اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے مُمکنہ سربراہ ہاشم صفی الدین کو ہلاک کر دیا ہے: نیتن یاہو
اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’وہ اپنے لوگوں کو بحفاظت وطن واپس لانے اور حزب اللہ کو ختم کرنے کے لیے جو بھی ضروری ہوگا کریں گے۔‘ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اُن کی جانب سے منگل کے روز شمالی اسرائیل کے شہروں حیفہ اور کریوت پر 100 سے زائد راکٹ داغے گئے۔
خلاصہ
اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے مُمکنہ سربراہ ہاشم صفی الدین کو ہلاک کر دیا ہے: نیتن یاہو
بیروت کے میئر نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اسرائیلی حملوں نے بیروت میں ’کوئی محفوظ جگہ‘ نہیں چھوڑی۔
حزب اللہ کے حیفہ پر راکٹ حملے میں سات اسرائیلی زخمی، غزہ میں اسرائیلی کارروائی میں 56 فلسطینی ہلاک
لبنانی حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے چار لاکھ سے زیادہ لوگ شام نقل مکانی کر چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے منگل کے روز علی الصبح کیے گئے ایک حملے میں حزب اللہ کے کمانڈر سہیل حسین الحسینی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
لائیو کوریج
اسرائیلی افواج نے ہاشم صفی الدین کو ہلاک کر دیا ہے: نیتن یاہو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو
نے کہا ہے کہ ’وہ اپنے لوگوں کو بحفاظت وطن واپس لانے اور حزب اللہ کو ختم کرنے کے
لیے جو بھی ضروری ہوگا کریں گے۔‘
لبنان کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے
ایک ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کامیاب ہوگا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’آئی ڈی
ایف نے حزب اللہ کے سابق رہنما حسن نصراللہ کے ممکنہ متبادل ہاشم صفی الدین کو ’ہلاک‘
کر دیا ہے جس کے بعد اب حزب اللہ کی کمر ٹوٹ چُکی ہے۔‘
نیتن یاہو نے کہا کہ ’لبنانی عوام
کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ آیا انھیں اپنا مُلک واپس لینا ہے یا حزب اللہ اُن
کے وصائل پر قابض رہے گی جس کی قیمت انھیں ادا کرنے پڑے گی۔‘
اسرائیل لبنان کشیدگی: سرحد کی دونوں جانب کی چند تصاویر
اسرائیل اور لبنان دونوں کی جانب سے ایک
دوسرے پر منگل کے روز شدید نوعیت کے حملے کیے گئے۔ متعدد مقامات سے نقصانات کی
خبریں بھی سامنے آئیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنایسا معلوم ہوتا ہے کہ طیارے ابھی بھی جنوب مغربی مضافاتی علاقے دحیہ میں بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ٹیک آف اور لینڈنگ کر رہے ہیں، جس پر حالیہ ہفتوں میں شدید حملے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنبیروت میں ہی متعدد مقامات پر ملبے کے ڈھیر بھی دیکھائی دے رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنمنگل کے روز اسرائیل میں حیفہ شہر کو حزب اللہ کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنشمالی اسرائیل کا ایک منظر جس میں لبنان سے راکٹ داغے جا رہے ہیں۔
اس شہر میں اب کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی: بیروت کے مئیر
،تصویر کا کیپشنبیروت کے مئیرعبداللہ درویچ
بیروت کے میئر نے بی بی سی کو
بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اسرائیلی حملوں نے بیروت میں ’کوئی محفوظ جگہ‘
نہیں چھوڑی۔
بیروت میں اپنے دفتر میں ایک
انٹرویو میں عبداللہ درویچ کا کہنا ہے کہ شہر کے وسط میں دو حالیہ حملوں نے ظاہر
کیا کہ یہ صرف عسکریت پسند گروپوں سے وابستہ علاقے ہی نہیں تھے جو خطرے میں تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ بعض علاقوں پر
شدید اسرائیلی بمباری کا مطلب ہے کہ ممکنہ اسرائیلی اہداف اب شہر کے ارد گرد پھیل
چکے ہیں۔
اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’اب آپ یہ
نہیں کہ سکتے کہ بیروت مزید ہے۔ اسرائیل کا اگلا ہدف کیا ہوگا وہ کس مقام کو نشانہ
