یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
یکم ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، مری، پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب این ڈی ایم اے نے سوموار سے بدھ کے درمیان مری، راولپنڈی، جہلم، اٹک، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ اور حافظ آباد میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
یکم ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع سے زلزلہ بارے ابتدائی رپورٹ موصول ہو گئی ہے جس کے مطابق لاہور، راولپنڈی سمیت پنجاب کے بیشتر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 6 ریکارڈ کی گئی ہے ۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز افغانستان کے جنوب مغرب میں اسد آباد اور گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔
ترجمان کے مطابق پاکستان،افغانستان، انڈیا اور تاجکستان میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
ادارے کےمطابق پنجاب بھر کی انتظامیہ عمارتوں کی چیکنگ میں مصروف ہے تاہم تاحال صوبے بھر میں زلزلے سے کوئی نقصان رپورٹ نہیں ہوا ۔

،تصویر کا ذریعہGetty
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، مری، پشاور، ایبٹ آباد، اٹک سمیت خیبرپختون خوا کے مختلف اضلاع میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 6.0 ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی زمین میں 15 کلو میٹر تھی اور یہ رات 12 بج کر 17 منٹ پر آیا۔
ادارے کے مطابق زلزلے کا مرکز جنوب مشرقی افغانستان تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے نے اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں یکم سے تین ستمبر تک شدید موسلادھار بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں مزید بارشوں کے امکان کے باعث سیلابی صورتحال میں شدت آ سکتی ہے جس سے شمال مشرقی، وسطی اور جنوبی پنجاب کے اضلاع متاثر ہوسکتے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق مری، راولپنڈی، جہلم، اٹک، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ اور حافظ آباد میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
چنیوٹ، لاہور، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، بھکر، لیہ اورمیانوالی میں بھی موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ادارے کے مطابق ڈیرہ غازی خان، ساہیوال، ملتان، بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان میں بھی بارشیں اور سیلابی صورتحال متوقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
الرٹ کے مطابق بالائی علاقوں میں ممکنہ شدید بارشوں اور دریاؤں میں تیز بہاؤکے باعث مرالہ ہیڈ ورکس پر سیلابی ریلوں اور بہاؤ میں شدید اضافے کا امکان ہے جبکہ سیلابی صورتحال اور ملحقہ علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں اور ندی نالوں کے قریب رہنے والوں کو الرٹ رہنے کی تلقین کی ہے جبکہ غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایات بھی کی گئی ہیں۔ تیز بہاؤ کی صورت میں ندی نالوں، پلوں اور پانی میں ڈوبی سڑکوں سے گزرنے سے گریز کی بھی ہدایات کی گئی ہے۔
ادارے کے مطابق ندی نالوں میں اچانک بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے، نشیبی و خطرے سے دوچارعلاقوں سے عوام کو دور رہنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات اور تیاری کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ نشیبی علاقوں سے فوری نکاسی آب کے لیے ضروری مشینری اور پمپس تیار رکھیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا الرٹ
این ڈی ایم اے نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران ممکنہ موسلا دھار بارشوں کے پیش نظر سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا۔
ادارے کے مطابق ’جموں و کشمیر کے علاقوں خصوصاً وادی نیلم، مظفرآباد، باغ، شردھا حویلی اور کوٹلی میں اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارشیں متوقع ہیں۔‘
این ڈی ایم اے کے مطابق ’شدید بارشوں کے باعث شہری اور نشیبی علاقوں میں سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ موجود ہے۔ شہری احتیاط کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے آرمینیا کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آرمینیا کے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیے میں اس کا باضابطہ اعلان کیا۔
انھوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات قائم ہوگئے ہیں۔
ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے تیئں اپنے عزم کا اعادہ کیا اور معیشت، تعلیم، ثقافت اور سیاحت سمیت تعاون کے ممکنہ مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے دوطرفہ اور کثیر الجہتی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اعادہ کیا۔
اب تک پاکستان آرمینیا کو آزاد ریاست تسلیم نہیں کرتا تھا
یاد رہے کہ آرمینیا مغربی ایشائی ملک ہے۔ پاکستان اور آرمینیا کے درمیان اس سے پہلے باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں تھے۔
پاکستان آرمینیا کو خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا تھا۔ اسی لیے دونوں ممالک کے مابین کوئی سرکاری سفارتی تعلقات نہیں تھے۔
پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے مطابق ماضی کے تعلقات کی وجہ علاقائی جغرافیائی سیاسی دشمنی رہی ہیں کیونکہ پاکستان نگورنو کاراباخ تنازعے میں آرمینیا کے خلاف آذربائیجان کی حمایت کرتا رہا ہے۔
آرمینیا کی آبادی 30 لاکھ سے زائد ہے اور اس کی سرکاری زبان آرمینیائی ہے۔
یہاں اہم غیر ملکی زبانیں جو آرمینیائی جانتے ہیں وہ روسی اور انگریزی ہیں۔ تاہم آرمینیا میں عام طور پر بولی جانے والی دیگر غیر ملکی زبانوں میں فرانسیسی، جرمن، اطالوی، ہسپانوی اور فارسی شامل ہیں۔
آرمینیا میں زیادہ تر 97 فیصد آرمینیائی مسیحی ہیں۔ آرمینیا کی مسلمان آبادی میں بنیادی طور پر آذربائیجان اور کرد شہری تھے تاہم ناگورنو کاراباخ تنازعے کے بعد مسلمانوں کی زیادہ آبادی ملک چھوڑ کر چلی گئی۔

،تصویر کا ذریعہSHAHZAD
ضلع قصور کی تحصیل پتوکی کے اسسٹنٹ کمشنر فرقان احمد کی نماز جنازہ پتوکی میں ادا کرنے کے بعد ان کی میّت ان کے آبائی علاقے لکی مروت، خیبر پختونخوا روانہ کردی گئی ہے۔
نماز جنازہ میں اعلیٰ احکام نے شرکت کی ہے۔
فرقان احمد کا ایک ماہ قبل ہی پتوکی میں اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے تبادلہ ہوا تھا۔ جس کے بعد حالیہ سیلابی صورتحال پیدا ہونے کی وجہ سے وہ مختلف دوروں اور انتظامات کی دیکھ بھال کے لیے ہیڈ بلوکی میں محکمہ انہار کے گیسٹ ہاوس میں مقیم تھے۔
وہ گذشتہ پانچ دنوں سے مختلف سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کررہے تھے۔
فرقان احمد کی موت کی وجہ کے حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ تاہم ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔
حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر کہا گیا کہ انھیں جان لیوا ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق ’فرقان احمد 30 اگست کی رات گے گیسٹ ہاوس میں اپنے کمرے میں سوئے تھے اور انھیں صبح دوبارہ دورے پر جانا تھا۔ جب وہ مقررہ وقت پر نہیں پہنچے تو ان کے گن مین نے کمرے میں جا کر دیکھا تو ان کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔‘
اگرچہ انھیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔
اس موقعے پر ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) عرفان علی کاٹھیا نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی کمیونٹی کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔‘

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سیلابی صورتحال پر میڈیا سے گفتگو میں بتایا ہے کہ انڈیا کے ڈیم سے پانی کے اخراج کے حوالے سے حسّاس صورتحال پیدا ہوئی ہے جس کے بعد تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’انڈس واٹر کمیشن، این ڈی ایم اے سمیت تمام ادارے متحرک رہے اور آج بھی انڈین کمیشن سے ستلج واٹر پر بات کی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’سلال ڈیم کے حوالے سے کوئی اپڈیٹ آفیشیلی نہیں بتائی گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آبادیوں کو بچانے کے لیے ہم وہاں بھی بریچ کریں گے۔‘
عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ’قصور میں ستلج نے زیادہ تباہ کاریاں کی۔ جبکہ دریائے چناب کا سیلابی ریلا تباہ کاریاں کرتا ہوا جھنگ پہنچ چکا ہے۔ کل تریمو پہ ریلہ 7 لاکھ سے اوپر کا ہوگا۔ یہ کل شور کوٹ پہ پل سے گزرے گا جہاں معاملات خراب ہوسکتے ہیں۔‘
جب پنجند پہ علی پور کے مقام پر پانی پہنچے کا تو 9 لاکھ سے اوپر کا ریلا ہوگا۔‘
