عدالتی نظام میں بہتری لانی ہے تو آئینی عدالتوں کا قیام ضروری ہے: بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں 50 فیصد کیس آئینی ہوتے ہیں

خلاصہ

  • سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے سنیچر کے روز لاہور کے جلسے کو تحریک انصاف کے لیے ’ ڈو اینڈ ڈائی‘ قرار دیا ہے۔
  • لبنانی فوج کا مشتبہ ڈیوائسز ناکارہ بنانے کا آپریشن جاری، دو روز میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے۔
  • سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے چیف الیکشن کمشنر کو ایک مراسلے میں واضح کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد مخصوص نشستیں تبدیل نہیں کی جاسکتیں۔
  • سندھ میں توہین مذہب کے مقدمے میں نامزد ملزم ڈاکٹر شاہنواز کنبھار ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم اپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کا موقف تھا کہ جس اکاؤنٹ سے توہین آمیز پوسٹ کی گئی وہ ان کے استعمال میں نہیں تھا۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    20 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. اسرائیل کی اپنے دو فوجیوں کی لبنان کی سرحد پر ہلاکت کی تصدیق، دشمن نے تمام حدیں پار کر دیں : نصراللہ

    حسن نصراللہ کا خطاب

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے دو اہلکار اسرائیل کے لبنان کے ساتھ لگنے والی سرحد پر ہلاک ہو گئے ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنے وڈیو خطاب کے اختتام پر اسرائیل سے انتقام کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    حسن نصراللہ کے مطابق ’اسرائیلی حملوں کا جواب اس انداز سے دیا جائے گا جو شاید ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا۔

    انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’میں جگہ، وقت، مقام، تفصیلات کے بارے میں بات نہیں کروں گا لیکن آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ کب ہوگا۔‘

    ہم اب جنگ کے انتہائی حساس مرحلے میں ہیں: حسن نصراللہ

    حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ دشمن نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔

    ان کے مطابق ’اب حساب کتاب دینا ہوگا جس کی تفصیلات ہم ابھی ظاہر نہیں کریں گے، کیونکہ ہم اب جنگ کے انتہائی حساس مرحلے میں ہیں ۔‘

    انھوں نے ان حملوں کو قتل عام قرار دے کر دعویٰ کیا کہ ’ان دھماکوں میں کم از کم 37 افراد ہلاک اور 3000 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ان حملوں کو جنگی جرائم یا اعلان جنگ سمجھا جا سکتا ہے، انھیں کچھ بھی کہا جا سکتا ہے اور وہ کچھ بھی کہلانے کے مستحق ہیں، یقیناً دشمن کا یہی ارادہ تھا۔‘

    اپنی تقریر میں انھوں نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ’آپ شمال کے لوگوں کو واپس ان کے گھروں میں نہیں لا سکیں گے۔ ‘

    انھوں نے مزید کہا کہ حملوں کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

  3. حسن نصراللہ کی تقریر کے دوران اسرائیل کا جنوبی لبنان پر حملہ: ’کوئی شک نہیں کہ ہمارے سکیورٹی نظام میں نقب لگائی گئی ہے‘

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    لبنانی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے لبنان میں واکی ٹاکی اور پیجر حملوں کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت ختم ہونے تک لبنان پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    حزب اللہ کے سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے سکیورٹی نظام میں نقب لگائی گئی ہے۔ اسرائیل نے الیکٹرانک ڈیوائس دھماکے کرکے تمام حدیں پار کردی ہیں۔‘

    دوسری جانب اسرائیل نے ابھی تک ان حملوں پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم حسن نصراللہ کی تقریر کے دوران اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر حملہ کیا گیا ہے۔

    حسن نصر اللہ نے خطاب کے دوران حزب اللہ کی جوابی حکمت عملی سے متعلق بھی بتایا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ان تمام لوگوں کے نام جو ہلاک ہوئے، جو زخمی ہوئے، ان تمام لوگوں کے نام جو غزہ کے نام پر لڑے، ہم نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ سمیت تمام دشمنوں کو پیغام دیتے ہیں کہ لبنان اپنے محاذ سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک غزہ میں جارحیت رک نہ جائے۔‘

    ملک کی وزارت صحت کے مطابق لبنان میں دو روز میں ہونے والے پیجرز اور واکی ٹاکی دھماکوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 37 تک جا پہنچی ہے۔

