لائیو, واشنگٹن کی 8.6 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری، خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کو امریکہ کے ساتھ دوبارہ کشیدگی کا خدشہ

پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے نائب انسپکٹر محمد جعفر اسدی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادی ممالک کو مجموعی طور پر آٹھ اعشاریہ چھ ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں مختلف ایرانی شخصیات کی جانب سے رابطہ کیا جا رہا ہے جو معاہدے کی پیشکش کر رہے ہیں
  • ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے بھجوائی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہوں: صدر ٹرمپ
  • آبنائے ہرمز عبور کرنے کے عوض ایران کو فیس دینے والی شپنگ کمپنی پر پابندی لگائیں گے: امریکہ کا انتباہ
  • ایران نے امریکہ سے مذاکرات کی نئی تجویز پاکستان کو بھیج دی: ایرانی میڈیا
  • ایرانی وزیر خارجہ کا سعودی عرب سمیت چھ ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ
  • پاکستانی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
  • ایران فُٹبال ورلڈ کپ کے میچز امریکہ میں کھیلے گا: فیفا صدر

لائیو کوریج

  1. سپرٹ ایئرلائنز کا حکومت سے 500 ملین ڈالر کی امداد نہ ملنے پر کمپنی بند کرنے کا فیصلہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کم قیمت میں سفری سہولیات فراہم کرنے والی سپرٹ ایئرلائنز نامی امریکی فضائی کمپنی نے کاروبار بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ائیر لائن انتظامیہ کی جانب سے کاروبار بند کرنے کی وجہ ٹرمپ انتظامیہ سے 500 ملین ڈالر کی مالی امداد حاصل کرنے میں ناکامی بتائی گئی ہے۔

    ایئر لائن امریکی حکومت کے ساتھ ایک امدادی معاہدے پر بات چیت کر رہی تھی، جس کے ذریعے اسے دیوالیہ ہونے سے بچایا جا سکتا تھا، تاہم یہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔

    سنیچر کے روز اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں سپرٹ ایئرلائنز نے ’انتہائی افسوس‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے فوری طور پر اپنے آپریشنز منظم انداز میں ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    سپرٹ ایئرلائنز حالیہ برسوں میں دوسری مرتبہ دیوالیہ ہونے کی کارروائی سے نکلنے کی کوشش میں تھی، تاہم ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے نے کمپنی کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا۔

    ایئر لائن کے مطابق سپرٹ کی تمام آنے والی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جن مسافروں نے سپرٹ کے ذریعے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سے ٹکٹ خریدے تھے، انھیں خودکار طور پر اصل ادائیگی کے طریقے پر رقم واپس کر دی جائے گی۔

    وہ مسافر جنھوں نے ٹریول ایجنٹ کے ذریعے ٹکٹ بک کروائے تھے وہ ری فنڈ کے لیے براہِ راست اپنے ایجنٹ سے رابطہ کریں۔

    البتہ ووچر، کریڈٹ، ایئر لائن پوائنٹس یا کسی اور ذریعے سے ٹکٹ خریدنے والوں کے معاوضے کا فیصلہ بعد میں دیوالیہ پن کی عدالت کی کارروائی کے دوران کیا جائے گا۔

  2. ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ کشیدگی کا امکان: خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے نائب انسپکٹر محمد جعفر اسدی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’شواہد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ کسی وعدے یا معاہدے کا پابند نہیں رہتا۔‘

    محمد جعفر اسدی کے مطابق امریکی حکام کے اقدامات اور بیانات کی زیادہ تر نوعیت میڈیا سے متعلق ہے جن کا مقصد اول تیل کی قیمتوں میں کمی کو روکنا اور دوم اُن مشکلات سے نکلنا ہے جو انھوں نے خود پیدا کی ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کو لگ بھگ تین ہفتے ہونے کو ہیں تاہم جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز کے معاملے پر تاحال حالات کشیدہ ہیں اور یہ اہم آبی تجارتی گُزر گاہ تاحال بند ہے۔

