رحیم یار خان میں کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کا پولیس پر راکٹ سے حملہ، 11 اہلکار ہلاک

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ماچھکہ کے علاقے میں کچا گینگ کے راکٹ حملے میں 11 پولیس اہلکار ہلاک جبکہ نو زخمی ہو گئے ہیں۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ یہ بہت افسوسناک ہے مگر اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی اور سی ٹی ڈی کی نگرانی میں میری ٹیم ان مجرموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی ہدایت کے ساتھ روانہ کر دی گئی ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ماچھکہ کے علاقے میں کچا گینگ کے راکٹ حملے میں 11 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ نو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق زخمی اہلکاروں کو رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات پہنچائی جا رہی ہیں۔
  • پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد 15 ہو گئی ہے جن میں سے 12 کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
  • مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 6 فروری اور 24 جولائی کے فیصلوں سے متنازع پیراگراف نمبر سات اور 42 کو حذف کرنے کا حکم دیا ہے۔
  • ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے پی ٹی آئی کو 8 ستمبر کو جلسہ کرنے کے لیے این او سی جاری کر دیا ہے.
  • اٹک میں نامعلوم افراد کی سکول وین پر فائرنگ سے دو بچے ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔
  • اسلام آباد میں احتجاج اور بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کی نقل و حرکت کے پیشِ نظر شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔
  • چیئرمین پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ فائر وال نہیں ویب مینجمنٹ سسٹم اپ گریڈ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار کم ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

  2. رحیم یار خان: کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے پولیس قافلے پر حملے میں 11 پولیس اہلکار ہلاک

    کچے کے علاقے

    ،تصویر کا ذریعہSukkur Police

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ماچھکہ کے علاقے میں کچا گینگ کے راکٹ حملے میں 11 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ نو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق زخمی اہلکاروں کو رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات پہنچائی جا رہی ہیں۔

    پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ یہ بہت افسوسناک ہے مگر اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی اور سی ٹی ڈی کی نگرانی میں میری ٹیم ان مجرموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی ہدایت کے ساتھ روانہ کر دی گئی ہے۔

    پولیس کے ترجمان کے مطابق آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، سینیئر افسران سمیت رحیم یار خان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ کچہ کے علاقے میں پولیس گاڑیوں پر راکٹ لانچر حملے میں اب تک نو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ڈاکوؤں نے پولیس کی گاڑیوں پر راکٹ سے حملہ کیا۔

    Twitter

    ،تصویر کا ذریعہX

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے پولیس پر اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

    ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

  3. بلوچستان میں پولیو کیسز کی تعداد 12 ہو گئی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    پولیو

    بلوچستان کے ضلع خاران سے پولیو کے ایک اور کیس کی تصدیق کے بعد پاکستان سے رواں سال پولیو کے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔

    سرکاری حکام کے مطابق ان میں سے سب سے زیادہ 12 کیسز بلوچستان سے رپورٹ ہوئے جبکہ متاثرہ بچوں میں سے اب تک 3 ہلاک ہوچکے ہیں۔

    بلوچستان میں 2023 سے قبل 28 مہینے تک پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جس کے باعث حکام کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا کہ پولیو کا خاتمہ اب قریب ہے۔

    تاہم رواں سال دیگر صوبوں کے مقابلے میں اب تک سب سے زیادہ کیسز بلوچستان سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

    پولیو کی روک تھام کے لیے قائم بلوچستان میں ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر انعام الحق کا کہنا ہے کہ ’متعدد دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ بعض والدین نے پولیو ورکرز کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے۔‘

    بلوچستان میں پولیو کے سب سے زیادہ کیس کہاں سے رپورٹ ہوئے؟

    بلوچستان سے اب تک رپورٹ ہونے والے آخری کیس کی تصدیق تین روز قبل ضلع خاران سے ہوئی۔ اس ضلع سے 23 ماہ کی بچّی پولیو سے متاثر ہوئی تھی۔ بلوچستان کے اب تک 8 اضلاع سے پولیو کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

    خاران کے علاوہ جن اضلاع سے پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ان میں قلعہ عبداللہ، چمن، قلعہ سیف اللہ، ڈیرہ بگٹی، جھل مگسی، کوئٹہ اور ژوب شامل ہیں۔

    ان اضلاع میں سے سب سے زیادہ کیسز افغانستان کے سرحدی ضلع قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 5 ہے جبکہ باقی اضلاع سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

    ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے بتایا کہ رواں سال بلوچستان میں پولیو سے متاثر ہونے والے تین بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان کی موت کی وجہ پولیو ہوسکتی ہے۔

    پولیو

    بلوچستان سے ایک مرتبہ کیسز میں اضافے کی وجوہات کے بارے میں حکام کا کیا کہنا ہے؟

    جمعرات کو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کوئٹہ میں بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے پولیو وائرس کی روک تھام اور پولیو کیسز میں اضافے سے متعلق میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پولیو مہم کے دوران کوئٹہ بلاک کے کچھ علاقوں میں مبینہ جعلی پولیو ویکسینشن کا انکشاف بھی ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بعض والدین پولیو ورکرز کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے بچوں کو قطرے نہیں پلاتے۔ پولیو ورکرز قطرے پلائے بغیر بچوں کی انگلیوں پر نشانات لگانے میں ملوث پائے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جعلی ویکسینشن پر کوئٹہ بلاک میں 500 پولیو ورکرز کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ جعلی ویکسینشن ثابت ہونے پر 74 پولیو ورکرز کو نکال دیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں لوگ اپنے بچوں کو چھپا کر یہ کہتے رہے کہ وہ گھروں سے باہر ہیں۔

    انھوں نے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسران کے بار بار تبادلوں کو بھی ایک وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر سرحد سے آمدورفت کے باعث پولیو وائرس قندہار سے چمن آیا۔

    انھوں نے کہا کہ چمن میں دس ماہ سے جاری رہنے والے دھرنے کے باعث پولیو کے قطرے پلانے سے انکار بھی چمن اور قلعۂ عبداللہ کے اضلاع میں پولیو کے کیسز میں اضافے کی وجہ بنی۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعض قبائل اپنے مطالبات منوانے کے لیے بھی پولیو کو بارگیننگ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا پولیو مہمات امن و امان کی وجہ سے بھی متاثر ہوئیں جن میں سے دو مہمات شروع نہیں ہوسکیں جبکہ پانچ جبکہ پانچ متائثر ہوئیں۔

    پولیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ان کا کہنا تھا کہ پولیو کا خاتمہ اس وقت ممکن ہے جب پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں لیکن آپریشنل خلیج، بچوں کی گھروں پر عدم موجودگی اور انکاری والدین کی وجہ سے بعض بچے رہ جاتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جو بچے پولیو کے قطرے پلانے سے رہ جاتے ہیں وہ وائرس کے پھیلنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

    اانعام الحق کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پولیو مہمات کے موثر نہ ہونے کی وجوہات میں افغانستان بھی ہے جہاں صحیح معنوں میں پولیو کے خلاف مہم نہیں چلائی جارہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2018سے افغانستان کے جنوب مغربی علاقوں میں گھر گھر پولیو قطرے پلانے پر پابندی ہے۔ اگرچہ سرحد بند ہے لیکن غیر روایتی راستوں سے لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔

  4. بریکنگ, مبارک ثانی کیس: وفاق کی درخواست منظور، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے سے متنازع پیراگراف حذف کر دیے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ آف پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 6 فروری اور 24 جولائی کے فیصلوں سے متنازع پیراگراف نمبر سات اور 42 کو حذف کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ ’مبارک ثانی نظر ثانی فیصلے کے خذف شدہ پیراگراف کو عدالتی نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔‘

    سپریم کورٹ نے نظرثانی فیصلے کے پیراگراف 7، 42 اور 49 سی کو خذف کر دیا۔ عدالت میں علما کی جانب سے تینوں پیراگرافس کو خذف کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ نظرثانی فیصلے کے خذف کردہ پیراگرافس میں احمدیوں کی ممنوعہ کتاب اور تبلیغ سے متعلق ذکر کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے چھ فروری کو ملزم کی ضمانت اور فردِ جرم سے بعض الزامات حذف کروانے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہوئی جو لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد 16 اور 27 نومبر 2023 کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

    ملزم پر چھ دسمبر 2022 کو ضلع چنیوٹ میں درج ایف آئی آر کے مطابق صوبہ پنجاب میں قرآن کی طباعت کے قانون 2011، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 سی اور دفعہ 295 بی کے تحت تین الزامات لگائے گئے تھے۔

    ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم ممنوعہ کتاب ’تفسیرِ صغیر‘ تقسیم کر رہا تھا جبکہ ضمانت کی درخواست میں ملزم کے وکیل کا مؤقف تھا کہ ایف آئی آر کے مطابق اس جرم کا ارتکاب 2019 میں کیا گیا جبکہ کسی بھی ممنوعہ کتاب کی تقسیم یا اشاعت کو پنجاب قرآن شریف (ترمیم) قانون کے تحت سنہ 2021 میں جرم قرار دیا گیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے میں کہا تھا کہ چونکہ سنہ 2019 میں ممنوعہ کتاب کی تقسیم جرم نہیں تھی اس لیے درخواست گزار پر یہ فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔

    ’مبارک ثانی کیس‘ کے عدالتی فیصلے کے پیراگراف سات اور 42 میں کیا کہا گیا تھا؟

    عدالت کی جانب سے ’مبارک ثانی کیس‘ میں نظرِ ثانی کی اپیل پر فیصلے کے پیراگراف نمبر سات میں کہا گیا تھا کہ ’ایف آئی آر میں ملزم پر مجموعہ تعزیرات کی دفعہ 295B کا تو ذکر کیا گیا لیکن کسی قانونی شق کا صرف ذکر کرنا ملزم کو اس دفعہ کے تحت جرم کے لیے ذمہ دار ٹھرانے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ ایف آئی آر کے مندرجات میں ’توہینِ قرآن‘ کا الزام نہ تو بلاواسطہ اور نہ ہی بالواسطہ لگایا گیا تھا، اور چونکہ مذکورہ ادارہ جہاں ایف آئی آر کے مطابق ممنوعہ کتاب تقسیم کی گئی تھی احمدیوں کا ادارہ تھا، اس لیے اس فعل پر مجموعہ تعزیرات کی دفعہ 298C کا اطلاق نہیں ہو سکتا تھا۔ درخواست گزار نے فوجداری درخواست نمبر 1344-L/2023 کے ذریعے ضمانت پر رہائی کی درخواست دائر کی تھی۔ عدالتِ ہذا کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ ملزم قید میں 13 مہینے گزار چُکا ہے، جبکہ ممنوعہ کتاب کی تقسیم کا جُرم ثابت ہونے پر اسے جس قانون کے تحت سزا سُنائی جا سکتی ہے وہ فوجداری ترمیمی قانون، 1932 کی دفعہ 5 ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ 6 مہینے تک کی سزائے قید دی جا سکتی ہے۔‘

    تاہم اسی عدالتی فیصلے کے پیراگراف نمبر 42 میں کہا گیا تھا کہ ’آئینی و قانونی دفعات اور عدالتی نظائر کی اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ احمدیوں کے دونوں گروہوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد انھیں آئین اور قانون کے مطابق اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور اس کے اظہار اور اس کی تبلیغ کا حق اس شرط کے ساتھ حاصل ہے کہ وہ عوامی سطح پر مسلمانوں کی دینی اصطلاحات استعمال نہیں کریں گے، نہ ہی عوامی سطح پر خود کو مسلمانوں کے طور پر پیش کریں گے۔ تاہم اپنے گھروں، عبادت گاہوں اور اپنے نجی مخصوص اداروں کے اندر انھیں قانون کے تحت مقررہ کردہ ’معقول قیود‘ کے اندر گھر کی خلوت‘ کا حق حاصل ہے۔‘

  5. بریکنگ, مذہبی منافرت کے پھیلاؤ اور اداروں کی تضحیک کے الزامات، اوریا مقبول جان جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے, ترہب اصغر، بی بی سی اردو

