کراچی میں چینی شہریوں پر حملے کی مذمت کرتے ہیں: ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان میں چینی سفارتخانے اور قونصلیٹ جنرل کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ چھ اکتوبر کو رات 11 بجے کے قریب پورٹ قاسم اتھارٹی الیکٹرک پاور کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ سے چینی عملے کو لانے والے ایک قافلے پر کیے گئے حملے میں دو چینی شہری ہلاک، ایک زخمی ہوا ہے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔

خلاصہ

  • صوبائی دارالحکومت کراچی میں چینی شہریوں کو لے جانے والے کانوائے پر ہونے پر ایک حملے میں دو چینی شہری ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ہے، اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے
  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور لگ بھگ 24 گھنٹے ’لاپتہ‘ رہنے کے بعد پشاور پہنچ گئے ہیں جہاں اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ادارے اور سیاسی جماعتیں اپنی اصلاح کر لیں
  • اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ انھوں نے گذشتہ دو روز کے دوران 120 مبینہ افغان شہریوں سمیت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے 878 مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جبکہ انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت وفاقی دارالحکومت کے مختلف تھانوں میں مظاہرین کے خلاف 10 مقدمات درج کیے ہیں
  • وفاقی وزارتِ داخلہ نے پشتون تحفظ موومنٹ کو ملک میں امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس جماعت پر پابندی عائد کر دی ہے

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج ابھی جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کو جانیے کے لیے آپ اس لنک پر کلک کیجیئے

  2. کراچی میں چینی شہریوں پر حملے کی مذمت کرتے ہیں: ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے صوبائی دارالحکومت کراچی میں چینی شہریوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے پر چینی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے چین کے ساتھ ملکر کام کرنے کے پر عزم ہیں۔

    اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائی پاکستان اور چین کی پائیدار دوستی پر حملہ ہے، سکیورٹی فورسز دہشت گردوں، سہولت کاروں کو پکڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور حملے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا ملے گی۔

    یاد رہے کہ اتوار کی شب صوبائی دارالحکومت کراچی میں چینی شہریوں کو لے جانے والے کانوائے پر ہونے پر ایک حملے میں دو چینی شہری ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک چینی شہری سمیت 11 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ مجید بریگیڈ سمیت اس بزدلانہ حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ ’ہم چینی اور پاکستانی دونوں متاثرین کے خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جب کہ واقعے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہیں۔‘

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا، قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرموں اور ان کے سہولت کاروں کو منتقی انجام تک پہنچائیں گے۔

  3. پاکستان میں چینی باشندوں کو کب کب نشانہ بنایا گیا ہے؟

    پاکستان میں چینی باشندوں کی بڑی تعداد چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک منصوبوں میں کام کرنے کے لیے موجود ہے اور گدشتہ چند سالوں کے دوران ان پر حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

    اس سے قبل، رواں برس مارچ میں صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے شانگلہ کی تحصیل بشام میں چینی انجینیئرز کے قافلے کو داسو ڈیم کی طرف جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں پانچ چینی انجنییئر ہلاک ہوئے تھے۔

    اس حملے کے بعد چین کی جانب سے پاکستان پر ملک میں چینی باشندوں کی سکیورٹی یقینی بنانے پر زور دیا گیا تھا۔ رواں سال جون میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ’پاک چین مشاورتی میکانزم‘ نامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چین کے وزیر لیو جیان چاؤ نے پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو اندرونی استحکام اور بہتر سکیورٹی سے مشروط قرار دیا تھا۔

    اس کے فوراً بعد نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں ملکی سکیورٹی کی ذمہ داری صرف فوج پر ڈالنے کی بجائے صوبوں سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کی بات کی تھی اور اس اجلاس کے اعلامیے میں آپریشن عزم استحکام‘ کے آغاز کا اعلان کیا گیا تھا۔

    اس سے قبل جولائی 2021 کے دوران داسو ڈیم کے منصوبے پر کام کرنے والے نو چینی انجینیئرز سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    سنہ 2018 میں چینی قونصل خانے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں سات پاکستانی شہری ہلاک ہوئے تھے جبکہ سنہ 2022 میں کراچی یونیورسٹی کے احاطے میں چینی زبان کے مرکز کے قریب ایک خودکش حملے میں تین چینی اساتذہ سمیت کم از کم چار افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔

  4. کراچی حملے میں دو چینی باشندے ہلاک: ’اس بھیانک حملے میں ملوث افراد پاکستانی نہیں ہو سکتے‘، شہباز شریف

    shehbaz

    ،تصویر کا ذریعہX/CMShehbaz

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انھیں گذشتہ رات کراچی ایئرپورٹ کے قریب کانوائے پر ہونے والے حملے میں دو چینی شہریوں کی ہلاکت پر گہرا صدمہ اور دکھ ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں اس گھناؤنے عمل کی مذمت کرتا ہوں اور چینی رہنماؤں اور باشندوں سے افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس بھیانک حملے میں ملوث افراد پاکستانی نہیں ہو سکتے بلکہ یہ پاکستان کے دشمن ہیں۔ اس بارے میں فوری تحقیقات جاری ہیں تاکہ ان کی شناخت کرتے ہوئے انھیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جایا۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنے چینی دوستوں کی حفاظت کے لیے پرعظم ہے، ہم ان کی سلامتی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔

    دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے پیر کو ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ پاکستان چینی شہریوں پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اورواقعے پر چینی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائی پاکستان اور چین کی پائیدار دوستی پر حملہ ہے، سکیورٹی فورسز دہشت گردوں، سہولت کاروں کو پکڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی، حملے میں ملوث افراد کو ضرور سزا ملے گی۔

    ترجمان نے کہا کہ سیکورٹی فورسز دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو پکڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، مجید بریگیڈ سمیت اس بزدلانہ حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

  5. کراچی ایئرپورٹ کے قریب حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کیا ہے؟

    karachi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ رات کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے حملے کی ذمہ داری شدت پسند کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔ اس حملے میں دو چینی شہری ہلاک جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے۔

    اس حملے کے بعد بی ایل اے کی جانب سے ایک بیان میں حملہ آور کی شناخت ظاہر کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق حملہ آور کی شناخت شاہ فہد عرف آفتاب بتائی گئی ہے۔

    اس سال میں بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ کی جانب سے متعدد ہلاکت خیز حملے کیے گئے ہیں۔ 26 اگست کو بلوچستان کے علاقے بیلہ میں سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ کے دروازے پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے سے آپریشن ھیروف کا آغاز ہوا تھا جس میں کم از کم 39 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی جبکہ پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق جوابی کارروائی کے دوران 21 شدت پسند اور 14 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

    آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ تنظیم کیسے وجود میں آئی۔

    بلوچستان میں جاری عسکری تحریک پر نظر رکھنے والے صحافی اور تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار بتاتے ہیں کہ اسلم اچھو اور بشیر زیب نے مجید بریگیڈ کی بنیاد رکھی تھی۔

    ان کے تربیتی اور اشاعتی مواد کے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یہ سوچ تھی کہ وہ کچھ مزید پیشرفت کریں کیونکہ سب سے خطرناک اقدام یہ ہی ہوتا ہے کہ آپ اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہیں پر گھس جائیں۔

  6. بریکنگ, کراچی ایئرپورٹ کے قریب کانوائے پر حملے میں دو چینی شہری ہلاک، 11 افراد زخمی

    police

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں چینی سفارت خانے نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ گذشتہ رات کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے حملے میں دو چینی شہری ہلاک جبکہ ایک زخمی ہے۔

    پولیس سرجن کے دفتر کے مطابق حملے میں 11 افراد زخمی ہوئے جن میں 10 پاکستانی اور ایک چینی شہری شامل ہیں۔

    پاکستان میں چینی سفارت خانے اور قونصلیٹس جنرل کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ چھ اکتوبر کو رات 11 بجے کے قریب پورٹ قاسم اتھارٹی الیکٹرک پاور کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ سے چینی عملے کو لانے والے ایک قافلے پر کیے گئے حملے میں دو چینی شہری ہلاک، ایک زخمی ہوا ہے۔