  3. جیب سے القاعدہ کا کارڈ ملنے کے الزام میں لاہور سے یوٹیوبر گرفتار

    AyeshaA_Q

    ،تصویر کا ذریعہAyeshaA_Q

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک یوٹیوبر کو مبینہ طور پر القاعدہ کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے جبکہ اہلِخانہ نے سی ٹی ڈی کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف بعد از گرفتاری ایک بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا۔

    سی ٹی ڈی کی جانب سے گرفتار کیے گئے یوٹیوبر کی شناخت یوٹیوب چینل ایون نیوز سے منسلک محمد سعد بن ریاض کے نام سے ہوئی۔

    سی ٹی ڈی کی جانب سے سعد کے خلاف ایف آئی آر اپنے ایک اہلکار کی مدعیت میں دائر کی گئی ہے۔

    ایف آئی آر میں کیا کہا گیا؟

    لاہور کے سی ٹی ڈی تھانے کے محرر تو قیر اسلم کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا کہ 27 اپریل کی صبح وہ سی ٹی ڈی کے دیگر اہلکاروں کے ہمراہ اشتہاری مجرمان کی تلاش میں لاہور کے جی پی او چوک، مال روڈ پر موجود تھے کہ انھیں مخبر نے اطلاع دی کہ مزنگ روڈ پر واقع مسجد حنفیہ غوثیہ میں کالعدم تنظیم القاعدہ کا ایک مبینہ رکن موجود ہے جو لوگوں کو کالعدم تنظیم میں شامل ہونے کی دعوت دے رہا ہے اور ان میں ممنوعہ کتب بھی تقسیم کر رہا ہے۔

    پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ جب صبح کے قریب ریڈ کی گئی تو مخبر کی نشاندہی پر ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جس نے اپنا نام محمد سعد بن ریاض بتایا۔

    ایف آئی آر کے مطابق تلاشی کے دوران سعد کے پاس موجود بیگ سے اسامہ بن لادن سے متعلق کتاب کے پانچ نسخے برآمد ہوئے جو سی ٹی ڈی کے مطابق ممنوع کتب میں شمار ہوتی ہے۔

    اس کے علاوہ سی ٹی ڈی کے مطابق سعد کے پاس سے القاعدہ کا مممبرشپ کارڈ بھی برآمد ہوا۔

    ایف آئی آر میں اینٹی ٹیرر ازم ایکٹ 1997 کی دفعات 11 ایف (2) اور 11 ڈبلیو شامل کی گئی ہیں۔ 11 ایف (2) کا تعلق کالعدم تنظیم کی رکنیت رکھنے جبکہ 11 ڈبلیو نفرت انگیز مواد یا کسی دہشت گرد یا کالعدم تنظیم کا مواد شائع کرنے اور تقسیم کرنے کے متعلق ہے۔

    اہلِخانہ اور سعد کے ساتھیوں کا کیا کہنا ہے؟

    سعد بن ریاض کی اہلیہ عائشہ قیوم نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سوموار کی صبح تقریباً ساڑھے تین بجے 12 سے 13 نقاب پوش مسلح افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور سعد کو اپنے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

    سعد کی اہلیہ کا دعویٰ ہے کہ جب قانونی دباو ڈالا گیا تو اس کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انتہائی مضحکہ خیز بنیادوں پر ان کے شوہر کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔

    عائشہ کا کہنا ہے کہ ’سعد ماضی میں ریاستی اداروں کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔‘

    ’ایسے افراد جنھیں ریاست نے جانچ پڑتال کے بعد قابلِ اعتماد سمجھا ہو، اگر انھیں من مانی حراست کرنے پڑے اور بعد ازاں اُن پر پچھلے قوانین لاگو کیے جائیں، تو پھر یہ سوال تو ناگزیر ہے کہ ریاست آخر کس بنیاد پر اپنے شہریوں سے اعتماد کی توقع رکھتی ہے؟‘

