یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
یہ اجلاس غزہ کی پٹی پر مکمل کنٹرول کے مجوزہ منصوبے کو پیش کرنے کے لیے بلایا گیا ہے تاہم یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اسرائیلی ملٹری چیف اور کچھ وزرا وزیراعظم کے منصوبے کے مکمل طور پر حامی نہیں ہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس تیسرے روز بھی معطل رہی ہے۔ موبائل انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ اس سے ہزاروں افراد کا کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق صوبے میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے انٹرنیٹ کی موبائل سروس معطل کی گئی ہے۔ ماضی میں چند علاقوں میں مخصوص وقت تک سروس معطل کی جاتی رہی ہے۔ اس سے قبل کبھی پورے صوبے میں اس طرح سروس معطل نہیں رہی ہے۔
چیمبر آف سمال انڈسٹریز کوئٹہ کے صدر میر مراد بلوچ نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن بلوچستان میں انٹرنیٹ سے ہزاروں افراد کا کاروبار جڑا ہوا ہے۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ موبائل فون انٹرنیٹ بندش سے ان کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوڈ ڈیلیوری، ای کامرس، موبائل بینکنگ اور فری لانسنگ سے وابستہ یومیہ اجرت کمانے والے افراد اس سے بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی مکمل بندش کی بجائے بلوچستان میں روزگار کے تحفظ کے لیے انٹرنیٹ کی متوازن بندش کی پالیسی اپنائی جائے۔
دوسری جانب موبائل انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے خلاف سینٹ میں تحریک التوا بھی جمع کرائی گئی ہے ۔ یہ تحریک التوا سینیٹر کامران مرتضیٰ نے جمع کرائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
فروری 2022 میں روس کے بڑے پیمانے پر حملے سے شروع ہونے والی یوکرین کی جنگ کے ختم ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔
یوکرین کے مشرق میں روس نے خونریز پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ رات بھر روس کی طرف سے یوکرین پر حملے ایک معمول بنا تو روس کی ریفائنریز اور توانائی کی تنصیبات کئیو کے ڈرونز کے حملوں کی زد میں آئیں۔
کریملن نے تصدیق کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن کے درمیان ملاقات جلد ہو گی۔ امریکی رہنما نے بدھ کو کہا کہ ’میں یہاں (جنگ) ختم کرنے کے لیے آیا ہوں۔‘
مئی اور جولائی کے درمیان ان کی ایما پر روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تین دور فریقین کو امن کے قریب لانے میں ناکام رہے ہیں اور ٹرمپ امید کر سکتے ہیں کہ صورت حال کو اپنے ہاتھ میں لینے سے بالآخر جنگ بندی ہو سکتی ہے۔ لیکن کئیو اور ماسکو کے درمیان خلیج اتنی بڑی ہے کہ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت بھی اسے اب شاید اس کو کم نہ کر سکے۔
جون میں روس کی طرف سے یوکرین کو پیش کردہ ایک یادداشت میں ماسکو نے تنازع کے ’حتمی تصفیے‘ کے لیے اپنے تمام تر مطالبات پیش کیے۔ ان میں یوکرینی علاقوں کریمیا، ڈونٹسک، لوہانسک، زاپروشیا اور کھیرسن پر روسی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ یوکرین کا ڈی ملٹرائزیشن یعنی غیر عسکری ہونا، غیر جانبداری، غیر ملکی فوجی مداخلت اور نئے انتخابات پر رضامندی شامل ہے۔
روسی سیاسی تجزیہ کار تاتیانا سٹانووائے لکھتی ہیں کہ ’روس اس صورتحال کو مختلف طریقوں سے پیش کر ستکا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ماسکو مراعات اور سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔‘ ان کے مطابق ’لیکن بنیادی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی: روس چاہتا ہے کہ کئیو ہتھیار ڈال دے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پوتن اور امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان ملاقات کے بعد بدھ کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن کو ان حالات کا بہتر ادراک ہے جن کے تحت روس جنگ کے خاتمے کے لیے تیار ہو گا۔
