یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
یکم دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
چاغی پولیس کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ اتوار کی شب ساڑھے 8 بجے کے قریب ایف سی کے کیمپ پر ہوا جس کے بعد سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد کلیئرنس آپریشن کیا گیا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
یکم دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں فرنٹیئرکور کے مرکزی کیمپ پر حملہ کیا گیا ہے۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ایف سی کے کیمپ پر حملہ کرنے والوں کی تعداد چارتھی جن میں سے ایک نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر اپنے آپ کو اڑا دیا جبکہ باقی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارے گئے۔ تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر ان تفصیلات کی تصدیق نہیں کر سکا۔
چاغی پولیس کے ایس ایس پی محمد شریف نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ اتوار کی شب ساڑھے 8 بجے کے قریب ایف سی کے کیمپ پر ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ نوکنڈی میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ ساڑھے 8 بجے کے قریب کیا گیا جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ اندازاً ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک جاری رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے کیمپ کے مرکزی گیٹ کی جانب ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔
انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ پہلے دھماکے کے بعد وقفے وقفے سے سات آٹھ کے قریب چھوٹے دھماکوں کی بھی آوازیں سنائیں دیں جبکہ فائرنگ کا سلسلہ ساڑھے دس بجے کے قریب بند ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے تاحال نقصانات کی تفصیل سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد زیادہ تھی جو کہ سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں مارے گئے ہیں۔
اپنے یک بیان میں کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
بلوچستان میں موجودہ شورش کے بعد نہ صرف نوکنڈی بلکہ ضلع چاغی میں سکیورٹی فورسز کے کسی کیمپ پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔
ڈسٹرکٹ کونسل چاغی کے وائس چیئرمین اسفندیار خان محمدزئی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے حملے کو ناکام بنادیا۔
نوکنڈی کہاں واقع ہے؟
نوکنڈی بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی کی تحصیل ہے ۔ نوکنڈی ٹائون اسی تحصیل کا ہیڈ کوارٹرہے۔ نوکنڈی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مغرب میں اندازاً پانچ سو کلومیٹر جبکہ خود ضلع چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین سے 130 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
نوکنڈی میں حملے کا نشانہ بننے والا ایف سی کا کیمپ کوئٹہ تفتان شاہراہ پر واقع ہے۔
ضلع چاغی بلوچستان کا واحد ضلع ہے جس کی سرحدیں دو ممالک افغانستان اور ایران سے لگتی ہیں۔
اس کے شمال میں افغانستان جبکہ مغرب میں ایران واقع ہے۔ چاغی میں مختلف نوعیت کے معدنیات پائے جاتے ہیں۔ تانبے اور سونے کے دو بڑے معدنی منصوبے ریکوڈک پراجیکٹ اور سائیندک پراجیکٹ اسی ضلع میں واقع ہیں۔
ریکوڈک پراجیکٹ نوکنڈی کے قریب واقع ہے۔ نوکنڈی سمیت ضلع چاغی کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کو کہا ہے کہ ’وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ دو ماہ کے لیے یہ گورنر راج ہو گا جس میں بعد میں پھر توسیع ہو سکتی ہے۔
اتوار کی شب نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی، سیفٹی، سکیورٹی اور گورننس کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ’حالات گورنر راج کی طرف جا رہے ہیں۔‘
اس بیان پر اپنے ردعمل میں خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ ’یہ ان کی صوابدید ہے، اگر گورنر نافذ کرنا ہے تو آج ہی کر دیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر ایسے کسی ایڈوینچر کی کوشش کی تو لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے اور انھیں لگ پتا جائے گا۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ اب صدر مملکت کا اختیار ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت یہ اقدام اٹھاتے ہیں یا نہیں۔ وزیر مملکت نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم اس حوالے سے سفارش بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ اختیار تو گورنر کے ہوتے ہیں کہ وہ ایسی سفارش کریں تو انھوں نے اس پر انھوں اپنی درستگی کر لی۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال سب کے سامنے ہے، خیبر پختونخوا میں ایسا انتظامی ڈھانچہ ہو جو کچھ فائدہ تو دے۔ انھوں نے کہا کہ ’کب تک کے صوبے کے شہریوں کو بے یار ومددگار چھوڑیں گے۔‘
بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ ’گورنر راج شدید ضرورت کی صورت میں لگایا جاتا ہے، صوبے کے حالات اس کا تقاضا کررہے ہیں۔‘
وزیر مملکت نے کہا کہ ماضی میں پنجاب میں بھی گورنر راج لگانے کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس وقت آج کی حکمران جماعت اسے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام قرا دے رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس بات کا حوالہ تاریخی حقیقت کے طور پر دے رہے ہیں کہ ایسا ہوا تھا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ خیبر پختونخوا کو بلاک کرنے کی بھی باتیں ہو رہی ہیں۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ اتوار کو ہی خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ وہ تصادم کا رستہ اختیار نہیں کریں گے، مگر انھوں نے اصرار کیا کہ صوبائی حکومت اس وقت وفاقی حکومت سے اہم قومی مفاد کے معامالات پر تعاون نہیں کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان تحریک انصاف نے چار دسمبر کو نیشنل فنانسکمیشن (این ایف سی) کے اجلاس میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ پشاور میں اراکین اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ’ہم اس اجلاس میں اپنے صوبے اور اپنے صوبے کے عوام کا مقدمہ بہترین انداز میں لڑیں گے۔‘
