اڈیالہ جیل میں عمران خان کو اپنی بہنوں سے ملنے نہیں دیا گیا: پی ٹی آئی

پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں نورین نیازی اور علیمہ خان کو پولیس نے اپنی حراست میں لیا ہے۔ تاحال راولپنڈی پولیس نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اور جیل حکام نے عمران خان کی بہنوں کو ملاقات سے روکا ہے تو تحریک انصاف کو ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرنی چاہیے۔

خلاصہ

  • پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل میں ان کی بہنوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی
  • امریکہ اور چین نے ایک دوسرے پر اضافی ٹیرف کا اطلاق مزید 90 روز کے لیے مؤخر کر دیا
  • امریکہ نے کالعدم تنظیم مجید بریگیڈ کو 'غیر ملکی دہشت گرد تنظیم' نامزد کر دیا ہے
  • 'ہم جنگ کے خاتمے کے قریب ہیں، اور کابینہ نے حماس کو ختم کرنے کا ڈرامائی فیصلہ کیا ہے': نتن یاہو
  • نو مئی مقدمات: یاسمین راشد، عالیہ حمزہ، صنم جاوید سمیت پی ٹی آئی کے چھ رہنماؤں کو قید کی سزا، شاہ محمود قریشی بری

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    13 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. بیسیمہ میں مسلح افراد کے حملے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع واشک کی تحصیل بیسیمہ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ایک سینیئر پولیس اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب نامعلوم مسلح افراد کی بڑی تعداد نے پولیس تھانے اور بیسیمہ ٹائون کے بعض دیگر مقامات پر حملہ کیا۔

    اس حملے کے بارے میں بیسیمہ کے اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمان کاکڑ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ چونکہ یہ پولیس کا علاقہ ہے، اس لیے پولیس حکام سے رابطہ کیا جائے۔

    ضلع واشک سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بڑی تعداد میں حملہ آور رات کو 12 بجے کے قریب بیسیمہ ٹائون کے مختلف علاقوں میں داخل ہوئے اور پولیس سٹیشن سمیت بعض دیگر سرکاری عمارتوں پر حملہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور اندازاً 25 سے 30 کے قریب موٹر سائیکلوں پر آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس، ایف سی اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا جو کہ رات دیر تک جاری رہا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس دوران حملہ آوروں کی جانب سے ’راکٹ بھی فائر کیے گئے‘ جس کے باعث ٹاؤن کے مختلف علاقوں سے 15 سے 16 دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد کے حملوں کی وجہ سے تین پولیس اہلکاروں کے علاوہ پانچ عام شہری زخمی ہوئے۔

    زخمیوں میں سے دو افراد کا تعلق کوئٹہ سے تھا جن کو طبی امداد کی فراہمی کے بعد کوئٹہ منتقل کیا گیا۔

    پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس حملے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس اور دیگر فورسز کی مدد کے لیے آنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو حملہ آوروں نے گرین چوک کے علاقے میں نشانہ بنایا۔

    ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ گرین چوک کے علاقے میں حملے میں سکیورٹی فورسز کو جانی نقصان ہوا لیکن تاحال سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

    پولیس اہلکار نے بتایا کہ حملہ آوروں کا بھی نقصان ہوا ہے کیونکہ بعض مقامات پر نہ صرف خون کے نشانات پائے گئے بلکہ فرار ہوتے ہوئے وہ اپنے دو موٹر سائیکلوں کو بھی نہیں لے جاسکے۔

    بیسیمہ میں ہونے والے اس حملے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    بیسیمہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً 280 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس علاقے کی آبادی مختلف قبائل پر مشتمل ہے اور یہ علاقہ بلوچستان کے شورش سے سب سے زیادہ متائثرہ ضلع آواران سے متصل ہے۔

    ادھر بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں سکیورٹی فورسز اور کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے درمیان بھی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  3. اگر عمران خان کی بہنوں کو ملاقات سے روکا گیا تو تحریک انصاف عدالت سے رجوع کرے: رانا ثنا اللہ

    وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اور جیل حکام نے عمران خان کی بہنوں کو ملاقات سے روکا ہے تو تحریک انصاف کو ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرنی چاہیے۔

    جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جوڈیشل کسٹڈی میں ہیں اور انھیں ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے پر کئی سہولیات دی گئی ہیں۔ ’اگر ملاقات سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست کیوں نہیں دائر کرتے۔‘

    ’جیل حکام کہتے ہیں کہ ہم ہر طرح سے سہولت دینے کو تیار ہیں لیکن یہ وہاں اس مقصد کے لیے موجود ہوتے ہیں کہ میڈیا پر خبر چلے۔ اگر جیل حکام عدالتی حکم پر عمل نہیں کر رہے تو انھیں عدالت میں بُلا لیا جائے۔‘

