یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
30 جولائی سے آگے کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں حکام کا کہنا ہے کہ بوٹ بیسن تھانے کی حدود سے ملے والے جوڑے کی شناخت پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ ساجد مسیح اور 25 سالہ ثنا آصف کے نام سے ہوئی ہے۔ گوجرانوالہ پولیس کے مطابق ساجد مسیح نے 20 جولائی کو مذہب اسلام قبول کر لیا تھا اور دونوں نے 20 جولائی کو ہی کورٹ میرج کی تھی۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
30 جولائی سے آگے کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جرمنی کی ڈبل اولمپک بائیتھلون چیمپیئن لارا ڈہلمیئر پاکستان میں کوہ پیمائی کے دوران ایک حادثے میں ’شدید زخمی‘ ہو گئی ہیں۔
یہ واقعہ پیر کو قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں پیش آیا جب 31 سالہ لارا پہاڑ سے گرنے والے پتھروں کا نشانہ بنیں۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق پاکستانی فوج کے تعاون سے ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم خراب موسم اور دورافتادہ علاقہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔
لارا ڈہلمیئر کی ٹیم نے جرمن نشریاتی ادارے کو جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ وہ 28 جولائی کو اپنے ساتھی کے ہمراہ پہاڑ پر چڑھ رہی تھیں کہ 5700 میٹر کی بلندی پر چٹانیں گرنے کے واقعے کا نشانہ بنیں۔
لارا کی ٹیم کے مطابق ان کی ساتھی کوہ پیما نے فوری طور پر ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کیا جس کے بعد ریسکیو آپریشن شروع ہوا۔
بیان کے مطابق دوردراز علاقہ ہونے کی وجہ سے ہیلی کاپٹر 29 جولائی کی صبح ہی جائے حادثہ پر پہنچ سکا۔
خیال رہے کہ لارا ڈہلمیئر دو سرمائی اولمپکس میں جرمنی کی نمائندگی کر چکی ہیں اور انھوں نے 2018 میں پیونگ چانگ اولمپکس میں دو طلائی اور ایک کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لگ بھگ 140 ممالک باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں حالانکہ بہت سے یورپی ممالک اور امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اسے صرف اسرائیل کے ساتھ تنازع کے طویل مدتی حل کے حصے کے طور پر تسلیم کریں گے۔
سپین، آئرلینڈ اور ناروے نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے گذشتہ سال یہ قدم اٹھایا تھا۔
فرانس نے تاحال فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا لیکن صدر ایمانوئل میکخواں کا کہنا ہے کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اب یہی کہا ہے کہ برطانیہ بھی ایسا کرے گا، بشرطیکہ اسرائیل متعدد شرائط پر پورا نہ اترے۔
فلسطین کے نمائندوں کو فی الحال اقوام متحدہ کی سرگرمیوں میں محدود حقوق حاصل ہیں اور فلسطین کو عرب لیگ سمیت مختلف بین الاقوامی تنظیموں نے بھی تسلیم کیا ہے۔
ناقدین کا خیال ہے کہ فلسطینی ریاست کی قیادت اور اس کے دائرہ کار سے متعلق سوالات حل کیے بغیر اسے تسلیم کرنا زیادہ تر ایک علامتی اقدام ہوگا۔
گذشتہ ہفتے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے برطانیہ کے سابق فارن آفس کے سربراہ لارڈ میک ڈونلڈ نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا بذاتِ خود ’زیادہ اہمیت نہیں رکھتا‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام ’اسرائیلیوں اور امریکیوں کو شدید غصہ دلائے گا اور لوگ پوچھیں گے کہ ایسا کرنے کی وجہ کیا ہے، اس کے بعد کیا ہو گا اور اس کے بعد کے اقدامات کرنا بہت مشکل ہو گا۔‘

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی سمیت دیگر شرائط پر عمل نہ کیا تو برطانیہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر لے گا۔
برطانوی وزیرِ اعظم نے یہ بات کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔
کابینہ کی میٹنگ کے ایک ہینڈ آؤٹ کے مطابق برطانیہ فلسطین کو بطور ریاست اس صورت میں تسلیم کرے گا اگر ’اسرائیلی حکومت نے غزہ کی بدترین صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات نہ کیے، غزہ میں جنگ بندی نہ کی، مقبوضہ غربِ اردن کو اپنے ساتھ غیرقانونی طور پر ضم کیا اور دو ریاستی حل کے لیے ایک طویل المدتی امن مرحلے پر بات نہ کی۔‘
انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل اور حماس میں کوئی برابری نہیں ہے اور برطانیہ حماس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تمام یرغمالیوں کو رہا کرے، جنگ بندی معاہدے پر دستخط کرے، تسلیم کرے کہ وہ غزہ کی کسی بھی حکومت میں کوئی کردار ادا نہیں کریں گے اور اپنا اسلحہ پھینک دیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سٹارمر اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے قبل صورتحال کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ آیا سٹیک ہولڈرز اس حوالے سے مثبت قدم اٹھائے ہیں جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے برطانوی وزیرِ اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھوکے بچوں کی تصاویر ہمارے ساتھ ’زندگی بھر کے لیے رہیں گی۔‘

،تصویر کا ذریعہIhtisham Shami
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں حکام کا کہنا ہے کہ بوٹ بیسن تھانے کی حدود سے ملے والے جوڑے کی شناخت پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ ساجد مسیح اور 25 سالہ ثنا آصف کے نام سے ہوئی ہے۔
کراچی پولیس کے مطابق دونوں افراد کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کے بعد پوسٹ مارٹم کیا جا چکا ہے جس کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔
ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی نے بتایا ہے کہ دونوں مقتولین کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔
گوجرانوالہ پولیس کے مطابق دونوں گوجرانوالہ سے کراچی پہنچے تھے اور مختلف علاقوں میں رہائش اختیار کر رکھی تھی۔
گوجرانوالہ پولیس کے مطابق ساجد مسیح نے 20 جولائی کو مذہب اسلام قبول کر لیا تھا اور دونوں نے 20 جولائی کو ہی کورٹ میرج کی تھی۔
نکاح نامے کے مطابق ساجد کی عمر 28 اور ثنا کی عمر 25 برس ہے۔
دونوں کو کراچی میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایس ایس پی کراچی ساؤتھ مہزور علی کا کہنا تھا کہ دونوں کو نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔
ایس ایس پی کے مطابق مقتولین کے پاس سے موبائل فون اور نقدی ملی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاشیں زیادہ پرانی نہیں ہیں، رات کے کسی پہر قتل کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق، قریب ہی کام کرنے والے مزدوروں نے لاشیں دیکھ پولیس کو آگاہ کیا تھی۔
بوٹ بیسن تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق، مرد کا نام ساجد مسیح اور عورت کا نام ثنا اصف ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ دونوں کو سر میں ایک ایک گولی ماری گئی ہے جو دوسری طرف سے باہر نکل گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں کے کپڑے خون آلود تھے اور لاشیں تازہ معلوم ہوتی ہیں۔
پولیس کے مطابق اس واقعے میں دو الگ الگ ہتھیار استعمال ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق دو پستولوں کے خول ملے ہیں جس سے شبہ ہے کہ قاتلوں کی تعداد بھی کم از کم دو تھی۔
ایس ایس پی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے دو 9 ایم ایم اور ایک 30 بور کی گولیوں کا خول ملا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گولیوں کے خول کو لیبارٹری تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انڈیا کے ساتھ جنگ انتہائی کم مدت میں جیتی اور پوری دنیا اس کی معترف ہے۔
لاہور میں ایک تقریب سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جو جنگ ہم نے جیتی ہے اس پر آپ سب کو مبارک ہو۔
’یہ جو جنگ ہوئی چار دن کی انتہائی خطرناک جنگ تھی لیکن انتہائی کم مدت میں پاکستان نے ہندوستان کے خلاف جیتی اور پوری دنیا اس کی معترف ہے۔ ‘
وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان نے اس بہادی سے تکنیکی غلبے کو استعمال کیا خاص طور پر ائیر فورس نے، برّی فوج نے الفتح میزائل کا بھرپور استعمال کیا، ہماری بحری فوج بھی تیار تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’انڈیا کا خیال تھا کہ پاکستان روایتی جنگ میں انڈیا کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس جنگ نے وہ تمام خیالات دفن کر دیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں مرنے والوں کی کل تعداد 60,034 ہو گئی ہے اور 145,870 زخمی ہو گئے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں جاری ہیں جب کہ محصور علاقے میں امداد کے داخلے پر تنازع بھی جاری ہے۔
