حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان کارکنان کی رہائی پر اتفاق مگر ’دھرنا جاری رہے گا‘

پاکستان کی وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام کے بعد گرفتار کیے گئے کارکنان کی رہائی کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ راولپنڈی میں ’دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔‘

خلاصہ

  • تحریک انصاف کا پانچ اگست کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری اور ملک میں جاری مہنگائی کی لہر کے خلاف ’پورے ملک میں‘ احتجاج کا اعلان
  • اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے پیکا ایکٹ کے تحت درج ایک مقدمے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما رؤف حسن اور دیگر ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں دو دن کی توسیع کی ہے
  • ‎بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں اتوار کو قومی شاہراہیں بدستور بند اور موبائل سروسز معطل، صوبائی حکومت کے مطابق گوادر میں ’بلوچ قومی اجتماع‘ کے انعقاد کی اجازت نہیں لی گئی
  • ضلع کرم میں دو گروہوں کے درمیان پانچ روز سے جاری تصادم میں 30 افراد ہلاک
  • دریں اثنا اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ’لبنان کی سرزمین کے اندر‘ حزب اللہ کے سات ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان حملوں میں کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔
  • وسطی غزہ کے شہر دیر البلاح کے قریب ایک سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 30 فلسطینی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    29 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. گوادر میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک، ’بلوچ قومی اجتماع‘ میرین ڈرائیو پر منعقد کرنے کا اعلان, محمد کاظم/ بی بی سی اردو، کوئٹہ

    کوئٹہ

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں اتوار کو فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور کم از کم دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    مکران ڈویژن کی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔

    اس حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے تاہم اہلکار کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں سے دو افراد کو پیروں پر گولی لگی جبکہ ایک کو پیٹ پر گولی لگی تھی۔ اہلکار نے بتایا کہ جس شخص کو پیٹ پر گولی لگی وہ زخموں کی تاب نہ لاسکا۔

    موبائل فون اور پی ٹی سی ایل نیٹ ورک بند ہونے سے گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں سے اس سلسلے میں رابطہ نہیں ہوسکا۔ تاہم مستونگ میں دھرنے میں موجود بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے الزام عائد کیا کہ ’بلوچی راجی مچی‘ یعنی بلوچ قومی اجتماع میں شرکت کے لیے آنے والے لوگوں پر سکیورٹی فورسز نے بلاجواز فائرنگ کی جس کے باعث ایک شخص زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

    ترجمان بلوچستان حکومت نے سنیچر کو کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے فائرنگ کی اطلاعات غیر مصدقہ ہیں۔

    اتوار کو بیبرگ بلوچ نے دعویٰ کیا کہ گوادر میں فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہے۔ جبکہ سنیچر کو مستونگ میں زخمیوں کی تعداد 14 تھی۔

    موبائل فون اور پی ٹی سی ایل کا نیٹ ورک بند ہونے سے گوادر کی اصل صورتحال بھی سامنے نہیں آرہی ہے لیکن مکران ڈویژن کی انتظامیہ کے اہلکار کا دعویٰ ہے کہ تاحال وہاں حالات کنٹرول میں ہیں۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور حق دو تحریک نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قافلوں پر فائرنگ کی مذمت کی ہے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچ قومی اجتماع میرین ڈرائیو پر منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اہلکار کے مطابق اس وقت میرین ڈرائیو کے علاقے میں گوادر سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں لیکن صورتحال کنٹرول میں ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ گوادر سے باہر سے آنے والے افراد کی ایک بہت بڑی تعداد کو تلار کے مقام پر سکیورٹی فورسز نے روکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہاں حالات خراب ہونے اور روکے جانے والے لوگوں کے گوادر پہنچنے کی صورت میں شاید صورتحال کنٹرول سے باہر سے ہوجائے۔

    خیال رہے کہ تلار کی طرح بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حکومت نے شاہراؤں کو بند کرکے لوگوں کو گوادر جانے سے روک رکھا ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان شاید رند نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوادر میں جلسے کی اجازت نہیں لی ہے۔

    بلوچستان میں ماضی میں امن و امان کے پیش نظر کسی علاقے میں صرف موبائل فون سروس معطل رہی ہے لیکن گوادر میں پی ٹی سی ایل نیٹ ورک کو بھی بند کیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ سے رابطوں کے حوالے سے سوال پرانتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ فون سروس جب تک بحال تھی توانتظامیہ کا بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنمائوں سے رابطہ تھا لیکن اب فون بند ہونے سے ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

    محکمہ داخلہ کے اہلکار کے مطابق گذشتہ روز تک ڈپٹی کمشنر گوادر براہ راست اور علاقائی عمائدین کے ذریعے ڈاکٹر ماہ رنگ سے رابطے میں تھا اور وہ بڑی حد تک انھیں جلسے کی جگہ تبدیل کرنے کے لیے قائل بھی کرچکے تھے لیکن مستونگ میں گوادر آنے والے قافلے پر فائرنگ کے بعد ڈاکٹر ماہ رنگ نے جگہ تبدیل کرنے سے انکار کیا اور یہ کہا کہ اب وہ ہرحال میں میرین ڈرائیو پر جلسہ کریں گی۔

    اہلکار نے الزام عائد کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے لچک کا مظاہرہ نہ ہونے کی وجہ سے اب تک بات چیت میں پیشرفت نہیں ہوسکی ورنہ انتظامیہ کی جانب سے جلسے کے انعقاد کے لیے انھیں دو تین متبادل جگہوں کی پیش کش کے علاوہ تلار سے راستہ کھولنے کی بھی پیشکش کی گئی تھی۔ موبائل فون سروس معطل ہونے سے ڈاکٹر ماہ رنگ سے رابطہ نہ ہونے کے باعث اس سلسلے میں ان کا موقف معلوم نہیں ہوسکا۔

    تاہم گذشتہ روز انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ حکومت ان کو جلسہ منعقد نہیں کرنے دے رہی ہے۔ دوسری جانب گذشتہ روز کوئٹہ سے گوادر جانے والے قافلے پر مستونگ میں فائرنگ اور گوادر کے لیے بلوچستان کے دیگر علاقوں سے جانے کی اجازت نہ دینے پر کوئٹہ شہر کے بعض حصوں کے علاوہ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔

    کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ حکومت کی جانب سے گوادر لوگوں کو جانے سے روکنے کے لیے شاہراہوں کی بندش اور اس کے خلاف شٹرڈاؤن ہڑتال اور احتجاج کی وجہ سے بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج رہیں۔

  3. حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان مذاکرات: کارکنان کی رہائی کا حکم، ’دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا‘

    جماعتِ اسلامی، حکومت، دھرنا، مذاکرات

    ،تصویر کا ذریعہJamaat-e-Islami/X

    پاکستان کی وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہونے کے بعد اعلان کیا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے کارکنان کو رہا کر دیا جائے گا۔

    اتوار کو حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جماعتِ اسلامی کی کمیٹیوں کے درمیان ملاقات راولپنڈی میں ہوئی۔

    مذاکرات کے بعد وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے صحافیوں کو بتایا کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی نے 35 گرفتار کارکنان کی فہرست حکومتی ٹیم کو دی ہے اور حکومت نے ان تمام افراد کی فی الفور رہائی کا اعلان کر دیا ہے۔

