ایران نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ نے کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کے اسرائیلی حملے میں مارے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ علی لاریجانی اپنے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی، کونسل کے ڈپٹی سیکورٹی آفیسر علی رضا بیات اور محافظوں کے ایک گروپ کے ساتھ مارے گئے۔ پاسداران انقلاب نے اس سے قبل بسیج کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

خلاصہ

  • ایران نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی
  • پاسداران انقلاب نے پہلے بسیج کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی
  • چین نے اعلان کیا ہے کہ تین ہفتوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان وہ خطے کے ممالک کو انسانی امداد فراہم کرے گا
  • یورپی رہنماؤں کا اسرائیل اور حزب اللہ سے 'پائیدار سیاسی حل' کے لیے بات چیت شروع کرنے کا مطالبہ
  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ حملے
  • خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ
  • زیادہ دیر نہیں لگے گی، یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. ’جشن منائیں، ہم اوپر سے دیکھ رہے ہیں: نیتن یاہو کا ایرانی عوام کے لیے ویڈیو پیغام

    Israel

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ فوجی کمانڈروں کے درمیان کھڑے ہو کر ایرانی عوام کے لیے پیغام دے رہے ہیں۔

    بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں اسرائیل کے وزیرِ دفاع، ہمارے چیف آف سٹاف، موساد کے سربراہ، فضائیہ کے سربراہ اور ہمارے سینیئر کمانڈروں کے ساتھ موجود ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہم نے اس جابرانہ حکومت کے دو بڑے دہشت گرد سرغنوں کو ختم کر دیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ اب ایران نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے، جس کا اعلان اسرائیل نے پہلے ہی کر دیا تھا۔

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’ہمارے طیارے دہشت گرد عناصر کو میدانوں میں، چوراہوں پر اور شہر کے مرکزی مقامات پر نشانہ بنا رہے ہیں۔‘

    اس کے بعد وہ جمعے کو آنے والے ایرانی نئے سال نوروز کے حوالے سے پیغام دیا کہ ’یہ سب اس لیے ہے کہ ایران کے بہادر لوگ جشنِ آتش (چہارشنبہ سوری) منا سکیں۔ تو جشن منائیں اور نوروز مبارک۔ ہم اوپر سے دیکھ رہے ہیں۔‘

  2. بریکنگ, ایران نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

    علی لاریجانی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ نے کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کے ’قتل‘ کی تصدیق کر دی ہے۔

    تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ علی لاریجانی ان کے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی، کونسل کے ڈپٹی سیکورٹی آفیسر علی رضا بیات اور محافظوں کے ایک گروپ کے ساتھ مارے گئے۔

    اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔

    قبل ازیں اسرائیلی حکام نے اعلان کیا تھا کہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی اور بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

  3. ایران نے بسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی, غنچے حبیب زاد، بی بی سی فارسی

    ایران کی پاسداران انقلاب نے بسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی موت کی تصدیق کی ہے۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ ’بزدلانہ قتل‘ اُن کی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ’جنگ‘ میں بسیج کی ’اہمیت اور کردار‘ کو ظاہر کرتا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آج انھوں نے تہران بھر میں ’10 سے زائد مختلف مقامات‘ پر بسیج فورسز کو نشانہ بنایا۔

    بسیج ایک رضاکار ملیشیا ہے جس کے اندازاً دس لاکھ ارکان ہیں۔ ملک میں امن و امان بحال کرنے کی ذمہ داری بھی اس فورس کو سونپی جاتی ہے۔ یہ ملیشیا پاسداران انقلاب کے زیرِ کنٹرول ہے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو ’ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم ایران نے اس پر تاحال ردعمل نہیں دیا۔

    اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے اور وزیرِ اعظم نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی قیادت کا تعاقب جاری رکھا جائے گا۔

    یاد رہے کہ علی لاریجانی کو آخری بار 13 مارچ کو تہران میں یومِ القدس کی ریلی کے دوران دیکھا گیا تھا۔

  4. ڈرونز اور میزائل حملے ناکام بنا لیے گئے، ملبہ گرنے سے دو افراد معمولی زخمی ہوئے: کویت