بی بی سی عربی کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 113 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 22 امداد لینے والے شامل ہیں، اور 637 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت کا کہنا ہے کہ ’متعدد متاثرین ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر پڑے ہوئے ہیں، کیونکہ اس وقت ایمبولینس اور شہری دفاع کا عملہ ان تک پہنچنے سے قاصر ہے۔‘
وزارت نے یہ بھی اعلان کیا کہ 18 مارچ 2025 سے اب تک مرنے والوں کی تعداد اور زخمیوں کی تعداد بڑھ کر 8,867 ہو گئی ہے اور 33,829 زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPDMA
قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے، پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے چناب اور دریائے جہلم اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’30 سے 31 جولائی کے دوران دریائے چناب اور جہلم میں نچلے سے درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔ دریائے راوی سے ملحقہ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔‘
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر آئندہ 24 گھنٹوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے جبکہ آئندہ 48 گھنٹوں میں راولپنڈی، گجرانوالہ اور لاہور میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا امکان ہے۔‘
پی ڈی ایم اے پنجاب نے کمشنر راولپنڈی، گجرانوالہ، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اورساہیوال ڈویژن کو الرٹ جاری کیا ہے۔
نارووال، راولپنڈی، لاہور، گجرات، جہلم، منڈی بہاوالدین، سرگودھا، خوشاب، جھنگ، چنیوٹ، خانیوال، ملتان، کوٹ ادو، مظفرگڑھ، بہاولپور، سیالکوٹ، گجرانوالہ، قصور، اوکاڑہ، حافظ آباد، وزیر آباد، ڈیرہ غازی خان،پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، لودھراں، راجن پور اور چنیوٹ کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور واسا حکام کو ممکنہ صورتحال بارے الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
عوام کے نام پیغام میں کہا گیا ہے کہ جاری کردہ احتیاطی تدابیر پرعمل کریں۔ ہنگامی انخلا کی صورت میں انتظامیہ سے تعاون کریں اور شہری ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

،تصویر کا ذریعہSANSAD TV
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے پہلگام حملے میں سکیورٹی کی ناکامی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پہلگام حملے اور ’آپریشن سندور‘ پر انڈیا کے ایوان زیریں یعنی ’لوک سبھا‘ میں بحث کا آج (منگل) دوسرا دن ہے۔
انھوں نے کہا ’وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی کل کی طویل تقریر میں ایک اہم بات چھوٹ گئی اور وہ یہ کہ پہلگام جیسے سیاحتی مقام پر سکیورٹی کے انتظامات کیوں نہیں تھے؟‘
پرینکا نے حکومت سے سوال کیا کہ حملے کے بعد وزیر داخلہ یا خفیہ ادارے کے کسی افسر نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟
کانگریس کے ایک اور رکنِ پارلیمان نے مزید کہا ’کچھ عرصہ پہلے حکومت دعویٰ کر رہی تھی کہ کشمیر میں امن ہے، وہاں سکون ہے، ماحول پرامن ہے، لوگ وہاں جائیں، سیاحت کریں۔ شبھم دویدی کی چھ ماہ قبل شادی ہوئی تھی، وہ بیسرن ویلی کی سیر کے لیے کشمیر گئے تھے۔‘
شبھم دویدی پہلگام حملے میں مارے گئے 26 افراد میں سے ایک تھے۔
پرینکا گاندھی نے حکومت سے سوال کیا کہ ’وہاں سیکورٹی کیوں نہیں تھی؟ وہاں ایک بھی فوجی کیوں نہیں دیکھا گیا؟ کیا حکومت کو نہیں معلوم تھا کہ وہاں روزانہ ایک ہزار سے پندرہ سو سیاح جاتے ہیں؟ کیا وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے جنگل سے گزرنا پڑتا ہے؟ اگر کچھ ہو گیا تو لوگ کیا کریں گے؟‘
ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں ڈاکٹر یا ابتدائی طبی امداد کا کوئی انتظام نہیں تھا، نہ ہی حفاظتی انتظامات تھے۔ یہ لوگ حکومت پر بھروسہ کرکے وہاں گئے تھے، لیکن حکومت نے انھیں بھگوان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔‘
پرینکا گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت پہلگام میں سیکورٹی کی خامی پر خاموش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’نہرو سے لے کر میری ماں کے آنسوؤں تک مودی حکومت سب کچھ کہتی ہے، لیکن جس معاملے پر بولنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے پہلگام کی ناکامی اور اس پر حکومت کی زبان بند ہے۔‘
