رفال طیاروں کی صلاحیت پاکستانی فضائیہ کے سامنے صفر ثابت ہوئی: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو
رسالپور میں پی اے ایف کی اصغر خان اکیڈمی میں گریجویشن پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ ’انڈیا کی ہر حرکت کو پاکستانی فضائیہ نے لمحوں میں مانیٹر کیا، ہمارے ایکشن اور آپریشن لمحوں میں کارگر ثابت ہوتے ہیں، آج کی جدید دنیا میں پاک فضائیہ پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے لیس ہے۔‘
خلاصہ
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں پولیس پر حملوں میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں جبکہ کرم میں پولیس مقابلے میں پانچ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
فوجیوں کو ایل او سی پر چوکس رہنے کی ہدایت: برفباری سے راستے بند ہونے سے قبل پاکستان سے دراندازی کی مزید کوششیں کی جا سکتی ہیں، بی ایس ایف کا دعویٰ
ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں فرنٹیئرکور کے کیمپ پر حملہ، سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش بالآخر تقریباً 15 گھنٹے بعد تلاش کر لی گئی ہے۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے علیمہ خان کے نام پر رجسٹرڈ شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
لائیو کوریج
پاکستان کا سری لنکا جانے والی امداد روکنے کا الزام، انڈیا کی تردید
انڈیا نے پاکستانی وزارت خارجہ
کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’انڈیا مخالف گمراہ کن معلومات پھیلانے کی
ایک اور کوشش ہے۔‘
اسلام آباد نے دعویٰ کیا تھا کہ نئی
دہلی کی جانب سے سری لنکا کو بھیجی جانے والی انسانی امداد روکی گئی ہے۔ پاکستانی دفتر
خارجہ کا الزام تھا کہ پاکستان سے سری لنکا کے لیے انسانی امداد لے جانے والے
خصوصی طیارے کو ’60 گھنٹے سے زیادہ تاخیر کے بعد بھی انڈیا سے پرواز کی منظوری کا
انتظار ہے۔‘
اس پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان انڈین
وزارت خارجہ نے کہا کہ یکم دسمبر کو قریب 1 بجے انڈین ہائی کمیشن کو پاکستانی
طیارے کے لیے اوورفلائٹ کلیئرنس کی درخواست موصول ہوئی تھی۔ ’انڈین حکومت نے اسی
دن تیزی سے درخواست منظور کی اور یکم دسمبر کو قریب ساڑھے پانچ بجے اوورفلائٹ کی
اجازت دی۔‘
نمل یونیورسٹی میں دھماکہ گیس لیکیج کی وجہ سے ہوا: اسلام آباد پولیس
اسلام آباد پولیس کا کہنا
ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں واقع نمل یونیورسٹی میں منگل کو ہونے والا دھماکہ گیس
لیکیج اور شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا ہے۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر
رضوی نے صحافیوں کو بتایا کہ نمل یونیورسٹی میں چار بجے کے قریب گیس لیکیج کا واقعہ
ہوا جس سے دھماکہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی
طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ عمارت کے ایک کمرے میں گیس جمع ہو گئی تھی جس کے بعد
شارٹ سرکٹ ہوا اور چار بجے دھماکہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ جس کمرے
میں دھماکہ ہوا اس میں پانچ طلبہ اور عملے کے دو افراد موجود تھے جنھیں طبی امداد
فراہم کی جا رہی ہے جبکہ ہسپتال کے مطابق چھ کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ایک کلرک
کو زیادہ چوٹیں آئی ہیں۔
آئی جی اسلام آباد نے مزید
بتایا کہ پولیس کی تمام ٹیموں نے معائنہ کیا ہے اور ابتدائی طور پر دھماکہ خیز
مواد کا کوئی امکان ظاہر نہیں ہوا۔ ’یہ دھماکہ صرف گیس کی لیکیج اور شارٹ سرکٹ کی وجہ
سے ہوا ہے۔‘
امید ہے کہ روس سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں امریکہ مجھے آگاہ رکھے گا: زیلنسکی
،تصویر کا ذریعہIERTE
آج ماسکو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور روسی صدر پوتن کی ملاقات ہو رہی ہے۔ ابھی اس ملاقات سے متعلق تفصیلات کا انتظار ہے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی اس وقت آئرلینڈ کے دورے پر ہیں، جہاں انھوں نے یہ امید ظاہر کی ہے اس ملاقات سے متعلق انھیں باخبر رکھا جائے گا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور آئرلینڈ کے وزیراعظم میہول مارٹن نے ابھی اپنی پریس کانفرنس مکمل کی ہے۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں کی گفتگو کا خلاصہ کچھ یہ ہے۔
میہول مارٹن نے پوتن کی ’بین الاقوامی قانون سے مکمل بے حسی‘ کی مذمت کی اور کہا کہ روسی صدر کو ’کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جانا چاہیے‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ آج وہ یوکرین کے ساتھ ایک شراکت داری معاہدے پر دستخط کریں گے، جس کے تحت ملک کو 125 ملین یورو (£110 ملین) کی اضافی مالی امداد دی جائے گی۔
زیلنسکی نے کہا کہ وہ اس جنگ کو ختم کرنے کا ’موقع‘ دیکھ رہے ہیں مگر کچھ معاملات ایسے ہیں جن پر ابھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
یوکرینی صدر نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے مارٹن کے ساتھ منجمد روسی اثاثوں کے استعمال پر بات کی ہے، اور کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے‘ کہ ان اثاثوں کو یوکرین کی جنگ اور تعمیر نو کی کوششوں میں استعمال کیا جائے۔ وزیراعظم میہول مارٹن نے بھی اس کی تائید کی۔
امریکہ اور روس کے درمیان آج ہونے والی بات چیت پر زیلنسکی نے کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ امریکہ انھیں اس ملاقات کے بعد پیشرفت سے آگاہ کرے گا، اور امن کے عمل کے آئندہ اقدامات کا انحصار اسی پر ہوگا۔
زیلنسکی نے مزید کہا کہ انھوں نے کل امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف سے بات کی تھی اور اس وقت کسی تصفیے کی سب سے بڑی رکاوٹیں علاقہ اور پیسہ ہیں، جس میں انھوں نے دوبارہ منجمد روسی اثاثوں کا حوالہ دیا۔
رفال طیاروں کی صلاحیت پاکستانی فضائیہ کے سامنے صفر ثابت ہوئی: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو
،تصویر کا ذریعہScreenshot
پاکستان کے فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہے کہ چھ اور سات مئی کی رات پاکستان نے انڈیا کے رفال طیاروں سمیت متعدد طیارے مار گرائے۔
