انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے پاکستان کو ممکنہ سیلاب کے انتباہ جاری کیے گئے، انڈین میڈیا کا دعویٰ

انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈین وزارت خارجہ نے اسلام آباد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ممکنہ سیلاب سے متعلق انتباہ جاری کیے تھے۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی ریاستوں شدید بارشوں کے باعث بڑے ڈیمز سے پانی چھوڑا گیا جس کے بارے میں پاکستان کو مطلع کیا گیا تھا کہ دریائے ستلج میں سیلاب کا ’قوی امکان‘ ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کی شب بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے بعد ایک بم دھماکے میں حکام کے مطابق کم از کم 13 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوگئے ہیں
  • پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں چھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حملے میں ملوث پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے
  • ادھر صوبہ پنجاب میں دریائے توی اور چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے
  • پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکام کے مطابق حالیہ سیلابی صورتحال کی وجہ سے متاثرین کی تعداد 24 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 26 اگست سے اب تک مختلف واقعات میں 41 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اور اب تک 32 سو دیہات متاثر ہوئے ہیں

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    03 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. کوئٹہ دھماکے میں 13 افراد ہلاک: ’دھماکے کے بعد کئی لوگوں کو زمین پر پڑا دیکھا‘

    کوئٹہ دھماکے

    حکام کے مطابق کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے کے بعد دھماکے میں ہلاکت ہونے والی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد 31 بتائی گئی ہے۔

    دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں نور احمد بھی شامل ہیں جو کہ سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر میں زیرِ علاج ہے۔

    انھوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جلسہ ختم ہونے کے بعد وہ ایک سفید گاڑی کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے کہ دھماکہ ہو گیا۔

    انھوں نے کہا کہ دھماکے کے باعث بعض چیزیں ان کے پیر اور ہاتھوں پر لگیں جن سے وہ زخمی ہو گئے۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد انھوں نے اپنے سامنے آٹھ افراد کو زمین پر پڑا دیکھا تھا۔

    دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک لڑکے زمان بلوچ نے بتایا کہ وہ جلسہ ختم ہونے کے بعد جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر اپنے دوست کا انتظار کر رہے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ وہ فون پر اپنے اسی ساتھی سے رابطے میں تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کا پیر چھرّہ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوا۔

    زمان بلوچ نے بتایا کہ دھماکے کے بعد انھوں نے بہت سارے لوگوں کو زمین پر پڑا ہوا دیکھا اور ہر طرف چیخ و پکار تھی۔

    ٹراما سینٹر کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نے بتایا کہ دھماکہ نواب نیاز زہری کی گاڑی کے قریب ہوا۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں ان کے بعض ذاتی محافظ بھی شامل ہیں۔

  3. کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے کے بعد دھماکے میں 12 افراد ہلاک، 31 زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ

    کوئٹہ، بی این پی
    ،تصویر کا کیپشنکوئٹہ میں بی این پی کے جلسے کے بعد دھماکے کے مناظر

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے بعد ایک بم دھماکے میں حکام کے مطابق کم از کم 12 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوگئے ہیں۔

    بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے مطابق دھماکے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔

    دھماکے میں تمام جماعتوں کے مرکزی قائدین محفوظ رہے تاہم بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق رکن بلوچستان اسمبلی میر احمد نواز بلوچ زخمی ہوئے ہیں۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما غلام نبی مری نے بتایا کہ یہ دھماکہ کوئٹہ کے علاقے سریاب میں واقع شاہوانی سٹیڈیم سے کچھ فاصلے پر اس مقام پر ہوا جہاں گاڑیوں کو پارک کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دھماکہ جلسے کے اختتام کے اندازاً دس سے پندرہ منٹ بعد ہوا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے وقت جلسہ گاہ سے نکلنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں سے گزر رہی تھی۔ انھوں نے خودکش حملہ آور کا دعویٰ کیا جس کی تاحال سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ایک سینیئر پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔

    ادھر صوبائی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ ’انسانیت دشمنوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔‘

    ایک بیان میں ان کا کہنا تھا ’شرپسند عناصر معصوم شہریوں کے خون سے کھیل رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔‘

    بی این پی کے رہنما کے مطابق دھماکہ جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر ہوا جہاں گاڑیاں پارک کی گئی تھیں
    ،تصویر کا کیپشنبی این پی کے رہنما کے مطابق دھماکہ جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر ہوا جہاں گاڑیاں پارک کی گئی تھیں

    'دھماکہ اس وقت ہوا جب ہم جلسہ گاہ سے نکل رہے تھے‘

    یہ جلسہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے بانی سردار عطا اللہ مینگل کی تیسری برسی کی مناسبت سے منعقد کیا گیا تھا جس سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے رہنما میر کبیر احمد محمد شئی، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی کے علاوہ دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

    سردار اختر مینگل نے بی بی سی کے نمائندے ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خیریت سے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ جلسہ ان کے والد سردار عطا اللہ مینگل کی برسی کے حوالے سے منعقد کیا گیا تھا جس میں محمود خان اچکزئی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنما بھی شریک تھے۔

    ان کے مطابق جلسے کے بعد وہ جیسے ہی گیٹ سے باہر نکلے تو پیچھے دھماکہ ہو گیا۔

    انھوں نے بتایا پچھلے دنوں لک پاس پر دھرنے کے وقت بھی ایک خودکش حملہ ہوا تھا اور ان سے پولیس کے سکیورٹی گارڈ واپس لے لیے گئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جلسے کے لیے پولیس اور واک تھرو گیٹ دیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود یہ حملہ ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ کسی کی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔

  4. بنوں میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے میں چھ اہلکار ہلاک: آئی ایس پی آر

    بنوں میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں چھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے منگل کو جاری کیے گئے بیان میں بتایا کہ ’انڈین سپانسرڈ‘ شدت پسندوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی دیوارِ سے ٹکرائی اور خودکش دھماکے کے نتیجے میں دیوار کا کچھ حصہ گِر گیا اور قریبی سول انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا جس سے تین شہری زخمی ہوئے۔

    بیان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ چھ سکیورٹی اہلکاروں نے لڑائی کے دوران اپنی جانیں دیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا اور اس ’بزدلانہ عمل‘ کے مجرموں کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔

  5. انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے پاکستان کو ممکنہ سیلاب کے انتباہ جاری کیے گئے، انڈین میڈیا کا دعویٰ

    انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے پاکستان کو ممکنہ سیلاب کے انتباہ جاری کیے گئے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈین وزارت خارجہ نے اسلام آباد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ممکنہ سیلاب سے متعلق انتباہ جاری کیے تھے۔

    خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی ریاستوں شدید بارشوں کے باعث بڑے ڈیمز سے پانی چھوڑا گیا جس کے بارے میں پاکستان کو مطلع کیا گیا تھا کہ دریائے ستلج میں سیلاب کا ’قوی امکان‘ ہے۔

    ادھر نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق ایک انڈین حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ الرٹ انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر‘ اسلام آباد کو جاری کیے گئے تھے تاکہ مالی و جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

