تاجک-افغان سرحد پر چینی مزدوروں پر
دو حملوں کے بعد تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے یکم دسمبر کو ملک کے
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی اداروں کے سربراہان کا ایک اجلاس طلب کیا۔
تاجکستان کے صدر نے ان دو واقعات کی مذمت کی جن میں پانچ چینی شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ ان کی سرکاری ویب سائٹ نے اسی دن
رپورٹ کیا کہ اجلاس میں ’تاجکستان اور افغانستان کے درمیان ملکی سرحد کی موجودہ
صورتحال اور اس کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے طریقوں‘ پر بات چیت ہوئی۔
حکام کے حوالے سے مختصر رپورٹ میں
کہا گیا کہ ان دونوں واقعات میں پانچ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
صدر مملکت امام علی رحمان نے افغان
شہریوں کی غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیوں کی سخت مذمت کی اور حکام کو
ہدایت دیں کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے اور ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے
مؤثر اقدامات کریں۔
ریڈیو لبرٹی کی تاجک سروس اوزودی نے یکم
دسمبر کو یہ خبر نشر کی کہ چینی مزدوروں پر حملے تاجکستان کے پہاڑی بدخشان
خودمختار علاقے کے داروز ضلع میں افغانستان سے مسلح افراد کے حالیہ حملے میں دو
چینی سڑک تعمیر کرنے والے مزدور ہلاک ہو گئے ہیں۔’
داروز ضلع کے ذرائع کے حوالے سے ریڈیو
اوزودی نے رپورٹ کیا کہ یہ واقعہ گذشتہ شام ضلع کے وشخاروی علاقے کے گاؤں شودک میں
پیش آیا، جہاں چینی مزدور نئی تعمیر شدہ ’قلائی خم-ونج-رشون‘ سرحدی سڑک پر ایک گیلری یا چھوٹے
سرنگ میں کام کر رہے تھے۔
ریڈیو اوزودی کے مطابق اس واقعے کی مزید
تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
30 نومبر کو روسی سیاسی مبصر آندرے سرینکو نے وسطی ایشیا
اور افغانستان کی رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنے ٹیلیگرام چینل پر کہا کہ شودک سرحدی علاقے
میں دو چینی تعمیراتی مزدور ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
تاہم تاجکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’یہ حملہ ایک ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا ہے جس میں گرینیڈز اور اسلحہ نصب تھا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تاجکستان افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی ور استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ’افغانستان کی سرزمین پر موجود جرائم پیشہ گروہوں کی تباہ کُن کارروائیاں جاری ہیں۔‘
ایک دوسری پوسٹ میں انھوں نے افغانستان
انٹرنیشنل کا حوالہ دیا کہ حملہ بدخشاں میں ضلع رضاوی کے گاؤں سے ہوا اور بظاہر ’مے
مے‘ کے علاقے میں دیگر علاقوں سے طالبان سرحدی فورسز بھی اس حملے میں شامل تھیں۔ باخبر
ذرائع نے اطلاع دی کہ دونوں چینی شہری علاقے میں سڑک کی تعمیر پر کام کر رہے تھے اور
انھیں چھوٹے ہتھیاروں سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
آندرے سرینکو کے مطابق چین، تاجکستان
اور طالبان کی وزارت خارجہ نے ابھی تک اس واقعے پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔
انھوں نے تبصرہ کیا کہ ’ایسا لگتا ہے
کہ افغان طالبان کے اندر کچھ فورسز بدخشاں صوبے کی سونے کی کانوں سے چینی کمپنیوں کو
نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لہٰذا، ان کانوں میں کام کرنے والے چینی شہریوں پر
مہلک حملے جاری رہنے کے امکان ہیں۔‘
آندرے سرینکو نے ایک پوسٹ میں لکھا
کہ ’ذرائع کے مطابق حالیہ چینی کمپنی پر حملے کے بعد قندھار اور بدخشاں سے طالبان جنگجوؤں
کے درمیان سونے کی کان کنی کے علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں۔‘
واضح رہے کہ یہ افغانستان سے تاجک سرحد پر چینی مزدوروں پر ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسرا حملہ تھا۔
26 نومبر کو افغانستان سے شروع کیے گئے ایک ڈرون حملے میں ایک سونے کی کان کنی کمپنی کے تین چینی مزدور ہلاک ہوئے۔ تاجک وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ حملہ ’آتشیں اسلحہ او دستی بم سے لیس ڈرون کے ذریعے کیا گیا‘ اور ’دہشت گرد گروہوں کی ان سنگین کارروائیوں‘ کی سخت مذمت کی۔
چین، پاکستان، ایران اور افغان طالبان نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔ اس واقعے کے بعد چین نے اپنے شہریوں کو سرحدی علاقوں سے نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔
گذشتہ سال تاجک-افغان سرحد پر ایک ایسے ہی حملے میں ایک چینی کارکن ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوئے تھے، جن میں چار چینی مزدور اور ایک تاجک شہری شامل تھے۔ گذشتہ سال کے دوران تاجک-افغان سرحد پر مسلح جھڑپوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
نجی ملکیت والی تاجک نیوز ایجنسی ایشیا پلس کے مطابق گذشتہ چھ ماہ میں تاجک سکیورٹی فورسز اور افغان منشیات سمگلروں کے درمیان 10 مسلح جھڑپیں ہوئیں، جن میں چار افغان ’مجرم‘ ہلاک ہوئے۔22 نومبر کو تاجکستان کی ریاستی کمیٹی برائے قومی سلامتی (ایس سی این ایس) نے رپورٹ کیا کہ اس نے20 سے21 نومبر کی رات سات افغان منشیات سمگلروں کے مسلح گروہ کو ختم کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا۔
اگلی صبح ان میں سے دو کی لاشیں ملیں اور موقع پر116 منشیات کے پیکٹ ضبط کیے گئے۔ باقی پانچ سرحد عبور کرنے والوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں مل سکی۔
تاجکستان افغانستان کے ساتھ 1,344 کلومیٹر طویل سرحد ہے، اور اس سرحد کا مکمل تحفظ یقینی بنانا پہاڑی علاقے کی وجہ سے بہت پیچیدہ ہے۔ تاجکستان، افغانستان سے مغربی یورپ جانے والے اہم منشیات سمگلنگ راستے پر واقع ہے۔