رسالپور میں پی اے ایف کی اصغر خان اکیڈمی میں گریجویشن پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا جب چھ اور سات مئی کی رات پاکستان کی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا تو پاکستان ائیر فورس نے انڈیا کو بھرپور جواب دیتے ہوئے رفال سمیت اس کے جدید ترین لڑاکا طیارے گرائے۔
انھوں نے کہا کہ رفال طیاروں کی صلاحیت پاکستان فضائیہ کے سامنے صفر ثابت ہوئی۔ ظہیرالدین بابر نے کہا کہ ’انڈیا کی ہر حرکت کو پاکستانی فضائیہ نے لمحوں میں مانیٹر کیا، ہمارے ایکشن اور آپریشن لمحوں میں کارگر ثابت ہوتے ہیں، آج کی جدید دنیا میں پاک فضائیہ پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے لیس ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دنیا اس کی امید نہیں کر رہی تھی مگر جب پاکستانی فضائیہ نے یہ کر دکھایا تو پھر دنیا دھنگ رہ گئی۔‘
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا تھا ہم انڈیا کو اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچا سکتے تھے لیکن ہم ایک پروفیشنل فورس ہیں اور ہمارا ایکشن کیلکولیٹڈ، متوازن اور مؤثر ہوتا ہے جس کا واحد مقصد عزت کے ساتھ امن کا حصول ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’معرکہ حق میں پاکستان ایئر فورس کی کامیابی، برتری اور جدید وار فیئر تقاضوں کو بین الاقوامی سطح پر ناصرف تسلیم کیا گیا بلکہ اس پر اسٹڈی بھی کی جا رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکہ حق میں قائدانہ کردار ادا کیا۔‘
انڈیا اب بھی سری لنکا کے لیے انسانی امداد کی رسائی روک رہا ہے: پاکستان کا الزام
پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’انڈیا اب بھی پاکستان سے سری لنکا کو انسانی امداد کو روک رہا ہے۔‘
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان سے سری لنکا کے لیے انسانی امداد لے جانے والے خصوصی طیارے کو 60 گھنٹے سے زیادہ تاخیر کے بعد بھی انڈیا سے پرواز کی منظوری کا انتظار ہے۔
انڈیا کی جانب سے گذشتہ رات 48 گھنٹے کے بعد جاری کردہ جزوی فلائٹ کلیئرنس پر بھی عملدرآمد معطل رہا، جس سے سری لنکا کے لیے امدادی مشن شدید متاثر ہوا۔
پی ٹی آئی کا پشاور موٹروے پر صوابی انٹرچینج کے قریب احتجاجی مظاہرہ
،تصویر کا ذریعہ@PTIofficial
عمران خان سے ملاقاتیں نہ ہونے اور ان کے مقدمات کی سماعت میں تاخیر کے خلاف جہاں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی اسلام آباد ہائیکورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کر رہے ہیں وہیں اس کے کارکن پشاور موٹر وے پر صوابی انٹرچینج کے قریب احتجاج کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے یہ تفصیلات شیئر کیں ہیں اور یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ پارلیمنٹیرین اور کارکنان کی بڑی تعداد ان مظاہروں میں شریک ہیں۔
طالبان عدالت کے حکم پر قتل کے مقدمے میں ایک شخص کو سر عام گولی مار دی گئی
افغانستان میں طالبان کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت قتل کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر خوست کے صوبائی سٹیڈیم میں ایک شخص کو سر عام گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔
افغان طالبان عدالت نے ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ’آج (منگل کو) صوبہ خوست کے مرکز میں واقع سپورٹس سٹیڈیم میں ایک قاتل پر اللہ کے حکم (قصاص) پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔‘
بی بی سی پشتو کے مطابق اس کیس کی تفتیش طالبان رہنما ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر ہوئی۔ سپریم کورٹ کے کچھ ججز، مقامی حکام اور سیکڑوں لوگ سزا پر عملدرآمد دیکھنے آئے تھے۔
ایک عینی شاہد کے مطابق ’اس شخص کو گولی مارنے سے قبل طالبان کے اہلکار اور ’مجرم‘ کے خاندان کے افراد مقتول کے خاندان کے پاس گئے اور معافی کی درخواست کی مگر انھوں نے صاف انکار کر دیا۔‘
ان کے مطابق ’سزائے موت پانے والے شخص کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تھی اور پھر مقتول کے خاندان کے ایک فرد نے ان پر تین بار گولی چلائی۔ سٹیڈیم اتنا بھرا ہوا تھا کہ کوئی جگہ نہیں بچی، لوگ درختوں اور مارکیٹس میں بھی بیٹھے ہوئے تھے اور یہاں ہجوم پر ایک دیوار بھی گری۔
صحافیوں کے مطابق علاقے میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور ہر طرف طالبان کے سرکاری فوجی ہی نظر آ رہے تھے۔ خوست کے گورنر کے ترجمان مستغفر گرباز نے اس سے قبل ایکس پر اعلان کیا تھا کہ اس حکم پر صبح 10 بجے کے قریب عمل درآمد کیا جائے گا۔
انھوں نے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ پھانسی کی جگہ پر ہتھیار یا موبائل فون ساتھ نہ لائیں، اس درخواست کا مقصد واقعے کی تصاویر کی ریکارڈنگ اور ان کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کو روکنا تھا۔
طالبان حکومت نے بھی اپنی پہلی مدت (1996-2001) کے دوران بہت سی سرعام پھانسیاں دی تھیں، لیکن اس کی پہلی مدت کے مقابلے، 2021 میں اس کی دوسری مدت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پھانسیوں میں نسبتاً کمی آئی ہے۔
گذشتہ چار سالوں میں، مختلف صوبوں میں پھانسیوں کے سلسلے میں 11 افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا جا چکا ہے۔ صرف گذشتہ اپریل میں چار افراد کو ایک ہی دن میں پھانسی دی گئی ہے۔ پھانسی کے احکامات پر طالبان رہنما ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط ہیں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خوست میں سرعام پھانسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے، طالبان نے آج صبح صوبہ خوست میں ایک شخص کو سرعام پھانسی دی، ایک ایسا واقعہ جس میں مبینہ طور پر تماشائیوں میں بچے بھی شامل تھے۔‘
