یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے اور نئے لائیو پیج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ کے توسیعی منصوبے کی منظوری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جاری ہے تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ واحد آپشن ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے اور نئے لائیو پیج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے ضلع زیارت کی تحصیل زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی کو ان کے بیٹے سمیت اغوا کر لیا گیا ہےـ
بلوچستان میں نو ہفتوں کے دوران کسی اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کا دوسرا واقعہ ہے۔
ڈپٹی کمشنر زیارت ذکا اللہ درانی نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ فیملی کے ساتھ ایک پکنک پوائنٹ پر گئے تھے۔
زیارت میں انتظامیہ کے ایک اور اہلکار نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر زیارت افضل باقی کی گاڑی کو اتوار کو نامعلوم مسلح افراد نے زیزری کے مقام پر روکا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مقام پرمسلح افراد نے گاڑی میں سوار لوگوں کو اتارنے کے بعد اسے نذرآتش کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر کے گن مین، ڈرائیور اور دیگر افراد کو چھوڑ دیا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کو اغوا کرکے نامعلوم مقام کی جانب لے گئےـ
اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے کے بارے میں مختلف پہلوئوں سے تحقیقات کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کی بازیابی کے لیے کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہےـ
تاحال اسسٹنٹ کمشنر زیارت اور ان کے بیٹے کے اغوا کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہےـ
بلوچستان سے اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کا دوسرا واقعہ بلوچستان کے ایک اور علاقے سے کسی اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کا دوسرا واقعہ ہے۔
اس سے قبل ایران سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں تمپ کے اسسٹنٹ کمشنر حنیف نورزئی کو نامعلوم مسلح افراد چار جون کواغوا کیا تھا۔ وہ عید منانے کے لیے کوئٹہ آرہے تھے کہ سرینکن کے علاقے سے نامعلوم مسلح افراد نے ان کو اغوا کیا تھا۔
ان کے اغوا کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔ تاحال اسسٹنٹ کمشنر تمپ کی بازیابی ممکن نہیں ہوئی۔

زیارت کہاں واقع ہے
زیارت بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 140کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے۔
یہ نہ صرف ایک اہم تفریحی مقام ہے بلکہ دنیا سے معدومی کے خطرے سے دوچار صنوبر کے قدیم جنگلات بھی اس ضلع میں پائے جاتے ہیں۔
زیارت کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے اور اس ضلع کا شمار بلوچستان کے پر امن علاقوں میں ہوتا ہے ۔ تاہم بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ضلع زیارت سے ملحقہ ضلع ہرنائی کے بعض علاقے شورش سے متاثر ہیں۔
بانی پاکستان محمد علی جناح نے اپنی علالت کے آخری ایام زیارت میں گزارے تھے۔انھوں نے زیارت شہر میں جس عمارت میں رہائش اختیار کی تھی اسے قائد ریذیڈینسی کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس ریذیڈینسی کو نامعلوم مسلح افراد نےجون 2013میں نذرآتش کیا تھا جس کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔
جولائی 2022ء میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے زیارت سے ڈی ایچ اے کوئٹہ کے ایک سینیئر اہلکار کو اغوا کرنے کے بعد انھیں ہلاک کیا تھا۔
امریکی سفیر ڈوروتھی شیا نے کہا ہے کہ امریکہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے 'ابہت محنت سے کام' کر رہا ہے تاہم انھوں نے الزام عائد کیا کہ آج سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس ان کوششوں کو 'کمزور' کیا ہے۔
نیویارک میں جاری سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے تین معاہدوں کو قبول کیا ہے جنہیں حماس نے مسترد کیا۔
’اگر حماس یرغمالیوں کو جانے دیتی ہے تو یہ جنگ آج ختم ہو سکتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ارکان نے آج کے اجلاس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل پر نسل کشی کا الزام لگایا ہے۔
امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ تین نکات پر کام کر رہا ہے جن میں انسانی ضروریات کو پورا کرنا، یرغمالیوں کی رہائی اور امن کا حصول شامل ہے۔
انھوں نے سلامتی کونسل پر الزام عائد کیا کہ وہ پہلے نکتے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور اس بات کا احساس نہیں کر رہی کہ وہ آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
