یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
24 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اکتوبر 2024 کے آخری ہفتے میں جب پاکستان کی پارلیمان نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تو اُس موقع پر جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ’دینی حلقوں کے دو اہم مطالبات‘ پارلیمان سے منظور کروانے پر ملک کے متعدد مذہبی حلقوں اور گروہوں کی جانب سے تحسین پیش کی گئی۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
24 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
جنوبی کوریا طیارہ حادثے میں بچ جانے والے جیجو ایئر لائن کے ایک فلائیٹ اٹینڈنٹ نے ڈاکٹروں کو بتایا ہے کہ جب انھیں ہوش آیا تب تک انھیں ملبے سے نکال لیا گیا تھا۔
اس حادثے میں مسافر اور عملے کے چار ارکان سمیت 179 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس حادثے کے بعد دو فلائیٹ اٹینڈنٹس کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا تھا۔
بچ جانے والے 33 سالہ فلائیٹ اٹینڈنٹ کو پہلے ایئر پورٹ سے 25 کلومیٹر دور موکپو شہر میں ایک ہسپتال لے جایا گیا تاہم بعد میں انھیں دارالحکومت سیول کے ایوا ویمن یونیورسٹی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ہسپتال کے ڈائریکٹر جو وونگ نے جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ کو بتایا فلائیٹ اٹینڈنٹ مکمل طور پر بات چیت کرنے کے قابل ہے۔
’فی الحال ایسے کوئی آثار نہیں کہ ان کی یادداشت پر کوئی اثر پڑا ہو۔‘
خبر رساں ادارے کے مطابق حادثے میں ان کی ہڈیاں ٹوٹی ہیں اور فالج کے خدشے کے باعث ان کی خصوصی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔
اتوار کے روز موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جیجو ایئر لائن کی پرواز کو پیش آنے والا حادثہ جنوبی کوریا کی سرزمین پر ہونے والا سب سے زیادہ ہلاکت خیز طیارہ حادثہ کہا جا رہا ہے۔
جیجو ایئر جو کہ 2005 سے خدمات مہیا کرتی آئی ہے یہ اس کا پہلا طیارہ حادثہ ہے۔
جیجو ایئر ملک کی قدرِ سستی ایئر لائن کے طور پر کافی مشہور ہے۔ اس کی پروازیں جنوبی کوریا کے علاوہ ایشیا بشمول جاپان، چین، فلپائن اور تھائی لینڈ تک جاتی ہیں۔
حادثے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ان کی ایئر لائن کے کسی طیارے کو کبھی کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے معافی بھی مانگی۔
طیارے کے بلیک باکس مل گئے، ڈی کوڈ ہونے میں ایک ماہ کا وقت لگ سکتا ہے
جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں بلیک باکس – فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر – مل گئے ہیں۔
تاہم جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ وائس ریکارڈر صحیح حالت میں دکھتا ہے۔
ایک تفتیش کار نے ایجنسی کو بتایا ہے کہ بلیک باکس کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے اسے ڈی کوڈ کرنے میں ایک ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
جنوبی کوریا کے جیجو ایئر لائن کے طارے کو پیش آنے والے حادثے میں 179 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جس میں 175 مسافروں اور عملے کے چار ارکان شامل ہیں۔
طیارے میں کل 181 افراد سوار تھے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران دو فلائیٹ اٹینڈنٹ کو زندہ نکال لیا گیا تھا۔
جنوبی کوریا کے مقامی میڈیا کے مطابق حادثے سے قبل طیارے پر سوار ایک مسافر نے اپنے گھر کے ایک فرد کو ٹیکسٹ پیغام بھیجا کہ جہاز کے پر میں ایک پرندہ پھنسا ہوا ہے جس کی وجہ سے طیارہ لینڈ نہیں کر پا رہا ہے۔
انھوں نے پیغام میں مزید لکھا کہ کیا مجھے اپنا آخری پیغام دے دینا چاہیے۔
ان کے رشتے دار کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ان کا دوبارہ رابطہ نہیں ہو سکا۔
ہوابازی کے ماہر: ’امکان ہے پرندے کے ٹکرانے سے دائیاں انجن متاثر ہوا‘
ہوابازی کے ماہر جیفری تھامس کہتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے طیارے سے کوئی پرندہ ٹکرایا تھا جس کے نتیجے میں جہاز کا ایک انجن (دائیاں انجن) متاثر ہوا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس خرابی کے نتیجے میں کاک پٹ میں کافی دباؤ پیدا ہو گیا ہو گا اور ایسا عین ممکن ہے کہ ان تمام حالات کے چلتے پائلٹ شاید لینڈنگ گیئر نیچے کرنا ہی بھول گیا ہو۔
تھامس کے مطابق سال کے اس وقت موان ایئر پورٹ کے نزدیک کافی پرندے موجود ہوتے ہیں ۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر پائلٹ کسی وجہ سے لینڈنگ کے دوران پہیے نیچے کرنا بھول جائے تو کاک پٹ میں ایک الارم میں بجتا ہے۔
تھامس کہتے ہیں کہ کسی تکنیکی خرابی کے باعث اگر طیارے کے پہیے نہیں کھلتے تو انھیں مینیوئلی بھی کھولا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فی الحال ہمیں یہ نہیں معلوم کہ کہیں انجن کی حالت اتنی خراب تو نہیں تھی کہ پائلٹ کو لگا کہ ان کے پاس یہ سب کرنے کا وقت نہیں ہے۔