سیلابی صورتحال پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب پانی ہیڈ محمد والا پہنچے گا تو پانی کا ریلہ 8 لاکھ سے اوپر کا ہوگا۔ ہیڈ محمد والا کے سبب ملتان کے علاقے زیادہ متاثر ہوں گے۔‘
پی ڈی ایم اے کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ جو سیلابی سیلا سندھ میں داخل ہوگا تو یہ 11 لاکھ کیوسک کا ہوگا۔‘
انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ میں این ایچ پی سی کے زیر زمین پاور ہاؤس کی سرنگ میں گذشتہ رات ایک بڑی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ٹنل بلاک ہوگئی اور اندر کام کرنے والے 19 ملازمین اور افسران پھنس گئے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک 8 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے جب کہ 11 افراد تاحال اندر ہیں۔ انھیں نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
پتھورا گڑھ کے ڈی ایم ونود گوسوامی نے کہا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ٹنل کے منہ اور ایمرجنسی شافٹ سے ملبہ ہٹانے کا کام کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اندر موجود 11 ملازمین محفوظ ہیں اور ان سے رابطہ برقرار ہے۔ ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔‘
ضلعی انتظامیہ اور دیگر ایجنسیاں ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ دھرچولا جتیندر ورما نے کہا کہ پاور ہاؤس کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا ہے۔ ٹنل کے مرکزی دروازے پر مسلسل گرنے والے ملبے کو بی آر او کی مدد سے ہٹایا جا رہا ہے۔
موقعے پر مناسب مشینری اور سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ سرنگ کے اندر کچن اور کھانے کے انتظامات پہلے سے موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے پنجاب میں قدرتی آفات سے نملانے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے ہریکے میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق آج کے دن آفیشل ذرائع سے ستلج ہریکے کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ ملی ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ’دریائے چناب یا دیگر دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے کی کوئی آفیشل وارننگ ابھی تک نہیں ملی۔‘
ترجمان کے مطابق ’سلال ڈیم کے سپیل ویز کھولے جانے کی بھی کوئی آفیشل انفارمیشن شیئر نہیں کی گئی۔‘
تاہم ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ سول انتظامیہ اور متعلقہ ادارے ہائی الرٹ ہیں۔ اور یہ کہ پی ڈی ایم اے پنجاب، ارسا اور محکمہ آبپاشی دریاؤں کی صورتحال کو 24 گھنٹے مانیٹر کر رہے ہیں۔
’دریاؤں میں کسی بھی بڑے ریلے کے بارے انتظامیہ اور شہریوں کو پیشگی الرٹ جاری کیا جائے گا۔‘
یاد رہے کے انڈیا سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈس واٹر کمیشن کے ذریعے پیشگی اطلاع دینے کا پابند ہے۔‘
تاحال انڈیا کی طرف سے سرکاری طور پر اس دعوے پر تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
تاہم گذشتہ ہفتے انڈیا نے ’سفارتی ذرائع‘ کے ذریعے پاکستان کو سرحد کے دونوں جانب ممکنہ سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔
انڈین ذرائع کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں انڈیا کے سفارتخانے نے 24 اگست کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ ’انسانی بنیادوں‘ پر ممکنہ سیلاب کی وارننگ شیئر کی تھی، نہ کہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت۔
خیال رہے رواں برس اپریل میں پہلگام میں حملے کے بعد انڈیا نے دونوں ممالک کے درمیان چھ دہائی پرانے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔
صرف یہی نہیں رواں برس مئی میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے بھی کیے تھے۔ انڈیا نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان پہلگام حملے میں ملوث تھا، جبکہ پاکستان اس الزام کی متعدد بار تردید کر چکا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قانون کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈی جی کے مطابق ’آئندہ 2 روز میں بڑا سیلابی ریلا ہیڈ مرالہ کے مقام تک پہنچ سکتا ہے۔‘
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ ’اس سیلابی ریلے سے دریائے چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔‘
انھوں نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو کسی بھی ناگہانی صورتحال نمٹنے کے لیے کے لیے ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز تمام افسران کی موجودگی کو فیلڈ میں یقینی بنائیں۔