    ایون نیوز جس سے سعد منسلک ہیں، کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں اس گرفتاری کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا کہا گیا ہے۔

    سعد کے دوست ہونے کا دعویٰ کرنے والے ابراہیم جعفری ایکس پر لکھتے ہیں کہ ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ انھیں مسجد سے حراست میں لیا گیا جبکہ کیمرے کی فوٹیج سے ثابت ہوتا ہے کہ انھیں گھر سے اٹھایا گیا۔

    تاہم ان کی جانب سے کوئی کیمرہ فوٹیج جاری نہیں کی گئی۔

    بی بی سی سی ٹی ڈی اور سعد کے ساتھیوں و اہلخانہ کی جانب سے کیے گئے کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

  4. امریکہ نے اسرائیل اور عرب اتحادیوں کو آٹھ اعشاریہ چھ ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادی ممالک کو مجموعی طور پر آٹھ اعشاریہ چھ ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کو تین ہفتوں سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔

    جن ممالک کو یہ اسلحہ فراہم کیا جائے گا، ان میں اسرائیل، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

    فیصلے کے تحت قطر کو پیٹریاٹ ایئر اینڈ میزائل ڈیفنس سسٹم کی فراہمی اور اس سے متعلق معاونت فراہم کی جائے گی، جن کی مجموعی مالیت چار ارب ڈالر سے زائد ہے۔

    اس کے علاوہ ایڈوانسڈ پریسیژن کِل ویپن سسٹمز کی فروخت بھی منظور کی گئی ہے، جن کی مالیت 992 اعشاریہ چار ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔

    کویت کو دو اعشاریہ پانچ ارب ڈالر مالیت کا انٹیگریٹڈ بیٹل کمانڈ سسٹم فراہم کرنے جبکہ اسرائیل کو 992 ملین ڈالر سے زائد کے ایڈوانسڈ پریسیژن کِل ویپن سسٹمز کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔

    امریکی محکمۂ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کو بھی یہی نظام فروخت کرنے کی منظوری دی ہے، جس کی مالیت147 ملین ڈالر سے زائد ہے۔

  5. پاکستان میں اپریل کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں تقریباً گیارہ فیصد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں اپریل کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد کی شرح سے بڑھی جو 20 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

    پاکستان میں وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی میں سب سے زیادہ اضافہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔

    مشرق وسطی میں جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں بین الاقوامی سطح پر اضافہ ہو ا جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس سے ایندھن، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

    اعداد و شمار کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) اپریل میں سالانہ بنیاد پر 10.9 فیصد تک پہنچ گیا، جو مارچ میں 7.3 فیصد تھا۔ یہ جولائی 2024 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹکس کے مطابق یہ شرح سٹیٹ بینک آف پاکستان کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ یہ اضافہ مرکزی بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 100 بیسز پوائنٹس کے اضافے کے صرف چار دن بعد سامنے آیا، جس کے بعد شرح سود 11.5 فیصد ہو گئی تھی۔

    مہنگائی میں مجموعی اضافے کی وجہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات رہی، جو سالانہ بنیاد پر 12.5 فیصد سے بڑھ کر 29.9 فیصد ہو گئے۔ رہائش اور یوٹیلٹیز کے اخراجات 11.5 فیصد سے بڑھ کر 16.8 فیصد تک پہنچ گئے جبکہ خوراک اور غیر الکحل مشروبات کی قیمتوں میں اضافہ 3.6 فیصد سے بڑھ کر 7.6 فیصد ہو گیا۔

    ماہانہ بنیاد پر اپریل میں صارفین کی قیمتوں میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ نو ماہ کی تیز ترین رفتار ہے جبکہ مارچ میں یہ شرح 1.2 فیصد تھی۔

  6. آبنائے ہرمز سے گزرنے کا معاوضہ ادا نہ کریں، امریکی وزارتِ خزانہ کی شپنگ کمپنیوں کو تنبیہ