    ذرائع نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ گذشتہ ہفتے اسلام آباد کو دریائے توی میں ممکنہ سیلاب سے متعلق تین الرٹ جاری کیے گئے ہیں جبکہ بدھ کو سیلاب کے بارے میں منگل کو انتباہ جاری کیا گیا۔

    اس سے قبل اتوار کو پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں دریائے چناب پر واقع سلال ڈیم کے سپل ویز کھولے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی طرف سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کی تازہ صورتحال سرکاری طور پر نہیں بتائی گئی ہے۔ سلال ڈیم پاکستان میں موجود ہیڈ مرالہ سے 78 کلومیٹر دور ہے۔

    تاحال انڈیا کی طرف سے سرکاری طور پر اس دعوے پر تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم اگست کے اواخر میں انڈیا نے ’سفارتی ذرائع‘ کے ذریعے پاکستان کو سرحد کے دونوں جانب ممکنہ سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔

    انڈین ذرائع کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں انڈیا کے سفارتخانے نے 24 اگست کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ ’انسانی بنیادوں‘ پر ممکنہ سیلاب کی وارننگ شیئر کی تھی، نہ کہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت۔

    جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے انڈیا کی جانب سے وارننگ موصول ہونے کی تصدیق کی تھی۔ 25 اگست کو پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’24 اگست کو انڈیا نے سفارتی چینلز کے ذریعے سیلاب کی وارننگ پاکستان کو ارسال کی، جبکہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈس واٹر کمیشن کے ذریعے ایسا کرنے کا پابند ہے۔‘

    خیال رہے کہ اپریل میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد انڈیا نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔

  6. افغانستان میں زلزلہ متاثرین کے لیے خیبر پختونخوا سے امدادی سامان روانہ

    امداد، افغانستان، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہKP GOVT

    پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے افغانستان میں زلزلہ متاثرین کے لیے 35 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان روانہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک تقریب پی ڈی ایم اے ہیڈ کوارٹر میں منعقد کی گئی۔

    اس میں بتایا گیا کہ امدادی سامان میں ادویات، خیمے، ترپال، گدے، تکیے، رضائیاں اور کمبل شامل ہیں۔ ایک بیان میں صوبائی حکومت کا کہنا تھا کہ ’یہ سامان زلزلہ متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کرنے اور انھیں موسم کی سختیوں سے بچانے کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔‘

    چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ’مشکل کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت کی جانب سے ریلیف، تعاون اور مدد کا سلسلہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی تک جاری رہے گا۔‘

    افغان قونصل جنرل محب اللہ شاکر نے حکومتِ خیبر پختونخوا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ امداد ’دونوں برادر ممالک کے درمیان خیرسگالی اور بھائی چارے کے رشتے کی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے۔‘

    خیال رہے کہ افغانستان میں اتوار کو چھ کی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس سے ہونے والی تباہی میں 800 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ امدادی سامان طورخم بارڈر کے راستے افغان حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔ ’انسانیت، ہمدردی اور خیرسگالی کا پیغام سرحد پار بھی پہنچایا۔‘

  7. دریائے توی میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری: ’سیلابی ریلا سیالکوٹ اور گجرات کو متاثر کر سکتا ہے‘

    Flood

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دریائے توی میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے چناب میں بھی سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ ڈاؤن سٹریم کے مقام پر سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق دریائے چناب میں آنے والا سیلابی ریلا گجرات اور سیالکوٹ کو متاثر کرسکتا ہے۔

    ترجمان کے مطابق دریائے چناب اور ملحقہ ندی نالوں میں سیلاب کا خدشہ ہے۔

    ان کے مطابق ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کی کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر حکام کو ممکنہ صورتحال بارے الرٹ رہنے کی ہدایات دی ہیں۔ ان کے مطابق مقامی حکومت، محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، محکمہ صحت، محکمہ جنگلات، لائیو سٹاک اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

  8. شمالی انڈیا میں شدید بارشیں، پنجاب میں تین دہائیوں بعد سیلاب، ہماچل میں 300 سے زائد ہلاکتیں، جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر تباہی, دلنواز پاشا، بی بی سی ہندی

    India

    اس سال مئی جون کے مہینوں میں ملک کے کئی علاقوں میں شدید گرمی کی لہریں دیکھنے میں آئیں۔ اب پنجاب، اتراکھنڈ، جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش سمیت ملک کے کئی علاقوں کو شدید بارشوں اور سیلاب کا سامنا ہے۔

    گذشتہ دو ماہ کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں موسم کی خرابی کے باعث 500 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہیں۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو موسم کی تبدیلی کی وجہ سے سڑک کے حادثات میں ہلاک ہوئے۔

    گذشتہ چند دنوں میں محکمہ موسمیات نے اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، پنجاب اور جموں و کشمیر کے لیے بھاری بارش کا الرٹ جاری کیا ہے۔

    سائنسدان اور ماہرین موسم میں ہونے والی اس تبدیلی کو ماحولیاتی تبدیلی سے جوڑ رہے ہیں۔

    ِانڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تجزیہ کاروں کے مطابق گرمی کی لہروں اور مون سون کے انداز میں تبدیلی کی وجہ گلوبل وارمنگ ہے۔

    انڈیا کے محکمہ موسمیات کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر کے جے رمیش بی بی سی کو بتایا کہ ’موسم کے ان شدید واقعات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے درمیان براہ راست تعلق ہے۔‘

    گرین پیس کے محقق اکیز بھٹ کا بھی خیال ہے کہ موجودہ آفات ماحولیاتی تبدیلیوں کا براہ راست اثر ہیں۔

    انڈیا کی ارتھ سائنسز کی وزارت کے سابق سیکریٹری ڈاکٹر راجیون مادھون نائر نے ایک بیان میں کہا کہ ’1950 اور 2015 کے درمیان وسطی انڈیا میں ایک دن میں 150 ملی میٹر سے زیادہ بارش کے واقعات میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ خشکی کا دورانیہ پہلے سے زیادہ طویل ہوتا جا رہا ہے۔‘

    سنیچر کو جاری کردہ ایک بیان میں انڈیا کے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مریتونجے مہاپاترا نے کہا کہ ’موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکیں گرنے کے واقعات ہو سکتے ہیں۔ بہت سے دریا اتراکھنڈ سے نکلتے ہیں، اس لیے شدید بارشوں کا اثر نچلے علاقوں پر پڑ سکتا ہے۔‘

    اتراکھنڈ میں انڈین محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کی طرف سے جاری وارننگ کے بعد یکم ستمبر کو کئی اضلاع میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ احتیاطی اقدام کے طور پر انتظامیہ نے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔

    صحافی آصف علی کے مطابق اگست کے مہینے میں شدید بارش اور بادل پھٹنے سے ریاست میں نظام زندگی درہم برہم ہو گیا ہے اور کئی علاقوں میں لوگ پریشانی کا شکار ہیں۔

    5 اگست کو اترکاشی کے ہرشیل اور دھرالی گاؤں میں اچانک سیلاب کی وجہ سے دو لوگوں کی موت واقع ہوئی اور 67 لوگ لاپتہ ہو گئے۔

