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

  8. صوابی: مبینہ طور پر ناراض بیوی کو منانے میں ناکامی پر شوہر نے چار بچوں کو ذبح کر کے خودکشی کر لی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور

    ریسکیو

    ،تصویر کا ذریعہ1122

    ،تصویر کا کیپشنریسکیو اہلکار لاشیں ہسپتال منتقل کر رہے ہیں

    خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں پولیس کے مطابق مبینہ طور پر ناراض بیوی کو منانے میں ناکامی کے بعد شوہر نے اپنے ہی چار کم عمر بچوں کو مارنے کے بعد خودکشی کر لی ہے۔

    یہ واقعہ بدھ کی رات صوابی کے تھانہ یار حسین کی حدود میں سڑہ چینہ کے مقام پر پیش آیا ہے۔

    تھانہ یار حسین کے ایس ایچ او عبدالولی خان نے بتایا کہ صبح سویرے انھیں فون کال موصول ہوئی کہ ایک مکان میں چار بچے ذبح شدہ حالت میں موجود ہیں جبکہ بچوں کے والد بھی وہیں مردہ حالت میں پڑے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق اس معاملے پر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    صوابی میں ریسکیو 1122 کے مطابق اُن کے اہلکاروں نے اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچ کر لاشوں کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

    ایس ایچ عبدالولی خان نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق سیف الاسلام نامی شخص کپڑوں کی سلائی کا کام کرتے تھے اور اہلخانہ اور علاقہ مکینوں کے ابتدائی بیانات کے مطابق اُن کی اہلیہ کچھ عرصہ قبل اُن سے ناراض ہو کر میکے چلی گئی تھیں۔

    عبدالولی خان کے مطابق سیف نے اپنی اہلیہ کو منانے کی کافی کوششیں کیں اور اس حوالے سے وہ ایک جرگہ بھی لے کر گئے لیکن اُن کی اہلیہ واپس نہیں آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان بیانات کی روشنی میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

    پولیس کے مطابق سیف الاسلام کی عمر 42 سال بتائی گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والے اُن کے بڑے بیٹے ضیا اسلام کی عمر 12سال، بیٹےعبدالرحمان کی عمر 10سال ، بیٹی ثنا کی عمر آٹھ سال اور ایک بیٹی کی عمر دو سال بتائی گئی ہے۔

    مقامی صحافی مقدم خان کا کہنا ہے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ علاقہ مکینوں کے مطابق یہ شخص ذہنی تناؤ کا شکار تھا تاہم ان کے اس مبینہ اقدام کی وجوہات پولیس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکیں گی۔

  9. ایڈورڈ سنوڈن کے حق میں بیانات دینے والی تلسی گبارڈ امریکہ کی نئی انٹیلی جنس سربراہ بن گئیں

    تلسی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بدھ کے روز امریکہ کے سینیٹ نے تلسی گبارڈ کی بطور نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر تعیناتی کی توثیق کر دی ہے۔

    تلسی گبارڈ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کابینہ میں شامل کیے جانے کے لیے منتخب افراد میں سے سب سے متنازع رکن ہیں۔

    نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر کے طور پر وہ 18 انٹیلیجنس اداروں کی سربراہ ہوں گی جن میں سی آئی اے، ایف بی آئی اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 70 ارب ڈالرز کے بجٹ پر بھی ان کا کنٹرول ہوگا۔

    سینیٹ سے توثیق سے قبل کئی مرتبہ ایسا لگا کہ جیسے تجربے کی کمی اور ان کے ماضی کے متنازع بیانات کی وجہ سے شاید وہ اس عہدے کے لیے سینیٹ میں مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر پائیں۔

    نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر کے طور پر تعیناتی کے عمل کے دوران انھیں سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے پیشی پر ماضی کے اپنے بیانات پر کمیٹی ارکان کے مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

    کمیٹی ممبران نے ان سے ایڈورڈ سنوڈن کے بارے میں ان کے ماضی کے تبصروں، حکومت کی لوگوں کی نگرانی کرنے کے اختیارات، روسی صدر ولادیمیر پوتن اور شام کے سابق آمر بشار الاسد کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوال پوچھے۔