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    امریکی وزارتِ خزانہ نے شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو کسی بھی قسم کی فیس یا معاوضہ ادا نہ کریں، چاہے یہ ادائیگیاں عطیات کی صورت میں ہی کیوں نہ ہوں۔ بصورتِ دیگر ایسی کمپنیاں امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کی فراہمی کے بدلے ادائیگیاں طلب کیے جانے سے متعلق معلومات امریکہ کو حاصل ہوئی ہیں۔

    اس ضمن میں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شکل میں بالواسطہ ہو یا خیراتی اداروں کے ذریعے ادائیگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سمندری نقل و حمل کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔

    ادھر تہران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق تجاویز کے تناظر میں اس آبنائے سے گزرنے والے جہازوں پر فیس یا ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔

    BBC

    امریکی وزارتِ خارجہ کے غیر مُلکی اثاثہ جات کو کنٹرول کرنے والے مخصوص دفتر کی جانب سے جاری بیان میں اس سے قبل بھی شپنگ کمپنیوں کو متنبہ کیا تھا کہ ایسی ادائیگیاں انھیں پابندیوں کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہیں اور جمعہ کے روز اس تنبیہ کو دہراتے ہوئے واضح کیا گیا کہ عطیات یا بالواسطہ ادائیگیاں بھی قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔

  7. ایران جنگ کے باعث سعودی عرب میں شراب کی قلت

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    سعودی عرب کی واحد سرکاری شراب کی دکان کو بیئر اور وائن سے لے کر ٹیکلا تک مختلف اشیا کی قلت کا سامنا ہے اور صارفین نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے ترسیلات میں تاخیر کا سامنا ہے۔

    ریاض کے سفارتی علاقے میں واقع یہ دکان بغیر کسی نام یا بورڈ کے خدمات سر انجام دیتی ہے۔ اسے سنہ 2024 میں غیر مسلم سفارت کاروں کو خدمات فراہم کرنے کے لیے کھولا گیا تھا اور گزشتہ سال اس کی سہولتیں امیر غیر مسلم غیر ملکیوں تک بڑھا دی گئیں۔

    تاہم سعودی عرب میں سنہ 1952 سے نافذ شراب پر مکمل پابندی بدستور برقرار ہے۔ مگر روایتی طور پر قدامت پسند سعودی عرب نے غیر ملکی کارکنوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کے تحت لائسنس یافتہ شراب کی ایک دکان کی اجازت دی ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں ریاض میں اس دکان کا دورہ کرنے والے پانچ افراد نے بتایا کہ شیلف زیادہ تر خالی ہیں اور صرف مہنگے یا کم معروف برانڈز ہی دستیاب ہیں۔

  8. امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے لیے بحری قزاقوں کی طرح کام کر رہی ہے: ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کے بحری محاصرے کے نفاذ کے لیے ’بحری قزاقوں کی طرح‘ عمل کر رہی ہے۔

    انھوں نے یہ بیان گزشتہ چند روز کے دوران امریکی افواج کی جانب سے ایک جہاز کو تحویل میں لینے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے دیا۔

    جمعہ کی شب ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے جہاز کو تحویل میں لیا، اس کا سامان حاصل کیا اور تیل پر بھی قبضہ کیا۔ یہ ایک نہایت منافع بخش کاروبار ہے۔ ہم قزاقوں کی طرح ہیں تقریباً انہی جیسے، لیکن ہم مذاق نہیں کر رہے۔‘

    رپورٹ کے مطابق تہران سے منسلک بعض جہاز ایران کی بندرگاہوں سے نکلنے کے بعد ایشیائی پانیوں میں امریکی کارروائیوں کا نشانہ بنے، جہاں پابندیوں کا سامنا کرنے والے کنٹینر بردار جہازوں اور ایرانی آئل ٹینکروں کو بھی تحویل میں لیا گیا۔