    ’ہم نے انھیں کہا ہے کہ کوئی سیاسی کارکن گرفتار نہیں ہوگا۔‘

    خیال رہے جماعت اسلامی کا دھرنا گذشتہ تین دنوں سے راولپنڈی میں جاری ہے۔

    وفاقی وزیرِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور کل ہوگا۔

    ’ہماری کوشش یہ ہے کہ کل مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران تمام معاملات خوش اصلوبی سے حل ہوجائیں اور ہم اس دھرنے کو عزت و آبرو کے ساتھ رخصت کریں۔‘

    جماعت اسلامی کے مطالبات

    دوسری جانب جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے دھرنے کا ایجنڈا حکومتی کمیٹی کے ساتھ شیئر کرلیا گیا ہے۔

    صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے حکومتی کمیٹی کو کہا ہے کہ بجلی کے بِل ادا کرنا اب عوام کے لیے ناممکن ہوگیا ہے، پیٹرول کی قیمتیں ناقابلِ برداشت ہو گئی ہیں اور اضافی ٹیکس کے نفاذ کے سبب تنخواہ دار طبقے کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔‘

    لیاقت بلوچ کے مطابق حکومتی کمیٹی نے جماعتِ اسلامی کے مطالبات نوٹ کر لیے ہیں اور کہا ہے کہ حکومت ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دے کر اس کے سامنے جماعتِ اسلامی کے مطالبات رکھے گی۔

    لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ ’دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔‘

    جماعت اسلامی کے مطالبات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حکومتی کمیٹی کے رکن اور وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ’جماعتِ اسلامی نے جو باتیں ہم سے کی ہیں ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ عوام کے ریلیف کے لیے کام کیا جائے۔‘

    ’اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو پیٹرول کی قیمت میں بھی کمی آئے گی، ان تمام معاملات پر بات چیت ہوئی ہے۔‘

  4. عمران خان کی گرفتاری کا ایک سال: پی ٹی آئی نے پانچ اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کا ایک برس مکمل ہونے پر پانچ اگست کو ملک بھر میں جلسے اور احتجاجی مظاہرے کریں گے۔

    اتوار کو پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ’پانچ اگست کو ہم دو ایشوز پر پورے پاکستان میں جلسے اور بڑے بڑے مظاہرے کریں گے۔ ایک تو پانچ اگست عمران خان کی گرفتاری کا دن ہے، ان کو غیرقانونی طریقے سے من گھڑت مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔‘

    اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ پانچ اگست کو مہنگائی اور عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر اراکین کو قید میں رکھنے کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔

    خیال رہے پانچ اگست 2023 کو عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا سُنائی گئی تھی جس کے بعد انھیں لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سزا کو معطل کر دیا تھا۔

    عمران خان کو اس وقت بھی متعدد مقدمات کا سامنا ہے اور وہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

    کریک ڈاؤن کی مذمت

    پریس کانفرنس کے دوران اسد قیصر نے دعویٰ کیا کہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ان کے اراکینِ اسمبلی پر ’وفاداریاں تبدیل‘ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ اراکینِ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی توہین کریں گے تو پھر پارلیمنٹ کی کیا حیثیت ہے؟‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے اراکین اسمبلی پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

    خیال رہے رواں مہینے کی 12 تاریخ کو سپریم کورٹ نے سنّی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو منظور کر لیا تھا۔

    سنی اتحاد کونسل کی اپیل کو سپریم کورٹ کے آٹھ ججز نے منظور کیا جبکہ پانچ ججز نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب امیدواروں کو کسی اور جماعت کا رکن قرار نہیں دیا جا سکتا اور پی ٹی آئی ہی مخصوص نشستوں کے حصول کی حقدار ہے۔

  5. پی ٹی آئی رہنما رؤف حسن کے ریمانڈ میں دو دن کی توسیع، عدالت میں متوقع دورہ انڈیا کے حوالے سے بازپرس, فرحت جاوید، بی بی سی اردو اسلام آباد

    پی ٹی آئی، رؤف حسن، ریمانڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے پیکا ایکٹ کے تحت درج ایک مقدمے میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما رؤف حسن اور دیگر ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں دو دن کی توسیع دے دی ہے۔

    پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان رؤف حسن اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سیدہ عروبہ کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد اتوار کی صبح عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

    ڈیوٹی جج مرید عباس نے سیدہ عروبہ کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کردی اور انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

    سماعت کے دوران ایف آئی اے کے وکیل نے عدالت میں ’ریاست مخالف ویڈیوز کے ٹرانسکرپٹ‘ جمع کروائی اور کہا کہ فرانزک اور مزید ثبوتوں کے حصول کے لیے ملزمان کو مزید آٹھ روز کے جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقات ادارے کے حوالے کیا جائے۔

    جج مرید عباس نے دورانِ سماعت ایف آئی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا رؤف حسن کا انڈیا سے ویزہ اور ٹکٹ آیا ہے؟ ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے اس بات کی تصدیق کی۔

    جبکہ پی ٹی آئی رہنما نے اس حوالے سے عدالت کو بتایا کہ وہ ایک علاقائی تھنک ٹینک چلاتے ہیں۔ جج نے ان سے پوچھا کہ راہُل نامی انڈین شہری سے ان کی گفتگو ریکارڈ پر موجود ہے، کیا وہ اس کا اقرار کرتے ہیں؟

    رؤف حسن نے عدالت کو بتایا کہ وہ کنگز کالج لندن کے سینیئر فیلو ہیں اور راہُل نامی شخص برطانیہ کے رہائشی ہیں جنھوں نے دسمبر 2023 میں انھیں بحرین میں ایک ایونٹ میں بطور گیسٹ سپیکر مدعو کیا تھا۔

    دورانِ سماعت رؤف حسن نے عدالت کو بتایا کہ ان کی ذمہ داری الیکٹرانک میڈیا سے ڈیل کرنا ہے ، سوشل میڈیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ سوشل میڈیا ہینڈل کرتے ہیں۔

    خیال رہے کہ 22 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے سیکرٹریٹ پر چھاپہ مار کر سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن کو گرفتار کر لیا تھا۔

    جس کے بعد اگلے ہی روز اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے رؤف حسن کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کیا تھا۔

    25 جولائی کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن سمیت دیگر 9 ملزمان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔

    آج پی ٹی آئی کے وکیل علی بخاری نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد سے ایک خاتون عروبہ کو گرفتار کیا گیا ہے، جس پر ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ مذکورہ خاتون ایکس (سابق ٹویٹر) پر پارٹی کے اکاؤنٹس چلاتی ہیں، اور یہ کہ انہوں نے ابھی تک ان اکاؤنٹس کا اختیار حکام کے حوالے نہیں کیا ہے۔

    اس موقع پر وکیل علی بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ خاتون ایک ملازم کے طور پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہینڈل کرتی ہیں، انھیں ہاسٹل سے گرفتار کیا گیا جو کہ قانون کے خلاف ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ ’جب موبائل فون ایف آئی اے کے پاس ہیں تو ملزمان کو چھوڑ دیا جائے، اگر کچھ سامنے آتا ہے تو عدالتیں موجود ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہوا ہے کہ موبائل فون اور لیپ ٹاپ واپس کر دیے جائیں۔‘