ہمیں نہیں معلوم کہ وہ حالات بدل گئے ہیں یا نہیں۔ تاہم، صرف گذشتہ ہفتے پوتن نے ممکنہ طور پر یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ روس نے جون میں اپنے اہداف بتا دیے تھے اور یہ کہ وہ اہداف وہی رہے تھے۔
اس لیے کریملن کے ٹرمپ-پوتن ملاقات کے لیے رضامندی کے باوجود اس بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ماسکو اپنی سخت پیشگی شرائط سے ہٹنے کے لیے تیار ہے تو پھر پوتن اس مرحلے پر بات چیت پر رضامند کیوں ہوں گے؟
ایک امکان یہ ہے کہ انھیں امید ہے کہ بات چیت میں شامل ہونے سے ان ثانوی پابندیوں کو روکا جا سکتا ہے جو ٹرمپ نے جمعے کے روز ہی ماسکو کے تجارتی شراکت داروں پر عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ کریملن یہ بھی محسوس کر سکتا ہے کہ وہ ٹرمپ کو جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط پر راضی کر سکتا ہے۔
اپنی دوسری میعاد کے آغاز پر صدر ٹرمپ یوکرین کے مقابلے میں روس کے ساتھ زیادہ اتحاد میں نظر آئے، زیلنسکی کو ایک ’آمر‘ قرار دیتے ہوئے انھوں یہ کہا کہ وہ روس کے ساتھ جنگ کے ذمہ دار ہیں۔
اگرچہ اس کے بعد سے ٹرمپ نے پوتن سے متعلق بھی اپنی بے صبری ظاہر کی اور اپریل میں یہ بیان دیا کہ وہ صرف مجھے بہلا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ کہنے سے بھی انکار کر دیا ہے کہ آیا انھیں یہ مسحوس ہوا کہ روسی رہنما جنگ بندی کی طرف بڑھنے کی تیاری پر ان سے جھوٹ بول رہے ہیں۔
بھلے اس کی وجہ ذاتی وابستگی ہو یا عالمی نقطہ نظر مگر یہ حقیقیت ہے کہ ٹرمپ نے کبھی بھی پوتن کی کلی مذمت کرنے سے گریزاں رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب ٹرمپ کی صدارت کی پہلی مدت کے دوران دونوں رہنماؤں کی ملاقات 2018 میں ہیلسنکی میں ہوئی تو بہت سے لوگ 2016 کے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات پر ٹرمپ کا کریملن کا ساتھ دینے پر دنگ رہ گئے اور یہی نہیں بلکہ ٹرمپ نے امریکہ اور روس کے تعلقات کی کشیدہ حالت کی ذمہ داری بھی قبول کی۔
یہ شاید جزوی طور پر ٹرمپ کے پوتن کے زیر اثر ہونے کے امکان کو روکنے کے لیے ہے کہ کئیو جنگ بندی کے کسی بھی مذاکرات میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
اپنے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے ذریعے ٹرمپ نے پوتن اور زیلنسکی کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کا بھی مشورہ دیا ہے۔ لیکن روسی صدر نے ان تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کی شرائط ابھی بہت دور ہیں۔
اب یوکرین میں کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ۔پوتن ملاقات کے نتیجے میں امریکی صدر پوتن کے مطالبات تسلیم کر سکتے ہیں۔
یوکرین کی رکن پارلیمنٹ ایرینا ہیراشینکوو نے کہا کہ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ یوکرین کی طرف سے رعایت دینے کے مطالبات کیے جائیں گے اور یہ بھی تجویز کیا جائے گا کہ مذاکرات کی میز پر کئیو کا نہ ہونا ’بہت خطرناک‘ ہو گا۔
صدر زیلنسکی نے جمعرات کو کہا کہ ’یوکرین ملاقاتوں سے خوفزدہ نہیں ہے اور روس سے بھی اسی جرات مندانہ انداز کی توقع رکھتا ہے۔‘ لیکن روس اور یوکرین کے درمیان خلیج برقرار ہے۔ اور اگر کریملن آخرکار سہ فریقی اجلاس پر راضی ہو جائے تو ماسکو کے جنگ بندی کے مطالبات اتنے پیچیدہ ثابت ہوئے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ زیلنسکی اور پوتن کو آمنے سامنے لانے سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
غزہ پر مکمل کنٹرول کے منصوبے کے حوالے سے سکیورٹی اجلاس وزیراعظم نتن یاہو کی سربراہی میں جاری تو ہے تاہم اس منصوبے پر فوج اور سیاسی لیڈر شپ میں اختلافات گذشتہ کچھ دنوں سے شہ سرخیوں میں ہیں۔
چیف آف آرمی سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے غزہ پر مکمل کنٹرول کے منصوبے جس کی وزیراعظم نے حمایت کی پر اختلاف ظاہر کیا۔