’جو بھی ہے انھوں نے ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہوگا اور فائر بریگیڈ کو رن وے کے پاس موجود ہونا چاہیے تھا۔‘
ان کے مطابق ایسے حالات میں رن وے پر فوم بھی بچھایا جا سکتا تھا۔
تھامس کا مزید کہنا تھا کہ عام طور جنوبی کوریا کی ایئر لائنز کو کافی اچھا مانا جاتا ہے اور جیجو ایئر لائن اور حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا سابقہ ریکارڈ کافی اچھا تھا۔
تاہم ان کے مطابق اس حادثے کے کئی پہلو سمجھ سے بالاتر ہیں۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سوسائیٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024 پر دستخط کر دیئے ہیں جس کے بعد مدارس کی رجسٹریشن کا بل قانون بن گیا ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ کی انتظامیہ کی جانب سے اس قانون کا گزیٹ جاری کرنے کے لیے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کو خط لکھا جا چکا ہے۔
اکتوبر 2024 کے آخری ہفتے میں جب پاکستان کی پارلیمان نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تو اُس موقع پر جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ’دینی حلقوں کے دو اہم مطالبات‘ پارلیمان سے منظور کروانے پر ملک کے متعدد مذہبی حلقوں اور گروہوں کی جانب سے تحسین پیش کی گئی۔
اُن دو مطالبات میں ایک تو پاکستان سے سود کے نظام کا بتدریج خاتمہ تھا جبکہ دوسرا اہم مطالبہ ملک میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو محکمہ تعلیم کی بجائے پرانے سوسائیٹیز ایکٹ 1860کے ماتحت لانا تھا۔
تاہم دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل (سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024) جب پارلیمان سے منظوری کے بعد فائنل منظوری کے لیے ایوانِ صدر پہنچا تو صدر آصف علی زرداری نے اس کے مسودے پر اعتراض لگا کر اسے واپس پارلیمان کو بھیج دیا۔
تاہم 20 دسمبر مولانا فضل الرحمان اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جی یو آئی ایف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت قانون کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ آئین اور قانون کے مطابق فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائیں۔‘
جنوبی کوریا میں جیجو ایئر کے مسافر طیارے کے حادثے میں اب تک 177 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے.
تھائی لینڈ کے بینکاک ایئر پورٹ سے اڑان بھرنے والے بوئنگ 800-737 مسافر طیارے میں عملے کے چھ ارکان سمیت 181 افراد سوار تھے۔
جائے وقوعہ پر موجود بی بی سی کی نامہ نگار جین میکنزی کے مطابق حکام کو خدشہ ہے کہ حادثے میں تمام 175 مسافروں کی ہلاکت ہو گئی ہے۔
ریسکیو آپریشن کے دوران ملبے سے اب تک دو افراد کو زندہ نکال کر ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ بچ جانے والے دونوں فلائیٹ اٹینڈنٹ ہیں جو کہ جہاز کی پچھلی جانب بیٹھے ہوئے تھے۔
جہاز کی منزل جنوبی کوریا کے جنوب مغرب میں واقع موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ تھا۔
آن لائن شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لینڈنگ کے دوران جہاز رن وے سے پھسل کر دیوار سے جا ٹکرایا۔
جنوبی کوریا کے ٹرانسپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ لینڈ کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن تب ہی ائیر ٹریفک کنٹرول کی جانب سے پرندوں کے ٹکرانے کی وارننگ جاری کی گئی جس کی وجہ سے پائلٹ کو لینڈنگ مؤخر کرنی پڑی۔
اہلکار کے مطابق تقریباً دو منٹ بعد ہی پائلٹ نے مے ڈے کال دی اور ایئر ٹریفک کمانڈ نے طیارے کو مخالف سمت سے اترنے کی اجازت دے دی جسے پائلٹ نے منظور کر لیا۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لینڈنگ کے دوران جہاز کا لینڈنگ گیئر اور پہیے نہیں کھلے اور جہاز پھسلتا ہوا دیوار سے جا ٹکرایا جس کے بعد ایک زوردار دھماکہ ہوا۔
جنوبی کوریا میں طیارے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 160 سے تجاوز کر گئی ہے، مسافر جہاز میں سوار 181 افراد میں سے اب تک دو افراد کے زندہ بچ جانے کی اطلاعات ہیں۔
جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ کی رپورٹ کے مطابق حادثے کی وجہ تو اب تک معلوم نہیں ہو سکی ہے تاہم اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ موسم کی خرابی یا شاید کوئی پرندہ جہاز سے ٹکریا ہے جس کی وجہ سے لینڈنگ گیئر میں خرابی ہوئی اور حادثہ پیش آیا۔
جنوبی کوریا میں جیجو ائیر کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے سے متعلق نیشنل فائر ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس نے حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 151 ہو گئی ہے۔
ہلاک ہونے والے 151 افراد سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ اب تک ان میں سے 54 مرد اور 57 خواتین کی شناخت ہو پائی ہے۔ مزید 13 لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