بنائیں گے اس بارے میں کوئی نہیں جانتا۔‘
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے
دو حملوں میں حزب اللہ اور پیپلز فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے ارکان کو نشانہ
بنایا ہے جن کا ذکر عبداللہ درویچ نے کیا ہے۔
جن میں سے ایک میں ایک کلینک تباہ
ہو گیا تھا۔
حزب اللہ کے متوقع رہنما ممکنہ طور پر حملے میں مارے گئے: اسرائیلی وزیرِ دفاع
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیل کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ
نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے سینیئر رہنما ہاشم صفی الدین ممکنہ طور پر گزشتہ ہفتے ہونے
والے ایک حملے میں مارے گئے تھے۔
گزشتہ ماہ اسرائیلی فضائی حملے
میں ان کے کزن اور سابق رہنما حسن نصراللہ کی ہلاکت کے بعد یہ خیال ظاہر کیا جا
رہا تھا کہ صفی الدین اس گروپ کے اگلے رہنما ہو سکتے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے
مطابق بیروت میں اسرائیلی بمباری میں صفی الدین ہلاک ہو گئے ہیں تاہم اس کی تصدیق
نہیں کی گئی ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج کے ساتھ
بریفنگ کمانڈ کے دوران گیلنٹ نے یہ بھی کہا کہ نصراللہ کی ہلاکت کے بعد سے حزب
اللہ ’ٹوٹ پھوٹ کا شکار‘ ہوگئی ہے۔
حزب اللہ نے حملوں کے بعد سے صفی
الدین کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہاشم صفی الدین کون
ہیں؟
ہاشم صفی الدین 1964 میں جنوبی لبنان کے علاقے
صور کے قصبے دیر قنون النہر میں پیدا ہوئے، انھوں نے حسن نصر اللہ کی طرح اپنی
تعلیم نجف اور قم میں حاصل کی اور 1982 میں حزب اللہ کے بانیوں میں سے تھے۔
ہاشم صفی الدین نصراللہ کے کزن اور ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کے رشتہ دار
ہیں۔
انھیں پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ
سنبھالے ابھی دو سال ہوئے تھے کہ اسرائیل نے ایک ہیلی کاپٹر حملے میں عباس الموسوی
کو قتل کر دیا جس کے بعد 1994 میں صفی الدین سے نصر اللہ کے جانشین کے طور پر حزب
اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کی صدارت سنبھالنے کے لیے کہا گیا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایرانی شہر قم
میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1994 سے انھیں پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار
کیا جا رہا تھا۔
انھیں حزب اللہ کی سیاسی، سماجی،
ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔
وہ حزب اللہ کی حکمران شوریٰ کونسل
کے سات منتخب اراکین میں سے ایک ہیں اور خیال کیا جاتا تھا کہ وہ نصر اللہ کے
جانشین کے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔
ہاشم صفی الدین کے ایران کے ساتھ
گہرے تعلقات ہیں کیونکہ ان کے بھائی اور تہران میں حزب اللہ کے نمائندے عبداللہ
صفی الدین نے شیعہ عالم محمد علی الامین کی بیٹی سے شادی کی ہے جو ملک میں شیعہ
اسلامی کونسل کے رکن تھے۔
ہاشم صفی الدین کے بیٹے رضا نے بھی
2020 میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی بیٹی زینب قاسم سلیمانی سے
شادی کی تھی جو اسی سال کے آغاز میں بغداد میں ایک امریکی حملے میں ہلاک ہو گئے
تھے۔
ہاشم صفی الدین ممکنہ طور پر حزب
اللہ کے اگلے سربراہ ہو سکتے ہیں لیکن لبنان کے اخبار ’النهار‘ سے منسلک صحافی
ابراہیم بیرام کے مطابق سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ ’کیا وہ حسن نصراللہ کی طرح
پارٹی کو سنبھال سکیں گے۔‘
روئٹرز کے مطابق ہاشم صفی الدین کو
امریکی محکمہ خارجہ نے 2017 کے دوران دہشتگرد قرار دیا تھا۔ ان کے ماضی کے بیانات
سے واضح ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمت اور عسکری کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
مُجھے جان بوجھ کر امریکہ جانے سے روکا گیا: ماہ رنگ بلوچ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچ یکجہتی