    کئی مکانات اور ہوٹلوں کے ساتھ ایک فوجی کیمپ بھی بہہ گیا۔

    امدادی سامان ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرہ لوگوں تک پہنچایا جا رہا ہے اور گنگوتری ہائی وے کو حال ہی میں متبادل سڑک بنا کر کھول دیا گیا ہے۔

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہAFP VIA Getty Images

    جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر تباہی

    انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں صورتحال خاصی مخدوش ہے۔ گذشتہ چند دنوں میں جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں بادل پھٹنے کے واقعات میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر واقعات جموں خطے میں پیش آئے ہیں۔

    کشتواڑ کے چاسوتی گاؤں میں بادل پھٹنے سے 60 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ یہاں بہت سے لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ جموں کے کٹرا میں بھی مٹی کے تودے گرنے سے 35 افراد ہلاک ہوئے۔

    مسلسل موسلادھار بارش کی وجہ سے جموں شہر کے کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ جس سے مکانات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

    لینڈ سلائیڈنگ سے فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ سڑکیں اور پل بہہ جانے سے کئی علاقوں میں ٹریفک ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ جموں اور سری نگر کے درمیان قومی شاہراہ بھی بند ہے۔ یہاں کی مرمت مکمل ہونے میں ایک ماہ لگ سکتا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار ماجد جہانگیر کے مطابق شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث کئی دور دراز علاقوں میں لوگوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔

    اس کے ساتھ ہی محکمہ موسمیات نے اگلے تین دنوں تک موسلادھار بارش کی وارننگ دی ہے جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔

    انڈین پنجاب

    ،تصویر کا ذریعہAFP VIA Getty Images

    پنجاب میں تین دہائیوں کے بعد سیلاب نے تباہی مچا دی

    بی بی سی کے نامہ نگار سربجیت سنگھ دھالیوال کے مطابق مسلسل موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے پنجاب کے کئی علاقوں میں صورتحال بدستور مشکل ہے۔

    پنجاب کے مختلف علاقوں میں موسم سے متعلق حادثات میں اب تک کم از کم 29 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 12 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں۔ 15 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی سیلابی پانی میں ڈوب گئی ہے۔

    سربجیت کے مطابق دریائے راوی کا بہاؤ بہت تیز ہے اور اس کی وجہ سے دریا کے کنارے رہنے والے لوگ خوفزدہ ہیں۔

    کپورتھلا کے تقریباً 16 گاؤں پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ فاضلکا، ترن تارن، گرداس پور، پٹھان کوٹ اور امرتسر سمیت کئی اضلاع میں حالات مسلسل خراب ہوتے جا رہے ہیں۔

    پنجاب میں ریاستی ڈیزاسٹر ریلیف ٹیم کے علاوہ انڈین فوج اور مرکزی حکومت کے ادارے ریلیف اور ریسکیو کے کاموں میں مصروف ہیں۔

    بی بی سی کے نامہ نگار سربجیت دھالیوال کے مطابق بارش کے الرٹ نے لوگوں میں مزید پریشانیاں پیدا کر دی ہیں۔

    پنجاب میں آخری بار اتنے بڑے پیمانے پر سیلاب 37 سال قبل 1988 میں آیا تھا۔

    حالیہ برسوں میں سیلاب نہ آنے کی وجہ سے ریاست میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے زیادہ تیاری نہیں کی گئی تھی۔

    X/CM

    ،تصویر کا ذریعہX/CM

    ہماچل میں 300 سے زیادہ اموات

    ہماچل پردیش میں 20 جون سے اب تک موسم سے متعلق سانحات اور واقعات میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق قدرتی آفات کی وجہ سے 1280 سے زائد مکانات اور دکانیں تباہ ہو چکی ہیں۔ آفات کی وجہ سے ریاست کو بہت زیادہ معاشی نقصان بھی ہوا ہے۔

    لینڈ سلائیڈنگ، بارش اور سیلاب کی وجہ سے ریاست میں کئی سڑکیں متاثر ہوئی ہیں۔ 20 جون سے مسلسل بارش کی وجہ سے ریاست میں سیلاب کے 55 واقعات، بادل پھٹنے کے 28 واقعات اور مٹی کے تودے گرنے کے 48 واقعات پیش آئے ہیں۔

    دارالحکومت شملہ میں مٹی کے تودے گرنے سے کئی مکانات تباہ ہو گئے۔ اگست کے آخری ہفتے میں بھی ریاست میں موسلادھار بارش ہوئی۔ اب اگلے تین دنوں تک شدید بارش کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    یہ سال ہماچل پردیش کے لیے گزشتہ چند سالوں میں موسم کے لحاظ سے سب سے مشکل رہا ہے۔

  9. کنڑ کے کچھ علاقوں میں آج بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے

    Afghanistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کنڑ کے کچھ زلزلہ زدہ علاقوں کا دورہ کرنے والے بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کئی دور دراز دیہات کے رہائشیوں نے انھیں بتایا ہے کہ انھوں نے بھی آج منگل کے روز بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے ہیں۔

    زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مزار شریف کے علاقے کا دورہ کرنے والی یما بارز کا کہنا ہے کہ کچھ دور دراز علاقوں کی سڑکیں اب بھی بند ہیں اور زمینی راستے سے ان تک پہنچنا مشکل ہے جس کی وجہ سے ہلاک اور زخمیوں کو لے جانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

    Afgan

    ،تصویر کا ذریعہMoD Afghanistan

    ’زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں فوجی بھیجے گئے ہیں‘

    افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ’سیکڑوں‘ فوجیوں کو آج زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کے لیے بھیجا ہے۔

    وزارت دفاع نے اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی متعدد تصاویر کے ساتھ یہ بھی لکھا کہ ’علاقے میں جامع امداد کے تسلسل میں، تباہ شدہ مکانات اور ملبے میں پھنسے شہریوں کو بچانے کے لیے آج ہیلی کاپٹروں اور گاڑیوں میں سیکڑوں مسلح افواج کو منتقل کیا گیا۔‘

    علاقے کا دورہ کرنے والے بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات سے بہت سے عام لوگ بھی زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے کوشاں ہیں۔

    طالبان حکومت نے زلزلے کے متاثرین اور ہلاکتوں کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1400 اور زخمیوں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

  10. وزیراعظم شہباز شریف کی صدر پوتن سے ملاقات، ’روسی تیل اور تجارت میں دلچسپی کا اظہار‘

    Pakistan, Russia

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے تجارت کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق منگل کو شہباز شریف اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقات ہوئی ہے، جس میں وزیر خارجہ، وزیر خزانہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر حکام شریک تھے۔

    اس موقع پر شہباز شریف نے روسی صدر سے کہا کہ ’گدشتہ سال جولائی میں آستانہ کے بعد ہماری ملاقات ہو رہی ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور معیشت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور پرخلوص کوششیں جاری ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔ ’ہم نے روس سے تیل درآمد کیا ہے جس سے دو طرفہ تجارت بڑھی ہے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ پچھلے کئی سالوں سے دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صدر پوتن کی دلچسپی اور عزم کی بدولت تعلقات درست سمت میں گامزن ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہم روس کے ساتھ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے خواہشمند ہیں اور اس سلسلے میں زراعت، آئرن، سٹیل، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے مختلف پروٹوکولز پر دستخط بھی کیے ہیں۔