جنوبی کوریا کہ قائم مقام صدر چوئی سانگ موک نے موان میں جائے حادثہ پر خصوصی ڈیزاسٹر زون کا اعلان کیا ہے۔
صدر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں چوئی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں سنگین صورتحال کا سامنا ہے جہاں آج صبح موان ہوائی اڈے کے رن وے سے ایک طیارے کے گرنے کے بعد بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مُجھے اس حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں پر گہرا دُکھ اور صدمہ پہنچا ہے۔‘ انھوں نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے بھی تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔‘
ایجنسی کے مطابق امدادی ٹیموں کے 1،562 اہلکار جائے حادثہ پر موجود ہیں جن میں آگ بجھانے والے عملے کے 490 اہلکار اور 455 پولیس افسران شامل ہیں۔
اس حادثے کو جنوبی کوریا کی تاریخ کے مہلک فضائی حادثات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس سے قبل 2002 میں ایئر چائنا کا جہاز حادثے کا شکار ہوا تھا جس میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ کی رپورٹ کے مطابق حادثے کی وجہ تو اب تک معلوم نہیں ہو سکی ہے تاہم اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ موسم کی خرابی یا شاید کوئی پرندہ جہاز سے ٹکریا ہے جس کی وجہ سے لینڈنگ گیئر میں خرابی ہوئی اور حادثہ پیش آیا۔
جیجو ائیر کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
جیجو ایئر کا دعویٰ ہے کہ وہ جنوبی کوریا کی قدرِ سستی ایئر لائن ہے۔ اس ایئر لائن نے سنہ 2005 میں اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا اور اس کے ملازمین کی تعداد تقریباً 3،000 ہے۔
جیجو ایئر لائینز کی پروازیں جنوبی کوریا کے علاوہ ایشیا بشمول جاپان، چین، فلپائن اور تھائی لینڈ تک جاتی ہیں۔
جنوری 2024 تک جیجو ایئر لائن کے پاس 42 طیارے تھے جن کی مدد سے اس کی پروازیں 44 شہروں تک جاتی ہیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کُرم میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اس علاقے کو مُلک کے دیگر حصوں سے ملانے والی اہم ترین شاہراہ تقریباً دو ماہ سے بند ہے جسے تاحال آمدورفت کے لیے نہیں کھولا جا سکا۔
کُرم کے حالات اور اہم شاہراہ کی بندش کے خلاف ایک مذہبی جماعت کی جانب سے ملک کے بڑے شہروں میں دھرے کی کال دی گئی جس کے بعد کراچی، اسلام آباد اور کوئٹہ سمیت ملک کے کئی شہروں میں متعدد مقامات پر دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔
گذشتہ روز کرم کی صورتحال پر ہونے والا جرگہ بھی بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔ کمشنر کوہاٹ کے مطابق ’ایک فریق اہل تشیع کو قومی مشران کے پاس اسلحہ جمع کروانے پر اعتراض ہے جبکہ دوسرے فریق اہلسنت نے دو دن کا وقت مانگا ہے۔‘
کمشنر کوہاٹ کے مطابق ’جرگہ دوبارہ 31 دسمبر کو ہو گا۔ پائیدار معاہدہ کے لیے دونوں فریقین کا متفق ہونا لازمی ہے۔ معاہدہ نہیں ہوتا اور اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے مطابق اسلحہ جمع نہیں ہوتا تو روڈ کھولنا ممکن نہیں ہے۔‘
یاد رہے خیبر پختونخوا کے ضلع کُرم میں فرقہ وارنہ فسادات میں ناصرف 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں بلکہ نہ ختم ہونے والی کشیدگی کے باعث کُرم کے صدر مقام پاڑہ چنار جانے والی رابطہ سڑکیں بند ہیں جس کی وجہ سے اس علاقے میں ادویات، خوراک اور اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا بھی ہے۔
واضح رہے ضلع کُرم میں فرقہ وارانہ فسادات کی نئی لہر رواں برس اکتوبر میں اُس وقت شروع ہوئی تھی جب سُنّی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے قافلے پر ہونے والے ایک حملے میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد اسی طرز کا ایک حملہ شیعہ مکتبہ فکرِ سے تعلق رکھنے والے افراد کی گاڑیوں کے قافلے پر ہوا تھا جس میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔
ان حملوں کے بعد اردگرد کے متعدد گاؤں میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے جن میں کئی افراد اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
جنوبی کوریا کے ایک ہوائی اڈے پر 181 افراد کو لے جانے والا طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 120 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق طیارہ ملک کے جنوب مغرب میں واقع موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے سے پھسل کر دیوار سے جا ٹکرایا۔
اس حادثے کے بعد موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سے اندرونِ مُلک اور بیرونِ مُلک جانے والی تمام تر پروازوں کو منسوح کر دیا گیا ہے۔
طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس حادثے کے بعد جنوبی کوریا کی کمپنی جیجو ایئر سے رابطے میں ہے۔