،تصویر کا ذریعہPunjab Police
بی بی سی اردو کے نامہ نگار لاہور سمیت پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جا کر وہاں کی تازہ صورتحال جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس وقت لاہور اور سیلاب سے متاثرہ دیگر علاقوں جن میں چنیوٹ، جھنگ، شیخوپرہ، ننکانہ صاحب بھی شامل ہیں وہاں گذشتہ 24 گھنٹے سے بارہا بارش ہو رہی ہے۔
بہت سے علاقوں میں اربن فلڈنگ ہوئی۔ کئی کچے مکان بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ لاہور شہر کے کئی مکانوں کی چھتیں گرنے سے ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
اگرچہ انتظامیہ امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کی کوشش کررہی ہے لیکن مسلسل برستی بارش سے نہ صرف انھیں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ کھلے آسمان تلے بیٹھے متاثرین کے لیے بھی مصائب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
متاثرین خوفزدہ ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ابھی مزید سیلابی پانی بھی آئے گا، اور جو بارش اس وقت جاری ہے اس کی وجہ سے کیا ہونے والا ہے؟ دریائے راوی کے کنارے آباد سوسائٹیز اور مارکیٹوں میں بھی پانی آ گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPunjab Police
متاثرہ علاقوں میں لوگوں کا سیلابی پانی سے نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یاد رہے کہ پی ڈی ایم سے کے ڈی جی نے خبردار کیا ہے کہ اب نشیبی علاقوں کی طرف پانی جانے پر وہاں خطرہ بڑھ گیا ہے۔
جھنگ شہر کے بھی سیلابی پانی سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ وہاں کے کئی موضع جات میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
ایسے متاثرین جو ریسکیو تو کر لیے گئے ہیں لیکن ان میں سے کئی لوگوں کو پیچھے رہ جانے والے اپنے گھروں اور املاک کے تحفظ کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ انتطامیہ ان کی سکیورٹی کا انتظام کرے۔
کچے کے علاقے کے لوگ خود سے جا کر اپنے مال مویشی اور گھروں کی خیریت معلوم کرنے جا رہے ہیں۔ تاہم متعدد کہنا ہے کہ ان کے جانور، غلہ اور سامان یا تو سیلابی ریلوں میں بہہ گیا ہے یا برباد ہو چکا ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے ستلج، راوی، چناب اور ملحقہ ندی نالوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے۔
محکمے کے مطابق یکم سے پانچ ستمبر تک دریائے راوی، ستلج اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار رہے گی۔ اور تین ستمبر دریاؤں کے بالائی حصوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’اگلے 24 گھنٹوں میں دریائے چناب ہیڈ تریموں کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہوگا۔ ‘
پی ڈی ایم اے پنجاب نے تمام متعلقہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ کر دیا ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے لوکل گورنمنٹ، محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، محکمہ صحت، محکمہ جنگلات، لائیو سٹاک اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو بھی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر تمام تر انتظامات مکمل ہیں اور ایمرجنسی کنٹرول رومز میں سٹاف الرٹ ہے۔
تاہم انھوں نے عوام سے بھی جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی اپیل کی۔ اور کہا کہ ہنگامی انخلا کی صورت میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔

،تصویر کا ذریعہRescue1122
دوسری جانب لاہور میں ریسکیو 1122 کی جانب سے دریائے راوی کے ملحقہ نشیبی علاقوں سے لوگوں کو ریسکیو کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ترجمان ریسکیو کے مطابق خردپور گاؤں مانگا منڈی سے 220 افراد کو سیلابی پانی سے باحفاظت ریسکیو کیا گیا۔ ان افراد میں مرد، خواتین، بچے اور گھریلو سازو سامان شامل ہیں۔
ریسکیو کیے گئے تمام افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ خرد پور گاؤں مانگا منڈی سے ملحقہ ایک گاؤں ہے۔

،تصویر کا ذریعہRescue 1122
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی بارشوں, اربن فلڈنگ اور سیلابی ریلوں کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات رپوٹ کیے گئے ہیں۔