کمیٹی کی آرگنائیزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی حکام کی
جانب سے انھیں کسی جائز جواز کے بغیر امریکہ جانے سے روک دیا گیا۔
بی بی سی سے
بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ انھیں کراچی ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کے حکام نے یہ
بتایا کہ ’آپ کا ویزا درست نہیں ہے۔ اس لیے آپ کو سفر کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘
ڈاکٹر ماہ
مارنگ کا نام معروف بین الاقوامی میگزین دی ٹائم نے 2024 کے لیے دنیا کی 100بااثر
شخصیات میں شامل کیا ہے۔
میگزین کی
جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ کو امریکہ میں بدھ کے روز اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی
تھی جس میں ان شخصیات کو ایوارڈز سے نوازا جانا تھا۔
ڈاکٹر ماہ
رنگ کی پیر کی شب امارات ایئرلائنز کی پرواز سے کراچی سے براستہ دبئی امریکہ کے لیے
روانگی تھی۔
’میرے
پاسپورٹ لیتے ہی اس پر آف لوڈ کی سٹیمپ لگا دیا گیا‘
فون پر
ڈاکٹر ماہ رنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی ایئرپورٹ پر بورڈنگ کارڈ لینے کے بعد
جب وہ ایف آئی اے کے حکام کے پاس گئیں تو وہاں موجود ایک اہلکار نے میرے پاسپورٹ
کو دیکھتے ہی اس پر آف لوڈ کی مہر لگا دی۔
انھوں نے
کہا کہ ’آف لوڈ کی مہر لگنے پر ہی میں یہ سمجھ گئی کہ یہ مجھے پاکستان سے جانے نہیں
دیں گے۔‘
ڈاکٹر ماہ
رنگ بلوچ نے کہا کہ ایک خاتون اہلکار میری پاسپورٹ لے گئی اور پھر اندازاً ایک
گھنٹے بعد اس کو واپس کیا گیا۔
ان کا کہنا
تھا کہ تمام قانونی دستاویزات کے باوجود روکنے کی قانونی وجہ کے بارے میں بار بار
پوچھنے پر انھوں نے یہ بتایا کہ وہ یہ وجہ یہاں آپ کو نہیں بتا سکتے اور جاکر
عدالت میں کیس کریں تو وہاں وجہ بتائی جائے گی۔
ڈاکٹر ماہ
رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ جب وہ کراچی ایئرپورٹ سے واپس شہر کے لیے نکلی تو ان کے
ساتھ سمی بلوچ اور گاڑی کے ڈرائیور کے علاوہ ایک اور خاتون بھی تھیں۔ اُن کے گاڑی
کو پولیس کے اہلکاروں کے علاوہ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے روکا اور تلاشی
کا مطالبہ کیا۔
،تصویر کا ذریعہBYC
اس حوالے سے
اسلام آباد میں ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمود علی کھوکر سے رابطہ کیا گیا تو
انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے جیسے ہی معلومات مل جائیں گی تو ان کو شیئر کردیا
جائے گا۔
کراچی ایئرپورٹ
روڈ کے باہر روکے جانے سے متعلق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے الزامات کے حوالے سے وزیر
داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار اور ڈی آئی جی کراچی پولیس اطفر سے فون پر متعدد بار
رابطہ کرنے کے علاوہ ان کو میسیج بھی کیا گیا لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں
ملا۔
تاہم جب ایئرپورٹ
پولیس سٹیشن کراچی کے ایس ایچ او کلیم موسانی سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا
کہنا تھا ’ایئرپورٹ پولیس کا ان خاتون کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں۔‘
ایس ایچ او
کا کہنا تھا کہ ان کا معاملہ ایف آئی اے سے ہے اس لیے ایف آئی اے سے رابطہ کیا
جائے۔
تاہم جب ایس
ایچ او کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ کا یہ دعویٰ ہے کہ جب وہ ایئر پورٹ کی
پارکنگ کی حدود سے سے باہر نکلیں تو وہاں ان کی گاڑی کو جن اہلکاروں نے روکا تو ان کے ساتھ پولیس کے اہلکار بھی
شامل تھے تو انھوں نے کوئی جواب دینے کی بجائے فون بند کیا۔
حزب اللہ کے حیفہ پر راکٹ حملے میں سات اسرائیلی زخمی، غزہ میں اسرائیلی کارروائی میں 56 فلسطینی ہلاک
،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی کو اسرائیل کے اہم شہروں
حیفہ اور کریوت کے علاقے پر حزب اللہ کے راکٹ حملوں کے بارے میں موصول ہونے والی