    جنگ کے آغاز سے ایران نے آبنائے ہرمز سے زیادہ تر جہازوں کی آمدورفت محدود کر دی ہے سوائے اپنے جہازوں کے۔ اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی اور محاصرہ کا اعلان کیا تھا۔

  9. صدر ٹرمپ کا یورپی گاڑیوں پر ٹیرف 25 فیصد تک بڑھانے کا اعلان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر عائد محصولات میں اضافہ کرتے ہوئے انھیں 25 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے برسلز کے ساتھ تجارتی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں یورپی یونین پر الزام عائد کیا کہ وہ ’ہم سے طے شدہ مکمل تجارتی معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہی،‘ تاہم انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

    جمعے کے روز اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ۔۔۔ اگلے ہفتے میں یورپی یونین سے آنے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر محصولات میں اضافہ کروں گا۔‘

    یورپی کمیشن نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم یورپی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھیں گے۔‘

    کمیشن کے مطابق یورپی یونین اپنے وعدوں پر عمل کر رہی ہے تاہم وہ امریکہ سے اس کے وعدوں کے حوالے سے ’وضاحت‘ بھی طلب کر رہی ہے۔

    آٹو موبائل کے شعبے کو ہدف بنا کر ٹرمپ نے ایک نہایت حساس شعبے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ گاڑیوں کی صنعت یورپ کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ہے۔

    یہ اقدام اس معاہدے کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے جو یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان سکاٹ لینڈ میں ٹرمپ کے ٹرن بیری گالف کورس پر طے پایا تھا، جس کے تحت زیادہ تر یورپی اشیا پر محصولات 15 فیصد مقرر کیے گئے تھے۔

    یہ معاہدہ یورپی یونین کے لیے اس 30 فیصد ٹیرف سے عارضی ریلیف کا باعث بنا تھا جسے ٹرمپ نے اپنے وسیع پیمانے پر ’لبریشن ڈے‘ محصولات کے تحت نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس کے بدلے میں یورپ نے امریکہ میں سرمایہ کاری اور امریکی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے متوقع تبدیلیوں پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

  10. مختلف ایرانی شخصیات معاہدے کے لیے رابطہ کر رہی ہیں، واشنگٹن مذاکرات کے لیے مناسب فریق کی نشاندہی کر رہا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں مختلف ایرانی شخصیات کی جانب سے رابطہ کیا جا رہا ہے جو معاہدے کی پیشکش کر رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن مناسب فریق کی نشاندہی کے لیے کام کر رہا ہے جس سے مذاکرات کیے جا سکیں۔

    فلوریڈا میں ایک خطاب کے دوران ٹرمپ نے بتایا کہ ’آبنائے ہرمز کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’ایرانیوں نے اسے برسوں سے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور مزید کہا کہ ان کا ملک ’ایرانی جہازوں کو ان کی جگہوں پر واپس لے آیا ہے اور آبنائے ہرمز کو دباؤ ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال ہونے سے روک دیا ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب ’فضائی دفاع اور ریڈار نظام سے محروم ہو چکا ہے اور اس کی عسکری صلاحیتیں مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران میں جاری صورتحال ’اعلیٰ قیادت کے پہلے اور دوسرے درجے کے غائب ہونے کے بعد ایک حقیقی نظام کی تبدیلی‘ کی عکاسی کرتی ہے۔‘

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’82 فیصد میزائل تنصیبات کو غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے اور ایران میں نئے میزائلوں کی تیاری کی صلاحیت کو بھی تقریباً 85 فیصد تباہ کر دیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’159 ایرانی بحری جہاز اب سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک ’ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ یہ اسرائیل، یورپ اور ممکنہ طور پر امریکہ کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔‘

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک ’ایران میں بہترین کام کر رہا ہے۔‘

  11. امریکہ کا جرمنی سے اپنے پانچ ہزار فوجی واپس بلانے کا فیصلہ

    جرمنی، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران جنگ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان اختلافات کے بعد امریکی محکمۂ دفاع نے جرمنی سے پانچ ہزار فوجیوں کے انخلا کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