رچرڈ بینیٹ نے مزید کہا کہ ’میں ان پھانسیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ ایک ظالمانہ اور غیر معمولی سزا ہے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ میں طالبان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ افغانستان میں پھانسیوں پر عمل درآمد فوری طور پر بند کریں اور اس سزا پر باقاعدہ پابندی کا اعلان کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں ان پھانسیوں کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ سزائیں غیر انسانی، ظالمانہ اور بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں۔ یہ سزائے موت پر عمل درآمد نہیں ہونا چاہیے تھا اور انھیں فوری طور پر روک دیا جانا چاہیے تھا۔‘
رچرڈ بینیٹ نے اپنے فیس بک پیج پر یہ بھی لکھا کہ اس سلسلے کا تسلسل ’گہری تشویش‘ ہے، خاص طور پر جب یہ فیصلے عدالتی نظام کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں، جو ان کے مطابق، ’نہ تو آزاد ہے اور نہ ہی منصفانہ ٹرائل کی ضمانتیں ہیں۔‘
ٹرمپ کے خصوصی ایلچی آج ماسکو میں پوتن سے ملاقات کریں گے، امریکہ یوکرین جنگ بندی سے متعلق پُرامید, جیمز چیٹر اور لورا گوزی، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہSPUTNIK/KREMLIN POOL/EPA/Shutterstock
روسی صدر ولادیمیر پوتن آج ماسکو میں امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف سے ملاقات کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کے بارے میں ’بہت پرامید‘ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، جو سفارتی مذاکرات میں بیرونی مشیر کے طور پر کام کر چکے ہیں، کی بھی اس ملاقات میں شرکت متوقع ہے۔
یہ سربراہی اجلاس فلوریڈا میں یوکرینی اور امریکی حکام، جن میں وٹکوف اور کشنر بھی شامل تھے، کے درمیان دو دن کی مذاکرات کے بعد منعقد ہوئے، جن کا مقصد ایک امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کو بہتر بنانا تھا، جسے روس کے حق میں سمجھا جاتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہRussian Presidential Press Service
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مذاکرات کو ’تعمیری‘ قرار دیا، لیکن کہا کہ ’کچھ مشکل مسائل ہیں جنھیں ابھی حل کرنا باقی ہے۔‘
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ سٹیو وٹکوف کی پوتن سے آج سہ پہر کو ہو گی۔
پیر کے روز پیرس میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں سے ملاقات کے بعد بات کرتے ہوئے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ امن مذاکرات میں کئیو کی ترجیحات یوکرین کی خودمختاری کو برقرار رکھنا اور مضبوط سلامتی کی ضمانتیں حاصل کرنا ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ امن معاہدے میں ’رقبے کا مسئلہ‘ سب سے مشکل پہلو ہے، کیونکہ کریملن اب بھی یوکرین پر زور دے رہا ہے کہ وہ مشرق میں وہ علاقہ چھوڑ دے جو اس کے زیر کنٹرول ہے- کئیو کا یہ دیرینہ مؤقف ہے کہ وہ اس علاقے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
بریکنگ, بنوں: اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان سمیت چار افراد شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک، پولیس, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
،تصویر کا ذریعہFacebook
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع
بنوں میں اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان شاہ ولی کے قافلے پر شدت پسندوں کے حملے کے
نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر ہلاک ہو گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات
شفیع جان نے تصدیق کی کہ اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی کے قافلے پر حملے میں دو پولیس اہلکار
اور ایک راہگیر سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
کمشنر بنوں کے سیکریٹری محمد ثاقب کے مطابق یہ حملہ بنوں میرانشاہ
روڈ پر ممش خیل کے علاقے معصوم آباد میں ایک فلور مل کے قریب پیش آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر ایک عدالتی پیشی پر آرہے تھے کہ رستے میں ان پر تقریباً صبح دس بجے یہ حملہ ہوا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بنوں میں اسسٹنٹ
کمشنر شمالی وزیرستان کے قافلے پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے گہرے افسوس کا
اظہار کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے آئی جی پولیس سے واقعے
کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ انتہائی افسوسناک
ہے، ملک دشمن عناصر ایسے بزدلانہ حملوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔‘
وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات
شفیع جان نے کہا کہ ’ملک دشمن عناصر کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں
گے۔ ایسی کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتی ہیں۔‘
اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی کون تھے؟
جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے وانا سے تعلق رکھنے والے شاہ ولی خان نے
اپنی گریجوایشن اکنامکس میں گورنمنٹ کالج لاہور سے مکمل کی ہے۔ خالد عمران نے بتایا
کہ وہ دونوں ایک ہی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور تعلیم اور پھر پی ایم ایس میں سیلیکشن
کے بعد تربیت بھی ایک ساتھ حاصل کی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ وہ 2009 سے 2013 تک گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم حاصل
کرتے رہے اور اس کے بعد شاہ ولی کسٹم کے محکمے میں تعینات ہو گئے تھے اور انھوں نے
اس دوران زیادہ تر سروس بلوچستان میں کی ہے۔
خالد عمران کے مطابق ’اس کے بعد ہم دونوں نے پی ایم ایس کا امتحان دیا
اور اس میں کامیابی کے بعد ابتدائی تربیت بھی ایک ساتھ حاصل کی تھی۔‘
خالد عمران نے بتایا کہ شاہ ولی خان کو اپنے علاقے سے محبت تھی، دوران
تربیت جب وہ کچھ عرصے کے لیے وزیرستان میں تعینات ہوئے تو اس وقت اکثر افسر حالات کی
سنگینی کی وجہ سے اپنی تبادلہ کرا لیتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس بارے میں سوچا اور ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم
یہ وقت اپنے علاقے میں کام کریں گے اور چونکہ اپنے علاقے کے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے کام
ہوتے ہیں تو وہ ہم اپنے علاقے میں بہتر طریقے سے کر سکیں گے، تا کہ اس سے علاقے کے