جیجو ایئر کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا بوئنگ طیارہ 737-800 تھا۔
اطلاعات کے مطابق جیجو ایئر کا طیارہ تھائی لینڈ کے شہر بنکاک سے واپس جا رہا تھا اور لینڈنگ کے دوران حادثہ پیش آیا۔
جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق ریسکیو آپریشن جاری ہے جس میں دو شخص زندہ ملے ہیں۔
ہوائی اڈے کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امدادی کارروائی میں مصروف اہلکار طیارے کے عقبی حصے میں موجود مسافروں کو بچانے کی کوشش میں اب بھی مصروف ہیں۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز قزاقستان میں آذربائیجان ایئرلائنز کی پرواز گِر کر تباہ ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں 38 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔
یونہاپ کی رپورٹ کے مطابق حادثے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید کوئی پرندہ جہاز سے ٹکریا ہے جس کی وجہ سے لینڈنگ گیئر میں خرابی ہوئی اور حادثہ پیش آیا۔
افغانستان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ڈیورنڈ لائن کے اُس پار، یعنی پاکستان میں اہداف پر جوابی حملے کیے ہیں۔
طالبان کی وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے بی بی سی پشتو کو بتایا ہے کہ ’شرپسند عناصر اور ان کے حامیوں کے مراکز اور ٹھکانے، جہاں سے افغانستان کے خلاف حملوں کی تیاری کی جا رہی تھی کو جوابی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ یہ جوابی کارروائی کس نوعیت کی تھی اور اس سے کیا نقصان ہوا۔
پاکستان کی فوج اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی ردِ عمل نہیں آیا ہے اور بی بی سی کی جانب سے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کے باوجود کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کو افغانستان کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستان کی فوج نے افغان صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں 'فضائی حدود' کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جس کے بعد جمعرات کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی کہ ’پاکستانی شہریوں کی سلامتی کو لاحق خطرات کی بنیاد پر پاکستان افغانستان سرحد سے متصل علاقوں‘ میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا گیا۔‘
٭ پاکستان کی افغانستان کے سرحدی علاقوں میں ’عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلیجنس پر مبنی کارروائی‘ کی تصدیق
اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے تصدیق کی تھی کہ ’پاکستان اپنے عوام کے لیے متحد ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں آپریشن کیا ہے۔‘
ممتاز زہرہ بلوچ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’انٹیلیجنس پر مبنی آپریشن پاکستان کی طرف سے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کیا گیا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی ’پاکستانی شہریوں کی سلامتی کو لاحق خطرات کی بنیاد‘ پر کی گئی۔
افغان طالبان حکومت نے اس ’فضائی کارروائی‘ پر اسلام آباد سے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا تھا اور اور خبردار کیا تھا کہ افغانستان کی علاقائی خودمختاری حکمران اسلامی امارت کے لیے سرخ لکیر ہے اور وہ اس کا جواب دے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ کچھ عرصے سے تعلقات میں تناؤ ہے اور اسلام آباد نے بار بار کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی کرے جو افغان سرزمین کو پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے انسانی سمگلنگ کے معاملے میں مبینہ طور پر ملک بھر سے 31 افسران و اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق تمام 31 افسران یونان کشتی حادثے میں ملوث پائے گئے ہیں۔
ایف ائی اے کے ان 31 افسران کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان اہلکاروں میں فیصل اباد ایئرپورٹ کے 19، سیالکوٹ ایئرپورٹ کے تین اور لاہور ایئرپورٹ کے دو افسران شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ان اہلکاروں میں اسلام اباد ایئرپورٹ کے دو جبکہ کوئٹہ ایئرپورٹ کے پانچ افسران کے نام شامل ہیں اور ان میں انسپیکٹر سب انسپیکٹر کانسٹیبل شامل ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان سے غیرقانونی تارکین وطن کشتیوں پر سوار ہو کر یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران یونان میں پیش آنے والے حادثے کا شکار ہو گئے تھے جس میں پانچ پاکستانی شہری ہلاک ہوئے۔