    ان دھماکوں میں مجموعی طور پر چھ سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    نصراللہ نے جمعرات کے روز اپنے خطاب میں متنبہ کیا کہ لبنان غزہ اور مغربی کنارے کے لوگوں کی حمایت سے باز نہیں رہے گا۔

    حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے الزام عائد کیا کہ گذشتہ دو دنوں میں اسرائیل نے میں ہزاروں افراد کو ہلاک کرنے کی کوشش کی اور یہ دھماکے لبنان اور دنیا دونوں کی تاریخ میں بے مثال تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’شکر ہے اس میں سے بہت سی الیکٹرانک ڈیوائسز فعال نہیں تھیں اور بہت سی ڈوائسز کسی کو دی نہیں گئی تھیں جس کے باعث نقصان کم ہوا۔‘

  4. وہ لمحہ جب لبنان بھر میں ’واکی ٹاکی‘ پھٹنے لگے

    ،ویڈیو کیپشنلبنان میں پیجرز کے بعد واکی ٹاکی پھٹنے سے مُلک بھر میں چند لوگ ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے
  5. لبنانی فوج کا مشتبہ ڈیوائسز ناکارہ بنانے کا آپریشن جاری، دو روز میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی

    لبنان میں پیجرز دھماکے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان میں مزید الیکٹرانک آلات کے پھٹنے کے خطرات کے پیش نظر ایک خوف کا سماں ہے جس میں کمی لانے کے لیے حکام کی جانب سے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لبنانی فوج کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ’فوجی یونٹس مختلف علاقوں میں مشکوک پیجرز اور مواصلاتی آلات کو تباہ کر رہے ہیں۔ اس طرح کے کنٹرولڈ دھماکے گذشتہ رات بھی کیے گئے ہیں۔‘

    دوسری جانب فوج شہریوں پر زور دے رہی ہے کہ وہ دھماکے والے مقامات سے دور رہیں اور کہیں بھی کسی مشکوک چیز کو دیکھیں تو اس کی فوری اطلاع دیں۔

    دوسری جانب لبنان میں دو روز میں ہونے والے پیجرز اور واکی ٹاکی دھماکوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 37 تک جا پہنچی ہے۔

    ملک کی وزارت صحت کے مطابق بدھ کے روز واکی ٹاکی دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے جبکہ اس سے قبل منگل کے روز پیجر ڈیوائس سے دھماکوں کے نتیجے میں 12 لوگ ہلاک ہو گئے تھے

    ان دھماکوں میں مجموعی طور پر چھ سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ لبنان میں موجود ایرانی ایمبیسی کے مطابق ان دھماکوں میں زخمی ہونے والے 90 سے زائد افراد کو علاج کے لیے تہران منتقل کیا گیا ہے۔

  6. عدالتی نظام میں بہتری لانی ہے تو آئینی عدالتوں کا قیام ضروری ہے: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ عدالتی نظام میں بہتری لانی ہے تو آئینی عدالتوں کا قیام ضروری ہے۔

    اسلام آباد میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وکلا نے ہر آمریت کے دور میں اس کے خلاف صف اول کا کردار ادا کیا، وکلا پیپلزپارٹی کا اثاثہ ہیں۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ وکلا نے ملک کو آئین دیا، وکلا کی جدوجہد سے ہم نے مشرف کی آمریت کو شکست دی۔

    انھوں نے اپنی والدہ بےنظیر بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’محترمہ کہتی تھیں کہ جن ججز نے سیاست کرنی ہے وہ اپنی پارٹی بنالیں۔ بینظیر بھٹو نے اس وقت کہا تھا مک میں آئینی عدالتیں ہونی چاہییں۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ عدالت سے سیاست کی امید رکھیں گے تو جمہوریت اور عوام کو نقصان ہوگا۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اپنے نانا ذوالفقار بھٹو کیس کے لیے مجھے اتنا انتظار کرنا پڑا تو عام آدمی کو کتنا انتظار کرنا پڑتا ہوگا۔ چوری، قتل کےمقدمے میں کیا لوگوں کو 50،50 سال کا انتظار کرنا پڑے گا۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ سپریم کورٹ میں 50 فیصد کیس آئینی ہوتے ہیں، سپریم کورٹ میں 50 فیصد کیسز کو 90 فیصد وقت ملتا ہے، حکومت اور اتحادیوں سے مشورہ کر کے ایسی عدالت بنائیں جہاں ڈیم نہ بنائے جائیں یا ٹماٹر کی قیمتیں نہ طے ہوں۔