اطلاعات کے مطابق ضمیر نے نتن یاہو سے رواں ہفتے کے آغاز میں ایک ملاقات کی جس میں انھوں نے اس منصوبے پر عمل کو ایک جال میں پھنسنے کے مترادف قرار دیا۔
تاہم اب بھی ممکنہ طور پر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ سکیورٹی کابینہ اس منصوبے کی منظوری دے دے گی۔
اسرائیل جو کہ غزہ کے 75 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے صرف غزہ شہر اور غزہ کی پٹی میں موجود کیمپوں پر قابض نہیں ہے جہاں تقریباً 10 لاکھ افراد رہتے پیں۔
فوج نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ مزید آپریشن وسیع کرنے سے 20 اسرائیلی یرغمالیوں کی جان کو خطرہ ہو گا جن کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں اور انھیں علاقوں میں کہیں موجود ہیں۔
فوج کا مؤقف ہے کہ یرغمالیوں کی زندہ رہائی کا واحد طریقہ بات چیت ہے۔
آج روزنامہ مارییو نے رپورٹ کیا کہ اس صورتحال میں اگر آپریشن کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا تو یا تو یرغمالیوں کو اغوا کار ہلاک کر دیں گے یا پھر وہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غلطی سے مارے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہKobi Wolf/Bloomberg via Getty Images
اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نتن یاہو کا غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ دراصل ایک نئی جنگ اور مزید یرغمالیوں کی موت کا منصوبہ ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی وجہ سے اربوں شیکلز ٹیکس دہندگان کو ادا کرنا پڑیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کی سربراہی میں غزہ کی پٹی پر مکمل کنٹرول کے مجوزہ منصوبے کی منظوری کے لیے سکیورٹی اجلاس جاری ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کا مقصد غزہ سے حماس کی باقیات کو تباہ کرنا ہے۔
خیال رہے کہ اگر یہ منصوبہ سکیورٹی اجلاس میں منظوری حاصل کر لیتا ہے تو ممکنہ طور پر اسرائیل غزہ کی پٹی پر موجود 10 لاکھ فلسطینیوں کو مزید جنوب کی جانب دھکیل دے گا۔
اس وقت عزہ کے تین چوتھائی حصے پر پہلے ہی اسرائیلی فوج کا کنٹرول ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ اقدام حماس پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ غزہ میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے۔
تاہم اسرائیلی میڈیا سے بات کرنے والے ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل کا منصوبہ فوری طور پر غزہ کی پوری پٹی پر قبضہ حاصل کرنے کا نہیں ہے۔
لیکن عبرانی زبان کے میڈیا چینل کے مطابق نتن یاہو ممکنہ طور پر پانچ ماہ کے ایک سلسلہ وار منصوبے کی منظوری دیں گے جس میں سب سے پہلے غزہ شہر کے مکینوں کو انخلا کا نوٹس دیا جائے گا۔
چینل 12 نیوز کا کہنا ہے کہ پہلا مرحلہ کئی ہفتوں تک جاری رہے گا جس میں سول انفراسٹرکچر کو کھڑا کیا جائے گا جس میں غزہ کے مرکز میں موجود ہسپتال اور کیمپ شامل ہیں۔
اسرائیلی میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کی دفاعی افواج غزہ کے مختلف علاقوں میں یرغمالیوں کی تلاش کے لیے بھی جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے فاکس نیوز کو دیے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’ہم غزہ کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘
انھوں نے یہ انٹرویو اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس سے پہلے دیا جبکہ اس وقت ان کی زیر قیادت اجلاس شروع ہو چکا ہے۔
خیال رہے کہ یہ اجلاس غزہ کی پٹی پر مکمل کنٹرول کے مجوزہ منصوبے کو پیش کرنے کے لیے بلایا گیا ہے تاہم یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اسرائیلی ملٹری چیف اور کچھ وزرا وزیراعظم کے منصوبے کے مکمل طور پر حامی نہیں ہیں۔
فاکس نیوز کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل غزہ کا کنٹرول چاہتا ہے؟
جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم ارادہ رکھتے ہیں وہاں سے حماس کو ختم کرنے کا، اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے، غزہ کی آبادی کو آزادی دلانا چاہتے ہیں اور اسے سول گورننس کے حوالے کرنے کا نہ کہ وہ حماس کے اور نہ کسی ایسے کے جو اسرائیل کی تباہی کا حامی ہو۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم خود کو اور غزہ کے لوگوں کو حماس سے آزاد کروانا چاہتے ہیں، اس کی خوفناک دہشت سے۔‘
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل اس پر تسلط نہیں چاہتا۔
’ہم وہاں گورننگ باڈی کے طور پر نہیں رہنا چاہتے۔‘

اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سیٹنر (Unosat) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ غزہ میں 78 فیصد عمارتیں جولائی تک کی رپورٹ کے مطابق تباہ ہو چکی ہیں۔
آٹھ جولائی کو لی گئی سیٹلائیٹ تصاویر میں دیکھا گیا کہ 192812 عمارتوں میں سے 102067 تباہ ہو گئی ہیں جن میں سے 40 فیصد مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ تباہ حال عمارتوں میں 300000 گھر موجود ہیں۔
گذشتہ تین ماہ کے دوران زیادہ تر تباہی جنوبی غزہ میں خان یونس اور رفا میں ہوئی۔
اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق حالیہ جائزے میں دیکھا گیا کہ اسرائیلی فوج نے منظم طریقے سے اس علاقے کو تباہ کیا۔
اس کی مثال اوپر موجود اباسن الکبیرا گاؤں کی تصویر ہے۔
ادارے نے حالیہ سیٹلائٹ تصاویر کا مقابلہ سنہ 2023 میں جنگ کے آغاز سے پہلے لی گئی تصاویر سے کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا انتخابات، مہاراشٹرا اور ہریانہ کے اسمبلی انتخابات میں ووٹر فہرستوں میں ’بڑے پیمانے پر دھاندلی‘ ہوئی تھی۔
ان]وں نے کہا کہ ’مشین ریڈ ایبل ووٹر لسٹ نہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ الیکشن کمیشن نے مہاراشٹر میں انتخابات کو ’چوری‘ کرنے کے لیے بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کی ہے۔‘
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کہا ہے کہ راہول گاندھی کے الزامات ’مضحکہ خیز‘ ہیں۔
الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ اگر راہل گاندھی سمجھتے ہیں کہ وہ جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے تو وہ حلف نامہ پر دستخط کریں اور شکایت درج کرائیں ورنہ انڈین عوام کو گمراہ نہ کریں۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ نے بھی مہاراشٹر کے انتخابات میں ووٹ چوری کے راہول گاندھی کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’راہل گاندھی مسلسل غلط بیانی کر رہے ہیں اور جھوٹے بیانات دے رہے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ بار کہا تھا کہ مہاراشٹر میں 75 لاکھ ووٹ بڑھے تھے اور اب انھوں نے کہا کہ ایک کروڑ ووٹ بڑھے ہیں۔‘
جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ایک ’پریزنٹیشن‘ دی جس میں مہاراشٹر میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان ووٹر لسٹ میں تبدیلی، لوک سبھا انتخابات کے دوران کرناٹک میں ووٹروں میں اضافہ کے مبینہ ثبوت دیے گئے۔
لکی مروت کے قبیلے موسیٰ خیل کے مشران نے امن و امان کے حوالے سے پولیس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس بنوں ریجن سجاد خان نے ڈی آئی جی آفس بنوں میں موسیٰ خیل لکی مروت کے مشران کے ساتھ ایک اہم جرگہ منعقد کیا۔
جرگے کا مقصد علاقے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینا، عوامی مسائل سننا، اور مشران کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
موسیٰ خیل لکی مروت کے مشران نے اپنے علاقوں کو درپیش چیلنجز، جرائم، سماجی برائیوں اور سکیورٹی سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
ڈی آئی جی سجاد خان نے مشران کے تحفظات غور سے سنے اور یقین دلایا کہ عوام کو محفوظ اور پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے پولیس تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔
ڈی آئی جی سجاد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیس اور عوام کا باہمی اعتماد اور تعاون ہی دیرپا امن کی بنیاد ہے۔
انھوں نے موسیٰ خیل لکی مروت عمائدین کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا تعاون امن کے قیام میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
موسیٰ خیل لکی مروت کے مشران نے بھی پولیس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے امن کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کریملن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے آئندہ دنوں میں ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔
اس خبر کے سامنے آنے کے بعد ٹرمپ نے یہ بیان دیا کہ اس بات کا بہت امکان ہے کہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمے پر بات چیت کے لیے اپنے روسی اور یوکرینی ہم منصبوں سے بہت جلد مشترکہ ملاقات کریں۔
یوکریبن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس خیال کی تائید کی جبکہ وہ زیلنسکی سے ملنے کے خلاف نہیں ہیں تاہم ابھی ایسی کسی ملاقات کا امکان نہیں ہے۔
ٹرمپ کی طرف سے روس کو یوکرین میں جنگ بندی کے لیے دی گئی ڈیڈلائن جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ ٹرمپ نے پوتن پر یہ واضح کیا تھا کہ جنگ بندی کرو وگرنہ سخت پابندیوں کے سامنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔

،تصویر کا ذریعہGAVRIIL GRIGOROV/SPUTNIK/KREMLIN POOL/EPA/Shutterstock
ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات کے بعد بدھ کو امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف روسی صدر سے مذاکرات کریں گے۔ اس سے قبل سٹیو وٹکوف روس کا چار بار دورہ کر چکے ہیں مگر ٹرمپ کی امید کے باوجود ان ملاقاتوں میں کوئی یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق کوئی ’بریک تھرو‘ ممکن نہ ہو سکا۔
جمعرات کو گفتگو کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے ان کی ٹرمپ سے ملاقات کی میزبانی کر سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ابھی ان کی یوکرینی صدر زیلنسکی سے ملاقات کے دور دور تک کوئی امکانات موجود نہیں ہیں کیونکہ ابھی تک یوکرین نے شرائط پر عملدرآمد نہیں کیا ہے اور ایسی کسی ملاقات کا ماحول بنانے کے لیے یوکرین کو بہت کچھ کرنا ہوگا۔
اس سے پہلے پوتن نے کہا تھا کہ وہ زیلنسکی سے صرف حتمی مرحلے پر ہی مذاکرات کریں گے۔ کئیو اور اس کے مغربی اتحادیوں نے اس جنگ بندی کے لیے ماسکو کی شرائط کو مسترد کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ آج سکیورٹی کابینہ کا اجلاس متوقع ہے جس میں ایک ایسے فوجی منصوبے کی منظوری کا امکان ہے جس سے غزہ کی پوری پٹی پر فوجی کنٹرول قائم ہو جائے گا۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ خبردار کر چکا ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام کے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے مزید کہا ہے کہ چیف آف سٹاف ایال ضمیر کی اور چند وزرا کی جانب سے مخالفت کے باوجود اسرائیلی فوج حالیہ دنوں میں کئی آپریشنل منظرنامے تیار کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مختلف رپورٹوں میں چیف آف سٹاف ضمیر اور نیتن یاہو کے درمیان غزہ میں فوجی کارروائیوں کو بڑھانے کے حوالے سے اختلافات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے بدھ کو کہا کہ اس منصوبے کے حوالے سے سیاسی اور عسکری سطحوں کے درمیان اختلافات کے پیش نظر اسرائیلی فوج غزہ کے حوالے سے کسی بھی حکومتی فیصلے پر عمل درآمد کرنے پر مجبور ہو گی۔
کاٹز نے زور دیا کہ ’چیف آف سٹاف کا حق اور فرض ہے کہ وہ مختلف فورمز پر اپنے موقف کا اظہار کریں، لیکن سیاسی قیادت کے فیصلے کرنے کے بعد، فوج ان کو مضبوطی اور پیشہ ورانہ طریقے سے نافذ کرے گی، جیسا کہ انھوں نے تمام محاذوں پر کیا ہے، جب تک کہ جنگ کے مقاصد حاصل نہ ہو جائیں۔‘