    Putin, Shehbaz

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پوتن نے شہباز شریف سے کیا کہا؟

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات پر خوشی ہو رہی ہے۔ ہماری گذشتہ ملاقات ایک سال پہلے ایس سی او سربراہ کانفرنس کے موقع پر آستانہ میں ہوئی تھی۔

    روس کے صدر پوتن نے کہا کہ ’پاکستان ہمیشہ سے ایشیا میں ہمارا روایتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں اور گذشتہ ملاقات میں بھی دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تھا۔‘

    اس سلسلے میں پیشرفت ہو رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں تجارت میں اضافے کو یقینی بنانا ہوگا اور اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ کس طرح تجارت کے فروغ کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کریں۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں، پاکستان کے ساتھ روس کے بہترین تعلقات ہیں۔

    روس کے صدر نے شہباز شریف سے کہا کہ ’پاکستان کو قدرتی آفت کا سامنا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کی قیادت میں پاکستان تمام مشکلات پر قابو پا لے گا۔ ہم سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر پاکستان کے عوام کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی سطح پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ رابطے ہیں۔ بین الاقوامی فورم پر بھی پاکستان اور روس ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

    پوتن نے کہا کہ پاکستان اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے۔ اقوام متحدہ ایک اہم پلیٹ فارم ہے اور اس کے فریم ورک کے تحت ہمارے رابطے برقرار ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ نومبر میں روس میں ایس سی او کے فریم ورک کے تحت سربراہان حکومت کا اجلاس ہو رہا ہے، ہم اس میں آپ کو شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔

    Pakistan, Russia

    ،تصویر کا ذریعہPMOR

    روس کا دورہ کر کے خوشی ہوگی: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ روس کے ساتھ دو طرفہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہو رہے ہیں۔ روس کا دورہ کر کے مجھے خوشی ہو گی۔‘

    شہباز شریف نے پوتن سے کہا کہ ’پاکستان کی حمایت اور خطے میں توازن پیدا کرنے کے لیے آپ کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ روس کے تعلقات کا احترام کرتے ہیں لیکن پاکستان بھی روس کے ساتھ مضبوط تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ’یہ تعلقات خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔ انھوں نے صدر پوتن سے کہا کہ ’آپ کی ولولہ انگیز قیادت انتہائی اہم ہے اور ہم آپ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔‘

  11. عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے کا عمل جاری، پاکستان میں فی تولہ 370,700 روپے کا ہو گیا, تنویر ملک ،صحافی

    Gold prices

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان میں منگل کے روز مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 370,700 روپے فی تولہ پر بند ہوئی ہے۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 370700 روپے رہی اور اس میں گذشتہ روز 3300 روپے فی تولہ کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 317815 روپے رہی۔ عالمی سطح پر سونے کی قیمت ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلی معیشت کی غیر یقینی صورتحال کے بیچ اس قیمتی دھات کی مانگ بدستور بڑھ رہی ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں منگل کے روز ایک اونس (لگ بھگ 28 گرام) سونے کی قیمت 3,508.50 ڈالر (تقریباً نو لاکھ پچانونے ہزار روپے) تک پہنچ گئی جبکہ قیمت میں اضافے کا رجحان جاری ہے۔

    عالمی سطح پر چھائی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے دوران سونے کو سرمایہ کاروں کی جانب سے ایک محفوظ اثاثے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور رواں سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وسیع پیمانے پر ٹیرف کے نفاذ کے اعلان کے بعد سے اس کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اِن خبروں کے باعث بھی اضافہ ہوا ہے کہ امریکی مرکزی بینک اپنی شرح سود میں کمی کرے گا،اور اس امکان نے سونے کو سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بنا دیا ہے۔

    ’بلین والٹ‘ کے ڈائریکٹر ریسرچ ایڈرین ایش نے بی بی سی کے پروگرام ’ٹوڈے‘ میں بتایا کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ٹرمپ ہیں یعنی جو کچھ انھوں نے ’ جیو پولیٹکس کے ساتھ کیا اور جو کچھ انھوں نے عالمی تجارت کے ساتھ کیا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’حقیقت میں یہ گذشتہ سال ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات تھے جنھوں نے سونے کی قیمتوں کو آگ لگا دی۔‘ تجزیہ کار امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) سے متعلقہ معاملات پر تشویش کو بھی سونے کی قیمت میں اضافے کا ایک اور عنصر قرار دے رہے ہیں۔

  12. دریاؤں میں سیلابی ریلوں اور بہاؤ کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ جاری

    Pakistan

    این ڈی ایم اے کے این ای او سی نے دریاؤں میں سیلابی ریلوں اور بہاؤ کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ جار ی کر دی ہے۔

    یکم ستمبر کودریائے چناب میں تریموں سے پانچ لاکھ 50 ہزارکیوسک کا ریلا گزر چکا ہے جو اب پنجند کی طرف رواں ہے۔ اداروں کی جانب سے بر وقت اقدامات اور بہترین منصوبہ بندی کے نتیجے میں چناب کے آٹھ لاکھ 85 ہزارکیوسک کا بہاؤ دو مقامات پر بند توڑنے کے بعد واضح کمی کے ساتھ پانچ لاکھ 50 ہزار کیوسک تک محدود کیا، جو باآسانی ہیڈ تریموں گزر چکا ہے۔

    چونکہ پنجند ہیڈ ورکس سے صرف چھ لاکھ 50 ہزار کیوسک کے گزرنے کی گنجائش موجود ہے، لہٰذا اور کسی جگہ بند توڑنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

    ممکنہ طور پر یہ سیلابی ریلا تین ستمبرکو پنجند کے مقام پر پانچ لاکھ 70 ہزارسے چھ لاکھ کیوسک کے بہاؤ کے ساتھ آئے گا۔ پانچ ستمبرکی صبح اس دریائی ریلے میں دریائے ستلج سے 80 ہزارتا ایک لاکھ کیوسک کا ریلا پنجند کے مقام پر شامل ہو گا۔

    تینوں دریاؤں سے ریلوں کی آمد کے بعد پنجند کے مقام پر مجموعی طور پر چھ لاکھ 50 ہزار سے سات لاکھ کیوسک تک کا بہاؤ متوقع ہے۔

    پنجند سے یہ ریلا چھ ستمبر کی دوپہر تک گڈو بیراج پہنچنے کا امکان ہے، جہاں مجموعی بہاؤ چار لاکھ 50 ہزار سے پانچ لاکھ کیوسک تک متوقع کوٹ مٹھن کے مقام پر اس سیلابی ریلے میں دریائے سندھ کا آبی بہاو شامل ہو جائے گا۔

    دریائے سندھ کے بہاؤ کنٹرول کیا جائے گا تاکہ تونسہ کے مقام پر اس ریلے کو دو لاکھ کیوسک تک محدود کیا جا سکے۔ منصوبہ بندی کے تحت یہ مجموعی بڑا سیلابی ریلا گڈو ہیڈ ورکس پر چھ لاکھ 50 ہزارتا سات لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے۔

    یہ سیلابی ریلا سکھر اور کوٹری بیراج سے گزرتے ہوئے 12 تا 13 ستمبر کو سمندر کی طرف راوں ہو جائے گا۔