صوبہ میں ہونے والی بارشوں، اربن اور فلیش فلڈ کے تازہ واقعات میں اب تک 5 افراد ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔
مرنے والے افراد میں چار بچے اور ایک خاتون شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں ایک مرد، ایک خاتون اور 3 بچے شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں مجموعی طور پر چھ گھر وں کو نقصان پہنچا۔ جس میں 3 گھروں کو جزوی نقصان ہوا تاہم تین گھر مکمل منہدم ہوگئے۔

،تصویر کا ذریعہRescue 1122
یہ حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، جنوبی وزیرستان، خیبر اور ایبٹ آباد میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 15 اگست سے اب تک صوبہ میں بارشوں، فلیش اور اربن فلڈنگ کے باعث مختلف حادثات میں مجموعی طور پر 411 افراد ہلاک اور 258 زخمی ہوئے جبکہ 3580 گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اس کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث دو ہزار سے زائد موضع جات متاثر ہوئے ہیں جبکہ حالیہ سیلاب میں ڈوبنے سے 33 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 20 لاکھ 66 ہزار لوگ متاثر ہوئے۔
پنجاب کے ریلیف کمشنر نبیل جاوید کا کہنا ہے کہ سیلاب میں پھنس جانے والے سات لاکھ 60 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 511 ریلیف کیمپس اور 354 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ مویشیوں کے علاج معالجے کے لیے 333 ویٹرنری کیمپس قائم بھی کیے گئے ہیں۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اس وقت راوی اور تریموں پر پانی بڑھا ہوا ہے اور سپر فلڈ کی صورت میں سارا کچہ ڈوب جائے گا۔
مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت سپر فلڈ کی تیاری کر رہی ہے تاہم انھیں امید ہے کہ اتنا پانی نہیں آئے گا۔ خیال رہے کہ 9 لاکھ کیوسکس سے اوپر کے سیلاب کو سپر فلڈ کہا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تریموں سے گزرنے کے بعد بھی پانی کو سندھ پہنچنے میں پانچ دن لگیں گے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس تمام آبادی کے نقشے، لوگوں کی تعداد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں اور یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کو مہیا کر کے انھیں پی ڈی ایم اے سے تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بحری فوج نے بھی حکومت کی بہت مدد کی ہے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح انسانی جانوں اور مویشیوں کو نقصان سے بچنا ہے اس لیے ضلعی انتظامیہ لوگوں کے انخلا کی تیاری کر رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے، بحری اور برّی فوج کی 192 کشتیاں کچے کے علاقوں میں تعینات کردی گئی ہیں۔
صوبہ سندھ اور پنجاب کا موازانہ کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ پنجاب کا جغرافیہ ایسا ہے کہ پانی دوبارہ دریا میں جلد آ جاتا ہے، اس کے برعکس سندھ کی زمین دریا سے نیچے ہے اس لیے پانی جلدی دریا میں نہیں لوٹتا۔
انھوں نے انکشاف کیا کہ دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر چھ حساس مقامات ہیں جن میں سے کےکے بند کا حصہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ اسی طرح دریائے سندھ کے لیفٹ بنک پر شاہین بند کا مقام کافی حسساس ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر آٹھ یا نو لاکھ کیوسک پانی آگیا تو شاہین بند نہیں بچ پائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ اس بند کا سٹرکچر ہی ایسا ہے اس لیے اس بند کو ہر حال میں بچانا ہماری اولین ترجیح ہوگی۔
وزیر اعلیٰ کو محکمہ آبپاشی نے بتایا کہ لیفٹ مارجینل بند، کے کے بند، کے کے فیڈر بند، نیو گھورگھاٹ، ایکس بند، اولڈ توڑی بند، ایس بی بند کو انتہائی حساس پوائنٹس قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، قادر پور شنک بند، قادر لوپ بند، راونتی بند، بائیجی بند اور آر این بند کو بھی انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق ان مقامات پر تمام تر ضروری اقدامات کیے گئے ہیں جن میں رات کے اوقات میں گشت کے دورن روشنی کا انتظام، عملے کی تعیناتی، ضروری مشینری، کمزور جگہوں کی نشاندہی کے بعد ان کی مرمت اور مضبوطی کا کام شامل ہے۔
ڈپٹی کمشنر کشمور کندھ کوٹ نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ سپرفلڈ کی صورت میں آٹھ یوسیز، 38 دیہہ، 171 گاؤں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں دو لاکھ سے زائد آبادی کا انخلا ہو گا۔