    خیال رہے کہ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔ تاحال دھماکے کی نوعیت معلوم نہیں ہو سکی تاہم وزیرِ اعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ سے گذشتہ رات دھماکے کی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے بم ڈسپوزل سکواڈ طلب کیا تھا۔

    اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں 10 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

    چینی قونصل خانے نے اپنے بیان میں شدت پسند حملے کی مذمت کی ہے اور دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے متاثرہ شہریوں کے اہلِخانہ سے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر اس کے بعد کا لائحہ عمل طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    چینی قونصل خانے نے بتایا ہے کہ ان کی جانب سے فوری طور پر ایک ایمرجنسی پلان لانچ کر دیا گیا ہے اور پاکستانی حکام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس حملے کی جامع تحقیقات کریں اور ملوث افراد کو سزا دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں مختلف منصوبوں میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کریں۔

  7. بریکنگ, کراچی ایئر پورٹ کے قریب دھماکہ، ایک غیر ملکی شہری سمیت دس سے زیادہ افراد زخمی, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی

    کراچی میں حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام کراچی ایئر پورٹ کے قریب ایک دہشت گرد حملے میں ایک غیر ملکی شہری سمیت دس سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ دھماکہ ایئرپورٹ کو شاہراہ فیصل سے ملانے والی سڑک پر ہوا ہے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز شہر کے مختلف علاقوں میں سنی گئی۔ دھماکے کے نتیجے میں جائے موقعہ پر موجود متعدد گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔

    سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ یہ ایک دہشت گرد حملہ تھا جس میں غیر ملکی شہریوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

    پولیس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ایک گاڑی نے ایئر پورٹ کے خارجی راستے پر اس گاڑی کو ٹکر ماری جس میں غیر ملکی سوار تھے جس کے نتیجے میں ایک چینی شہری شخص زخمی ہو گیا جسے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔‘

    تاحال دھماکے کی نوعیت معلوم نہیں ہو سکی ہے تاہم وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ سے بم ڈسپوزل رپورٹ طلب کی ہے تاکہ دھماکے کی نوعیت کا تعین ہو سکے۔

    اس دھماکے میں دس پاکستانی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

    سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے مزید تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

    بلوچ شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے میڈیا کو جاری کیے گئے بیان میں اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

  8. بریکنگ, ’وزیراعلیٰ نے تسلیم کیا وہ خودساختہ روپوش تھے، علی امین وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں‘ گورنر فیصل کریم کنڈی

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ ’پہلے بھی علی امین گنڈرا پور سات گھنٹے روپوش ہوئے تھے اور اب بھی وزیراعلیٰ نے تسلیم کیا ہے کہ وہ خودساختہ روپوش تھے جبکہ پی ٹی آئی اور ان کے اپنے بھائی ان کی گرفتاری کا الزام حکومت پر عائد کر رہے تھے۔‘

    نجی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ’علی امین وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں۔‘

    وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’علی امین کل ہی خیبر پختونخوا پہنچ گئے تھے اور آج انھوں نے اسمبلی پہنچ کر ڈرامہ کیا اور ساری پارٹی اس ڈرامے پر کام کر رہی تھی تاکہ اداروں پر تنقید کی جا سکے۔‘

    جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ ’یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان معاشی بحران سے نہ نکلے، دنیا پاکستان سے تعاون نہ کرے اور آنے والی کانفرنس کو سبوتاژ کیا جائے۔‘

  9. بریکنگ, تقریباً 24 گھنٹے ’لاپتہ‘ رہنے کے بعد علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا اسمبلی پہنچ گئے ’میں ساری رات وہیں تھا لیکن انھیں نہیں ملا‘

    وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور تقریباً 24 گھنٹے غائب رہنے کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی پہنچ گئے ہیں اور انھوں نے اپنا خطاب شروع کیا ہے۔