    اوریا مقبول جان

    ،تصویر کا ذریعہYOUTUBE

    لاہور میں عدالت نے مذہبی منافرت پھیلانے اور ریاستی اداروں کی تضحیک کے الزام میں گرفتار تجزیہ کار اوریا مقبول جان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔

    ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے اوریا مقبول جان کو بدھ کو رات گئے لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔

    ایف آئی اے کے ایک افسر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اوریا مقبول جان کے خلاف مذہبی منافرت کے پھیلاؤ، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیزی پھیلانے اور مخصوص شخصیات کو ’گلوریفائی‘ کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ اوریا مقبول جان کو حراست میں لیا گیا ہو۔ گذشتہ برس 13 مئی کو بھی لاہور پولیس نے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر انھیں حراست میں لیا تھا تاہم بعدازاں انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

    جمعرات کو ایف آئی اے اوریا مقبول جان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا اور 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر اوریا مقبول کے وکیل میاں علی اشفاق کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے کسی کی ادرے کی توہین نہیں کی۔

    سماعت کے دوران اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کوئی خلافِ قانون کام نہیں کیا اور اگر انھوں نے ملک سے باہر جانا ہوتا تو کب کے جا چکے ہوتے کیونکہ ان کے تینوں بیٹے بیرون ملک مقیم ہیں۔

    اوریا مقبول کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس اوریا مقبول جان سے متعلق کوئی ثبوت موجود نہیں اور وہ زبردستی ثبوت بنا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر کے متن کے مطابق یہ ہتک عزت کا کیس بنتا ہے اور ان کے موکل کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے۔

    مجسٹریٹ نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور بعدازاں چار دن کے جسمانی ریمانڈ کی منظوری دے دی۔

  6. جسٹس فائز عیسیٰ کا مولانا فضل الرحمان اور علما سے معاونت لینے کا فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ’مبارک ثانی کیس‘ میں نظرِ ثانی کی اپیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں وفاق کی متفرق درخواست کی سماعت کے دوران علما سے عدالت کی معاونت کے لیے کہا ہہے۔

    توہینِ مذہب کے اس مقدمے میں گرفتار ملزم کی جانب سے درخواستِ ضمانت مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے چھ فروری 2024 کو فیصلہ دیتے ہوئے انھیں ضمانت پر رہا کردیا تھا جس کے بعد چیف جسٹس کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم شروع ہو گئی تھی اور بعد ازاں اس مہم میں ملک کی مذہبی جماعتیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔

    جمعرات کو اس معاملے کی سماعت کے موقع پر مذہبی جماعت تحریکِ لبیک نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کا بھی اعلان کیا تھا جس کے بعد حکام نے ریڈ زون کو سیل کر دیا تھا۔

    سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر جمعرات کو اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ ان کا کہنا تھا عدالت کے فیصلے کے بعد پارلیمان اور علما نے حکومت کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔

    منصور اعوان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بارے میں سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے خط ملا تھا اور وزیراعظم کی جانب سے بھی ہدایات ملی تھیں۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ مذہبی نوعیت کا ہے تو علما کو سن لیا جائے۔

    اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ اس بات کا تعین کرنا چاہتے ہیں کہ کون کون ہماری رہنمائی کرے گا سو بتایا جائے کہ کون سے علما عدالت میں موجود ہیں۔

    بعدازاں عدالت نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، مفتی شیر محمد، مولانا ابو الخیر آزاد، مولانا محمد زبیر اور کمرہ عدالت میں موجود دیگر علما سے معاونت لینے کا فیصلہ کیا۔

    مولانا فضل الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’عدالتی فیصلے میں کوئی غلطی یا اعتراض ہے تو ہمیں بتائیں‘۔

    سماعت کے دوران مفتی تقی عثمانی ترکی سے بذریعہ ویڈیولنک پیش ہوئے۔ انھوں نے عدالت سے فیصلے کے پیراگراف نمبر سات اور 42 کو حذف کرنے کی استدعا کرنے کے علاوہ مقدمے سے دفعات خارج کرنے کے حکم میں بھی ترمیم کی استدعا کی۔

    مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ دفعات کا اطلاق ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ ٹرائل کورٹ پر چھوڑ دے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ’مبارک ثانی نجی تعلیمی ادارے میں معلم تھا، گویا عدالت نے تسلیم کر لیا کہ احمدی ایسے ادارے بنا سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ عدالت نے کہا ہے کہ قادیانی بند کمرے میں تبلیغ کر سکتے ہیں جبکہ قانون کے مطابق قادیانیوں کو تبلیغ کی کسی صورت اجازت نہیں ہے۔

    مفتی تقی عثمانی نے یہ بھی کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 298 سی کو مدنظر نہیں رکھا۔ اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر عدالت اس کی اس کی وضاحت کردے تو کیا یہ کافی ہوگا؟

    مفتی تقی عثمانی نے درخواست کی کہ عدالت وضاحت کرنے کے بجائے فیصلے کا متعلقہ حصہ حذف کر دے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلے کے پیراگراف 42 میں تبلیغ کا لفظ استعمال کیا گیا یعنی غیر مشروط اجازت دی گئی۔

    اس پر چیف جسٹس نے متعلقہ سیکشن پڑھ کر سنایا جس کے مطابق غیرمسلم کو خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ احمدی اقلیت میں ہیں لیکن خود کو غیر مسلم نہیں تسلیم کرتے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ غلطی سے ماورا نہیں ہیں اور عدالتی فیصلے میں جو غلطیاں اور اعتراض ہے ان کی نشاندہی کی جائے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارا ملک اسلامی ریاست ہے اس لیے عدالتی فیصلوں میں قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو روسٹرم پر بلایا تو ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے پر مذہبی جماعتوں اور علما کرام کے تحفظات عدالت کے سامنے ہیں۔

    مفتی تقی عثمانی کی درخواست کی حمایت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عدالت کو اپنے پورے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

    اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آپ نے نظرثانی کی درخواست دی ہم نے فوری لگادی کوئی بات چھپائی؟‘

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا علما اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے بھی سامنے آ چکی ہے جو کہ آپ کے فیصلے کے خلاف ہے۔