    یہ فیصلہ اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں صدر ٹرمپ نے چانسلر مرز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مرز نے یہ تاثر دیا تھا کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے امریکہ کی ’تضحیک‘ کی ہے۔

    جمعرات کو سوشل میڈیا پر جاری سلسلہ وار پوسٹس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ فریڈرک مرز ’انتہائی ناقص کارکردگی‘ دکھا رہے ہیں اور انھیں ’ہر طرح کے مسائل‘ کا سامنا ہے جن میں امیگریشن اور توانائی بھی شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل اٹلی اور سپین سے بھی امریکی فوج نکالنے کی تجویز دے چکے ہیں۔

    جرمنی میں امریکی فوجی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ گذشتہ دسمبر تک ملک بھر کے مختلف فوجی اڈوں پر 36 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات تھے۔

    پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حکم وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے دیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ یورپ میں امریکی افواج کی تعیناتی سے متعلق محکمے کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے اور اس میں خطے کی ضروریات اور زمینی حالات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں توقع ہے کہ یہ انخلا آئندہ چھ سے 12 ماہ کے دوران مکمل ہو جائے گا۔‘

    نیٹو اتحاد کے دیرینہ ناقد رہنے والے امریکی صدر ٹرمپ حالیہ دنوں کے دوران نیٹو اتحاد کے ممالک پر شدید تنقید کر رہے ہیں کیونکہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کارروائیوں میں شرکت سے انکار کرتے ہیں۔

  12. ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد کانگریس کی منظوری درکار نہیں: ٹرمپ

    ٹرمپ، ایران، جنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو بتایا ہے کہ جنگ بندی کے باعث ایران کے خلاف کارروائیاں ختم ہو چکی ہیں، لہذا انھیں جنگ جاری رکھنے کے لیے قانون سازوں کی اجازت درکار نہیں ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کانگریس کی قیادت کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ’سات اپریل 2026 کے بعد سے امریکہ کی مسلح افواج اور ایران کے درمیان فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی لڑائی ختم ہو چکی ہیں۔‘

    یہ خط اس اعلان کے 60ویں دن آیا ہے کہ جب صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر کانگریس کو ایران کے خلاف حملوں سے آگاہ کیا تھا۔

    امریکی قانون کے تحت ایسے اعلان کے بعد صدر کو 60 دن کے اندر ’امریکی مسلح افواج کے کسی بھی استعمال کو ختم کرنا ہوتا ہے جب تک کہ کانگریس اس کے تسلسل کی اجازت نہ دے۔‘

    جمعے کے روز کانگریس کے رہنماؤں کو لکھے گئے خط میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں پہلے اور اب بھی اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تحت امریکہ کی خارجہ پالیسی اور بطور کمانڈر اِن چیف اور چیف ایگزیکٹو اپنے اختیارات کے مطابق امریکی مسلح افواج کو ہدایات دیتا رہوں گا۔‘

    امریکہ کا متعلقہ قانون، جو کئی دہائیوں پرانا ’وار پاورز ریزولیوشن‘ ہے، صدر پر یہ لازم کرتا ہے کہ وہ جنگی صورتحال میں امریکی افواج کے استعمال کے ’60 دنوں‘ کے اندر بعض تقاضے پورے کریں۔

    اس قانون کے تحت صدر کو افواج کے استعمال کو ختم کرنا ہوتا ہے جب تک کہ کانگریس باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو زیادہ سے زیادہ 30 دن کی توسیع نہ دے تاکہ فوجیوں کی ’فوری واپسی‘ ممکن بنائی جا سکے۔

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو کانگریس کی سماعت کے دوران یہ موقف بھی اختیار کیا کہ اس ڈیڈ لائن کی گھڑی رُک چکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس وقت ہم جنگ بندی کی حالت میں ہیں اور ہماری سمجھ کے مطابق جنگ بندی میں 60 دن کی گھڑی تھم جاتی ہے۔‘