ڈی سی کشمور کے مطابق، کمشور میں 21 کشتیاں رجسٹرڈ ہٰیں جو انخلا کے کاموں میں حصہ لیں گی۔ اس کے علاوہ کندھ کوٹ میں 15 کشتیوں کی مدد سے لوگوں کو محفوط مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔ توڑی بند ، کے کے بند، گھورا گھاٹ، بی ایس فیڈر اور آر ڈی 45 پر چار میڈیکل کیمپس قائم کردیے گئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ متاثرین میں سے 50 سے 60 فیصد افراد اپنے رشتہ داروں کے یہاں منتقل ہوں گے باقی افراد کو حفاظتی بندوں سے ملحقہ سرکاری سکولوں/ عمارتوں میں رہائش فراہم کی جائے گی جبکہ دیگر کو ٹینٹ سٹیز / ویلیجز میں ان کے مویشیوں کے ساتھ پناہ دی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے چین کے شہر تیانجن میں موجود ہیں جہاں ان کی وفد کی سطح پر چینی صدر سے ملاقات ہوئی ہے۔
اتوار کے روز ملاقات کے دوران ابتدائی ریمارکس دیتے ہوئے صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ دنیا تبدیلی کی طرف جا رہی ہے اور بین الاقوامی صورتحال افراتفری کا شکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین اور انڈیا نہ صرف ’مشرق کی دو قدیم تہذیبیں‘ ہیں بلکہ دنیا کے ’دو سب سے زیادہ آبادی والے ملک اور گلوبل ساؤتھ کا حصہ ہیں۔‘
چینی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے دوست بن کر رہیں جن کے اچھے تعلقات ہوں، ’ایسے شراکت دار جو ایک دوسرے کی کامیابی کا باعث بنیں، اور ڈریگن اور ہاتھی ایک ساتھ رقص کریں۔‘
انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ 2.8 ارب لوگوں کے مفادات دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے جڑے ہوئے ہیں۔
نریندر مودی کا کہنا تھا کہ انڈیا چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو آگے لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب کی پیشگوئی کے پیشِ نظر شمالی سندھ کے کچے کے علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے جبکہ دوسری جانب دریائے سندھ میں اس وقت تک صورتحال معمول کے مطابق ہے۔
سندھ کے محکمہ آبپاشی کے مطابق، گڈو بیراج پر اپ سٹریم سے پانی کی آمد 322819 کیوسک جبکہ ڈاؤن سٹریم میں اخراج 307956 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح، سکھر بیراج پر اپ سٹریم سے پانی آمد 303480 کیوسک اور ڈاؤن سٹریم میں اخراج 252110 کیوسک موجود ہے۔
دریائے سندھ پر قائم آخری بیراج کوٹری بیراج پر اپ سٹریم سے پانی کی آمد 273844 کیوسک جبکہ ڈاؤن سٹریم میں اخراج 244739 کیوسک نوٹ کیا گیا ہے۔
شمالی سندھ کے اضلاع گھوٹکی، خیرپور اور کشمور کے کچے کے علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ لوگ کشتیوں پر سامان لاد کر پکے کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔ خیرپور میں رپڑی کے مقام پر سامان کی منتقلی کے دوران ایک کشتی الٹ گئی۔ حادثے کے نتیجے میں کشتی پر سوار افراد محفوظ رہے۔
اس سے قبل صوبائی وزیر محمد بخش مہر نے گھوٹکی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اگر پانی کی سطح سات لاکھ سے تجاوز کرتی ہے تو گھوٹکی اور اوباوڑو تحصیل میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سندھ کے محکمہ آبپاشی کے مطابق، اس وقت پنجاب میں پنجند کے مقام پر 8 لاکھ 82 ہزار کیوسکس سے زائد پانی موجود ہے۔ صوبائی وزیر جام خان شورو کا کہنا ہے کہ پنجند سے کتنا پانی دریائے سندھ میں داخل ہوتا ہے اس حساب سے سیلابی صورتحال کا تعین ہوگا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینیئر صوبائی وزیر شرجیل میمن، وزیرآبپاشی جام خان شورو اور کمانڈر کوسٹ ریئر ایڈمرل فیصل نے نیول ہیلی کاپٹر میں دریاؤں کی صورتحال کا جائزہ لیا، انھیں گڈو کے مقام پر بریفنگ دی گئی اور نقشوں کی مدد سے صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سیلاب سے اب تک صوبے بھر میں 20 لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ تین دریاؤں راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کی جو صورتحال اب ہے وہ کبھی نہیں ہوئی۔
انھوں نے بتایا کہ سیلاب سے اب تک صوبے بھر میں 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے ساڑھے سات لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ 15 ہزار افراد کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ پانچ لاکھ سے زائد مویشیوں بھی محفوظ مقامات تک پہنچائے گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ پولیس پیرا سول ڈیفنس تعلیمی اداروں کو ریلیف کیمپس کے لیے مختص کردیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEhtisham Shami