یونان میں موجود سفارتخانے کے حکام کے مطابق فی الحال پانچ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 47 پاکستانی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا جنھیں یونان کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اگرچہ اس حادثے کے دوران لاپتہ ہونے والی پاکستانی شہریوں کی اصل تعداد کا تو علم نہیں تاہم یہ درجنوں میں ہو سکتے ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے گذشتہ ہفتے یونان کشتی حادثے میں ملوث تین انسانی سمگلروں کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے مبینہ طور پر غفلت برتنے پر ایف آئی اے کے دو افسران کو گرفتار کیا تھا۔
ایف آئی اے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل فیصل آباد نے بڑی کارروائی کی ہے اور یونان کشتی حادثے میں متاثر ہونے والے پاکستانیوں کو بیرون ملک بھیجنے کا جھانسے دینے میں ملوث 3 انسانی سمگلروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
سنہ 2023 میں یونان کے اسی علاقے میں غیرقانونی تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں 262 پاکستانی شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی جس کے بعد ملک بھر میں ایسے ایجنٹس کے خلاف بھرپور کارروائی کا وعدہ کیا گیا تھا جو انسانی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے داغے گئے ایک میزائل حملے کو فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایک جدید امریکی اینٹی میزائل سسٹم کے ذریعے اس حملے کو روکا ہے جو اکتوبر میں امریکی صدر جو بائیڈن نے منظور کیا تھا۔ پینٹاگون نے ابھی تک اس پر تبصرہ نہیں کیا۔
اس سے قبل حوثی باغیوں کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے جمعے کو کہا تھا کہ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل پر حملے جاری رکھے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے ’اس وقت تک نہیں رُکیں گے جب تک فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے جرائم اور غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا۔‘
جمعے کو یمنی دارالحکومت صنعا پر اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے تھے۔ صنعا پر ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کا کنٹرول ہے۔ اس نے اس حملے پر امریکہ اور برطانیہ پر الزام لگایا ہے۔
البخیتی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب سے حوثیوں نے 2015 کے دوران صنعا پر قبضہ کیا، یمنی اس وقت سے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے ساتھ ’براہ راست تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں‘۔ وہ یمنی حکومت کی حمایت میں سعودی زیرِ قیادت اتحاد کی مداخلت کا حوالہ دے رہے تھے۔
البخیتی کا ہے تھا کہ ’جنگ یمن کے لوگوں کو متحد کرتی ہے۔‘
صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اسرائیلی بمباری کے ایک دن بعد وہاں شہری اہداف پر حملہ کیا گیا۔
انھوں نے بی بی سی کو مزید کہا کہ بندرگاہیں اور ہوائی اڈے یمن میں امدادی سرگرمیوں کے لیے اہم شریانیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یمن میں حوثی تحریک کئی مہینوں سے اسرائیل پر حملے کر رہی ہے۔
ان کے بیان پر اسرائیل، امریکہ یا برطانیہ نے تاحال تبصرہ نہیں کیا۔
شمالی غزہ کے آخری فعال ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے زبردستی اسے خالی کرا لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مرکز کے قریب اسرائیلی فضائی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
کمال عدوان ہسپتال میں نرسنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ عید صباح نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعے کی صبح سات بجے اسرائیلی فوج نے انتظامیہ کو ہسپتال سے مریضوں اور عملے کو نکالنے کے لیے 15 منٹ دیے۔
ان کے مطابق اس کے بعد فوجی دستے ہسپتال داخل ہوئے اور بقیہ مریضوں کو وہاں سے نکال دیا۔
اسرائیلی فوج نے جمعے کی شام کہا کہ اس علاقے میں آپریشن کیا گیا ہے جو ’حماس کا گڑھ ہے۔‘
اس کے مطابق فوجی دستوں نے ’شہریوں، مریضوں اور طبی حملے کے محفوظ انخلا میں سہولت دی۔‘
اسرائیلی فوج نے اس بارے میں نہیں بتایا کہ مریضوں کو کہاں منتقل کیا گیا ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کمال عدوان ہسپتال کے مریضوں کو قریبی انڈونیشین ہسپتال منتقل کرنا چاہتی ہے۔ مگر منگل کو اُس ہسپتال کو بھی خالی کرایا گیا تھا۔
صباح کا کہنا ہے کہ ’یہ خطرناک ہے کیونکہ وہاں انتہائی نگہداشت وارڈ میں بھی مریض ہیں جو کوما میں ہیں۔ انھیں وینٹیلیشن مشینوں کی ضرورت ہے اور منتقل کرنے سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔‘
’اگر فوج مریضوں کو منتقل کرنا چاہتی ہے تو انھیں خصوصی گاڑیاں درکار ہوں گی۔‘
غزہ میں نائب وزیر صحت ڈاکٹر یوسف ابو الریش نے بعد ازاں بی بی سی کو بتایا کہ وہ مریض جو تشویشناک حالت میں ہیں انھیں انڈونیشیا کے غیر فعال ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں جنریٹر اور پانی کی عدم موجودگی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آپ اسے ہسپتال نہیں کہہ سکتے۔ یہ ایک پناہ گاہ ہے۔ یہاں مریضوں کے لیے سہولیات نہیں۔‘