    علی امین گنڈا پور نے الزام عائد کیا کہ باقاعدہ پلاننگ سے ہم پر حملہ کیا گیا۔ ہم نے لاہور میں مینارِ پاکستان میں جلسے کی اجازت مانگی، نہیں دی گئی۔ ہم نے اسلام آباد میں جلسے کی اجازت مانگی لیکن مویشی منڈی میں جگہ دی گئی۔ انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا ہم جانور ہیں؟‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اسلام آباد میں احتجاج کے لیے ہر جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ حکومت کو کس بات کا ڈر ہے؟‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ہمارے راستے میں سڑکیں کھودی گئیں اور ہم پر شیل مارے گئے۔ سارے ثبوت موجود ہیں سرکاری گاڑیاں توڑی گئیں، میری گاڑی اور گارڈ بھی لے گئے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’یہ سمجھ رہے تھے ہم ڈی چوک نہیں پہنچ سکیں گے لیکن ہم نے پہنچ کر دکھایا ہے۔‘

    علی امین کا کہنا ہے کہ ’مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ مجھ پر ایف آئی آر درج ہے۔ اور کس بات کی ایف آئی آر؟ کیا جرم کیا تھا میں نے۔‘

    وزیر اعلی نے اپنے خطاب میں بتایا ہے ’میں ساری رات وہیں تھا انھوں نے (اسلام آباد پولیس) چار چھاپے مارے لیکن میں انھیں نہیں ملا۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ میں 12 اضلاع سے گزر کر یہاں تک پہنچا ہوں۔

    علی امین نے آئی جی اسلام آباد پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ انھیں فلور پر آ کر معافی مانگنا ہو گی۔‘

    انھوں نے سیاسی جماعتوں اور اداروں سے مخاطب ہوئے کہا کہ اپنی اصلاح کرلیں۔

    یاد رہے علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا سے ایک قافلے کی شکل میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف آ رہے تھے جب برہان انٹرچینج کے مقام پر انھوں نے واضح اعلان کیا تھا کہ تحریک انصاف کا احتجاج ہر صورت ڈی چوک پر ہی ہوگا۔ مگر اسلام آباد پہنچنے کے بعد ریڈ زون کے قریب انھوں نے کارکنان سے ایک مختصر خطاب کیا اور وہاں سے چلے گئے۔

    گذشتہ روز تحریک انصاف نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ریڈ زون میں ہی واقع خیبر پختونخوا ہاؤس میں ’حبس بے جا میں‘ رکھا گیا ہے جہاں رینجرز کی طرف سے ایک ریڈ بھی کی گئی تھی۔

    تاہم وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس کی تردید کرتے ہوئے اتوار کو کہا تھا کہ وہ کسی ریاستی ادارے کی تحویل میں نہیں بلکہ اپنی مرضی سے خیبر پختونخوا ہاؤس سے ’بھاگ گئے تھے جس کے شواہد بھی ہیں۔‘

    علی امین گنڈاپور کی مبینہ گمشدگی پر خیبرپختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا تھا۔

  10. وزارتِ داخلہ نے پی ٹی آئی احتجاج میں خیبرپختونخوا حکومت کے وسائل کے مبینہ استعمال کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی

    پی ٹی آئی، اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد میں احتجاج کے دوران مبینہ طور پر خیبرپختونخوا حکومت کے سرکاری وسائل کے استعمال کی تحقیقات کے لیے تین رُکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    بی بی سی کو دستیاب نوٹیفکیشن کے مطابق تین رُکنی کمیٹی کا کنوینر ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ کو مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اس میں واقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسران کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    کمیٹی کو احکامات دیے گئے ہیں کہ وہ معلوم کریں کہ پی ٹی آئی کی ریلی میں کتنی اور کون سی سرکاری گاڑیاں استعمال ہوئیں اور کتنے سرکاری ملازمین یا عوامی عہدیداروں نے اس میں شرکت کی۔

    وزارتِ داخلہ کے مطابق تین رُکنی کمیٹی تحقیقات کرے گی کہ کس نے ریلی کے لیے خیبرپختونخوا کے حکومتی محکموں کے وسائل کے استعمال کے احکامات جاری کیے۔

    نوٹیفکیشن کی مطابق ریلی میں سرکاری وسائل کے استعمال کرنے کی اجازت دینے والوں اور اس میں شریک سرکاری ملازمین کی شناخت بھی کی جائے گی۔

    تین رُکنی کمیٹی کو سات دنوں کے اندر وزارتِ داخلہ میں اپنی رپورٹ جمع کروانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