پرینکا نے کہا ’میری ماں کے آنسوؤں کے بارے میں بات ہوئی ہے، میری ماں کے آنسو اس وقت گرے جب ان کے شوہر کو دہشت گردوں نے ہلاک کیا، اس وقت ان کی عمر صرف 44 سال تھی۔ آج اگر میں اس ایوان میں کھڑی ہوں اور ان 26 لوگوں کے بارے میں بات کر رہی ہوں تو میں ایسا اس لیے کر رہی ہوں کہ میں ان کے درد کو جانتی اور محسوس کرتی ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پہلگام حملے اور ’آپریشن سندور‘ پر انڈیا کے ایوان زیریں یعنی ’لوک سبھا‘ میں بحث کا آج (منگل) دوسرا دن ہے۔
پیر کے روز بحث کے دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دیپیندر سنگھ ہڈا نے خارجہ پالیسی پر سوال اٹھائے۔
انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر بھی سوالات اٹھائے کہ انھوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کی ثالثی کی تھی۔
کانگریس ایم پی نے کہا کہ ہماری حکومت کے دوران جب آنکھیں دکھانے کا وقت آیا تو ہم نے امریکہ کو آنکھیں دکھائیں اور جب ہاتھ ملانے کا وقت آیا تو ہم نے ان سے ہاتھ ملایا۔
’ممبئی حملے کے بعد اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے بھی کہا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ کیا سنگھ کی خارجہ پالیسی میں بھی تبدیلی آئی ہے؟‘
’آپ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ امریکہ سے مصافحہ کرنا ہے یا آنکھیں دکھانا ہیں۔ یا تو ڈونلڈ کا منہ بند کرو یا انڈیا میں میکڈونلڈز بند کرو۔ انڈیا ایک سپر پاور ہے۔ امریکہ کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ انڈیا اور پاکستان کو ایک ہی پیمانے پر نہیں تولا جا سکتا۔‘
دیپندر ہڈا نے کہا ’امریکہ کو یہ بھی چننا ہو گا کہ وہ انڈیا کے ساتھ کس طرح کے تعلقات چاہتا ہے، جب ترکی نے پاکستان کی مدد کی تو پی ایم سائپرس گئے، اچھا پیغام گیا لیکن اگر اصل دشمن چین کو پیغام دینا تھا تو انھیں تائیوان جانا چاہیے تھا۔ وزیر خارجہ نے بیجنگ جا کر کہا کہ ہمارے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔‘
انھوں نے دفاعی بجٹ میں کٹوتیوں کا ذکر کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی۔
دیپیندر ہڈا نے کہا ’یو پی اے کے دور حکومت میں انڈین فضائیہ میں لڑاکا طیاروں کے 41 سکواڈرن منظور کیے گئے تھے۔ آج زمین پر 31 سکواڈرن ہیں۔ ہماری فوج کو جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس ہونا چاہیے، دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ آج تین محاذوں کی بات ہو رہی ہے۔ اس لیے حکومت کو فوج کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔‘
پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے بعد راہل گاندھی نے بدھ کو کہا تھا ’ٹرمپ نے 25 بار دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی ہے۔ وہ کون ہیں؟ یہ ان کا کام نہیں ہے۔ انڈیا کے وزیر اعظم مکمل طور پر خاموش ہیں۔‘
’انھوں نے ٹرمپ کے دعووں کا ایک بار بھی جواب نہیں دیا، وزیراعظم اس پر کیا کہیں گے؟ وہ کیسے سمجھائیں گے کہ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ ڈیل کر لی ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا میں اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما اسدالدین اویسی کا کہنا ہے کہ جب پہلگام حملے کے بعد مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ ’پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے‘ اور پاکستان کے خلاف کئی پابندیاں عائد کی گئی تھیں، تو پھر 14 ستمبر کو ایشیا کپ میں انڈیا کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے خلاف کیسے کھیلے گی؟
پہلگام حملے اور ’آپریشن سندور‘ پر انڈیا کے ایوان زیریں یعنی ’لوک سبھا‘ میں بحث کا آج (منگل) دوسرا دن ہے۔
گذشتہ روز بحث کے دوران اویسی نے کہا ’پہلگام میں انڈین شہریوں کو مارا گیا تھا، پاکستان سے تجارت بند ہے، وہاں کے جہاز یہاں نہیں آ سکتے، آبی راستے سے جہاز نہیں آ سکتا، آپ کا ضمیر زندہ کیوں نہیں ہے؟ کس منہ سے آپ پاکستان سے کرکٹ کھیلیں گے؟‘
اویسی نے یہ بھی کہا کہ ان کا ضمیر انھیں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ دیکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔
انھوں نے کہا ’جب ہم پانی نہیں دے رہے، ہم پاکستان کا اسی فیصد پانی یہ کہہ کر روک رہے ہیں کہ پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے، تو آپ کرکٹ میچ کھیلیں گے؟ میرا ضمیر تو یہ گوارا نہیں کرتا کہ میں وہ میچ دیکھوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کے شہر بیجنگ میں تیز بارشوں اور سیلاب کے باعث ہونے والی تباہی سے کم از کم 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
شمالی علاقوں سے آنے والی ویڈیوز میں ریسکیو اہلکار لوگوں کو سیلابی علاقوں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پھنسے افراد تک ہیلی کاپٹروں سے کھانے پینے کی اشیا پہنچانے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
آئیے آپ کو بتاتے ہیں اب تک کیا ہوا ہے:

،تصویر کا ذریعہIhtisham Shami
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں حکام کا کہنا ہے کہ بوٹ بیسن تھانے کی حدود سے ملے والے جوڑے کی شناخت پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ ساجد مسیح اور 25 سالہ ثنا آصف کے نام سے ہوئی ہے۔
کراچی پولیس کے مطابق، دونوں افراد کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کے بعد پوسٹ مارٹم کیا جا چکا ہے جس کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔
ایس ایس پی کراچی ساؤتھ مہزور علی کا کہنا ہے دونوں کو نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔
ایس ایس پی کے مطابق مقتولین کے پاس سے موبائل فون اور نقدی ملی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاشیں زیادہ پرانی نہیں ہیں، رات کے کسی پہر قتل کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق، قریب ہی کام کرنے والے مزدوروں نے لاشیں دیکھ پولیس کو آگاہ کیا تھی۔
بوٹ بیسن تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق، مرد کا نام ساجد مسیح اور عورت کا نام ثنا اصف ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لاشوں کی شناخت کے لیے پولیس کی تلاش ایپ سے ان کے انگھوٹوں کے نشانات لیے گئے۔
ایس ایس پی مہزور علی کے مطابق دونوں مقتولین کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ دونوں کو سر میں ایک ایک گولی ماری گئی ہے جو دوسری طرف سے باہر نکل گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں کے کپڑے خون آلود تھے اور لاشیں تازہ معلوم ہوتی ہیں۔
پولیس کے مطابق، اس واقعے میں دو الگ الگ ہتھیار استعمال ہوئے ہیں۔
ایس ایس پی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے دو 9 ایم ایم اور ایک 30 بور کی گولیوں کا خول ملا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گولیوں کے خول کو لیبارٹری تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
’شبہ ہے کہ یہ قتل غیرت کے نام پر ہوئے ہیں‘
کیس کے تفتیشی افسر محمد گلزار نے صحافی قیصر کامران سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تاحال مقتولین کے اہل خانہ سے رابطہ نہیں ہوسکا ہے جس کے باعث لاشوں کو لاوارث قرار دے دیا گیا ہے ۔
لاشیں اس وقت چھیپا سرد خانے میں موجود ہیں۔ چھیپا ویلفیئر آگنازئزیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تاحال کسی نے ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔
تفتیشی افسر کا مزید کہنا تھا کہ اس بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ساجد اور ثنا کراچی میں کہاں مقیم تھے اور کب سے رہ رہے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ 15 جولائی کو لڑکی کے اغوا کی ایف آئی درج کی گئی تھی جس سے یہ شبہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ غیرت کے نام پر قتل ہے ۔
واقعہ پر نامعلوم افراد کے نام پر 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
گوجرانوالہ میں لڑکی کے اغوا کا مقدمہ
گوجرانوالہ کے تھانہ تتلے عالی میں بڈھا گورائیہ کی رہائشی ثنا آصف کے بھائی نے مقتول ساجد کے خلاف اپنی بہن کے اغوا کی ایف آئی آر درج کروا رکھی ہے۔
15 جولائی کو درج ایف آئی آر کے مطابق، ثنا گھر سے اپنے چچا کے گھر جانے کے لیے نکلی تو اسے ساجد نے اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ اغوا کر لیا۔
گوجرانوالہ میں درج اغوا کی ایف آئی آر میں درخواست گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بہن کی عمر 17 سال ہے۔ تاہم، بوٹ بیسن تھانے میں درج قتل کی ایف آئی آر میں مقتولہ کا قومی شناختی نمبر درج ہے اور ساتھ ہی اس کی عمر 25 سال بتائی گئی ہے۔