  6. ضلع کرم میں دو گروہوں کے درمیان پانچ روز سے جاری تصادم میں 30 افراد ہلاک, عزیر اللہ خان، بی بی سی اردو

    کرم، پاڑہ چنار

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    خیبر پختونخوا کے ضلع کُرم کے حکام کے مطابق دو گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 30 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے تاہم اب مقامی سطح پر سیز فائر پر عملدرآمد کے بعد صورتحال معمول پر ہے۔

    پاڑہ چنار کے سرکاری ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر میر حسن کے مطابق پانچ روز میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 30 ہے جبکہ 150 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ادھر ضلع کرم کے ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ قبائلی عمائدین اور مقامی لوگ کی مدد سے سیز فائر کروایا گیا ہے جس پر عملدرآمد جاری ہے۔

    اس سے قبل کُرم کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد نثار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مقامی قبائل کے درمیان ضلع کے مختلف علاقوں میں پانچ روز سے جاری تصادم کے بعد آج جنگ بندی ہو گئی ہے اور اب سکیورٹی ادارے علاقوں میں قائم مورچوں کو خالی کروا رہے ہیں۔

    محمد نثار کے مطابق یہ جھڑپیں ضلع کے دور دراز علاقوں میں جاری تھیں جہاں اگر کوئی زخمی ہوتا ہے تو اس کا علاج وہیں کر لیا جاتا ہے اور ہلاک افراد کی فوراً ہی تدفین کردی جاتی ہے۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مزید کہتے ہیں کہ حالات معمول پر آنے کے بعد معلومات حاصل کی جائیں گی کہ اس تصادم میں کتنا جانی نقصان ہوا ہے۔

    بی بی سی کو مقامی افراد نے بتایا کہ گذشتہ رات 12 بجے دونوں گروہوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور اس دوران بھاری راکٹ اور گولے بھی پاڑہ چنار شہر میں گرے۔

    پولیس اور مقامی لوگوں کے مطابق ضلع کرم کے علاقہ بوشہرہ اور مالی خیل میں مقیم قبائل کے درمیان زمین کا تنازع پانچ روز پہلے شروع ہوا اور دونوں جانب سے شدید فائرنگ کی گئی جس میں خود کار بھاری ہتھیار بھی استعمال کیے گئے۔

    زمین کا تنازع فرقہ وارانہ شکل کیسے اختیار کرگیا؟

    یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب ضلع کرم میں زمین، پانی، راستوں یا جنگل کی ملکیت کا تنازع خون ریز جھڑپوں میں تبدیل ہوا ہو۔ یہ جھڑپیں اکثر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں بھی بدل جاتی ہیں۔

    گزشتہ ماہ ضلع کرم میں امن کے قیام کے لیے اہلسنت اوراہل تشیع برادری نے علاقے میں خیر سگالی کے لیے اقدامات بھی کیے تھے اور اہلسنت برادری کی احتجاجی ریلی میں اہل تشیع افراد نے پانی کی سبیلیں لگائی تھیں۔

    ضلع کرم میں یہ قبائل علاقوں اور فرقوں کی بنیاد پر تقسیم ہیں۔ اپر کرم کے علاقے تری مینگل میں اکثریت کا تعلق اہلسنت مکتبہ فکر سے ہے، جبکہ پیواڑ میں مقیم افراد کا تعلق اہل تشیع برادری سے ہے۔

    اسی طرح غوز گڑھی میں آباد قبیلے کا تعلق اہلسنت جبکہ کونج علیزئی میں مقیم قبیلے کا تعلق اہل تشیع برادری سے ہے۔

    مقامی صحافی علی افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی جو تنازع شروع ہوا ہے یہ ملی خیلاور بوشہرہ قبائل کے درمیان شروع ہوا ہے اور یہ قبائل دریائے کرم کے ساتھ آباد ہیں ۔

    یہ تنازعات اگرچہ قبائل کے درمیان شروع ہوتے ہیں لیکن باقی علاقوں کے لوگ بھی اس میں مسلک کی وجہ سے شامل ہوجاتے ہیں۔

  7. کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران دو جاپانی کوہ پیما لاپتہ: ڈپٹی کمشنر شگر

    پاکستان، جاپان، کے ٹو

    ،تصویر کا ذریعہKarar Haideri

    پاکستان میں دو جاپانی کوہ پیما دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہوگئے ہیں۔

    دونوں کوہ پیما الپائن سٹائل سے کوہ پیمائی کر رہے تھے، جس میں نصب شدہ رسیوں کی مدد کم سے کم لی جاتی ہے اور کوہ پیما انتہائی برق رفتاری سے چوٹی سر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    ماہرین الپائن سٹائل کو انتہائی خطرناک اور مشکل قرار دیتے ہیں۔

    شگر کے ڈپٹی کمشنر ولی اللہ فلاحی کے مطابق جاپانی کوہ پیما کینرو ناکاجیما اور کزویا ہرائڈے دو روز قبل لاپتہ ہوئے تھے اور دونوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق دونوں کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے گذشتہ روز ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا گیا تھا، جبکہ ابھی بھی زمینی آپریشن جاری ہے۔

    الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدری کے مطابق دونوں کوہ پیما اپنی مہم کے دوران تقریباً سات ہزار میٹر کی بلندی پر لاپتہ ہوئے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ لاپتہ جاپانی کوہ پیما نہ صرف الپائن سٹائل کے ذریعے کے ٹو سر کرنے کی کوشش کر رہے تھے بلکہ ان کا ارادہ تھا کہ کے ٹو کے مغربی حصے میں ایک نئے روٹ کے ذریعے یہ مہم مکمل کی جائے۔

    واضح رہے رواں برس اس سے قبل چار جاپانی باشندے کوہ پیمائی کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں۔

  8. ’بلوچ قومی اجتماع‘: بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں قومی شاہراہیں اور گوادر میں فون نیٹ ورک بند, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی، گوادر، بلوچستان

    ‎بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں اتوار کو دوسرے روز بھی قومی شاہراہیں بدستور بند ہیں۔

    یہ شاہراہیں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ضلع گوادر میں ’بلوچی راجی مچی‘ (بلوچ قومی اجتماع) میں دوسرے علاقوں سے لوگوں کی شرکت کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے بند کی گئی ہیں۔

    ‎حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ چونکہ گوادر میں اجتماع کے انعقاد کی اجازت نہیں لی گئی ہے اس لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قافلوں کو گوادر جانے سے روک دیا گیا ہے۔

    ‎دوسری جانب گذشتہ روز کوئٹہ سے جانے والے قافلے پر فائرنگ کے خلاف آج شٹرڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔

    ‎ ہڑتال کے علاوہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دیگر قوم پرستجماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی کال بھی دی گئی ہے۔

    ‎بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ’بلوچ قومی اجتماع‘ ساحلی شہر گوادر میں آج شام منعقد ہو رہا ہے۔