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حزب اللہ کے اس حالیہ راکٹ حملے میں سات اسرائیلی زخمی
ہوئے ہیں۔
اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز میگن
ڈیوڈ ادوم (ایم ڈی اے) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ کے حملے
کے بعد 12 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
امدادی ادارے کی جانب سے جاری
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہسپتال منتقل کیے جانے والے افراد میں 71 سالہ خاتون بھی
ہی کہ جنھیں مبینہ طور پر معمولی زخم آئے ہیں اور اُن کے ہاتھ چھرے لگنے سے زخمی
ہوئے ہیں۔
حزب اللہ کے اس حملے کے بعد اسرائیلی
میڈیا پر سامنے آنے والی اطلاعات میں بتایا جا رہا ہے کہ اس حملے میں ایک سکول کو
نقصان پہنچا ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
تاہم دوسری جانب غزہ میں حماس اور اسرائیلی فوج کے مابین غزہ میں شدید لڑائی جاری ہے۔
غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں مزید 56 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 41 ہزار 965 ہو گئی ہے۔
قبل ازیں اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا تھا کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے گزشتہ روز غزہ بھر میں تقریبا 70 اہداف کو نشانہ بنایا جن میں حماس کے اہم ٹھکانے بھی شامل ہیں۔
آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی کے شمال میں جبالیہ کے علاقے میں فضائی اور زمینی حملوں میں حماس کے 20 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمالی علاقے میں جھڑپوں کے دوران ایک اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔
حزب اللہ کا شمالی اسرائیل پر 100 سے زائد راکٹ داغنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہAFP
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اُن کی
جانب سے شمالی اسرائیل کے شہروں حیفہ اور کریوت پر 100 سے زائد راکٹ داغے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے
کہ اس نے دوپہر کے بعد لبنان سے 85 راکٹ داغے جانے کی نشاندہی کی جن میں سے زیادہ
تر کو روک لیا گیا لیکن ان میں سے کُچھ کے اسرائیلی علاقوں میں گرنے کی بھی
اطلاعات ہیں۔
تاہم اس سے قبل اسرائیلی دفاعی
افواج کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ لبنان سے اسرائیلی علاقوں کی جانب 25 میزائل
داغے گئے۔
،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل کی میگن ڈیوڈ ادوم ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ ایک 70 سالہ خاتون چھرے لگنے سے زخمی ہو گئیں۔
تاہم اسرائیلی میڈیا نے خبر دی ہے کہ حیفہ کے علاقے کریت یام میں ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔
لبنان سے 25 میزائل داغے گئے، اسرائیل کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی
ایف) کا کہنا ہے کہ انھوں نے لبنان سے اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے والے تقریبا
25 میزائلوں کی نشاندہی کی ہے۔
آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری ہونے
والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان 25 میزائلوں میں سے کچھ تو کو زمین پر گرنے سے
پہلے ہی روک لیا گیا تاہم میزائل گلیلی کے علاقے میں گرے۔
تاہم دوسری جانب اسرائیلی دفاعی
افواج نے لبنان میں لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ملک کے جنوبی حصے کی جانب سفر نہ
کریں کیونکہ ان علاقوں میں آئی ڈی ایف اپنی جاری کارروائیوں میں تیزی لانے کا
ارادہ رکھتی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
آئی ڈی ایف کے عربی ترجمان اویچی ادرائی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’آئی ڈی ایف آپ کے گاؤں اور اس کے آس پاس حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اور آپ کی اپنی حفاظت کے لیے آپ کو اگلے نوٹس تک اپنے گھروں کو لوٹنے سے منع کیا جاتا ہے۔‘