  7. 21 تاریخ کا جلسہ ہمارے لیے ’ڈو اینڈ ڈائی‘ ہے، اگر روکا گیا تو جیلیں بھر دیں گے: عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے سنیچر کے روز لاہور کے جلسے کو تحریک انصاف کے لیے ’ ڈو اینڈ ڈائی‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ آئین ہمیں جلسے کا حق دیتا ہے۔ اگر جلسے سے روکا گیا تو جیلیں بھر دیں گے۔

    عمران خان نے اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ مقدمے کی سماعت کے موقع پر میڈیا سے غیررسمی بات چیت کے دوران لاہور جلسے کے حوالے سے مزید کہا ہے کہ ’جو مرضی کر لیں پی ٹی آئی اور قوم نکلے گی۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’28 سال تک پارٹی کو کہتا رہا کہ آئین کے درمیان رہنا ہے۔ سپریم کورٹ کو تباہ کرنا جمہوریت کو تباہ کرنا ہے اور یہ آزادی کو تباہ کر رہا ہے۔‘

    صحافیوں نے سوال کیا کہ ’کیا آپ آئینی عدالتوں کے قیام کے حامی ہیں یا نہیں؟ جس پر عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’اس وقت ترامیم کا تناظر عدلیہ کو ختم کرنا ہے۔ ان آئینی ترامیم کا ایک ہی مقصد ہے وہ ہے قاضی فائز عیسی کو توسیع دینا اور انھیں اس عدالت سے اٹھا کر آئینی عدالت میں بٹھا دینا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ راولپنڈی کے کمشنر نے بالکل درست کہا تھا کہ قاضی فائز عیسی اور چیف الیکشن کمشنر ملے ہوئے تھے اور قاضی فائز عیسی نے دھاندلی کو مکمل تحفظ دیا تھا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’آئینی ترامیم کے ذریعے قاضی فائز عیسی اسلام اباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر کو توسیع دی جا رہی ہے۔ ریفارمز وہ حکومت کر سکتی ہے جو عوام کا مینڈیٹ لے کرآئی ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ قوم سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے مستقبل کے لیے نکلیں ۔ سپریم کورٹ آخری ادارہ ہے جس سے لوگوں کو توقعات ہیں۔‘

    15 ماہ سے جیل میں ہوں، مزید رہنے کو بھی تیار ہوں: عمران خان

    عمران خان نے کہا کہ ’ 15 ماہ سے جیل میں ہوں۔ مزید بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں۔ عوام بھی جیل جانے سے نہ گھبرائیں۔‘

    اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ سیرت کانفرنس میں سفارت کار قومی ترانے کے دوران احتراماً کھڑے ہونے کے بجائے بیٹھے رہے جس پر فارن منسٹری نے افغان سفیر کو بلا کر احتجاج کیا۔ کیا آپ اس عمل کی مذمت کریں گے جس پر عمران خان نے کہا کہ ’ ملک میں اس سے بڑے ایشوز چل رہے ہیں، ملک کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔‘

    دوسری جانب عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف 190ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت میں جمعرات کے روز بانی پی ٹی آئی کے وکیل ظہیر عباس نے آخری گواہ پر جرح مکمل کر لی ہے۔

    ریفرنس کے تفتیشی افیسر میاں عمر ندیم پر 21 ویں سماعت میں جرح مکمل کی گئی ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے وکیل عثمان ریاض کل آخری گواہ پر اپنی جرح دوبارہ شروع کریں گے۔

    سماعت کے دوران عمران خان اور بشری بی بی کو اڈیالہ جیل میں قائم عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزمان کی جانب سے چوہدری ظہیر عباس اور عثمان ریاض گل ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے۔

    امجد پرویز اور سردار مظفر عباسی لیگل ٹیم کے ہمراہ نیب کی جانب سے عدالت پیش ہوئے۔

    ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں کی وکلا صفائی کی جانب سے کیس کی آئندہ سماعت 26 ستمبر کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔

    کیس کی مزید سماعت جمعے کے روز(کل) ہو گی۔

  8. الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد مخصوص نشستیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں: سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق

    پارلیمنٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے چیف الیکشن کمشنر کو الیکشنز ایکٹ میں کی جانے والی ترمیم سے متعلق واضح کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد مخصوص نشستیں تبدیل نہیں کی جاسکتیں۔

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کو مراسلہ لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن ایکٹ میں تبدیلی ہوچکی ہے۔ جس کا اطلاق ماضی سے ہوتا ہے۔

    سپیکر قومی اسمبلی کے مطابق الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدر آمد نہیں ہوسکتا۔

