لیبیا کے فوجی سربراہ ترکی میں فضائی حادثے میں ہلاک

ترکی میں فضائی حادثے کے دوران لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایک فالکن 50 طیارے میں چار دیگر افراد کے ساتھ سوار تھے جو ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے روانہ ہوا تھا۔یہ حادثہ لیبیا کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ جنرل محمد علی فوجی قیادت میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔

خلاصہ

  • ترکی میں فضائی حادثے کے دوران لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد ہلاک ہو گئے ہیں
  • کرک میں پولیس کی موبائل وین پر شدت پسندوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکار ہلاک
  • ڈونلڈ ٹرمپ کا گرین لینڈ کے لیے خصوصی ایلچی کا اعلان: 'ہم اسے حاصل کر کے رہیں گے'
  • دہلی کے بعد بنگلہ دیش نے انڈیا کے مزید دو شہروں میں ویزا دفاتر عارضی طور پر بند کر دیے

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, لیبیا کے فوجی سربراہ ترکی میں فضائی حادثے میں ہلاک

    ترکی میں فضائی حادثے کے دوران لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایک فالکن 50 طیارے میں چار دیگر افراد کے ساتھ سوار تھے جو ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے روانہ ہوا تھا۔

    ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ طیارے کا رابطہ مقامی وقت کے مطابق رات 20:52 پر منقطع ہو گیا، یعنی انقرہ سے پرواز کے تقریباً 42 منٹ بعد۔ طرابلس جانے والے اس طیارے نے رابطہ منقطع ہونے سے پہلے ہنگامی لینڈنگ کی درخواست بھی کی تھی۔

    یہ حادثہ لیبیا کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ جنرل محمد علی احمد الحداد ملک کی فوجی قیادت میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔’

    لیبیا کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت کے وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ نے کہا ہے کہ انھیں فوجی سربراہ کی موت کی خبر ملی ہے۔ وزیراعظم نے مزید بتایا کہ دیگر لیبیائی فوجی حکام بھی اسی طیارے میں سوار تھے۔

    واضح رہے کہ جنرل الحداد اور ان کی ٹیم ترکی میں موجود تھے جہاں انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کی تھی۔

  2. اسرائیلی فوج سکیورٹی وجوہات کی بنا پر غزہ کی پٹی کو کسی بھی صورت نہیں چھوڑے گی: اسرائیلی وزیر دفاع

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ فوج سکیورٹی وجوہات کی بنا پر غزہ پٹی کسی بھی صورت میں خالی نہیں کرے گی اور فوجی اور سول فورسز پر مشتمل ایک یونٹ پٹی کے شمالی حصے میں تعینات ہوگا۔

    انھوں نے اپنے گزشتہ بیان کہ ان کا غزہ پٹی میں بستیاں تعمیر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں کے برعکس منگل کی صبح یہ بیان دیا کہ ’اسرائیل پٹی میں بستیاں تعمیر کرے گا۔‘

    اسرائیلی وزیر دفاع نے منگل کے روز کہا کہ فوج ’لبنان، شام، سکیورٹی زون میں جبل شیخ کی چوٹی پر اور مغربی کنارے کے دہشت گرد کیمپوں کے وسط میں کارروائیاں جاری رکھیں گے۔‘

    تقریباً ایک سال قبل بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیلی فورسز جنوبی شام کے گولان ہائٹس میں ایک بفر زون سے گزر رہی ہیں، جہاں کئی اسرائیل مخالف گروہ سرگرم ہیں۔

    اسرائیل شامی فوج کو خطرہ سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اسے وہاں قائم ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

  3. روسی فوج کا یوکرین پر ڈرونز اور میزائلوں کی مدد سے شدید حملہ، متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس نے کئی یوکرینی شہروں پر رات بھر ایک مرتبہ پھر سے ’بڑا‘ حملہ کیا ہے۔

    یوکرینی حکام کے مطابق روسی فوج کے ان تازہ حملوں میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک چار سالہ بچہ بھی شامل تھا جبکہ توانائی کے شعبے اور انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔

    یوکرین کی فضائیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی فوج نے یوکرین کے مختلف علاقوں میں 635 ڈرونز اور 38 میزائل داغے اور ان میں سے 621 کو ناکارہ کر دیا گیا۔

    زیلنسکی نے کہا کہ ’لوگ کرسمس کے موقع پر اپنے خاندانوں کے ساتھ محفوظ رہنا چاہتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ان حملوں نے روس کی ترجیحات کے بارے میں انتہائی واضح اشارہ دے دیا ہے، باوجود اس کے کہ امن مذاکرات جاری ہیں۔‘