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’پولیس نے کیوں روکا، وہاں کیا صورتحال پیش آئی، اس پر ایک موقف ہمارے سامنے ہے۔ اگر پولیس نے غلط روکا اور عدالتی حکم کے باوجود آج ملاقات کرنے نہیں دی گئی تو یہ صبح پٹیشن دائر کریں اور سپریٹنڈنٹ کو وہاں بُلا لیا جائے وہ اپنا موقف دے گا کہ روکا ہے یا نہیں۔‘

  4. پولیس نے اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہنوں کو اپنی حراست میں لے لیا: پی ٹی آئی

    نورین نیازی، علیمہ خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    ،تصویر کا کیپشنتحریک انصاف نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں عمران خان کی بہنوں کو پولیس وین میں دیکھا جا سکتا ہے

    پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں نورین نیازی اور علیمہ خان کو پولیس نے اپنی حراست میں لیا ہے۔ تاحال راولپنڈی پولیس نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    ایکس پر جاری کردہ ایک پیغام میں پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ نورین اور علیمہ کو آج عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی جس کے بعد احتجاج کرنے پر پولیس نے انھیں اپنی حراست میں لے لیا۔

    راولپنڈی پولیس کے ایک اہلکار نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے داہگل ناکے پر علیمہ خان اور نورین نیازی کو تحویل میں لیا اور انھیں ’شہر سے باہر لے جا کر رہا کر دیا جائے گا۔‘

    اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’علیمہ خان نے دھرنا دے رکھا تھا۔ پولیس علیمہ خان اور نورین نیازی کو لے کر چکری انٹرچینج پر روانہ ہوئی ہے۔‘

    تحریک انصاف نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں عمران خان کی بہنوں کو پولیس وین میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    راولپنڈی پولیس کے ترجمان نے تاحال اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  5. سندھ کے صحرائی علاقوں میں 30 فیصد سے زیادہ آبادی ذہنی مسائل کا شکار کیوں ہے؟, ریاض سہیل، نامہ نگار بی بی سی اردو

    دماغی مسائل کی عکاسی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے چار صحرائی علاقوں میں 34 فیصد سے زائد آبادی ذہنی امراض کا شکار ہے۔ جس میں ڈپریشن سب سے زیادہ غالب مرض ہے جبکہ دوسرے نمبر پربے چینی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

    حکومت سندھ کی جانب سے سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی نے تھرپارکر، عمرکوٹ، سانگھڑ اور خیرپور کے صحرائی علاقوں میں لگائے گئے مینٹل ہیلتھ کیمپس کے بعد یہ رپورٹ تیار کی ہے۔

    ان اضلاع کی مجموعی آبادی ایک کروڑ ہے۔

    مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر کریم خواجہ کے مطابق ان اضلاع میں خودکشیوں کی شرح میں اضافے کے بعد یہ کیمپ لگائے گئے تھے۔

    ان کے مطابق 2016 سے لے کر 2020 تک تھرپارکر میں 79، عمرکوٹ میں 64، سانگھڑ میں 66 خودکشی کے واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔

    اس رپورٹ کے مطابق عمرکوٹ میں ڈپریشن کی شرح 48.5 فیصد ہے۔

    سانگھڑ میں بے چینی کے شکار مریض سب سے زیادہ تھے، جن کی شرح 32.81 فیصد تھی، اس کے بعد ڈپریشن 29.4 فیصد تھا۔

    خیرپور میں بے چینی کا مرض سب سے زیادہ تھا۔ جس کی شرح 31.22 فیصد تھی، اس کے بعد ڈپریشن کا مرض 25.95 فیصد تھا۔

    2022 اور 2025 کے درمیان دور دراز صحرائی علاقوں میں کیے گئے حالیہ فیلڈ انٹرویوز، کمیونٹی ہیلتھ سکریننگ، اور مشاورت اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ عام ذہنی امراض میں ڈپریشن اور بے چینی کی شرح زیادہ ہے۔

    یہ مسئلہ خواتین اور نوعمر لڑکیوں میں جو غربت، صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور جلد یا جبری شادیوں جیسے کثیر جہتی دباؤ کا سامنا کرتی ہیں میں سامنے آیا جبکہ نوجوان مردوں میں معاشی مشکلات اور بے روزگاری کی وجہ سے منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق صحرائی پٹی کو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں فی کس آمدنی میں کمی، ناقص انفراسٹرکچر، محدود صنعتی ترقی اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہے۔ مسلسل قحط سالی، پانی کی کمی اور منڈیوں تک محدود رسائی کی وجہ سے تھرپارکر، عمرکوٹ اور مشرقی سانگھڑ میں ذریعہ معاش انتہائی غیر محفوظ ہے۔

  6. پی ڈی ایم اے کی جانب سے گلوف الرٹ: مسلسل بارشوں کے باعث خیبر پختونخوا میں گلیشیئرز والے علاقوں میں جھلیں پھٹنے کا اندیشہ, بلال احمد، بی بی سی اردو

    قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تیز اور مسلسل بارشوں کے باعث خیبر پختونخوا میں گلیشیئرز والے علاقوں میں جھلیں پھٹنے کا اندیشہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے چترال اپر اور لوئر، دیر، سوات اور کوہستان اپر کے عوام کو ممکنہ طور پر گلیشیئرز میں موجود جھیلوں کے پھٹنے سے متعلق الرٹ جاری کیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اس دوران متعلقہ اضلاع میں بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خدشہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے ضلعی انتظامیہ کو حساس مقامات کی نگرانی، بروقت وارننگ اور انخلا کی مشقیں یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    حکام نے ندی نالوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز اور گاڑیاں تیز بہاؤ والے پانی میں لے جانے سے اجتناب کرنے کی ہدایات بھی کی ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے ممکنہ صورتحال میں سیاحوں کو خبردار رہنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع اور معلومات کے لیے 1700 پر رابطہ کریں۔

  7. بلوچستان بھر میں موبائل فون پر انٹرنیٹ کی بندش کو ایک ہفتہ مکمل ہوگیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    internet

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کوئٹہ شہر سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس 6 اگست کو معطل کی گئی تھی جس کی وجہ سرکاری حکام نے سکیورٹی خدشات بتائی تھی۔ اب اس بندش کو ایک ہفتہ مکمل ہو چکا ہے۔

    خیال رہے کہ بلوچستان کے اکثر علاقوں بالخصوص دیہی علاقوں میں لینڈ لائن فون کی سہولت نہیں ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر علاقوں میں لوگوں کا انحصار موبائل فون انٹرنیٹ سروس پر ہے۔

    بلوچستان میں سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر پہلے بھی موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل رہی ہے لیکن یہ صرف چند علاقوں تک محدود ہوتا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس سروس کو بلوچستان بھر میں معطل کیا گیا ہے۔

    دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی عفیفہ قانون کی فرسٹ سمسٹر کی سٹوڈنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ فری لانسگ بھی کرتی ہیں۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ تعلیم کے حوالے سے ان کی ریسرچ کے علاوہ فری لانسنگ کا انحصار موبائل فون انٹرنیٹ پر ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جس دن سے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل ہوئی ہے اس دن سے نہ صرف ریسرچ میں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ فری لانسنگ کا کام بھی متاثر ہوا ہے۔

    کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی ایک اور سٹوڈنٹ ردا علی اگرچہ ایف ایس سی کے سیکنڈ ایئر کے نتائج کی منتظر ہیں تاہم وہ میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ کی تیاری میں مصروف ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ انٹری ٹیسٹ کے لیے ان کی تیاری کا زیادہ تر دار و مدار موبائل انٹرنیٹ پر تھا لیکن اس کی بندش سے ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے گھر میں لینڈ لائن کی سہولت نہیں اس لیے موبائل فون پر انٹرنیٹ کی سہولت کی معطلی کی وجہ سے انھیں انٹری ٹیسٹ سے متعلق بعض ضروری لیکچرز ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ایک رشتہ دار کے گھر جانا پڑتا ہے جہاں وائی فائی کی سہولت موجود ہے۔

    امپورٹ اور ایکسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ کوئٹہ کے رہائشی فرحان عثمان نے بتایا کہ موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے ان کا 70 فیصد کاروبار متاثر ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں جن تاجروں کے پاس وائی فائی کی سہولت ہے ان سے تو رابطہ ہو پاتا ہے لیکن زیادہ تر تاجروں کے پاس وائی فائی کی سہولت نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔

    کوئٹہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ایوب مریانی نے بتایا کہ موبائل انٹرنیٹ اب زندگی کے ہر شعبے کی ضرورت ہے جس کی معطلی سے تمام لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ متاثر ہو رہے ہیں لیکن سکیورٹی اور قومی مفاد کے اپنے تقاضے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار ہی موبائل انٹرنیٹ پر ہے، وہ اس کی معطلی سے بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، بالخصوص تاجر برادری کو اس حوالے سے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔

  8. خیبرپختونخوا میں 14 سے 21 اگست تک مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی, عزیزاللہ خان، نامہ نگار بی بی سی

    kp

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    محمکمہ موسمیات نے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں 14 سے 21 اگست تک مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، پی ڈی ایم اے نے 14 اگست سے 21 اگست 2025 تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے مزید بارشوں، آندھی، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلادھار بارشوں کا امکان ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے بیان کے مطابق صوبے کے بالائی و وسطی اضلاع بشمول ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، چترال، دیر، مالاکنڈ، کوہستان، بونیر، پشاور، مردان، نوشہرہ، ڈی آئی خان اور وزیرستان سمیت دیگر اضلاع میں بارشوں کے نئے سلسلے سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں سے مقامی ندی نالوں، برساتی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔

    خاص طور پر دریائے چترال، سوات، پنجکوڑہ اور کابل میں پانی کی سطح بلند ہونے کی توقع ہے۔

    مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے باعث کمزور مکانات، بجلی کے کھمبے، اشتہاری بورڈز اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    اس سلسلے میں تمام ضلعی انتظامیہ کو ضروری احتیاطی اقدامات، نکاسی آب کے نظام کی صفائی، اور مقامی آبادی، سیاحوں اور مسافروں کو بروقت آگاہی فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے نے کاشتکاروں، مال مویشی پال حضرات اور سیاحوں کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فصلوں اور جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور سیاح خطرناک مقامات پر جانے سے گریز کریں۔

    متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایمرجنسی سروسز، طبّی امداد، خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔

    پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال یا اطلاع کے لیے پی ڈی ایم اے کی 24/7 ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

  9. روس امن کا خواہاں نہیں اور نئے حملوں کی تیاری کر رہا ہے: زیلینسکی کا الزام

    ZILENSKY

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ روس یوکرین میں امن کا خواہاں نہیں ہے اور اس کے بجائے اس پر نئے حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔

    زیلنسکی نے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا ہے جب روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین کی جنگ پر بات چیت کے لیے الاسکا میں تین دنوں میں ملاقات کرنے والے ہیں۔

    زیلینسکی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’ہم گواہی دے رہے ہیں کہ روسی فوج جنگ کو ختم کرنے کی طرف نہیں بڑھ رہی ہے، لیکن اس کے برعکس، ایسی حرکتیں کر رہی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ نئے حملوں کی تیاری کر رہی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں یہ ضروری ہے کہ عالمی اتحاد کو خطرہ نہ ہو۔

    یورپی یونین کے رہنماؤں نے جو کہ امریکی اور روسی صدور کے درمیان جمعے کو ہونے والی بات چیت میں کیف کو نظرانداز کیے جانے کے بارے میں فکر مند ہیں، ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یوکرین کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔

    یورپی رہنماؤں کا بیان میں جس کی ہنگری نے حمایت نہیں کی یہ بھی کہا کہ بامعنی امن مذاکرات صرف جنگ بندی کے فریم ورک کے اندر ہی ممکن ہوں گے۔

    یوروپی یونین یوکرینی صدر زیلنسکی کو الاسکا میں صدر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جمعہ کو ہونے والی ملاقات میں مدعو کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، جہاں دونوں فریقین امن کے حصول کے لیے روس اور یوکرین کے درمیان ’زمین کے تبادلے‘ پر بات چیت کریں گے۔

    امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ جمعے کو اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ مل کر یوکرین کے کچھ علاقے پر دوبارہ دعویٰ کرنے کے لیے کام کریں گے۔

  10. افغانستان میں خواتین ’عزت اور حقوق‘ سے محروم ہیں: اقوام متحدہ کی رپورٹ, نورگل شفق، بی بی سی پشتو

    AF

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ طالبان کے افغانستان پر کنٹرول سنبھالنے کے تقریباً چار سالوں میں خواتین اور لڑکیوں کو ’اپنے حقوق اور عزت‘ سے محروم رکھا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے دفتر برائے صنفی مساوات (یو این ویمن) نے کہا کہ’طالبان، اپنے وژن کے مطابق، ایک ایسا معاشرہ بنانے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب آ چکے ہیں جس میں خواتین کو سماجی زندگی سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے شعبہ خواتین نے یہ بیان اپنی گذشتہ روز جاری ہونے والی رپورٹ میں دیا ہے۔

    اقوام متحدہ نے بھی افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی موجودہ صورتحال کو دنیا میں ’خواتین کے حقوق کا سب سے شدید بحران‘ قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس ’ناقابل قبول‘ صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خواتین معاشرے میں مکمل طور پر پسماندہ ہو جائیں گی۔

    اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 15 اگست 2021 کو کابل پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان حکومت کی جانب سے خواتین پر عائد پابندیاں عارضی نہیں تھیں۔

    ادارے نے کہا کہ اس کے بعد سے طالبان حکومت نے معاشرے میں خواتین اور لڑکیوں کی زندگیوں کو محدود کرنے والے تقریباً ایک سو حکمنامے نافذ کیے ہیں، لیکن چار سالوں میں ایک کو بھی منسوخ نہیں کیا گیا۔

    افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کی خواتین کی نمائندہ سوزن فرگوسن کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ’ترقی کے فقدان‘ کو افغانستان کی حدود اور حالات سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیے اور افغانستان میں خواتین کی صورتحال پر خاموش رہ کر دنیا کے لیے ’خطرناک‘ مثال قائم نہیں کرنی چاہیے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’اگر ہم افغان خواتین اور لڑکیوں کو خاموش رہنے دیتے ہیں، تو اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ عورتوں اور لڑکیوں کے حقوق کو کہیں بھی پامال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک بہت خطرناک مثال ہے۔‘