یاد رہے کہ لبنانی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ماہ اسرائیل کے فضائی حملوں میں اضافے کے بعد سے لبنان میں تقریباً 12 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
عمران خان کی بہنوں کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور: ’ملزمان نے میگا فون پر لوگوں کو بھڑکایا‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد کی ایک انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پولیس کی درخواست پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔
اس سے قبل اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں کے خلاف درج مقدمہ میں پولیس کی جانب سے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
منگل کے دن پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں درج ہونے والے دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو جب جج ابوالحسنات کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا تو پراسیکیوٹر راجہ نوید نے موقف اپنایا کہ انھیں تفتیش کے لیے وقت درکار ہے۔
علیمہ خان اور عظمی خان کے وکیل فیصل فرید چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے عدالت سے میڈیکل چیک اپ کی استدعا کی تھی لیکن اب تک میڈیکل رپورٹس عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئیں۔‘
سرکاری وکیل نے ملزمان کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر عدالت کو پڑھ کر سنائی جبکہ پولیس کی جانب سے علیمہ خان اور عظمیٰ خان کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست کی گئی۔
پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ’علیمہ خان اور عظمیٰ نے کارکنوں کو بھڑکایا اور کارکن پولیس پر حملہ اور ہوگئے۔‘
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’ملزمان سے میگا فون برآمد کیا گیا جبکہ موبائل فون برآمد کرنا باقی ہے۔‘
پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ’ملزمان کیس میں دوران تفتیش معاونت بھی نہیں کر رہی ہیں۔‘ ان کا دعوی تھا کہ ’ملزمان نے میگا فون پر ہی لوگوں کو بھڑکایا جس کے بعد پیش آنے والے واقعات میں 30 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔‘
دوسری جانب وکیل علی بخاری نے عدالت میں کہا کہ ’عظمیٰ خان، علیمہ خان کو گرفتار کرنے کی وجہ عمران خان کی بہنیں ہونا ہے۔‘ پراسیکیوٹر راجا نوید کا کہنا تھا کہ ’عظمیٰ خان اور علیمہ خان کے خلاف کیس سنگین نوعیت کا ہے۔‘
دوسری جانب وکیل عاصم بیگ نے کہا کہ ’علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی عمریں دیکھیں۔‘ جج ابو الحسنات کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔ بعد میں عدالت نے علیمہ خان اور عظمی خان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔
اسرائیل کا بیروت حملے میں اہم حزب اللہ کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے
منگل کے روز علی الصبح
کیے گئے ایک حملے میں حزب اللہ کے کمانڈر سہیل حسین الحسینی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا
کہنا ہے کہ اس کے جنگی جہازوں نے بیروت کے ایک علاقے پر انٹیلی جنس معلومات کی
بنیاد پر ایک حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے جنرل سٹاف کے کمانڈر سہیل
حسین الحسینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ جنرل سٹاف حزب اللہ کا بجٹ تیار کرتی ہے اور اس کے
مختلف یونٹس کا انتظام دیکھتی ہے۔
اسرائیلی فوج کا
کہنا ہے کہ الحسینی نے ایران اور حزب اللہ کے درمیان ہتھیاروں کی منتقلی میں فیصلہ
کن کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ حزب اللہ کی اعلیٰ عسکری قیادت جہاد کونسل کے
رکن بھی تھے۔
تاہم حزب اللہ