اسرائیلی میڈیا نے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ نتن یاہو فوجی آپریشن کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ گنجان آباد علاقوں کو شامل کیا جا سکے جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ یرغمالی موجود ہیں، جیسے کہ غزہ سٹی اور پناہ گزین کیمپ۔
نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو یرغمالیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے ’حماس کی شکست کو مکمل کرنا ہوگا۔‘
بدھ کے روز، اسرائیلی فوج نے شمال میں غزہ شہر اور جنوب میں خان یونس کے کچھ حصوں کو خالی کرنے کے لیے ایک نیا حکم جاری کیا، جس میں ایک ترجمان نے کہا کہ زمینی افواج ’جنگی کارروائیوں کے دائرہ کار کو بڑھانے‘ کی تیاری کر رہی ہیں۔
اس وقت اسرائیل کا غزہ کے تین چوتھائی حصے پر کنٹرول ہے۔ غزہ کی زیادہ تر آبادی پہلے ہی اپنے گھر بار چھوڑ چکی ہے اور دیگر کو بھی اپنے علاقوں کو چھوڑنا پڑے گا اگر اسرائیلی فوج تمام علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیتی ہے۔
’غزہ میں انسانی بنیادوں پر کارروائیوں میں رکاوٹ‘
یورپی یونین کے ایک اہلکار نے کہا کہ غزہ میں انسانی صورت حال انتہائی ابتر ہے۔
یہ بات جمعرات کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے بیانات میں سامنے آئی، جب یورپی یونین کے رکن ممالک کو بدھ کو اسرائیل کے ساتھ غزہ تک انسانی امداد کی رسائی کو بڑھانے کے لیے گذشتہ ماہ طے پانے والے معاہدے کی حیثیت سے آگاہ کیا گیا۔
اہلکار نے مزید کہا کہ ایندھن کی فراہمی، کچھ سڑکوں کو دوبارہ کھولنے، روزانہ پٹی میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد میں اضافہ، اور کچھ اہم بنیادی ڈھانچے کی مرمت کے حوالے سے کچھ مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
تاہم، یورپی اہلکار نے مزید کہا کہ ’اہم رکاوٹیں انسانی بنیادوں پر کارروائیوں اور غزہ میں امداد کی ترسیل کو کمزور کر رہی ہیں، خاص طور پر محفوظ آپریٹنگ ماحول کا فقدان جو امداد کی وسیع پیمانے پر تقسیم کی اجازت دیتا ہے۔‘
بھوک سے اموات
غزہ میں پانی، خوراک اور ایندھن کی قلت کی وجہ سے 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے مصائب پر بین الاقوامی تنقید بڑھ رہی ہے، اقوام متحدہ نے بڑے پیمانے پر غذائی قلت اور قحط کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (یو این آر ڈبلیو اے) نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو ’اپنے خاندانوں کے لیے خوراک تلاش کرنے کی کوشش کے دوران گولی ماری جا رہی ہے۔‘
ادارے نے غیر مشروط طور پر کراسنگ کھولنے اور اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کو اپنا انسانی خدمت کا کام کرنے کی اجازت دینے کا ’سیاسی فیصلہ‘ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ میں وزارت صحت کے ایک بیان کے مطابق، بدھ کی صبح تک 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کے ہسپتالوں میں قحط اور غذائی قلت کی وجہ سے مزید ’پانچ اموات‘ ریکارڈ کی گئیں، جس سے مرنے والوں کی تعداد ’193‘ ہو گئی، جن میں 96 بچے بھی شامل ہیں۔
بدھ کے روز غزہ کی پٹی میں خوراک کے حصول کی کوشش میں امدادی ٹرک الٹنے سے 20 سے زائد فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ اسی دن اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور فضائی حملوں میں کئی بچوں اور خواتین سمیت کم از کم 25 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہGhana Armed Forces + Ministry of Science
گھانا میں ایک فوجی ہیلی کاپٹرکو پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں ملک کے وزیر دفاع اور وزیرماحولیات سمیت 8 افراد ہلاک ہو گئے۔
بی بی سی نیوز کے مطابق حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی حکومت نے اس واقعے کو قومی سانحہ قرار دیا ہے۔