    SC

    ،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN

    یہ معاملہ کیا ہے اور اتنا متنازع کیوں بنا؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے چھ فروری کو ملزم کی ضمانت اور فردِ جرم سے بعض الزامات حذف کروانے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہوئی جو لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد 16 اور 27 نومبر 2023 کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

    ملزم پر چھ دسمبر 2022 کو ضلع چنیوٹ میں درج ایف آئی آر کے مطابق صوبہ پنجاب میں قرآن کی طباعت کے قانون 2011، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 سی اور دفعہ 295 بی کے تحت تین الزامات لگائے گئے تھے۔

    ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم ممنوعہ کتاب ’تفسیرِ صغیر‘ تقسیم کر رہا تھا جبکہ ضمانت کی درخواست میں ملزم کے وکیل کا مؤقف تھا کہ ایف آئی آر کے مطابق اس جرم کا ارتکاب 2019 میں کیا گیا جبکہ کسی بھی ممنوعہ کتاب کی تقسیم یا اشاعت کو پنجاب قرآن شریف (ترمیم) قانون کے تحت سنہ 2021 میں جرم قرار دیا گیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے میں کہا تھا کہ چونکہ سنہ 2019 میں ممنوعہ کتاب کی تقسیم جرم نہیں تھی اس لیے درخواست گزار پر یہ فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔

    فیصلے کے مطابق ’آئین نے قرار دیا ہے کہ کسی شخص پر ایسے کام کے لیے فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی جو اس وقت جرم نہیں تھا، جب اس کا ارتکاب کیا گیا۔‘

    اس حوالے سے فیصلے میں آئین کی دفعہ 12 (1) کا حوالہ دیا گیا۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں اگر ملزم کو کسی جرم پر سزا ہو سکتی ہے وہ ’تفسیر صغیر‘ نامی کتاب کی اشاعت اور اس کی تقسیم کا جرم ہے جس کی سزا چھ ماہ قید ہے اور ملزم پہلے ہی ایک سال سے زیادہ عرصہ جیل میں گزار چکا ہے۔

    ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ججوں نے ملزم کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے اس نکتے کو نظر انداز کیا۔

  7. اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستے بحال ہونا شروع، ریڈ زون تاحال سیل

    اسلام آباد

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں ہونے والا جلسہ ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد انتظامیہ نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں سے رکاوٹیں ہٹانی شروع کر دی ہیں تاہم مذہبی جماعتوں کے احتجاج کے پیشِ نظر ریڈ زون کو تاحال رکاوٹیں لگا کر بند کیا ہوا ہے۔

    پی ٹی آئی کے جلسہ ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد ترنول کے مقام پر تعینات پولیس کی نفری واپس بلا لیا گیا ہے اور ترنول کی جانب جانے والے داخلی راستوں سے کنٹینرز بھی ہٹانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    تاہم ریڈ زون کی جانب جانے والے تمام راستے تاحال مکمل طور پر بند ہیں۔

    ریڈ زون کے قریب نادرہ چوک کو کنٹینرز لگا کر مکمل بند کر دیا گیا ہے۔

    متعدد سڑکیں بند ہونے کے باعث سیرینا چوک کے اطراف میں شدید ٹریفک جام ہے۔

    دوسری جانب، مذہبی جماعتوں کے کارکنان فضلِ حق روڈ پر جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

    جمعرات کے روز سپریم کورٹ میں مبارک احمد ثانی کیس کے فیصلے کے خلاف وفاق کی متفرق درخواست کی سماعت کے موقع پر تحفظ ناموس رسالت نے سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

  8. ’کافی دیر بس چلتی رہی پھر کسی چیز سے ٹکرائی اور الٹ گئی‘

    ایران ٹریفک حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہIRIB/HANDOUT/EPA-EFE/REX/Shutterstock

    ’میں سو چکا تھا کہ اچانک بس میں ہلچل پیدا ہونے سے آنکھ کھلی تو ہر کوئی پریشان اور فکر مند تھا۔ میرے ساتھی نے بتایا کہ بس کی بریک فیل ہو چکی ہے اور ڈرائیور بس کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

    بی بی سی نے ایران میں حادثے کا شکار ہونے والی پاکستانی زائرین کی بس کے مسافروں سے بات کی اور جاننے کی کوشش کہ آخر یزد میں یہ حادثہ کیسے پیش آیا۔

  9. بریکنگ, پاکستان تحریک انصاف کا ترنول جلسہ ملتوی، آٹھ ستمبر کے لیے این او سی جاری

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آج اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں ہونے والا اپنا جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    بی بی سی کے شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے تصدیق کی ہے کہ آج ہونے والا جلسہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے 22 اگست کے جلسے کے لیے دیا گیا این او سی بدھ کو منسوخ کیا تھا تاہم تحریکِ انصاف نے ہر حال میں یہ جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    اس صورتحال میں جمعرات کی صبح سے ہی اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں جبکہ شہر کے نجی و سرکاری سکول بھی بند کر دیے گئے تھے۔

    تحریکِ انصاف کی جانب سے جلسے کے التوا کے بعد اب ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے پی ٹی آئی کو آٹھ ستمبر کو جلسہ کرنے کے لیے این او سی جاری کر دیا ہے۔

    انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے این او سی میں 40 ہدایات شامل ہیں۔

    اس نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ نے 22 اگست کا این او سی شہر میں مذہبی جماعتوں کی احتجاج کی وجہ سے منسوخ کیا تھا۔

    جمعرات کو جاری ہونے والے این او سی کے مطابق انتظامیہ 8 ستمبر کو جلسے کے لیے سکیورٹی فراہم کرے گی۔

    این او سی میں ہدایت کی گئی ہے کہ جلسے کے شرکا لوگ شام چار بجے جمع ہوں گے اور جلسہ شام سات بجے ختم کرنا ہوگا۔

  10. اٹک میں سکول وین پر فائرنگ، دو بچیاں ہلاک، پانچ بچے اور ڈرائیور زخمی

    اٹک

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سرحدی ضلعے اٹک میں نامعلوم افراد کی سکول وین پر فائرنگ سے دو کمسن طالبات ہلاک اور پانچ بچوں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    اٹک پولیس کے ترجمان کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح کالا چٹا پہاڑ کے دامن میں وااقع گاؤں ڈھیری کوٹ کے نزدیک پیش آیا ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں سکول وین کا ڈرائیور بھی زخمی ہوا ہے جبکہ زخمی اور ہلاک ہونے والے تمام بچوں کی عمر چار سے 12 سال کے درمیان ہیں۔