    کویت کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کی فضائی حدود میں دو بیلسٹک میزائل اور 13 ڈرونز کو ناکارہ بنا گیا ہے۔

    وزارت کے مطابق ان تمام حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا ہے، تاہم گرتے ہوئے ملبے کے باعث دو افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

    ان افراد کی حالت مستحکم ہے اور کسی بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی آج میزائلوں کے بارے میں تازہ معلومات جاری کی ہیں۔

  5. جو کینٹ کے استعفیٰ پر ٹرمپ کا رد عمل، ’انھوں نے کہا ایران کوئی خطرہ نہیں تو ان کا جانا بہتر ہے‘

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاؤنٹر ٹیررازم ڈائریکٹر جو کینٹ کے استعفے کے بارے میں اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’میں انھیں اچھی طرح نہیں جانتا تھا، لیکن جب میں نے ان کا بیان پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ ان کا جانا بہتر ہے۔‘

    یاد رہے کہ امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف حملے پر احتجاجا مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایران میں جاری جنگ کی اپنے ضمیر کے خلاف جا کر حمایت نہیں کر سکتے۔

    ٹرمپ نے ان کے الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ ’میں نے ان کا بیان پڑھا۔ میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ وہ اچھے انسان ہیں لیکن سکیورٹی کے معاملے میں کمزور تھے، بہت کمزور۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میں انھیں اچھی طرح نہیں جانتا تھا، لیکن جب میں نے ان کا بیان پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ ان کا جانا بہتر ہے، کیونکہ انھوں نے کہا کہ ایران کوئی خطرہ نہیں تھا۔‘

    ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ایران ایک خطرہ تھا، ہر ملک نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ایران کتنا بڑا خطرہ ہے۔‘

  6. بریکنگ, ’کسی کی مدد نہیں چاہیے‘: ٹرمپ کی نیٹو ممالک پر تنقید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اکثر نیٹو اتحادی ممالک کی طرف سے امریکہ کو کہا گیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ لینا نہیں چاہتے۔

    ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’چونکہ ہمیں اس قدر عسکری کامیابی ملی ہے، ہمیں نیٹو ممالک کی مدد کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہمیں اس کی خواہش ہے۔ ہمیں کبھی ان کی ضرورت نہیں تھی۔‘

    ٹرمپ نے اس پیغام میں جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کا بھی ذکر کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انھیں اتحادی ممالک کے اقدام سے ’حیرت نہیں ہوئی‘۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھیں ’کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔‘

  7. ’ایران نے ہمارے ملک کے لیے کوئی فوری خطرہ پیدا نہیں کیا تھا‘: امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ مستعفی

    جو کینٹ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف حملے پر احتجاجا مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر اپنے استعفے کے اعلان میں جو کینٹ نے کہا کہ ’اپنے ضمیر کے خلاف جا کر ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔‘

    امریکی سینیٹ نے گزشتہ جولائی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے اس عہدے کے لیے جو کینٹ کو نامزد کیے جانے کے بعد ان کی تقرری کی منظوری دی تھی۔

    ٹرمپ کے نام اپنے استعفے کے خط میں جو کینٹ نے لکھا کہ ’ایران نے ہمارے ملک کے لیے کوئی فوری خطرہ پیدا نہیں کیا تھا، اور یہ واضح ہے کہ ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور اس کے طاقتور امریکی لابی کے دباؤ کے تحت شروع کی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ ان اقدار اور خارجہ پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جن پر ٹرمپ نے 2016، 2020 اور 2024 کی انتخابی مہم چلائی اور اپنی پہلی مدتِ صدارت میں نافذ کیں۔

    کینٹ نے لکھا کہ ’جون 2025 تک آپ سمجھتے تھے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ایک جال ہیں جو امریکہ کے محبِ وطن جوانوں کی قیمتی جانیں چھینتی ہیں اور ہمارے ملک کی دولت و خوشحالی کو ختم کرتی ہیں۔‘

    انھوں نےلکھا کہ ’ میں ایک تجربہ کار سپاہی کے طور پر گیارہ بار محاذ جنگ پر گیا اور ایک ’گولڈ سٹار شوہر‘ جس نے اپنی شریک حیات شینن کو اسرائیل کی جھونکی جنگ میں کھو دیا۔‘