حادثے میں وزیر دفاع ایڈورڈ عمان بوامہ اور وزیر برائے ماحولیات اور سائنس و ٹیکنالوجی ابراہیم مرتلہ محمد ہلاک ہو گئے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ زیڈ 9 ہیلی کاپٹر میں عملے کے تین افراد کے علاوہ پانچ مسافر سوار تھے اور یہ حادثہ دارالحکومت آکرا سے روانگی کے بعد گھنے جنگل میں پیش آیا۔
حکام ابواسی نامی قصبے میں غیر قانونی کان کنی پر قابو پانے سے متعلق ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
اس حادثے میں ہیلی کاپٹر میں سوار کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچ سکا۔
کراچی کی لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں آگ لگنے سے اس کی پانچ منزلہ عمارت منہدم ہوگئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق جس وقت فیکٹری میں آگ لگی اس وقت تمام ملازم اندر موجود تھے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق حادثے میں سات افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ آتشزدگی کی اطلاع موصول ہوتے ہی فائر اینڈ ریسکیو ٹیم دو ایمبولینسز اور دو فائر بریگیڈ ٹرکوں سمیت جائے حادثہ پر پہنچ گئی۔
ترجمان ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو آتشزدگی واقعے کی مکمل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت نے 2024 سے 2029 تک کے نجکاری پروگرام میں حکومتی تحویل میں چلنے والے 24 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر نجکاری عبد العلیم خان نے قومی اسمبلی میں وفقہ سوالات میں اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ ان اداروں کی نجکاری تین مرحلوں میں کی جائے گی جن کی منظوری وفاقی کابینہ دے چکی ہے۔
وزیر نجکاری کے مطابق ایک سال پر محیط پہلے مرحلے میں پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز(پی آئی اے)، روز ویلٹ ہوٹل نیو یارک، فرسٹ ویمن بینک، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن، زرعی ترقیاتی بینک، پاکستان انجینیئرنگ کمپنی، سندھ انجینیئرنگ لمیٹڈ، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، فیصل آباد سپلائی کمپنی، گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ، جو ایک سے تین سال تک محیط ہو گا، اس میں پاکستان ری انشورنس کمپنی، سیٹٹ لائف انشورنس، یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان، جام شور پاور کمپنی، سینٹرل پاور جنریشن کمپنی، ناردرن پاور جنریشن کمپنی، لاکھڑا پاور جنریشن، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی، ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی، حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی شامل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ تین سے پانچ سال کے عرصے پر محیط تیسرے مرحلے میں پوسٹل لائف انشورنس کمپنی کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے بازار میں پولیس موبائل کے قریب ایک دھماکہ ہوا ہے جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے جبکہ دو پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بی بی سی سے بات چیت میں پولیس حکام نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پولیس موبائل معمول کے گشت پر تھی جب سپن اڈہ کے مقام پر ایک زوردار دھماکہ ہوا۔
پولیس کے مطابق اس واقعے میں دو عام شہری جان سے گئے اور پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد زخمی ہوئے جن کو فوری طور پر وانا کے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس واقعے کے حوالے سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب دھماکے کے بعد ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زحمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ ہسپتال میں بڑی تعداد میں لوگ خون کا عطیہ دینے بھی پہنچ گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس معطل ہوئے آج دوسرا روز ہے۔
موبائل انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کا فیصلہ سکیورٹی کے خدشات کے باعث کیا گیا ہے تاہم تاحال اس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