    یاد رہے کہ 14 ستمبر کو سپریم کورٹ کے آٹھ ججز نے مخصوص نشستوں کے کیس میں الیکشن کمیشن اور پاکستان تحریک انصاف کی درخواستوں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’12 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے والے امیدوار آزاد نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے ہیں۔‘

    سپریم کورٹ کے وضاحتی بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ سپریم کورٹ کا شارٹ آرڈر بہت واضح ہے اور الیکشن کمیشن نے اس حکم کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنایا ہے۔

    ’آرڈر میں واضح کر دیا تھا کہ سرٹفکیٹ جمع کرانے اور پارٹی تصدیق پر ارکان پی ٹی آئی کے تصور ہوں گے۔ بعد میں آنا والا کوئی ایکٹ ان کی حیثیت ختم نہیں کر سکتا۔‘

    پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی اہل: کیا عمران خان کی جماعت سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن سکتی ہے؟

    تاہم 19 ستمبر کو سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے اور ایکشن ایکٹ میں ترمیم کی یاد دہانی اور وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’آپ کی توجہ کے لیے الیکشن ایکٹ اس وقت نافذ العمل ہے۔ الیکشن کمیشن پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون پر عملدرآمد کرے۔‘

    سپیکر نے مزید لکھا ہے کہ ’جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے اصولوں پر عمل کریں۔‘

    ارکان کا معاملہ ’پاسٹ اینڈ کلوز‘ ٹرانزیکشن تصور ہو گا: آٹھ ججز کے وضاحتی بیان میں مزید کیا تھا

    سپریم کورٹ کے جن آٹ ججز نے وضاحتی بیان جاری کیا تھا ان میں عدالت عظمیٰ کے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں۔

    اپنے مفصل بیان میں ججز نے وضاحت کی تھی کہ واضح معاملہ پیچیدہ بنانے اور ابہام پیدا کرنے کی کوشش مسترد کی جاتی ہے۔

    وضاحتی بیان میں مزید کہا گیا کہ پی ٹی آئی رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے، الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف ارکان کے سرٹیفکیٹ تسلیم نہ کرنا غلط ہے، الیکشن کمشین کو اس اقدام کے آئینی، قانونی نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

    ’سرٹیفکیٹ جمع کرانے والے تمام ارکان تحریک انصاف کے تصور ہوں گے اور فیصلے کا اطلاق قومی اور صوبائی اسمبلیوں پر بھی ہوگا۔‘

    سپریم کورٹ کے وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے خود بیرسٹر گوہر کو پارٹی چیئرمین تسلیم کیا ہے۔ الیکشن کمیشن وضاحت کے نام پر اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کر سکتا۔ فیصلے کی روشنی میں پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے والے پی ٹی آئی کے کامیاب امیدوار ہیں۔

    سپریم کورٹ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’آرڈر میں واضح کر دیا تھا کہ سرٹفکیٹ جمع کرانے اور پارٹی تصدیق پر ارکان پی ٹی آئی کے تصور ہوں گے۔ بعد میں آنا والا کوئی ایکٹ ان کی حیثیت ختم نہیں کر سکتا۔‘

    ’ان ارکان کا معاملہ ’پاسٹ اینڈ کلوز‘ ٹرانزیکشن تصور ہو گا۔ یہ تمام ارکان آئینی و قانونی تقاضوں کے لیے پی ٹی آئی ارکان ہی تصور ہوں گے۔

    یاد رہے کہ رواں سال 12 جولائی کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سربراہی میں 13 رکنی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی اپیل اکثریت رائے سے منظور کر لی تھی۔

    سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو آٹھ ججز نے منظور کیا جبکہ پانچ ججز نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب امیدواروں کو کسی اور جماعت کا رکن قرار نہیں دیا جا سکتا اور پی ٹی آئی ہی مخصوص نشستوں کے حصول کی حقدار ہے۔

    اس فیصلے کے بعد تحریک انصاف سیاسی جماعت بن کر حزب اختلاف کی جماعت بن گئی تھی۔

  9. توہین مذہب کے مقدمے میں نامزد ملزم ڈاکٹر شاہنواز کنبھار فائرنگ میں ہلاک, ریاض سہیل، بی بی سی اردوڈاٹ کام، کراچی

    ڈاکٹر شاہنواز کنبھار

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں توہین مذہب کے مقدمے میں نامزد ملزم ڈاکٹر شاہنواز کنبھار فائرنگ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    میرپورخاص پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم ملزم اپنے ساتھی کی فائرنگ میں ہلاک ہو گئے۔