  4. حلب میں شامی فوج نے شامی ڈیموکریٹک فورسز کے خلاف کارروائیاں روک دی ہیں: شامی وزارتِ دفاع

    SANAA

    ،تصویر کا ذریعہSANAA

    حلب شہر میں خونریز جھڑپوں کے بعد شامی وزارتِ دفاع اور کرد جنگجوؤں کی زیرِ قیادت کام کرنے والی سرین ڈیموکریٹک فورسز نے پیر کی شام اعلان کیا کہ انھوں نے اپنی افواج کو جنگ بندی کا حکم دے دیا ہے۔

    شام کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزارتِ دفاع نے ’شامی فوج کے سربراہ کو شامی ڈیموکریٹک فورسز کے ساتھ لڑائی بند کرنے کا حکم دیا ہے۔‘

    کرد فورسز نے بھی اعلان کیا کہ ان اپیلوں کے جواب میں انھوں نے اپنی افواج کو یہ احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ ’کشیدگی کم کرنے کے لیے‘ دمشق حکومت سے وابستہ گروہوں کے حملوں کا جواب دینے سے گریز کریں۔

    شامی حکومت نے حلب کے رہائشی علاقوں میں ہونے والے تشدد کا ذمہ دار کردوں کی قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز کو ٹھہرایا جبکہ شامی وزارتِ صحت نے بتایا کہ گولہ باری کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

    اس کے برعکس شامی ڈیموکریٹک فورسز نے ایک خاتون اور چھ شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ کرد داخلی سلامتی فورس نے کہا کہ شامی وزارتِ دفاع سے وابستہ گروہوں کے حملے میں اس کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔

  5. جب بھی عمران خان ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہیں تو حکومت مذاکرات کا بیانیہ لے آتی ہے: علیمہ خان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سابق وزرِاعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ’عوام کو پوری سنجیدگی کے ساتھ یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ مذاکرات کی بات ہمیشہ اس وقت کی جاتی ہے جب عوامی دباؤ حد سے بڑھ چکا ہو اور اقتدار میں بیٹھے لوگ پریشان ہو جائیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات وہ ہوتے ہیں جن میں عدالتی اپیلوں پر پابندیاں نہیں لگائی جاتیں اور آئینی راستے بند نہیں کیے جاتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مزاکرات کی بات کرنے والے پہلے عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ تو بحال کریں۔ جب جب امران خان کی جانب سے احتجاج کی کل دی جاتی ہے حکومت مزاکرات کی بات کرنے لگتی ہے۔‘

    سابق وزیرِاعظم کی بہن علیمہ خان نے ایک مرتبہ پھر سے حکومت اور انتظامیہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انھیں ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم جب جب یہاں آئیں گے یہ ہمارا راستہ روکیں گے، کیونکہ یہ عمران خان کے مُلک میں احتجاج کی کال کے اعلان سے خوفزدہ ہو چُکے ہیں۔ انھوں نے عمران خان سے ڈر کر آئین اور قانون دونوں توڑیں ہیں۔‘

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ’اب تک اس بارے میں کسی نے کوئی بیان نہیں دیا ہے کہ مُلک کے سابق وزیر اعظم کو قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے۔‘

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’اس وقت جو بھی عمران خان کو پسند کرتا ہے اُن سب کی کوشش ہے کہ عمران خان جلد جیل سے باہر آجائیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’کوئی بھی اگر اپنی استطاعت کے مطابق عمران خان کی رہائی کے لیے جتنی بھی کوشش کر رہا ہے تو ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ وہ یہ کر رہے ہیں۔‘

    مزاکرات سے متعلق بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’محمود خان اچکزئی اگر مزاکرات کی بات کرتے ہیں تو اس کا مینڈیٹ اُن کے پاس ہے اور اس بارے میں سوال بھی انھیں سے ہونا چاہیے۔‘

  6. شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا ردعمل: ’بات چیت ہی واحد راستہ ہے‘

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے مگر ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ’سیاسی ڈائیلاگ کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کسی مذموم کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘

    اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت پاکستان ملکی ترقی و خوشحالی اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے پرامن ڈائیلاگ کے اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ذاتی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کو متعدد بار ڈائیلاگ کی پیشکش کی جا چکی ہے۔ سیاسی ڈائیلاگ کی آڑ میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کسی مذموم کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘

    ادھر تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی شہباز شریف کی پیشکش کا خیرمقدم کرتی ہے۔

    انھوں نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا بیان شیئر کیا جس کے مطابق ’مذاکرات کا بیڑا ہم نے اس وقت اٹھایا جب حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کسی قسم کی بات چیت کی حامی نہ تھیں۔ مگر آج وزیر اعظم کی جانب سے واضح اور مثبت پالیسی بیان نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی مسلسل جدوجہد اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ پیشکش ملک میں سیاسی استحکام، جمہوری تسلسل اور قومی ترقی کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہے، جسے تمام فریقین کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔‘

    اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اعتماد سازی کا قدم نہ صرف مذاکرات کو پائیدار بنائے گا بلکہ ملک میں سیاسی مفاہمت کی نئی بنیاد بھی رکھے گا۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں بات چیت ہی واحد راستہ ہے جو پاکستان کو تقسیم اور تنازعات سے نکال کر اتحاد اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

    ’ہم تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اس عمل کا حصہ بنیں اور ایک جامع چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف اکانومی پر اتفاق رائے پیدا کریں، تاکہ ملک مستقل سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکے۔‘

    خیال رہے کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی میں فواد چوہدری کے علاوہ عمران اسماعیل اور محمود مولوی بھی شامل ہیں۔

    ملک میں گذشتہ ایک سال سے سیاسی تناؤ جاری ہے۔ دسمبر 2024 کے آخر میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے تاہم اس میں کامیابی نہ مل سکی۔ تحریک انصاف 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشنز کی تشکیل کا مطالبہ کر چکی ہے اور اس نے اپنے گرفتار کارکنان اور رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    پہلی بار فروری 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کی پیشکش کی تھی جس کی سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی حمایت کی تھی۔ لیکن اگلے ہی دن پی ٹی آئی نے یہ کہتے ہوئے پیشکش مسترد کر دی کہ حکومت نے کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے اور کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

    اگست میں بھی حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کی تھی مگر اس میں کامیابی نہیں مل سکی تھی۔

  7. برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ ہمیں پاکستان میں ’تحفظ نہیں ملے گا‘، عمران خان کے بیٹوں کا بیان

    برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ ہمیں پاکستان میں ’تحفظ نہیں ملے گا‘، عمران خان کے بیٹوں کا بیان

    ،تصویر کا ذریعہYOUTUBE

    پاکستان میں جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کا کہنا ہے کہ انھیں برطانوی حکومت کی طرف سے مطلع کیا گیا تھا کہ اگر وہ پاکستان جاتے ہیں تو انھیں ’کسی قسم کا تحفظ نہیں دیا جائے گا۔‘

    صحافی مہدی حسن کو دیے انٹرویو میں سلیمان خان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت نے اس صورتحال پر کوئی مزاحمت نہیں کی اور نہ ہی کوئی فعال کردار ادا کیا ہے۔

    قاسم خان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ اپنے ہاتھ گندے نہیں کرنا چاہتے۔‘

    ’انھوں نے ہمیں کہا کہ پاکستان نہ جائیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم پاکستان جائیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں کوئی تحفظ نہیں دیا جائے گا، اگر ہمیں گرفتار کیا جاتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ آپ کو امید ہوتی ہے کہ والد سے ملاقات کے لیے پاکستان جانے والے دو برطانوی شہریوں کی دیکھ بھال کی جائے گی۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عمران خان جلاوطنی قبول کریں گے تو ان کے بیٹوں نے کہا کہ ان کے والد سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کو قبول نہیں کریں گے۔

    تاحال برطانوی حکومت نے اس بیان پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت میں پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان سے جیل میں ملاقاتیں 8 فروری تک معطل رہیں گی۔ انھوں نے کہا کہ جیل کو ’سیاسی جماعت کا ہیڈکوارٹرز نہیں بنایا جا سکتا۔‘

    ادھر پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے اس فیصلے کو انسانی حقوق اور ملکی و بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’قید تنہائی میں رکھنا آئین کے مطابق تشدد کے مترادف ہے‘۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت پرامن احتجاج کرنے والوں پر واٹر کینن اور تشدد کا استعمال کر رہی ہے۔

    گذشتہ ہفتے عمران خان کی بہنوں اور پارٹی کارکنوں کو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کے دوران منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا تھا۔

  8. چاغی داخل ہونے والے 179 افغان شہری گرفتار, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ

    بلوچستان میں حکام کے مطابق ضلع چاغی میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والی خواتین اور بچوں سمیت 179 افغان شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    چاغی میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان افغان شہریوں کو سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں کا تعلق بغلان، ہرات اور دیگر علاقوں سے ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام افراد کسی قانونی دستاویز کے بغیر چاغی میں داخل ہوئے تھے اور یہاں سے وہ ایران جانا چاہتے تھے۔

    ضلع چاغی بلوچستان کا واحد ضلع ہے جس کی سرحدیں شمال میں افغانستان جبکہ مغرب میں ایران سے لگتی ہیں۔