    ‎گوادر شہر کو جانے والی تمام شاہراہوں بند ہونے کے علاوہ گوادر میں موبائل فون سروس کے علاوہ پی ٹی سی ایل کے فون بھی کام نہیں کر رہے۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ان کی بہن اس وقت گوادر میں موجود ہیں اور ان کی طرف سے پیغام پہنچایا گیا ہے کہ گوادر میں فون نیٹ ورک بند کردیے گئے ہیں۔

    ان کے مطابق گذشتہ روز ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مکران ڈویژن میں ’کرفیو‘ کی صورتحال ہے اور گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    ‎آج صبح جب گوادر کی صورتحال معلوم کرنے کے لیے موبائل فون نمبروں کے علاوہ پی ٹی سی ایل کے بعض سرکاری نمبروں پر رابطے کرنی کی کوشش کی گئی تو وہبند تھے۔

    ‎بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ کا دعویٰ ہے کہ ایک طرف حکومت گوادر میں اس اجتماع کو منعقد نہیں کرنے دے رہی ہے تو دوسری طرف گوادر شہر میں موبائل فون نیٹ ورک کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ پی ٹی سی ایل کے نیٹ ورک کو بھی بند کیا گیا ہے۔

    ‎فائرنگ کا نشانہ بننے والا قافلہ مستونگ سے آگے نہیں جا سکا

    ‎کوئٹہ سے جو قافلہ گذشتہ روز گوادر کے لیے نکلا تھا وہ بدستور کوئٹہ سے اندازاً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع مستونگ میں کوئٹہ کراچی ہائی وے پر موجود ہے۔

    ‎اس قافلے پر گذشتہ روز اس مقام کے قریب فائرنگ کی گئی تھی جس میں مجموعی طور پر 14 افراد گولی لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے تھے۔

    ‎بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے فائرنگ کا الزام فرنٹیئرکور پر عائد کیا گیا ہے۔

    ‎تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کی اطلاعات غیر مصدقہ ہیں۔

    ‎جب بیبرگ بلوچ سے اس قافلے کی کوئٹہ سے آگے نہ بڑھنے کی وجوہات پوچھی گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، جبکہ دوسری طرف قافلے میں شامل گاڑیوں کے ٹائروں کو بھی فائرنگ کرکے ناکارہ بنادیا گیا۔

    ‎انھوں نے بتایا چونکہ راستوں کی بندش کی وجہ سے ان گاڑیوں کے ٹائر نہیں منگوا سکتے اس لیے قافلے کے شرکا نے مستونگ میں ہی دھرنا دیا ہوا ہے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی، گوادر، بلوچستان

    ‎بلوچستان میں شاہراہیں کہاں کہاں بند ہیں؟

    ‎بلوچستان میں قومی شاہراہیں قلات ڈویژن اور مکران ڈویژن میں بند ہیں کیونکہ ’بلوچ قومی اجتماع‘ میں قافلوں کو زیادہ تر ان ہی دو ڈویژنوں کے علاقوں سے گزرنا ہے۔

    ‎محکمہ داخلہ بلوچستان کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قلات ڈویژن کے 6 اضلاع مستونگ، قلات، خضدار، آواران، لسبیلہ اور حب میں مجموعی طور پر 14 مقامات پر شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔

    محکمہ داخلہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ رکاوٹیں سکیورٹی کی وجہ سے کھڑی کی گئی ہیں تاکہ لوگوں کے لیے خطرات کم کیے جا سکیں۔

    ‎تاہم حکومت کی جانب سے شاہراہوں کی بندش سے عام لوگوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ‎ان رکاوٹوں کی وجہ سے گزشتہ روز فاقلے پر فائرنگ کے ان شدید زخمیوں کو بھی کوئٹہ لانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جن کو مستونگ میں ابتدائی طبیّ امداد کی فراہمی کے بعد کوئٹہ منتقل کیا جارہا تھا۔

    ‎اس سلسلے میں ایک وائرل ہونے والی ویڈیو میں لوگ سکیورٹی اہلکاروں سے روڈ کھولنے کے لیے منت سماجت کرتے ہوئے بھی دکھائی دے رہے تھے۔

    ‎عام لوگوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے سوال پر حکومت کے ترجمان شاہد رند کا کہنا تھا کہ حکومت عام لوگوں کے نقل و حمل کو جاری رکھنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

    ’پُرامن اجتماع کا انعقاد ہمارا حق ہے‘

    ‎بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ پہلے ہی گوادر پہنچ چکی تھیں۔

    ‎گزشتہ روز انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئینی اور قانونی طور پر گوادر سمیت پورے بلوچستان میں پُرامن اجتماع کا انعقاد ہمارا حق ہے، لیکن حکومت ہمیں گوادر میں اجتماع منعقد نہیں کرنے دی رہی ہے۔

    ‎ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف گوادر میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں بلکہ گوادر کے لیے آنے والے راستوں کو بھی بند کیا گیا ہے۔

    ‎ڈاکٹر ماہ رنگ کے بقول بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سے تین کارکنوں کو مبینہ طور پر جبری طورپر لاپتہ کیا گیا ہے اور متعدد اراکین کو کوئٹہ سے گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

    ‎ان کا کہنا تھا اس اجتماع کے انعقاد کا اعلان بہت پہلے سے کیا گیا تھا اور اس کے لیے تیاریاں ایک ماہ سے جاری تھیں۔

    ‎انھوں نے کہا کہ ہم ’بلوچ قومی اجتماع‘ گوادر میں ہی منعقد کریں گے اور اگر حکومت نے اس پرامن اجتماع کے انعقاد میں رکاوٹ ڈال کر حالات کو خراب کیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہی ہوگی ۔

    ‎تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی کو پُرامن اجتماع کے انعقاد یا احتجاج کے انعقاد سے نہیں روکتی اور حکومت شہریوں کے اس حق کو تسلیم کرتی ہے لیکن شہریوں کو بھی حکومت کے حق اور اختیار کو تسلیم کرنا چائیے۔

    ‎ان کا کہنا تھا کہ اگر پُرامن احتجاج کرنا شہریوں کا حق ہے تو اس کے لیے جگہ کا انتخاب کرنا حکومت کا حق ہے۔

    ‎ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ نے یہ کہا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اجتماع کی جگہ کو تبدیل کرے تو حکومت ان کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرے گی۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی، گوادر، بلوچستان

    ‎حکومت گوادر میں اجتماع کے انعقاد کی اجازت نہ دینے کا کیا جواز پیش کررہی ہے؟

    ‎وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے جمعے کے روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اس موضوع پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بلوچ یکجہتی کمیٹی آخر گوادر میں ہی یہ اجتماع کیوں منعقد کرنا چاہتی ہے؟ کوئٹہ یا بلوچستان کے کسی اور مقام کا انتخاب کیوں نہیں کیا جارہا ہے؟‘

    ‎وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گوادر ایک بین الاقوامی شہر ہے اور اس میں سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے والاہے۔

    ‎ان کا کہنا تھا کہ داسو میں پیش آنے والے واقعے کے بعد حکومت نے چین سے بات کرکے سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع کروانے کے لیے ایک ماحول بنایا، لیکن آج جب سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے لگا تو ان کو گوادر کا یاد ستانے لگی۔