  11. گلگت بلتستان: ہنزہ میں متعدد مقامات پر سیلابی صورتحال, محمد زبیر خان، صحافی

    GILGIT

    ،تصویر کا ذریعہGB GOVERNMENT

    گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ میں متعدد مقامات پر سیلابی صورتحال ہے اور شاہراہ ریشم بند ہے۔

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات پاکستان نے چار اگست کو جاری کردہ الرٹ میں بتایا تھا کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ میں موجودہ گرم موسم کی وجہ سے مختلف مقامات پر گلوف کے خطرات موجود ہیں۔ مختلف مقامات پر تیز بارش اور آندھی و طوفان آسکتا ہے۔ جس سے لینڈ سلائیڈنگ، سیلابی ریلیوں کے خدشات موجود ہیں۔

    گلگت بلتستان حکومت کے مطابق اس وقت دریائے ہنزہ میں پانی کا بہت بڑا سیلابی ریلا چل ہے جو مختلف نالوں، ندیوں اور مقامات پر سیلاب کا باعث بن رہا ہے۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق دریائے ہنزہ میں پانی کا اضافہ اور سیلابی صورتحال کی وجہ ممکنہ طور پر مختلف گلیشئر کی جھیلوں کا سیلابی صورتحال اختیار کرنا ہے۔

    حکومتی ماہرین نے بتایا ہے کہ مختلف گلیئشر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور جہاں پر پہلے سے جھیلیں تھیں وہاں سے پانی کا اخراج زیادہ ہوا ہے جس وجہ سے دریائے ہنزہ میں پانی کا بہاؤ بہت تیز ہوچکا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہنزہ کے گلمت اور گوجال کے نالے میں شدید سیلابی ریلا ہے۔ پانی نالے سے نکل کر روڈ پر چل رہا ہے۔ جس سے شاہراہ قراقرم بند ہے۔ اور مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔‘

    فیض اللہ فراق کے مطابق شگر میں بھی سیلابی ریلا آیا ہے۔ جس سے زرعی زمین، جنگلات اور روڈ کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

    شاہراہ قراقرم پر مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    فیض اللہ فراق کے مطابق حسن آباد کے مقام پر گلوف کی وجہ سے ابھی زمین کا کٹاؤ جاری ہے اور پانی کا بھاری ریلا حسن آباد کے نالے سے گزر رہا ہے۔

    حسن آباد کے علاقے سے اس وقت ٹریفک نہیں گزر رہی ہے تاہم ٹریفک متبادل راستوں سے بحال ہے۔

    ہنزہ ہوٹل ایسوسی ایشن کے مطابق ہنزہ میں اس وقت سیاح انتہائی کم ہیں۔ ٹریفک متبادل راستوں سے سست روی سے چل رہی ہے جبکہ مقامی لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔

  12. لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے بریت کے باوجود شاہ محمود رہا نہیں ہو سکیں گے, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو، اسلام آباد

    لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی کو نو مئی کے دونوں کیسز میں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم وہ مزید کیسز کے فیصلے آنے باقی ہیں جس کی وجہ سے انھیں رہائی نہیں مل سکتی۔

    منگل کوعدالت نے نو مئی کے دو کیسز میں شاہ محمود قریشی کی رہائی کی کا وارنٹ جاری کیا۔

    عدالت نے سپریٹنڈنٹ جیل کو شاہ محمود قریشی کی رہائی کا وارنٹ بھجوایا جس میں درج تھا کہ اگر شاہ محمود قریشی کسی اور مقدمہ میں مطلوب نہیں تو رہا کیا جائے۔

  13. یاسمین راشد سمیت پی ٹی آئی کے چار رہنماؤں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم جاری

    DYASMEEN RASHI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو نو مئی کے مقدمات میں 10، 10 سال قید کی سزا سنانے کے علاوہ ان کی جائیدایں بھی ضبط کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد ،عمر سرفراز چیمہ ،میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کی جائیدادوں کو ضبط کرنے کا حکم دیا گیا۔

    پی ٹی آئی کے سزا پانے والے رہنماؤں کے خلاف تھانہ شادمان اور تھانہ سرور روڈ میں مقدمات درج ہیں۔

    عدالت نے گذشتہ روز ملزمان کے خلاف دونوں مقدمات کا فیصلہ سنایا تھا اور سپرٹینڈنٹ جیل کو سزا یافتہ مجرموں کے جیل وارنٹ جاری کر دیے۔

    عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت تمام مذکورہ مجرمان کو دس سال قید اور چھے لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

  14. انگلینڈ میں درجہ حرارت 34 ڈگری تک پہنچنے کا امکان

    درجہ حرارت

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    توقع کی جا رہی ہے جنوبی اور مرکزی انگلینڈ میں درجہ حرارت 33 سے 34 ڈگری تک پہنچ جائے گا تاہم ایسا نہیں کہ یہ رواں برس کا سب سے گرم ترین درجہ حرارت ہے۔