سہیل آفریدی نے سپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی سے کہا کہ وہ تمام جماعتوں کے پارلیمانی قائدین سے رابطہ کر کے انھیں بھی اعتماد میں لیں کیونکہ یہ صرف کسی ایک شخصیت یا جماعت کے وسائل کی بات نہیں ہے بلکہ یہ پورے صوبے کا حق ہے۔
ان کے مطابق اسمبلی کے اجلاس میں اس پر بحث کرائی جائے گی اور پھر متفقہ لائحہ عمل بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
سہیل آفریدی کے مطابق سنہ 2018 میں قبائلی علاقوں کو انتظامی طور پر تو خیبر پختونخوا میں شامل کیا گیا ہے مگر مالیاتی اعتبار سے انھیں ابھی تک صوبے میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق 2018 سے 2025 تک سات برس میں وفاقی حکومت نے این ایف سی سے ہمارے صوبے کا 1350 ارب روپے کا حصہ نہیں دیا جو کہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس وقت قبائلی علاقوں کا این ایف سی کا حصہ ساڑھے تین صوبوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے اور اس میں خیبر پختونخوا کو آدھا صوبہ شمار کیا جا رہا ہے۔‘
سہیل آفریدی کے مطابق یہ امتیازی سلوک صرف این ایف سی میں ہو رہا ہے جبکہ این ایچ پی یا حکومت نے ضم کرتے وقت جو قبائلی اضلاع سے وسائل کی تقسیم سے متعلق قائم فنڈ سے تین فیصد دینے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر پھر یہ بھی نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ رقم این ایف سی سے علیحدہ ہے جو صوبے کو ملنی تھی۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پیر سے صوبے کی تمام یونیورسٹیوں میں این ایف سی سے متعلق سیمینارز منعقد کیے جائیں گے تا کہ ہم تمام طلبا اور طالبات کو اس متعلق تعلیم دے سکیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے لیے سیشنز ہوں گے تاکہ انھیں بھی علم ہو کہ ان کے صوبے کے ساتھ کیا امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’صرف صوبائی حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام مکاتب فکر کا حق بنتا ہے این ایف سی پر بات کریں۔‘
این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کو چھیڑنا ’آگ سے کھیلنے‘ کے مترادف ہوگا: سندھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اتوار کو کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دی گئی آئینی ضمانتوں کو چھیڑنا ’آگ سے کھیلنے‘ کے مترادف ہوگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے 58ویں یوم تاسیس کے موقع پر اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر بات کی۔
انھوں نے کہا کہ حکران جماعت مسلم لیگ ن نے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے صوبوں کے مالی حقوق میں تبدیلیاں تجویز کی تھیں مگر پیپلز پارٹی نے ان کی مخالفت کی، جس کے باعث وہ تجاویز حالیہ 27ویں آئینی ترمیم کے حتمی مسودے کا حصہ نہ بن سکیں۔
بلاول بھٹو کے مطابق ملک میں پہلے ہی بہت سی ’فالٹ لائنز‘ موجود ہیں اور پیپلز پارٹی نے ماضی میں صوبوں کے حقوق، نمائندگی اور جمہوری نظام کی مضبوطی کے ذریعے ان کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
انھوں نے کہا: ’جو لوگ 18ویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ یا ایسے کسی معاملے کے ساتھ کھیلنے کا سوچ رہے ہیں، وہ دراصل آگ سے کھیل رہے ہیں۔‘
انھوں نے اپنی جماعت کی کوششوں کو سراہا کہ اس نے صوبوں کے مالیاتی حق کو آئینی تحفظ دلوانے میں مؤثر کردار ادا کیا۔
انھوں نے کہا کہ لگایا کہ مسلم لیگ ن انتظامی نظام کی بحالی کے ساتھ ساتھ تعلیم اور آبادی کنٹرول جیسے شعبے، جو 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو منتقل ہو چکے تھے، دوبارہ مرکز کے ماتحت لانا چاہتی تھی۔
بلاول نے کہا کہ ’میں نے ہمیشہ آپ کے حقوق کا دفاع کیا ہے اور ان شا اللہ کرتا رہوں گا۔‘
انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرے گی جو وفاق کو مضبوط بنائیں، لیکن ایسے کسی فیصلے کا حصہ نہیں بن سکتی جس سے صوبوں کے حقوق کمزور ہوں۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ میں مارٹر کے گولے کے دھماکے میں ایک بچی کی ہلاکت کے خلاف ایم-8 شاہراہ کو اتوار کے روز بطور احتجاج بند کیا گیا۔ احتجاج کے باعث شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد ورفت معطل رہی۔
شاہراہ کو ہلاک اور زخمی ہونے والی بچیوں کے لواحقین نے ہوشاپ کے مقام پر بند کیا۔
مارٹر کا گولہ ہوشاپ میں ایک گھر کی چاردیواری کے اندر گر کر پھٹ گیا تھا، جس کی زد میں آ کر چار بچیاں زخمی ہوئی تھیں۔
ہوشاپ میں پولیس کے ایس ایچ او زمان شیر نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ راکٹ گذشتہ شب نامعلوم سمت فائر کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والے چار بچیوں میں سے ایک علاج کے لیے کراچی منتقلی کے دوران زندگی کی بازی ہار گئی تھی۔
احتجاج کے شرکا نے مطالبہ کیا کہ واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان تحریک انصاف نے دو دسمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
پشاور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ تمام پارلیمنٹیرین اسلام آباد اور راولپنڈی میں احتجاج کریں گے جبکہ اس احتجاج میں اراکین اسمبلی کے علاوہ کارکن شریک نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق کارکنان اپنا احتجاج صوابی میں کریں گے۔