ڈوروتھی شیا نے مزید کہا کہ امریکہ نے جی ایچ ایف کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ ساتھ غزہ کی انسانی امداد میں اضافہ کیا ہے۔
انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ حماس سے مطالبہ کرے کہ وہ تمام یرغمالیوں کو رہا کرے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
غزہ کی مکین فاطمہ الشنیری کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائی کے باوجود شہر سے نہیں نکلیں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ اسرائیل کے حملے کی صورت میں وہ 'یہاں رہنے اور کام کرنے کو ترجیح دیں گی'۔
انھوں نے مزید کہا کہ 'شاید زیادہ تر لوگ رہیں گے، ہر کوئی دوبارہ نقل و حرکت نہیں کرے گا۔'
فاطمہ کے نو بچے ہیں اور ان کے شوہر زخمی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ وہ گذشتہ دو سالوں کے دوران کئی بار بے گھر ہو چکی ہیں، اور تھک چکی ہیں
ان کا کہنا تھا کہ 'موت ہمارے لیے بہتر ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہUnited Nations
اقوام متحدہ میں برطانیہ کے نائب مستقل مندوب جیمز کریوکی نے کہا ہے کہ برطانیہ اسرائیلی حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ غزہ میں اپنی فوجی کارروائی میں توسیع کا اپنا فیصلہ واپس لے۔
انھوں نے یہ بات سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔
ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے غزہ میں فلسطینی شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ ’مزید خونریزی کا راستہ ہے۔‘
ڈنمارک کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس توسیع کی 'مذمت' کرتا ہے اور برطانیہ کی جانب سے اسرائیل سے اپنا منصوبہ واپس لینے کے مطالبے کی حمایت کرتا ہے۔
فرانس کے نمائندے نے کہا کہ 'ہمیں خطرے کی گھنٹی بجانے کی ضرورت ہے' اور اس منصوبے کے غزہ شہر اور پوری پٹی میں 'ڈرامائی انسانی نتائج' ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے 'شہری پہلے ہی خوفناک حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔‘
اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے غزہ میں غذائی بحران کی ذمہ داری حماس پر عائد کی ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ خوراک کی تقسیم کے بہت سے مقامات پر فائرنگ حماس نے کی تھی۔
جب ان سے غزہ میں 11 ہفتوں سے امداد کی فراہمی عائد رکاوٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بہت سی سپلائی کو حماس نے لوٹا ہے۔
دوسری جانب حماس متعدد بار ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے کہ وہ شہریوں کے لیے مخصوص کسی بھی امدا کو لوٹنے میں ملوث رہی ہے۔
سی این این اور روئٹرم کی جانب سے رپورٹ کیا گیا کہ امریکی حکومت کی جانب سے حال ہی میں کیے جانے والے ایک جائزے میں یہ کہا گیا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملتے کہ منظم طریقے سے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے آنے والی خوراک کی امداد کو لوٹا گیا ہو۔
اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ہم غزہ میں رہنا نہیں چاہتے اور ہمارا ہدف یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ حماس وہاں موجود نہ رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے حماس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تو وہ تمام یرغمالیوں کو واپس لے لیں گے اور حماس دوبارہ متحد ہو جائے گی۔
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایک نئی 'عبوری اتھارٹی' کے قیام کے لیے 'کئی امیدواروں' پر غور کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ، ڈنمارک، فرانس، یونان اور سلووینیا نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں غزہ میں کارروائیوں کو بڑھانے کے اسرائیل کے فیصلے کی مذمت کی گئی ہے۔
ان ممالک نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آج کے اجلاس سے قبل اس منصوبے کو واپس لے لیا جائےجو جلد ہی شروع ہونے والا ہے۔
یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کا خطرہ ہے۔
خیال رہے کہ سلامتی کونسل نے یرغمالیوں کی غیر مشروط اور فوری رہائی کا مسلسل مطالبہ کیا ہے۔
اس مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ حماس کو غزہ کی حکمرانی میں مستقبل میں کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہیے، جہاں فلسطینی اتھارٹی کا کردار مرکزی ہونا چاہیے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کا یہ فیصلہ یرغمالیوں کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے کچھ نہیں کرے گا اور ان کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈالنے کا اندیشہ ہے۔
بیان میں اسرائیل سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امداد کی ترسیل پر عائد پابندیاں ختم کرے۔