    بی بی سی ورلڈ کے مطابق اس سے قبل انگلینڈ میں یکم جولائی کو درجہ حرارت 35.8C تک پہنچ گیا تھا۔ تاہم اس دوران سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں درجہ حرارت کسی ریکارڈ سطح پر نہیں پہنچا وہاں درجہ حرارت 20 ڈگری تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    بدھ تک کچھ علاقوں میں گرمی کی لہر کا امکان ہے اور رجہ حرارت تیسرے روز بھی 25 ڈگری تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    اس سے قبل محکمہ موحولیات کی جانب سے انگلینڈ کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کے لیول کی کمی کا انکشاف کیا گیا تھا۔

    ادپر یورپ میں شدید گرم اور خشک موسم کی وجہ سے پرتگال، سپین اور چند اور ممالک میں جنگلوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے جنھیں بھجانے کی کوششیں جاری ہیں۔

  15. فیصل آباد میں مبینہ پولیس مقابلے میں ریپ کے الزامات میں زیر حراست ملزم ہلاک, احتشام شامی، صحافی

    فیصل آباد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    منگل کو فیصل آباد میں پولیس کی حراست سے مبینہ طور پر فرار ہونے والا ریپ کا ملزم ہلاک ہو گیا ہے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ، سی سی ڈی، کے مطابق پولیس حراست سے فرار ملزم کا ستیانہ روڈ سے ملحقہ کالونی میں ساتھیوں کے ہمراہ پولیس مقابلہ ہوا۔ پولیس کے مطابق دوران مقابلہ ملزم ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا تاہم تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ یہ سب رات ایک بجے کے بعد ہوا۔

    فیصل آباد میں سی سی ڈی نے گذشتہ روز صبح سات بج کر دس منٹ پر کم سن بچے اور بچیوں کا ریپ کرنے والے ملزم کو گرفتار کیا تھا۔ ترجمان کے مطابق سی سی ڈی لائل پور ٹاؤن کے انچارج صدیق چیمہ نے ستیانہ روڈ پر ٹول ٹیکس کے علاقہ سے ملزم محسن کو گرفتار کیا تھا۔

    پولیس کے مطابق ملزم اے سی مکینک تھا اور وہ چند برس میں 20 سے زائد بچوں سے ریپ کر چکا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم اسلحہ کے زور پر بچوں سے ریپ کرتا اور پھر ویڈیو بھی بناتا تھا۔ ملزم نے مبینہ طور پر آٹھ سے 12 سال کی بچیوں اور لڑکوں کا ریپ کیا۔

    پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم کے موبائل سے بچوں سے ریپ کی 30 سے زائد ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔ ملزم کے خلاف تھانہ سی سی ڈی میں مقدمہ درج تھا اور اس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی تھی۔

    پاکستان میں ریپ اور سنگین جرائم میں ملوث زیر حراست ملزمان ’ٹھوس شواہد اور اعترافِ جرم‘ کے باوجود پراسرار حالات میں مارے کیوں جاتے ہیں؟

    پنجاب پولیس کے ایک سابق اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ عمومی طور پر ایسے سنگین واقعات جیسا کہ کمسن بچوں یا خواتین کے ساتھ ریپ، جس کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی آوازیں اٹھ رہی ہوں، ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمومی طور پر اس نوعیت کا ٹاسک کسی پی ایس پی افسر کو نہیں بلکہ رینکر پولیس افسر کو سونپا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ پی ایس پی ان افسران کو کہا جاتا ہے جو سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد براہ راست اے ایس پی کے عہدے پر تعینات ہوتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جب یہ فیصلہ ہو جاتا ہے اور مبینہ پولیس مقابلے کی ٹھان لی جاتی ہے تو پھر کسی اور معاملے کو نہیں دیکھا جاتا چاہے وہ ملزمان کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہی موجودگی ہی کیوں نہ ہو۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ جتنے کیسز کے بارے میں وہ جانتے ہیں ان میں ڈی ایس پی رینک کے افسر کو مبینہ پولیس مقابلے کا ٹاسک دیا جاتا ہے جبکہ متعلقہ تھانے کا ایس ایچ او جہاں پر یہ مقدمہ درج ہوتا ہے اور اس مقدمے کے تفتیشی کو اعتماد میں لے کر منصوبہ بنایا جاتا ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس حوالے سے متعلقہ اعلیٰ پولیس افسران بھی ’آن بورڈ‘ ہوتے ہیں۔