ایک سوال کا جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت انصاف کے حصول کے لیے پرامن احتجاج کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’مخالفین چاہتے ہیں کہ ہم تصادم کی طرف جائیں مگر ہم نے ہمیشہ پرامن راستہ اختیار کیا مگر اس کے باوجود بھی ہمارے پرامن کارکنان پر گولیاں چلائی گئیں۔‘
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ’چار نومبر سے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس عرصے میں عمران خان سے نہ ان کی بہنوں، نہ وکلا، نہ ہی پارٹی رہنماؤں اور نہ ڈاکٹرز کی ان سے ملاقات کرائی جا رہی ہے اور انھیں مکمل قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔‘
اتوار کو پشاور میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ’دو دن قبل جب عمران خان سے متعلق ایک تشویشناک خبر سامنے آئی تو ہم سب اڈیالہ جیل کے باہر چلے گئے اور درخواست کی کہ بہنوں میں سے کسی کو دو منٹ کی ملاقات کا وقت دے دیا جائے تاکہ ان کی تسلی ہو جائے مگر پوری رات کسی کو عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں مل سکی۔‘
انھوں نے کہا کہ اس کے بعد ہم صبح اسلام آباد ہائیکورٹ گئے کہ ساری صورتحال سے ہم انھیں آگاہ کریں مگر وہاں چیف جسٹس نے بھی ملنے سے انکار کر دیا۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ’منگل کے دن تمام اسمبلیوں کے اراکین اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پرامن احتجاج کریں گے تاکہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے مقدمات جلد از جلد سنا جائے اور اس کے بعد عمران خان کی بہنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر جائیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’منگل کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تو پھر اس کے بعد بعد لائحہ عمل بنایا جائے گا۔‘
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو اڈیالہ جیل میں جا کر عمران خان سے ملاقات کرنے کی اجازت دی تھی مگر اس کے باوجود وہ ملاقات نہ کر سکے۔ تحریک انصاف نے الزام عائد کیا ہے کہ انتظامیہ یہ ملاقات نہیں ہونے دے رہی ہے اور سہیل آفریدی نے اس طرز عمل کو توہین عدالت قرار دیا۔
سہیل آفریدی نے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر پارٹی کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجاً پڑاؤ بھی ڈالے رکھا۔ انھوں نے کہا کہ بطور وزیر اعلیٰ انھوں نے یہ احتجاج کیا کیونکہ وہاں ایک وزیر اعلیٰ کی بے توقیری ہوئی۔
اتوار کو پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ’احتجاج کرنا پارٹی قیادت کا کام ہے لیکن بطور کارکن احتجاج کیا۔‘
سہیل افریدی نے کہا کہ دیگر صوبوں کے وزیراعلیٰ کو ایئرفورس کے ہیلی کاپٹرز میں لے جایا جاتا ہے لیکن میرا پاسپورٹ سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں تصادم کی طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہم تصادم کا رستہ اختیار نہیں کریں گے تاہم کسی قربانی سے دریغ بھی نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ضلع خیبر کے علاقہ تیراہ میں میری ذاتی زمین نہیں خاندانی زمین ہے۔‘ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’میرے حوالے سے باتیں توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ آبائی علاقے کے حوالے سے میرے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، یہ صرف لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں بہترین گورننس اور سروس ڈلیوری کے باعث ہی پی ٹی آئی کو تیسری مرتبہ حکومت ملی ہے۔ لہٰذا وفاقی حکمران صوبائی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیں۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ وفاق ہمارے تین ہزار ارب روپے سے زائد کے بقایاجات روک کر بیٹھا ہے جبکہ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق وفاق میں 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی۔
ان کے مطابق ملک میں ٹیکسٹائل انڈسٹری تقریباً بند ہو چکی ہے، صنعتکار اور نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں، یہی وفاق کی اصل کارکردگی ہے۔
امن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے بارہا واضح کیا ہے کہ جو حل ہم بتا رہے ہیں اس پر عمل کیا جائے تو ملک میں امن بحال ہو سکتا ہے اور قائم بھی رکھا جا سکتا ہے لیکن افسوس کہ بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں نے ہمیشہ امن کو نقصان پہنچایا ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت اور تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھا کر ایک دیرپا اور مؤثر پالیسی تشکیل دی جائے تاکہ بدامنی کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
اسلام آباد میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ اتوار کو مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ ’ہم دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑے ہیں‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کاروباری اداروں کو سہولت اور تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ دوطرفہ تجارتی تعلقات میں اضافہ ہو‘۔
مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے اپنے بیان میں پاکستان کو اپنا ’دوسرا گھر‘ قرار دیتے ہوئے حالیہ دہشت گرد حملوں میں ہونے والے انسانی جانی نقصان پر تعزیت کا پیغام دیا۔ انھوں نے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں مشترکہ چیلنجز ہمیں مل کر کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ اپنے تعلقات کو تزویراتی سطح تک بلند کریں‘۔