    ‎انھوں نے بتایا کہ 14اگست کو گوادر کے نئے ایئر پورٹ کا افتتاح بھی ہونے جارہا ہے۔

    ‎انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہمارے پاس یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اس اجتماع میں دھماکہ کروایا جائے گا اور ایک کالعدم بلوچ عسکری تنظیم خود یہ دھماکہ کروانا چاہتی ہے۔

    ‎سرفراز بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ جگہ کی تبدیلی کے لیے حکومت نے بیک ڈور مذاکرات کیے لیکن اس کے باوجود بلوچ یکجہتی کمیٹی گوادر میں ہی یہ اجتماع منعقد کرنے پر بضد ہے۔

    ‎’بلوچ قومی اجتماع‘ کے انعقاد کے کیا مقاصد ہیں؟

    ‎’بلوچی قومی اجتماع‘ کے انعقاد کا اعلان کئی ہفتوں پہلے یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ عرف شاہ جی نے کیا تھا۔

    ‎اس میں افغانستان اور ایران سے تعلق رکھنے والےبلوچوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

    ‎ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے الزام عائد کیا کہ بلوچوں کی نسل کشی کے علاوہ ہزاروں افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔

    ‎ان کا کہنا تھا کہ بلوچوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے علاوہ ان کے وسائل پر بھی قبضہ کیا جارہا ہے۔

    ‎انھوں نے کہا کہ اس پُرامن اجتماع کے انعقاد کا مقصد ان اقدامات کی روک تھام کے لیے ایک لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔

  9. اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں پر راکٹ حملے کے جواب میں اسرائیلی فضائیہ کا لبنان میں حزب اللہ کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    گیٹی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کو نشانہ بنایا ہے۔

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ اس نے ’لبنان کی سرزمین کے اندر‘ حزب اللہ کے سات ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان حملوں میں کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔

    اب سے کچھ دیر قبل ہم نے آپ کو اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں میں فٹبال کے ایک میدان پر راکٹ گرنے کے متعلق بتایا تھا جس میں 12 افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

    اسرائیل نے سنیچر کے روز مجدل شمس کے دروز قصبے پر ہونے والے حملے کا الزام لبنانی عسکریت پسند گروپ پر عائد کیا ہے تاہم حزب اللہ نے اس میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان مکمل جنگ شروع کروانے کا سبب بن سکتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ایک بیان میں تمام فریقوں سے 'زیادہ سے زیادہ تحمل' برتنے کے لیے کہا گيا ہے کیونکہ اس کے مطابق اس میں وسیع تر تنازعے کا خطرہ ہے جو 'پورے خطے کو ناقابل یقین حد تک تباہی کی لپیٹ میں لے گا۔'

  10. اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں پر راکٹ حملے میں 12 افراد ہلاک، اسرائيل اور حزب اللہ کا ایک دوسرے پر الزام

    epa

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں میں فٹبال کے ایک میدان پر راکٹ گرنے سے 12 افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ یہ راکٹ لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کی طرف سے داغا گیا تھا جو کہ مجدل شمس کے دروزے قصبے پر گرا۔

    حزب اللہ نے اسرائیل کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے اور اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ یہ دھماکہ اسرائیلی انٹرسیپٹر راکٹ کی وجہ سے ہوا ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے حزب اللہ کے خلاف انتقامی کارروائی کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ اسے اس کی 'بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔'

    مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان مکمل جنگ شروع کروانے کا سبب بن سکتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ایک بیان میں تمام فریقوں سے 'زیادہ سے زیادہ تحمل' برتنے کے لیے کہا گيا ہے کیونکہ اس کے مطابق اس میں وسیع تر تنازعے کا خطرہ ہے جو 'پورے خطے کو ناقابل یقین حد تک تباہی کی لپیٹ میں لے گا۔'

    حزب اللہ کے ترجمان محمد عفیف نے حملے کی ذمہ داری سے انکار کیا اور بی بی سی ان رپورٹس کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہی ہے جن میں عسکریت پسند گروپ نے اقوام متحدہ کو بتایا تھا کہ دھماکہ اسرائیلی انٹرسیپٹر راکٹ کی وجہ سے ہوا ہے۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد کی عمریں 10 سے 20 سال کے درمیان ہیں۔

    خیال رہے کہ غزہ کی جنگ کے بعد سے ہی لبنان کے طاقتور گروپ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔

  11. غزہ: سکول پر اسرائیلی حملے میں 30 افراد ہلاک، مرنے والوں میں زیادہ تر بچے شامل

    epa

    ،تصویر کا ذریعہepa

    وسطی غزہ کے شہر دیر البلاح کے قریب ایک سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 30 فلسطینی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے کہا ہے کہ مرنے اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر بچے شامل ہیں جبکہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے میسیجنگ پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر کہا کہ خدیجہ سکول کے اندر حماس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول موجود ہے۔

    آئی ڈی ایف نے مزید کہا کہ حماس اس کمپاؤنڈ کو حملوں کی منصوبہ بندی اور ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کے لیے چھپنے کی جگہ کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔ جبکہ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متاثرین عام شہری تھے اور ان میں زیادہ تر بچے تھے۔

    بی بی سی نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں زخمیوں میں بچوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    غزہ کی سول ڈیفنس سروس نے کہا کہ یہ سکول بے گھر لوگوں کو پناہ دے رہا تھا۔

    حماس نے ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا کہ سکول کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی رپورٹ 'جھوٹی' ہے جبکہ سکول پر ہونے والے حملے میں 'بے گھر، بیمار اور زخمی افراد مارے گئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔'

    ایک عینی شاہد مصطفیٰ رفاتی نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے سے ان کا جسم لرز اٹھا اور وہ جھٹکے سے گر گئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ خوف کے مارے سکول کے اندر بھاگے تو وہاں انھوں نے انتہائی 'خوفناک منظر' دیکھا جس میں لوگوں کے اعضا ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے۔

    جائے وقوعہ سے تصدیق شدہ ویڈیو میں افراتفری کی صورت حال کو دیکھا جا سکتا ہے جس میں لوگ ملبے میں اٹے ہوئے کمپاؤنڈ کے ارد گرد بھاگ رہے ہیں۔ مرد دو خون آلود بچوں کو اپنی بانہوں میں اٹھائے ہوئے ہیں جبکہ ایک عورت دوسری عورت کو گلے لگا رہی ہے اور ایک گروپ ایک زخمی آدمی کو سٹریچر پر اٹھائے جا رہا ہے جبکہ ایک لاش کمبل میں ڈھکی ہوئی زمین پر پڑی ہے۔

    غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ دیر البلاح اور جنوبی شہر خان یونس میں آئی ڈی ایف کی بمباری کے نتیجے میں سنیچر کی صبح سے اب تک 53 افراد ہلاک اور 189 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل بھی آئی ڈی ایف پر سکولوں اور ہسپتالوں پر متعدد حملوں کے الزامات ہیں جن کے متعلق اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ حماس کے ٹھکانے تھے۔

    یہ حملہ اس وقت ہوا جب اسرائیل غزہ میں اپنی مہینوں سے جاری فوجی مہم جاری رکھے ہوئے ہے جس میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب 39,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔

  12. مستونگ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے 14 افراد زخمی، ’سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کی اطلاعات غیر مصدقہ ہیں‘: حکومت, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی، گوادر، مستونگ