عالمی ادارۂ صحت نے کہا کہ اس کارروائی کے باعث شمالی غزہ کا آخری ہسپتال غیر فعال ہوچکا ہے۔ ایکس پر پیغام میں اس کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی اطلاعات سے پتا لگا ہے کہ کئی اہم محکموں کو نذر آتش اور تباہ کیا گیا۔‘
دوسری طرف اسرائیلی فوج کے ترجمان نے جمعے کو کہا کہ ہسپتال کے اندر آگ بھڑک اٹھی تھی مگر اب صورتحال کنٹرول میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی ہسپتال کے اندر موجود نہیں اور ’ابتدائی جائزے کے مطابق اسرائیلی فوج کی کارروائی اور آگ لگنے میں کوئی تعلق نہیں۔‘
کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر نے اس سے کچھ گھنٹے پہلے کہا تھا کہ ہسپتال کے آس پاس کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں تقریباً 50 افراد مارے گئے ہیں جن میں پانچ طبی عملے میں شامل تھے۔
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ہسپتال کے قریب ایک عمارت کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک ماہر اطفال اور ایک لیب ٹیکنیشن کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ بھی ہلاک ہوئے۔
انھوں نے کہا کہ ایک تیسرے سٹاف ممبر، جو مینٹیننس ٹیکنیشن کے طور پر کام کرتے تھے، کو نشانہ بنایا گیا اور اسے اس وقت ہلاک کر دیا گیا جب وہ پہلے حملے کے مقام پر پہنچا۔
ان کے مطابق ہسپتال کے دو پیرامیڈیکس ہسپتال سے 500 میٹر (1,640 فٹ) دور تھے جب انھیں ایک اور حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور ہلاک کر دیا گیا جبکہ ان کی لاشیں گلی میں پڑی تھیں اور کوئی بھی ان تک پہنچنے کے قابل نہیں تھا۔
اسرائیلی فوج نے جمعے کی صبح کہا کہ وہ ’کمال عدوان ہسپتال کے علاقے میں ہونے والے حملوں سے لاعلم ہے‘۔
اسرائیلی فوج نے اکتوبر سے کمال عدوان ہسپتال سمیت بیت لاہیا کے علاقے میں سختیاں کر رکھی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حماس کو وہاں دوبارہ منظم ہونے سے روکنے کے لیے کارروائی شروع کی گئی۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یہ علاقہ ’تقریباً مکمل محاصرے‘ میں ہے کیونکہ اسرائیلی فوج نے ایسے علاقے تک امداد کی ترسیل پر پابندی لگا دی ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق 10,000 سے 15,000 افراد رہ گئے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ہسپتال انتظامیہ نے تحفظ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ متعدد بار اسرائیلی گولہ باری اور دھماکہ خیز مواد کا نشانہ بن چکا ہے۔
آکسفیم نے کہا ہے کہ امدادی ایجنسیوں کی طرف سے اکتوبر سے علاقے میں سپلائی پہنچانے کی کوششیں اسرائیلی فوج کی طرف سے ’جان بوجھ کر تاخیر اور منظم رکاوٹوں‘ کی وجہ سے ناکام رہی ہیں۔
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا کہنا ہے کہ رواں برس غیرقانونی طور پر بیرونِ ملک پہنچنے کے خواہشمند 10 ہزار سے زائد پاکستانی شہری ایران میں گرفتار ہوئے ہیں۔
ایف آئی اے کے حکام کے مطابق رواں برس یکم جنوری سے 15 دسمبر تک 10 ہزار 454 پاکستانی شہریوں کو ایران میں گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ لوگ بلوچستان کے غیر روایتی راستوں کے زریعے ایران میں داخل ہوئے تھے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کو مختلف اوقات میں گرفتاری کے بعد ایرانی حکوت نے ضلع چاغی کے سرحدی شہر تفتان میں پاکستان کے حوالے کیا۔
بلوچستان کے راستےطویل عرصے سے پاکستانیوں کے علاوہ افغان شہری بھی بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپی ممالک جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم ان میں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایران میں گرفتار ہوجاتی ہے۔
ایف آئی اے کے حکام کے مطابق 2024 میں ایران میں2023 کے مقابلے میں گرفتاریوں کی شرح زیادہ رہی۔ سنہ 2023 میں ایران میں گرفتار ہونے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد 8 ہزار 272 تھی۔
ایف آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق 2020 سے 2024 تک پانچ سال کے دوران پاکستان سے غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہونے والے 62 ہزار سے زیادہ پاکستانی شہری گرفتار ہوئے۔
ایران میں گرفتار ہونے والے پاکستانی شہریوں میں سب سے زیادہ لوگوں کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔
بلوچستان کے پانچ اضلاع کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں جن میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔
پاکستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ان اضلاع میں پہنچتے ہیں جہاں سے انسانی سمگلر ان کو ایران لے جاتے ہیں اور وہاں سے ترکی کے راستے یونان پہنچاتے ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق ماضی میں کیچ اور گوادر سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد ایران میں داخل ہوتی تھی لیکن وہاں عسکریت پسندوں کے حملوں کے باعث اب زیادہ تر لوگ چاغی اور واشک کے راستے ایران میں داخل ہوتے ہیں۔