بدر عبد العاطی نے پاکستان اور مصر کے درمیان موجودہ باہمی مکالمہ اور تعاون کے ادارہ جاتی نظام، خاص طور پر مشترکہ وزارتی کمیٹی کو دوبارہ فعال کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کا آخری اجلاس 2010 میں قاہرہ میں ہوا تھا۔
اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے 250 کاروباری اداروں کی فہرست مصر کے ساتھ شیئر کرے گا۔
واضح رہے کہ مصر کے وزیر خارجہ عبدالعاطی دو روزہ سرکاری دورے کے لیے گذشتہ شب اسلام آباد پہنچے تھے۔
اس دورے کے دوران بدر عبد العاطی غزہ اور سوڈان کے تنازعات، ایرانی جوہری پروگرام پر اختلافات، اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے طریقوں سمیت اہم امور پر بات چیت کریں گے۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ بدر عبد العاطی کا دورہ پاکستان اور مصر کے برادرانہ تعلقات کی طویل مدت کی دوستی کی عکاسی کرتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’آج ہونے والی بات چیت پاکستان-مصر تعلقات کی مضبوطی کو دوبارہ اجاگر کرتی ہے اور دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کو ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی، اقتصادی، دفاعی، ثقافتی اور عوامی تعلقات کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھایا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے تعاون کے مزید منظم فریم ورک پر کام کرنے اور شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور وہ پُراعتماد ہیں کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کے نئے مواقع کھولے گا۔
اسحٰق ڈار نے بتایا کہ انھوں نے بدر عبد العاطی کے ساتھ آج کاروبار سے متعلق بات چیت میں خاص توجہ دی کہ کس طرح دونوں ممالک باہمی سرگرمیوں کو بڑھا سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ’خیبرپختونخوا حکومت ڈرگ سمگلنگ، غیرقانونی کان کنی روکنے میں ناکام ہوگئی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’صوبے میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے خزانے کو اربوں کا نقصان ہو رہا ہے۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی خیبرپختونخوا میں غیرقانونی ٹھیکوں پر پہاڑ کاٹے جا رہے ہیں اور صوبے کے متعدد علاقوں میں کان کنی کے کام کی وجہ سے جنگلات، ماحولیات اور آبادیاں خطرات سے دوچار ہیں۔
انھوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں ہزار نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چل رہی ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’افغان رجیم کی کمزوریوں کی وجہ سے دراندازی بڑھ گئی ہے۔‘
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوااوران کی پارٹی نے کسی دھماکے کی مذمت تک نہیں کی۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوامیں دہشت گردی کے چار ہزار سے زائد کیسز پر فرد جرم تک عائد نہیں ہوسکی اور 12 برس میں خیبرپختونخوا میں پراسیکیوشن کا مؤثر نظام نہیں بنایا جاسکا، پراسیکیوشن کا سسٹم صوبائی حکومت کے ماتحت ہے۔‘
پی ٹی آئی کا ملک دشمن عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’چند روز سے ملک میں افواہوں کو بازار گرم رکھا جا رہا ہے، ملک میں پھیلائی جانے والی افواہیں سازش کا حصہ ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تمام مذموم منصوبے ناکام ہورہے ہیں، پاکستان کی سلامتی کونقصان پہچانے والوں کو ضرور روکیں گے، پاکستان کے اداروں کے خلاف زہر اگنے والوں کو ضرور روکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ملک کے صدر آئزک ہرزوگ کو معافی کی درخواست جمع کرائی ہے۔
صدر کے دفتر نے کہا کہ اس ’غیر معمولی درخواست پر غور کرنے سے پہلے جس کے ساتھ اہم نتائج ہیں‘ صدر آئزک ہرزوگ انصاف کے حکام سے رائے لیں گے۔
نیتن یاہو گذشتہ پانچ سالوں سے رشوت، فراڈ اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات میں تین مختلف مقدمات میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ صحت جرم سے مسلسل انکار کرتے آ رہے ہیں۔
انھوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ یہ (قانونی) عمل حتمی نتیجے تک پہنچے مگر قومی مفاد نے ’کچھ اور ہی تقاضا کیا‘۔
واضح رہے کہ اس ماہ کے شروع میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئزک ہرزوگ سے وزیر اعظم کو ’مکمل معافی‘ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس وقت صدر ہرزوگ نے واضح کیا تھا کہ جو بھی معافی چاہتا ہے اسے رسمی درخواست دینی ہوگی۔ اتوار کو، صدر کے دفتر نے درخواست اور خود وزیر اعظم کا ایک خط جاری کیا، جو ’اس غیر معمولی درخواست کی اہمیت اور اس کے مضمرات‘ کی روشنی میں تھا۔
سنہ 2020 میں نیتن یاہو پہلے اسرائیلی وزیر اعظم بنے جن پر مقدمہ چلایا گیا۔ پہلے مقدمے میں، پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا کہ انھیں بااثر کاروباری افراد کی طرف سے تحائف ملے۔
دوسرے مقدمے میں ان پر الزام ہے کہ انھوں نے مثبت کوریج کے بدلے ایک اسرائیلی اخبار کی سرکولیشن بہتر بنانے میں مدد کی پیشکش کی۔ اور تیسرے میں پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ایک اسرائیلی ٹیلی کام کمپنی کے کنٹرولنگ شیئر ہولڈر کے حق میں ریگولیٹری فیصلوں کو فروغ دیا اور اس کے بدلے میں ایک نیوز ویب سائٹ کی مثبت کوریج حاصل کی۔
نیتن یاہو نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور صحت جرم سے انکار کیا ہے۔ انھوں نے ان مقدممات کو سیاسی مخالفین کی طرف سے قائم کیے جانے والے مقدمات قرار دیا جن میں انھیں ہدف بنایا گیا ہے۔
انھوں نے اتوار کے ویڈیو پیغام میں کہا کہ مقدمے کا جاری رہنا ’ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے‘، اس وقت جب اسرائیل ’بہت بڑے چیلنجز اور ان کے ساتھ ساتھ عظیم مواقع‘ حاصل کر رہا ہے جن کے لیے اتحاد ضروری تھا۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’مجھے یقین ہے، جیسا کہ ملک کے بہت سے دیگر افراد کو بھی یقین ہے، کہ مقدمے کا فوری خاتمہ شدید مشکلات کو کم کرنے اور وسیع مفاہمت کو فروغ دینے میں مدد دے گا - جس کی ہمارے ملک کو اشد ضرورت ہے۔‘