    ایس ایس پی میرپورخاص کیپٹن اسد چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ توہین مذہب کے مقدمے میں نامزد ملزم ڈاکٹر شاہنواز کنبھارکے ساتھ سندہڑی کے مقام پر مقابلہ ہوا اور فائرنگ کے تبادلے کے دوران ملزم کی ہلاکت ہو گئی۔

    یاد رہے کہ 17 ستمبر کو ڈاکٹر شاہنواز کنبھار پر عمرکوٹ تھانے پر 295 سی یعنی توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقامی ذکریا مسجد کے خطیب صابر سومرو کی مدعیت میں درج مقدمے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر شاہنواز نے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی ہے۔

    پولیس کا دعویٰ ہے کہ ’اس وقت وہاں پولیس موبائل گشت کر رہی تھی اس دوران پولیس کو دیکھتے ہی دوسری جانب سے فائرنگ شروع کردی گئی۔ دوسرے ساتھی کی گولی سے ملزم کی ہلاکت ہوئی۔‘

    سندھڑی تھانے کے ایس ایچ او نیاز محمد کھوسہ نے بی بی سی سے بات کرتے دعویٰ کیا وہ چیکنگ پر تھے تو دو لوگ موٹر سائیکل پر آرہے تھے۔ جب انھیں روکنے کا کہا گیا تو ملزم اور اس کے ساتھی کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔ پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔‘

    ایس ایچ او کا دعویٰ ہے کہ ’ملزم کے ساتھی فائرنگ میں ایک شخص زخمی ہوکر گر گیا جبکہ دوسرا بھاگ گیا۔ اس کو زخمی حالت میں ہسپتال لے گئے جہاں وہ فوت ہوگیا۔ ان کے پاس موجود شناختی کارڈ سے زخمی کی شناخت شاہنواز کنبہار کے نام سے ہوئی۔‘

    ایس ایچ او نے سوشل میڈیا پر اٹھنے والے ان الزامات کو مسترد کیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کو حراست میں لینے کے بعد ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔

    پولیس کے دعوے کے مطابق اس علاقے میں ڈکیتی کی واراداتیں ہوتی ہیں اسی لیے وہ وہاں چیکنگ کے لیے موجود تھے۔

    دوسری جانب مقتول شاہنواز پر سندھڑی تھانے پر دو مقدمات دائر کیے گئے ہیں جس میں ایک پولیس سے مقابلے اور ڈیوٹی میں مداخلت کا الزام ہے۔ دوسرے مقدمے میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    سرکاری کی جانب ایس ایچ او نیاز محمد کھوسہ نے دائر مقدمے میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ رات کو ساڑھے گیارہ بجے پولیس موبائل پر گشت کر رہے تھے تو کھپرو عمرکوٹ روڈ پر سبزل سٹاپ کے قریب سندھڑی کی طرف سے موٹر سائیکل پر دو افراد آتے ہوئے نظر آئے۔

    انھیں روکنے کی کوشش کے دوران موٹرسائیکل پر پیچھے بیٹھے ہوئے شخص نے فائرنگ کی۔ پولیس نے سڑک کے کنارے کی اوٹ لیکر خود کو بچایا۔

    مدعی کے مطابق ملزمان نے ان پر دوبارہ فائرنگ کی اس دوران ایک شخص نے اپنے ساتھی کو کہا کہ تمہارے فائر مجھے لگ گئے ہیں۔ اسی اثنا دونوں گرے ہوئے افراد میں سے ایک جنگل کی طرف فرار ہوگیا۔ وہ جب زمین پر پڑے ہوئے شخص کے کے قریب پہنچے تو اس کے ہاتھ میں سفید رنگ کا پسٹل موجود تھا اور اس کے سینے اور پیٹ پر دو گولیاں لگی تھیں اور وہ بیہوش تھا۔

    مقدمے کے مطابق زخمی کو سول ہسپتال روانہ کیا جو وہاں فوت ہوگیا۔

    ’مذکورہ فیس بک آئی ڈی بہت پرانی ہے جسے استعمال نہیں کرتا: شاہنواز کنبھار کا توہین مذہب کے الزام میں اپنایا گیا موقف

    جس روزشاہنواز کنبھارکے خلافمقدمہ درج کیا گیا اس روز بارہ ربیع الاول تھا جب پیغمبر اسلام کا یوم پیدائش منایا جاتا ہے۔