نے ابھی تک الحسینی کے قتل کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے چار لاکھ سے زائد افراد شام نقل مکانی کرچکے ہیں: لبنانی حکام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنلبنان کی حکومت کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی سے لبنان بھر میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
لبنانی حکومت کا
کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے چار لاکھ سے زیادہ لوگ لبنان سے سرحد
پار شام نقل مکانی کر چکے ہیں۔
نقل مکانی کرنے والوں
میں سے تین چوتھائی سے زیادہ کا تعلق شام سے ہے۔ ان سے اکثر نے 2011 میں شام میں شروع
ہونے والی خانہ جنگی سے فرار ہو کر لبنان میں پناہ لی تھی۔
باقی ایک چوتھائی
لبنانی شہری ہیں۔
لبنان کی حکومت
کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی سے لبنان بھر میں
دس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
یمن کے حوثیوں کا اسرائیل پر دو میزائل داغنے کا دعویٰ
اس سے قبل ہم نے
اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی فوج نے یمن سے داغے گئے ایک میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ
کیا ہے۔
اس بیان کے کچھ دیر
بعد یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ نے کہا ہے کہ اس نے وسطی اسرائیل کے
علاقے جافا میں فوجی اہداف پر دو میزائل داغے ہیں۔
آئی ڈی ایف کا
کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے یمن سے داغے گئے ’زمیں سے زمین پر مار کرنے والے میزائل‘
کو تباہ کر دیا ہے۔
حزب اللہ کا تل ابیب کے مضافات میں اسرائیلی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
حزب اللہ کی جانب
سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے تل ابیب کے مضافات میں ایک فوجی اڈے
کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی
فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لبنان سے اسرائیل کی سرزمین پر کئی راکٹ فائر کیے
گئے تھے۔
بیان کے مطابق کچھ
راکٹوں کو اسرائیلی فضائیہ نے مار گرایا تھا جب کہ باقی کھلے علاقوں میں گرے تھے۔
اس سے قبل تل ابیب
میں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن سنے گئے تھے۔
اسرائیل کا جنوبی بیروت پر ایک اور حملہ
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج کا
کہنا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے ’انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹر‘ پر میزائل
داغے ہیں۔
اس سے قبل اسرائیلی
فوج نے جنوبی بیروت کے کچھ حصوں کے لیے انخلا کی نئی وارننگ جاری کی تھی۔
آئی ڈی ایف نے
لبنانی دارالحکومت کے جنوبی مضافاتی علاقوں بشمول برج البراجنہ محلے میں ’حزب اللہ
کی تنصیبات‘ کے قریب رہنے والے مکینوں کو انخلا کا حکم دیا تھا۔
ایکس پر آئی ڈی
ایف کے عربی ترجمان کا کہنا تھا کہ رہائشی اپنے خاندان کے افراد کی حفاظت کے پیشِ
نظر وہاں سے کم از کم 500 میٹر دور چلے جائیں۔
اسرائیلی وزیرِاعظم کا لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوموار کے روز
سات اکتوبر حملوں کو ایک سال مکمل ہونے کی یاد میں منائی جانے والے تقریبات کے حصے
کے طور پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کا خطاب مقامی ٹیلی ویژن پر نشر کیا
گیا۔
اپنے خطاب میں انھوں
اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تمام یرغمالیوں کو واپس لے کر آئیں گے چاہے وہ
زندہ ہوں یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا، ’ہم
ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں پیچھے نہیں چھوڑیں گے۔‘
نتن یاہو کا مزید
کہنا تھا کہ اسرائیلی ریاست کو مستقبل میں لاحق کسی بھی خطرے کو ناکام بنانے کے لیے
لڑائی جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے تل ابیب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک
سال کی تکلیف‘ کے بعد ’تمام اسرائیلیوں کے بحفاظت اپنے گھروں کو لوٹنے کا وقت آ گیا