    اس پر سوال کرنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ٹِم کین نے جواب دیا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ قانون اس کی تائید کرتا ہے۔‘

    یہ قانون 1973 میں اس وقت کے صدر رچرڈ نکسن کی ویتنام جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا۔

    قانون سازوں کو اس بارے میں بڑھتے ہوئے سوالات کا سامنا ہے کہ آیا وہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اس بات پر ووٹنگ کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ آیا اس جنگ کو باضابطہ منظوری دی جانی چاہیے۔

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار اس حوالے سے کانگریس کے ارکان سے بات چیت کر رہے ہیں۔

    کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی قیادت میں صدر ٹرمپ کو ایران کے معاملے پر محدود کرنے کی کوششیں بارہا ناکام ہو چکی ہیں۔

    اکثر ریپبلکنز نے ان کوششوں کی مخالفت کی ہے۔ تاہم کچھ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 60 دن کی مدت پوری ہونے کے بعد اپنے موقف پر نظرِ ثانی کر سکتے ہیں۔

    جنگ بندی کے باوجود دونوں فریق اب تک طویل المدتی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ ایرانی میڈیا نے جمعے کے روز تہران کی جانب سے پاکستان کو بھیجی گئی ایک نئی تجویز کی اطلاع دی ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی ایک تجویز پاکستانی ثالثوں کو ارسال کی گئی ہے۔

    خبر رساں ایجنسی نے تجویز کی تفصیلات شائع نہیں کیں اور یہ واضح نہیں کہ آیا یہ تجویز امریکہ تک پہنچی ہے یا نہیں۔

    صدر ٹرمپ نے جمعے کی سہ پہر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم نے ابھی ایران کے ساتھ ایک بات چیت کی ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ میں خوش نہیں ہوں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ طے کرنا اس حد تک مشکل رہا ہے کیونکہ ایرانی قیادت ’بہت کنفیوژن‘ کا شکار ہے، خاص طور پر اس کے کئی اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے مارے جانے کے بعد۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ جمعرات کو انھیں امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے مختلف آپشنز پر بریف کیا گیا جن میں ’انھیں بُری طرح کچل دینا اور ہمیشہ کے لیے معاملہ ختم کر دینا‘ بھی شامل تھا اور ’معاہدہ کرنا‘ بھی۔

  13. ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے بھجوائی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہوں: صدر ٹرمپ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے بھجوائی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔

    جمعے کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن میں اس کے لیے ان کی تجاویز سے مطمئن نہیں ہوں، اب دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔

    امریکی صدر نے ایرانی تجاویز کی تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ابھی ایران کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، لیکن میں یہ کہوں گا کہ میں خوش نہیں ہوں۔ انھیں صحیح ڈیل کرنی ہوگی۔ اس وقت میں اس سے مطمئن نہیں ہوں جو وہ پیش کر رہے ہیں۔‘

    صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم بات چیت کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔ ٹیلی فون پر بھی بات کر رہے ہیں، اُنھوں (ایران) نے کچھ قدم آگے بڑھائے ہیں، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ معاہدے تک پہنچ پائیں گے۔

  14. آبنائے ہرمز عبور کرنے کے عوض ایران کو فیس دینے والی شپنگ کمپنی پر پابندی لگائیں گے: امریکہ کا انتباہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی شپنگ کمپنی نے آبنائے ہرمز عبور کرنے کے عوض ایران کو فیس ادا کی تو اس پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

    جمعے کو امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ آبنائے کے ذریعے نیوی گیشن کے لیے ایرانی خطرات اور اس کی جانب سے اسے عبور کرنے کے لیے فیس کے مطالبے سے آگاہ ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی جیسی تنظیموں کو عطیات دینے والے اداروں پر بھی پابندیاں لگائی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ تہران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ ​​ختم کرنے کی تجاویز کے ایک حصے کے طور پر آبنائے عبور کرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