تاہم دوسری جانب اسرائیل کا موقف ہے کہ غزہ میں امداد پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل کی غزہ میں غذائی قلت پیدا کرنے کی پالیسی ہوتی تو دو سالہ جنگ کے بعد کوئی بھی غزہ میں زندہ نہ بچتا۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے لاکھوں پیغامات اور فون کالز میں شہریوں کو بتایا کہ وہ خطرناک راستوں سے باہر نکلیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سینکڑوں ٹرک غزہ جا چکے ہیں، شہریوں کو جنگ زدہ علاقوں سے محفوظ مقامات تک جانے کی اجازت ہو گی۔
’انھیں پانی، خوراک اور طبی امداد دی جائے گی جیسے کہ ہم نے پہلے بھی دی۔ اسرائیل کا مقصد انسانی بحران سے بچنا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم نے بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے غزہ جنگ کی کوریج کو حماس کا پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔
انھوں نے فاقہ زدہ کمزور اور لاغر بچوں کی تصاویر دکھائیں جو ایک اخبار کے فرنٹ پیج پر تھیں تاہم اس پر جعلی کا لیبل لگا ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نیویارک ٹائمز کے خلاف کیس کر رہی ہے۔ جس نے اپنے پہلے صفحے پر ایک بھوکے بچے کی تصویر استعمال کی تھی جسے صحت کے بنیادی مسائل بھی تھے۔
نتن یاہو کا کہنا ہے کہ بچے کی والدہ اور بھائی صحت مند ہیں ان کا الزام تھا کہ اخبار نے اس کی تصحیح بھی چاپی تھی۔
اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سوائے حماس کو شکست دینے کے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ غزہ کا 70 سے 75 فیصد کنٹرول اسرائیلی فوج کے پاس ہے تاہم دو اہم مقامات حماس کے پاس ہیں جن میں سے ایک غزہ شہر اور دوسرا مرکزی کیمپس ہیں۔
خیال رہے کہ نتن یاہو ایک ایسے وقت میں یہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں جب غزہ پر قبضے کے منصوبے کی منظوری کے بعد عوامی سطح پر ان کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ کو ختم کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل شہریوں کو محفوظ مقامات تک جانے کی اجازت دے گا جہاں خوراک اور طبی امداد موجود ہو گی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ جو بھی ریاست سے بات کرنا چاہتا ہے وہ ہتھیار ڈال کر آئے ہم گلے لگائیں گے، حکومت اور ریاست نے کبھی بھی بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے.
اتوار کو سندھ کے ضلع مٹیاری کے علاقے بھٹ شاہ میں اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’آئین میں رہتے ہوئے بات چیت کے لیے ہر شخص کو خوش آمدید کہا جائے گا لیکن یہ ناقابل برداشت ہے کہ معصوم مزدوروں کو بسوں سے اتار کر قتل و غارت کی جائے۔‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں مسنگ پرسنز کی تعداد بلوچستان سے زیادہ ہے لیکن وہاں میڈیا اس مسئلے پر بات نہیں کرتا اس کے برعکس بلوچستان میں مسنگ پرسنز کے نام پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ کراچی سے خیبر تک مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کو دہشت گردی کہا جاتا ہے مگر بلوچستان میں دہشت گردی کو مختلف نام کیوں دیے جاتے ہیں؟ دہشت گردوں میں یہ تفریق کیوں کی جاتی ہے؟
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میڈیا سے درخواست ہے کہ بلوچستان کو صرف چند مخصوص افراد کی عینک سے نہ دیکھا جائے بلکہ دنیا کے سامنے بلوچستان کی اصل تصویر پیش کی جائے۔‘
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اعلان کیا کہ ایرانی زائرین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے فضائی اور فیری سروس کا آغاز کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ زائرین کے مسائل کی اصل وجوہات کچھ اور ہیں یہ صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو غزہ پر قبضے کے منصوبے کی منظوری کے بعد ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ چند گھنٹوں بعد ایک پریس کانفرنس کریں گے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی آج ہو رہا ہے۔ اس اجلاس کی کال ماسوائے امریکہ اور پاناما کے تمام ممبران نے دی تھی۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے غزہ پر قبضے کے منصوبے کی منظوری پر تشویش کا اظہار کیا ہےاور تباہ کن نتائج سے خبردار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا اور اعلیٰ سیاسی وعسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے ٹمپا میں سینیٹ کام کمانڈر کی تبدیلی کمانڈ کی تقریب میں شرکت کی اوردوطرفہ فوجی تعاون مضبوط بنانے میں جنرل کوریلا کے کرادار کی تعریف کی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین سے بھی ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیلڈ مارشل نے جنرل ڈین کین کو دورہ پاکستان کی بھی دعوت دی۔