اسرائیل کے بنیادی قانون کے مطابق، صدر کو ’مجرموں کو معاف کرنے اور ان کی سزا کو کم یا تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔‘ تاہم، اسرائیل کی ہائیکورٹ آف جسٹس نے پہلے فیصلہ دیا ہے کہ صدر کسی فرد کو سزا سنوانے سے پہلے معاف کر سکتے ہیں اگر یہ عوامی مفاد میں ہو۔۔‘
نیتن یاہو کی دائیں بازو کی لیکوڈ پارٹی اور ان کے حامیوں نے ہمیشہ اپنے رہنما کے لیے معافی کی حمایت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ بعض مخصوص عناصر حسب معمول حالیہ ضمنی انتخابات خصوصاً ہری پور این اے 18 کو متنازع بنانے کے لیے بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہیں جن میں این اے 18 ہری پور میں ڈی آر او اور آر او کی تعیناتی سازش قرار دینا بھی شامل ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے اتوار کے روز جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ دعوے حقائق کے سراسر منافی ہیں۔ جنرل الیکشن میں عملہ کی کمی کے باعث الیکشن کمیشن کے لیے آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی ممکن نہیں ہوتی تاہم ضمنی انتخابات میں ضرورت کے تحت ایسا کیا جاتا ہے۔
اس ضمنی انتخاب میں بھی اسی ایریا میں تعینات الیکشن کمیشن کے افسروں کو ڈی آر او اور آر او مقرر کیا گیا۔ الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت یہ کمیشن کا مکمل طور پر قانونی اختیار ہے اور ہمیشہ الیکشن کمیشن ہی ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز تعینات کرتا آیا ہے۔
ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کی تعیناتی پول ڈے سے بہت پہلے کر دی جاتی ہے مگر الیکشن کے دن تک کسی جانب سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا اور الیکشن ہارنے کے بعد یہ الزامات لگائے جارہے ہیں۔
الیکشن مکمل ہونے کے بعد تنازعات کے حل کے لیے مختلف فورم موجود ہیں۔ اگر ریٹرننگ آفیسر نے کوئی درخواست وصول کرنے سے انکار کیا تھا تو متعلقہ فریق کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اسی طرح الیکشن کے بعدری کاؤنٹنگ کے لیے بھی سب سے پہلے ریٹرننگ آفیسر سے رجوع کیا جاتا ہے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو مقررہ وقت کے اندر کمیشن سے رجوع کیا جاتا ہے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
فارم 45 کے پہلے سے تیار ہونے کا الزام بھی غلط ہے کیونکہ تمام پریزائیڈنگ آفیسرز اور معاون عملہ صوبائی انتظامیہ سے لیا گیا۔
اگر الیکشن کمیشن چاہتا تو خیبر پختونخوا میں تعینات وفاقی اداروں کے ملازمین کو پریزائیڈنگ آفیسر لگا سکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ صوبائی انتظامیہ سے فراہم کردہ عملے نے انتخاب کے بعد پولنگ بیگز اور نتائج ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں جمع کروائے اور اسی طرح سکیورٹی کا عملہ بھی صوبائی حکومت کا تھا۔
ہر انتخاب کے بعد ایک جیسے بے بنیاد الزامات دہرانے کا مقصد صرف انتخابی عمل کو مشکوک بنانا ہے۔ اگر کسی فریق کو نتائج پر اعتراض ہے تو اس کا فورم الیکشن ٹربیونل ہے جو پہلے سے قائم ہے جہاں الیکشن پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے نہ کہ میڈیا پر الزامات لگانا۔ الیکشن کمیشن نے ان ضمنی انتخابات میں بھی آئین اور قانون کے مطابق اقدامات کیے اور کرتا رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سری لنکا میں کم از کم 193 افراد سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس وقت سری لنکا کئی سالوں میں اپنی بدترین موسمی آفات میں سے ایک سے نبرد آزما ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق 200 سے زائد افراد لاپتہ ہیں اور 20,000 سے زائد گھر تباہ ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے 108,000 افراد ریاستی زیر انتظام عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔
حکام نے کہا کہ ’سائیکلون دیتوا‘ کے بعد ہنگامی حالت کا اعلان ہونے پر ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ بجلی یا پانی سے محروم تھا۔
کچھ علاقوں میں انخلا کے احکامات نافذ ہیں کیونکہ کیلانی دریا کی پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سب سے زیادہ اموات کینڈی اور بدولا میں ہوئیں، جہاں کئی علاقے اب بھی بند ہیں۔
انڈونیشیا میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 442 تک پہنچ گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکام کے مطابق انڈونیشیا کے سماٹرا جزیرے پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 442 ہو گئی ہے۔
اتوار کے روز پہلے کل تعداد 300 سے تجاوز کر گئی، انخلا کی کوششیں جاری تھیں، اہم سڑکیں بند ہو گئیں اور انٹرنیٹ اور بجلی صرف جزوی طور پر بحال ہوئی ہے۔
موسمی طوفانوں سے بڑھ کر مون سون سے جنوب مشرقی ایشیا میں بدترین سیلاب آئے ہیں۔ ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں بھی سینکڑوں افراد ہلاک اور لاپتہ ہیں۔ اور خطے بھر میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
تھائی لینڈ میں سرکاری اموات کی تعداد اس وقت 170 ہے جبکہ ملائیشیا کے شمالی پرلس ریاست میں دو اموات کی اطلاعات ہیں۔
ایک انتہائی نایاب ٹراپیکل طوفان، جسے سائیکلون سینیار کہا جاتا ہے، نے انڈونیشیا میں تباہ کن لینڈ سلائیڈز اور سیلاب کی وجہ بنا، جس کے نتیجے میں گھر بہہ گئے اور ہزاروں عمارتیں ڈوب گئیں۔
انڈونیشین ڈیزاسٹر ایجنسی نے کہا خراب موسم نے ریسکیو آپریشنز کو متاثر کیا ہے، اور اگرچہ ہزاروں افراد کو نکالا جا چکا ہے، سینکڑوں اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