  15. ’ہم نجی سفارتی بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کرتے:‘ امریکہ کا نئی ایرانی تجاویز پر ردِعمل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس نے ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے بھجوائی گئی نئی تجاویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نجی سفارتی بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کرے گا۔

    بی بی سی عربی کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہم نجی سفارتی بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کرتے ہیں۔‘

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور مختصر اور طویل مدت میں امریکہ کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

  16. امریکہ نے مزید چھ ایرانی شہریوں، 21 کمپنیوں اور ایک بحری جہاز پر پابندی لگا دی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مزید ایرانی افراد، کمپنیوں اور ایک بحری جہاز پابندی لگا دی ہے۔

    محکمہ خزانہ کے مطابق چھ افراد، 21 کمپنیوں اور ایک بحری جہاز پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین کی بعض کمپنیوں اور شخصیات پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں، تاہم تاحال اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

  17. ایرانی وزیر خارجہ کا سعودی عرب سمیت چھ ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، مصر، ترکی، قطر، عراق اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق وزیرِ خارجہ نے ان ممالک کے وزرائے خارجہ کو علاقائی پیش رفت اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ایران کے موقف سے آگاہ کیا۔

    عباس عراقچی نے جمعے کو ہی یورپی یونین کے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی نمائندہ کاجا کالس سے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

  18. ایران نے امریکہ سے مذاکرات کی نئی تجویز پاکستان کو بھیج دی: ایرانی میڈیا

    ایران، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے (ایرنا) کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے متعلق تازہ ترین تجویز پاکستان کو بھیج دی ہے۔

    تہران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے ثالثی کرنے والے پاکستان کو یہ تجویز جمعرات کے روز بھیجی۔

    یاد رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد اسلام آباد نے تہران اور واشنگٹن کے وفود کے درمیان مذاکرات کے ایک دور کی میزبانی کی تھی تاہم بہت سی کوششوں کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور ابھی تک نہیں ہو سکا۔

    ایران کے حالیہ بیان سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں پاکستان باقاعدہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے میں بہت سے ممالک مدد کے لیے تیار ہیں تاہم مذاکرات میں پاکستان ہی باضابطہ ثالث ہے۔‘

  19. ’جنگ سے امریکہ کو اب تک 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوا‘: ایرانی وزیر خارجہ کا دعویٰ

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی محکمہ دفاع پر جنگ ​​کی اصل قیمت کے بارے میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ اعداد و شمار حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں عراقچی نے کہا کہ ’پینٹاگون جھوٹ بول رہا ہے، نیتن یاہو کے جوئے کی وجہ سے امریکہ کو اب تک تقریباً 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے بالواسطہ اخراجات ’بہت زیادہ‘ ہیں، ہر امریکی خاندان کا ماہانہ خرچہ 500 ڈالر کے لگ بھگ ہے جو تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

    عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ہمیشہ ’اسرائیل فرسٹ‘ کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اخر میں آتا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. ’آبنائے ہرمز میں کسی بھی یکطرفہ ایرانی انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا‘: یو اے ای صدارتی مشیر

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور محمد قرقاش نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی یکطرفہ ایرانی انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’آبنائے ہرمز پر جاری بحث میں، اجتماعی بین الاقوامی مرضی اور بین الاقوامی قانون کی دفعات، اس اہم راستے کے ذریعے جہاز رانی کی بنیادی ضامن کے طور پر ابھرتی ہیں، جو جنگ کے بعد کے مرحلے میں خطے اور عالمی معیشت کے استحکام کے لیے ہیں۔‘

    محمد قرقاش نے یہ بھی کہا کہ ’ایران کی جانب سے اپنے پڑوسیوں کے خلاف جارحیت کے بعد کسی بھی یکطرفہ ایرانی انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔‘