یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
31 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک حملہ کیا ہے۔ اس کا ہدف حزب اللہ کے وہ کمانڈر تھے جو اسرائیل کے بقول گولان کی پہاڑیوں پر حملے میں ملوث تھے۔ ادھر امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ’جنگ ناگزیر نہیں ہے۔‘
بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
31 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک حملہ کیا ہے۔ اس کا ہدف حزب اللہ کے وہ کمانڈر تھے جو اسرائیل کے بقول گولان کی پہاڑیوں پر حملے میں ملوث تھے۔
جنوبی بیروت کے جس نواحی علاقے میں دھماکہ ہوا ہے اسے حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
لبنان کے وزیر اعظم نجیب مقاتی نے بیروت میں حملے کو ’اسرائیل کی کھلے عام جارحیت‘ قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں انھوں نے اس ’مجرمانہ عمل‘ اور ’شہریوں کے قتل کے لیے مسلسل جارحانہ آپریشنز‘ کو بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی کہا ہے۔
لبنانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کے ساتھ اٹھایا جائے گا تاہم انھیں امید ہے کہ حزب اللہ کا کوئی بھی جواب صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا نہیں کرے گا۔
ادھر امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ چھڑنا ناگزیر نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صدر جو بائیڈن ’کا ماننا ہے کہ اسے روکا جاسکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کے مطابق وائٹ ہاؤس سمجھتا ہے کہ لڑائی میں سفارتی حل ممکن ہے جو لبنانی اور اسرائیلی شہریوں کو ’گھر لوٹنے‘ اور محفوظ زندگی گزارنے کا موقع دے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم جارحیت میں اضافہ یا مکمل جنگ نہیں دیکھنا چاہتے۔‘
سنیچر کو مقبوضہ گولان ہائٹس کے علاقے مجدل شمس کی ایک فٹبال فیلڈ پر راکٹ حملے میں 12 بچے ہلاک ہوئے تھے۔
اسرائیل نے اس کا الزام حزب اللہ پر عائد کیا تھا تاہم حزب اللہ نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا یہ وہ جوابی کارروائی ہے جس کی اسرائیل نے دھمکی دی تھی؟
رفیع برگ، بی بی سی
سنیچر کے راکٹ حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا تھا کہ حزب اللہ کو اس کی ’بھاری قیمت چکانا پڑے گی جو اس نے اب تک ادا نہیں کی۔‘
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں پر حملے میں وہ ملوث نہیں تھا۔
یہ غیر واضح ہے کہ آیا بیروت پر حملہ وہی ’بھاری قیمت‘ ہے جس کی نتن یاہو نے دھمکی دی تھی۔ ممکن ہے کہ اسرائیل نے اس کارروائی کے ذریعے اپنے مخالفین کو صرف ایک پیغام دیا ہو۔
اسرائیل نے جان بوجھ کر اس حملے کا عوامی سطح پر اعلان کیا ہے۔ اسرائیل نے حملے کے کچھ منٹوں بعد ذمہ داری قبول کی۔ یہ اسرائیلی فوج کا ایک غیر معمولی اقدام ہے کیونکہ اکثر اوقات اس کی جانب سے ایسے واقعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی جاتی۔
دو اسرائیلی اہلکاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اسرائیل حزب اللہ کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہے تاہم وہ لبنان کو جنگ میں دھکیلنا نہیں چاہتا۔
مگر اسرائیل کی مزید کوئی کارروائی، کوئی غلطی یا حزب اللہ کا ردعمل منظرنامہ تبدیل کر سکتا ہے۔
آپ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بارے میں مزید یہاں پڑھیے:

پاکستان کے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں الیکشن ایکٹ 2017 ترمیمی بل پیش کردیا گیا ہے، جسے سپیکر سردار ایاز صادق نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔
اس بل کے مطابق کوئی رکن اسمبلی اپنی سیاسی وابستگی کے لیے نیا پارٹی سرٹیفیکیٹ نہیں دے سکا گا اور مخصوص نشستیں صرف اس سیاسی جماعت کو ملیں گی جس نے اس کی لیے فہرست پہلے سے جمع کرا رکھی ہو۔
منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ بل حکومتی رکن بلال اظہر کیانی نے پیش کیا ہے۔ جیسے ہی یہ بل اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اپوزیشن نے بل کی مخالفت کی اور ’نو نو‘ کے نعرے لگائے۔
بی بی سی کو حاصل دستاویزات کے مطابق الیکشن ترمیمی ایکٹ 2024 میں دو ترامیم متعارف کرائی جارہی ہیں۔ پہلی ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 66 اور دوسری ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 104 میں متعارف کروائی گئی ہے۔
پہلی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اپنی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا پارٹی سرٹیفیکیٹ تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دوسری ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جس پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن کو نہ دی ہو اسے مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں۔ ترمیمی ایکٹ 2024 کے مطابق یہ دونوں ترامیم منظوری کے بعد فوری طور پر نافذالعمل ہوں گی۔
واضح رہے کہ چند روز قبل مخصوص نشستوں کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے ایک فیصلہ میں قرار دیا کہ پی ٹی آئی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں لینے کی حقدار ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ میں بھی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دے دی جائیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی بحیثیت جماعت مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی قانونی و آئینی حق دار ہے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب ارکان پی ٹی آئی کا حلف نامہ دیں، جن امیدواروں نے سرٹیفکیٹ دیا کہ وہ پی ٹی آئی سے ہیں وہ اس جماعت کے ہی اراکین تصور کیے جائیں گے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف حکومتی جماعت ن لیگ اور حکومتی اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی نے نظرثانی کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ سپریم کورٹ نے ابھی مخصوص نشستوں سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا ہے اور نہ ہی نظرثانی کی درخواستوں کو سماعت کے لیے ابھی تک مقرر کیا ہے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ آٹھ پانچ کے تناسب سے دیا اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اقلیتی ججز میں شامل ہیں یعنی وہ ججز جو تحریک انصاف کو یہ نشستیں دینے کے خلاف تھے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو آئین اور قانون کی تشریح کا اختیار تو حاصل ہے مگر آئین دوبارہ تحریر کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت کے ترجمان وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عمران خان کے مذاکرات کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کبھی یہ گریبان پکڑ لیتے ہیں تو کبھی پیر پکڑ لیتے ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ ’پہلے چھوڑوں گا نہیں، اب پلیز مجھ سے بات کر لو۔‘ حکومتی ترجمان نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اب ادارہ (فوج) نیوٹرل ہوا ہے تو اب آپ حمایت مانگ رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ مقدمے کی سماعت کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فوجی قیادت کے ساتھ سے مذاکرات کرنے سے متعلق خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم فوج کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ فوج اپنا نمائندہ مقرر کرے۔‘
حکومتی ترجمان کے مطابق اب عمران خان ’فوج کے ادارے کو سیاست میں ملوث کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک دن فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں اور پھر دوسرے دن ایک اور مؤقف رکھتے ہیں۔
حکومتی ترجمان عطااللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اس ملک کے لیے سکیورٹی رسک بن چکے ہیں، جس کا ثبوت نو مئی، سائفر، آئی ایم ایف کو خط لکھنا، سوشل میڈیا سیل، ’خان نہیں تو پاکستان نہیں‘ جیسے واقعات اور نعرے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سیل جو پکڑا گیا ہے اس سے ملک دشمنی سے متعلق ثبوت ملے ہیں جنھیں جلد عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’ایک طرف آپ سوشل میڈیا سیل چلائیں، جو ملک دشمن ایجنڈے پر کاربند ہو، اور اب آپ کہتے ہیں کہ آؤ مجھ سے بات کرو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان دوبارہ یوٹرن لے رہے ہیں، وہ آج مذاکرات کے لیے منتیں کر رہے ہیں، لیکن ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
ان کے مطابق عمران خان نے دو مرتبہ نو مئی کے واقعات میں اپنے کردار کو تسلیم کیا ہے اور اب پولی گراف ٹیسٹ سے گھبرا رہے ہیں۔
وزیر نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک سازش سے نو مئی کے واقعات کرائے گئے اور پوری منصوبہ بندی سے یہ سب ہوا، جس کے پیچھے آپ کی ذہنیت تھی۔‘
وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ سی سی ٹی وی کیمروں سے ثبوت ملا کہ عمران خان کی تین بہنیں نو مئی کو لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کے باہر موجود تھیں، ان کے پارٹی کے اہم رہنما وہاں موجود تھے۔ ان کے مطابق صرف شفقت محمود اور صمصام بخاری نے پی ٹی آئی کے اجلاس میں کور کمانڈر ہاؤس اور فوجی تنصیبات کی طرف جانے کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

سابق وزیر اعظم عمران خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ مقدمے کی سماعت کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فوجی قیادت کے ساتھ مذاکرات سے متعلق کہا کہ ’ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، فوج اپنا نمائندہ مقرر کرے۔‘
کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے فوج پر کبھی الزامات نہیں لگائے بلکہ ہم نے صرف تنقید کی ہے اور ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ گھر میں کوئی بگڑا ہوا بچہ ہو تو اس پر تنقید کی جاتی ہے۔
کمرہ عدالت میں موجود جیل کے ایک اہلکار کے مطابق ایک صحافی نے سابق وزیر اعظم سے سوال کیا کہ آپ کی حالیہ باتوں سے لگ رہا ہے کہ آپ فوج سے معاملات ٹھیک کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ نے اسی فوج اور اس کے سربراہ پر الزامات عائد کیے جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے فوج پر کبھی الزام نہیں لگائے میں نے صرف تنقید کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ نہ سکھائیں کہ فوج نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کے پیچھے جنرل ضیا تھے جبکہ سقوط ڈھاکہ کے پیچھے جنرل یحییٰ خان کا ہاتھ تھا۔‘
عمران خان نے مذاکرات کے لیے اپنے مطالبات بتاتا ہوئے کہا کہ چوری کیا گیا مینڈیٹ واپس کرنے کے ساتھ ساتھ گرفتار کارکنان کی رہائی اور مقدمات کا خاتمہ ہے اور تیسرا مطالبہ ملک بچانے کا ہے جو صاف شفاف الیکشن کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
صحافی بابر ملک کے مطابق عمران خان سے گفتگو کے دوران پوچھا گیا کہ آپ فوج پر الزامات لگاتے ہیں اور انہی سے مذاکرات بھی چاہتے ہیں، سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیوں نہیں کرتے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لیے بنائی گئی کونسل ایس ائی ایف سی کیا ہے؟ محسن نقوی کون ہے؟ انھوں نے کہا کہ ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے۔
انھوں نے کہا کہ محسن نقوی انہی کا تو نمائندہ ہے، وہ آج جس مقام پر ہے وہ انہی (فوج) کے ذریعے پہنچا۔ انھوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کو ہم نے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا تھا، دوسری طرف سے کوئی نام سامنے آتا تو ہم بات کرتے۔
ایک سوال پر کہ ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں کہ آپ اور آپ کی پارٹی کے کچھ لوگ محمود خان اچکزئی پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں تو سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی پر ہمارا پورا بھروسہ ہے۔
ایک صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ محسن نقوی ان کا نمائندہ ہے، اگر ادھر سے محسن نقوی کو مذاکرات کا اختیار دیا جائے تو کیا آپ مذاکرات کریں گے؟ جس کے جواب میں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں محسن نقوی سے کبھی بات نہیں کروں گا کیونکہ جب وہ وزیر اعلیٰ تھا تو انھوں نے آئی جی پنجاب سے مل کر ہمارے لوگوں پر ظلم کیا۔
عمران خان نے الزام عائد کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے کارکن ظل شاہ کی موت کے ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سے ہم کیا مذاکرات کریں، پی پی پی اور ن لیگ دونوں فارم 47 والے ہیں اور موجودہ حکومت کا ایک ہی مقصد ہے پی ٹی آئی اور فوج کو لڑوا کر ہماری جماعت ختم کروائیں۔
’ن لیگ اور پی پی پی ڈوب رہی ہیں اور جوتے کے سہارے لٹک رہی ہیں‘
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ دونوں جماعتیں سمندر میں ڈوب رہی ہیں اور جوتے کے سہارے لٹک رہی ہیں جس پر نو مئی کا ٹیگ لگا ہے۔
انھوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مریم نواز فاشسٹ ہے اور انھوں نے آئی جی پنجاب کو اسی لیے رکھا ہوا ہے کہ انھوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں پر ظلم کیا ہے۔
انھوں نے مہنگائی اور بجلی کے بلوں کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے کی مکمل حمایت کی اور کہا کہ ہماری پارٹی اس دھرنے میں بھرپور شرکت کرے گی۔
ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی ہے لیے نکلنے والے بلوچ عوام کی بھی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں لوگوں کو غائب کرنا ظلم ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میں نے چیف جسٹس اسلام اباد ہائیکورٹ عامر فاروق کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے کیونکہ وہ مجھے ٹیریان کیس میں پھنسانا چاہتے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس عامر فاورق ان کے اور ان کی اہلیہ کے سارے کیسسز سنتے ہیں جس پر ہم نے اعتراض بھی اٹھایا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے جوڈیشل کمپلیکس سے اغوا کیا گیا تو عامر فاروق نے اسے درست قرار دیا۔‘ سابق و زیر اعظم کا کہنا تھا کہ 9 مئی واقعات میں ہماری بے گناہی سی سی ٹی وی میں چھپی ہے اور اگر 9 مئی میں پی ٹی آئی کا کوئی بندہ ملوث ہے تو اسے ضرور سزا دیں۔
دوسری جانب 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے کی اور منگل کے روز عدالتی کارروائی کے دوران نیب کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کا بیان ریکارڈ کرلیا۔عدالت نے نیب کے ایک اور گواہ ڈپٹی ڈائریکٹر نیب عمیر راتھر پر جرح مکمل کرلی۔ اس مقدمے میں مجموعی طور 35 گواہان پر جرح مکمل ایک گواہ کا بیان ریکارڈ ہوچکا ہے۔
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے کے شرکا پر مبینہ تشدد اور مختلف علاقوں سے قافلوں کو گوادر جانے سے روکنے کے خلاف بلوچستان کے متعدد علاقوں میں شٹرڈاؤن ہڑتال کے علاوہ احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