    سابق پولیس اہلکار کا دعویٰ ہے کہ وہ سروس کے دوران خود بھی متعدد پولیس مقابلوں میں شامل رہے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمومی طور پر ان کے سامنے ہونے والے پولیس مقابلوں کے لیے زیادہ تر رات کی تاریکی یا پھر علی الصبح کا چناؤ کیا گیا اور یہ ایسے علاقوں میں ہوئے جہاں عوام کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ان کی سروس کے دوران جتنے بھی پولیس مقابلے ہوئے، ان میں سے کسی ایک مقدمے کا بھی کوئی ایسا گواہ سامنے نہیں آیا جس نے یہ واقعات رونما ہوتے ہوئے دیکھے ہوں۔

  16. اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جاری،غزہ میں مزید 16 افراد ہلاک

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہge

    بی بی سی عربی نے فلسطینی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں جاری اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے نتیجے میں منگل کی صبح سے لے کر اب تک کم از کم 16 فلسطینی ہلاک اور دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

    اطلاعات ہیں کہ مرنے والوں میں آٹھ افراد شامل ہیں جو غزہ شہر کے مختلف علاقوں میں دو مکانات اور ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں ہونے والی بمباری میں مارے گئے۔

    بتایا گیا ہے کہ پانچ افراد جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے علاقے مواسی میں ایک خیمے پر ہونے والی بمباری میں مارے گئے، اس کے علاوہ تین دیگر افراد بھی مارے گئے جنہیں اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے مرکز صالحین کے قریب فلسطینیوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا۔

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق، متعلقہ پیش رفت میں، غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ’غذائیت کی کمی کے باعث‘ پانچ اموات ریکارڈ کی گئیں، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

  17. نتن یاہو غزہ میں جنگ کے اثرات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں: آسٹریلوی وزیرِ اعظم

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو غزہ میں جنگ کے اثرات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں۔

    یاد رہے کہ سوموار کے روز آسٹریلین وزیرِاعظم نے اعلان کیا تھا کہ آسٹریلیا ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا تاکہ دو ریاستی حل کے لیے کوششوں میں تیزی لائی جا سکے۔ اس سے قبل برطانیہ، فرانس اور کینیڈا بھی یہ اعلان کر چکے ہیں۔

    منگل کے روز آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن سے بات کرتے ہوئے البانیز نے بتایا کہ انھوں نے گذشتہ جمعرات وزیر اعظم نیتن یاہو سے بات کی تھی تاکہ انھیں آسٹریلیا کے فیصلے سے آگاہ کیا جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ کیسے امداد کو روکا جا رہا ہے اور امدادی سامان کی تقسیم کے مراکز پر ہونے والی اموات بھی ہم نے دیکھی ہیں ’جہاں خوراک اور پانی کے حصول کے لیے قطار لگائے لوگ اپنی جانیں کھو رہے ہیں جو کہ بالکل ناقابل قبول ہے۔‘

    آسٹریلین وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے نتن یاہو سے اس بارے میں بات کی تو اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اپنا وہی بیان دہرایا جو وہ عوامی سطح پر دے چکے ہیں۔ البانیز کا کہنا تھا کہ نتن یاہو کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ غزہ میں معصوم عوام کو پیش آنے والے مشکلات کو ماننے سے انکاری ہیں۔

    گذشتہ روز خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبر دی تھی کہ کابینہ کے اجلاس کے بعد فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے انتھونی البانیز نے کہا تھا کہ یہ تسلیم کرنا ان وعدوں پر مبنی ہوگا جو آسٹریلیا کو فلسطینی اتھارٹی سے موصول ہوئے ہیں، جن میں یہ یقین دہانی شامل ہے کہ مستقبل کی کسی بھی ریاست میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

    انتھونی البانیز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’دو ریاستی حل مشرقِ وسطیٰ میں تشدد کے تسلسل کو توڑنے اور غزہ میں جنگ، مصائب اور بھوک کو ختم کرنے کے لیے انسانیت کی سب سے بڑی امید ہے‘۔

    انتھونی البانیز کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں حکومت کرنے والی فلسطین اتھارٹی نے اتفاق کیا ہے کہ اسرائیل کے پرامن اور محفوظ وجود کے حق کو تسلیم کرنے کی دوبارہ توثیق کی جائے گی، غیر مسلح ہوکر عام انتخابات کرائے جائیں گے، قیدیوں اور ہلاک ہونے والے خاندانوں کو ادائیگی کے نظام کو ختم کیا جائے گا، گورننس میں وسیع اصلاحات، تعلیمی نظام میں مالی شفافیت، اور بین الاقوامی نگرانی کی اجازت دی جائے گی تاکہ تشدد اور نفرت پر اکسانے سے بچا جا سکے۔

    انتھونی البانیز نے مزید کہا کہ ’یہ موقع ہے کہ فلسطینی عوام کو اس انداز میں حقِ خود ارادیت دیا جائے جو حماس کو الگ کر دے، اسے غیر مسلح کر دے اور ہمیشہ کے لیے خطے سے باہر نکال دے‘۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان وعدوں کو مزید اہمیت عرب لیگ کے حالیہ بے مثال مطالبے سے ملی ہے، جس میں حماس سے کہا گیا ہے کہ وہ غزہ میں اپنی حکمرانی ختم کرے اور اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے۔