    ،تصویر کا ذریعہBaloch Yakjehti Committee

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع گوادر میں اتوار کو ’بلوچ قومی اجتماع‘ منعقد ہو رہا ہے اور اس اجتماع میں شرکت کے لیے جانے والے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ایک قافلے پر مستونگ میں فائرنگ ہوئی ہے جس میں 14 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما اور قافلے میں موجود بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ فائرنگ ایک مقامی ہوٹل کے قریب اس وقت کی گئی جب قافلہ کوئٹہ کراچی ہائی وے پر پہنچنے والا تھا۔

    مستونگ میں نواب غوث بخش رئیسانی شہید میموریل ہسپتال کے ترجمان ارباب اویس کاسی نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے 14افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویشناک تھی جنھیں طبیّ امداد کی فراہمی کے بعد کوئٹہمنتقل کیا گیا ہے۔

    فائرنگ کوئٹہ سے روانہ ہونے والے قافلے پر کی گئی‘

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ پہلے ان کے قافلے کو کوئٹہ کے نواح میں سونا خان تھانے کے علاقے میں روکا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب یہاں سے انھیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی تو انھوں نے دشت سے کنڈ میسوری کے راستے مستونگ جانے کی کوشش کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں بھی ایف سی اور پولیس کے اہلکارموجود تھے جنھوں نے قافلے کو روکنے کے لیے مبینہ طور پر آنسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ لاٹھی چارج بھی کیا، لیکن قافلے کے لوگ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب قافلہ کوئٹہ کراچی ہائی وے کے قریب پہنچا تو اس پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ان کے 14ساتھی زخمی ہوگئے ہیں۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی گاڑیوں پر فائرنگ ایف سی کے اہلکاروںنے کی، جس سے چھ گاڑیوں کے ٹائر بھی پھٹ گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ فی الحال انھوں نے فائرنگ کے واقعے کے خلاف آئندہ کا لائحہ طے ہونے تک جائے وقوعہ کے قریب ہائی وے پر دھرنا دیا ہوا ہے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی، گوادر، مستونگ

    ،تصویر کا ذریعہBaloch Yakjehti Committee

    اس واقعے کے حوالے سے متعدد ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں، جن کی اگرچہ آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جاسکی، لیکن بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ وہ اسی واقعے کی ہیں۔

    ان ویڈیوز میں فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں، لیکن فائرنگ کرنے والے نظر نہیں آرہے ہیں۔

    گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ان گولیوں کے خالی خولوں کو اکھٹا کیا جارہا ہے جو قافلے پر فائر کیے گئے تھے، جبکہ بعض ویڈیوز میں قافلے میں شامل چند گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

    اس واقعے کے حوالے سے انتظامیہ کا موقف جاننے کے لیے ڈپٹی کمشنر مستونگ سے فون پر رابطے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جبکہ کمشنر قلات سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

    تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مستونگ میں فائرنگ سے متعلق خبریں صرف افواہیں ہیں۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کی اطلاعات غیر مصدقہ ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو دانستہ طور پر خرابی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے، قانون سے کوئی مبرا نہیں، امن میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    ترجمان کے مطابق گوادر میں مظاہرے کے درپردہ عزائم واضح ہیں، پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے، تاہم قانون کسی کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    انھوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کو بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی دعوت دے چکے ہیں اور اس حوالے سے وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبائی اسمبلی میں پالیسی بیان بھی دیا۔

  13. ’مذموم سوشل میڈیا مہم‘ میں ملوث ملزمان کے خلاف تحقیقاتی ٹیم تشکیل

    پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے ملک میں ’افراتفری اور خرابی‘ پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی ’مذموم مہم‘ کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) قائم کردی ہے۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی میں اسلام آباد پولیس کے آئی جی، ایف آئی سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر، اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن، محکمہ انسدادِ دہشتگردی کے ایس ایس پی اور ایف آئی اے انسدادِ دہشتگردی ونگ کے ڈائریکٹر شامل ہیں۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی تحقیقات کرے گی کہ اس مہم کو چلانے کے پیچھے ملزمان اور ان کے ساتھیوں کے مقاصد کیا ہیں۔

    وزارتِ داخلہ کے نوٹیفکیشن میں کسی سیاسی جماعت کا ذکر تو نہیں لیکن رواں ہفتے پیر کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) ’ریاست مخالف پروپگینڈے‘ میں ملوث ہے۔

    پیر کو اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دفتر پر چھاپہ بھی مارا تھا اور اس کارروائی کے دوران پارٹی کے مرکزی ترجمان رؤف حسن کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

    گرفتاری کے بعد رؤف حسن پر ایف آئی اے نے سائبر کرائم کے قوانین کے تحت ایک مقدمہ بھی درج کیا تھا۔ اس وقت رؤف حسن سمیت نو افراد جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حراست میں ہیں۔

  14. گجرات میں احمدی ڈینٹسٹ ’عقیدے کے اختلاف‘ پر قتل، ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل: پولیس

    احمدی ڈاکٹر، گجرات

    ،تصویر کا ذریعہJamaat-e-Ahmadiyya

    پاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع گجرات کے علاقے لالہ موسیٰ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک ڈینٹسٹ کو قتل کر دیا ہے۔

    پولیس نے 53 سالہ ڈاکٹر ذکا اللہ کے قتل کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے، تاہم واقعہ کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ڈاکٹر کا خاندان بیرونِ ملک مقیم ہے اور وہ تنہا ہی پاکستان میں رہائش پذیر تھے۔

    پولیس کا مزید کہنا تھا ان کی جانب سے مقتول کی اہلیہ سے رابطہ کیا گیا ہے جو کہ آج رات پاکستان پہنچ کر مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دیں گی۔

    پولیس کا مزید کہنا تھا کہ اب تک کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے، تاہم ان کی جانب سے علاقے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو دیکھی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت کی جاسکے۔

    گجرات پولیس کے ترجمان کے مطابق ڈینٹسٹ کے قتل کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مستنصر عطا باجوہ نے قاتلوں کی گرفتاری کےلیے ایس پی انویسٹی گیشن کے زیرِ نگرانی مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔

    پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق قاتل موٹر سائیکل پر سوار ہوکر کلینک آئے اور ڈینٹسٹ ذکا اللہ ڈینٹسٹ کو قتل کر کے موقع سے فرار ہوگئے۔

    ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان عامر محمود کا کہنا ہے کہ احمدی ڈینٹسٹ کو ’عقیدے کے اختلاف کی بنا‘ پر ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔

    ترجمان جماعت احمدیہ عامر محمود کے مطابق گذشتہ ماہ 8 جون کو دو احمدیوں غلام سروراور راحت احمد باجوہ کو ضلع منڈی بہاالدین میں اور 4 مارچ کو ضلع بہاولپور میں طاہر اقبال چیمہ کو احمدی ہونے کی بنا پر قتل کیا گیا تھا۔

  15. پی ٹی آئی نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کردی، انکوائری کا مطالبہ

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے چیف الیکشن کمشنز سکندر سلطان راجہ اور الیکشن کمیشن کے دیگر اراکین کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت درج کروادی ہے۔

    پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب کی جانب سے دائر کی گئی شکایت میں سپریم جوڈیشل کونسل سے درخواست کی گئی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کے خلاف مبینہ مِس کنڈکٹ پر انکوائری کروائی جائے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ انکوئری کے نیتجے میں الزامات ثابت ہونے پر چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے اراکین کی عہدوں سے برطرفی کی سفارش کی جائے۔

    پی ٹی آئی نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ الیکشن کمشن صاف و شفاف الیکشن کروانے میں ناکام رہا ہے اور انتخابات کے دوران جماعت کے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ سٹیشنز سے باہر نکال دیا گیا تھا۔

    پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے قانون کے مطابق نتائج جاری نہیں کیے اور انتخابات سے قبل ہونے والی دھاندلی کو بھی نظرانداز کیا۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ انتخابات سے قبل پریس کانفرنسز کے ذریعے پارٹی کے اراکین سے وفاداریاں تبدیل کروائی گئیں، پی ٹی آئی کے امیدواروں سے کاغذاتِ نامزدگی چھینے گئے اور پارٹی کی میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کی گئی۔

    پی ٹی آئی کے مطابق ان تمام شکایات پر الیکشن کمیشن نے کوئی ایکشن نہیں لیا اور انتخابات کے وقت جماعت کے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 بھی وقت پر نہیں دیے گئے۔

    خیال رہے پی ٹی آئی کا موقف رہا ہے کہ رواں برس ہونے والے انتخابارت میں دھاندلی کے ذریعے انھیں ہروایا گیا ہے۔

    سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجی گئی درخواست میں پی ٹی آئی نے مزید کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان چھین کر پی ٹی آئی کو بطور سیاسی جماعت الیکشن سے باہر کردیا تھا اور اسی سبب ان سے مخصوص نشستوں بھی چھینی گئی تھیں۔

    واضح رہے رواں مہینے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی حقدار ہے اور انھیں 15 روز کے اندر یہ نشستیں دی جائیں۔

    حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور ان کی جانب سے فیصلے پر نظرِثانی کی اپیل بھی دائر کی گئی۔

  16. کوئٹہ کا ریڈ زون سیل، ’بلوچ قومی اجتماع' کے لیے گوادر جانے والے قافلے کو روک دیا گیا

    کوئٹہ، گوادر

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام ’بلوچ قومی اجتماع‘ میں شرکت کے لیے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے ساحلی شہر گوادر جانے والے قافلے کو روک دیا گیا ہے۔ جبکہ کوئٹہ کے ریڈ زون کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔

    کوئٹہ کی حدود میں بعض شاہراہوں کو نہ صرف کنٹینر لگا کر بند کیا گیا ہے بلکہ پولیس کی بھاری نفری بھی موجود ہے۔ جبکہ قلات ڈویژن کے علاوہ مکران ڈویژن بالخصوص گوادر اور کراچی کے درمیان ساحلی شاہراہ پر بھی رکاوٹوں کی اطلاعات ہیں۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس اجتماع میں شرکت سے روکنے کے لیے پورے بلوچستان میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔

    تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ کوئٹہ اور گوادر کے درمیان سکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف اضلاع میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔

    بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے یہ سوال اٹھایا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس اجتماع کے لیے ’گوادر کا انتخاب کیوں کیا ہے؟‘

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کہا کہ چونکہ گوادر میں اجتماع کے انعقاد کی اجازت نہیں لی گئی ہے اس لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قافلوں کو گوادر جانے سے روک دیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد بن اسد کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں پہلے سے ہی دفعہ 144 نافذ ہے اور ریڈ زون میں کسی کو احتجاج اور ریلی کی اجازت نہیں ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی اور خارجی راستے پر کئی مقامات بند ہیں اور اب تک دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 140 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    کوئٹہ، گوادر

    ’حکومت ہمِیں بلوچ قومی اجتماع منعقد نہیں کرنے دی رہی‘

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ گوادر پہنچ چکی ہیں۔

    فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئینی اور قانونی طور پر گوادر سمیت بلوچستان میں پُرامن اجتماع کا انعقاد ’ہمارا حق ہے لیکن حکومت ہمیں گوادر میں اجتماع منعقد نہیں کرنے دی رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم بلوچ قومی اجتماع گوادر میں ہی منعقد کریں گے اور اگر حکومت نے اس پُرامن اجتماع کے انعقاد میں رکاوٹ ڈال کر حالات کو خراب کیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہی ہوگی۔‘

    بلوچی قومی اجتماع کے انعقاد کا اعلان کئی ہفتے پہلے یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ عرف شاہ جی نے کیا تھا۔

    اس میں افغانستان اور ایران سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے الزام عائد کیا کہ اس وقت بلوچوں کی ’نسل کشی کے علاوہ ہزاروں افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے علاوہ ان کے وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ ’اس پُرامن اجتماع کے انعقاد کا مقصد ان کی روک تھام کے لیے ایک لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔‘

    ادھر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قافلوں کو گوادر جانے کی اجازت نہ دینے سے متعلق سوال پر حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوادر میں اس اجتماع کے انعقاد کی اجازت نہیں لی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت آئین اور قانون کے دائرے رہتے ہوئے کسی کو پر امن اجتماع کے انعقاد یا احتجاج کے انعقاد سے نہیں روکتی اور حکومت شہریوں کے اس حق کو تسلیم کرتی ہے لیکن شہریوں کو بھی حکومت کے حق اور اختیار کو تسلیم کرنا چاہیے۔

  17. حکومت پوری سنجیدگی سے جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات چاہتی ہے: وزیر داخلہ, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ حکومت پوری سنجیدگی سے جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات چاہتی ہے۔

    وزارت داخلہ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ وزیر داخلہ کی نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ سے دھرنے کے مطالبات سے متعلق گفتگو ہوئی ہے۔

    اس بارے میں جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق لیاقت بلوچ نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ 500 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بلوں میں 50 فیصد رعایت دی جائے اور بجلی کے بلوں میں سلیب ریٹ ختم کیے جائیں۔

    ان کے مطابق لیاقت بلوچ نے بات چیت کے دوران مطالبہ کیا کہ آئی پی پیز کے ساتھ کیپیسٹی پیمنٹ اور ڈالر میں ادائیگی کا معاہدہ ختم کیا جائے، غریب تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا ظالمانہ بوجھ واپس لیا جائے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لیا جائے اور پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی ختم کی جائے۔

    خیال رہے کہ جماعت اسلامی نے دوسرے روز لیاقت باغ راولپنڈی میں دھرنا دے رکھا ہے جہاں پارٹی رہنماؤں کی تقریر کے لیے سٹیج بھی بنا دیا گیا ہے اور دھرنے کے شرکا کے لیے کھانے پینے کا بندوبست بھی کر دیا گیا ہے۔

    گذشتہ روز امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا ’ہم پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی جنگ لڑ رہے ہیں، تنخواہ دار کو برباد کر دیا گیا ہے، غریب کو پہلے ہی تباہ کردیا گیا تھا، اب سرمایہ کار بھی اپنی ملیں بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ عوام پریشان ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