    اس واقعے کے بعد ریسکیو 1122 کی ٹیم نے زخمیوں اور لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اٹک منتقل کیا۔

    حملے کے بعد نامعلوم حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

    تاحال یہ واضح نہیں کہ وین کو کیوں اور کس نے نشانہ بنایا تاہم اٹک پولیس کے ترجمان محمد جنید نے بی بی سی کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق وین ڈرائیور کی دشمنی تھی اور اسی پر فائرنگ ہوئی ہے تاہم اس بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کمشنر راولپنڈی سے اس واقعے پر رپورٹ طلب کی ہے جبکہ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت کی ہے۔

  11. پِی ٹی آئی جلسہ، سپریم کورٹ کیس: اسلام آباد میں کون کون سے راستے بند ہیں؟

    اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے ممکنہ جلسے، سپریم کورٹ میں مبارک ثانی کیس کی سماعت کے موقع پر ممکنہ احتجاج اور بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کی نقل و حرکت کے پیشِ نظر شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں اور ریڈ زون کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

    • کھنہ پل سے اسلام آباد کی طرف آنے والے راستے کو بند کر دیا گیا ہے۔
    • مری روڈ فیض آباد کی جانب جانے والی ٹریفک کے لیے بند ہے۔
    • کورال چوک سے آگے کا راستہ بھی بند کردیا گیا ہے۔
    • سواں پل اور فیض آباد کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے اور ایک وقت میں صرف ایک گاڑی کو گزرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔
    • روات ٹی چوک اور 26 نمبر کو بھی رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔
    • جی ٹی روڈ سے مرگلہ ایوینیو کی جانب جانے والا راستہ بھی بند ہے۔
    • انتظامیہ نے موٹر وے چوک پر بھی کنٹینرز رکھنا شروع کر دیے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی بھاری نفرری بھی موقع پر موجود ہے۔
    • ریڈ زون کو بھی کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔
    • ریڈ زون میں صرف مرگلہ ایوینو کی جانب سے داخل ہوا جا سکتا ہے۔
    اسلام آباد روڈ
    اسلام آباد روڈ
    اسلام آباد روڈ
    اسلام آباد پولیس
  12. ترنول جلسہ ہر حال میں ہو گا، تشدد ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی: پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت

    شیر افضل مروت

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل خان مروت کا کہنا ہے کہ ترنول جلسہ ہر حال میں ہو گا اور اگر انتظامیہ نے تشدد کا سہارا لیا تو ہم نہیں جھکیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چیف کمشنر اسلام آباد نے ہائی کورٹ کے احکامات پر جلسے کے لیے جاری کیا گیا این او سی واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

    بدھ کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں مروت نے دعویٰ کیا کہ جیو ٹی وی اور دیگر سرکاری میڈیا پی ٹی آئی کے کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے دھمکی آمیز خبریں پھیلا رہے ہیں۔

    انھوں نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد اور راولپنڈی کے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ گرفتاریوں سے بچنے کے لیے زیر زمین چلے جائیں۔

    ’میں زیر زمین جا رہا ہوں اور کل نکلوں گا اور دیگر قیادت کے ساتھ جلسہ پوائنٹ کی طرف ریلی کی قیادت کروں گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر تشدد ہوا تو شہباز شریف، محسن نقوی، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر اسلام آباد اس کے ذمہ دار ہوں گے۔

    اس سے قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ’اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے سے روکا جا رہا ہے اور جلسے کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا گیا ہے تاہم ہم ہر حال میں جلسہ کریں گے۔‘

  13. پی ٹی آئی کا ترنول میں جلسہ، انتظامیہ نے جی ٹی روڈ پر کنٹینرز رکھ دیے

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو ترنول میں ممکنہ جلسے سے روکنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس نے جی ٹی روڈ پر کنٹینرز رکھ دیے ہیں جبکہ جلسہ گاہ کو بھی کھود دیا ہے۔

    خیال رہے کہ نے پی ٹی آئی نے 22 اگست یعنی جمعرات کے روز جلسے کا اعلان کیا تھا جس کے لیے انتظامیہ نے انھیں ترنول میں جلسے کی اجازت دی تھی۔

    تاہم جلسے سے ایک روز قبل یعنی بدھ کو اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے جلسے کا این او سی منسوخ کردیا تھا۔ ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کا کہنا تھا کہ جلسے کے ہجوم کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ چند دن قبل بھی مظاہرین سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے، ان حالات میں جلسے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    ترنول

    دوسری جانب اسلام آباد کے ریڈ زون کو کنٹینرز اور خاردار تاریں لگا کر بندُ کردیا گیا ہے۔

    جمعرات کے روز سپریم کورٹ مبارک احمد کیس کے فیصلے کے خلاف وفاق کی متفرق درخواست کی سماعت کرے گی۔

    اس موقع پر تحفظ ناموس رسالت نے سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

    سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت ایک احمدی شہری کو ضمانت پر رہائی ملی تھی۔ خیال رہے پاکستان کے آئین کے مطابق احمدی شہری خود کو مسلمان نہیں قرار دے سکتے۔

    اس سے قبل رواں ہفتے سوموار کے روز بھی مبارک احمد کیس کے فیصلے کے خلاف حتجج کرتے ہوئے مذہبی جماعتوں کے کارکنان ریڈ زون میں داخل ہو گئے تھے اور سپریم کورٹ پہنچنے کی کوشش کی تھی۔

    رات گئے وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا۔

    محسن نقوی کہنا تھا کہ امن عامہ برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے اور کسی کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

    وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا ہر ایک کا حق ہے لیکن احتجاج مناسب جگہ پر ہونا چاہیے اور اس سے عوام کے روزمرہ معمولات میں خلل نہیں پڑنا چاہیے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔

    میٹرو بس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کے سکولوں میں تعطیل، جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس معطل