ادھر خود گوادر شہر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام گوادر میں میرین ڈرائیو پر دھرنا بھی جاری ہے۔ بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بعض اہم شاہراہیں بھی بند ہیں۔ ان شاہراہوں کی بندش کی ایک وجہ وہ رکاوٹیں ہیں جو کہ حکومت کی جانب سے یکجہتی کمیٹی کے قافلوں کو گوادر جانے سے روکنے کے لیے کھڑی کی گئی ہیں جبکہ دوسری جانب بعض علاقوں میں یہ احتجاج کی وجہ سے بھی بند ہیں۔
مستونگ شہر سے 15 کلومیٹر دور کھڈکوچہ سے تعلق رکھنے والے مقامی کونسلر اور سماجی رہنما محمد اسماعیل بلوچ نے بتایا کہ کوئٹہ کراچی ہائی وے پر ٹریفک نہیں ہے۔
اسی ہائی وے پر کوئٹہ سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کا وہ قافلہ موجود ہے جو کہ کوئٹہ سے گوادر سے نکلا تھا۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار اس قافلے کو کوئٹہ سے آگے جانے نہیں دے رہے ہیں۔
گذشتہ شب سے کوئٹہ سے جانے والے اس قافلے میں شامل یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے فون پر رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ گوادر کی طرح بعض دیگر شہروں میں بھی موبائل فون اور پی ٹی سی ایل سروس دستیاب نہیں ہیں۔
مستونگ میں موجود بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں سے رابطہ نہ ہونے پر جب مستونگ میں موجود قافلے کے بارے میں مستونگ پولیس اور لیویز فورس کے لینڈ لائنز پر رابطہ کیا گیا تو وہ نمبرز بھی بند جا رہے تھے۔
اسماعیل بلوچ نے بتایا کہ کھڈکوچہ میں تو موبائل فون سروس کام کر رہی ہے لیکن مستونگ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں رابطے نہیں ہو رہے ہیں۔
مستونگ سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی فیض درانی نے بتایا کہ موبائل فون سروس بند ہونے کی وجہ سے خبروں کی ترسیل کے لیے انھیں کھڈکوچہ کے علاقے میں آنا پڑا ہے۔
مستونگ کی طرح گوادر سے متصل ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت کے علاوہ پنجگور شہر میں بھی موبائل فونز اور پی ٹی سی ایل کے لینڈ لائنز پر رابطہ نہیں ہوپا رہا ہے۔
گوادر شہر میں اس وقت کیا صورتحال ہے؟
گوادر انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔گوادراور مکران ڈویژن کے سب سے بڑے شہر اور ہیڈکوارٹر میں رابطوں میں مشکلات کے باعث بلوچستان کے محکمہ داخلہ سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گوادر میں میرین ڈرائیو پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دھرنا آج منگل کو بھی جاری ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ میرین ڈرائیور اور اس کے دیگر علاقوں میں توڑ پھوڑ بہت ہوئی ہے جبکہ ’بی اینڈ آر‘ کے دفتر کو نقصان پہنچانے کے علاوہ روڈ پر دیگر تنصیبات کو بھی کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ توڑپھوڑ گذشتہ روز دھرنے میں مشتعل لوگوں نے کی ہے۔
محکمہ داخلہ کے اہلکار نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تین رہنماؤں صبغت اللہ شاہ، سمّی دین بلوچ اور صبیحہ بلوچ کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما اشرف حسین کو گرفتار کیا ہے۔
اہلکار نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے یہ واضح ہدایت دی ہے کہ خواتین کے خلاف نہ کوئی کارروائی کی جائے اور نہ ان کے خلاف مقدمات قائم کیے جائیں۔
اگرچہ محکمہ داخلہ کے اہلکار نے میرین ڈرائیور پر توڑپھوڑ اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی تمام تر ذمہ داری دھرنے کے شرکا پر عائد کی لیکن رابطوں میں مشکلات کی وجہ سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا مؤقف معلوم نہیں ہو سکا ہے۔
تاہم بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) نے گذشتہ روز ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان فوج اور ایف سی نے پرامن بلوچ قومی اجتماع یعنی دھرنے کے شرکا پر ایک اور حملہ کیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے الزام عائد کیا کہ اجتماع کو چاروں اطراف سے گھیر لیا گیا ہے۔ پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی ہے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی اور سینکڑوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید الزام عائد کیا کہ پاکستانی حکومت گوادر میں پرامن مظاہرین کے خلاف ظلم و جبر کا مظاہرہ کر رہی ہے اور سکیورٹی فورسز نے پورے شہر کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنا رکھا ہے۔
ان کا الزام ہے کہ ہمیں زخمیوں کو یہاں سے نکالنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ایمبولینسز کو راستہ دیا جا رہا ہے۔
گذشتہ شب دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے دعویٰ کیا کہ ایک ہزار کے لگ بھگ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
گذشتہ روز صورتحال کی خرابی کی وجہ کیا بنی؟
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ جہاں مظاہرین کی جانب سے توڑ پھوڑ کی گئی وہاں ان کی مبینہ تشدد سے ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک اور سکیورٹی فورسز کے ایک آفیسر سمیت 16 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
گذشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سرکاری اہلکاروں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔
تاہم گذشتہ روز پولیس اور سکیورٹی فورسز نے ایک اہلکار کو بازیاب کرانے کے لیے کارروائی کی تھی جن کو سرکاری حکام کے مطابق دھرنے کے شرکا نے پکڑا تھا۔
محکمہ داخلہ کے اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی کہ دھرنے کے شرکا نے ایک شخص کو پکڑا تھا جس کو بازیاب کرنے کے لیے کارروائی کی گئی۔
اس شخص کے حوالے سے رابطوں کی وجہ سے بھی براہ راست بلوچ یکجہتی کمیٹی کے عہدیداروں سے رابطہ نہیں ہوسکا تاہم اس کے حوالے سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ذرائع سے جاری ہونے والے اس ویڈیو میں اس شخص سے ایک وائرلیس سیٹ اور پسٹل بھی برآمد کیا گیا ہے جبکہ اس شخص کا مبینہ اعترافی ویڈیو بیان بھی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پکڑا جانے والا شخص خفیہ اداروں کا اہلکار تھا جن کو مبینہ طور پر یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کو مارنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔
تاہم محکمہ داخلہ کے اہلکار نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ دھرنے کے شرکا نے اس شخص کو حبس بے جا میں رکھا تھا جن کی بازیابی کے لیے کارروائی کی گئی۔
ایسی اطلاعات کے اس شخص کی بازیابی کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کے لیے دھرنے کے شرکا میں اشتعال پھیل گیا، جس کی وجہ سے وہاں گذشتہ روز صورتحال خراب ہوئی۔
’مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا جاری رہے گا‘
دو مطالبات تسلیم ہونے تک بلوچ یکجہتی کمیٹی نے میرین ڈرائیو پر دھرنے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک دھرنے میں شرکت کے لیے آنے والے قافلوں کو گوادر آنے دینا اور گوادر میں بلوچ راجی مچی یعنی بلوچ قومی اجتماع کی مناسبت سے گرفتار کیے جانے والے تمام افراد کی رہائی کے مطالبات شامل ہیں۔
گذشتہ شب دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ان مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک تمام قافلے گوادر نہیں پہنچیں گے اس وقت تک دھرنا جاری رہے گا۔
انھوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کا کہ ہم سے پوچھا جا رہا ہے کہ آپ نے جلسے کے لیے گوادر کا انتخاب کیوں کیا تو ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ گوادر بلوچوں کی سرزمین ہے اس لیے ہم نے اس کا انتخاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک اور کمپنیاں بلوچستان میں سرمایہ کاری چاہتی ہیں ان کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ بلوچ آج اپنی سرزمین کے لیے جان کی قربانی دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو بھی ان حالات میں یہاں اراضی کی خریداری کر کے سرمایہ کاری کریں گے ان کو بلوچ اپنا دشمن تصور کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پوری دنیا پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس سرزمین کے مالک پنڈی کے فوجی نہیں ہیں بلکہ یہاں کے بلوچ ہیں۔‘ گوادر کے مالک یہاں کے بلوچ ہیں۔ اسی طرح ریکوڈک کے مالک بھی وہی بلوچ ہیں، جن کے پائوں میں جوتے نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہRescue1122
خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل اولڈ بازید خیل میں بارش کا پانی گھر کے تہہ خانے میں داخل ہونے سے ایک ہی خاندان کے 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
امدادی کارروائیوں میں مصروف ریسکیو 1122 کے مطابق گھر کے تہہ خانے میں موجود ایک ہی خاندان کے افراد سیلابی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو 1122 کی جانب سے بتایا گیا کہ سیلابی پانی میں لاپتہ ہو جانے والی 5 سالہ بچی کو بھی نکال لیا گیا ہے۔
29 جولائی سے ملک بھر کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے مُلک کے کئی نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ راولپنڈی سمیت دیگر شہروں میں طوفانی بارشوں کے باعث رین ایمرجنسی بھی نافذ کردی گئی تھی۔
گزشتہ روز سندھ کے ضلع تھرپارکر کے علاقے ننگرپارکر میں بارش کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے متعدد افراد کی ہلاکت اور ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں تھیں۔
دریائے چترال میں اونچے درجے کا سیلاب
بی بی سی کے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محسن اقبال کے احکامات کی روشنی میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر ضلع لوئر چترال میں حفاظتی اقدامات کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
انتظامیہ نے اپیل کی ہے کہ ’عوام الناس سے گزارش کی جاتی ہے کہ دریا سے لکڑ نکالنے اور دریا کے قریب جانے سے گریز کریں۔‘
ڈپٹی کمشنر چترال لوئر نے کہا ہے کہ ’خلاف ورزی کی صورت میں قانونی سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘
ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ’چترال مستوج روڈ ریشن شادیر کے مقام پر دریا کی کٹاؤ کی وجہ سے تمام قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں۔‘
لوئیر چترال کے علاقے موری بالا میں خوفناک سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی، کھڑی فصلوں ، باغات اور مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے, تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں موصول ہوئی ہیں۔
کاری کے مقام پر چترال، مستوج، شندور روڈ نالے میں طغیانی کے باعث ہر قسم ٹریفک کے لیے بند ہے۔ پل نہ ہونے کی وجہ سے نالے میں سیلاب صورتحال درمیانی درجے میں ہونے کے باوجود روڈ بند ہوگئی ہے۔
گذشتہ برس طوفانی بارشوں اور پل کے سیلاب برد ہونے کے بعد اس مقام پر نالے میں مٹی بھر کر عارضی راستہ بنایا گیا تھا جو کہ اب سیلاب کے نذر ہوگیا ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق ’ایک سال گزرنے کے باوجود اس مقام پر پل کی تعمیر کو یقینی نہ بنانا انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت ہے۔‘
صحافی محمد زبیر خان کے مطابق خیبر پختونخواہ میں سیلابی صورتحال کے باعث تین اضلاع مانسہرہ، سوات اور چترال میں روڈ بند اور جانی و مالی نقصانات ہو رہے ہیں۔ تینوں اضلاع میں مختلف سڑکیں اور پل بند کر دیے گئے ہیں جس کے سبب ناران میں سیاحوں کی بڑی تعداد پھنس گئی ہے جبکہ کالام سوات میں متبادل راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔
پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کے مطابق صوبہ بھر میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق لوہر چترال میں دریائے چترال اورملحق ندی نالوں میں سیلابی صورتحال کے باعث اس وقت چترال بونی این 140 اور چترال گرم چشمہ روڈ 145 ہر قسم کے ٹریفک اور آمد ورفت کے لیئے بند ہوچکا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بھاری مشنیری کو موقع پر پہنچا دیا گیا ہے۔ جس وقت بھی سیلابی پانی اترا تمام ملبہ وغیرہ ہٹا کر روڈ کو ٹریفک کے لیے بحال کردیا جائے گا۔
پی ٹی ایم اے کے مطابق ضلع سوات کے کلام نالہ میں سیلابی صورتحال کے باعث کرندو پل پانی میں بہہ گیا ہے، جس کی وجہ سے اب کالام سے بحرین والی سڑک بند ہے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق کالام بحرین روڈ بند ہونے کے بعد سیاحوں کو متبادل راستے سے گزارا جارہا ہے جبکہ امید ہے کہ پانی کم ہونے کے بعد پل بھی شام تک عارضی طور پر مرمت کرکے روڈ کو کھول دیا جائے گا۔
پی ٹی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا کے مطابق دریائے کہنار میں سیلاب کے باعث مہانڈری پل سیلابی پانی میں بہہ گیا ہے۔ جس کے بعد مہانڈری سے ناران تک کا راستہ بند ہے۔
اسٹنٹ کمشننر بالاکوٹ بشارت شاہ کے مطابق اس وقت شوگران آنے جانے والے راستے کھلے ہیں۔ وادی کاغان میں داخلے کا راستہ بھی کھلا ہے وہاں سے بھی لوگ آجا رہے ہیں جبکہ مہانڈری پل سیلابی پانے میں بہہ جانے کے سبب سے مہانڈری سے ناران کا راستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بابو سر ٹاپ کا راستہ بھی بند کردیا ہے۔
وہاں سے بھی آنے والے سیاحوں اور مسافروں کو شاہراہ قراقرم کا راستہ استعمال کرنے کی ہدایات کی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ مقامات پر دریا کے کٹاو بھی جاری ہے جس سبب مقامی آبادیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر پہنچنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔
بشارت شاہ کا کہنا تھا کہ ناران میں سب سیاح محفوظ ہیں۔ ناران میں پھسے ہوئے تمام سیاحوں کو جب تک راستہ کھل نہیں جاتا انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے مفت ٹھہرایا جائے گا اور اس کے لیے ہوٹل ایسوسی ایشن کو ہدایات جاری کردی گئیں ہیں جبکہ ناران میں سات روز تک کے لیے خوراک اور ضرورت کا ہر سامان دستیاب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سیلابی پانی کم ہونے کا انتظار کیا جارہا ہے۔ جیسے ہی سیلابی پانی کم ہوگا انجنیئرز پل والے مقام کا دورہ کرکے فوری طور پر آمدو رفت کا راستہ بحال کرنے کے اقدامات شروع کردیں گے۔ ’ہمیں امید ہے کہ اس میں زیادہ وقت نہیں لگے گا مگر کم از کم 48 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی 6 اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ایک درخواست ضمانت پر سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کردی۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل بشیر ڈار عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز پر وکیل بشیر ڈار نے عدالت سے استدعا کی کہ آج بیرسٹر سلمان صفدر عدالت پیش نہیں ہوسکتے لہذا سماعت ملتوی کی جائے۔
بعد ازاں عدالت نے پی ٹی آئی وکلا کی استدعا پر ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ ترنول میں 2، ایک ایک مقدمہ تھانہ رمنا، سیکرٹریٹ، کوہسار اور تھانہ کراچی کمپنی میں درج ہے۔ عمران خان کے خلاف 3 مقدمات 9 مئی واقعات کے تناظر میں درج ہیں جبکہ ایک مقدمہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف احتجاج کے تناظر میں درج ہے۔
اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم کے خلاف ایک مقدمہ اداروں کے خلاف تقریر اور ایک مقدمہ توشہ خانہ جعلی رسیدوں پر درج ہے جبکہ سابق خاتون اوّل بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ جعلی رسیدیں جمع کرانے پر تھانہ کوہسار میں فوجداری کا مقدمہ درج ہے۔
واضح رہے کہ 18 جولائیکو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی 6 اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ایک ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت 30 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
منگل کو انڈیا کی ریاست کیرالہ کے وایناڈ میں میپاڈی کے قریب مٹی کا تودے گرنے سے کم ازکم 93 لوگ ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ متعدد افراد ابھی لاپتہ ہیں۔
کیرالہ کی وزیر صحت وینا جارج نے کہا ہے کہ اب تک 24 لوگوں کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اب تک مقامی ہسپتالوں میں کم از کم 129 لوگ زخمی زیر علاج ہیں۔
لینڈ سلائیڈنگ میں بڑی تعداد میں لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ریسکیو کے لیے 200 فوجی تعینات کیے گئے ہیں جنھوں نے ابھی تک 150 افراد کو بچایا کر ریسکیو کیمپس تک پہنچا دیا ہے۔
وزیر جنگلات اے کے سسیندرن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’فی الحال تودے میں پھنسے لوگوں کی تعداد بتانا مشکل ہے۔‘
این ڈی آر ایف، کنور ڈیفنس سیکورٹی کور اور انڈین فضائیہ کے ہیلی کاپٹر بھی متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ موسم کی خرابی اور وقفے وقفے سے جاری بارش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہANI
جھارکھنڈ کے سرائیکیلا کھرساواں ضلع میں منگل کی صبح ممبئی ہاؤڑہ میل کے دس ڈبے پٹری سے اتر گئے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق حادثے میں چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
حادثہ بادامبو کے قریب صبح 4.45 بجے پیش آیا۔ یہ جگہ جمشید پور سے 80 کلومیٹر دور ہے۔
ساؤتھ ایسٹرن ریلوے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ’بارابمبو کے قریب ممبئی ہاؤڑہ میل کی 10 سے 12 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ اس حادثے میں چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانیہ میں بچوں کی ڈانس ورکشاپ میں چاقو حملے میں دو بچے ہلاک اور نو زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے چھ کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
مارسی سائڈ پولیس کا کہنا ہے کہ ساؤتھ پورٹ میں ہارٹ سٹریٹ پر ٹیلر سوئفٹ تھیم پر مبنی تقریب کے دوران بچوں کو بچانے کی کوشش کے دوران چاقو کے وار سے زخمی ہونے والے دو بالغ افراد کی حالت بھی تشویش ناک ہے۔
لنکاشائر کے علاقے بینکس سے تعلق رکھنے والے ایک 17 سالہ نوجوان کو قتل اور اقدام قتل کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے کے محرکات واضح نہیں لیکن اسے دہشت گردی سے متعلق نہیں سمجھا جا رہا ہے۔
برطانوی بادشاہ چارلس اور وزیر اعظم نے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے متاثرہ افراد سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
مرسی سائیڈ پولیس کی چیف سرینا کینیڈی نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ پولیس جب جائے حادثہ پر پہنچی تو متاثر ہونے والوں میں زیادہ تر بچے تھے، جنھیں ’وحشیانہ حملے‘ کا نشانہ بنایا گیا اور انھیں شدید چوٹیں آئیں۔
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پیر کو دوسرے روز بھی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
اگرچہ سرکاری حکام نے جھڑپوں کی تصدیق کی ہے اور یہ بھی بتایا کہ مظاہرین کو میرین ڈرائیور سے منتشر کیا گیا ہے لیکن مظاہرین بعد میں دوبارہ میرین ڈرائیو پر جمع ہو گئے اور ان کا وہاں دھرنا جاری ہے۔
گوادر میں موبائل و لینڈ لائن فونز اور راستوں کی بندش کے باعث بی بی سی جھڑپوں کی وجوہات کے متعلق معلومات دینے سے قاصر ہے۔
ایک ویڈیو بیان میں ماہ رنگ بلوچ نے الزام عائد کیا ہے کہ دھرنے کے شرکا سے بات چیت کرنے کی بجائے ان کو دوسری مرتبہ سیکورٹی فورسز نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ جن لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ان کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں کیونکہ ہمیں ہسپتال میں زخمیوں کے پاس نہیں جانے دیا جارہا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک ایک ہزار کے لگ بھگ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری حکام نے اتنی بڑی تعداد میں مظاہرین کی گرفتاریوں کی تردید کی ہے۔
مکران ڈویژن کے انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایک شخص کو دھرنے کے شرکا نے پکڑ کر اپنے تحویل میں رکھا تھا جسے بازیاب کرانے کے لیے کارروائی کی گئی۔
انھوں نے بتایا کہ اس شخص کی بازیابی کے دوران دھرنے میں شریک مظاہرین کے ساتھ سیکورٹی فورسز کی جھڑپیں ہوئی جن کے دوران 20 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔
مکران انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ گذشتہ روز سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں جو شخص ہلاک ہوا ان کی لاش کو ان کے آبائی علاقے سوراب روانہ کر دیا گیا۔
درایں اثنا جھڑپوں میں مارے جانے والے سیکورٹی فورسز کے اہلکار کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد ان کی لاش کو ان کے آبائی علاقے سبیّ کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کو بتایا کہ ان جھڑپوں میں سیکورٹی فورسز کے 16 اہلکار زخمی ہوئے جن میں ایک آفیسر میں شامل ہیں۔
پیر کو بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو بھی گوادر پہنچ گئے جہاں انھوں نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس میں شرکت کی۔
ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمن، ڈی آئی مکران رینج ڈاکٹر فرحان زاہد، ڈی آئی جی نصیرآباد رینج ایاز بلوچ،ا ے ڈی سی گوادر سربلندکھوسہ اور اے سی گوادر جواد زہری بھی شریک ہوئے۔
وزیر داخلہ کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کچھ عناصر قانون ہاتھ میں لے کر امن وامان سبوتاژ کرنا چاہتے تھے جن کے خلاف کارروائی کی گئی جس دوران 20 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں ریاستی رٹ کو چیلنج، سرکاری املاک کو نقصان اور عام عوام کو تکلیف دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوادر میں 28 جولائی کو ہونے والے جلسے کو میرین ڈرائیور پر دو مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنے میں تبدیل کیا ہے۔
ان میں سے ایک مطالبہ یہ ہے کہ گوادر میں بلوچ قومی اجتماع کی مناسبت سے گرفتار افراد کو رہا کیا جائے اور راستوں میں روکے جانے والے افراد کو گوادر آنے دیا جائے۔
توشہ خانہ کیس میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے جسمانی ریمانڈ میں 10 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔
احتساب عدالت کے جج محمد وڑائچ نے جیل ٹرائل کے دوران ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع سے متعلق نیب کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ملزمان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر 8 اگست کو دوبارہ پیش کیا جائے۔
نیب نے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔
یاد رہے توشہ خانہ سے جڑا یہ نیا کیس دراصل نیب کی ایک انکوائری رپورٹ ہے جس میں احتساب کے ادارے کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ نے ’دس قیمتی تحائف خلاف قانون اپنے پاس رکھے اور فروخت کیے۔‘