    اتوار کو اس ضلع کے علاقے نوکنڈی میں غیر قانونی افغان تارکین وطن کی ایک گاڑی کو حادثہ بھی پیش آیا تھا جس میں نو افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے تھے۔

  9. بنگلہ دیش جتنی جلدی انڈیا کے ساتھ کشیدگی کم کرلے اتنا بہتر ہے، ڈھاکہ میں تعینات روسی سفیر کا بیان

    الیگزینڈر گریگوریوچ کھوزین

    ،تصویر کا ذریعہX/ @RussEmbDhaka

    بنگلہ دیش میں روس کے سفیر الیگزینڈر گریگوریوچ کھوزین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش جتنی جلدی انڈیا کے ساتھ کشیدگی کم کرلے اتنا بہتر ہے۔

    پیر کے روز بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں صحافیوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے انھوں نے بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

    ایک سوال کے جواب میں روسی سفیر کا کہنا تھا کہ کشیدگی میں کمی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے ضروری ہے۔

    روسی سفیر نے 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں انڈیا اور روس کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’بنگلہ دیش نے بنیادی طور پر انڈیا کی مدد سے 1971 میں آزادی حاصل کی تھی۔ روس نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ روس دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں مداخلت نہیں کر رہا ہے تاہم ان کے خیال میں ایسا راستہ نکالنا دانشمندی ہو گی جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہو۔

    یاد رہے کہ گذشتہ سال بنگلہ دیش میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حکومت گرائے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔

    شیخ حسینہ اس وقت انڈیا میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹ رہی ہیں۔ بنگلہ دیش میں محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت انڈیا سے متعدد بار ان کی حوالگی کا مطالبہ کر چکی ہے تاہم دہلی اس سے انکار کرتا آیا ہے۔

    حال ہی میں بنگلہ دیش کی ایک نئی جماعت نیشنل سیٹیزن پارٹی (این سی پی) کے رہنما حسنات عبداللہ نے دھمکی دی تھی ان کا ملک ’سیون سسٹرز‘ کو الگ کر سکتا ہے، جس کے بعد انڈین وزات خارجہ نے دہلی میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

  10. کرک میں پولیس کی موبائل وین پر شدت پسندوں کا حملہ، پانچ پولیس اہلکار ہلاک

    کرک

    ،تصویر کا ذریعہKP Police

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کرک کے علاقے گرگری میں پولیس کی موبائل وین پر شدت پسندوں کے حملے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد ڈی پی او سمیت پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا تعاقب کیا جا رہا ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔

    گرگری کی مقام پر گیس کی وسیع ذخائر ہیں اور یہاں سے قدرتی گیس کی ترسیل ملک کے مختلف علاقوں کو کی جاتی ہے۔ بی بی سی کے نمائندے عزیز اللہ کے مطابق، گذشتہ کچھ عرصے سے کرک اور اس کی قریبی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی کارروائیاں جاری ہیں۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس موبائل پر حملے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ امن و امان قائم رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور صوبائی حکومت پولیس کے ساتھ کھڑی ہے۔

  11. پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی کا آغاز ہو گیا

    پی آئی اے

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے بولی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

    منگل کے روز وزارتِ نجکاری ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی پوسٹ اسے پی آئی اے کے لیے ایک تبدیلی کا دن قرار دیا گیا ہے۔ ’ایک نیا باب جو کارکردگی، شفافیت اور پائیدار ترقی پر مرکوز ہے۔‘

    آج ہونے والی بولی میں دو کنسورشیمز سمیت تین بولی دہندگان حصہ لیں گے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ تینوں بولی دہندگان کی جانب سے کی گئی پیشکش کو عام کیا جائے گا جبکہ حکومت کی جانب سے بھی ایک ’ریفرنس پرائس‘ یا کم از کم قیمت کا اعلان کیا جائے گا۔

    تمام بولی دہندگان کی جانب سے اگر اس رقم سے زیادہ بولی دی گئی تو اوپن بڈنگ کا عمل ہو گا اور سب سے زیادہ بولی دینے والا گروپ کامیاب تصور کیا جائے گا۔ اگر تمام بولیاں ’ریفرنس پرائس‘ سے کم ہوں گی تو پھر ان میں سے سب سے زیادہ بولی دیے جانے والے گروپ کو موقع دیا جائے گا کہ وہ کم از کم قیمت تک اپنی بولی بڑھا کر بولی مکمل کرے جس کے بعد کامیاب بولی دہندہ کا اعلان ہو گا۔

    پاکستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی یہ دوسری کوشش ہے۔

    گذشتہ برس اس سلسلے میں پہلی کوشش اس وقت ناکام ہوئی تھی جب قومی ائیرلائن کی خریداری کے لیے صرف ایک کمپنی کی جانب سے صرف دس ارب روپے کی بولی لگائی گئی تھی جبکہ حکومت نے اس کی کم از کم قیمت 85 ارب روپے مقرر کی تھی۔

    پی آئی اے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جس کے سرمائے کا تقریباً 96 فیصد حصہ حکومت کے پاس ہے۔ اس کا شمار حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ان اداروں میں ہوتا ہے جو قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔

  12. ڈونلڈ ٹرمپ کا گرین لینڈ کے لیے خصوصی ایلچی کا اعلان: ’ہم اسے حاصل کر کے رہیں گے‘

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آرکٹک کے وسیع جزیرے گرین لینڈ کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کر کے ڈنمارک کے ساتھ تنازع کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں وہ گرین لینڈ کا امریکہ سے الحاق کرنا چاہتے ہیں۔

    لوزیانا کے ریپبلکن گورنر جیف لینڈری کے بطور گرین لینڈ کے ایلچی کردار کیا ہو گا، اس بارے میں بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ’قومی تحفظ‘ کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور ’ہم اسے حاصل کر کے رہیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ لینڈری خصوصی ایلچی کے طور پر گرین لینڈ میں امریکی مفادات کی قیادت کریں گے۔

    یاد رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کی ریاست کا ایک نیم خودمختار حصہ ہے۔

    ٹرمپ کے اس اقدام پر ڈنمارک نے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سفیر کو اس کی ’وضاحت‘ کے لیے طلب کیا جائے گا۔

    گرین لینڈ کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ جزیرے کو ’اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے‘ اور اس کی ’علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔‘

  13. ایمیزون کا شمالی کوریا کے مشتبہ ایجنٹوں کی 1,800 سے زیادہ ملازمتوں کی درخواستیں بلاک کرنے کا دعویٰ

    ایمیزون

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا کہ ان کی کمپنی نے مشتبہ شمالی کوریا کے ایجنٹوں کی 1,800 سے زیادہ ملازمتوں کی درخواستیں بلاک کر دی ہیں۔

    لنکڈ ان پر جاری اپنی ایک پوسٹ میں ایمیزون کے چیف سکیورٹی افسر سٹیفن شمٹ نے دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا کے باشندوں نے چوری شدہ یا جعلی شناختوں کا استعمال کرتے ہوئے ریموٹ (دور دراز سے کام کرنے والی) آئی ٹی ملازمتوں کے لیے درخواستیں دینے کی کوشش کی تھی۔

    ’ان کا مقصد عام طور پر سیدھا ہوتا ہے: ملازمت حاصل کریں، تنخواہ لیں اور حکومت کے ہتھیاروں کے پروگراموں کی فنڈنگ کے لیے یہ پیسے حکومت کو دیں۔

    سٹیفن شمٹ کا کہنا ہے اس بات کا قوی امکان ہے کہ پوری صنعت خاص طور پر امریکہ میں یہ بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔

    امریکہ اور جنوبی کوریا کے حکام نے پیانگ یانگ کے ایجنٹوں کی جانب سے آن لائن فراڈ کے متعلق خبردار کیا ہے۔

    شمٹ کا اپنی پوسٹ میں کہنا تھا کہ گزشتہ سال شمالی کوریائی باشندوں کی جانب سے ملازمت کی درخواستوں میں تقریباً ایک تہائی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ایجنٹ عام طور پر ’لیپ ٹاپ فارمز‘ چلانے والے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ان کا اشارہ ان کمپیوٹرز کی جانب تھا جو ہوتے تو امریکہ میں ہیں لیکں انھیں چلایا ملک کے باہر سے جاتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ایمیزون نے ملازمت کی درخواستوں کی سکریننگ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ٹولز اور اپنے عملے کا ایک مجموعہ استعمال کیا تھا۔

    رواں سال جون میں، امریکی حکومت نے کہا تھا کہ انھوں نے ملک بھر میں 29 ایسے ’لیپ ٹاپ فارمز‘ کو بے نقاب کیا ہے جنھیں غیر قانونی طور پر شمالی کوریا کے آئی ٹی کارکنوں کے ذریعہ چلایا جا رہا تھا۔

    امریکی محکمہ انصاف کا کہنا تھا کہ ان فارمز نے شمالی کوریا کے شہریوں کو امریکہ میں ملازمتیں دلوانے کے لیے چوری شدہ یا جعلی شناخت کا استعمال کیا تھا۔

  14. بنگلہ دیش کے ’انڈیا مخالف‘ نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل میں نامزد ملزم کون ہے؟

    شریف ہادی عثمان

    ،تصویر کا ذریعہOsman Hadi/facebook

    ،تصویر کا کیپشنشریف ہادی عثمان کو رواں ماہ ڈھاکہ میں اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ ایک مسجد سے باہر نکل رہے تھے.

    بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت گرانے میں اہم کردار ادا کرنے والی ’انقلاب مانچا‘ نامی طلبہ تحریک کے نوجوان رہنما شریف ہادی عثمان کے قتل میں ملوث دو افراد کی شناخت فیصل کریم مسعود اور محمد عالمگیر شیخ کے نام سے کی جا رہی ہے۔

    یاد رہے کہ شریف ہادی عثمان کو رواں ماہ ڈھاکہ میں اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ ایک مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ چہرہ ڈھانپے ہوئے نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر گولی چلائی تھی جس کے بعد انھیں علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا تاہم جمعرات کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شریف عثمان ہلاک ہو گئے۔

    ہادی عثمان کی ہلاکت کے بعد بنگلہ دیش میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جن کے دوران پرتشدد مناظر بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔ عبوری حکومت نے شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد ایک روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا تھا۔

    32 سالہ ہادی ’انقلاب مانچا‘ نامی طلبہ تحریک کا حصہ تھے اور انڈیا کے ناقدین میں شمار ہوتے تھے جہاں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

    اب ان کے قتل میں فیصل کریم مسعود کا نام مرکزی ملزم کے طور پر سامنے آرہا ہے۔

    فیصل کرم مسعود کون ہیں؟

    بی بی سی بنگلہ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ فیصل کریم مسعود اور اس کے ساتھی عالمگیر شیخ دونوں کالعدم تنظیم چھاترا لیگ سے وابستہ ہیں۔

    چھاترا لیگ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کا طلبہ ونگ ہے۔ اس تنظیم پر اکتوبر 2024 میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

    بنگلہ دیش پولیس کی جاسوسی برانچ کے سربراہ شفیق الاسلام نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ پولیس نے متعدد ایسی پوسٹیں دیکھی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیصل کریم ہادی کے قتل کے بعد انڈیا فرار ہو گئے ہیں تاہم ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ فیصل کریم مسعود کا پاسپورٹ بلاک کر دیا گیا ہے اس لیے ان کے لیے ملک سے فرار ہونا ممکن نہیں۔

    بنگلہ دیش کی ریپڈ ایکشن بٹالین اور پولیس نے ہادی کے قتل کے سلسلے میں اب تک 13 افراد کو گرفتار کیا ہے جس میں فیصل کریم مسعود کے والدین، بیوی اور اس کی بیوی کے بھائی کے علاوہ مسعود کی ایک گرل فرینڈ بھی شامل ہے۔

    اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایک گینگ کے دو ارکان کو بھی گرفتار کیا ہے۔

  15. دہلی کے بعد بنگلہ دیش نے انڈیا کے مزید دو شہروں میں ویزا دفاتر عارضی طور پر بند کر دیے

    بنگلہ دیش ویزا دفتر

    ،تصویر کا ذریعہNetai De

    بنگلہ دیش کی جانب سے انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں اپنے ہائی کمیشن میں ویزا خدمات عارضی طور پر معطل کرنے کے بعد بنگلہ دیشی حکام نے انڈیا کے مزید دو شہروں میں بھی ویزا دفاتر بند کر دیے ہیں۔

    بی بی سی بنگلہ سروس کے مطابق، بنگلہ دیشی حکام نے انڈیا کی ریاست تریپورہ کے شہر اگرتلہ میں ویزا اور قونصلر خدمات منگل کے روز سے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی، مغربی بنگال کے سلی گوڑی میں واقع بنگلہ دیش ویزا دفتر بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    بنگلہ دیش میں ہندو نوجوان دیپو چندر داس کی ہلاکت کے بعد اگرتلہ میں گزشتہ چند روز سے کچھ مقامی تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں۔

    تاہم، بی بی سی بنگلہ سروس نے سفارت خانے کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کولکتہ میں واقع بنگلہ دیش کا ویزا دفتر اب بھی کام کر رہا ہے۔

    اس سے قبل بنگلہ دیش نے دہلی میں اپنے ہائی کمیشن میں ویزا خدمات عارضی طور پر معطل کر دی تھیں۔ ہائی کمیشن کے گیٹ پر چسپاں کیے گئے ایک نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ویزا سروسز اگلی اطلاع تک بند رہیں گی۔

  16. ترکی کی انٹیلیجنس ایجنسی کا پاک-افغان سرحد سے خودکش حملوں میں ملوث ترک شہری کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