لوگوں کی خدمت بھی ہو سکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ چونکہ کورونا
کا وقت تھا مشکل صورتحال تھی لیکن اس دوران انھوں نے اپنے علاقے میں زیادہ کام کیا۔
شاہ ولی کے سوگوران میں ان کی اہلیہ اور ایک بیٹا بھی ہے۔ ان کی
فیملی میرانشاہ میں ان کے ساتھ رہ رہی تھی۔
خالد عمران نے بتایا کہ ان کے ساتھ اکثر رابطہ رہتا تھا اور کبھی کبھار
علاقے کے حالات کے بارے میں ایک دوسرے سے بات چیت ہو جایا کرتی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب میں میرانشاہ میں تعینات تھا تو اس وقت شاہ ولی
خان میر علی کے اسسٹسنٹ کمشنر تھے تو ہم ویک اینڈ پر میرانشاہ میں ایک ساتھ رہتے تھے۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے کارکُنان اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہونا شروع
پاکستان تحریک انصاف کے کارکُنان اسلام آباد ہائیکورٹ
کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے تمام
پارلیمنٹیرین نے منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر پرامن احتجاج
کی کال دے رکھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ترجمان پی ٹی آئی شفیع جان احتجاج میں شرکت
کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ہیں۔
تاہم پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج سے قبل اسلام
آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ دونوں شہروں کی انتظامیہ کا
کہنا ہے کہ دفعہ 144 کے تحت کسی بھی قسم کے احتجاج یا جلسے جلوس کی ہرگز اجازت
نہیں ہے۔
اس احتجاج کا اعلان اتوار کو خیبر پختونخوا کے وزیر
اعلیٰ سہیل آفریدی نے کیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس احتجاج میں صرف
اراکین اسمبلی ہوں گے اور کوئی کارکن اس احتجاج کا حصہ نہیں ہوگا۔
سہیل آفریدی کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر
احتجاج کا مقصد عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف قائم مقدمات کی جلد
از جلد سماعت کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر تمام اراکین
اسمبلی عمران خان کی بہنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اکھٹے ہوں گے۔
روسی صدر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اہم ملاقات آج ہو گی
،تصویر کا ذریعہEPA
روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان آج (منگل کے روز) ملاقات ہو رہی ہے جبکہ وائٹ
ہاؤس کو امید ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کسی معاہدے پر اتفاق ہو جائے
گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، جو سفارتی مذاکرات میں بیرونی مشیر
کا کردار ادا کر رہے ہیں، کی شرکت بھی متوقع ہے۔
امریکی وفد اور پوتن کے درمیان یہ ملاقات فلوریڈا میں یوکرینی اور امریکی حکام
کے درمیان دو روزہ مذاکرات کے بعد ہو رہی ہے جس میں وِٹکوف اور کشنر بھی شامل تھے۔
ان مذاکرات کا مقصد امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے کو بہتر بنانا تھا جسے یوکرین
اور اس کے یورپی اتحادیوں نے روس کے لیے سازگار قرار دیا تھا۔
اتوار کے روز مذاکرات کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ
یوکرینی حکام کے ساتھ روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے پر بات چیت
نتیجہ خیز رہی، لیکن اس پر ابھی مزید کام کرنا باقی ہے۔
فلوریڈا
میں ہونے والے مذاکرات میں یوکرین کے وفد کی قیادت قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری
رستم عمروف کر رہے تھے جو یوکرین کے نئے چیف مذاکرات کار ہیں۔
سعودی عرب کی اسلام آباد اور کابل میں ثالثی کی کوشش: افغان طالبان کی ریاض میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images
افغانستان میں
طالبان کی عبوری حکومت کے بعض ذرائع نے بی بی سی پشتو کو بتایا ہے کہ حکومت کا ایک وفد
پاکستان سے مذاکرات کے لیے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض گیا تھا۔
دونوں فریقین کو
سعودی عرب نے مذاکرات کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔
ذرائع کے مطابق،
دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان گذشتہ روز (اتوار) کو مذاکرات ہوئے تاہم اس بارے
میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
تاحال یہ بھی واضح
نہیں ہے کہ آیا ان مذاکرات میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔ طالبان حکومت کے ایک ذریعے
نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وفد ’ریاض گیا تھا جو آج
کابل واپس آ رہا ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق، افغان طالبان کے وفد میں نائب وزیر داخلہ رحمت
اللہ نجیب، طالبان حکومت کے سیاسی کمیشن کے رکن انس حقانی اور وزارت خارجہ کے عہدیدار
عبدالقہار بلخی شامل تھے۔
پاکستانی حکومت کی
جانب سے اب تک سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات کے متعلق سرکاری سطح پر کوئی بیان
سامنے نہیں آیا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں
ہے کہ سعودی عرب کی ثالثی کی نئی کوششیں کابل اور اسلام آباد کے درمیان کس حد تک کشیدگی
کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
نومبر کے اوائل میں استنبول میں ترکی اور قطر کی ثالثی میں طالبان
حکومت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کی ناکامی کے بعد یہ پہلا موقع
ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کی میز پر لوٹے ہیں۔
اس بارے میں بھی کوئی
اطلاع نہیں کہ آیا دونوں وفود کے مابین براہِ راست مذاکرات ہوئے ہیں۔ لیکن دوحہ
اور استنبول میں ایسے مذاکرات اکثر ثالثوں کی وساطت سے ہوتے رہے ہیں۔
یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کے نائب وزیر اعظم
اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ اسلام آباد اقوام متحدہ کی درخواست پر
افغانستان میں انسانی امداد کی ترسیل کے لیے راستے کھول سکتا ہے۔
سنیچر کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا
کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ
افغانستان میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے دوبارہ راستے کھول دے۔
افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو
بتایا کہ پاکستان نے اب تک اپنے کمشنر یا سرحدی محافظوں کو راستے کھولنے کا حکم
جاری نہیں کیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد تقریباً 50 روز سے آمد
و رفت اور تجارت کے لیے بند ہے، صرف پاکستان سے لوٹنے والے افغان مہاجرین کو ہی
افغانستان داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ، ’گورنر راج مارشل لا نہیں‘، وزیر قانون
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج سے قبل اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ دونوں شہروں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کے تحت کسی بھی قسم کے احتجاج یا جلسے جلوس کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے تمام پارلیمنٹیرین نے منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر پرامن احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
اس احتجاج کا اعلان اتوار کو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس احتجاج میں صرف اراکین اسمبلی ہوں گے اور کوئی کارکن اس احتجاج کا حصہ نہیں ہوگا۔
سہیل آفریدی کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر احتجاج کا مقصد عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف قائم مقدمات کی جلد از جلد سماعت کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر تمام اراکین اسمبلی عمران خان کی بہنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اکھٹے ہوں گے۔
واضح رہے کہ ان کے اس اعلان کے کچھ دیر بعد وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے جیو ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین نے اس بیان پر احتجاج کیا اور وضاحت مانگی تو وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج کوئی مارشل لا نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب حالات ایسی نہج پر آ جائیں تو پھر یہ ایک آئینی عمل ہے۔ تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق یہ تردید نہیں کی کہ آیا حکومت خیبر پحتونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے جا رہی ہے یا نہیں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس سے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’کل سے آپ کے آدھے سے زائد وزرا کل سے لگے ہوئے ہیں کہ گورنر راج نافذ کریں گے، اگر ایسا ہے تو پھر ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ محمود احمد اچکزئی ہمارے اپوزیشن لیڈر ہیں۔ آپ کو ان کی 74 ووٹوں کی اکثریت تسلیم کرنا ہوگی۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ’عوام کی قوت سے واپس آئیں گے اور جو ترامیم آپ نے آئین میں کیں انھیں واپس کریں گے۔‘
اسد قیصر نے اپنے خطاب میں وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک کے گورنر راج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی تک آپ صوبے کو اس کے حقوق نہیں دے رہے ہیں۔ اس صوبے کو بجلی پر نیٹ ہائیڈل نہیں دے رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر حکومت گورنر راج کا سوچ رہی ہے تو کر لے جو اس نے کر نا ہے مگر پھر جو سیاسی مضمرات ہوں گے وہ حکومت سے سنبھالے نہیں جا سکے سکیں گے۔‘
وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے یہ ضرور کہا ہے کہ پی ٹی آئی والوں سے ماضی میں کچھ ایسی غلطیاں ہوئی ہیں جن کا وہ غمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی یہ پی ٹی آئی کے اراکین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بائیکاٹ نہ کریں بلکہ مل بیٹھ کر معاملات طے کرتے ہیں۔ وزیر قانون نے پی ٹی آئی اراکین کو ایک بار پھر بات چیت سے مسائل کے حل کی دعوت دی ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ سب رہنما ہی معاملات مل بیٹھ کر طے کرنا چاہتے ہیں تو بہتر یہی ہے کہ ایسے امور کو آپس میں مل کر حل کر لیا جائے۔
جیل کی ملاقات اس لیے نہیں ہوتی کہ فوج کو گالی دی جائے: عطااللہ تارڑ
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطاللہ تارڑ نے پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ ’جیل کی ملاقات اس لیے نہیں ہوتی کہ فوج کو گالی دی جائے۔‘
انھوں نے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین اسملبی کی طرف سے عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں پر پابندی سے متلعق توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جیل کی ملاقات اس لیے نہیں ہوتی کہ پھر آپ اس کے ذریعے فوج کے سربراہان اور قومی سلامتی کے اداروں کی تضحیک کی جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جیل میں ملاقات اس لیے نہیں ہوتی کہ سوشل میڈیا پر قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کیا جائے۔‘ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’جیل میں ملاقات ملکی اداروں کے خلاف سازشوں کے لیے نہیں قانونی امور کے لیے ہوتی ہے۔‘
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ’غیر قانونی مطالبات کبھی پورے نہیں ہوں گے۔‘
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’پی ٹی آئی دور میں سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا، عمران
خان نے دورہ امریکہ میں کہتے رہے کہ ’میں جیلوں میں ان کے اے سی اتروا دوں گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کی
روایت کس نے ڈالی؟، وزیر اطلاعات نے کہا کہ
’ہم نے پی ٹی آئی دور کی تلخیاں برداشت کی ہیں۔‘
پاکستان میں نومبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں سالانہ 6.1 فیصد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی
پاکستان میں نومبر 2025 میں مہنگائی کی شرح میں 6.1 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کی گیا ہے۔ پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق یہ اضافہ سالانہ بنیاد پر گذشتہ سال کے نومبر کے مقابلے میں اشیائے خوردو نوش، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت، کپڑوں، بجلی، گیس اور پانی کے بجلی کے بلوں پر اٹھنے والے اخراجات میں دیکھا گیا۔