ان کی دوست ممالک کےچیف آف ڈیفینس سے بات چیت ہوئی جس میں مشترکہ سکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مسلسل تعاون پر اعتماد کا اظہارکیا گیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے امریکہ میں مقیم پاکستانی برادری سے بھی ملاقاتیں کیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
غزہ میں فوجی آپریشن میں توسیع کے حکومتی منصوبے کے خلاف اسرائیل میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا اور حکومت سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ جمعے کو اسرائیل کی سلامتی کابینہ نے جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ اصولوں کی منظوری دی تھی جس میں غزہ کی پٹی پر 'سکیورٹی کنٹرول حاصل کرنا' بھی شامل ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق یرغمالیوں اور ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ نے اتوار کو ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
غزہ میں 50 یرغمالیوں کے اہل خانہ اور مظاہرین کو خدشہ ہے کہ اس منصوبے سے یرغمالیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
مظاہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنائیں۔
تاہم دوسری جانب اسرائیلی رہنماؤں نے اس منصوبے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کر دیا ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ 'اس سے ہمارے یرغمالیوں کی رہائی میں مدد ملے گی۔‘
سنیچر کو یروشلم میں ریلی میں شامل شاکھا نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ہم چاہتے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ ہو کیونکہ ہمارے یرغمالی وہاں مر رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ سب اب گھر واپس آ جائیں، جو کچھ بھی کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اسے کرنا چاہیےہے۔ اور اگر جنگ روکنے کی ضرورت پڑی تو ہم جنگ روک دیں گے۔‘
یروشلم میں مظاہرین میں ایک سابق فوجی اہلکار بھی شامل تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اب خدمات انجام دینے سے انکار کر رہے ہیں۔
میکس کریش کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کے آغاز میں ایک فوجی تھے اور اس کے بعد سے انھوں نے انکار کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمارے 350 سے زیادہ فوجی ہیں جنہوں نے جنگ کے دوران خدمات انجام دیں اور ہم نتن یاہو کی سیاسی جنگ میں خدمات جاری رکھنے سے انکار کر رہے ہیں جو یرغمالیوں اور غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کو خطرے میں ڈالتی ہے۔‘
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق یرغمالیوں اور فوجیوں کے اہل خانہ نے تل ابیب میں اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے ہیڈکوارٹرز کے قریب ایک مظاہرے میں دیگر فوجیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ یرغمالیوں کے تحفظ کے لیے توسیع شدہ فوجی آپریشن میں خدمات انجام دینے سے انکار کریں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق یرغمالیوں میں سے ایک کی ماں نے اسرائیل میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے، حالانکہ ملک کی مرکزی مزدور یونین اس کی حمایت نہیں کرے گی۔
'یرغمالیوں کے اہل خانہ کی نمائندگی کرنے والے ایک گروپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ ’لڑائی کو وسعت دینے سے یرغمالیوں اور فوجیوں کو خطرہ ہے - اسرائیلی عوام انہیں خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کو فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر کی جانب سے بھی سخت مخالفت کا سامنا ہے جنھوں نے وزیر اعظم کو متنبہ کیا تھا کہ غزہ پر مکمل قبضہ 'جال میں پھنسنے کے مترادف ہے' اور اس سے زندہ یرغمالیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر اسرائیلی عوام یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے کے لیے حماس کے ساتھ معاہدے کے حق میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
نتن یاہو نے رواں ہفتے کے اوائل میں فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کی پوری پٹی پر قبضہ کرنے اور بالآخر اسے عرب افواج کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
نتن یاہو کا کہنا تھا کہ ہم غزہ پر قبضہ نہیں کریں گے بلکہ غزہ کو حماس سے آزاد کرائیں گے۔ اس سے ہمارے یرغمالیوں کی رہائی میں مدد ملے گی اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ غزہ مستقبل میں اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بنے۔
اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے منصوبے میں جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ 'اصول' بیان کیے گئے ہیں۔