    مہمت گورین

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency

    ،تصویر کا کیپشنگورین پر الزام ہے کہ اس نے داعش کے ارکان کو ترکی سے افغانستان اور پاکستان منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    ترکی کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی کی قومی انٹیلیجنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ایک کارروائی کے دوران ایک ترک شہری کو گرفتار کیا ہے جس پر نام نہاد دولتِ اسلامیہ (داعش) کا اعلی عہدیدار ہونے کا الزام ہے۔

    پیر کے روز ذرائع کے حوالے سے ترکی کے سرکاری میڈیا نے گرفتار شخص کی شناخت مہمت گورین کے نام سے کی ہے۔ گورین مبینہ طور پر کالعدم داعش خراسان (آئی ایس کے پی) میں سرگرم تھا اور ’افغانستان، پاکستان، ترکی اور بعض یورپی ممالک میں خود کش حملوں کا ذمہ دار تھا۔‘

    ترکی کے سرکاری میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق، قومی انٹیلیجنس آرگنائزیشن کو معلوم ہوا تھا کہ گورین نے ترکی سے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں کا سفر کیا اور وہ داعش کے کیمپوں میں سرگرم رہا جس کے بعد وہ آہستہ آہستہ اس گروہ کی قیادت کا حصہ بن گیا تھا۔

    گورین پر الزام ہے کہ اس نے داعش کے ارکان کو ترکی سے افغانستان اور پاکستان منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    اطلاعات کے مطابق، گورین پاکستان میں داعش کے خلاف کیے گئے کئی فضائی حملوں میں بھی بچ گیا تھا۔

    خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق، ترک انٹیلیجنس آرگنائزیشن افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں گورین کے ٹھکانے کی نشاندہی کے بعد اسے گرفتار کر کے ترکی لے آئی ہے۔

    پاکستانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

  17. امریکی صدر کا اپنے نام سے منسوب ’ٹرمپ کلاس‘ بحری جہازوں کا ایک نیا بیڑا بنانے کا اعلان: ’یہ آج تک بنائے گئے کسی بھی جنگی جہاز سے 100 گنا زیادہ طاقتور ہوں گے‘

    ٹرمپ کلاس بحری

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نام سے منسوب بھاری ہتھیاروں سے لیس بحری ’جنگی جہازوں‘ کا ایک نیا بیڑا بنانے کا اعلان کیا ہے جو بقول ان کے آج تک بنائے گئے کسی بھی بحری جہاز سے 100 گنا زیادہ طاقتور ہوں گے۔

    ’گولڈن فلیٹ‘ میں شامل ’ٹرمپ کلاس یو ایس ایس ڈیفینٹ‘ بحری جہازوں کی تعمیر جلد شروع ہونے کی امید ہے اور یہ مختلف طرح کے ہتھیار لے جانے کے قابل ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ڈھائی سال میں کام کرنا شروع کر دیں گے۔

    یہ اعلان صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی بحریہ کی وسیع تر منصوبہ بندی کی توسیع کا حصہ ہے جس میں میزائلوں سے مسلح بڑے جنگی جہازوں کے علاوہ چھوٹے جہاز اور بغیر پائلٹ کے چلنے والے جہازوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔

    حکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اس وقت جہاز سازی کی صلاحیت اور کل پیداوار دونوں میں چین سے پیچھے ہے۔

    پیر کے روز وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور بحریہ کے سکریٹری جان فیلان کے ساتھ فلوریڈا میں خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کہ انھوں نے دو نئے جنگی جہازوں کی تعمیر شروع کرنے کی منظوری دی ہے اور ان کے منصوبہ میں 25 نئے جنگی جہازوں کی تعمیر کا شامل ہے۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ یہ جہاز ’سب سے تیز، سب سے بڑے اور آج تک بنائے گئے کسی بھی جنگی جہاز سے 100 گنا زیادہ طاقتور ہوں گے۔‘

  18. عمران خان سے ملاقاتیں 8 فروری تک معطل رہیں گی، جیل کو ایک سیاسی جماعت کا ہیڈکوارٹرز نہیں بنایا جا سکتا: وفاقی وزیر

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی وفاقی حکومت میں پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے جیل میں ملاقاتیں 8 فروری تک معطل رہیں گی۔

    انھوں نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیل کو سیاسی جماعت کا ہیڈکوارٹرز نہیں بنایا جا سکتا۔ انھوں نے پاکستان تحریک انصاف پر الزام لگایا کہ وہ اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف ’زہر پھیلا رہی ہے‘۔

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور عمران خان کے درمیان ملاقاتیں معمول کے مطابق ہوتی رہیں اور حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بعد میں یہ ملاقاتیں جیل کے باہر سیاسی پریس کانفرنسوں میں بدل گئیں اور پی ٹی آئی نے ایسے بیانیے تشکیل دینا شروع کیے جو ’بھارتی میڈیا پر چلائے گئے‘۔