ادارہ شماریات کے مطابق موجودہ سال اکتوبر کے مقابلے میں بھی نومبر کے مہینے میں ان اخراجات میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں 0.40 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادارے کے مطابق فوڈ انفلیشن یعنی کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں 5.53 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ہاؤسنگ، گیس، بجلی، پانی اور ایندھن کے اخراجات میں 5.34 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کی گیا۔ صحت کے اخراجات پر اضافہ 8.30 فیصد رہا اور تعلیمی اخراجات میں نو فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 کے مقابلے میں نومبر 2025 میں چینی کی قیمت میں 39 فیصد کا اضافہ ہوا۔
گندم کی قیمت میں 21.38 اضافہ ہوا، آٹے کی قیمت 14.31فیصد بڑھی، گوشت کی قیمت میں 10.31 فیصد کا اضافہ ہوا، خوردنی تیل کی قیمت میں اضافہ 8 فیصد سے زائد رہا۔ اس عرصے کے دوران گیس کی قیمت میں 23 فیصد کا اضافہ ہوا۔
ادارے کے مطابق زیر جائزہ مہینے میں کچھ چیزوں کی قیمتیں کم بھی ہوئیں جن میں ٹماٹر، آلو، دال مسور، دال مونگ کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ بجلی کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
دو حملوں میں پانچ چینی مزدوروں کی ہلاکت پر تاجکستان کے صدر کا بیان: ’افغان شہریوں کی اشتعال انگیز کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہTAJIKISTAN TV
تاجک-افغان سرحد پر چینی مزدوروں پر
دو حملوں کے بعد تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے یکم دسمبر کو ملک کے
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی اداروں کے سربراہان کا ایک اجلاس طلب کیا۔
تاجکستان کے صدر نے ان دو واقعات کی مذمت کی جن میں پانچ چینی شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ ان کی سرکاری ویب سائٹ نے اسی دن
رپورٹ کیا کہ اجلاس میں ’تاجکستان اور افغانستان کے درمیان ملکی سرحد کی موجودہ
صورتحال اور اس کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے طریقوں‘ پر بات چیت ہوئی۔
حکام کے حوالے سے مختصر رپورٹ میں
کہا گیا کہ ان دونوں واقعات میں پانچ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
صدر مملکت امام علی رحمان نے افغان
شہریوں کی غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیوں کی سخت مذمت کی اور حکام کو
ہدایت دیں کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے اور ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے
مؤثر اقدامات کریں۔
چینی مزدوروں پر حملے
ریڈیو لبرٹی کی تاجک سروس اوزودی نے یکم
دسمبر کو یہ خبر نشر کی کہ چینی مزدوروں پر حملے تاجکستان کے پہاڑی بدخشان
خودمختار علاقے کے داروز ضلع میں افغانستان سے مسلح افراد کے حالیہ حملے میں دو
چینی سڑک تعمیر کرنے والے مزدور ہلاک ہو گئے ہیں۔’
داروز ضلع کے ذرائع کے حوالے سے ریڈیو
اوزودی نے رپورٹ کیا کہ یہ واقعہ گذشتہ شام ضلع کے وشخاروی علاقے کے گاؤں شودک میں
پیش آیا، جہاں چینی مزدور نئی تعمیر شدہ ’قلائی خم-ونج-رشون‘ سرحدی سڑک پر ایک گیلری یا چھوٹے
سرنگ میں کام کر رہے تھے۔
ریڈیو اوزودی کے مطابق اس واقعے کی مزید
تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
30 نومبر کو روسی سیاسی مبصر آندرے سرینکو نے وسطی ایشیا
اور افغانستان کی رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنے ٹیلیگرام چینل پر کہا کہ شودک سرحدی علاقے
میں دو چینی تعمیراتی مزدور ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
تاہم تاجکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’یہ حملہ ایک ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا ہے جس میں گرینیڈز اور اسلحہ نصب تھا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تاجکستان افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی ور استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ’افغانستان کی سرزمین پر موجود جرائم پیشہ گروہوں کی تباہ کُن کارروائیاں جاری ہیں۔‘
ایک دوسری پوسٹ میں انھوں نے افغانستان
انٹرنیشنل کا حوالہ دیا کہ حملہ بدخشاں میں ضلع رضاوی کے گاؤں سے ہوا اور بظاہر ’مے
مے‘ کے علاقے میں دیگر علاقوں سے طالبان سرحدی فورسز بھی اس حملے میں شامل تھیں۔ باخبر
ذرائع نے اطلاع دی کہ دونوں چینی شہری علاقے میں سڑک کی تعمیر پر کام کر رہے تھے اور
انھیں چھوٹے ہتھیاروں سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
آندرے سرینکو کے مطابق چین، تاجکستان
اور طالبان کی وزارت خارجہ نے ابھی تک اس واقعے پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔
انھوں نے تبصرہ کیا کہ ’ایسا لگتا ہے
کہ افغان طالبان کے اندر کچھ فورسز بدخشاں صوبے کی سونے کی کانوں سے چینی کمپنیوں کو
نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لہٰذا، ان کانوں میں کام کرنے والے چینی شہریوں پر
مہلک حملے جاری رہنے کے امکان ہیں۔‘
آندرے سرینکو نے ایک پوسٹ میں لکھا
کہ ’ذرائع کے مطابق حالیہ چینی کمپنی پر حملے کے بعد قندھار اور بدخشاں سے طالبان جنگجوؤں
کے درمیان سونے کی کان کنی کے علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ یہ افغانستان سے تاجک سرحد پر چینی مزدوروں پر ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسرا حملہ تھا۔
26 نومبر کو افغانستان سے شروع کیے گئے ایک ڈرون حملے میں ایک سونے کی کان کنی کمپنی کے تین چینی مزدور ہلاک ہوئے۔ تاجک وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ حملہ ’آتشیں اسلحہ او دستی بم سے لیس ڈرون کے ذریعے کیا گیا‘ اور ’دہشت گرد گروہوں کی ان سنگین کارروائیوں‘ کی سخت مذمت کی۔
چین، پاکستان، ایران اور افغان طالبان نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔ اس واقعے کے بعد چین نے اپنے شہریوں کو سرحدی علاقوں سے نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔
سرحدی کشیدگی میں اضافہ
گذشتہ سال تاجک-افغان سرحد پر ایک ایسے ہی حملے میں ایک چینی کارکن ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوئے تھے، جن میں چار چینی مزدور اور ایک تاجک شہری شامل تھے۔ گذشتہ سال کے دوران تاجک-افغان سرحد پر مسلح جھڑپوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
نجی ملکیت والی تاجک نیوز ایجنسی ایشیا پلس کے مطابق گذشتہ چھ ماہ میں تاجک سکیورٹی فورسز اور افغان منشیات سمگلروں کے درمیان 10 مسلح جھڑپیں ہوئیں، جن میں چار افغان ’مجرم‘ ہلاک ہوئے۔22 نومبر کو تاجکستان کی ریاستی کمیٹی برائے قومی سلامتی (ایس سی این ایس) نے رپورٹ کیا کہ اس نے20 سے21 نومبر کی رات سات افغان منشیات سمگلروں کے مسلح گروہ کو ختم کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا۔
اگلی صبح ان میں سے دو کی لاشیں ملیں اور موقع پر116 منشیات کے پیکٹ ضبط کیے گئے۔ باقی پانچ سرحد عبور کرنے والوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں مل سکی۔
تاجکستان افغانستان کے ساتھ 1,344 کلومیٹر طویل سرحد ہے، اور اس سرحد کا مکمل تحفظ یقینی بنانا پہاڑی علاقے کی وجہ سے بہت پیچیدہ ہے۔ تاجکستان، افغانستان سے مغربی یورپ جانے والے اہم منشیات سمگلنگ راستے پر واقع ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ کی بہتری کے لیے روزانہ 50 سے 70 مسافروں کو آف لوڈ کر رہے ہیں: محسن نقوی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ گرین پاسپورٹ کی بہتری کے لیے روزانہ تقریباً 50 سے 70 مسافروں کو آف لوڈ کر رہے ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ ایک ایک مقدمے کے بارے میں ہمیں پتا ہے کہ وہ کیوں آف لوڈ ہو رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’میں نہیں کہتا کہ ایف آئی اے میں سب کچھ ٹھیک ہے، غفلت بھی ہوتی ہوگی۔‘ ان کے مطابق ’ہمیں سسٹم کو بھی ٹھیک کرنا ہے اور جہاں خرابیاں ہیں وہ درست بھی کرنی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ جو تفصیلات سامنے آ رہی ہیں اس سے یہی پتا چلتا ہے کہ جو لوگ باہر جانے کے اہل نہیں ہیں انھیں نہیں جانے دیا جاتا تاکہ ملک کی بدنامی نہ ہو۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ’دستاویزات درست ہونی چاہیں اور جو جس ملازمت پر جا رہا ہے اس کا اہل ہونا چاہیے۔‘ ان کے مطابق انھوں نے خود ایسے واقعات دیکھے جہاں باہر جانے کے لیے جو اہل نہیں تھے انھیں آف لوڈ کیا گیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ ’میں نے ایف آئی اے کو کہا ہے کہ سارا ڈیٹا میڈیا سے بھی شیئر کریں تاکہ لوگوں کو بھی پتا چلے کے ایجنٹ مافیا کس طریقے سے مہم چلا رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم ان ایجنٹس تک پہنچیں گے جو غریبوں کو کا استحصال کر رہے ہیں۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ ’میں خود بطور صحافی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ جس کا جو دل کرے وہ کرے اور تنقید کرے مگر غلط خبر نہ دے۔‘ ان کی رائے میں اس وقت سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلائی جا رہی ہے اور 90 فیصد غلط خبریں چلتی ہیں۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ایسے لوگوں کے خلاف این سی سی آئی بڑے پیمانے پر کارروائی کرے گا کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ سوشل میڈیا پر جو مرضی بول دیں اور ملک میں اضطراب پھیلائیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’وی لوگ یا پوڈ کاسٹ کرتے ہیں، ذمہ داری سے کریں۔ غلط خبر والے کو صحافی نہیں مانتا۔‘
ان کا کہنا تھا ہم ٹی وی چینلز کو کیوں غلط نہیں کہتے کیونکہ وہ ایک سسٹم کے تحت چل رہے ہیں، اگر کوئی ٹی وی چینل غلط خبر چلاتا ہے تو اس کو جرمانہ ہوتا ہے، جو فیک نیوز پھیلا رہا ہے ان کے خلاف کارروائی ضرور ہو گی۔‘
ان کا کہنا تھا نیشنل میڈیا پر غلط خبر نشر کرنے پر پیمرا کا نوٹس ہوتا ہے، جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی نہیں، اظہار رائے کی آزادی ہے لیکن فیک نیوز پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
محسن نقوی نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر کسی کی تذلیل کی اجازت نہیں دیں گے، قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، کوئی لندن میں بیٹھ کر بکواس کر رہا ہے کہ اداروں میں یہ مسئلہ چل رہا ہے، اگر آپ کے پاس ثبوت ہے تو ضرور سامنے لائیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جو لوگ باہر بیٹھے ہیں انھیں بتا دوں کہ آپ لوگ بہت جلد واپس آرہے ہیں، بہت جلد آپ کو یہاں لائیں گے اور ساری باتوں کا جواب دینا ہوگا۔‘
’تین صوبوں سے غیرقانونی افغان باشندوں کو نکالا جا رہا ہے، خیبر پختونخوا میں انھیں تحفظ حاصل ہے‘
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ تینوں صوبوں سے غیرقانونی افغان باشندوں کو نکالا جا رہا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں انھیں تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ’سیاست بالکل کریں لیکن جہاں قومی سلامتی کی بات آئے وہاں کوئی صوبہ اپنی پالیسی بنا کر نہیں چل سکتا، ایسا نہیں ہو سکتا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر آپ کا جو دل کرتا ہے کریں، نا یہ چل سکتا ہے اور نہ اس کی اجازت دیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ معیشیت ترقی کر رہی ہے اور ہم بم دھماکے برداشت نہیں کر سکتے۔
تمام آئی جیز کو ہدایات دیں ہیں کہ وہ ڈیٹا اکھٹا کریں۔۔
محسن نقوی نے مشورہ دیا کہ ’سب سے پہلے ملک کا سوچیں کہ ملک کو کس چیز سے نقصان ہو رہا ہے۔’ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’وفاقی حکومت کے فیصلے پر ہر صورت عملدرآمد کرانا ہوگا کیونکہ ہم مزید بم دھماکے برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔‘
محسن نقوی کا کہنا تھا چند دن پہلے جن لوگوں نے ایف سی پر حملہ کیا وہ تینوں افغان نکلے، اسلام آباد کچہری میں حملہ کرنے والا بھی افغان شہری تھا، ملک میں جتنے بھی حملے ہو رہے ہیں ان میں افغان ملوث ہیں۔
انھوں نے کہا ہمیں واضح طور پر پتا ہے کہ دہشتگردی کے پیچھے کون ہے اور کون یہ کروا رہا ہے، افغان طالبان حکومت دہشتگردوں کو لگام دے۔
ان کا کہنا تھا ’ملک بھر سے غیر قانونی افغان باشندوں کا انخلا جاری ہے، غیر قانونی افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، ہمیں ہر صورت غیر قانونی افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا ہے۔‘