  18. عمران خان کی نو مئی مقدمات میں ضمانت کی درخواست، سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیے

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنسابق وزیرِ اعظم عمران خان نے نو مئی کے واقعات سے متعلق آٹھ مقدمات میں ضمانت کی اپیلیں داءر کر رکھی ہیں۔ فائل فوٹو

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے نو مئی کے مقدمات میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دائر ضمانت کی اپیلوں پر پنجاب حکومت کو نوٹسز جاری کردیے۔

    منگل کے روز چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کی جانب سے نو مئی کے واقعات سے متعلق آٹھ مقدمات میں ضمانت کی اپیلوں پر سماعت کی۔

    دوران سماعت سپیشل پراسیکیوٹر پنجاب ذوالفقار نقوی اور بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ضمانت کی درخواستیں خارج کرنے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں فائنڈنگز دی ہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ آیا ضمانت کے کیس میں حتمی آبزرویشنز دی جا سکتی ہیں؟

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں فائنڈنگز ٹھیک ہیں یا نہیں، فی الحال اس پر بات نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ہم قانونی معاملات میں نہیں جائیں گے، ابھی قانونی فائنڈنگز کو ٹچ کیا تو کسی ایک فریق کے لیے کیس متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے وکلا قانونی سوالات پر معاونت کریں۔

    انھوں نے وکلا کو آئندہ سماعت تک قانونی معاملات پر تیاری کرنے کی ہدایت کی۔

    دوران سماعت عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کچھ کہنے کی اجازت چاہی تاہم چیف جسٹس نے انھیں روسٹرم پر بولنے کی اجازت نہ دی۔

    عدالت نے پنجاب حکومت کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت 19 اگست تک ملتوی کردی۔

  19. آئی ایس پی آر کا چار روز میں 50 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    پاکستان آرمی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گذشتہ چار روز کے دوران بلوچستان کے سرحدی علاقے ژوب میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 50 مبینہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، 7 سے 9 اگست کے دوران ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 47 مبینہ شدت پسند مارے گئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ 10 اور 11 اگست کی درمیانی شب، پاکستان اور افغانستان سرحد کے ساتھ سمبازہ کے اطراف میں آپریشن کیا گیا۔ پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران مزید تین مبینہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کے پاس سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔

  20. نو روز تک کینیڈا کے جنگل میں لاپتہ رہنے والا شخص زندہ کیسے بچا؟

    کینیڈا

    ،تصویر کا ذریعہQuesnel Search & Rescue Facebook

    کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے وسیع بیابان میں ایک ہفتے سے زائد عرصے سے لاپتہ شخص کو بالآخر ڈھونڈ لیا گیا ہے۔

    رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) نے 39 سالہ اینڈریو باربر کو لاپتہ ہونے کی اطلاع کے نو روز بعد 8 اگست کو زندہ بچا لیا۔ اس سے قبل ایک ہیلی کاپٹر کو جنگل کی سڑک پر باربر کا ٹرک دکھائی دیا تھا جس سے تلاش کو محدود کرنے میں مدد ملی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جب باربر ان کو ملا تو وہ شدید پانی کی کمی کا شکار تھا اور اس کی ٹانگ پر چوٹ آئی تھی۔ پولیس کے مطابق، باربر نے زندہ رہنے کے لیے متعدد طریقے اپنائے جن میں پناہ گاہ بنانا اور تالاب سے پانی پینا شامل ہے۔

    آر سی ایم پی کے سٹاف سارجنٹ بریڈ میک کینن کا کہنا ہے کہ باربر کی حالت اب کافی بہتر ہے۔

    31 جولائی کو وینکوور سے تقریباً 365 میل (587 کلومیٹر) شمال میں میکلیس جھیل کے قریب باربر کا ٹرک خراب ہو گیا تھا جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے تھے۔

    علاقے کے ایک رضاکار تلاش اور بچاؤ گروپ کوئزنل سرچ اینڈ ریسکیو نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں باربر کی جانب سے ایک چٹان کے ساتھ لاٹھیوں اور کیچڑ کی مدد سے بنائی گئی پناہ گاہ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے چٹان پر ’مدد‘ لکھنے کے لیے کیچڑ کا استعمال کیا تھا۔

    میک کینن نے کینیڈین پریس نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ باربر نے جنگل میں زندہ رہنے کے لیے ’جو کچھ بھی ملا اسے کھا کر گزارا کیا۔‘

    ’وہ اپنی پیاس بھجانے کے لیے تالاب کا گندہ پانی پی رہے تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انسان کھانے کے بغیر تو طویل عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر مشکل ہے۔