تپانولی، جو سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے، میں رہائشیوں نے خوراک کی تلاش میں دکانوں کو لوٹ لیا ہے۔ جکارتہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ سماٹرا میں قومی آفت کا اعلان کرے تاکہ تیز اور زیادہ مربوط ردعمل ممکن ہو سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نےانڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے مختلف حصوں میں سمندری طوفان کے باعث ہونے والی تباہ کن بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں قیمتی جانوں اور املاک کے نقصانات پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی بحفاظت واپسی اور متاثرہ کمیونٹیز کی جلد بحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں پاکستان انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے عوام، وہاں کی حکومتوں اور قیادت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ہم اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
شہباز شریف نے سری لنکا کو بھی اس مشکل گھڑی میں امداد کی پیشکش کی ہے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں نومبر میں سکیورٹی خاص طور پر ایک المناک واقعے کے بعد ایک بڑا چیلنج بنی رہی۔ پھر بھی راولپنڈی پولیس، اسلام آباد پولیس، رینجرز اور ہماری فوج نے شاندار کام کیا۔
انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’ہزاروں جوان اور افسران ہر روز مستعدی سے ڈیوٹی دیتے رہے تاکہ پاکستان کا نام بلند رہے اور ہمارے مہمان ممالک کو مکمل تحفظ کا احساس ہو۔ شکریہ، ٹیم پاکستان۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’جنوبی افریقی، زمبابوے اور سری لنکن بورڈز اور ٹیموں کا شکر گزار ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے نوٹیفیکیشن سے متعلق غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے متعلق ’عمل شروع ہو چکا ہے۔‘ خواجہ آصف نے کہا کہ وزیر اعظم جلد وطن واپس آ رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ نئے ’سی ڈی ایف کے بارے میں نوٹیفیکیشن مناسب وقت پر کر دیا جائے گا۔ اس بارے میں کسی قیاس آرائی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پیریڈ!‘
واضح رہے کہ اس وقت وزیر اعظم شہباز شریف برطانیہ میں موجود ہیں۔
خیال رہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا فوج سے 27 نومبر کو ریٹائر ہو گئے ہیں۔ ساحر شمشاد مرزا فوج کے آخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ہیں کیونکہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت اب یہ عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اس ترمیم میں ایک نیا عہدہ چیف آف ڈیفینس فورسز کا متعارف کرا گیا ہے جس پر بری فوج کے سربراہ ہی فائز ہوں گے۔
یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ 27 نومبر کے بعد عاصم منیر کے پاس چیف آف ڈیفینس فورسز کے عہدے کا اضافی چارج بھی ہوگا۔ تاہم ابھی تک وفاقی حکومت نے ابھی تک اس متعلق باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا ہے۔ اب اس کی تصدیق باقاعدہ وزیر دفاع نے بھی کر دی ہے۔
وفاقی حکومت سمیت اس نئے عہدے کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے افواج پاکستان میں فیصلہ سازی مزید مربوط ہو گی اور تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی بڑھے گی۔ لیکن ان ترامیم پر تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ ان ترامیم کے نتیجے میں طاقت کا توازن بری فوج (آرمی) کے حق میں ہو گا اور اس سے لامحالہ ایئر فورس اور نیوی میں بے چینی بڑھے گی۔
بی بی سی نے دفاعی اُمور کے ماہرین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش ہے کہ ان مجوزہ ترامیم سے کیا تینوں مسلح افواج کے درمیان توازن متاثر ہو گا؟ اور یہ بھی کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرنے کا کیا مطلب ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کے متعلق دیے گئے ایک بیان پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’بے بنیاد اور غلط اندیشوں‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔
اتوار کے روز پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی دیگر پارلیمانی جمہوریتوں کی طرح تمام قانون سازی اور آئین میں کسی بھی طرح کی ترمیم پر پاکستانی عوام کے منتخب نمائندوں کا خصوصی اختیار ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت اور جمہوری طریقے شہری اور سیاسی حقوق کی بنیاد ہیں، اس لیے ان کا احترام کیا جانا چاہیے۔
’پاکستان کی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کی گئی آئینی ترامیم پاکستان کے آئین میں درج طریقہ کار کے پر عمل کرتے ہوئے کی گئی ہیں۔‘
وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے آئین میں درج انسانی حقوق، انسانی وقار، بنیادی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ، فروغ اور اسے برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے کام کو اہمیت دیتا ہے لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ ان کی جانب سے جاری کردہ بیان پاکستان کے زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔
’ہم ہائی کمشنر پر زور دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کی پارلیمان کے خود مختار فیصلوں کا احترام کریں اور ایسے تبصروں سے گریز کریں جو سیاسی تعصب اور غلط معلومات کی عکاسی کرتے ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دینے سے احتساب کمزور ہو گا‘
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان کی جانب سے عجلت میں کی گئی آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور فوجی احتساب اور قانون کی حکمرانی اور اس کے احترام کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔‘
انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ ’تازہ ترین آئینی ترمیم، گزشتہ سال کی 26ویں ترمیم کی طرح، وکلا برادری اور سول سوسائٹی کے ساتھ جامع مشاورت اور بحث کے بغیر منظور کی گئی۔ ولکر ترک نے خبردار کیا کہ یہ ترامیم اُس اصول کے منافی ہیں جو قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہے اور پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔‘
13 نومبر کو منظور کی گئی تبدیلیوں کے تحت ایک نئے فیڈرل کونسٹیٹیوشنل کورٹ (ایف سی سی) کو آئینی مقدمات پر مکمل اختیار دے دیا گیا ہے، یہ وہ کام تھا کہ جو پہلے سپریم کورٹ کیا کرتی تھی۔ تاہم اس کے برعکس سپریم کورٹ اب صرف دیوانی اور فوجداری مقدمات دیکھے گی۔
ججوں کی تقرری، ترقی اور تبادلے کے نظام میں ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جو پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرنے کے خدشات کو جنم دیتی ہیں۔ ایف سی سی کے پہلے چیف جسٹس اور اُن کی معاونت کرنے والے ججوں کا تقرر صدر نے وزیر اعظم کی مشاورت سے پہلے ہی کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے کہا کہ ’یہ تمام تبدیلیاں مل کر عدلیہ کو سیاسی مداخلت اور انتظامیہ کے کنٹرول کے تابع کرنے کے خطرے کو بڑھا دیتی ہیں۔ نہ انتظامیہ اور نہ ہی پارلیمنٹ کو اس پوزیشن میں ہونا چاہیے کہ وہ عدلیہ کو کنٹرول یا اس کی رہنمائی کرے اور عدلیہ کو اپنے فیصلوں میں کسی بھی سیاسی اثر و رسوخ سے دور رہنا چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’عدلیہ کی آزادی کا ایک بنیادی معیار یہ ہے کہ عدالتیں حکومت کی سیاسی مداخلت سے دور اور محفوظ ہوں۔ اگر جج آزاد نہ ہوں تو تجربے یہی بتاتی ہے کہ قانون سب کے لیے ایک جیسا بہیں ہوسکتا اور سیاسی دباؤ کے مقابلے میں سب کے انسانی حقوق کا تحفظ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
ترمیم میں صدر، فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے لیے تاحیات یا عُمر بھر کے لیے فوجداری کارروائی اور گرفتاری سے استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔
فولکر ترک نے مزید کہا کہ ’اس نوعیت کی وسیع استثنیٰ کی شقیں احتساب کو کمزور کرتی ہیں، جو انسانی حقوق کے فریم ورک اور قانون کی حکمرانی کے تحت مسلح افواج پر جمہوری کنٹرول کا بنیادی ستون ہے۔‘
فولکر ترک کا کہنا تھا کہ ’مجھے تشویش ہے کہ یہ ترامیم ان اصولوں کے لیے دور رس نتائج کا باعث بن سکتی ہیں جنھیں پاکستانی عوام عزیز رکھتے ہیں یعنی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
کیلیفورنیا میں ایک بچے کی سالگرہ کی تقریب میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ریاست کے شمالی شہر سٹاکٹن میں سنیچر کی شام ایک ریستوراں میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں دس دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔
ایک مشتبہ شخص تاحال فرار ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں یہ ’ٹارگٹد‘ کارروائی ہو سکتی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں بڑے اور بچے شامل ہیں۔ زخمیوں کی حالت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
سان ہواکن کاؤنٹی کی پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے سے کچھ دیر پہلے پیش آیا تھا۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تو اس بارے میں فی الحال زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں اس جانب اشارے ملتے ہیں کہ یہ ایک ٹارگٹڈ واقعہ ہو سکتا ہے تاہم تفتیش کار تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ افسران اس سانحے کی وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سٹاکٹن کے نائب میئر جیسن لی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایک بچے کی سالگرہ کی تقریب میں فائرنگ کے واقعے پر وہ غم و غصے کا شکار ہیں۔
’برتھ ڈے پارٹی کبھی ایسی جگہ نہیں ہونی چاہیے جہاں لوگوں کو اپنی جان کا خوف ہو۔‘

یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرینی بحریہ کے ڈرونز نے روس کے ’شیڈو فلیٹ‘ کے دو آئل ٹینکرز کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ بحیرہ اسود سے گزر رہے تھے۔
بی بی سی کی جانب سے تصدیق شدہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی میں چلنے والے ڈرون تیزی سے آئل ٹینکرز سے جا ٹکراتے ہیں جس کے بعد دھماکے کے ساتھ ہی آگ کا گولہ دکھائی دیتا ہے اور ہر طرف دھواں پھیل جاتا ہے۔
ترک حکام کے مطابق، نشانہ بنائے گئے ٹینکرز کے نام کیروس اور ویرات تھے جن پر گیمبیا کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔
دونوں ٹینکرز پر جمعہ کے روز ترکی کے ساحل کے نزدیک نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد ازاں ویرات پر سنیچر کے روز دوبارہ حملہ کیا گیا۔ ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
یہ حملے کئیو کی طرف جانب سے روس کی تیل کی آمدنی کو متاثر کرنے کی کوشش ہے جو یوکرین میں ماسکو کی جنگ کے لیے اہم ہیں۔
ذرائع نے بی بی سی یوکرین کو بتایا کہ حملے میں سی بیبی ڈرونز استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ یوکرین کی سکیورٹی سروسز کی جانب سے تیار کردہ ایک طرح کا سمندری ڈرون ہے جسے ایس بی یو کے نام سے جانا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کی فضائی حدود بند کرنے کے اعلان پر ردِ عمل دیتے ہوئے وینزویلا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا بیان وینزویلا کی عوام کے خلاف ایک اور ’غیر قانونی اور بلا جواز جارحیت‘ ہے۔