    ’بجلی کے بلوں کی وجہ سے بھائی بھائی کو قتل کر رہا ہے، یہ فارم 47 کی پیداوار حکومت ہے ان کی کوئی سنتا بھی نہیں۔‘

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا ’ایک طبقے کے لیے بجلی اور گیس فری ہے، اب بچے بچے کو بات سمجھ آگئی کہ آئی پی پیز کیا بلا ہیں۔ آئی پی پیز میں سے 80 فیصد کمپنیاں پاکستان کے لوگوں کی ہیں۔ آئی پی پیز میں حکومت میں شامل لوگوں کی کمپنیاں ہیں۔ ایک کمپنی ایسی بھی ہے جس کا ایک یونٹ 750 روپے کا پڑتا ہے۔

    ’یہ پیسے ہم کیوں ادا کریں، اب ہم یہ پیسے ادا نہیں کریں گے۔ اب ان آئی پی پیز کو لگام بھی دینا پڑے گی۔ دوبارہ بات بھی کرنا پڑے گی۔‘

  18. ’پاکستان اگر انڈیا کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی میں ملوث پایا جائے تو اس کی عسکری امداد بند کر دی جائے‘: امریکی سینیٹ میں بل پیش

    ریپبلیکن سینیٹر مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی سینیٹ میں ایک رپبلیکن رکن کی جانب سے پیش کیے گئے بل میں سفارش کی گئی ہے کہ اگر پاکستان انڈیا کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی میں ملوث پایا جاتا ہے تو امریکہ اس کی عسکری امداد بند کر دے۔

    ریپبلیکن سینیٹر مارکو روبیو کی جانب سے جمع کرائے گئے بل میں امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے انڈیا کے خلاف دہشت گردی اور ’پراکسی‘ گروپوں کی حمایت سمیت کسی بھی جارحانہ طاقت کے استعمال کے بارے میں رپورٹ طلب کی جائے۔

    بل کے متن کے مطابق ’کمیونسٹ چین‘ سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکہ کو انڈیا کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

    سینیٹر روبیو کی جانب سے پیش کیے گئے بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ انڈیا کو علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکہ کو اس کی مدد کے لیے پالیسی مرتب کرنی چاہیے۔

    بل میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ انڈیا کو روسی آلات کی خریداری کے لیے امریکی پابندیوں سے استثنیٰ دی جائے۔

    مزید کہا گیا ہے کہ ’ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاملے میں امریکہ کو انڈیا کے ساتھ اپنے قریبی اتحادیوں جاپان، اسرائیل، کوریا، اور نیٹو جیسا برتاؤ کرنا چاہیے۔‘

  19. پاکستان کا نریندر مودی کے بیان پر ردِعمل: ’انڈیا دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے اپنی بیرون ملک مخالفین کو قتل کرنے والی کارروائیوں پر غور کرے‘

    نریندر مودی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان نے انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی کے ’جارحانہ‘ ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا کو دوسروں پر دہشتگردی کا الزام لگانے کے بجائے ’بیرون ملک مخالفین کو قتل کرنے کی کارروائیوں‘ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

    جمعے کے روز انڈین وزیرِاعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے دہشت گردی اور ’پراکسی وار‘ کا سہارا لے رہا ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 26 جولائی کو لداخ کے علاقے دراس میں انڈین وزیر اعظم کی جانب سے دیے گئے جارحانہ بیان کو مسترد کرتا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایسے غیر ضروری جارحانہ بیانات سے نہ صرف علاقائی امن کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ایسے بیانات پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات بشمول جموں و کشمیر کے بنیادی تنازع کے حل کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان انڈیا کے جارحانہ اقدامات کا جواب دینے کے لیے تیار ہے ’اس کے باوجود پاکستان خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔‘

    اس سے قبل جمعے کے روز کارگل جنگ کی 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے ماضی میں جتنی بھی غلط کوششیں کیں اسے منہ کی کھانی پڑٰی لیکن اس نے اپنے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا ہے۔‘

    انڈین وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے دہشت گردی اور ’پراکسی وار‘ کا سہارا لے رہا ہے۔

    نریندر مودی کا کہنا تھا کہ انڈیا امن کے لئے کوششیں کر رہا ہے لیکن بدلے میں پاکستان نے ایک بار پھر اپنا ناقابل اعتماد چہرا دکھایا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سچ کے سامنے جھوٹ اور دہشتگردی کی ہمیشہ ہار ہوئی ہے۔

    نریندر مودی کا کہنا تھا کہ، ’آج جب میں اس جگہ سے بول رہا ہوں جہاں سے دہشت گردی کے آقاؤں کو میری آواز صاف سنائی دے رہی ہے تو میں انھیں کہنا چاہتا ہوں کہ ان کے ناپاک منصوبے کبھی کامیاب ںہیں ہونگے۔‘

    انڈین وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ کچھ ہی دن بعد پانچ اگست کو آرٹیکل 370 کے خاتمے کو پانچ سال ہوجائیں گے۔ ’جموں کشمیر آج نئے مستقبل کی بات کررہا ہے، بڑے خوابوں کی بات کررہا ہے۔‘

    اگست 2019 میں انڈیا میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے انڈین آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے۔

  20. جماعتِ اسلامی کو دو سے تین روز مری روڈ پر دھرنے کی اجازت

    جماعت اسلامی راولپنڈی

    ،تصویر کا ذریعہTwITTER/JIPOFFICIAL

    جماعتِ اسلامی نے بجلی، اشیا خوردونوش اور انکم ٹیکس میں اضافے کے خلاف جاری اپنا دھرنا مری روڈ، راولپنڈی منتقل کر دیا ہے۔

    اس سے قبل جماعتِ اسلامی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ڈی چوک پر دھرنے کا اعلان کیا تھا۔

    تاہم جمعے کے روز جماعتِ اسلامی کی مقامی قیادت اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں جماعت اسلامی کو ٹریفک بلاک کیے بغیر دو سے تین روز تک مری روڈ پر احتجاج جاری رکھنے کی مشروط اجازت دے دی گئی تھی جس کے بعد جماعتِ اسلامی نے اپنے کارکنان کو لیاقت باغ پہنچنے کی ہدایت کردی تھی۔

    رات گئے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ’ڈی چوک ہم سے دور نہیں، آدھی رات کو بھی کال دی تو کارکنان ڈی چوک تک پہنچ جائیں گے۔‘

    جمعے کو وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ نے وفاقی وزیر امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جماعت اسلامی کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں احتجاج کی اجازت دی گئی تھی، اسلام آباد کی طرف پیش قدمی سمجھ نہیں آتی۔ یہاں لوگوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔

    انھوں نے کہا ’ڈی چوک میں کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہاں حساس تنصیبات ہیں، دفاتر ہیں۔ البتہ لیاقت باغ میں سکیورٹی بھی دیں گے۔‘

    وزیر اطلاعات کے مطابق ڈی چوک میں احتجاج کا کلچر ختم کرنا ہو گا۔

    دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سے گرفتار جماعت اسلامی کے تمام کارکنان رہا کر دیے گئے ہیں۔ گرفتار کارکنوں کو تھانہ کوہسار اور تھانہ سیکٹریٹ منتقل کیا گیا تھا۔