بلوچ یکجہتی
کمیٹی کی آرگنائیزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی حکام کی
جانب سے انھیں کسی جائز جواز کے بغیر امریکہ جانے سے روک دیا گیا۔
بی بی سی سے
بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ انھیں کراچی ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کے حکام نے یہ
بتایا کہ ’آپ کا ویزا درست نہیں ہے۔ اس لیے آپ کو سفر کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘
ڈاکٹر ماہ
مارنگ کا نام معروف بین الاقوامی میگزین دی ٹائم نے 2024 کے لیے دنیا کی 100بااثر
شخصیات میں شامل کیا ہے۔
میگزین کی
جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ کو امریکہ میں بدھ کے روز اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی
تھی جس میں ان شخصیات کو ایوارڈز سے نوازا جانا تھا۔
ڈاکٹر ماہ
رنگ کی پیر کی شب امارات ایئرلائنز کی پرواز سے کراچی سے براستہ دبئی امریکہ کے لیے
روانگی تھی۔
’میرے
پاسپورٹ لیتے ہی اس پر آف لوڈ کی سٹیمپ لگا دیا گیا‘
فون پر
ڈاکٹر ماہ رنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی ایئرپورٹ پر بورڈنگ کارڈ لینے کے بعد
جب وہ ایف آئی اے کے حکام کے پاس گئیں تو وہاں موجود ایک اہلکار نے میرے پاسپورٹ
کو دیکھتے ہی اس پر آف لوڈ کی مہر لگا دی۔
انھوں نے
کہا کہ ’آف لوڈ کی مہر لگنے پر ہی میں یہ سمجھ گئی کہ یہ مجھے پاکستان سے جانے نہیں
دیں گے۔‘
ڈاکٹر ماہ
رنگ بلوچ نے کہا کہ ایک خاتون اہلکار میری پاسپورٹ لے گئی اور پھر اندازاً ایک
گھنٹے بعد اس کو واپس کیا گیا۔
ان کا کہنا
تھا کہ تمام قانونی دستاویزات کے باوجود روکنے کی قانونی وجہ کے بارے میں بار بار
پوچھنے پر انھوں نے یہ بتایا کہ وہ یہ وجہ یہاں آپ کو نہیں بتا سکتے اور جاکر
عدالت میں کیس کریں تو وہاں وجہ بتائی جائے گی۔
ڈاکٹر ماہ
رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ جب وہ کراچی ایئرپورٹ سے واپس شہر کے لیے نکلی تو ان کے
ساتھ سمی بلوچ اور گاڑی کے ڈرائیور کے علاوہ ایک اور خاتون بھی تھیں۔ اُن کے گاڑی
کو پولیس کے اہلکاروں کے علاوہ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے روکا اور تلاشی
کا مطالبہ کیا۔
اس حوالے سے
اسلام آباد میں ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمود علی کھوکر سے رابطہ کیا گیا تو
انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے جیسے ہی معلومات مل جائیں گی تو ان کو شیئر کردیا
جائے گا۔
کراچی ایئرپورٹ
روڈ کے باہر روکے جانے سے متعلق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے الزامات کے حوالے سے وزیر
داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار اور ڈی آئی جی کراچی پولیس اطفر سے فون پر متعدد بار
رابطہ کرنے کے علاوہ ان کو میسیج بھی کیا گیا لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں
ملا۔
تاہم جب ایئرپورٹ
پولیس سٹیشن کراچی کے ایس ایچ او کلیم موسانی سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا
کہنا تھا ’ایئرپورٹ پولیس کا ان خاتون کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں۔‘
ایس ایچ او
کا کہنا تھا کہ ان کا معاملہ ایف آئی اے سے ہے اس لیے ایف آئی اے سے رابطہ کیا
جائے۔
تاہم جب ایس
ایچ او کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ کا یہ دعویٰ ہے کہ جب وہ ایئر پورٹ کی
پارکنگ کی حدود سے سے باہر نکلیں تو وہاں ان کی گاڑی کو جن اہلکاروں نے روکا تو ان کے ساتھ پولیس کے اہلکار بھی
شامل تھے تو انھوں نے کوئی جواب دینے کی بجائے فون بند کیا۔