  11. بلوچستان کے سرحدی علاقے میں پاکستان اور افغانستان کی سرحدی فورسز میں جھڑپ: ڈپٹی کمشنر نوشکی, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    پاکستان، افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبے بلوچستان ضلع نوشکی میں افغانستان سے متصل سرحدی علاقے میں پاکستان اور افغانستان کی سرحدی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نوشکی امجد سومرو نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ جھڑپ ضلع نوشکی کی تحصیل ڈاک کے علاقے گزینلی میں ہوئی ہے۔

    ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس جھڑپ میں ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار زخمی ہوا ہے، جبکہ افغانستان میں بھی نقصانات ہوئے ہیں۔

    تاہم ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ نوشکی میں تاحال کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ گزینلی کے علاقے میں سرحد کے قریب کوئی آبادی نہیں ہے۔

    خیال رہے اس علاقے میں رواں سال اگست کے مہینے میں بھی دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار ہلاک بھی ہوا تھا ۔

    بلوچستان میں سات اضلاع کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں، جن میں ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، نوشکی اور چاغی شامل ہیں۔

  12. منتخب وزیر اعلیٰ کی ’جبری گمشدگی‘ خیبر پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے: بیرسٹر سیف

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے دعویٰ کیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو ’جبری طور پر گمشدہ‘ کیا گیا ہے۔

    اتوار کو جاری ایک بیان میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ’وفاقی حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں کے بارے میں آج خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بھی بُلایا گیا ہے اور صوبائی حکومت ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے عدالتی کارروائی کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔‘

    ’منتخب وزیر اعلیٰ کی جبری گمشدگی پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔‘

    خیال رہے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور اسلام آباد پولیس کے آئی جی علی ناصر رضوی وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کی خبروں کی تردید کر چکے ہیں۔

    اتوار کی شام کو ایک پریس کانفرنس کے دوران آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور اسلام آباد پولیس یا دیگر کسی قانون نافڈذ کرنے والے ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں۔

    خیال رہے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور گذشتہ روز مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف پی ٹی آئی کے احتجاج میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچے تھے۔

    سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیو میں انھیں جناح ایونیو کے اطراف میں دیکھا گیا تھا اور اس کے بعد وہ خیبر پختونخواہ ہاؤس روانہ ہوئے تھے۔

    اس کے بعد سے علی امین گنڈاپور منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔

  13. ’یہ احتجاج نہیں انتشار تھا‘ جس کی قیادت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کی: آئی جی اسلام آباد

    پی ٹی آئی، اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد پولیس کے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) علی ناصر رضوی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور ان کی حراست میں نہیں ہیں۔

    اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران علی امین گنڈاپور کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آئی جی علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ وہ ’پولیس کی حراست میں نہیں ہیں، ہم نے چیک کیا ہے وہ کسی اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کی بھی حراست میں نہیں ہیں۔‘

    ’لیکن ایک بات واضح ہے کہ انھوں نے اس تخریب کاری کی قیادت کی ہے۔‘

    آئی جی اسلام آباد نے مزید کہا کہ شہر میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران 56 سالہ پولیس اہلکار حمید شاہ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    علی ناصر رضوی کا واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ ’کل حمید شاہ 26 نمبر چونگی ہر مظاہرین کی لپیٹ میں آئے اور ان پر تشدد بھی کیا گیا۔‘

    ’میں آپ کو بتاتا چلوں اسلام آباد پر جو چڑھائی کا پروگرام بنایا گیا اس کی قیادت خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کر رہے تھے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جس طریقے سے مظاہرین نے اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں پر دھاوا بولا، وہاں پر سب نے دیکھا کہ انھیں لیڈ کون کر رہا تھا۔‘

    آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پر ’چڑھائی‘ کرنے والے مظاہرین کے خلاف دس مقدمات انسدادِ دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔

    ’وہ احتجاج نہیں تھا، بلکہ انتشار تھا، ایک دھاوا تھا، ایک حملہ تھا۔‘

    پی ٹی آئی، پولیس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آئی جی پنجاب نے صحافیوں کو بتایا کہ پُرتشدد مظاہروں کے دوران 878 شرپسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان میں 120 افغان شہری بھی شامل ہیں۔