  13. افغانستان: ’بڑے زلزلے کے بعد 17 جھٹکے محسوس کیے، وہ رات قیامت تھی‘, گیبریلا پومیروے، بی بی سی نیوز

    Afghanistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ اتوار کو نصف شب سے کچھ پہلے مطیع اللہ شہاب کی آنکھ اُس وقت کُھلی جب اُن کے گھر کے در و دیوار بُری طرح لرز رہے تھے۔

    افغانستان کے دور افتادہ صوبے کنڑ کے گاؤں اسد آباد سے تعلق رکھنے والے مطیع اللہ مقامی صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ زلزلہ بہت شدید تھا جس کے باعث اُن کے گھر میں موجود 23 افراد اِس خوف سے اپنے کمروں سے باہر نکل آئے کہ کہیں گھر کی دیواریں اور چھت اُن پر ہی نہ آن گرے۔

    ان تمام افراد نے پوری رات گھر سے باہر ایک باغ میں گزاری۔ مطیع اللہ کہتے ہیں کہ ’ہم سب خوفزدہ تھے۔‘

    یاد رہے کہ اتوار کی شب مشرقی افغانستان میں چھ شدت کا زلزلہ آیا جس میں اب تک 1400 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    زلزلے سے سب سے زیادہ أفغانستان کے صوبے کنڑ اور ننگرہار متاثر ہوئے تاہم زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت کابل اور پڑوسی ملک پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد تک محسوس کیے گئے۔

    صبح ہوتے ہی مطیع اللہ نے اپنی گاڑی نکالی اور اُس پہاڑی علاقے تک پہنچنے کی کوشش کی جہاں زلزلے کا مرکز تھا۔ ’میں جس گاؤں میں بھی گیا، وہ تباہ ہو چکا تھا‘۔ مطیع اللہ کا کہنا ہے کہ زلزلے کے باعث سڑک پر پتھر گرنے کی وجہ سے انھیں گاڑی چھوڑ کر دو گھنٹے پیدل سفر کر کے سب سے زیادہ متاثرہ دیہات تک پہنچنا پڑا۔

    Afghanistan

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اُن کے مطابق جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ زلزلے میں زخمی ہونے والے دو چھوٹے بچوں کو ایک ہی سٹریچر پر لٹایا گیا تھا، بچوں کے سینے اور چہروں پر چوٹیں آئی تھیں۔

    صرف اُسی ایک گاؤں میں 79 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    مطیع اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے بہت سی لاشیں دیکھیں۔ بڑے زلزلے کے بعد میں 17 چھوٹے جھٹکے محسوس کیے۔‘ مطیع اللہ نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ہلاک ہونے والوں کی قبریں کھودنے میں مدد کی۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’میں جن دیہاتوں میں گیا تھا وہ تباہ ہو گئے تھے۔ ایک آدمی نے مجھے بتایا کہ اس کی اہلیہ اور چار بچے مر گئے ہیں۔ لیکن زیادہ تر لوگ اس قدر صدمے میں تھے کہ وہ کچھ نہیں کہہ سکے۔‘

    مطیع اللہ نے کہا کہ ’لوگوں کے چہرے دھول سے ڈھکے ہوئے تھے اور چاروں طرف خاموشی تھی۔ وہ روبوٹ لگ رہے تھے۔ کوئی اس کے بارے میں بات کرنے کے قابل نہیں تھا۔‘

    چونکہ متاثرہ علاقوں میں سڑکیں بند ہیں اس لیے طالبان حکومت کی امدادی ٹیمیں پہاڑی دیہات تک پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹروں پر انحصار کر رہی ہیں لیکن دور دراز اور پہاڑی علاقوں کی وجہ سے بہت سی جگہیں ابھی تک ناقابل رسائی ہیں۔

    دریں اثنا، اطلاعات ہیں کہ ملبے تلے لوگ مر رہے ہیں کیونکہ مدد بروقت نہیں پہنچ پا رہی ہے۔

  14. شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بکتر بند ٹرین پر بیجنگ آمد، اس ٹرین کی خاص بات کیا ہے؟

    کم جونگ اُن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عام طور پر جب کسی ملک کا سپریم لیڈر کسی دوسرے ملک جاتا ہے تو وہ سفر کا تیز ترین اور آرام دہ آپشن یعنی ہوائی جہاز کا انتخاب کرتا ہے لیکن کم جونگ اُن کا معاملہ مختلف ہے۔

    شمالی کوریا کے رہنما پیر کو اپنی بکتر بند ٹرین میں سوار ہوئے اور منگل کو چینی سرحد میں داخل ہوئے۔

    ان کی ٹرین نے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ سے چین کے دارالحکومت بیجنگ تک تقریباً 1300 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔

    بدھ کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ’وکٹری ڈے‘ پریڈ کا انعقاد ہوگا۔ اس میں کم جونگ ان کے ساتھ چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوتن، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر عالمی رہنما شرکت کریں گے۔

    جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ ایجنسی کے مطابق یہ ٹرین سخت حفاظتی انتظامات سے لیس ہے جس کی وجہ سے یہ آہستہ چلتی ہے۔

    شمالی کوریا میں ریلوے کا نیٹ ورک کافی پرانا ہے اس لیے اس ٹرین کی رفتار کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔

    کم جونگ ان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اس ٹرین میں کیا ہے؟

    شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے لیے ٹرین کے ذریعے اتنا طویل فاصلہ طے کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کم جونگ ان سے پہلے ان کے والد اور دادا بھی کئی بار ایسا کر چکے ہیں۔ یہ روایت ان کے دادا نے شروع کی تھی۔

    اس رجحان کو کم جونگ ان کے والد کم جونگ ال نے آگے بڑھایا۔ کم جونگ ال مبینہ طور پر ہوائی جہاز میں سفر کرنے سے خوفزدہ تھے۔

    نومبر 2009 میں جنوبی کوریا کے ایک خبر رساں ادارے نے اطلاع دی کہ اس بلٹ پروف ٹرین میں 90 بوگیاں ہیں۔

    پیلی دھاریوں والی اس گہرے سبز رنگ کی ٹرین میں کانفرنس روم، سامعین کے کمرے، بیڈ رومز، سیٹلائٹ فون اور فلیٹ اسکرین ٹیلی ویژن ہیں۔ کچھ دیگر تصاویر میں اس ٹرین کے ڈبوں میں سرخ چمڑے کی بازو والی کرسیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے اعلیٰ رہنما کی خصوصی ٹرین کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس کے مقابلے میں لندن کی تیز رفتار ٹرین کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جب کہ جاپان کی بلٹ ٹرین کی رفتار 320 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔

    اس ٹرین کا نام ’تھے ینگ‘ ہے۔ کورین زبان میں اس لفظ کا مطلب سورج ہے جسے شمالی کوریا کے بانی کم ال سنگ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    کم جونگ اُن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شمالی کوریا کے رہنماؤں کا ٹرین کنکشن

    طویل فاصلے کے سفر کے لیے ٹرینوں کے استعمال کی روایت کم ال سنگ نے شروع کی تھی۔ کم جونگ ان کے دادا کم ال سنگ ان دنوں ٹرین کے ذریعے ویتنام اور مشرقی یورپ جاتے تھے۔