    انھوں نے لکھا ’میں اس بات کی حمایت نہیں کر سکتا کہ اگلی نسل کو ایسی جنگ میں دھکیلا جائے جس کا امریکی عوام کو کوئی فائدہ نہیں اور جس کی قیمت امریکی جانوں سے ادا کی جائے۔‘

  8. اقوامِ متحدہ کی ایران میں سکول پر حملے کی تحقیقات کے لیے رسائی کی کوششیں

    ایران کے علاقے میناب پر سکول پر حملہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنتین مارچ کو سکول پر حملے میں ہلاک ہونے والے 168 افراد میں سے زیادہ تر بچے تھے

    اقوامِ متحدہ کے تحقیق کار ایران میں میناب کے اس سکول کے مقام تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر جنگ کے آغاز میں حملہ کیا گیا تھا۔

    اقوامِ متحدہ کے ایران فیکٹ فائنڈنگ مشن کے ایک رکن کے مطابق ادارے کے پاس معتبر اطلاعات ہیں کہ اس حملے میں کم از کم 168 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت طالبات کی تھی جن میں سے کئی سات سال کی عمر کی بھی تھیں۔

    یاد رہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز پر یہ واقعہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں پیش آیا تھا۔

    اقوام متحدہ کے رکن ڈو پلیسس کے مطابق ادارہ اس حملے کے ذمہ دار کا تعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جاننا چاہتا ہے کہ اس حملے کا محرک کیا تھا، اس کے قانونی نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ابھی تحقیق کے ابتدائی مرحلے میں ہیں۔‘ دوسری جانب امریکہ کا بھی دعویٰ ہے کہ وہ اس حملے کی اپنی تحقیقات کر رہا ہے۔

    ڈو پلیسس نے کہا کہ اگرچہ ٹیم نے ابھی تک امریکی حکام سے بات نہیں کی لیکن وہ کسی بھی فراہم کردہ معلومات کا خیر مقدم کریں گے، تاہم انھوں نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ حقائق کا تعین کرے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے ایران تک رسائی کی درخواست کی ہے اور اس رسائی کے حصول کی کوشش جاری رکھیں گے۔‘

  9. ’علی لاریجانی کا مسلم ممالک کی جانب سے ایران کی حمایت نہ کرنے پر اظہار افسوس‘, پال ایڈم، نمائندہ برائےسفارتی امور

    علی لاریجانی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی میڈیا کی جانب سے آج نشر کیے گئے علی لاریجانی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض وہ پیغام ہے جو تقریباً دو ہفتے قبل ہلاک ہونے والے ایرانی ملاحوں کی تدفین کے موقع پر جاری کیا گیا تھا۔

    اسرائیل کی جانب سے علی لاریجانی کی ہلاکت کے دعوے سے چند گھنٹے پہلے سامنے آنے والے ان کے ایک بیان میں لاریجانی نے مسلم ممالک کی جانب سے ایران کی حمایت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

    انھوں نے اپنے پیغام میں اظہار افسوس کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’کوئی اسلامی حکومت ایران کے عوام کے ساتھ نہیں کھڑی ہوئی، سوائے چند غیر معمولی معاملات اور محض سیاسی بیانات تک محدود رہنے والی مثالوں کے۔‘

    مسلمان ممالک کے نام ان کے پیغام میں استعمال کی گئی زبان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انھیں یقین تھا کہ ایران کا مؤقف مسلم دنیا کی عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر سکتا ہے، چاہے ان کی حکومتیں بڑی حد تک لاتعلق رہی ہوں۔

    علی لاریجانی نے لکھا کہ ’ایک طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں اور دوسری طرف مسلم ایران اور مزاحمتی قوتیں۔ آپ اس جنگ میں کس طرف کھڑے ہیں؟‘

    علی لاریجانی نے امریکی افواج کی میزبانی کرنے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے والے خلیجی ممالک پر خصوصی تنقید کی۔

    انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’کیا ایران سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے جبکہ آپ کے ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو اس پر حملے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟‘

  10. مشرقِ وسطیٰ میں 17 مارچ کو کیا ہوتا رہا، جانیے 90 سیکنڈز میں

    ،ویڈیو کیپشنمشرقِ وسطیٰ میں 17 مارچ کو کیا ہوتا رہا، جانیے 90 سیکنڈز میں

    کیا ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے انھیں مارنے کا دعوی کیا ہے اور مشرق وسطی کی اس جنگ میں ایک اور پاکستانی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    مزید تازہ ترین تفصیلات کے لیے دیکھیے یہ ویڈیو

    ویڈیو: عمر درازننگیانہ، نیئر عباس

  11. ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس کا سینکڑوں سٹار لنک ڈیوائسز ضبط کرنے کا دعویٰ, غنچے حبیبی آذاد، بی بی سی نیوز

    سٹارلنک ڈیوائس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس نے سینکڑوں سٹار لنک ڈیوائسز ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی وزارت انٹیلیجنس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے ’دشمن کی جانب سے بھیجی گئی‘ سینکڑوں سٹارلنک کی ڈیوائسز ضبط کر لی ہیں۔

    یاد رہے کہ اس بیان میں وزارت انٹیلیجنس کا اشارہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ملکی قانون کے تحت سٹارلنک ڈیوائسز کا حصول اور استعمال جرم ہے اور جنگ کے دوران ایسا کرنے والوں کو سب سے سخت سزا دی جائے گی۔

    یاد رہے کہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی ایران میں انٹرنیٹ پر تقریبا بلیک آؤٹ ہے۔ انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے رپورٹنگ کے لیے ایران تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔ کچھ لوگ انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کے لیے سٹار لنک کا استعمال کرتے ہیں۔

    دوسری جانب ایران میں سٹارلنک استعمال کرنے پر دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

  12. ایران کے سرکاری میڈیا پر ’بغیر وقت اور تاریخ‘ کے علی لاریجانی کے سوشل میڈیا کا پیغام نشر, غنچہ حبیبی آذاد، بی بی سی نیوز

    اسرائیل کی جانب سے ایرانی رہنما علی لاریجانی کی ہلاکت کے دعوے کے بعد اب ایرانی میڈیا اور علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پیغام زیر گردش ہے۔

    علی لاریجانی کے ٹیلیگرام اور ایکس اکاؤنٹس پر شائع ہونے والے اس تصویری پیغام میں وقت اور تاریخ درج نہیں، تاہم ایران کے سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ آج کا ہے۔

    اس پیغام میں ایران کی بحریہ کے ’جنگجوؤں‘ کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس ماہ کے اوائل میں جنگی جہاز آئی آر آئی ایس دینا پر ہلاک ہونے والوں کی تدفین کی تقریب آج منعقد کی جا رہی ہے۔

    علی لارینجانی

    ،تصویر کا ذریعہ@alilarijani_ir

    یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران میں سرکاری طور پر چار مارچ کو امریکی آبدوز کے حملے میں ہلاک ہونے والے 84 ملاحوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔

    یہ ملاح اُن 130 افراد میں شامل تھے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس دینا پر سوار تھے۔

    آئی آر آئی ایس دینا انڈیا کی میزبانی میں ہونے والی ایک فوجی مشق سے واپس آ رہا تھا جب اس پر حملہ کیا گیا تھا۔

  13. حملے کے وقت علی لاریجانی اپنے بیٹے کے ہمراہ اپارٹمنٹ میں چھپے ہوئے تھے: اسرائیلی میڈیا, یولیند نیل، بی بی سی نیوز

    علی لاریجانی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ لاریجانی کو ’ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم ایران نے اس پر تاحال ردعمل نہیں دیا۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے اور وزیرِ اعظم نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی قیادت کا تعاقب جاری رکھا جائے گا۔

    یاد رہے کہ علی لاریجانی کو آخری بار 13 مارچ کو تہران میں یومِ القدس کی ریلی کے دوران دیکھا گیا تھا۔

    ان کے سوشل میڈیا پر ایکس اکاؤنٹ کے مطابق اس موقع پر جاری تصاویر میں وہ سڑک پر اپنے حامیوں سے ہاتھ ملاتے اور گفتگو کرتے نظر آ رہے تھے۔