    اسلام آباد میں ممکنہ احتجاجوں کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے شہر بھر کے سکول 22 اگست کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق بچوں کی حفاظت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس سروس بھی بند رہے گی۔

    ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت کی مجموعی صورتحال کے پیشِ نظر میٹرو بس سروس صدر اسٹیشن تا پاک سیکریٹریٹ تک مکمل بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  14. وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا این او سی منسوخ ہونے کے باوجود ترنول میں جلسے کا اعلان

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے سے روکا جا رہا ہے اور جلسے کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا گیا ہے تاہم ہم ہر حال میں جلسہ کریں گے۔‘

    ویڈیو پیغام میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبے کی عوام سے اپیل کی کہ وہ کل صوابی انٹرچینج پر جمع ہوں اور وہ خود وہاں سے ترنول کے لیے قافلے کی قیادت کریں گے۔

    علی امن گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جلسے کی اجازت عدالت نے دی تھی جسے اسلام آباد انتظامیہ نے منسوخ کیا، وفاقی حکومت کی جانب سے جاری ان غیر قانونی کارروائیوں کی ہم مذمت کرتے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل بدھ کے روز اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کے 22 اگست یعنی جمعرات کو اسلام آباد میں جلسے کا این او سی منسوخ کردیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کا کہنا تھا کہ جلسے کے ہجوم کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ چند دن قبل بھی مظاہرین سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے، ان حالات میں جلسے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

  15. اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے جلسے کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا

    پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کے 22 اگست یعنی جمعرات کو اسلام آباد میں جلسے کا این او سی منسوخ کردیا ہے۔

    اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق چیف کمشنر اسلام آباد کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے این او سی منسوخی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ایک تو بنگلا دیش کرکٹ ٹیم موجود ہے، دوسری جانب سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف مذہبی جماعتوں کے احتجاج کی وجہ سے شدید سکیورٹی تحفظات ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ جلسے کے ہجوم کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ چند دن قبل بھی مظاہرین سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے، ان حالات میں جلسے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    اجلاس میں شامل آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ پولیس کے لیے دستیاب وسائل میں جلسے کے شرکا اور شہر کے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانا انتہائی مُشکل ہے۔

    خیال رہے کہ تحریک انصاف نے اسلام آباد میں 22 اگست کو جلسے کا اعلان کر رکھا ہے۔

    اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جلسے کا اجازت نامہ منسوخ کیے جانے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد کے صدر عامر مغل نے 22 اگست شام 4:00 بجے ترنول چوک میں پشاور روڈ جلسے کا اعلان کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’انتظامیہ نے این او سی منسوخ کیا ہے لیکن ہم نے جلسہ منسوخ نہیں کیا۔ پوری جلسہ کمیٹی کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جلسہ ضرور ہوگا۔‘

    عامر مغل کا کہنا تھا کہ ’پرامن سیاسی جدوجہد ہمارا آئینی و قانونی حق ہے جسے ہم کسی بھی قیمت پر ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔‘

  16. فائر وال نہیں ویب مینجمنٹ سسٹم اپ گریڈ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے انٹرنیٹ کی رفتار کم ہے: چیئرمین پی ٹی اے

    Internet

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس سید امین الحق کی زیرِ صدارت ہوا جس میں ملک میں انٹرنیٹ سروسز متاثر ہونے اور سوشل میڈیا سروس میں خلل پر چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔

    اجلاس کے دوران اراکین کی جانب سے انٹرنیٹ کی سُست رفتار پر سوالات اُٹھائے گئے کہا گیا کہ ’ملک میں کبھی ٹک ٹاک بند ہوتا ہے کبھی انٹرنیٹ کی رفتار کم کبھی فائر وال، انٹرنیٹ کے حوالے سے ہو کیا رہا ہے؟‘

    چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ ’انٹرنیٹ کی سست روی میں پی ٹی اے کا کوئی کردار نہیں۔ ملک میں انٹرنیٹ ٹیکنیکل مسئلے کی وجہ سے سُست ہو سکتا ہے۔ فائر وال نہیں ویب مینجمنٹ سسٹم اپ گریڈ ہو رہا ہے۔ میرے مطابق سسٹم اپ گریڈ ہونے سے انٹرنیٹ سلو نہیں ہونا چاہئے۔‘

    قائمہ کمیٹی کے ممبر اور ایم کیو ایم کے رہنما مصطفی کمال نے کہا کہ ’کمپنیز نے ہدایات جاری کردی ہیں کہ پاکستان میں بزنس نہ کریں۔ آپ کی برینفگ سے تو لگ رہا ہے کہ پاکستان میں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے کہ جتنا شور شرابا ہے وہ ویسے ہی ملک میں سب کچھ ٹھیک ہے؟‘

    چیئرمین پی ٹی اے کہ کہنا تھا کہ ’سب میرین کیبل خراب ہونے کی وجہ سے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار کم ہے۔ سب میرین کیبل 28 اگست تک ٹھیک ہوجائیگی۔‘

    اس دوران اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے سوال کیا کہ ویب مینجمنٹ سسٹم یا فائر وال سسٹم سوشل میڈیا اکاونٹس اور مواد کو متاثر کرتا ہے تو آپ تو بلاک کردیں گے مگر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ کیا انٹیلیجنس ایجنسی کے پاس یہ قابلیت ہے کہ وہ خود مداخلت کر کے چیزوں کو بلاک کردے؟ اس پر چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ یہ سسٹم آپ کے دور حکومت میں ہی لایا گیا تھا۔

    چیئرمین پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ ’سچ بتاوں تو مجھے اتنا علم ہے جتنا آپ کو ہے۔‘

    اس پر عُمر ایوب نے چیئرمین پی ٹی اے سے سوال کیا کہ کیا کسی ایجنسی کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ خود سے کسی کی کال ریکارڈ کرے؟‘

    اس پر اجلاس میں شامل ایم این اے ذولفقار بھٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے اگر سوالات ہیں تو آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو خط لکھ کر پوچھ لیں۔ چیئرمین پی ٹی اے سے کیا سوال کر رہے ہیں۔‘

    VPN

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری جانب پشاور ہائیکورٹ میں انٹرنیٹ کی سست رفتار کے خلاف دائر درخواست پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد اعجاز خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔

    عدالت کی جانب سے پی ٹی اے اور فیڈرل سیکرٹری آئی ٹی کو نوٹس جاری کردیا گیا۔

    وکیل درخواست گزار نعمان محب کاکاخیل کا عدالت میں کہنا تھا کہ ’ملک بھر میں انٹرنیٹ انتہائی سست ہے جس کی وجہ سے انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔‘

    سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے سوال کیا کہ یہ فائر وال کیا چیز ہے؟ جس پر نعمان محب کاکاخیل کا کہنا تھا کہ ’یہ ایسی چیز ہے جس پر ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر چیزوں کو روکا اور کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت نے لوگوں کو وی پی این استمعال کرنے پر مجبور کیا ہے۔ وی پی این کا استعمال خطرناک ہے لیکن اس کے علاوہ اب کوئی آپشن نہیں ہے۔‘

    سماعت کے بعد عدالت نے پی ٹی اے اور فیڈرل سیکرٹری آئی ٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

  17. بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ کی رکن بلوچستان اسمبلی کی حیثیت سے کامیابی کا نوٹیفیکشن کالعدم, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے وزیر داخلہ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما میرضیا اللہ لانگو کی رکن بلوچستان اسمبلی کی حیثیت سے کامیابی کے نوٹیفیکیشن کو ایک الیکشن ٹریبیونل نے کالعدم قرار دیا ہے۔ جبکہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے خلاف انتخابی عزرداری کو خارج کردیا گیا۔

    یہ فیصلے بدھ کو بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز پر مشتمل دو الگ الگ ٹریبونلز نے سنائے۔

    2024 کے عام انتخابات میں میرضیا اللہ لانگو بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 36 قلات سے کامیاب قرار دیئے گئے تھے۔

    اس نشست سے ان کی کامیابی کو جمیعت العلما اسلام کے امیدوار میر سیعد احمد لانگو نے جوہان اور گز کے 7 پولنگ سٹیشنوں میں دھاندلی کی بنیاد پر چیلنج کیا تھا۔

    بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل ٹریبونل نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ انتخابی عزرداری پر محفوظ کیا تھا۔

    میر سعید احمد لانگو کے وکیل اکرم شاہ ایڈووکیٹ نے ہائیکورٹ میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ٹریبونل نے میرضیا اللہ لانگو کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حلقے میں جوہان اور گز کے 7پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ کرانے کا حکم سُنایا ہے۔

    درایں اثناء ہائیکورٹ کے جج جسٹس روزی خان بڑیچ پر مشتمل ٹریبونل نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے خلاف انتخابی عزرداری کو خارج کیا۔

    بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 10 ڈیرہ بگٹی سے جمہوری وطن پارٹی کے امیدوار نوابزادہ گہرام بگٹی نے وزیراعلیٰ کی رکن اسمبلی کی حیثیت سے کامیابی کے نوٹیفیکشن کو چیلنج کیا تھا۔

    درخواست گزار نے حلقے میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے 38 پولنگ سٹیشنوں کے ووٹوں کی نادرا سے بائیومیٹرک کرانے کی استدعا کی تھی۔

    ٹریبونل نے محفوظ فیصلے کو سناتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے خلاف درخواست کو خارج کردیا۔

    وزیراعلیٰ کی پیروی کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کی۔

  18. فیض حمید کے خلاف ٹرائل اوپن کورٹ میں کریں: عمران خان کا آرمی چیف سے مطالبہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے 190 ملین پاونڈ کے مقدمے کی سماعت کے بعد اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے مطالبہ کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف ٹرائل اوپن کورٹ میں ہونا چاہیے۔

    انھوں نے اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو سب سے بڑی جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیونکہ یہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ پر الزام کا معاملہ ہے اس لیے اس معاملے کو اوپن کورٹ میں چلایا جائے اور میڈیا کے نمائندوں کو بھی آنے کی اجازت دی جائے تاکہ پوری دنیا کو معلوم ہو کہ ہو کیا رہا ہے۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میرا جنرل فیض حمید سے تب تک ہی رابطہ تھا جب تک ڈی جی آئی ایس آئی تھے اس کے بعد سے ان سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’پاکستان میں جب کوئی ریٹائرڈ ہو جاتا ہے تو وہ ہیرو سے زیرو ہو جاتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ان کے پاس اختیارات نہیں ہوتے، جس کے پاس اختیارات نہیں میں اس سے کیسے رابطہ رکھوں گا۔‘

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’اس طرح اوپن عدالتی کارروائی سے بڑی بڑی باتیں سامنے آئیں گی نئی نئی چیزیں پتہ لگیں گی کیا ہوا ہے اور کیا ہو رہا ہے۔‘

    بانی پی ٹی آئی نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران مزید کہا کہ ’گزشتہ برس مارچ میں اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں جس نے میری گرفتاری اور گھسیٹنے کے احکامات دیے وہی 9 مئی کا ذمہ دار ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ نو مئی نیشنل سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ لوکل معاملہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ملک میں کیسی جمہوریت ہے جہاں پر ایک سابق وزیر اعظم کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں چلایا جارہا ہے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اڈیالہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ کو اٹھایا لیا گیا اور ان کی اہلیہ اپنے خاوند کی بازیابی کے لیے عدالتوں کے چکر لگا رہی ہے۔‘

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGOP

    سابق وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ ’مجھے پتہ ہے میری گرفتاری کا آرڈر کس نے دیا۔‘

    سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں اڈیالہ جیل کے اہلکار کے مطابق صحافی نے سابق وزیر اعظم سے سوال کیا کہ آپ کی گرفتاری کا آرڈر کس نے دیا؟ جس کا عمران خان نے جواب دیا کہ ’گرفتاری کا حکم نمبر ون نے دیا ہے کون نمبر ون وہی جو بادشاہ ہے جو سپر کنگ ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’190 ملین پاؤنڈ کا معاملہ منی لانڈرنگ کا نہیں ہے۔‘ عمران خان نے کہا کہ ’برطانیہ میں حسن نواز کی پراپرٹی کی مالیت 9 ارب تھی بزنس ٹائیکون نے نو ارب روپے کی بجائے 18 ارب روپے میں خریدی جس پر برطانوی ایجنسی این سی اے تحقیقات کی تھی۔‘