ہے۔‘
اسرائیل کا ایک گھنٹے میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 120 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہIsrael Defense Forces
اسرائیلی فوج کی
جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک گھنٹے میں جنوبی لبنان میں 120 اہداف
کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیل ڈیفنس
فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس کے 100 لڑاکا طیاروں نے جنوبی لبنان میں ایک ’بڑا
فضائی آپریشن‘ کیا ہے جس میں حزب اللہ کے یونٹوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
آئی ڈی ایف کا کہنا
ہے کہ اس آپریشن کے اہداف میں حزب اللہ کی ایلیٹ رضوان فورس کے علاقائی یونٹ، میزائل
اور راکٹ فورس اور انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ شامل ہیں۔
آئی ڈی ایف کا
کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے ’ضروری کارروائیاں‘ کر
رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کا الزام ہے کہ حزب اللہ نے جان بوجھ کر اپنے ٹھکانے شہری
علاقوں میں بنائے ہیں۔
اسرائیلی فوج اقوام متحدہ کے امن دستوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے: حزب اللہ کا الزام
ٹیلیگرام پر شیئر
کی جانے والی ایک پوسٹ میں حزب اللہ نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی
لبنان میں موجود اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کو ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کر
رہی ہے۔
حزب اللہ کا دعویٰ
ہے کہ جنوبی لبنان میں تعینات اقوامِ متحدہ کی امن فوج کی ایک چوکی کے پیچھے اسرائیلی
افواج کی غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔
گروپ کی جانب سے
اپنے ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ امن دستوں کی جانوں کی حفاظت کے پیشِ نظر وہ
انتظار کریں اور اسرائیلی فوج کی نقل و حرکت کو روکنے کی کوشش نہ کریں۔
اسرائیلی فوج کا کارروائیاں لبنان کے جنوبی ساحل تک پھیلانے کا اعلان
اسرائیلی فوج نے
لبنان میں دریائے عوالی کے ساتھ اور اس کے جنوب میں ساحل سمندر پر سیر و تفریح کی غرض سے
جانے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے اگلی اطلاع تک سمندر یا
ساحل پر جانے سے گریز کریں۔
ایک بیان میں
اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ وہ جلد ہی سمندری علاقے میں کارروائیاں کرے گی
اور اس دوران ’ساحل پر رہنا اور اس علاقے میں کشتیوں کی نقل و حرکت آپ کی زندگی کے
لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔‘
دریائے عوالی
جنوبی لبنان سے بہتا ہے، اور بیروت اور سرحد کے درمیان آدھے راستے پر سمند میں جا کر ملتا
ہے۔
اسرائیل کا یمن سے داغا گیا میزائل مار گرانے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج کی
جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دو ہزار کلو میٹر دور یمن سے ایک زمین سے
زمین پر مار کرنے والے میزائل داغا گیا تھا جسے اس کی فضائیہ نے مار گرایا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی
شہر تل ابیب میں موجود بی بی سی کی ٹیموں نے یارکون پارک میں خطرے کے سائرن سنائی دینے
کی اطلاع دی تھی۔
اس حملے میں کسی
کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر 135 میزائل داغے گئے: آئی ڈی ایف
اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ نے آج صبح سے اب تک لبنان کی سرحد سے اسرائیل پر 135 راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔
گزشتہ سال سات اکتوبر کواسرائیل پر حماس کے حملے کے ایک دن بعد غزہ جنگ شروع کی گئی تھی اور تب سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تقریباً بلا ناغہ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ مہم غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے شروع کی ہے۔