    اس ٹرین کی سکیورٹی شمالی کوریا کے سکیورٹی ایجنٹس سنبھالتے ہیں۔

    وہ ٹرین کے روٹ اور آنے والے سٹیشنوں کو بموں یا دیگر خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے سکین کرتے ہیں۔

    سنہ 2002 سے 2004 تک شمالی کوریا میں انڈیا کے سفیر آر پی سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی کوریا کے رہنماؤں کے لیے ٹرین میں سفر کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ رہنما عموماً ہوائی جہاز میں سفر نہیں کرتے کیونکہ وہ اسے محفوظ نہیں سمجھتے۔

    آر پی سنگھ نے کہا کہ ’شمالی کوریا کے رہنما ٹرین میں سفر کرتے ہیں کیونکہ وہ اسے زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ کم جونگ ان کے والد ٹرین میں سفر کرتے تھے۔ ان کے دادا کبھی کبھی ہوائی جہاز سے سفر کرتے تھے، لیکن بنیادی طور پر ٹرین کو ترجیح دیتے تھے۔ یہ ٹرین ان کی اپنی، خاص ہے اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہے۔‘

    سنہ 2001 میں، کم جونگ اُن کے والد، کم جونگ اِل، روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملنے کے لیے دس دن کے لیے ماسکو گئے۔

    نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں کوریائی زبان اور مطالعہ کے ریٹائرڈ پروفیسر وجیانتی راگھون کا کہنا ہے کہ کم جونگ ان کے والد اور ان کے دادا نے بھی اپنے محدود دوروں کے لیے ٹرین کو ترجیح دی۔

    پروفیسر وجیانتی نے کہا کہ ’یہ ایک خفیہ ملک ہے اور اس کے رہنما کی حیثیت سے وہ اپنی زندگی کو بھی خفیہ رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ کسی کو یہ نہیں بتاتے کہ وہ کیا کھاتا ہے اور کیا کرتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے رہنما جس طرح کی سیاست پر عمل پیرا ہیں، اس کی وجہ سے انھیں ملک کے اندر اور باہر کچھ خطرات ضرور محسوس ہو رہے ہیں۔

    تاہم، کم جونگ اُن اپنے والد کی طرح اڑان بھرنے سے اتنے خوفزدہ نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ اپنے کئی دوروں کے لیے روسی ساختہ پرائیویٹ جیٹ طیارے استعمال کرتے رہے ہیں۔

    Kim, Putin

    ایک ساتھ سفر کرنے کا تجربہ

    سنہ 2001 میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِل کے ساتھ ایک ہی ٹرین میں سفر کرنے والے روسی فوجی کمانڈر کونسٹنٹین پولیکوفسکی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’اس ٹرین میں روس، چین، کوریا، جاپان اور فرانس سے کوئی بھی ڈش منگوائی جا سکتی ہے۔‘

    روسی کمانڈر نے کہا تھا کہ ’ولادیمیر پوتن کی نجی ٹرین میں بھی کم جونگ اِل کی ٹرین جیسا آرام نہیں تھا۔‘

    ایک اور روسی سفیر جارجی تولوریا نے سنہ 2019 میں ٹرین کے اس سفر کے بارے میں لکھا کیسے اس ٹرین میں مختلف قسم کے گوشت اور مشروبات پیش کیے گئے تھے۔ ان کے مطابقع اس میں روسی معیاری ووڈکا بھی دستیاب تھی۔

    شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کی خبر کے مطابق کم جونگ ال 2011 میں اسی ٹرین میں سفر کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔

    Train

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شمالی کوریا کے رہنما صرف روس اور چین کا دورہ کیوں کرتے ہیں؟

    وجیانتی راگھون کا کہنا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کوریائی جنگ ہوئی اور دو الگ الگ آزاد ملک بنے۔ پھر سرد جنگ شروع ہوئی اور دونوں ملک مختلف دھڑوں کا حصہ بن گئے۔ شمالی کوریا سوویت یونین میں شامل ہو گیا اور جنوبی کوریا امریکہ کا اتحادی بن گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی سرحد سوویت یونین اور چین کے ساتھ ہوتی تھی اور ان تمام ممالک کا نظریہ بھی ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں نے ان ممالک کو تقسیم کیا تھا اور ان کی تقسیم انڈیا اور پاکستان کی تقسیم سے مختلف تھی۔

    وجیانتی راگھون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شمالی کوریا کے رہنما شاذ و نادر ہی سفر کرتے ہیں اور کم و بیش یہ معاملہ پہلے بھی تھا۔ کوریا ایک چھوٹا سا ملک ہوا کرتا تھا۔ 1910 اور 1945 کے درمیان کوریا جاپان کا نوآبادیاتی ملک تھا۔‘

    ایسے میں شمالی کوریا کے رہنما پہلے سوویت یونین اور بعد میں روس یا چین جاتے تھے اور وہ بھی ٹرین کے ذریعے۔

    ٹرین کا رنگ سبز کیوں ہوتا ہے؟

    سوال یہ ہے کہ جس ٹرین میں شمالی کوریا کا حکمران سفر کرتا ہے اس کا رنگ گہرا سبز کیوں ہوتا ہے؟

    اس سوال کے جواب میں وجینتی راگھون نے کہا کہ وہ اس بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہہ سکتیں، لیکن ممکن ہے کہ یہ ایک حفاظتی نکتہ نظر سے کیا گیا ہو تاکہ جب یہ ٹرین جنگلوں اور خطوں سے گزرتی ہے تو سبز رنگ کی وجہ سے دشمنوں سے چھپی رہتی ہے۔

  15. افغانستان میں زلزلے سے اب تک 1,411 ہلاکتوں کی تصدیق، 3,124 افراد زخمی ہوئے: اے این ڈی ایم اے

    Afghanistan

    کابل کی افغانستان نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (اے این ڈی ایم اے) کی طرف سے موصول ہونے والی ابتدائی معلومات کے مطابق اب تک زلزلے سے 1,411 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 3,124 زخمی ہیں۔

    زلزلے میں تباہ ہونے والے مکانات کی تعداد 5,412 بنتی ہے۔

    Afghanistan

    واضح رہے کہ اتوار کی شب افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں زلزلہ آیا تھا جس کی ریکٹر سکیل پر شدت چھ ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس زلزلے کا مرکز جلال آباد سے صرف 27 کلومیٹر دور تھا۔

    اس زلزلے کے جھٹکے نہ صرف افغانستان کے دارالحکومت کابُل میں محسوس کیے گئے تھے بلکہ اس کے اثرات پڑوسی ملک پاکستان میں بھی نظر آئے تھے۔

    افغان صوبے کنڑ میں تعینات ایک اعلیٰ سطح کے طالبان افسر نے اس زلزلے کے بعد بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’تباہی اتنی زیادہ ہوئی ہے کہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، پورے کے پورے دیہات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں اور پہاڑی علاقوں تک جانے والی سڑکیں تاحال بند ہیں۔ اس وقت ہماری ترجیح ملبے سے لاشیں نکالنا نہیں بلکہ زخمیوں تک پہنچنا ہے۔‘

    کنڑ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    طالبان افسر کے مطابق ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور دوسری جانب لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہیلی کاپٹرز کی منتظر ہے کیونکہ سڑکوں کے ذریعے ان علاقوں تک رسائی ممکن نہیں۔