ان میں حماس کو غیر مسلح کرنا، تمام یرغمالیوں کی واپسی، غزہ کی پٹی کو بے دخل کرنا، علاقے کا سکیورٹی کنٹرول سنبھالنا اور 'ایک متبادل سول انتظامیہ کا قیام جو نہ تو حماس ہے اور نہ ہی فلسطینی اتھارٹی' ہے۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر پر مکمل فوجی قبضے سے فلسطینی شہریوں اور یرغمالیوں کے لیے 'تباہ کن نتائج' کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع غزہ شہر میں دس لاکھ کے قریب فلسطینی رہتے ہیں، جو جنگ سے قبل اس انکلیو کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر تھا۔
برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور کئی دیگر ممالک نے اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس کے جواب میں اسرائیل کو اپنی فوجی برآمدات روک دے گا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس اتوار کو ہوگا جس میں اسرائیل کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
یورپی اتحادیوں نے یوکرین کی حمایت میں نئے سرے سے اضافہ کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ روس کے ساتھ کسی بھی امن مذاکرات میں کئیو کو شامل کرنا چاہیے۔
یہ مطالبہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعے کو الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ بات چیت کرنے جا رہے ہیں۔
برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، پولینڈ، فن لینڈ اور یورپی کمیشن کے رہنماؤں کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین میں امن کا راستہ یوکرین کے بغیر طے نہیں کیا جا سکتا۔
اس بارے میں کہ یوکرین کو اس کے اپنے امن مذاکرات میں مدعو نہیں کیا جائے گا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ کئیو کے بغیر کوئی بھی معاہدہ ’مردہ فیصلے‘ کے مترادف ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ ٹرمپ پوتن اور زیلنسکی دونوں کے ساتھ سہ فریقی میٹنگ کرنے کے لیے تیار ہوں گے لیکن فی الحال یہ صرف دو رہنماؤں کے درمیان ہی ملاقات ہو گی جیسا کہ روسی صدر نے درخواست کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہLUDOVIC MARIN/POOL/AFP via Getty Images
صدر ٹرمپ نے پہلے مشورہ دیا تھا کہ وہ صرف پوتن سے ملاقات کرکے شروعات کر سکتے ہیں۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھوں نے روس کے ساتھ شروعات کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لیکن امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انھیں یقین ہے کہ پوتن اور زیلنسکی دونوں کے ساتھ سہ فریقی میٹنگ کا انعقاد ہم کرا سکتے ہیں۔
ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ پوتن اس پر راضی ہوں گے یا نہیں کیونکہ وہ اس سے قبل ایسی کسی ملاقات سے انکاری رہے ہیں اور دونوں رہنماؤں کی جنگ شروع ہونے کے بعد تین سال کے عرصے میں کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی۔
جمعہ کو خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ بھی تجویز دی کہ ماسکو اور کئیو کے درمیان ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’علاقوں کی کچھ تبدیلی‘ کی جائے گی، جس پر زیلنسکی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے ٹیلیگرام پر کہا کہ ’روس نے جو کیا ہے ہم اس کے بدلے اب اسے نہیں نوازیں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہمارے خلاف کوئی بھی فیصلہ، یوکرین کے بغیر کوئی بھی فیصلہ، امن کے خلاف بھی فیصلے تصور ہوں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہVideograb
برطانوی پولیس نے کالعدم تنظیم فلسطین ایکشن کی حمایت میں لندن میں مظاہرہ کرنے والے 474 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں سے 466 کو فلسطین ایکشن کی حمایت میں مظاہرہ کرنے کی پر حراست میں لیا گیا ہے جبکہ پانچ افراد کو پولیس پر حملہ کرنے، دو کو نقض عامہ میں خلل ڈالنے اور ایک نسلی تعصب پھیلانے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔
ویسٹ منسٹر کے پارلیمنٹ سکوائر پر ’ڈیفنڈ آؤر جیوری‘ کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے میں کئی لوگوں نے ہاتھ سے لکھے بینرز پر یہ پیغام درج کیا کہ ’میں نسل کشی کی مخالفت کرتا ہوں، میں فلسطین ایکشن کی حمایت کرتا ہوں۔‘
حکومت نے جولائی میں اس فلسطین ایکشن نامی گروپ کو دہشت گردی کے ایکٹ 2000 کے تحت کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کی رکنیت یا حمایت کو مجرمانہ جرم قرار دیا، جس کی سزا 14 سال تک قید ہے۔
ان مظاہروں میں کوئی اہلکار شدید زخمی نہیں ہوا، اور میٹ پولیس نے کہا کہ گذشتہ 10 سالوں میں پولیس کی جانب سے کی جانے والی ایک ہی دن میں یہ سب سے زیادہ گرفتاریاں ہیں۔