’لڑکی کا بھائی پولیس کی تحویل میں ہے‘
صحافی احتشام احمد شامی سے بات کرتے ہوئے تھانہ تتلے عالی کے ایس ایچ او صفدر عطا بھٹی نے بتایا کہ مقتولہ ثنا کا بھائی اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں۔
صفدر بھٹی نے بتایا کہ مقتولہ کے بھائی کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور وہ اپنی بہن کے اغوا کے مقدمے میں مدعی ہیں، ملزم نہیں۔
ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس دو افراد کے قتل کی تفتیش کر رہی ہے۔ ’اگر وہاں کوئی بریک تھرو ہوا اور اس میں ان کا نام آیا تو اسے کراچی پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ بصورتِ دیگر اسے چھوڑ دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈین حکومت کے پاس اِس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ پہلگام حملے میں ملوث اور سکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائی میں مارے گئے تینوں شدت پسند پاکستانی ہیں۔
پہلگام حملے اور 'آپریشن سندور' پر انڈیا کے ایوان زیریں یعنی ’لوک سبھا‘ میں بحث کا آج (منگل) دوسرا دن ہے۔ منگل کے روز ایوان کی کارروائی کے آغاز پر وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنی تقریر سے اس بحث کا آغاز کیا ہے۔
امت شاہ کا کہنا تھا کہ ’ہم سے پوچھا گیا کہ کیا ثبوت ہیں کہ دہشت گرد پاکستان سے آئے؟ ہمارے پاس ثبوت ہیں جو میں اس ایوان کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ یہ تینوں دہشت گرد پاکستانی تھے۔ ان تین دہشت گردوں میں سے دو کے پاکستانی ووٹر آئی ڈی ہمارے پاس ہیں، اُن کی رائفلیں بھی ہمارے قبضے میں ہیں۔ اُن کے پاس سے جو چاکلیٹس ملیں، وہ بھی پاکستان کی بنائی ہوئی چاکلیٹس ہیں۔‘
یاد رہے کہ پاکستان متعدد مواقع پر اس حملے میں ملوث ہونے جیسے الزامات کی تردید کرتے ہوئے غیرجانبدار تحقیقات میں تعاون کرنے کی پیشکش کر چکا ہے۔
اجلاس کے دوران امت شاہ کا کہنا تھا کہ’پہلگام میں بے گناہ شہریوں کو مارا گیا، اُن کا مذہب پوچھنے کے بعد اُن کے اہلخانہ کے سامنے انھیں قتل کیا گیا، یہ بڑی بربریت کے ساتھ کیا گیا، میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔‘
’آپریشن مہادیو‘
اپنی تقریر کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ وہ آپریشن مہادیو کے بارے میں بھی ایوان کو معلومات دینا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ انڈین حکام کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن کے تحت ہی پہلگام حملے میں ملوث تین شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کل (28 جولائی کو) آپریشن مہادیو کے تحت سلیمان عرف فیصل جٹ، افغان اور جبران نامی دہشت گرد آرمی، سی آر پی ایف اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں مارے گئے ہیں۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’سلیمان لشکر طیبہ کا کمانڈر تھا جو پہلگام اور گگنگیر حملوں میں ملوث تھا جبکہ افغان اور جبران بھی لشکر طیبہ کے ’اے گریڈ‘ دہشت گرد تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ تینوں دہشت گرد وادی بیسرن (پہلگام) حملے میں ملوث تھے اور تینوں کو مار دیا گیا ہے۔ میں فوج کی پیرا فورس، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کے جوانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے ان تینوں دہشت گردوں کو مارا۔‘
وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں پہلگام حملے کے بعد مبینہ شدت پسندوں کو پکڑنے کے لیے کی گئی پوری کارروائی کا تفصیلی بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’آپریشن مہادیو کا آغاز 22 مئی 2025 کو کر دیا گیا تھا۔ پہلگام حملے کی رات ہی جموں و کشمیر میں ایک سیکورٹی میٹنگ طلب کی گئی تھی جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ سفاک قاتلوں کو ملک سے فرار نہیں ہونے دینا۔‘
’22 مئی کو انٹیلیجنس بیورو کو یہ معلومات موصول ہوئیں کہ ملوث افراد دھانچیگام کے علاقے میں موجود ہیں۔ اس کے بعد سے 22 جولائی تک اس معلومات کی تصدیق کے لیے مسلسل کوششیں کی گئیں۔‘
’اور اسی کے نتیجے میں کل (28 جولائی) جو آپریشن ہوا اس میں ہمارے بے گناہ لوگوں کو مارنے والے تینوں دہشت گرد مارے گئے۔‘