محسن نقوی کا کہنا تھا غیر قانونی افغان مہاجرین سے درخواست ہے کہ وہ خود عزت کے ساتھ اپنے وطن چلے جائیں، اگر کسی کو بھیجا گیا اور وہ واپس آیا تو پھر اسے گرفتار کر کے سزا دی جائے گی، خیبر پختونخوا میں افغان کیمپ ختم کر رہے ہیں۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس میں تقریباً 1385 پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسیچنج میں ہفتے کے پہلے کاروباری دن میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس 1385 اضافے کے بعد 168062 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران زیادہ تر حصص کی خریداری کا رجحان دیکھا گیا جس میں میوچل فنڈز اور انشورنس شعبے کی جانب سے ادارہ جاتی خریداری بھی دیکھی گئی۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق کاروبار میں تیزی کی مختلف وجوہات رہیں، جس میں معاشی شعبے میں کچھ پیش رفت کے امکانات ہیں۔
تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مہینے کی آٹھ تاریخ کو آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہے جس میں پاکستان کے لیے اگلی قسط جاری ہونے کی توقع ہے۔ اسی طرح وزیر اعظم کے بحران کے دورے اور اس میں تجارت کے فروغ کے لیے مذاکرات ایک اچھی پیش رفت ہے جس کا مارکیٹ پر مثبت اثر ہوا۔
تجزیہ کار شہر یار بٹ نے اس سلسلے میں بتایا کہ حکومت کی جانب سے سپر ٹیکس کم کرنے کی کچھ اطلاعات آئی ہیں جو بڑی کمپنیوں کے لیے مثبت خبر ہے جس سے مارکیٹ میں کاروبار کو فروغ ملا۔ انھوں نے کہا اسی طرح میوچل فنڈز اور انشورنس شعبے کی جانب سے بھی سرمایہ کاری نظر آئی جس نے انڈیکس کو بڑھانے میں مدد فراہم کی۔
رہائشی پلاٹس کی مبینہ غیرقانونی الاٹمنٹ، بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو بہن اور بھانی سمیت قید کی سزا سنا دی گئی
،تصویر کا ذریعہSajeeb Wazed/ Facebook
بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پرباچل میں سرکاری رہائشی پلاٹس کی مبینہ غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق مقدمے میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ، ان کی بہن شیخ ریحانہ اور بھانجی برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق کو مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائیں۔ اس مقدمے میں عدالت نے شیخ حسینہ واجد کی بہن شیخ ریحانہ کو سات سال، ٹیولپ صدیق کو دو سال قید بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
یہ تمام ملزمان عدالتی مفرور قرار دیے گئے تھے اور ان کی غیرموجودگی بغیر کسی وکیل کے اس مقدمے کی کارروائی آگے بڑھی۔
پیر کو ڈھاکہ کی خصوصی جج کی عدالت نے پرباچل نیو ٹاؤن پروجیکٹ کے لیے مبینہ طور پر 10 کٹھہ کا سرکاری پلاٹ لینے کے الزام میں انسداد بدعنوانی کمیشن کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں شیخ حسینہ، شیخ ریحانہ اور ان کی بیٹی ٹیولپ رضوانہ صدیق سمیت 17 افراد کے خلاف اپنا فیصلہ سنایا۔
کراچی میں مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش تقریباً 15 گھنٹے بعد مل گئی: ’میری آنکھوں کے سامنے میرا بیٹا گٹر میں گرا، بہت مشکل وقت ہے‘
،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں مین ہول میں گرنے
والے بچے کی لاش بالآخر تقریباً 15 گھنٹے بعد تلاش کر لی گئی ہے۔
کراچی کے ڈپٹی مئیر سلمان مراد کا کہنا ہے کہ ریسکیو اداروں نے انھیں آگاہ کیا ہے کہ تین سالہ بچے کی لاش مل گئی۔ بچے کی تلاش کا کام گذشتہ رات سے جاری تھا۔
اس سے قبل ترجمان ریسکیو 1122 نے بتایا تھا کہ ڈوبنے
والا بچہ اپنے والدین کے ساتھ نیپا چورنگی کے نزدیک واقع نجی ڈیپارٹمنٹل سٹور میں شاپنگ
کے لیے آیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ شاپنگ کے بعد فیملی باہر نکلی تو بچہ مین ہول پر چڑھا اور نیچے
گر گیا۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہیوی مشینری کے ذریعے واٹر چینل کی کھدائی کی گئی تاکہ مزید تلاش کا کام کیا جا سکے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بچے کے والد نبیل نے بتایا تھا کہ وہ شاہ فیصل کالونی کے
رہائشی ہیں اور اپنی بیوی اور بیٹے کے ہمراہ شاپنگ کرنے آئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی موٹر سائیکل مین ہول کے قریب کھڑی کی تھی، جب
وہ شاپنگ کرنے کے بعد باہر نکلے تو بیٹا ہاتھ چھڑا کر بھاگا۔
بچے کے والد کا کہنا تھا کہ ’میری آنکھوں کے سامنے میرا بیٹا گٹر میں گرا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ مین ہول پر ڈھکن موجود نہیں تھا۔ ’میری اکلوتی اولاد تھی،
بہت مشکل وقت ہے۔‘
تین سالہ بچے کے مین ہول میں گرنے کے بعد مشتعل شہریوں نے نیپا چورنگی پر احتجاج
کیا جس کے باعث گلشن اقبال جانے والا روڈ بند ہو گیا تھا۔
تاہم اب پولیس کا کہنا ہے کہ نیپا چورنگی کے اطراف میں ٹریفک رواں دواں ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سڑک کے جس جانب مین ہول ہے وہاں ریسکیو کا کام جاری ہے
اور پولیس ٹریفک مینیج کر رہی ہے۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کل کے افسوس ناک واقعہ کی وجہ سے آج کے سٹی کونسل اجلاس کو مختصر رکھا گیا ہے۔ مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ ’ہماری یہ کوشش تھی کہ آج کے کونسل کے اجلاس میں اسی واقعہ سے متعلق گفتگو کی جائے۔ قانون ساز کونسل ہونے کے ناتے ہم معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر جماعت اسلامی کے دوست تعمیری سیاست پر یقین نہیں رکھتے صرف اور صرف تنقید کی سیاست کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے لوگ الزام لگانے سے پہلے یہ نہیں دیکھتے کہ ٹاؤن کس کا ہے اور یوسی کس چیئرمین کی ہے۔ میئر کراچی کے مطابق جماعت اسلامی نے سٹی کونسل کا اجلاس شروع ہونے سے قبل ہی نعرے بازی شروع کردی اور وہ پہلے سے ہی سٹی کونسل میں پلے کارڈز اور بینرز لے کر آئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’پلے کارڈز اور بینرز کے بجائے کراچی کی بہتری کے لیے سیاست کریں گے۔ ہم سب کوخلوص کے ساتھ مل کر کراچی کی بہتری کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