    اس سے ایک روز قبل انھوں نے سوشل میڈیا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    ایکس پر اپنی پوسٹ میں لاریجانی نے لکھا تھا کہ ’ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ تیز رفتار فتح چاہتے ہیں۔ جنگ شروع کرنا آسان ہے، لیکن اسے چند ٹویٹس کے ذریعے نہیں جیتا جا سکتا۔‘

    انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’ہم اس سنگین غلطی پر آپ کو پچھتانے پر مجبور کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

    10 مارچ کی ایک اور پوسٹ میں لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران ٹرمپ کی ’دھمکیوں‘ سے خوفزدہ نہیں۔‘

    اپنی پوسٹ کے اختتام پر انھوں نے لکھا تھا کہ ’احتیاط کریں، کہیں آپ ہی ختم نہ ہو جائیں۔‘

  14. ایران کی جانب سے مزید میزائل حملے کیے جا رہے ہیں: اسرائیلی فوج

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر ایک بار پھر میزائلوں کے داغے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر مزید میزائل فائر کیے گئے ہیں اور اسرائیل کے دفاعی نظام انھیں روکنے کے لیے متحرک ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ایران سے ’مقبوضہ علاقوں‘ کی جانب میزائلوں کی ایک نئی لہر داغی گئی ہے۔

  15. ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے بااثر سیکریٹری علی لاریجانی کون ہیں؟, بی بی سی مانیٹرنگ

    علی لاریجانی

    ،تصویر کا ذریعہAlilarijani_ir

    ،تصویر کا کیپشنعلی لاریجانی کو چند روز قبل ہی تہران کی سڑکوں پر القدس ریلیوں میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا

    علی لاریجانی ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ہیں۔

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس عہدے پر اُن کی تعیناتی کی منظوری اگست 2025 میں دی تھی۔

    سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اس کونسل میں ایران کے رہبر اعلیٰ کے نمائندے بھی ہیں۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ میں ان کا تعارف سابق رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے مشیر کے طور پر بھی کروایا جاتا رہا ہے۔

    علی لاریجانی مئی 2008 سے مئی 2020 تک ایران کی پارلیمان کے سپیکر بھی رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں انھیں ایران کی موجودہ قیادت میں ’معتدل قدامت پسند‘ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ پارلیمان کا سپیکر بننے سے قبل، علی لاریجانی نے 2005 سے 2007 تک ایران کے چیف جوہری مذاکرات کار کے طور پر خدمات انجام دیں۔

    ان کے بھائی صادق لاریجانی بھی اسلامی جمہوریہ ایران کی ایک بااثر شخصیت ہیں۔ وہ مجمعِ تشخیصِ مصلحتِ نظام کے چیئرمین ہیں، جو ایک اعلیٰ ثالثی ادارہ ہے اور پارلیمنٹ اور آئینی نگران ادارے (کونسلِ نگہبان) کے درمیان حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق علی لاریجانی سنہ1994 سے سنہ2004 تک ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے سربراہ بھی رہے، اور سنہ 1992 سے 1994 تک انھوں نے بطور وزیرِ ثقافت بھی کام کیا۔

    وہ ایک عالمِ دین آیت اللہ ہاشم آملی کے بیٹے ہیں اور اُن کے چار بھائی اسلامی جمہوریہ ایران میں اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ان کے چھوٹے بھائی آیت اللہ صادق آملی لاریجانی ہیں، جو مجمعِ تشخیصِ مصلحتِ نظام کے چیئرمین ہیں۔

    لاریجانی نے 2021 اور 2024 کے صدارتی انتخابات میں اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے، لیکن سخت گیر جانچ پڑتال کرنے والے ادارے، کونسلِ نگہبان، نے انھیں اس عہدے کے لیے ناموزوں قرار دیا تھا۔

    علی لاریجانی کو چند روز قبل ہی تہران کی سڑکوں پر القدس ریلیوں میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

  16. اسرائیلی فوج کا فضائی حملے میں علی لاریجانی کی ہلاکت کا دعویٰ

    اسرائیل کی فوج کی جانب سے اب ایک بیان میں ایران کے اہم سکیورٹی رہنما علی لاریجانی کو فضائی حملے میں ہلاک کرنے کی تصدیق کی جا رہی ہے تاہم ایران نے اس پر ردعمل نہیں دیا ۔

    اسرائیلی وزیرِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں ابھی اطلاع ملی ہے کہ اعلیٰ ایرانی سکیورٹی اہلکار علی لاریجانی کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی جلد ہی ایک پیغام جاری کریں گے۔

  17. بریکنگ, اسرائیلی فوج کا علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    علی لاریجانی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی

    اسرائیلی فوج نے ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیل ابھی جاری نہیں کی گئی۔

    اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق علی لاریجانی کے خلاف کارروائی رات گئے کی گئی تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ لاریجانی اس حملے میں زخمی ہوئے یا ہلاک ہو گئے۔

    اسرائیلی حکام نے صرف ہدف بنائے جانے کی تصدیق کی ہے، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    بسیج فورس کے کمانڈر کو بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ

    دوسری جانب ایک علیحدہ بیان میں اسرائیلی فوج نے ایران کی بسیج فورس کے کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    یاد رہے کہ سبیج ایران کی ایک نیم فوجی تنظیم ہے جو رواں سال کے اوائل میں حکومت مخالف مظاہروں کے سخت کریک ڈاؤن میں شامل رہی تھی۔

    ایرانی میڈیا میں اس حوالے سے تاحال کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ پیر کے روز کیا گیا اور اس میں غلام رضا سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق غلام رضا سلیمانی چھ برس تک پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اس ملیشیا کی قیادت کرتے رہے۔

  18. چین کا ایران اور لبنان سمیت مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے ہنگامی انسانی امداد کا اعلان

    تہران

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    چین کی جانب سے منگل کے روز اعلان کیا گیا ہے کہ تین ہفتوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان وہ خطے کے ممالک کو انسانی امداد فراہم کرے گا۔

    بی بی سی عربی کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’چین نے ایران، اردن، لبنان اور عراق کو فوری انسانی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امید ہے کہ اس سے ان ممالک کے عوام کو درپیش انسانی مصائب کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔‘

  19. ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا 10 ’غیر ملکی جاسوس‘ گرفتار کرنے کا دعویٰ

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے منگل کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے دوران انھوں نے 10 ’غیر ملکی جاسوس‘ گرفتار کیے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق شمال مشرقی ایران کے صوبے خراسان رضوی میں پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس تنظیم نے ’10 اجرتی اور غدار عناصر کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔‘

    تاہم بیان میں ان کی قومیت کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

    پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ان میں سے چار افراد ’حساس مقامات اور اقتصادی تنصیبات‘ کے بارے میں معلومات جمع کر رہے تھے جبکہ دیگر افراد کا تعلق ایک ’دہشت گرد گروہ‘ سے تھا۔

  20. برٹش ایئرویز نے مشرق وسطیٰ کے بعض روٹس جون تک معطل کر دیے, ریچل کلن، بزنس رپورٹر

    برٹش ایئرویز کا طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے پیدا ہونے والے تنازع کے بعد برٹش ایئرویز نے مشرق وسطیٰ کے کچھ روٹس جون تک منسوخ کر دیے ہیں۔

    امان، بحرین، دبئی اور تل ابیب کے لیے پروازیں 31 مئی تک عارضی طور پر منسوخ کی گئی ہیں جبکہ دوحہ کے لیے پروازوں کی معطلی 30 اپریل تک جاری رہے گی۔

    برٹش ایئرویز کے ترجمان نے کہا: ’مشرق وسطیٰ میں صورتحال کی مسلسل غیر یقینی اور فضائی حدود میں عدم استحکام کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور متاثرہ مسافروں سے براہِ راست رابطے میں ہیں تاکہ انھیں مختلف متبادل فراہم کیے جا سکیں۔‘

    جن مسافروں نے منسوخ شدہ مقامات کے لیے ٹکٹیں خریدی ہیں، ان کے پاس کسی اور ایئرلائن سے دوبارہ بکنگ کروانے، سفر کی تاریخ تبدیل کرنے، یا مکمل رقم واپس لینے کا اختیار موجود ہے۔

    سعودی عرب میں ریاض اور جدہ کے لیے برٹش ایئرویز کی پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