کمرہ عدالت میں موجود مقامی صحافی رضوان قاضی کے مطابق سماعت کے دوران عمران خان اور نیب کے ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل سردار مظفر عباسی کے درمیان تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔
کمرہ عدالت میں موجود جیل کے اہلکار کے مطابق دورانِ سماعت عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی اپنے شوہر کے ہمراہ روسٹم پر آئیں۔ انھوں نےجج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ جو فیصلہ کرنا چاہتے ہیں کریں میں نے اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑا دیا ہے۔‘
انہوں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’آپ جس منصب پر بیٹھے ہیں کیا آپ کو نظر نہیں آرہا نیب کیا کررہی ہے؟‘ بشریٰ بی بی نے دعویٰ کیا کہ ہمارے ساتھ مسلسل نا انصافی ہو رہی ہےاور نیب والے ایک کیس کے بعد دوسرا جھوٹا کیس فائل کر رہے ہیں۔
اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میری اہلیہ کا توشہ خانہ سے کوئی تعلق نہیں اس کو کیوں سزا دی جارہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم میں تھا میری اہلیہ کسی پبلک آفس میں نہیں تھیں۔
صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان نے نیب پر الزامات عائد کیے جس پر پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی غصے میں آ گئے اور دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
جیل اہلکار کے مطابق تلخ جملوں کے تبادلوں کے بعد عدالت نے سماعت میں وقفہ کردیا اور وقفے کے بعد سماعت کے آغاز پر عمران خان نے سردار مظفر عباسی سے معذرت کر لی اور سردار مظفر عباسی نے بانی پی ٹی آئی کی معذرت قبول کر لی۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
’میں نے پارٹی کو کہا تھا کہ اگر فوج اور رینجرز مجھے گرفتار کریں تو آپ نے جی ایچ کیو اور کنٹونمنٹ کے باہر جا کر پرامن احتجاج کرنا ہے‘ عمران خان
اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں نو مئی سے قبل جی ایچ کیو کے باہر احتجاجی مظاہرے کی پرامن کال کے بیان پر قائم رہے اور جی ایچ کیو کے باہر پرامن احتجاج کے بیان کی دوبارہ تصدیق کی ہے۔
کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میرے بیان کو ایسے پیش کیا گیا جیسے میں نے 9 مئی واقعات کا اعتراف یا جرم کیا ہو۔‘
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میں نے پارٹی کو کہا تھا کہ اگر فوج اور رینجرز مجھے گرفتار کریں تو آپ نے جی ایچ کیو اور کنٹونمنٹ کے باہر جا کر پرامن احتجاج کرنا ہے۔‘
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اس لیے سامنے نہیں لا رہے کیونکہ ہمارے لوگ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں موجود نہیں۔ اس میں کسی اور کے چہرے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز میں ہماری بے گناہی کے ثبوت ہیں۔
’9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز چوری ہونے پر میں عدالت جا رہا ہوں‘
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز چوری ہونے پر میں عدالت جا رہا ہوں اور میں خود رینجرز کے خلاف کیس کر رہا ہوں کہ کس طرح سابق وزیراعظم کو ہائی کورٹ کے احاطے سے اغوا کیا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ حکومت نے سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن کا اغاز کر دیا ہے اور رؤف حسن کو بھی حکومت نے گرفتار کر لیا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا ’حکومت کو پی ٹی آئی کا خوف ہے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پبلک کی آواز ہے، عوام کی آواز کو ڈیجیٹل دہشت گردی سے نہ جوڑیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی ادارے پر تنقید نہیں ہو گی تو ادارہ تباہ ہو جائے گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کا ادارہ ہو یا کوئی اور ادارہ ہر ادارے پر تنقید ہونی چاہیے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں آرمی چیف کا کردار ہے؟ عمران خان کا کہنا تھا ’ہماری پارٹی کو کس نے الیکشن نہیں لڑنے دیا؟‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اسٹیبلشمنٹ کے بغیر یہ نہیں ہو سکتا۔‘
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد میں جلسے کی اجازت نہ ملنے پر فیصلہ کیا ہے کہ پانچ اگست کو صوابی میں بڑا پاور شو کر کے دکھائیں گے کہ ملک میں کس پارٹی کی پاور ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی) کا کہنا ہے کہ 24 جولائی کو نام نہاد بلوچ راجی موچی کے آڑ میں ایک پرتشدد ہجوم نے گوادر ضلع میں سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں سبی سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ سپاہی شبیر بلوچ ہلاک ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پرتشدد مظاہرین کی بلا اشتعال حملوں کے نتیجے میں ایک افسر سمیت 16 فوجی زخمی ہوئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر قانونی پرتشدد مارچ کے لیے ہمدردی اور حمایت حاصل کرنے کے لیے پروپیگنڈا کرنے والوں کی جانب سے جعلی تصاویر اور ویڈیوز کا استعمال کرتے ہوئے جعلی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے اشتعال انگیزی کے باوجود غیر ضروری شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ کہ ہجوم کی پرتشدد کارروائیاں ناقابل قبول ہیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آئی ایس پی آر نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں، پرسکون اور پرامن رہیں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں اتوار کو اس احتجاج کے موقع پر فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور کم از کم دو افراد زخمی ہوئے۔ اتوار کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے دعویٰ کیا تھا کہ گوادر میں فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہے جبکہ سنیچر کو مستونگ میں زخمیوں کی تعداد 14 تھی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا فوج کی جانب سے دھرنے کے شرکا پر فائرنگ اور تشدد کا الزام
دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فوج اور ایف سی نے پرامن بلوچ قومی اجتماع (جسے دھرنے میں تبدیل کر دیا گیا ہے) پر ایک اور حملہ کیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ اجتماع کو چاروں اطراف سے گھیر لیا گیا ہے، پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی ہے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی اور سینکروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید الزام عائد کیا کہ پاکستانی حکومت گوادر میں پرامن مظاہرین کے خلاف ظلم و جبر کا مظاہرہ کر رہی ہے اور فوج نے پورے شہر کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ہمیں زخمیوں کو یہاں سے نکالنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ایمبولینسوں کو راستہ دیا جا رہا ہے۔
گوادر میں موبائل و لینڈ لائن فونز اور راستوں کی بندش کے باعث بی بی سی ان الزامات کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔

،تصویر کا ذریعہgettyimages
’بلوچ قومی اجتماع میں شریک افراد کے ارادے پرامن نہیں ہیں‘ سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان قومی اجتماع میں شریک افراد کے ارادے پرامن نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ہماری بتائی جگہ پر آپ نے دھرنا نہیں دینا تو پھر اجازت کس چیز کی مانگی گئی؟ اگر پرامن رہنا تھا تو تربت میں جلسہ کر لیتے۔