    علی ناصر رضوی نے دعویٰ کیا کہ ’اس میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ (احتجاج میں) خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل استعمال ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ پُرتشدد مظاہروں کے دوران خیبر پختونخوا پولیس کے آنسو گیس کے شیل، ہتھیار اور ڈنڈے بھی استعمال ہوئے ہیں۔

    ’ہم نے جو افراد گرفتار کیے ہیں ان میں آٹھ حاضرِ سروس جوان بھی شامل ہیں۔‘

    آئی جی اسلام آباد کے مطابق ان پُرتشدد مظاہروں میں اسلام آباد پولیس کے 31 اہلکار بھی زخمی ہوئی ہیں۔

    انھوں نے اعلان کیا کہ پولیس ’اب اسلام آباد کے اندر ان ٹھکانوں پر جائے گی جہاں سے یہ نکلتے ہیں، ہم اسلام آباد کے اندر سے ہر اس شرپسند کو گرفتار کریں گے جو شرپسندی کرتا ہے۔‘

  14. عمران خان کی بہنوں سمیت پی ٹی آئی کے 105 کارکنان کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

    عمران خان، پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیراعظم عمران کان کی بہنوں عظمیٰ خان اور علیمہ خان سمیت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 105 کارکنان کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں انسدادِ دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    اتوار کو ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس میں علیمہ خان اور عظمیٰ خان سمیت پی ٹی آئی کے 105 کارکنان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان افراد میں سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے بھائی عدنان خان بھی شامل تھے۔

    عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور اسد قیصر کے بھائی عدنان خان کو ڈیوٹی جج اظہر ندیم کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے ملزمان کے 20 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

    تاہم عدالت نے تینوں ملزمان کو ایک، ایک دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے اور پیر کو دوبارہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق علیمہ خان اور عظمیٰ خان نے لاؤڈ سپیکر کے ذریعے مظاہرین کو اشتعال دلانے کی کوشش کی۔

    ایف آئی آر میں دہشتگردی، کار سرکار میں مداخلت، اقدامِ قتل اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    خیال رہے عمران خان کی دونوں بہنوں کو جمعے کو اسلام آباد کے ڈی چوک کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا۔

  15. پاکستانی حکومت نے پشتون تحفظ موومنٹ پر پابندی عائد کر دی

    PTM

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی حکومت نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے اتوار کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی ایم ملک میں امن و امان کے لیے خطرہ ہے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’ٹھوس شواہد کی روشنی میں پشتون تحفظ موومنٹ پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی ایم ملک دشمن بیانیے اور انارکی پھیلانے میں ملوث ہے۔‘

    حکومتی اقدام کے حوالے سے پی ٹی ایم کے ترجمان حاجی صمد نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے تنظیم پر پابندی کا باضابطہ اعلان ابھی کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ریاست کا رویہ پہلے بھی کبھی دوستانہ نہیں تھا۔

    خیال رہے کہ پی ٹی ایم 11 اکتوبر کو ضلع خیبر میں صوبے بھر میں بدامنی کی لہر کے خلاف ’پشتون قومی جرگہ/عدالت‘ کے نام سے ایک جرگہ منعقد کرنے جا رہی تھی۔

    اس جرگے کے لیے خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، قوم پرست اور دیگر مختلف رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ یہ جرگہ تین دن جاری رہنا تھا جس کے شیڈول کا بھی اعلان کر دیا گیا تھا۔

    پی ٹی ایم کے ترجمان نے پابندی کے نوٹیفکیشن کو جرگے کو ناکام بنانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ فیصلہ اٹل ہے کہ جرگہ ہر صورت منعقد کیا جائے گا کیونکہ یہ پی ٹی ایم کا جلسہ یا ایجنڈا نہیں ہے بلکہ تمام پختونوں کا جرگہ ہے۔‘

    حاجی صمد کے مطابق آج شام پی ٹی ایم کی مرکزی کمیٹی کے اراکین کا اجلاس ہوگا اور اس کے بعد تنظیمی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔

    اس سے قبل یکم اکتوبر کو پی ٹی ایم کا دعویٰ ہے کہ پشاور پولیس نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں ’پشتون قومی جرگے‘ کی جلسہ گاہ پر چھاپہ مارا جبکہ بعد میں پولیس اور پی ٹی ایم کارکنان کے مابین جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔

    یاد رہے کہ پی ٹی ایم کے ’قومی جرگے‘ کے خلاف ضلع خیبر کے رہائشی خاطراللہ نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی جس میں جرگہ روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    دو روز قبل یعنی چار اکتوبر کو پشاور ہائی کورٹ میں اس درخواست پر پی ٹی ایم کی جانب سے ضلع خیبر میں طے شدہ ’قومی جرگے‘ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ’جرگہ منعقد ہونے دیں پھر دیکھیں گے کہ یہ کیا کرتے ہیں۔‘

    ptm

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پی ٹی ایم کی بنیاد کب پڑی؟

    جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ محسود اور ان کے تین ساتھیوں کو 13 جنوری 2018 کی صبح کراچی میں پولیس اہلکاروں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

    اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا تعلق شدّت پسند تنظیم داعش اور لشکرِ جھنگوی سے تھا۔

    نقیب اللہ کے والد اور اہلخانہ نے اس پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نقیب اللہ کا کسی شدت پسند تنظیم سے تعلق نہیں تھا اور اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے بھی پولیس کے اس دعوے کو مسترد کیا تھا۔

    نقیب اللہ کے قتل کے نتیجے میں پشتون تحفظ موومنٹ ابھری جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے کراچی سے لے کر کابل تک مظلوم پشتونوں کو یک آواز کر دیا تھا۔

  16. اسلام آباد پولیس کا مظاہرین کے مبینہ تشدد سے کانسٹیبل کی ہلاکت کا دعویٰ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    hameed shah

    ،تصویر کا ذریعہIslamabad Police

    اسلام آباد پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس کے ایک اہلکار کانسٹیبل عبدالحمید شاہ مبینہ طور پر پی ٹی آئی کارکنان کے تشدد کے باعث شدید زخمی ہوئے جس کے بعد انھوں نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں ہی دم توڑ دیا۔

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کانسٹیبل حمید شاہ کی ڈیوٹی 26 نمبر چونگی پر لگائی گئی تھی جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے دوران وہ زخمی ہو گئے تھے۔‘

    ترجمان نے دعویٰ کیا کہ بعدازاں مظاہرین کی جانب سے ’انھیں اغوا کر لیا گیا اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انھیں قریبی جنگل میں پھینک دیا گیا تھا اور ان کی تلاش کے دوران آج صبح پولیس انھیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئی جس کے بعد انھیں ہسپتال پہنچایا گیا لیکن سر پر گہری چوٹوں کے باعث ان کی صحت بحال نہیں ہو سکی۔‘

    ترجمان کے مطابق پولیس کانسٹیبل کی ریٹائرمنٹ کو صرف تین مہینے ہی باقی تھے۔

    تحریکِ انصاف کی جانب سے تاحال اس الزام پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا گیا ہے۔

    گذشتہ رات میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا تھا کہ مظاہروں میں اسلام آباد پولیس کے 31 جبکہ پنجاب پولیس کے 75 اہلکار زخمی ہوئے۔

    محسن نقوی نے آج صبح جاری کیے گئے ایک بیان میں پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ’شرپسندوں کی جلدازجلد گرفتاری‘ کی ہدایت کی ہے۔

  17. اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل سروس بحال ہونا شروع

    mobile

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اب سے کچھ دیر قبل ہم نے رپورٹ کیا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں آج تیسرے روز بھی موبائل سگنلز کی بندش جاری ہے تاہم اب اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ جڑواں شہروں میں موبائل سروس بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔

    تاحال اس حوالے سے وزارتِ داخلہ نے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    اس کے علاوہ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پشاور اسلام آباد ایم ون موٹروے کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی نے جمعے کو ڈی چوک میں احتجاج کی کال دی ہوئی تھی جس کے بعد جمعے کی صبح سے ہی موبائل سگنلز معطل کر دیے گئے تھے۔

    دونوں شہروں میں موبائل سگنلز کی معطلی اب ایک معمول بنتی جا رہی ہے اور کسی بھی احتجاج یا جلسے کے علاوہ سکیورٹی وجوہات کے باعث دیگر اہم دنوں میں بھی سگنلز معطل کر دیے جاتے ہیں۔