اس کوشش کے دوران جہاں لوگوں کی بڑی تعداد گرفتار ہوتی ہے وہاں راستے کی مشکلات کی وجہ سے متعدد لوگ زندگی کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔
پاکستانی فوج نے رواں برس نومبر میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے پُرتشدد احتجاج کو ’سیاسی دہشتگردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ احتجاج 2014 میں پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری اداروں کی عمارتوں اور 9 مئی کے پُرتشدد واقعات ’منفی سیاست اور تشدد کا سلسلہ‘ ہے۔
جمعے کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا ایک پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر اس کے احتجاج کو ’نومبر سازش‘ قرار دیا اور کہا کہ ’اس کے پیچھے سیاسی دہشتگردی کی سوچ تھی۔‘
اس پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی فوج کے ترجمان نے ملک بھر کی سکیورٹی صورتحال، سکیورٹی آپریشنز، سرحدی صورتحال اور صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سیاسی سوالات کے بھی جوابات دیے۔
مئی کے پُرتشدد احتجاج کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں ’ثبوت اور شواہد کے مطابق وہ تمام لوگ جو ہنگامہ آرائی میں ملوث تھے ان کو سزائیں سنانے کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔‘
’9 مئی کے بارے میں جو افواجِ پاکستان کا نقطہ نظر ہے وہ انتہائی واضح ہے۔ یہ افواجِ پاکستان کا مقدمہ نہیں ہے بلکہ عوام کا مقدمہ ہے۔ اگر کوئی مسلح گروہ اور پُرتشدد گروہ اپنی مرضی سے اپنی سوچ مسلط کرنا چاہے اور اسے آئین کے مطابق نہ روکا جائے تو پھر ہم اس معاشرے کو کہاں لے کر جا رہے ہیں؟‘
لیفٹینٹ جنرل احمد شریف چودھری کا مزید کہنا تھا کہ انسدادِ دہشتگردی کی عدالتوں میں بھی جو 9 مئی سے متعلق مقدمات ہیں انھیں اپنے منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے اور اس سے ’جڑے منصوبہ سازوں اور گھناؤنے کرداروں‘ کو بھی سزا ملنی چاہیے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس ’منفی سیاست‘ کو گنجائش ’فیک نیوز‘ کے سبب مل رہی ہے اور اس کی واضح مثال 9 مئی کو ’فالس فلیگ آپریشن‘ قرار دینا یا اس کا ذمہ دار فوج اور دیگر اداروں کو قرار دینا ہے۔
سنہ 2024 میں 925 دہشتگرد ہلاک ہوئے: ڈی جی آئی ایس پی آر
پریس کانفرنس کی ابتدا میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے رواں سال ہونے والے سکیورٹی آپریشنز کے بارے میں بھی بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’رواں سال مجموعی طور پر سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کے خلاف مختلف نوعیت کے کامیاب 59 ہزار 775 انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیے۔‘
’ان کامیاب آپریشنز کے دوران 925 دہشتگرد بشمول فتنہ الخوارج کو ہلاک کیا گیا جبکہ سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گذشتہ پانچ برسوں میں سب سے زیادہ عسکریت پسند رواں برس مارے گئے جن میں 73 انتہائی مطلوب اور 27 افغان شدت پسند بھی شامل تھے۔
پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں عسکریت پسند ’معصوم لوگوں کی ذہن سازی کرکے ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کے لیے نوجوان بچے اور بچیوں کو استعمال کر رہے ہیں جو کہ ایک انتہائی شرمناک عمل ہے۔‘
پاکستانی فوج کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں آپریشنز کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 383 افسران اور اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
’افغانستان سے دہشتگرد گروہ پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں‘
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔
پاکستانی فوج کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے گذشتہ روز ’پاکستان افغانستان سرحد سے متصل علاقوں‘ میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کی تصدیق کی گئی تھی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ ’آرمی چیف واضح اور دو ٹوک مؤقف رکھتے ہیں کہ پاکستان کو کالعدم تنظیموں کے دستیاب پناہ گاہوں، سہولتکاری اور افغان سرزمین سے آزادانہ کارروائیوں پر تحفظات ہیں۔‘
’پاکستان دہشتگردوں کو نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور اپنے شہریوں کو ہر صورت میں تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔‘
پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سوال کے دوران کہا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان کی افغان پالیسی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔
اس سوال پر ردِ عمل دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان گذشتہ دو برسوں سے افغان عبوری حکومت سے بات چیت کر رہا ہے اور انھیں براہ راست بھی کہا گیا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔
انھوں نے سابق حکومت اور عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ ’جب 2021 میں دہشتگردوں کی کمر ٹوٹ گئی تھی، اس وقت بات چیت کے ذریعے کس نے انھیں دوبارہ آباد کروایا؟ اس سب کے نتائج ہم سب بھگت رہے ہیں۔‘
’ہمیں اس سے یہ بھی پتا چل رہا ہے کہ 2021 میں کس کی ضد تھی کہ ان (عسکریت پسندوں) سے بات کی جائے اور اس ضد کی قیمت پاکستان اور پورا خیبر پختونخوا ادا کر رہا ہے۔‘
پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی فوج کے ترجمان نے انڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کی جانب سے مشرقی سرحد پر خطرات کا ہمیں بخوبی ادراک ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ رواں برس انڈیا نے سیزفائر کی 25 خلاف ورزیاں کیں، 564 مرتبہ بلااشتعال فائرنگ اور 61 مرتبہ پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان سے نمٹنے کے معاملے پر ایک ٹھوس حکمت عملی بنائیں کیونکہ اس کالعدم جماعت کا افغان سرزمین سے آپریٹ کرنا پاکستان کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
جمعہ کی دوپہر وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’افغانستان ہمسایہ ملک ہے۔ افغانستان برادر ملک ہے جس کی ہمارے ساتھ ہزاروں کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ ہمارے ان کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ معاشی میدان میں کام کریں، مگر یہ بدقسمتی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان آج بھی وہاں سے آپریٹ کر رہی ہے اور پاکستان میں بے گناہ لوگوں کو شہید کر رہی ہے۔‘
وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے ایک سے زیادہ مرتبہ افغانستان کو پیغام دیا ہے کہ ایسا نہیں چل سکتا۔ ہم نے انھیں پیغام دیا ہے کہ ہم بہتر تعلق چاہتے ہیں مگر آپ ٹی ٹی پی کو مکمل ختم کریں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے لیے ایک ریڈ لائن ہے، ٹی ٹی پی کا وہاں سے آپریٹ کرنا کسی صورت میں پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور ہم پاکستان کی سالمیت کے تقاضوں کا پوری طرح دفاع کریں گے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’میں پھر افغان حکومت کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اس حوالے سے ایک ٹھوس حکمت عملی بنائیں اور اس پر پاکستان آپ سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اگر ایک طرف ہمیں یہ پیغام ملے کہ ہم تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں مگر دوسری طرف ٹی ٹی پی کو کُھلی چھٹی ہو تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔‘
پاڑہ چنار کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’وفاقی حکومت نے پاڑہ چنار کی عوام کو ہیلی سروس کے ذریعے ادویات فراہم کی ہیں جبکہ انھیں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے وہاں موجود مریضوں کو دیگر شہروں کے ہسپتالوں تک پہنچایا۔ ’ایک ہزار کلوگرام ادویات ہیلی کاپٹرز کے ذریعے پاڑہ چنار پہنچائی گئی ہیں۔‘
اسرائیل نے جمعرات کے روز یمن کے صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور حوثیوں سے تعلق رکھنے والے دیگر ’فوجی اہداف‘ کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ہلاک ہونے والے عام شہری تھے یا حوثی باغی۔
جس وقت صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا، اس وقت عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل بھی وہاں موجود تھے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھانوم گیبرائسس نے کہا ہے کہ ایئرپورٹ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک جہاز پر سوار ہونے والے تھے۔ تیدروس ادھانوم کے مطابق اس حملے کے بعد ان کے جہاز کے عملے کا ایک رکن زخمی ہوا جبکہ ایئرپورٹ پر دو افراد ہلاک ہو گئے۔
حوثی میڈیا کے مطابق اس بمباری میں پاور سٹیشنز اور بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔
اسرائیل کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے ان حملوں کو ’وحشیانہ‘ قرار دیا۔
کارروائی کے بعد اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے یمنی گروپ کو ’مشن کی تکمیل تک‘ نشانہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل ’تمام حوثی رہنماؤں کو نشانہ بنائے گا اور کوئی بھی بچ نہیں سکے گا۔‘
انڈیا کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ 92 برس کی عمر میں دہلی میں وفات پا گئے ہیں۔ جمعرات کے روز طبعیت کی خرابی کے بعد انھیں دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں داخل کرایا گیا تھا۔
من موہن سنگھ دو بار انڈیا کے وزیر اعظم رہے۔ وہ 2004 سے 2014 تک ملک کے وزیر اعظم رہے۔
تاہم اس سے قبل جب پی وی نرسمہا راؤ ملک کے وزیر اعظم تھے تو من موہن سنگھ 1991 سے 1996 تک ملک کے وزیر خزانہ بھی رہے۔