حکومت بلوچستان کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ بلوچستان بھرمیں دہشت گردی کے خدشات کے باعث موبائل انٹرنیٹ 31 اگست تک بند رکھی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان بھر میں 15 اگست تک دفعہ 144 بھی نافذ کردی گئی تھی۔
دفعہ 144 کے تحت بلوچستان بھر موٹرسائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی ، اسلحے کی نمائش ، پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع کے علاوہ عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس بدھ کی شام جب اچانک بند ہوئی تھی تب سے انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے صارفین کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی خصوصا اگست کے مہینے کے اہم دنوں کو کالعدم بلوچ مسلح تنظیمیں حملوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اگست کے مہینے میں بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی ہے ۔ خیال رہیکہ گزشتہ سال اگست کے مہینے میں عسکرئت پسندوں نے بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے۔
بالخصوص 25اور 26اگست کی درمیانی شب ہونے والے حملوں عام شہریوں، سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور شدت پسندوں سمیت 60 سے زائد افراد مارے گئے تھےگ
رواں برس بھی ایسے حملوں کے خطرات کے پیش نظر موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس معطل اور دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہRescue1122
سوات میں موجود زمرد کی کان میں پھنسنے والے چاروں مزدوروں کو طویل ریسکیو آپریشن کے بعد بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز سوات کے علاقے ملوک آباد میں زمرد کی کان بیٹھنے کے نتیجے میں یہ مزدور اندر پھنس گئے تھے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہیں اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیم نے جائے وقوع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
ترجمان ریسکیو1122 بلال احمد فیضی کے مطابق مزدوروں کو تقریباً 900 فٹ گہرائی سےنکالا گیا ہے جس کے بعد میڈیکل ٹیموں نے مزدوروں کو ایمبولینس میں فوری طبی امداد فراہم کی۔
ان کے مطابق کان بیٹھنے کے بعد آپریشن تقریبا آٹھ گھنٹے تک جاری رہا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قریبی مائنز اور ایریاز سے بھی ہنگامی طور پر مدد طلب کی گئی تاکہ ریسکیو آپریشن کو مزید مؤثر اور تیز بنایا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی پراپرٹیز نیلامی روکنے کی درخواستیں مسترد کرنے کا مختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے تحریری فیصلے میں نیب کو بحریہ ٹاؤن کی پراپرٹیز نیلام کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحریہ ٹاون کی تمام درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت 15 اپریل اور چار جون کو جاری کیے سٹے آرڈر واپس لیتی ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے ایک صفحے پر مشتمل مختصر فیصلہ جاری کیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران بحریہ ٹاؤن اور اس کے مالک ملک ریاض کے خلاف متعدد کیسز پر تفتیش کا آغاز کیا گیا ہے۔
اسی سلسلے میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک ریاض کے تعمیراتی پراجیکٹ بحریہ ٹاؤن کے دو کارپوریٹ دفاتر سمیت اربوں روپے مالیت کی چھ جائیدادوں کی نیلامی کے لیے سات اگست کی تاریخ مقرر کی تھی۔
بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اس نیلامی کو رکوانے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا تھا تاہم ہائیکورٹ نے نیلامی رکوانے کی بحریہ ٹاؤن کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر آج کی تازہ خبریں شامل کرنے سے پہلے گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