وزیر داخلہ یویٹ کوپر نے پولیس کے اس اقدام پر ان کا شکریہ ادا کیا، جبکہ خیراتی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کو ’بہت تشویشناک‘ قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
پارلیمنٹ سکوائر کی فوٹیج میں افسران کو مظاہرین کے درمیان چلتے پھرتے دیکھا جا سکتا ہے، جو بنیادی طور پر زمین پر بیٹھے ہوئے تھے اور انھیں دور لے جانے سے پہلے ان سے بات کر رہے تھے۔
ایسے مظاہرین جن کی شناخت کا عمل مکمل ہوا انھیں ان شرائط پر ضمانت دی گئی کہ وہ فلسطین ایکشن کی حمایت میں مزید کسی احتجاج میں شرکت نہ کریں۔
جن لوگوں نے اپنی تفصیلات بتانے سے انکار کیا یا جن کی شناخت کی تصدیق نہیں ہو سکی انھیں حراست میں لے لیا گیا۔
بہت سے مظاہرین میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے، لیکن ایک شخص نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر وہ فلسطین ایکشن پر پابندی لگاتے ہیں تو اس کے بعد دوسرا کون سا گروپ ہوگا؟ جب تک کہ ہمیں کسی بھی چیز پر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ جمہوریت کے خلاف ہو گا۔‘
ایک اور 27 برس کی کلاڈیا پینا-روجس نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ کوئی گرفتار ہونا چاہتا ہے، لیکن میں اس بات پر زیادہ فکر مند ہوں کہ اس وقت فلسطین میں لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، اور میں نے محض تماشائی بننے سے انکار کر دیا۔‘
86 سالہ جیکب ایکلسٹون نے کہا کہ ’میں آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہوں۔ یہ حکومت جو کچھ کرنے کی کوشش کر رہی ہے وہ آمرانہ ہے۔ اور یہ انتہائی خطرناک ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں غذائی قلت کے باعث مزید 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ اسرائیلی حنلوں کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اب تک غزہ میں غذائی قلت کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 212 ہو گئی ہے جس میں 98 بچے بھی شامل ہیں۔
وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 491 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ایک جانب غزہ میں ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ اسرائیل نے فلسطینی شہریوں کی غزہ شہر سے انخلا کے لیے 7 اکتوبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے پورے علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے متنازع منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی طرف سے منظور شدہ نئے منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ ’اصولوں‘ کی فہرست دی گئی ہے، جن میں سے ایک ’علاقے کا سکیورٹی کنٹرول‘ سنبھالنا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی شائع ہونے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے میں ابتدائی طور پر غزہ شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور اس کے تحت اسرائیلی حکومت تقریباً دس لاکھ باشندوں کو مزید جنوب کی جانب منتقل کرنے جا رہی ہے۔
بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے شہر اور اس کے گرد و نواح میں پانی کی قلت سنگین ہو گئی ہے جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
گوادر میں پانی کی قلت اور دیگر مسائل کے حوالے سے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی سربراہی میں سنیچر کے روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نے گوادر کے آبی مسائل، چیلنجز اور جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ برقی عدم استحکام اور ایران سے بجلی بندش کے باعث ڈی سیلینیشن پلانٹ کی بلا تعطل فعالیت میں مشکلات ہیں۔
’خضدار سے گوادر قومی گریڈ لائن کی ناقص منصوبہ بندی کے سبب وولٹیج مستحکم نہیں رہتا۔‘
انھوں نے کہا کہ گوادر کے پانی کے مسائل کے پائیدار حل کے لیے جامع منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کے لیے خضدار تا گوادر نیشنل گریڈ لائن کا ازسرِنو جائزہ لے کر ضروری اصلاحات کی جائیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاور ہاؤس اور جنریٹر کے ذریعے سمندری پانی کو صاف کرنے والے پلانٹ کو چلانے کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم نے وفاقی وزیر پاور ڈویژن، منصوبہ بندی کمیشن اور متعلقہ سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ 15 اگست کو گوادر پہنچیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشاورت سے گوادر کے شہریوں کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا کہ اس نے یوکرین کی جانب سے بھیجے گئے 27 ڈرونز کو مار گرایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے ٹیلیگرام پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ ماسکو سمیت روس کے مختلف علاقوں میں ان ڈرونز کو مقامی وقت کے مطابق بارہ سے 3:30 بجے کے دوران گرایا گیا۔