انھوں نے بلوچستان اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے پرامن لوگ ہیں جو ایف سی پر فائرنگ کر لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بیشتر ضلعوں کی سڑکیں کھلی ہیں اور زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو شہر میں ایک بار پھر جلسے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔
ایک خط میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے اس فیصلے کی مختلف وجوہات کا ذکر کیا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو دیے گئے پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ شہر میں 60 سے زائد سفارت خانے، عالمی اداروں کے دفاتر ہیں اور یہاں کئی غیر ملکی افراد رہائش پذیر ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ افراد روزانہ نقل و حرکت کرتے ہیں اس لیے شہر میں احتجاج اور ریلیاں غیرملکیوں کی نقل و حرکت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ روزانہ پانچ لاکھ لوگ اسلام آباد میں ملازمت یا تعلیم کی غرض سے سفر کرتے ہیں اور احتجاج اُنھیں اُن کے بنیادی حق سے محروم کرے گا، لہذا احتجاج کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جج جسٹس رفعت ثمن نے پی ٹی آئی کی درخواست پر ضلعی انتظامیہ کو آج فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے پانچ اگست کو عمران خان کی گرفتاری اور مہنگائی کے خلاف ’پورے ملک میں‘ احتجاج اور جلسوں کا اعلان کیا تھا۔
’احمد وقاص جنجوعہ کے وکلا کو ان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دی جائے‘
ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے میڈیا کوآرڈینیٹر احمد جنجوعہ کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست غیر موثر ہونے کی بنا پر نمٹا دی ہے۔
عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ کو ہدایت جاری کی کہ جیل رولز کے مطابق احمد وقاص جنجوعہ کے وکلا کو ان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے احمد وقاص جنجوعہ کی اسلحہ برآمدگی کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے جسمانی ریمانڈ منظور کیے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔
احمد وقاص جنجوعہ کی اہلیہ فرہانہ برلاس کی جانب سے ایڈووکیٹ ایمان مزاری عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ احمد وقاص جنجوعہ کو آج جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری طرف پراسیکیوٹر نے کہا کہ احمد وقاص جنجوعہ کو جوڈیشل کر دیا گیا، اب یہ درخواست غیر موثر ہو گئی ہے۔
ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ عدالت احمد وقاص جنجوعہ سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت دے۔
عدالت نے درخواست غیر موثر ہونے کی بنا پر نمٹا دی جبکہ ہدایت جاری کی کہ سپریٹنڈنٹ جیل رولز کے مطابق وکیل کو اپنے کلائنٹ سے ملاقات کی اجازت دے۔

،تصویر کا ذریعہScreen Grab
لاہور کے تھانے قلعہ گُجر سنگھ میں ایس ایچ او کی مدعیت میں تحریکِ لبیک پاکستان کے مرکزی نائب امیر کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اس مقدمے کے متن کے مطابق ظہیر الحسن نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے متعلق اشتعال انگیز بیان دیا۔
درج ہونے والی ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، مذہبی منافرت، فساد پھیلانے، عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی دفعات کے ساتھ ساتھ اعلی عدلیہ کو دھمکی، کار سرکار میں مداخلت، قانونی فرائض میں رکاوٹ ڈالنے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے متن میں ’چیف جسٹس آف پاکستان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے، مزہبی منافرت پھیلانے اور تشدد کے ذرئعے اندرونی فساد پھیلانے، اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس کو شدید دباؤ میں لا کر قانونی فرائض کی بجا آوری میں رکاوٹ ڈالنے، دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنا بھی شامل ہے۔‘
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مجمع نے روڈ بلاک کر کے اور مجمع میں موجود ایک نا معلوم شخص کا جانب سے فائرنگ کر کے خوف و ہراس پھیلانے اور مجمع میں تقریر سے عوام میں انتشار پھیلانے کا جُرم سر زد کیا ہے۔‘اس سے قبل وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ’ملک میں مذہب کے نام پر خون خرابے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا بدستور جاری ہے جبکہ سپریم کورٹ توہین رسالت کے معاملے میں وضاحت کر چکی ہے مگر ہم کابینہ کی جانب سے سب کو بتانا چاہتے ہیں کہ ریاست کسی کو قتل کے فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
وفاقی وزرا نے گذشتہ روز لاہور میں ایک مذہبی جماعت کی جانب سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے متعلق مذہبی منافرت پر مبنی بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کسی کو بھی مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی اور قانون پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آئے گا۔
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ کئی برسوں سے ایک سازش اور منصوبہ بندی کے تحت چیف جسٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر عدلیہ آئینی معاملات پر فیصلے دے رہی ہے تو اس میں دھمکی دینے کی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا، ملک میں آئین کی حکمرانی اور انصاف کا بول بالا ہونا چاہیے۔‘
وفاقی وزرا کا کہنا تھا کہ ریاست قطعی اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ آپ قتل کے فتوے جاری کریں۔ سوشل میڈیا پر عوام کو قتل پر اکسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس قسم کی گفتگو توہینِ مذہب ہے۔ یہ ایک نئی شرارت ہے، عدلیہ کی آواز خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ریاست میں سسٹم ہوتا ہے، بے بنیاد الزام نہیں لگا سکتے، قانون میں یہ موجود ہے کہ اگر ایک الزام بے بنیاد لگایا ہے تو اس کی وہی سزا ہے جو اس الزام کے مرتکب فرد کو دی جاتی ہے،
وفاقی وزرا کا کہنا تھا کہ کسی گروہ کی مذہب، سیاست یا ذاتی مفادات کے نام پر ڈکٹیشن ریاست قبول نہیں کرے گی، ریاست قانون کے مطابق اس قسم کے غیر قانونی اقدامات، اس قسم کے فتوؤں کا جواب دے گی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی جو عدلیہ کے سربراہ ہیں اور اس ریاستی ستون کے سربراہ کے خلاف کوئی فتویٰ آئین سے اور دین سے کھلی بغاوت ہے، یہ وہ طبقہ ہے جنھیں 2017 اور 2018 میں سیاسی ایجنڈے کے تحت کھڑا کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاڑہ چنار کا نواحی علاقہ بوشہرہ بظاہر خیبر پختونخوا کے کسی عام پہاڑی علاقے جیسا ہی ہے لیکن یہاں واقع زمین کا ایک ٹکڑا ایسا ہے جس پر تنازعے نے اب تک درجنوں افراد کی جان لے لی ہے۔ گلاب ملی خیل اور مدگی کلے قبائل ایک دوسرے پر تصادم کو ہوا دینے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ اہتمام ’بلوچ راجی مچی‘ یعنی بلوچ قومی اجتماع کو دو مطالبات کے تسلیم ہونے تک دھرنے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
گوادر میں میرین ڈرائیو پر ہونے والے اس اجتماع میں رکاوٹوں کے باوجود شرکت کے لیے خواتین سمیت ہزاروں افراد پہنچے ہیں۔
یہ جلسہ اتوار کو رات گئے تک جاری رہا جس سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ، صبغت اللہ شاہ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’پہلے قومی اجتماع ایک جلسے کی صورت میں صرف ایک دن کے لیے منعقد ہونا تھا لیکن مبینہ ریاستی جبر کے باعث دو مطالبات کے تسلیم ہونے تک اسے گوادر میں دھرنے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔‘
ان مطالبات میں اس اجتماع کے حوالے سے گرفتار کیے گئے تمام افراد کی رہائی کے علاوہ اجتماع میں شرکت کے خواہشنمد افراد کی راہ میں رکاوٹیں نہ ڈالنا شامل ہیں۔
کمیٹی نے حکومت کو ان مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو دھرنا اسی مقام پر غیر معینہ مدت کے لیے جاری رہے گا۔
دوسری جانب گوادر جانے کے لیے جن قافلوں کو روکا گیا تھا اُن کی جانب سے وہیں اُنھی مقامات پر دھرنے جاری ہیں جہاں اُنھیں روکا گیا ہے۔
کوئٹہ سے جانے والا قافلہ بدستور چالیس کلومیٹر دور مستونگ کے علاقے میں موجود ہے اور اس کے شرکا کوئٹہ کراچی ہائی وے پر موجود ہیں۔
مستونگ میں دھرنے میں موجود بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ مرکزی فیصلے کے مطابق گوادر میں دھرنا جاری ہے۔

اتوار کی شب گوادر میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ گوادر میں اس بلوچ قومی اجتماع کو روکنے کے لیے ریاست نے طاقت کا بھرپور استعمال کیا لیکن آج پورے بلوچستان میں بلوچی قومی اجتماع منعقد ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’گوادر کے گلی کوچے میں فورسز کو تعینات کرکے یہ کوشش کی گئی کہ لوگ نہیں نکلیں لیکن گوادر کے خواتین اور مرد بڑی تعداد میں نکل کر ریاستی اداروں کو بتا دیا کہ ان کا جبر کسی طرح قبول نہیں۔‘
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ عالمی قوتوں اور حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیموں کو چائیے کہ وہ بلوچستان میں حقوق انسانی کی پامالیوں کا نوٹس لیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آج کے اس اجتماع میں ایک باشعور بلوچ قوم بیٹھی ہوئی ہے جو یہ بخوبی جانتی ہے کہ کون اُن کے وسائل کو بے دردی سے لوٹ رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اسی گوادر کے نام پر تمام سرمایہ داروں کو یہاں پر لایا جاتا ہے لیکن یہی گوادر کے لوگ جب ایک پُرامن سیاسی پروگرام کرنا چاہ رہے ہیں تو پورے گوادر کو چاروں طرف سے بند کردیا گیا ہے۔‘
دریں اثنا گوادر میں صورتحال کا جائزہ لینے اور دھرنے کے شرکا سے مذاکرات کے لیے بلوچستان کے وزیر داخلہ میرضیا اللہ لانگو گوادر پہنچ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں اتوار کو اس احتجاج کے موقع پر فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور کم از کم دو افراد زخمی ہوئے۔ اتوار کو بیبرگ بلوچ نے دعویٰ کیا کہ گوادر میں فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہے جبکہ سنیچر کو مستونگ میں زخمیوں کی تعداد 14 تھی۔
جوڈیشل کمپلیکس حملہ توڑ پھوڑ کیس میں اسلام آباد کی انسداد دہشتگری کی عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنماوں علی نواز اعوان، شبلی فراز، عمر ایوب، عمر سلطان اور کرنل (ر) عاصم کی ضمانت کنفرم کر دی ہے۔
انسداد دہشتگری عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیسز پر سماعت کی۔
پی ٹی آئی وکیل بابر اعوان و دیگر وکلا عدالت کے سامنے پیش ہوئے جبکہ عمر ایوب، شبلی فراز، امجد نیازی، علی نواز اعوان و دیگر پی ٹی آئی کارکنان بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
بابر اعوان نے کہا کہ کچھ ملزمان آج پیش نہیں ہو سکے، گزارش ہے جو آئے ہوئے ان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کر دیں۔جج طاہر عباس سپرا نے پوچھا کہ علی امین گنڈا پور پیش نہیں ہوئے، ان کے حوالے سے کوئی اطلاع آئی ہے کہ پیش ہوں گے یا نہیں۔
پی ٹی آئی وکلا نے جواب دیا کہ ہم کنفرم کرکے عدالت کو آگاہ کرتے ہیں۔ وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمر ایوب نے لاہور میں ایک جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ سب ملزمان ایک ہی سٹیج پر کھڑے ہیں، ضمانت کی درخواست خارج ہوں گی تو سب کی ساتھ خارج ہوں گی، سب درخواستوں کا ایک ساتھ ہی فیصلہ کریں گے۔
ملزمان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ 497 سیکشن کے مطابق جب ملزم عدالت کے سامنے سرنڈر کرتا ہے تو ضمانت کا حق حاصل ہو جاتا ہے، اس سٹیٹس کے ساتھ بانی پی ٹی آئی اور اسد عمر کی درخواست ضمانت بھی اسی عدالت نے منظور کی تھی۔ جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ ’کوئی ایسا فیصلہ موجود ہے جس میں اشتہاری قرار دینے کے بعد دوبارہ ضمانت کی درخواستیں نہ سنی جا سکتی ہوں، آپ کی طرف سے ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کے بعد بھی عدالت دوبارہ درخواستوں کو سن رہی ہے۔‘
علی امین گنڈا پور کے وکیل راجہ ظہور عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور وزیر اعلیٰ کے پی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔ راجہ ظہور ایڈووکیٹ نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کرم شہر گئے ہوئے ہیں کیونکہ ادھر کے حالات خراب ہیں۔ جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی وکلا کو ہدایت کی کہ جن عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ہے وہ عدالت کو فراہم کر دیں۔
تاہم عدالت نے علی امین گنڈا پور کی غیر حاضری کے باعث اُن کی ضمانت کے لیے سماعت 4 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے ازخود نوٹس کی سماعت آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں ہوئی۔
اس کیس کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی شامل ہیں۔
صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل، ڈی جی ایف آئی اے، سیکریٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سمیت دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔ آج دورانِ سماعت اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔
آج کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کے سامنے عبوری رپورٹس پیش کیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’مشترکہ قانونی معاونت کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری ہو جائیگی۔‘
اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ’کیا کینیا کی عدالت سے بھی کوئی فیصلہ آیا ہے؟‘ جس پر اُن کا کہنا تھا کہ ’جی بالکل وہ فیصلہ بھی آ چکا ہے۔‘
ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں موجود وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ’میں نے ایک درخواست ارشد شریف کے خاندان کیجانب سے دائر کی تھی، جو لوگ پاکستان میں دعوی کر رہے ہیں کہ انہیں قاتلوں کا علم ہے انکو تو بلائیں۔ ہم نے چھ لوگوں کے نام بھی عدالت کے سامنے رکھے تھے۔ لارجر بینچ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کر دی تھی۔‘
شوکت عزیز صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ ’عدالت نے قرار دیا تھا کہ سپریم کورٹ ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اب مجھے نہیں معلوم کسے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔‘
جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’صدیقی صاحب یہ ایک انتہائی اہم معاملہ ہے جس پر سماعت ہونی چاہیے۔ سپریم کورٹ نے مقدمہ پانچ رکنی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے فائل کمیٹی کو بھجوا دی۔ یہ مقدمہ پہلے پانچ رکنی بنچ سن رہا تھا۔ غلطی سے یہ کیس تین رکنی بینچ کے سامنے مقرر ہوگیا ہے۔‘
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر پہلے بینچ میں شامل تھے، دونوں ججز کی دستیابی پر ہی کیس دوبارہ مقرر ہوگا۔
صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے ازخود نوٹس کی آج ہونے والی سماعت کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