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آج چوتھے روز بھی فلائٹ آپریشن مکمل طور پر بند ہے۔
سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے روزانہ اوسطاً دس سے گیارہ بین الاقومی پروازیں اڑان بھرتی ہیں تاہم گذشتہ چار روز سے پروازوں کی آمدورفت کا سلسلہ مکمل طور پر معطل ہے۔
ترجمان سیالکوٹ ایئرپورٹ محمد عمیر خان کے مطابق، ایئرپورٹ کی انتظامیہ چار دنوں سے مسلسل اپنی مدد آپ کے تحت سیلابی پانی کے اخراج میں مصروف عمل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فضائی آپریشن کی بندش میں مزید توسیع کا خدشہ ہے۔
محمد عمیر خان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ نے بھی تمام تر معاونت کی یقین دہانی کروائی ہے اور امید ہے کہ جلد سیلابی پانی مکمل طور پر نکال دیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائیریکٹر جنرل (ڈی جی) نے دعوی کیا ہے کہ اس وقت پنجاب سے تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا گزر رہا ہے جس سے اگلے 24 گھنٹوں میں ملتان اور خانیوال سمیت مختلف اضلاع کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ قصور سے دو لاکھ 60 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی سے ایک لاکھ 75 ہزار کیوسک کا ریلا گزرے گا۔
انھوں نے بتایا کہ ہیڈ اسلام سے ایک لاکھ پینتیس ہزار کا ریلا گزرے گا۔
عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر اس وقت پانی کا بہاؤ بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگلے 24 گھنٹوں میں خانیوال کے دیہات سیلاب سے متاثر ہوں گے۔
انھوں نے بتایا کہ دو ستمبر کو دریائے راوی کا پانی دریائے چناب سے ملے گا۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تریموں ہیڈ پر پانی کا بہاؤ اٹھارہ گھنٹے لیٹ ہوا ہے اور سوموار کی دوپہر کو سات لاکھ کیوسک کا ریلا ہیڈ تریموں سے گزرے گا۔ اس کے علاوہ، ہیڈ محمد والا پر آٹھ لاکھ کیوسک کا ریلا متوقع ہے جبکہ شیر شاہ برج سے بھی سیلابی ریلا گزرے گا۔
بیان کے مطابق، دریائے ستلج کا پانی چار اضلاع سے گزرے گا جبکہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں ملتان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہIndian Air Force
انڈین فضائیہ (آئی اے ایف) کے نائب سربراہ ایئر مارشل نرمدیشور تیواری نے گذشتہ روز (30 اگست بروز سنیچر) این ڈی ٹی وی کی دفاعی کانفرنس 2025 سے خطاب کرتے ہوئے 'آپریشن سندور' کے متعلق بات کی۔
انڈیا کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق، ایئر مارشل تیواری نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا نے آپریشن سندور کے دوران پاکستانی فوجی اہداف کو 50 سے کم ہتھیاروں سے نشانہ بنایا اور اس چار روزہ تنازع کے بعد 10 مئی تک اسلام آباد کو جنگ بندی کا مطالبہ کرنے پر مجبور کر دیا۔
ائیر مارشل تیواری نے مشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئی اے ایف 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات کو پاکستان کے حملے کے بعد کیے گئے حملوں کے ساتھ ہی پاکستانی فوج پر 'مکمل تسلط' قائم کرنے میں کامیاب رہا۔
انھوں نے کہا: ’مجھے آپ کو بتانا ضروری ہے کہ یہ ہمارے لیے ایک اہم قدم تھا کہ 50 سے بھی کم ہتھیاروں میں، ہم مکمل تسلط حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، ایسا اس سے پہلے نہیں ہوا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے کچھ اہداف جنھیں اس مشن کے دوران نشانہ بنایا گیا وہ 1971 کی جنگ کے دوران بھی ٹارگٹ نہیں کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے:
جنوبی ایشیا نے رواں سال مئی کے آغاز میں رواں صدی کے دوران اب تک ہونے والی سب سے بڑی فوجی کشیدگی کا سامنا کیا جس کے دوران انڈیا اور پاکستان ’باقاعدہ جنگ‘ کے دہانے پر پہنچے اور دونوں ممالک میں اس تنازعے کے ایٹمی جنگ میں بدل جانے سے متعلق خدشات کا اظہار بھی کیا گیا۔
اس کشیدگی کا آغاز انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو سیاحوں پر ہوئے شدت پسندوں کے ایک ایسے حملے سے ہوا جس میں 26 لوگوں کی ہلاکت ہوئی اور اس تناظر میں 6 مئی سے 10 مئی کے دوران دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ ہوا اور بلآخر عالمی دباؤ کے تحت جنگ بندی ممکن ہوئی۔