    ادھر پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے اس فیصلے کو انسانی حقوق اور ملکی و بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’قید تنہائی میں رکھنا آئین کے مطابق تشدد کے مترادف ہے‘۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت پرامن احتجاج کرنے والوں پر واٹر کینن اور تشدد کا استعمال کر رہی ہے۔

    گذشتہ ہفتے عمران خان کی بہنوں اور پارٹی کارکنوں کو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کے دوران منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا تھا۔

    وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ملاقاتیں اس لیے روکی گئیں کیونکہ ان میں اسلام آباد میں بڑے احتجاج کی تیاریوں پر بات ہو رہی تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان بہنوں سے مل کر 26 نومبر 2025 کو احتجاجی پروگرام کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے ایک خصوصی نمائندے نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ عمران خان کو ایسے حالات میں رکھا جا رہا ہے جو ’غیر انسانی یا توہین آمیز‘ سلوک کے مترادف ہو سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اس رپورٹ کو ’بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

  19. عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد نواز شریف نے پی ڈی ایم حکومت چھوڑنے کی ہدایت دی تھی: خواجہ سعد رفیق

    Saad Rafique

    ،تصویر کا ذریعہX/@KhSaad_Rafique

    حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی تناؤ کم کرنے کے لیے نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی قوتوں سے بات کرنی چاہیے۔

    پیر کو لاہور میں اپنے والد خواجہ محمد رفیق کی برسی کے موقع پر ایک تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے انکشاف کیا کہ ’سابق وزیر اعظم عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد جب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت بنی تو نواز شریف نے 20 دن بعد یہ ہدایت دی کہ اس حکومت سے باہر نکل آنا چاہیے۔‘

    خواجہ سعد رفیق کے مطابق سنہ 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے بعد دو مرتبہ ملک انتخابات کے قریب پہنچا لیکن معاملات طے نہ ہو سکے۔ انھوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ شاہ محمود قریشی اور اسحاق ڈار کی ملاقاتوں میں سب کچھ طے پا گیا تھا، تاہم عمران خان نے اس پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ سعد رفیق نے کہا کہ عمران خان کی اپنی بہت غلطیاں بہت ہیں اور نو مئی کا رستہ جان بوجھ کر اختیار کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے بعد جمہوری اور آئینی طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔

    ان کے بقول دوسری مرتبہ پی ڈی ایم حکومت کے قیام کے 20 دن بعد نواز شریف نے شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں کو لندن بلا کر کہا کہ حکومت چھوڑ دی جائے کیونکہ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ اس فیصلے پر آمادہ کرنے میں 15 سے 20 دن لگ گئے۔ سعد رفیق نے کہا کہ جب عمران خان کو علم ہوا کہ ہم انتخابات کی طرف جا رہے ہیں تو انھوں نے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا، جس کے بعد الزامات، گالم گلوچ اور سخت رویے اس حد تک بڑھ گئے کہ ان کا مقدمہ لڑنا مشکل ہو گیا۔

    انھوں نے کہا کہ کوئی بھی یہ ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھا کہ عمران خان آگے چل کر جمہوری رویہ اپنائیں گے۔

    نواز شریف کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ’ان کے ساتھ میرا روح اور دل کا رشتہ ہے اور اب انھیں کردار ادا کرنا ہوگا۔ سعد رفیق نے کہا کہ ’نواز شریف کا دل زخمی کیا گیا ہے، انھیں بہت تکلیف پہنچائی ہے، مگر رول انھیں ہی ادا کرنا ہوگا۔ وہ اس وقت سب سے بڑے ہیں، وہ قابلِ بھروسہ رہنما ہیں، انھیں آگے آ کر سب سے بات کرنی ہوگی، اسٹیبلشمنٹ سے، پیپلز پارٹی سے اور باقی سیاسی قوتوں سے، تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، تاکہ یہ تناؤ کم ہو، تاکہ ہمارے سیاسی مخالفین پر دباؤ کم ہو، تاکہ انھیں بھی بات کرنے کی آزادی ملے، وہ بھی اپنا مؤقف پیش کر سکیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ سیاستدان سیاست پر بات نہ کرے، اگر گھوڑا گھاس نہیں کھائے گا تو کیا کھائے گا، سیاستدان تو سیاست پر ہی بات کرے گا۔ وہ تو اس کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا، اس کی بات کو سننا پڑے گا، اچھی لگے یا بری لگے، مخالفانہ باتیں سنیں گے تو رستہ نکلے گا۔‘