  16. ’مکان گر گیا اور بچے مر گئے، واپس کہاں جاؤں باقی تو کچھ بچا نہیں‘: افغانستان میں زلزلے کے بعد کیا صورتحال ہے؟, یما بارز، بی بی سی افغان سروس

    Nadir Khan

    کنڑ کی طرف جاتے ہوئے میں ننگرہار کے ریجنل ہسپتال میں رکی۔ آج یہاں 80 سے زائد زخمی لائے گئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق کنڑ کے ضلع نورگل کے علاقے مزار درہ سے ہے۔ یہ وہ ضلع ہے جس سے گذشتہ روز مکمل رابطہ منقطع تھا۔

    ان میں سے زیادہ تر زخمی افراد کو فضائی سروس کے ذریعے جلال آباد کے ہسپتال تک پہنچایا گیا۔

    آج ہسپتال میں ماحول قدرے پرسکون ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب صدمے کی کیفیت سے لوگ کسی حد باہر نکل آئے ہیں اور کچھ لوگ اس بارے میں بات کرنے کی پوزیشن میں تھے کہ وہ بتا سکیں کہ وہ کس مصیبت سے گزرے ہیں۔

    میری ملاقات نورگل ضلع کے علاقے مزار درہ سے تعلق رکھنے والے نادر سے ہوئی جو ابھی 60 کے پیٹے میں ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ اس زلزلے میں ان کا مکان گرنے سے ان کے دو بیٹے، دو بہوئیں اور ان کے پوتے پوتیاں مر گئے ہیں۔

    Nangarhar

    وہ یہ تفصیلات بتاتے ہوئے رو پڑے کہ وہ اس دوران صرف اپنے دو پوتوں کو ہی بچا سکے ہیں۔ مگر انھیں ابھی یہ نہیں معلوم کہ وہ کہاں پر ہیں۔ نادر نے مجھے بتایا کہ انھیں نہیں معلوم کہ ادھر سے انھوں نے اب کہاں جانا ہے کیونکہ باقی تو کچھ رہ نہیں گیا جس کے لیے وہ واپسی کا رستہ لیں۔ ان کا گھر اور خاندان اب مٹ چکا ہے۔

    یہ بتاتے ہوئے وہ پھر رو پڑے۔ میں نے انھیں سنبھلنے کے لیے کچھ وقت دیا۔ اپنے بیٹوں کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ کاش میں انھیں بچا پاتا۔ جب وہ کسی حد سنبھلے تو انھوں نے مجھے دوبارہ بتایا کہ میرے سر اور ریڑھ کی ہڈی میں زخم آئے ہیں جس وجہ سے میں انھیں بچانے کے لیے واپس نہیں مُڑ سکا۔

    Afghanistan

    انھوں نے کہا کہ ’کاش میں ٹھیک ہوتا تاکہ میں ان کی مدد کر سکتا۔‘ انھیں ریسکیو اہلکاروں نے ہسپتال تک پہنچایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ میرے بیٹوں کی لاشوں کا کیا بنا۔‘

    ننگرہار کی صحت اتھارٹی کے سربراہ مولوی امین اللہ شریف نے مجھے بتایا کہ ان کی ٹیمیں زلزلے سے شدید متاثرہ چند علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ مگر گذشتہ روز یہ ٹیمیں وہاں نہیں پہنچ سکی تھیں۔

    اگرچہ ٹیموں کو کچھ سازوسامان اور وسائل دیے گئے تھے، لیکن انھوں نے کہا کہ جتنی بڑی تباہی ہوئی ہے اس حسب سے یہ بہت کم تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ریسکیو ٹیموں میں کوئی خاتون ہیلتھ ورکرز موجود ہیں جس پر انھوں نے کہا کہ چونکہ علاقہ پہاڑی ہے اس لیے خواتین ورکرز کے لیے وہاں پہنچنا مشکل ہے۔

  17. بونیر اور خیبر میں بارش کا سلسلہ جاری، مختلف حادثات میں چار افراد ہلاک، چار زخمی

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے منگل کے روز ہونے والی بارشوں اور اربن فلڈنگ کے باعث صوبہ کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی ابتدئی رپورٹ جاری کی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور اربن فلڈنگ کے باعث مختلف حادثات میں اب تک چار افراد ہلاک اور چار ہی زخمی ہوئے ہیں۔

    ہلاک ہونے والے افراد سے متعلق پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ان میں تین مرد اور ایک بچہ شامل ہے جبکہ زخمیوں میں تین بچے اور ایک خاتون شامل ہیں۔

    بارشوں اور اربن فلڈنگ کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع خیبر، بونیر اور ٹانک میں پیش آئے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق 15 اگست سے اب تک صوبہ میں بارشوں، اور اربن فلڈنگ کے باعث مختلف حادثات میں 415 افراد ہلاک اور 135 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 2562 گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تاہم خیبر پختونخوا سے متعلق محکمہ موسیات کی جانب سے جاری پیش گوئی میں کہا گیا ہے بیشتر اضلاع چترال (اپر و لوئر)، دیر (اپر و لوئر)، سوات، بونیر، مالاکنڈ، شانگلہ، باجوڑ، تورغر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، کوہستان (اپر و لوئر)، مردان، صوابی، پشاور، خیبر، کرم، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، گرج چمک اور تیز ہواؤں کا قوی امکان ہے۔ جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار سے بہت زیادہ بارش بھی متوقع ہے۔

    محکمے کے مطابق شدید بارش کے باعث مقامی ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ہے، خصوصاً گلیات، مانسہرہ، کوہستان، بونیر، باجوڑ، بٹگرام، ہنگو، کرک، دیر، سوات، شانگلہ، خیبر، صوابی، مردان، کرم، مہمند، اورکزئی، بنوں، وزیرستان اور ٹانک میں۔ جبکہ پشاور، نوشہرہ، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا امکان ہے۔

    محکمے کا مزید کہنا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایبٹ آباد، بٹگرام، بونیر، چترال، دیر، خیبر، کوہستان، کولائی پالس، کرم، مالاکنڈ، مانسہرہ، مہمند، اورکزئی، شانگلہ، سوات، تورغر اور شمالی وزیرستان کی سڑکیں بند ہو سکتی ہیں۔

  18. بنوں میں ایف سی مرکز پر دہشت گردوں کا حملہ، جھڑپ میں چار پولیس اہلکار زخمی، پانچ دہشت گرد ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    KP POLICE

    ،تصویر کا ذریعہKP POLICE

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں آج صبح سویرے دہشت گردوں نے ایف سی کے مرکز پر حملہ کیا، خود کش دھماکے کے بعد مسلح افراد مرکز کے اندر داخل ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق اس حملے میں اب تک ایک ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکار اور تین شہری زخمی ہوئے ہیں۔ بنوں پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد چھ تھی جن میں سے پانچ کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ ایک کی تلاش جاری ہے۔

    پولیس کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے پہلے عمارت پر خودکُش حملہ کیا اور اُس کے بعد وہ ایف سی کے مرکز میں داخل ہو گئے۔