’ابتدا میں صرف شبہ تھا کہ وہاں موجود افراد ہی اس واقعے میں ملوث ہیں۔ اس سے قبل این آئی اے نے پہلے ہی ان لوگوں کو گرفتار کر لیا تھا جنھوں نے انھیں پناہ دی تھی اور جنھوں نے انھیں کھانا فراہم کیا تھا۔‘
’ہم نے جلدی نہیں کی۔ دہشت گردی کے مقام سے برآمد ہونے والے کارتوس کی ایف ایس ایل رپورٹ ہم پہلے ہی تیار کر چکے تھے۔ کل جب یہ تینوں دہشت گرد مارے گئے تو ان کی تین رائفلیں برآمد ہوئیں۔ برآمد ہونے والے کارتوس اُن ہی رائفلوں کے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس جامع تفتیش کے دوران 1055 افراد سے 3000 گھنٹے سے زائد پوچھ گچھ کی گئی جس کی بنیاد پر ایک خاکہ ترتیب دیا گیا۔
’تفتیش کے دوران دو ایسے افراد کی شناخت ہوئی جنھوں نے دہشت گردوں کو پناہ دی تھی۔ انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ فی الحال حراست میں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے سابق چیف جسٹس جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ نے سپریم کورٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست میں دائر کر دی ہے۔
ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین کے توسط سے جمع کروائی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے سات مئی کو ملٹری کورٹس سے متعلق کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو 45 روز کے اندر فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کو اپیل کا حق دینے کی ہدایت کی تھی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود حکومت نے 45 دن مکمل ہونے کے بعد بھی کوئی قانون سازی نہیں کی اور حکومت کا یہ اقدام توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔
جسٹس خواجہ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ کے مختلف گاؤں میں عسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے پیشِ نظر تین دن کیلئے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
باجوڑ کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تحصیل لوئی ماموند کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کے پیش نظر 29 جولائی سے 31 جولائی تک صبح پانچ بجے سے لیکر شام 5 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔
ڈپٹی کمشنر باجوڑ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کرفیو کی سفارش ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کوآرڈینیشن نے کی تھی۔
جن علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے اس میں بادِ سیاہ، ترخو، اِرب، گاٹ، آگرا، خرچائی، دواگئی، کالان، لغارئی، کِٹکوٹ، گِلئی، نختر، زرئی، دمبرال، امانتا اور زگائی شامل ہیں۔
دوسری جانب، علاقے میں صبح سے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازیں جاری ہیں۔
پاکستان کی سپریم کورٹ نے نو مئی شی متعلق مقدمات میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت بارہ اگست تک ملتوی کر دی ہے۔
منگل کے روز چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نو مئی مقدمات میں عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
دوران سماعت عمران خان کے مقدمات کی پیروی کرنے والے مرکزی وکیل سلمان صفدر بیرون ملک ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔
سابق وزیرِ اعظم کی جانب سے سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ سلمان صفدر نے التوا کی درخواست دی ہے۔ انھوں نے استدا کی کہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے اگلے ہفتے کی تاریخ دے دی جائے۔
عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت بارہ اگست تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے نو مئی سے متعلق آٹھ مقدمات میں سابق وزیرِ اعظم کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی تھیں، جس کے بعد بانی پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کی حکومت نے اعلان کیا ہے ملک بھر میں تین سال سے کم عمر ہر بچے کے والدین کو سالانہ 3,600 یوآن (500 ڈالرز) دیے جائیں گے۔
بظاہر اس حکومتی فیصلے کا مقصد ملک کی گرتی ہوئی شرح پیدائش کو بڑھانا ہے۔
10 برس قبل چین کی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے متنازع ایک خاندان، ایک بچہ پالیسی ختم کیے جانے کے باوجود شرح پیدائش میں بدستور کمی واقع ہو رہی ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق، اس حکومتی امداد کے نتیجے میں تقریباً دو کروڑ خاندانوں کو بچوں کی پرورش میں مدد ملے گی۔