    کمرہ عدالت میں موجود ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ کی کے پی کی حکومت میں کرپشن کی بات چیت ہوئی آپ نے تحقیقات کا حکم دیا اب لوکل گورنمنٹ کے نمائندے آپ سے ملنے آئے ہیں کے پی کے کا وزیراعلیٰ ان سے نہیں ملتا ان کے پاس فنڈ اور اختیارات نہیں؟ جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مجھے کسی سے ملنے نہیں دیا جاتا تو میں کیسے اس معاملے کو دیکھ سکتا ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجھ سے تو علی آمین گنڈاپور کو بھی ملنے نہیں دیا جاتا ہفتے میں صرف چھ سیاست دانوں کو مجھے ملنے کی اجازت ہے میرے وکلا اندر آنے کے لیے گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں۔‘

    دوسری جانب 190 ملین پاونڈ مقدمے کی سماعت 23 اگست تک ملتوی کردی گئی۔

    اس مقدمے کی سماعت عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء کی عدم دستیابی کے باعث ملتوی کی گئی اور نیب کے تفتیشی آفسر میاں عمر ندیم پر آج بھی جرح نہ ہوسکی۔

    ملزمان کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے مین کونسل اسلام آباد ہائیکورٹ میں مصروف ہیں۔ نیب کے پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ وکلاء صفائی آج آٹھویں مرتبہ تفتیشی آفسر پر جرح نہیں کررہے اور وکلاء صفائی تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔

    ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاونڈ کے مقدمے کا حتمی فیصلہ سنانے سے متعلق جو حکم امتناع جاری کیا تھا وہ ختم کردیا ہے کیونکہ نیب کی جانب سے 2020 میں ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس کے منٹس عمران خان کے وکلا کو فراہم کردیے گئے ہیں اور اس کے بارے میں سابق وزیرِاعظم نے دعوی کیا تھا کہ نیب نے یہ ریفرنس ختم کرنے کا فصیلہ کیا تھا۔

  19. خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 24 گھنٹوں میں 3 افراد ہلاک، 6 زخمی

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبر پختونخوا کے اضلاع مہمند، مانسہرہ اور ٹانک میں بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث رونما ہونے والے واقعات میں تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ اور دو خواتین شامل ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیر آندھی اور بارش کے باعث مجموعی طور پر 10 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تیز بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر محکمہ ریلیف نے چترال اپر میں 30 اگست تک ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جنکہ بند شاہراہوں کو کھولنے کے لیے چھوٹی بڑی مشنری کو بروئے کار لیایا جا رہا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بند شاہراہوں کے کھلنے تک عارضی طور پر ٹریفک کے لئے متبادل راستوں کا بندوبست کیا گیا ہے۔

  20. ایران میں پاکستانی زائرین کی بس کو حادثہ، 11 خواتین سمیت 28 افراد ہلاک

    ایرانی زائرین

    ایران میں پاکستان کے سفیر محمد مدثر کا کہنا ہے کہ وسطی ایران کے صوبے یزد میں پاکستانی زائرین کی بس کو پیش آنے والے حادثے میں 28 افراد ہلاک جبکہ 23 زخمی ہو گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی پولیس کی ابتدائی تفتیش کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حادثہ منگل کی رات پیش آیا اور اس کی وجہ بس کے بریک نظام میں خرابی بنی۔

    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق حادثہ ایرانی دارالحکومت تہران سے تقریباً 500 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع شہر تافت کے باہر پیش آیا ہے۔ حادثے کے وقت بس میں 51 افراد سوار تھے۔

    یزد کے کرائسس مینجمنٹ کے شعبے کے ڈائریکٹر کے مطابق اس حادثے میں مرنے والوں میں 11 خواتین اور 17 مرد شامل ہیں۔

    اس سے قبل پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے ہلاک شدگان کی تعداد 35 بتائی تھی۔

    حادثے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ہنگامی امداد کے شعبے کے ایک اہلکار محمد علی ملک زادہ نے سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ زخمیوں سے 14 کی حالت تشویشناک ہے۔

    پاکستانی زائرین میں سے زیادہ تر کا تعلق سندھ کے ضلع لاڑکانہ، گھوٹکی اور دیگر شہروں سے بتایا جا رہا ہے۔

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران میں پاکستانی زائرین کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت خارجہ کو میتوں کو وطن واپس لانے اور زخمیوں کو بروقت امداد پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔

    ایران بس حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    پاکستانی سفیر محمد مدثر کے مطابق سفارت خانے کے اہلکار بدھ کی صبح تہران سے 700 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یزد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں جبکہ ایک افسر زاہدان میں ہنگامی انتظامات کی نگرانی کر رہا ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ حادثے میں زخمی ہونے والے زائرین تین مختلف ہسپتالوں میں زیرِعلاج ہیں۔

    ’زخمیوں میں سے چودہ مسافروں کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ سات معمولی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایرانی وزارت خارجہ اور دیگر کے ساتھ ملکر ہلاک شدگان کی میتیں پاکستان واپس پہنچانے کے لیے انتظامات کر رہے ہیں۔

    تاہم پاکستانی سفارتکار کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی شناخت میں وقت لگ سکتا ہے۔

    پاکستانی زائرین کے قافلے کے سالار اطہر شمسی نے ایک ویڈیو بیان میں بتایا کہ ان کا قافلہ دو بسوں پر مشتمل تھا اور وہ اربعین کے لیے عراق جا رہے تھے کہ ایک بس چیک پوسٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوئی۔

    خیال رہے کہ لاکھوں شیعہ زائرین ہر برس اربعین کے سالانہ جلوس میں شرکت کے لیے عراق کا رخ کرتے ہیں۔

    اربعین شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک اہم دن ہے۔ یہ اس واقعے کے چالیس روز کی تکمیل کی یاد ہے جب امام حسین، ان کے خاندان اور ان کے ساتھیوں کو کربلا کے مقام پر یزیدی افواج نے قتل کر دیا تھا۔