    حملہ آوروں نے مرکز میں داخل ہونے کے بعد اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود اہلکاروں نے جوابی کارروائی شروع کر دی تھی۔ اس دوران پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ حملہ آوروں میں سے پانچ کو ہلاک کر دیا گیا ہے تاہم ایک کی تلاش جاری ہے۔

    اس آپریشن میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے تھے۔ ریجنل پولیس آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آر پی او سجاد خان اور ضلع پولیس افسر سلیم عباس کلاچی اس آپریشن کو لیڈ کر رہے تھے اور موقع پر موجود ہیں۔

    ڈی پی او سلیم کلاچی کا کہنا ہے کہ اس وقت علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ زخمی پولیس اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لیے بنوں کے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال کے ترجمان نعمان خان نے بتایا کہ ان کے پاس سات زخمی لائے گئے ہیں جن میں پولیس اہلکار اور تین عام شہری ہیں۔

    زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ایس ایچ او دمساز خان شامل ہیں۔ نعمان خان نے بتایا کہ ایس ایچ کی حالت تشویشناک تھی تاہم اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔ پولیس کے مطابق ایس ایچ او دمساز خان پر اس سے پہلے بھی عسکریت پسندوں کی جانب سے حملہ کیا جا چُکا ہے۔

    اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند طالبان کی تنظیم جبھتہ الانصار المہدی خراسان نامی گروپ نے قبول کی ہے۔

    اس حملے کے فوری بعد سکیورٹی خدشات کے باعث ایف سی لائن کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے تھے۔ فرنٹیئر کانسٹبلری لائن پولیس کا ایک ذیلی ادارہ ہے اور بنوں میں اس کا مرکز کوہاٹ روڈ پر واقع ہے۔

    KP POLICE

    ،تصویر کا ذریعہKP POLICE

    بنوں میں ماضی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات

    بنوں اس حالیہ حملے سے قبل بھی چھاونی میں اور انسداد دہشت گردی کے محکمے کا دفتر پر بھی حملے ہو چُکے ہیں۔ بنوں میں شدت پسندوں کی جانب سے حملے اسی طریقے سے کیے جاتے رہے ہیں کہ پہلے بارود سے بھری گاڑی کو مطلوبہ ہدف پر ٹکرا دیا جاتا ہے اور پھر دیگر حملے آور عمارت کے اندار داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

    رواں سال مارچ کے پہلے ہفتے میں بنوں شہر میں بظآہر چھاونی پر حملہ کیا گیا تھا اور شدت پسندوں کا ہدف چھاونی ہی تھی لیکن اس میں بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے سے زیادہ نقصان قریب موجود عام شہریوں کو پہنچا تھا۔ یہ آبادی کوٹ براڑہ کے نام سے جانی جاتی ہے جس میں کم سے کم 13 افراد کی جان چلی گئی تھی اور 32 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اس علاقے میں لوگوں کے مکان بھی اس حملے اور اس کے دوران ہونے والے دھماکے کی وجہ سے منہدم ہو گئے تھے۔

    گزشتہ سال جولائی میں بھی بنوں چھاونی پر اسی طرز کا حملہ کیا گیا تھا جس میں بارود سے بھری گاڑی چھاونی کی دیوار سے ٹکرا دی گئی تھی اور پھر مسلح شدت پسندو چھاونی کے اندر داخل ہو گئے تھے۔ اس حملے میں 10 شدت پسندوں کو مار دیا گیا تھا جبکہ 8 سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔

    پھر اسی طرح دسمبر 2022 میں چھاونی میں قائم انسداد دہشت گردی کے محکمے کے دفتر پر حملہ کیا گیا تھا اور ایسی اطلاع تھی کہ اس دفتر میں تفتیش کے لیے لائے گئے شدت پسندوں نے اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں 25 شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے جبکہ دیگر نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

  19. پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری: 41 افراد ہلاک، 20 لاکھ سے زائد متاثر

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حالیہ سیلابی صورتحال کی وجہ سے متاثرین کی تعداد 24 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 26 اگست سے اب تک مختلف واقعات میں 41 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اب تک 32 سو دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

    لاہور میں صوبہ پنجاب کے میں سیلابی صورتحال سے متعلق تازہ ترین معلومات سے آگاہ کرتے ہوئے صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ پنجاب کے دریاؤں میں ابھی بھی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ صوبے کے مخلتف مقامات پر سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر شہری آبادیوں کو بچانے کے لیے بند میں شگاف ڈالے جا سکتے ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا کے مطابق انڈیا کی طرف سے جو پانی کا ریلا آیا ہے اُس کی اطلاع دی گئی ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے ستلج میں مزید پانی چھوڑا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کے بہاؤ میں کمی نہیں بلکہ یہ اسی فلو کے ساتھ چلتا رہے گا۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا تھا کہ اب بھی صوبے کے مختلف مقامات پر جاری بارش کے سلسلے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مُشکلات کا سامنا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا کے مطابق 26 اگست سے اب تک 41 لوگ ہلاک ہو چُکے ہیں۔

    انھوں نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہیڈ سدھانی اور محمد والا میں پانی کے اضافے کی نظر بند توڑے جا سکتے ہیں۔ ہیڈ محمد والا پر سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ہر قسم کی ٹریفک کو روک دیا گیا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ پانی اس وقت بہاولپور اور بہاولنگر میں داخل ہو چُکا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اُمید ہے کہ پانچ ستمبر تک بڑا ریلا پنجند کے مقام پر پہنچے گا۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کی جانب سے آپ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کے 3243 موضاجات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک صوبے میں متاثرین کی تعداد 24 لاکھ 52 ہزار 185 لوگ متاثر ہوئے ہیں، جبکہ صوبہ بھر کے مختلف مقامات پر 395 ریلیف کیمپ لگائے گئے ہیں۔

  20. تریموں، بلوکی اور سدھنائی پر اُنچے درجے کا سیلاب

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دو بڑے دریاؤں راوی اور چناب میں اس وقت کُچھ مقامات پر انتہائی اُنچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے۔

    صوبہ پنجاب کے دریائے راوی میں بلوکی اور سدھنائی کے مقام پر اُنچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے۔

    صوبہ پنجاب میں سیلاب سے متعلق پیش گوئی کرنے والے ادارے کے مطابق ہیڈ بلوکی کے مقام پر اس وقت پانی کی سطح ایک لاکھ 37 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے جبکہ ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کی سطح ایک لاکھ 16 ہزار سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

    تاہم دریائے چناب میں ہیڈ تریموں کے مقام پر اس وقت پانی کی سطح چار لاکھ 86 ہزار کیوسک سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب صوبائی سطح پر قدرتی آفارت سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دریائے ستلج سے ملحقہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ ہریکے زیریں اور فیروزپور زیریں میں اونچے درجے کی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بھی پنجاب کی متعلقہ اداروں کو سیلابی صورتحال سے متعلق آگاہ رہنے اور حالات پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات کی ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پنجاب پولیس کی جانب سے ریسکیو کیے جانے والے افراد کی تعداد 2 لاکھ 57 ہزار سے زیادہ ہے۔

    سیلاب زدہ علاقوں سے 1 لاکھ 4 ہزار سے زائد مردوں، 76 ہزار 426 خواتین جبکہ 77 ہزار 107 بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