    جمعے کو ایک بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے موبائل سگنلز کی بندش پر تنقید کرتے ہوئے ان کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔

    amnesty

    ،تصویر کا ذریعہX/AmnestyInternational

  18. ’وہ ہمارے صوبے کی عزت ہیں‘: عمر ایوب کی علی امین گنڈاپور کی مبینہ گمشدگی کی مذمت، فوری رہائی کا مطالبہ

    gandpur umar ayub

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images/Omar Ayub

    پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف عمر ایوب نے ایک ویڈیو پیغام میں وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی مبینہ گمشدگی کی مذمت کرتے ہوئے انھیں فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    عمر ایوب نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’اسٹیبلشمنٹ ہو یا انٹیلیجنس ایجنسیز۔۔۔ ایک وزیرِ اعلیٰ کو آپ نے جس طرح اغوا کیا ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ جس طرح آپ نے خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد کا محاصرہ کیا، اندر رینجرز گئی، اسلام آباد پولیس گئی دروازے توڑے، اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔‘

    ’وہ ہمارے وزیرِ اعلیٰ ہیں، ہمارے صوبے کی عزت ہیں، پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے صوبائی صدر ہیں اور ریاست کا حصہ ہیں۔‘

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے سنیچر کی شام کو یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ علی امین گنڈا پور کو اسلام آباد کے کے پی ہاؤس سے گرفتار کیا گیا ہے تاہم اسلام آباد پولیس کی جانب سے اس دعوے کی تردید کی گئی تھی۔

    بعد میں پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا علی امین گنڈاپور ’بظاہر حبسِ بے جا میں ہیں۔‘

    گذشتہ رات جب ایک صحافی نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے علی امین کے بارے سوال کیا تھا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں تو محسن نقوی نے واضح جواب دینے کی بجائے کہا تھا کہ ’آپ بتا دیں۔‘

    ادھر پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’علی امین گنڈاپور کو بندوق کے زور پر پختونخوا ہاؤس سے اغوا کر کے پر امن احتجاج کو نو مئی کے طرز پر پرتشدد بنانے کی مکروہ سازش کی گئی ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’جب تک کپتان (عمران خان) حکم نہیں دیتے ڈی چوک سمیت ملک بھر میں پرامن احتجاج طے شدہ طریقہ کار اور ترتیب سے جاری رہے گا۔‘

  19. جب پی ٹی آئی کے مظاہرین کا اسلام آباد میں پولیس سے تصادم ہوا

    ،ویڈیو کیپشنجب پی ٹی آئی کے مظاہرین اسلام آباد میں داخل ہوئے اور ان کا پولیس سے تصادم ہوا

    سنیچر کو اسلام آباد کے ریڈ زون کے قریب پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے درمیان تصادم ہوا تھا جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی تھی۔ اس دوران بی بی سی اردو کی نامہ نگار فرحت جاوید بھی وہاں موجود تھیں، دیکھیے ان کی رپورٹ۔

  20. اسلام آباد اور روالپنڈی میں موبائل سگنلز اور راستوں کی بندش تیسرے روز بھی جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Islamabad

    ،تصویر کا ذریعہIslamabad Police

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے ملحقہ شہر راولپنڈی میں پاکستان تحریکِ انصاف کے احتجاج کے پیشِ نظر موبائل سگنلز اور راستوں کی بندش آج تیسرے روز بھی جاری ہے۔

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال احتجاج ختم نہیں کیا گیا ہے اس لیے ڈی چوک اور ریڈزون سمیت اسلام آباد اور راولپنڈی میں مختلف جگہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ رات پی ٹی آئی کی پولیٹیکل کمیٹی کے اجلاس کے بعد پارٹی کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کی غیرموجودگی میں بھی احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’اس وقت بلیو ایریا میں چند مظاہرین موجود ہیں جبکہ فیض آباد اور راولپنڈی کے کچھ علاقوں میں بھی ان کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔‘

    اس کے علاوہ جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹروبس سروس آج تیسرے روز بھی معطل ہے۔