سنیچر کے روز امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک بیان میں کہا ’تمام ایئر لائنز، پائلٹس، منشیات فروشوں، اور انسانی سمگلروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ وینزویلا اور اس کے آس پاس کی فضائی حدود کو پوری طرح سے بند سمجھیں۔ اس معاملے پر آپ کی توجہ کا شکریہ!‘
وائٹ ہاؤس نے اس متعلق بی بی سی کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا تاحال جواب نہیں دیا ہے۔
امریکی صدر کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے وینزویلا کی وزارت خارجہ نے صدر ٹرمپ کے بیان کو اپنے ملک کی عوام کے خلاف ایک اور ’غیر قانونی اور بلا جواز جارحیت‘ قرار دے دیا۔
قانونی طور پر امریکہ کے پاس کسی دوسرے ملک کی فضائی حدود بند کرنے کا اختیار نہیں۔ تاہم امریکی صدر کے بیان غیر یقینی صورتحال کی صورتحال میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ایئر لائنز کو وہاں کام کرنے سے روک سکتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ کیریبین میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس کا مقصد منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام ہے۔ تاہم وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے منشیات کی سمگلنگ کے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض انھیں اقتدار سے ہٹانے کی سازش ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سری لنکا میں طوفان دتوا کے نتیجے میں ہونے والی بارشوں اور سیلاب سے متعلقہ واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 159 ہو گئی ہے جبکہ دو سو سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
سری لنکا کو حالیہ برسوں میں پیش آنے والے بدترین موسمی آفات میں سے ایک کا سامنا ہے اور حکومت نے ہنگامی حالات کا اعلان کر رکھا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس موسمی آفت سے دو لاکھ 34 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہوئے ہیں۔
سری لنکن حکام کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں 15,000 سے زیادہ گھر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 78,000 افراد عارضی پناہ گاہوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ بجلی یا صاف پانی کی فراہمی سے محروم ہے۔
پاکستان کا ایک لاکھ ٹن امدادی سامان بھجوانے کا اعلان
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے پاکستان کی جانب سے سری لنکا کے سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف آپریشن کا آغاز اتوار کے روز سے کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے سرکاری میڈیا اے پی پی نے این ڈی ایم اے کے حوالے سے بتایا ہے کہ پہلے مرحلے میں 100 ٹن امدادی سامان کی کھیپ روانہ کی جا رہی ہے جبکہ آرمی سرچ ریسکیو ٹیم بھیجنے کے انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ امدادی سامان میں ریسکیو کشتیاں، پمپس، لائف جیکٹس، ٹینٹ، کمبل، دودھ، خوراک اور ادویات شامل ہیں جبکہ پاکستان آرمی کے تعاون سے کل 45 رکنی آرمی کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم روانہ کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 70,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔
10 اکتوبر کو غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں جس کے نتیجے میں ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں وہ یہ فضائی حملے کر رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ملبے کے نیچے دبی لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے۔
سنیچر کے روز مبینہ طور پر اسرائیلی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو بچے، فادی اور جمعہ ابو عاصی، بھی شامل ہیں۔ دونوں بھائیوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جب وہ مارے گئے تو وہ دونوں لکڑیاں جمع کر رہے تھے۔
اسرائیلی فوج نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے دو مشتبہ افراد کو نشانہ بنایا جنھوں نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت کھینچی گئی پیلی لکیر کو عبور کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی حملے میں مارے جارے والے لڑکوں میں سے ایک کی عمر آٹھ سال جبکہ دوسرے کی عمر 10 یا 11 برس تھی۔
لواحقین نے بتایا کہ بچے جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے مشرق میں لکڑیاں ڈھونڈ رہے تھے جب وہ اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔
دونوں بھائیوں کی آخری رسومات نصر ہسپتال میں ادا کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ غزہ میں قیامِ امن کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں شرکت کے لیے پاکستان اپنے فوجی بھجوانے کے لیے تیار ہے لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے کے کام میں شامل نہیں ہو گا۔
پاکستان کے سرکاری میڈیا اے پی پی کے مطابق، سنیچر کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ غزہ میں امن فوج کی تعیناتی کے منصوبے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہونی چاہیے۔
غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے آئی ایس ایف کے کردار کے بارے میں انھوں نے واضح کیا کہ دیگر اہم ممالک کی طرح پاکستان بھی اس کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا ملائیشیا کو بھی آئی ایس ایف کے حماس کو غیر مسلح کرنے کے مجوزہ کردار پر اعتراض ہے۔
وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان غزہ امن فورس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے تاہم اس سے پہلے اس کے ٹی او آرز، مینڈیٹ اور کردار کا واضح طور پر فیصلہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان عوامل کے بارے میں طے نہیں کر لیا جاتا پاکستان اس متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں لے سکتا۔