    گبارڈ کو 2017 میں اس وقت کے شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ ملاقات پر کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ملاقات کے بعد انھوں نے دعوی کیا تھا کہ وہ ایک طویل عرصے سے جاری تنازع کا پر امن حل ڈھونڈے کی کوشش کر رہی تھیں۔ تاہم ان کی بشارالاسد سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

    بدھ کے روز سینیٹ میں ان کی نامزدگی کی توثیق پر ووٹنگ کے عمل سے قبل ڈیموکریٹ رکن چک شومر کا کہنا تھا کہ جس رات روس نے یوکرین کے ساتھ باقاعدہ جنگ کا آغاز کیا، اس وقت گبارڈ پوتن کے عمل کے لیے امریکہ اور نیتو کو قصوروار ٹھہرا رہی تھیں۔ ان کے مطابق یہ وجہ انھیں نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر نہ لگانے کے لیے کافی ہے۔

    اس کے علاوہ گبارڈ کو نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے راز افشاں کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن کی حمایت میں دیے گئے بیانات کی وجہ سے بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

  10. پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو خط، 2024 کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ

    پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو خط لکھ کر اس سے 2024 کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    یہ خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی ایم ایف کا چھ رکنی خصوصی وفد پاکستان کے دورے پر ہے۔

    حکام کے مطابق یہ وفد مالیاتی گورننس، سینٹرل بینک گورننس اینڈ آپریشنز، مالیاتی شعبے پر نظر رکھے گا، مارکیٹ ریگولیشن کا جائزہ لے گا اور پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور اینٹی منی لانڈرنگ جیسے اقدامات کا جائزہ لے گا۔

    ایک ہفتے کے لیے پاکستان کے دورے پر آیا آئی ایم ایف کا وفد عدلیہ، سٹیٹ بینک، الیکشن کمیشن، فنانس اور ریونیو اور ایس ای سی پی سمیت دیگر شعبوں کے حکام سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔

    منگل کے روز آئی ایم ایف کے وفد نے اس ضمن میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے بھی ملاقات کی تھی۔

    پی ٹی آئی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر عمر ایوب خان کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی جانب سے آئی ایم ایف کو ایک ڈوزیئر بھی بھیجا گیا ہے جس میں 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کے ثبوت فراہم کیے گئے ہیں۔

    عمر ایوب کا کہنا ہے کہ اس سے قبل یہ دوزیئر چیف جسٹس کو بھی بھیجا جا چکا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے آئی ایم ایف پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ معاملات میں شفافیت اور قانون کی حکمرانی کا خیال رکھے۔

    ’ہمیں امید ہے کہ پاکستان کے مستقبل سے متعلق تمام معاملات میں قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی بالادستی آئی ایم ایف کی اولین ترجیح رہے گی۔‘

    پی ٹی آئی کے مطابق ڈوزئیر میں پاکستان میں فوج کی حمایت یافتہ حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے شیئر کی جانے والی رپورٹ ایک غیر سرکاری تنظیم پٹٹن نے تیار کی ہے۔ اس تنظیم کا دعوی ہے کہ انھوں نے 2024 کے عام انتخابات کے نتائج کا جائزہ لیا ہے اور انھیں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے ثبوت ملے ہیں۔

  11. ڈونلڈ ٹرمپ کا پوتن سے ٹیلیفونک رابطہ: ’ٹرمپ نے پوتن کو سیاسی تنہائی سے واپسی کا راستہ فراہم کیا ہے‘

    ٹرمپ، پوتن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ٹیلیفون پر تفصیلی اور سیر حاصل گفتگو ہوئی ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے یوکرین میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ روسی صدر اور ان کے درمیان اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ ان کی ٹیمیں فوری طور پر مذاکرات شروع کریں گی۔ ٹرمپ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو اپنے ملک دورے کی دعوت بھی دی ہے۔

    امریکی صدر نے اپنے پیغام میں اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ ان کی ولادیمیر پوتن سے ملاقات کب متوقع ہے۔ تاہم بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی صدر پوتن سے ملاقات سعودی عرب میں ہو گی۔

    دوسری جانب، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا ان کی صدر ٹرمپ سے ’دیر پا اور قابلِ بھروسہ امن‘ کے قیام کے بارے میں بات ہوئی ہے۔

    زیلنسکی کا کہنا ہے کہ میونخ میں یوکرین پر ہونے والی دفاعی کانفرنس کے دوران جمعے کے روز ان کی امریکی نائب صدر جے ڈی ونس سے ملاقات متوقع ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے روسی اور یوکرینی ہم منصب سے رابطے سے قبل امریکی صدر اور وزیرِ دفاع کا بیان سامنے آیا تھا کہ جس میں کہا گیا تھا کہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت مشکل ہے۔

    پوتن

    ،تصویر کا ذریعہget

    ’ٹرمپ نے پوتن کو سیاسی تنہائی سے واپسی کا راستہ فراہم کیا ہے‘: سٹیو روزنبرگ کا تجزیہ

    ایک فون کال سے یوکرین کی جنگ ختم نہیں ہونے والی۔

    مذاکرات کا شاید آغاز ہو جائے۔ لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مذاکرات کب مکمل ہوں گے۔

    لیکن یہ ٹیلیفونک رابطہ ولادیمیر پوتن کے لیے ایک طرح کی جیت ہے۔

    تقریباً تین سال سے وہ ایک طرح کی سیاسی تنہائی کا شکار تھے۔ پوتن کے یوکرین پر باقاعدہ حملے کے فیصلے نے انھیں ایک طرح سے سیاسی اچھوت بنا دیا تھا۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف ایک قراداد منظور کی تھی۔

    روس پر لاتعداد بین القوامی پابندیاں لگائی گئیں۔ اس کے بعد انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے ولادیمیر پوتن کی گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کیا۔

    اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے کھلے الفاظ میں اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی نظر میں روسی صدر ایک ’قاتل آمر‘ اور ’غنڈے‘ ہیں۔

    فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد جو بائیڈن اور ولادیمیر پوتن کے درمیان کوئی ٹیلیفونک رابطہ نہیں ہوا۔

    2025 آتا ہے۔ نئے امریکی صدر کی اوول آفس میں آمد کے ساتھ ہی امریکہ کے روس کی جانب رویے میں تبدیلی آئی ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے روسی صدر پوتن کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیں گے۔ انھیں امید ہے کہ وہ دونوں ’ایک دوسرے کے ملک کا دورہ‘ کریں گے۔ پوتن کو بھی شاید ایسا ہی لگتا ہے اور انھوں نے بھی صدر ٹرمپ کو ماسکو کے دورے کی دعوت دی ہے۔

    اگر ٹرمپ ماسکو کا دورہ کرتے ہیں تو یہ امریکہ اور روس کے تعلقات میں ایک نیا موڑ سمجھا جائے گا۔ تقریباً ایک دہائِی سے کسی امریکی صدر نے روس کا دورہ نہیں کیا ہے۔

    دیکھا جائے تو ایک طرح سے پوتن وہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جو انھیں چاہیے تھا – یوکرین کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ ان کے لیے بین الاقومی سیاست میں واپسی کا ایک بہترین موقع ہے۔

    تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ پوتن کس حد تک سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    روسی حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن وہ اس کے لیے ہمیشہ پوتن کے جون 2024 کے مصوبے کا حوالہ دیتے ہیں۔

    اس منصوبے کے تحت روس ان تمام علاقوں کے علاوہ جن پر وہ قابض ہے یوکرین کے کنٹرول میں موجود مزید کئی علاقے بھی اپنی سرحد میں شامل کرے گا۔

    اس کے علاوہ یوکرین نیٹو میں شمولیت بھی اختیار نہیں کر پائے گا اور روس پر عائد مغربی پابندیاں بھی اٹھا لی جائیں گی۔

    جیسا کہ رواں ہفتے ایک روسی اخبار نے لکھا ہے ’روس مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اپنی شرائط پر۔‘

    ’اگر آپ سفارتی زبان نکال دیں تو یہ اور کچھ نہیں صرف الٹی میٹم ہے۔‘

  12. ترک صدر رجب طیب اردوغان دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    Erdogan

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان بدھ کی شب پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ نور خان ایئربیس پران کے استقبال کے لیے ۔صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے کیا۔

    ترک خاتون اول بھی ترک صدر کے ہمراہ تھیں۔ اس موقع پرخاتون اول آصفہ بھٹو زرداری، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹرمحمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیراطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ بھی موجودتھے۔

    Turk President

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں نے ان کا فضائی استقبال کیا اور ان کے جہاز کو اپنی حصار میں اسلام آباد لائے۔

    طیب اردوغان کے اعزاز میں 21 توپوں کی سلامی پیش کی گئی۔

  13. ’عمران خان کی ہدایت پر شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Sher Afzal

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    رکن قومی اسملبی شیر افضل مروت کو تحریک انصاف سے نکال دیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ شیر افضل مروت کو شو کاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق شوکاز نوٹس کا جواب مد نظر رکھتے ہوئے شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالا جاتا ہے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ شیر افضل مروت کو عمران خان کی ہدایت پر نکالا گیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن پر پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل فردوس شمیم نقوی کے دستخط سے جاری کیا گیا ہے۔

    Sher Afzal

    ،تصویر کا ذریعہX

    اس نوٹیفکیشن کے سامنے آنے سے قبل ہی شیر افضل مروت نے پارٹی سے نکالے جانے سے متعلق اپنے خدشے کا اظہار ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے خان صاحب کو نہیں چھوڑا لیکن اگر وہ مجھے چھوڑ گئے تو میں پھر کبھی ان کے پاس نہیں جاؤں گا۔‘

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

  14. سعودی عرب کی غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے کے اسرائیلی بیان کی مذمت کر دی

    سعودی عرب نے فلسطینوں کو غزہ سے نکالنے کے لیے دیے جانے والے اسرائیلی بیان کی مذمت کی ہے۔

    سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سعودی پریس ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ملک کی کابینہ کے اجلاس جس کی سربراہی ولی عہد محمد بن سلمان کر رہے تھے نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینوں کو ان کی سرزمین سے نکالے جانے کے انتہاپسندانہ بیانات کو ’مکمل طور پر مسترد‘ کیا ہے۔

    سعودی خبر رساں ادارے کی رپوٹس کے مطابق سعودی حکومت فلسطینی کاز کی مرکزیت پر بھی زور دیتی ہے۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب کا ردعمل اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’سعودی، سعودی عرب کے اندر فلسطینی ریاست بنا سکتے ہیں۔‘

    محمد بن سلمان نے اپنی کابینہ کو اردن کے بادشاہ عبداللہ اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان کی فون کالز کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

  15. ’اسرائیل نے الفارعہ کیمپ میں خوراک اور پانی کی ترسیل دس روز سے روک رکھی ہے‘: متاثرین

    الفاعہ کیمپ

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

    مغربی کنارے پر موجود الفارعہ کیمپ میں کے مہاجرین نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں فلسطینی فوج کے احکامات کے بعد بے گھر ہونا پڑا۔

    معاویہ مصطفیٰ جو کہ اس کیمپ میں موجود ہیں نے غزہ لائف لائن ریڈیو کو بتایا کہ اسرائیلی فوجی کیمپ میں 11 روز پہلے آئے اور انھوں نے بجلی، پانی اور ٹیلی فون کی سپلائی اور نیٹ ورک تباہ کر دیا۔

    ایک اور رہائشی یاسر نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی ان کے گھر کے باہر بڑی تعداد میں موجود تھے اور ہمارے خاندان پر زور دے رہے تھے کہ وہ فوری طور پر بنا کوئی سامان لیے گھر سے نکل جائیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایک صفحہ دیا گیا جس پر لکھا تھا کہ ہمارے گھر فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوں گے اور ہمیں یہاں سے جانا ہو گا۔ ہمیں اپنے انھیں کپڑوں میں گھر سے نکلنے پر مجبور کیا گیا جو اس وقت ہم نے پہن رکھے تھے۔

    اس کیمپ کی ہنگامی کمیٹی کے ممبر باسل منصور کہتے ہیں کہ آج دسواں روز ہے اسرائیل کیمپ میں نہ پانی آنے دے رہا ہے اور نہ کھانا۔

  16. سیزفائر کے باوجود اسرائیل حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے, ہوگو بیچیگا، مشرق وسطی کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار

    اسرائیل نے لبنان سے درخواست کی ہے کہ وہ جنوبی لبنان سے اس کے فوجی دستوں کو ہٹانے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کر دے۔

    ایک مغربی سفارتی ذریعے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسرائیل اس وقت یہ چاہتا ہے کہ اس کے فوجی لبنان میں مزید دس روز کے لیے پانچ پوزیشنز پر موجود رہیں۔

    خیال رہے کہ یہ ڈیڈ لائن آئندہ منگل کو ختم ہو رہی ہے۔

    لبنان نے اسرائیل کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

    وہ معاہدہ جس سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ختم ہوئی تھی میں ثالثی کا کردار امریکہ اور فرانس نے ادا کیا تھا اور اس پر عمل درآمد گذشتہ نومبر میں ہوا تھا۔

    اس معاہدے کے تحت اسرائیل کو جنوبی لبنان سے اپنے فوجی دستوں کو ہٹانا تھا، خزب اللہ کو اپنے جنگجوؤں کو یہاں سے ہٹانا تھا اور اس علاقے میں لبنان کے فوجیوں کو تعینات کیا جانا تھا۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں کئی دہائیوں تک حزب اللہ ایک مضبوط فورس تھی۔

    خیال رہے کہ یہ توسیع پہلے بھی ایک بار دی جا چکی ہے کیونکہ معاہدے کے تحت اسرائیل نے ابتدائی طور پر 26 جنوری کو اپنی فوجوں کو ہٹانا تھا۔

    اس کے بعد اسرائیل نے حزب اللہ پر الزام عائد کیا کہ وہ معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا جبکہ حزب اللہ کا موقف یہ تھا کہ اسرائیل اپنی فوجوں کو ہٹانے میں تاخیر کر رہا ہے۔

    سیز فائر کے باوجود اسرائیل حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس نے کہا ہے کہ وہ ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنے کے لیے اور حملے کر ے گا۔

  17. تمام اسرائیلی مغویوں کو سنیچر تک رہا کرنا ناممکن ہے: مصطفیٰ برغوثی

    مصطفیٰ برغوثی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فلسطین نیشنل انیشیٹو (پی این آئی) کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ برغوثی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا ہے کہ اسرائیلی کابینہ کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ نے متفقہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کی حمایت کی ہے کہ غزہ میں حماس کے زیر حراست باقی ماندہ تمام یرغمالیوں کو ہفتے کی دوپہر تک رہا کر دیا جائے۔

    تاہم منگل کو اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے بیان میں فقط ’ہمارے یرغمالی‘ کہا جس کے بعد یہ واضح نہیں کہ کیا ان کا مطلب تمام 76 اسرائیلی یرغمالی تھا یا پھر وہ ان تین کی بات کر رہے ہیں جنھیں سیز فائر کے معاہدے کے تحت سٹیج ون میں سنیچر کو رہا کیا جانا تھا۔

    حماس نے منگل کو الزام لگایا تھا کہ اسرائیل سیز فائر کی پاسداری نہیں کر رہا ہے اس لیے تاحکم ثانی مغویوں کی رہائی کو معطل کیا جاتا ہے۔

    فلسطین نیشنل انیشیٹو (پی این آئی) کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ برغٖوثی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کابینہ تمام مغویوں کی سنیچر تک رہائی کا ایک ایسا مطالبہ کر رہی ہے جس کو عملی طور پر پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔

    بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کے اختتام تک تمام مغویوں کی رہائی جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک مضبوط رائے موجود ہے۔

  18. خان یونس میں روزمرہ کی زندگی بحال لیکن جنگ بندی ختم ہونے کا خوف بھی

    KHAN YOUNIS

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایک مارکیٹ کا منظر جہاں لوگ سبزی اور فروٹ خریدنے آئے ہیں لیکن یہاں سیز فائرختم ہونے کے خدشات کی وجہ سے لوگوں میں خوف بھی پایا جاتا ہے

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی میں پائی جانے والی طویل غیر یقینی کے دوسری جانب جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں بظاہر روزمرہ زندگی بحال ہو رہی ہے۔

    بی بی سی ویریفائی کو گذشتہ برس پتہ چلا تھا کہ اسرائیلی فوج نے خان یونس کے علاقے پر شدید گولہ باری کی تھی۔

    KHAN YOUNIS

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشندن کے آغاز پر خان یونس کی ایک مارکیٹ کا منظر جہاں لوگ خریدو فروخت کے لیے آئے ہیں
    KHAN YOUNIS

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنجنگ بندی کے معاہدے کے بعد اسرائیل نے ان متاثرہ علاقوں خوراک اور امدادی سامان کی ترسیل کو بحال کرنے کی اجازت دی
  19. مصر: غزہ میں فلسطینیوں کی بقا کے لیے ایک جامع حکمت عملی پیش کی جائے گی

    مصر کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کی بقا کے لیے ایک جامع حکمت عملی پیش کرے گا۔ مصر کا یہ بھی کہنا ہے کہ خطے میں آگے جو بھی ہو گا اس میں امن کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔

    سیز فائر کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے: اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اگر حماس نے اس کے شہریوں کو سنیچر تک رہا نہ کیا تو غزہ میں پھر سے جنگ چھڑ جائے گی۔ بی بی سی کے نامہ نگار وائر ڈیوس کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم تمام 76 مغویوں کی ڈیڈ لائن تک رہائی پر اصرار کرتے ہیں تو تب غیر یقینی ختم ہو جائے گی۔

    صدر ٹرمپ کا منصوبہ مسترد: امریکی صدر کا غزہ پر قبضہ کرنے کے منصوبے کے باوجود اردن کے وزیراعظم جعفر حسن نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے باہر نہیں نکالا جائے گا۔ اور ان کا ملک مصر کے ساتھ غزہ کی تعمیر نو کے لیے کام کر رہا ہے۔

    غزہ میں خوف کے سائے: فلسطینی عوام کے گھروں میں لوٹنے کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ خطرے میں دکھائی دے رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں کے لوگ پھر سے جنگ شروع ہونے کے خدشے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ ایک شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ یہاں کی گلیوں میں خوف اور اضطراب حاوی ہے۔

    مغویوں کے خاندان سہمے ہوئے ہیں: عمر شیم کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ سیز فائر کے ختم ہو جانے کے خدشے کی وجہ سے ڈرے ہوئے ہیں۔ نمرود کوہن کی والدہ جھنوں نے اپنے بیٹے کو کئی ماہ سے دیکھا نہیں کہتی ہیں کہ یہ زندگی اور موت کا معاملا ہے۔

  20. قطر اور مصر نے غزہ سیز فائر کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دیں

    GAZA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر اور مصر غزہ سیز فائر کو برقرار رکھنے اور کسی بھی قسم کی جارحیت سے بچنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    ایک سینئر مصری عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا کہ مصر اور قطر نے غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔

    خیال رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے تین مراحل طے پائے تھے تاہم حماس نے حال ہی میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل یہ کہتے ہوئے معطل کیا کہ اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

    مصری عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ثالث اس وقت ایک ایسا حل تلاش کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جنگ بندی کے معاہدے پر متوازن انداز میں عمل درآمد ہو اور امن برقرار ہے تاکہ پھر سے لڑائی نہ شروع ہو جائے۔

    مصری عہدے دار کا کہنا تھا کہ اس وقت سیز فائر کا جاری رہنا ہر کسی کے مفاد میں ہے اور ہم اس بات سے خبردار کرتے ہیں کہ اگر معاہدہ ٹوٹ گیا تو اس سے تشدد کی ایک تازہ لہر اٹھے گی جس کے علاقائی سطح پر بہت خطرناک اثرات ہوں گے۔

    اس ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ اعلیٰ سطح پر بات چیت جاری ہے، قاہرہ اور دوہا تمام قریقین کو اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ معاہدے کے تمام شرائط پر عمل کریں۔