سوموار کے روز اعلان کردہ پالیسی کے مطابق، چینی حکومت اپنے شہریوں کو ہر بچے کی پرورش کے لیے تقریباً 10 ہزار 800 یوآن (1500 ڈالرز) فراہم کرے گی۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق، اس پالیسی کا اطلاق 2025 کے آغاز سے ہوگا۔
وہ خاندان جن میں 2022 سے 2024 کے درمیان بچوں کی پیدائش ہوئی ہے وہ بھی جزوی مالی معاونت کے لیے درخواست دے سکیں گے۔
کچھ صوبوں میں پہلے ہی لوگوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کے لیے مالی معاونت کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
رواں سال مارچ میں شمالی چین کے شہر ہوہوٹ کے حکام نے ایسے جوڑوں کو ایک لاکھ یوان دینے کا اعلان کیا تھا جن کے کم از کم تین بچے ہیں۔
اسی طرح شن یانگ شہر میں ہر اس خاندان کو 500 یوان ماہانہ ینے کا اعلان کیا گیا ہے جن کے تیسرا بچے کی عمر تین سال سے کم ہے۔
چین میں قائم یووا پاپولیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایک تحقیق کے مطابق، چین بچے پیدا کرنے کے لیے دنیا کی مہنگی ترین جگہوں میں شامل ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ چین میں 17 سال کی عمر تک بچے کی پرورش پر اوسطاً 75,700 ڈالر خرچ آتا ہے۔
جنوری میں جاری سرکاری اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 2024 میں چین کی آبادی میں مسلسل تیسرے سال کمی واقع ہوئی ہے۔
قومی ادارہ شماریات کے مطابق، چین میں 2024 میں 95 لاکھ سے زائد بچے پیدا ہوئے۔
چین کی 1.4 ارب آبادی تیزی سے بوڑھی ہو رہی ہے جس سے بیجنگ کے آبادیاتی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ غزہ میں ’بھوک حقیقی‘ ہے۔
سکاٹ لینڈ میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے بیان سے متفق ہیں اسرئیل پر غزہ میں بھوک کو ہوا دینے کا الزام جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ امریکی صدر نے جواب دیا، ’مجھے نہیں معلوم۔۔۔ وہ بچے بہت بھوکے لگ رہے تھے۔۔۔ یہ حقیقی بھوک لگ رہی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ، ’وہاں پر کسی نے کوئی اچھا کام نہیں کیا، پوری جگہ برباد ہے... میں نے اسرائیل سے کہا کہ شاید انھیں اسے کسی اور طریقے سے کرنا چاہیے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے سربراہ ٹام فلیچر کا کہنا کہ غزہ میں لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لیے ’بڑی مقدار‘ میں خوراک کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جارحیت دہرائی گئی تو ایسا جواب دیا جائے گا جسے چھپانا ممکن نہ ہو گا۔
سوموار کی رات اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کو بخوبی معلوم ہے کہ حالیہ امریکی-اسرائیلی جارحیت کے دوران ہمیں اور ہمارے مخالفین کو کتنا نقصان ہوا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو ان نقصانات کا بھی علم ہے جنھیں اب تک چھپایا جا رہا ہے۔
عراقچی کا کہنا ہے، ’اگر جارحیت دہرائی گئی، تو ہم زیادہ فیصلہ کن انداز میں اور ایسا ردعمل دینے سے نہیں ہچکچائیں گے جس کو چھپانا بھی ممکن نہ ہو گا۔‘
خیال رہے کہ اس سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر نے سکاٹ لینڈ میں برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے اچھے اشارے نہیں مل رہے اور اگر ایران نے دوبارہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ ’بخوشی‘ ایران پر دوبارہ حملہ کر دیں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا، ’وہ بہت برے سگنل بھیج رہے ہیں، بہت گندے سگنل۔ اور انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے... ہم نے ان کی جوہری صلاحیت کو تباہ کر دیا۔ وہ دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ اگر انھوں ایسا کیا تو ہم انھیں چٹکی بجانے سے بھی کم وقت میں تباہ کر دیں گے۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ’بخوشی‘ ایسا حملہ کریں گے۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایک ایسا ملک کے لیے جسے حال ہی میں تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ بہت برے سگنل بھیج رہے ہیں۔
’انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ وہ ایسی چیزوں کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں جن کے بارے میں انھیں بات نہیں کرنی چاہیے۔‘