یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا تاہم بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔ تازہ ترین خبروں کو جاننے کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عدلیہ کے حوالے سے ایسی سرگوشیاں سننے کو مل رہی ہیں کہ الیکشن نتائج منسوخ کرنے کی بات ہو رہی ہے۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا تاہم بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔ تازہ ترین خبروں کو جاننے کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عدلیہ کے حوالے سے ایسی سرگوشیاں سننے کو مل رہی ہیں کہ الیکشن نتائج منسوخ کرنے کی بات ہو رہی ہے۔
انھوں نے ہم نیوز کے پروگرام فیصلہ آپ کا میں میزبان اور صحافی عاصمہ شیرازی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سرگوشیاں ایسی بھی ہیں کہ کہا جا رہا ہے کہ اکتوبر آنے دو، الیکشن (آڈٹ) سے متعلق درخواست لگے گی تو اس سے بھی نمٹ لیں گے۔‘
خیال رہے کہ رواں برس 12 فروری کو سپریم کورٹ میں ایک شہری علی خان کی جانب سے پرائیویٹ پٹیشن بھیجی گئی تھی جس میں مبینہ دھاندلی کے سبب الیکشن کو منسوخ کرنے کا درخواست کی گئی تھی۔ درخواست میں عدالت سے 30 روز میں نئے انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کروانے کی بات کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ سابق وزیرِ اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے رواں سال مارچ میں سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں فروری 8 کے عام انتخابات کا آڈٹ کروانے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست کی تھی جس کے ممبران سپریم کورٹ کے ججز خود ہوں، جن کا کسی بھی فریق کی جانب جھکاؤ نہ ہو۔ پٹیشن میں پنجاب اور وفاق میں حکومتوں کے قیام کو منسوخ کرنے کے حوالے سے بھی بات کی گئی تھی جب تک جوڈیشل کمیشن کے نتائج سامنے نہیں آ جاتے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ خواجہ آصف کا اشارہ ان ہی درخواستوں کی جانب تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی صورت حال کا بھرپور دفاع کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’الیکشن کے نتیجے میں ہمیں جو سپیس ملی ہے اس کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے، اس سلسلے میں ہمارے پاس جو جو دوا موجود ہے استعمال کریں گے۔‘
’کوئی نہ کوئی آئینی میلٹ ڈاؤن ہونے والا ہے، جلد یا بدیر لیکن یہ ہو گا‘
خواجہ آصف کی جانب سے اس کے علاوہ جیو نیوز کے شو آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں بھی تفصیل سے بات کی گئی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ کا جو 70 سال کا رواج ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے داہنے ہاتھ پر کھڑی رہی ہے، لیکن اب کسی اصول کے تحت کچھ نہیں ہو رہا بلکہ سارے کے سارے اداروں میں سیاست سرایت کر گئی ہوئی ہے اور عدلیہ ان میں سرِ فہرست ہے آپ ان کے ریمارکس دیکھ لیں، اس وقت جو سیاسی طور پر سب سے زیادہ متحرک آئینی ادارہ ہے وہ عدلیہ ہے، ہم لوگ تو بیک سیٹ لے چکے ہیں۔ میں اتفاق کرتا ہوں کہ جتنا سیاسی ایکٹوزم ادھر چھایا ہوا ہے اس سے ہمارا میل بھی نہیں ہے۔‘
اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ کوئی نہ کوئی آئینی میلٹ ڈاؤن ہونے والا ہے، جلد یا بدیر لیکن یہ ہو گا۔‘
میزبان شاہزیب خانزادہ نے ان سے پوچھا کہ کیا اس سے آپ کی مراد مارشل لا ہے، تو خواجہ آصف نے جواب دیا کہ ’میں مارشل لا کی بات نہیں کر رہا لیکن ایک آئینی بریک ڈاؤن آپ کو اس وقت بھی نظر آ رہا ہے۔۔۔ میں ابھی وضاحت نہیں کر سکوں گا، دو چار دس دن گزر لینے دیں تو پھر وضاحت کر دوں، نہیں کر سکا، تو بتا دوں گا۔‘
’فچ رپورٹ میں 18ماہ میں حکومت کے خاتمے سے متعلق بات میں وزن ہے‘
اس کے علاوہ خواجہ آصف کی جانب سے فچ کی رپورٹ کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ فچ نے اپنی رپورٹ میں 18ماہ میں حکومت کے خاتمے سے متعلق جو بات کی ہے اس میں وزن ہے، ٹیکنوکریٹ حکومت میں شامل ہونے کے لیے لوگ تیار بیٹھے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز معاشی درجہ بندی کے عالمی ادارے ’فچ‘ کی پاکستان کے بارے میں رپورٹ شائع کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ’عدالتوں سے شنوائی کے باوجود عمران خان کے ابھی جیل سے باہر آنے کا امکان نہیں۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت اگلے 18 ماہ تک بھی برسراقتدار رہے گی اور آئی ایم ایف کے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہے گی۔‘
پروگرام کے دوران خواجہ آصف نے تسلیم کیا کہ تحریک انصاف پر پابندی کا وقت سے پہلے اعلان کر دیا گیا، اتحادیوں سے مشاورت ضروری ہے، ان سے مشاورت نہیں کی گئی اور اس بارے اتفاق رائے سے فیصلہ کریں گے۔
خیال رہے کہ رواں ہفتے موجودہ حکومت نے عمران خان پر غداری کا مقدمہ بنانے اور ان کی جماعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد سے ن لیگ کے سینیئر رہنماؤں سمیت ان کے اتحادیوں نے بھی اس بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@KPKUPDATES
عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس میں ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آگیا ہے۔
اپنے بیان میں اعظم خان نے کہا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے معاملے کو کانفیڈینشل قرار دیتے ہوئے کابینہ سے مںظوری لینے کے لیے ایک فائل ان کے حوالے کی تھی۔
ان کے بقول انھوں نے اگست 2018 سے اگلے 22 ماہ تک وزیراعظم کے سیکریٹری کے طور پر خدمات سر انجام دی تھیں۔
اعظم خان کا کہنا تھا کہ ’شہزاد اکبر ایک دستخط شدہ نوٹ لے کر میرے پاس آئے جس پر شہزاد اکبر کے اپنے دستخط موجود تھے۔ نوٹ پر کابینہ سے منظوری لینے کا لکھا تھا۔‘
سابق پرنسپل سیکرٹری نے بیان میں کہا ہے کہ شہزاد اکبر نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے اس کانفیڈینشل معاملے کو کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ شہزاد اکبر کی اس بات پر انھوں نے فائل کیبنٹ سیکریٹری کے حوالے کردی تاکہ معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جاسکے۔
اعظم خان کے مطابق کابینہ کا ’ان کیمرا اجلاس‘ ہونے کی وجہ سے انھوں نے اس میں شرکت نہیں کی تھی۔
ان کے بیان کے دوران نیب نے سابق پرنسپل سیکریٹری کا دورانِ تفتیش لیا گیا بیان بھی عدالت میں پیش کیا۔ اعظم خان نے نیب کی جانب سے پیش کیے گئے بیان کو دیکھ کر تصدیق کی کہ اس ان کے ہی دستخط ہیں۔
190 ملین پاؤنڈ کیس میں سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انھوں نے بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے سینکڑوں کنال پر محیط اراضی اُس 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض حاصل کی، جس کی شناخت برطانیہ کے حکام نے کی تھی اور یہ رقم پاکستان کو واپس کر دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAPP
سپریم کورٹ کے سابق جج اور سندھ کے سابق نگراں وزیرِ اعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج کام کرنے سے معذوری ظاہر کر دی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اپنی کچھ پیشہ وارنہ اور فیملی کمٹمنٹس کی وجہ سے یہ عہدہ قبول نہیں کرسکتے۔
جسٹس ریٹائرڈ باقر کا کہنا ہے کہ جب جسٹس قاضی فائز عیسی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے تو اس وقت ہی وہ سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز کو ختم کرنے کے لیے ایڈہاک ججز کی تعیناتی کے حق میں تھے لیکن یہ صرف اسی صورت ممکن تھا اگر سپریم کورٹ میں 17 ججز کی تعیناتی کا عمل مکمل ہوجاتا۔
جسٹس ریٹائرڈ باقر کہتے ہیں کہ چند روز قبل آئین کے مطابق سپریم کورٹ میں 17 ججز کی تعداد پوری ہوچکی ہے اس لیے ایڈہاک جج تعینات کرنے کے لیے ان سمیت سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز سے رابطہ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں۔
جسٹس ریٹائرڈ باقر سے قبل سپریم کورٹ کے ایک اور ریٹائرڈ جج جسٹس مشیر عالم نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی تھی۔
جسٹس ریٹائرڈ عالم نے جوڈیشل کمیشن اف پاکستان کو لکھے گئے اپنے خط میں کہا تھا کہ ’اللہ نے مجھے میری حیثیت سے زیادہ عزت دی، ایڈہاک ججز نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر جو مہم شروع کی گئی اس سے شدید مایوسی ہوئی ہے اور موجودہ حالات میں بطور ایڈہاک جج کام کرنے سے معذرت چاہتا ہوں۔‘
سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 19 جولائی کو طلب کیا گیا ہے جس میں ایڈہاک ججز کے لیے 4 ناموں پرغور کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کے ایک اہلکار کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ سردار طارق مسعود اور جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم میاں خیل نے ابھی تک سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے جبکہ ۔جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کی جانب سے اب تک کوئی جواب جمع نہیں کرایا گیا تھا تاہم اب اطلاعات ہیں کہ انھوں نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں 4 ایڈہاک ججز کی ایک ساتھ تقرری کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
ان کا کہنا تھا سنہ 2015 سے سپریم کورٹ میں کسی ایڈہاک جج کی تقرری نہیں کی گئی، اس سے کیسز کا بوجھ کم نہیں ہو گا بلکہ خدشہ ہے اس اقدام کا تعلق پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کے کیس سے ہے۔
انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو ایسے نازک وقت میں عدالتی تنازعات سے گریز کرنا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس میں گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردی ہے۔
عمران خان اور ان کی اہلیہ کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب اور دیگر نیب افسران کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی شامل تفتیش ہوئے اس لیے ان گرفتاری کی ضرورت نہیں ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے بارہا کہا ہے کہ صرف نامزد ہونے پر کسی بھی شخص کو فوراً گرفتار نہ کیا جائے لہٰذا عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے۔
سابق وزیرِ اعظم اور ان کی اہلیہ کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت انھیں سیاسی مخالفت کے باعث لمبے عرصے تک زیرِ حراست رکھنا چاہتی ہیں۔ دونوں ملزمان کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست زیرسماعت ہونے کے دوران گرفتار کرنا بدنیتی کا ثبوت ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ دونوں ملزمان کی گرفتاری غیرقانونی ہے لہذا انھیں رہا کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں اور آئندہ کسی بھی مقدمے میں گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات سے مشروط کی جائے۔
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا اظہر مشوانی کے والد قاضی حبیب الرحمٰن نے ہائی کورٹس میں حبسِ بےجا سے متعلقہ درخواستوں کی فوری سماعت کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ قاضی فاٸز عیسی، سپریم کورٹ کے تمام ججز اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو خط لکھا ہے۔
اپنے خط میں حبیب الرحمٰن نے دعوٰی کیا ہے کہ اظہر مشوانی کی سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ سیاسی وابستگی کی وجہ سے اس وقت ان کے دو بھاٸی پروفیسر مظہر الحسن اور پروفیسر ظہور الحسن 6 جون 2024 سے لاپتہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹوں کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں حبسِ بے جا کی پٹیشن دائر ہے جس کی سماعت 6 جون 2024 سے 27 جون 2024 تک جسٹس شہباز رضوی نے کی۔
حبیب الرحمٰن کا دعوٰی ہے کہ اس دوران جسٹس رضوی نے ایف آئی آر کے اندراج، جیو فینسنگ کا ڈیٹا جمع کرنے اور سیف سٹی اتھارٹی کی فوٹیج کی تصدیق کا حکم دیا جس سے ثابت ہوا کہ اغوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑیاں ملوث تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں کیس جسٹس شہرام سرور کے پاس منتقل کر دیا گیا جو تاحال تاخیر کا شکار ہے۔
اظہر مشوانی کے والد کے مطابق یکم جولائی کو سماعت کے بعد جسٹس سرور نے کیس کی سماعت 12 جولائی تک ملتوی کر دی جبکہ 12 جولائی کو سماعت کو مزید 12 دنوں کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
اپنے خط میں ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کی سنگینی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کیس کا مسلسل التوا گھر والوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے۔ انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ اس معاملے پر فوری کارروائی کی جائے۔
حبیب الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اظہر مشوانی کی سیاسی وابستگی سے قطع نظر، پورا خاندان شعبہ تدریس سے وابستہ ہے، جن کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں۔
حبیب الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ’مسلسل اغوا کے واقعات اور ہائی کورٹ میں قانونی کارروائی میں تاخیر ہمارے خاندان کے لیے شدید نفسیاتی پریشانی کا باعث ہے۔‘
انھوں نے اپنے خط میں سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ہائی کورٹس کو ہدایات دی جائیں کہ جبری گمشدگیوں سے متعلق درخواستوں کو بلا تاخیر روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے اور قانونی مدد کے لیے عدالت سے رجوع کرنے والے متاثرہ خاندانوں کی حفاظت کو یقینی بناٸے۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے ایڈہاک ججز کی تعیناتی کی مخالفت کرتے ہوئے اس معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تعیناتی کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے اور اس سے بداعتمادی مزید بڑھے گی۔‘
آج سپریم کورٹ کے مخصوص نشتوں کے فیصلے پر عمل دآمد کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے صحافیوں سے بات چیت کی۔
اس موقع پر بیرسٹر گوہر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ ایڈہاک ازم آزاد عدلیہ کے لیے مضر ہے، اس سے اجتناب کریں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
تحریک لبیک پاکستان کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم میں واقع فیض آباد پر دھرنا دیے آج چھٹا دن ہے اور اس دھرنے کی وجہ سے جڑواں شہروں کے مکینوں کو اپنے روزمرہ کے امور سرانجام دینے میں مشکلات درپیش ہیں۔
تحریک لبیک کے کارکنوں کے احتجاج کی وجہ سے اسلام آباد ایکسپریس وے اور مری روڈ پر شدید ٹریفک جام ہے اور راولپنڈی اور اسلام آباد آنے جانے والوں کے علاوہ فیض آباد میں واقع پبلک ٹرانسپورٹ کے اڈوں کی اکثریت کی بندش کی وجہ سے دوسرے شہروں میں آنے جانے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے جس جگہ پر دھرنا دے رکھا ہے وہ علاقہ اسلام آباد کی حدود میں واقع ہے اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دھرنے کے ذمہ داران کے ساتھ ابھی تک مذاکرات شروع نہیں کیے۔
تاہم کچھ مظاہرین نے اس جگہ پر بھی دھرنا دے رکھا ہے جو راولپنڈی کی حدود میں واقع ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر عدالت نے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کر لیے ہیں۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی چھ اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ایک درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی کہ عمران خا ویڈیو لنک کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے یا وہ خود چل کر عدالت آئیں۔
واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تھانہ ترنول میں دو جبکہ تھانہ رمنا، سیکرٹریٹ، کوہسار اور تھانہ کراچی کمپنی میں ایک ایک مقدمہ درج ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے خلاف ایک جعلی رسیدوں کا اور پانچ مقدمات 9 مئی کے واقعات کے تناظر میں درج ہیں۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ کوہسار میں توشہ خانہ کی جعلی رسیدوں کا مقدمہ درج ہے۔
دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ بیرسٹر سلمان صفدر لاہور ہائیکورٹ میں ایک کیس میں مصروف ہیں، ضمانت کی درخواستوں پر سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کی جائے۔
جج افضل مجوکا نے کہا کہ اب جلدی سماعت نہیں رکھی جا سکتی اور چھٹیوں کے بعد ستمبر تک ملتوی ہو گی۔
بعد ازاں عدالت نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 30 جولائی تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر دلائل طلب کر لیے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں مقامی لوگوں نے آج ایک جرگہ طلب کیا ہے، جس میں علاقے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اس طرح کے درجن سے زیادہ جرگے خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی منعقد ہو چکے ہیں۔
اس جرگے کے ایک رہنما فتو لالہ بھٹنے نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگ اب روزانہ کی بنیاد پر تشدد کے واقعات سے تنگ آ چکے ہیں اس لیے اس جرگے میں مطالبات کیے جائیں گے اور یہ احتجاج آئندہ بھی جاری رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جرگے میں شامل قبائلی رہنما ٹانک کے لوگوں سے مطالبہ کریں گے کہ دکانوں اور مکانات پر سوگ کے طور پر کالے جھنڈے لہرائے۔
’اس کے علاوہ پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا جائے گا جبکہ سرکاری دفاتر کے باہر دھرنے اور احتجاج بھی کیے جائیں گے۔‘
ضلع ٹانک خیبر پختونخواکے جنوب میں واقع ہے اور اس کی سرحد ایک طرف سے جنوبی وزیرستان اور دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان سے ملتی ہے جبکہ ایک سرحد بلوچستان کے ضلع ژوب کے ساتھ ہے۔
جنوبی اور شمالی وزیرستان اور ان کے ساتھ دیگر شہر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ان علاقوں میں متعدد فوجی آپریشنز بھی کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں کچھ وقت کے لیے امن قائم ہوتا ہے لیکن اس کے بعد پھر سے تشدد کے واقعات شروع ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصے سے ضلع ٹانک میں دہشتگردی کے واقعات میں پھر اضافہ ہوا۔ ٹانک اور اس کے مصافات میں سرکاری اہلکاروں کے اغوا کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔
ند روز پہلے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے تین اہلکاروں کو مسافر گاڑی سے اتار کر اغوا کر لیا گیا۔ دو روز پہلے اس علاقے میں چوری کے واقعے کی تحقیقات کے لیے آنے والے افراد کو سراغ رساں کتوں سمیت نا معلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
چھٹی پر آئے ہوئے ایف سی اور پولیس کے ایک ایک اہلکار کو بھی کچھ روز قبل قتل کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح لوگوں کا کہنا ہے کہ شام کے بعد وہ گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔
صرف ٹانک ہی نہیں بلکہ اس وقت تشدد کے واقعات بیشتر جنوبی اضلاع میں پیش آ رہے ہیں۔ ضلع بنوں میں تین روز قبل شدت پسندوں نے چھاونی پر حملہ کر دیا تھا جس میں 8 سکیورٹی اہلکار اور تین عام راہ گیر ہلاک ہو گئے تھے جبکہ سکیورٹی فورسز نے 10 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
اسی طرح جنوبی ضلع ڈیر اسماعیل خان کے ساتھ کڑی شموزئی میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں دو لیڈی ہیلتھ ورکرز، ان کے دو بچے اور چوکیدار ہلاک کر دیے گئے تھے۔
اس جھڑپ میں دو سکیورٹی اہلکار اور دو شدت پسند بھی مارے گئے تھے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور اب تک انڈیکس میں 503 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد یہ 81659 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا جو انڈیکس کی بلند ترین سطح ہے۔
سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کار سمیع اللہ طارق نے مارکیٹ میں تیزی کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاشی محاذ پر مثبت اشاریوں کی وجہ سے تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ بیلنس آف پیمنٹ کی صورتحال بہتر ہونے کا امکان ہے تو اس کے ساتھ کرنسی میں استحکام دیکھا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ ’سٹیٹ بینک کی جانب سے اس ماہ کے آخر میں شرح سود میں کمی کا امکان ہے جو مارکیٹ میں مثبت رجحان کے فروغ کا باعث بنا۔
انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد فارن فنڈنگ کی آمد کے بھی امکانات بڑھ گئے ہیں جو سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی وجہ ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی رہنما صنم جاوید کی مقدمات میں ضمانت کے بعد غیر قانونی حراست سے متعلق درخواست کی سماعت کو نمٹا دیا ہے
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو آگاہ کیا کہ صنم جاوید کو مزید کسی اور مقدمے میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا بلوچستان پولیس کسی اور فورم پر تو صنم جاوید کی گرفتاری کے لیے رابطہ نہیں کر رہی جس پر عدالت کو بتایا گیا پولیس راہدری ریمانڈ پر پریس نہیں کر رہی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے صنم جاوید کے وکیل میاں اشفاق سے استفسار کیا کہ کیا وہ یہ یقین دہانی کرواتے ہیں کہ ان کی موکلہ گفتگو میں نامناسب الفاظ کا استعمال نہیں کریں گی جس پر انھوں نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ ان کی موکلہ اپنی گفتگو میں سیاسی مخالفین کے خلاف کوئی نازیبا زبان استعمال نہیں کریں گی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے صنم جاوید کے والد کی درخواست پر 15 جولائی کو صنم جاوید کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے اور انھیں بلوچستان پولیس کے حوالے کرنے سے روک دیا تھا۔
نو مئی 2023 کو جب تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی گرفتاری کے فوری بعد ہی ملک بھر میں احتجاج شروع ہوا اور اس دوران لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس سمیت کئی سرکاری عمارتوں اور املاک کو نقصان پہنچا جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے اور چند اموات بھی ہوئیں۔
ان واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے مرد کارکنوں کے علاوہ درجنوں خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی پرتشدد احتجاج اور توڑپھوڑ کے سلسلے میں درج مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔
گذشتہ ایک سال کے دوران ان میں سے زیادہ تر خواتین کو تو ضمانت پر رہائی مل گئی تاہم کچھ خواتین رہنما اور کارکنان ایسی بھی ہیں جو ایک مقدمے میں ضمانت کے بعد کسی اور مقدمے میں گرفتار کر لی جاتی ہیں اور صنم جاوید بھی ان میں سے ایک ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
معاشی درجہ بندی کے ادارے فچ نے پاکستان کے بارے میں رپورٹ جاری کرتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان میں مہنگائی کے بڑھنے کی شرح کم ہوسکتی ہے۔
ادارے کے مطابق توقع ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک سٹیٹ بینک آف پاکستان شرح سود کم کر کے 14 فیصد تک لے آئے گا۔ اس وقت یہ شرح 20.5 فیصد ہے۔
ادارے کے مطابق حکومت پاکستان نے بجٹ میں مشکل ترین معاشی اہداف مقرر کیے ہیں۔
پاکستان مالیاتی خسارہ 7.4 فیصد سے کم کرکے 6.7 فیصد پر لانا چاہتا ہے۔
فچ کے مطابق حکومتِ پاکستان کے مشکل معاشی فیصلے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا معاشی رسک بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے بدھ کے روز اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو وزارت خارجہ طلب کر کے 15 جولائی 2024 کو بنوں چھاؤنی پر ہونے والے حملے پر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا اور حافظ گل بہادر گروپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بنوں حملے میں آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بنوں کینٹ پر حملہ افغانستان میں مقیم حافظ گل بہادر گروپ نے کیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے حافظ گل بہادر گروپ نے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر متعدد حملے کیے ہیں جن میں سینکڑوں شہری اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار جانبحق ہوئے ہیں۔
دفترِ خارجہ نے عبوری افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اس حملے کے ذمہ داروں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی جائے۔
پاکستان نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف ایسے حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
افغانستان کے اندر شدت پسند تنظیموں کی موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ تنظیمیں پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بن رہی ہیں اور ایسے واقعات دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کی روح کے خلاف ہیں۔
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سوموار کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں دس دہشتگردوں نے کنٹونمنٹ پر حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے ان دہشتگردوں کی کنٹونمنٹ کے اندر داخل ہونے کی اس کوشش کو ناکام بنایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑی کو اس علاقے میں ایک دیوار کے ساتھ دے مارا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس خود کش دھماکے سے دیوار کا ایک حصہ گر گیا جبکہ قریب کے کچھ انفراسٹرکچر کو نقصان بھی پہنچا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس دھماکے میں آٹھ فوجی ہلاک ہوئے۔
’گڈ طالبان‘ کے نام سے مشہور حافظ گل بہادر گروپ
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متحرک بیشتر گروپ ٹی ٹی پی میں ضم ہو چکے ہیں لیکن چند ایک گروپ اب بھی ٹی ٹی پی کی چھتری کے نیچے نہیں آئے، جن میں حافظ گل بہادر گروپ بھی شامل ہے۔ حافظ گل بہادر بنیادی طور پر اتمانزئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے سنہ 2001 میں 4000 رضا کاروں پر مشتمل ایک فورس قائم کی تھی۔ حافظ گل بہادر گروپ ماضی میں پاکستان حکومت کی زیادہ مخالفت میں نہیں رہا لیکن شمالی وزیرستان میں جون سنہ 2014 میں آپریشن ’ضرب عضب‘ شروع ہوا جس کے بعد حافظ گل بہادر اور ان کا گروہ غیر فعال ہو گیا تھا۔ اس آپریشن میں حکومت نے متعدد شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے بھی کیے تھے اور کہا تھا کہ یہ علاقہ اب شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کے حق میں نہیں ہے، کسی جماعت کے سربراہ کو ایک سیاسی جماعت کا رول بھی ادا کرکے دکھانا ہوگا۔
وزیرداخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے ہمراہ کراچی میں جلوسوں کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کہا کہ کسی سیاسی جماعت پر پابندی کے حق میں نہیں ہیں، کسی جماعت کے سربراہ کو ایک سیاسی جماعت کا رول بھی ادا کرکے دکھانا ہوگا، فی الحال وہ سیاسی جماعت کے سربراہ کا کردار ادا نہیں کررہے ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ محض سیٹیں لے لینا یا ووٹ لےلینے سے سیاسی جماعت نہیں بن جاتی۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی خود اپنی وجہ سے اس مقام پر پہنچی ہے۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے متعدد رہنماؤں سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی تحریک انصاف پر پابندی کے حکومتی اعلان کی مخالفت کی ہے۔
دوسری جانب حکومتی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے وضاحت کی ہے کہ تحریک انصاف پر پابندی سے متعلق ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور اس حوالے سے اتحادیوں سے مشاورت کی جائے گی۔
سپریم کورٹ کے فل بینچ نے مخصوص نشستوں کے مقدمے میں تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کی ہے اور ساتھ ہی حکومتی وزرا نے تحریک انصاف اور عدلیہ کے خلاف تنقیدی پریس کانفرنسز بھی کی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@moazzamjatoi
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے مظفر گڑھ کے حلقے سے رکن قومی اسمبلی معظم جتوئی کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
اپنے ایک ٹویٹ میں بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے باوجود کہ کسی کو بھی نہیں اٹھایا جائے گا پھر بھی ناقابل تصور اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
معظم جتوئی کو آج صبح مظفر گڑھ میں ان کے گھر سے اغوا کیا گیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق معظم جتوئی پہلے ہی سپریم کورٹ کی روشنی میں تحریک انصاف میں شمولیت کے لیے اپنا بیان حلفی جمع کرا چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم ایسے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور رکن قومی اسمبلی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسے اغوا سے متعلق عدالت کو آگاہ رکھیں گے اور انھیں امید ہے کہ عدالت اس پر کارروائی کرے گی۔
انسپکٹر جنرل پنجاب عثمان انور نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے اس نام کے کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق جب ان کی گمشدگی سے متعلق کوئی شکایت پولیس کو ملے گی تو پھر اس پر تفتیش آگے بڑھائی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر جو بائیڈن امریکہ کی سپریم کورٹ میں متعدد اصلاحات متعارف کرانے جا رہے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ان اصلاحات میں عمر بھر کے لیے ججز کی تقرری کے قانون میں بھی تبدیلی لائی جائے گی۔
یہ ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر کی طرف سے اسے ایک بڑا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر جو بائیڈن کا یہ اعلان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ہائیکورٹ نے اسقاط حمل سے متعلق وفاقی حق ختم کیا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور صدر سرکاری امور کی انجام دہی میں استثنیٰ دیا ہے۔
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر میڈیا سی بی ایس کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن اب عدلیہ کے ضابطہ اخلاق کو مزید مربوط بنانے اور ججز کی مدت ملازمت کا تعین کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس وقت امریکہ میں جج تا حیات اپنا منصب انجام دیتا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق منقسم کانگریس سے اس قانون کا پاس ہونا مشکل لگ رہا ہے۔
سی بی ایس نیوز کو ایک ذریعے نے بتایا کہ صدر جو بائیڈن نے کانگریس کے ایک ’پروگریسو کاکس‘ کو بتایا ہے کہ وہ ماہرین کے ساتھ مل کر اس وقت کام کر رہے ہیں اور جلد ان اصلاحات کا اعلان کر دیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری کیرین جین پیری سے جب ان مجوزہ اصلاحات سے متعلق تبصرہ کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں سابق امریکی صدر نے کہا کہ یہ ہماری مقدس سپریم کورٹ پر ایک غیرقانونی اور غیر آئینی حملہ ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مطالبہ کیا ہے کہ آئین سے ماورا فیصلے دینے والے ججوں کو قبروں سے نکالیں اور ان کا ٹرائل کریں۔
گذشتہ روز سیالکوٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف نے عدلیہ کے فیصلوں اور ججز پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اب انھوں نے آئین کو بھی دوبارہ لکھنا شروع کردیا ہے۔‘
سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’عدالت نے ایسا فیصلہ دیا جو مانگا ہی نہیں تھا، وہ سائل ہی نہیں تھے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ ’انھوں نے پچاس ساٹھ سالوں میں آئین کے ماورا فیصلے دیے مگر کیا ان پر توہین لگی؟ سابق فوجی صدر ایوب خان کے حق میں جسٹس منیر اور دیگر ججوں کے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے مطالبہ کیا کہ ’اگر وہ ججز دنیا سے رخصت بھی ہو گئے ہیں تو پھر ان کو قبروں سے نکالیں اور ان کا ٹرائل کریں۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ ’ان کے فیصلوں کی وجہ سے آج بھی پاکستان ایڑھیاں رگڑ رہا ہے۔‘
وزیر دفاع نے کہا کہ جب عدم اعتماد کی تحریک ہوئی تو جس طرح انھوں نے ایوان کو تحلیل کیا تو ان پر آرٹیکل چھ لگتا ہے اور کارروائی ضرور ہونی چاہیے، کوئی ادارہ پاکستان کی سالمیت سے ماورا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بیرونی طاقتوں کے پاس جاکر انھیں آمادہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف بات کریں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ نو مئی کو جو ہوا وہ پاکستان کے وجود پر حملہ تھا اور سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے جب راتوں رات جو کچھ ہوا عدم اعتماد کو روکنے کے لیے اور (سابق چیف جسٹس) بندیال صاحب نے ججمنٹ دی تو یہ ہمارے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ’ہمارا عدالتی نظام نو مئی واقعات میں ملوث ملزمان کو تحفظ دے رہا ہے۔‘
وزیر دفاع نے کہا کہ ’عدالتوں کا احترام کرتا ہوں لیکن عدالتوں کو بھی چاہیے وہ اپنا احترام کرائیں اور سیاستدانوں کو اتنا کمزور نہ سمجھا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی جب بھی ہوئی سیاستدانوں کے خلاف ہوئی، ایک ادارہ 26 لاکھ کیسز کا فیصلہ نہیں کرتا توکیا وہ توہین نہیں کرتا؟
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سنہ 2018 کے الیکشن رزلٹ کسی کو نظر نہیں آئے، اس وقت عدلیہ نے کیوں نوٹس نہیں لیا؟
خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کے دور کے اندر خصوصی عدالتیں بنی لوگوں کو سزائیں ہوئی تب خواب خرگوش تھا عدلیہ کے لیے، آج سوا سال ہوگیا نو مئی کو لیکن کوئی توجہ نہیں ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ’سب سے زیادہ دہشتگردی خیبرپختونخوا میں ہورہی ہے مگر پی ٹی اس آپریشن میں حصہ لینے سے انکار کر رہی ہے، یہ نظر نہیں آرہا عدلیہ کو؟‘
وزیر دفاع نے کہا کہ ملکی سلامتی کا ادارہ جنگ لڑ رہا ہے اور قوم کا ساتھ مانگ رہا ہے لیکن ہمارے عادل جو ہیں ان کو فرصت ہی نہیں ملتی، کیا عزت ایک ادارے کی ہے سارے بے آبرو ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے مذاکرات کی پیشکش کی جس پروہ (تحریک انصاف والے) کہتے ہیں آرمی چیف کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف پر پابندی سے متعلق اتحادیوں سے مشاورت کریں گے۔
جب یہ فیصلہ پارلیمنٹ میں لایا جائے گا تو پھر تمام جماعتیں اس پر رائے دیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGOHAR ALI KHAN
پاکستان تحریک انصاف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تقرری سے سپریم کورٹ اور ججوں پر سمجھوتہ ہوگا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں چار ایڈہاک ججز کی ایک ساتھ تقرری کی کوئی مثال نہیں ملتی۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے اس اقدام کا مقصد پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں سے متعلق ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’چیف جسٹس کو ایسے نازک وقت میں عدالتی تنازعات سے گریز کرنا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ سنہ 2015 سے سپریم کورٹ میں کسی ایڈہاک جج کی تقرری نہیں کی گئی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس سے کیسز کا بوجھ کم نہیں ہوگا سپریم کورٹ اور ججوں پر سمجھوتہ ہوگا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے اس اقدام کا مقصد پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں سے متعلق ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’چیف جسٹس کو ایسے نازک وقت میں عدالتی تنازعات سے گریز کرنا چاہیے۔‘
سپریم کورٹ میں چار سابق ججز کی ایڈہاک ججز کے طور پر تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 19 جولائی کو طلب کیا گیا ہے جس میں ایڈہاک ججز کے ناموں پرغور ہوگا۔
گذشتہ ہفتے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں چار ججوں کی ایڈ ہاک بنیادوں پر تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔
جوڈیشل کمیشن کے مطابق ایڈ ہاک ججوں کی تعیناتی کا فیصلہ زیرِ التوا کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ کے ایسے ججوں کو ایڈ ہاک بنیاد پر تعینات کیا جاسکتا ہے جنھیں ریٹائر ہوئے تین سال کا عرصہ نہیں ہوا ہے۔اس سلسلے میں کمیشن نے جسٹس ریٹائرڈ مشیر عالم، جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر، جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس ریٹائرڈ سردار طارق مسعود کے ناموں کی منظوری دی تھی۔تاہم، جسٹس مشیر عالم نے کمیشن کو خط لکھ کر ایڈ ہاک جج کی ذمہ داری لینے سے معذرت کرلی ہے۔
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مشیر عالم نے سپریم کورٹ کا ایڈ ہاک جج بننے سے معذرت کر لی ہے۔
گذشتہ ہفتے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں چار ججوں کی ایڈ ہاک بنیادوں پر تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔
جوڈیشل کمیشن کے مطابق ایڈ ہاک ججوں کی تعیناتی کا فیصلہ زیرِ التوا کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ کے ایسے ججوں کو ایڈ ہاک بنیاد پر تعینات کیا جاسکتا ہے جنھیں ریٹائر ہوئے تین سال کا عرصہ نہیں ہوا ہے۔
اس سلسلے میں کمیشن نے جسٹس ریٹائرڈ مشیر عالم، جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر، جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس ریٹائرڈ سردار طارق مسعود کے ناموں کی منظوری دی تھی۔
تاہم، جسٹس مشیر عالم نے کمیشن کو خط لکھ کر ایڈ ہاک جج کی ذمہ داری لینے سے معذرت کرلی ہے۔
ان کا کہنا ہے انھوں ریٹائرمنٹ کے بعد معذور افراد کیلئے ایک فاونڈیشن قائم کر رکھی ہے۔
جسٹس مشیر عالم کا کہنا ہے کہ وہ یکسوئی سے معذور افراد کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