    اس روز کی مناسبت سے ملک بھر کی طرح عمرکوٹ میں بھی جلوس نکالے گئے جس نے پرتشدد شکل اختیار کرلی۔

    اس دوران ایک پولیس موبائل کو نذر آتش بھی کیا گیا۔ دوسرے روز یعنی بدھ کو عمرکوٹ شہر اور آس پاس کاروبار بھی بند رہا تھا۔

    ڈاکٹر شاہنواز کنبھار عمرکوٹ سول ہسپتال میں سرکاری ڈاکٹر تھے۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ایم ایس نے انھیں ملازمت سے معطل کردیا تھا۔

    سوشل میڈیا پر ڈاکٹر شاھنواز کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے کہا کہ تھا کہ مذکورہ فیس بک آئی ڈی، جو شاہنواز شاہ کے نام سے ہے، وہ ان کی بہت پرانی آئی ڈی ہے اور وہ اب اسے استعمال نہیں کرتے تھے۔

    ملزم شاہنواز کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے تو فیس بک اکاؤنٹ استعمال کرنا ہی چھوڑ دیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس ایف آئی اے یا رینجرز کو تحقیقات کرنے دے تو ہر چیز واضح ہو جائے گی ۔

  10. پی ٹی آئی ایم این ایز کو جبری حراست میں رکھنے کا الزام: تین اراکین گھر میں، ایک بیرون ملک ہیں، آئی جی اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ

    پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھے گئے اراکین قومی اسمبلی کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کے موقع پر آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے تین اراکین اسمبلی اپنے اپنے گھروں میں موجود ہیں جبکہ ایک رکن بیرون ملک گئے ہوئے ہیں۔

    پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ ان کی جماعت کے کچھ ایم این ایز کو پنجاب ہاؤس میں جبری حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان اراکینِ قومی اسمبلی کی بازیابی کے لیے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

    جمعرات کے روز سماعت کے موقع پر آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں پیش ہوئے۔

    آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے اس معاملے میں متعلقہ ڈی پی اوز سے رابطہ کر کے معلومات لی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈی پی اوز کے مطابق تین اراکینِ اسمبلی اپنے اپنے گھر میں موجود ہیں۔ آئی جی اسلام آباد کے مطابق وہاڑی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی اورنگزیب کھچی، ساہیوال سے پی ٹی آئی ایم این اے عثمان علی اور خانیوال سے رکن اسمبلی ظہور قریشی اپنے اپنے گھروں میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ رکن قومی اسمبلی ریاض خان بیرون ملک گئے ہوئے ہیں۔

    آئی جی ناصر رضوی کا مزید کہنا تھا کہ متعلقہ ڈی پی او کو خطوط لکھے گئے ہیں جن کے آفیشل جواب کا انتظار ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کردی ہے۔

  11. میڈیکل کالجوں میں داخلے کا امتحان: پنجاب حکومت کا لاہور سمیت 12 شہروں میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان

    ایم ڈی کیٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے داخلہ امتحان (ایم ڈی کیٹ) کے موقع پر 12 شہروں میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    اتوار 22 ستمبر کے روز پنجاب کے 12 شہروں: لاہور، گوجرانولہ، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، ڈی جی خان، ساہیوال، راولپنڈی، سرگودھا، گجرات اور رحیم یار خان میں لاہور یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے زیرِ انتظام صوبے بھر کے سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے امتحان لیے جائیں گے۔

    محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق اس روز امیدواروں اور امتحانی عملے کے علاوہ کسی بھی شخص کا امتحانی مراکز میں داخلہ ممنوع ہوگا۔

    تمام شہروں میں امتحانی مراکز سے 100 گز کے فاصلے تک غیر متعلقہ افراد کی نقل و حرکت پر پابندی ہوگی۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق امتحانی مراکز اور اس کے اطراف میں ہر قسم کا ہتھیار، موبائل فون، ڈیجیٹل ڈائری، کتابیں اور گائیڈز لے جانے پر پابندی ہو گی جبکہ امتحانی مراکز اور اس کے ارد گِرد کسی قسم کے احتجاج یا مظاہرے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

  12. توشہ خانہ کیس: سپیشل کورٹ کے لیے پانچ دن میں ضمانت پر فیصلہ کرنا لازمی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ

    سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے ٹرائل کورٹ کو نئے توشہ خانہ کیس میں درخواستِ ضمانت پر جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت کے لیے دائر درخواست پر جاری تحریری فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی کے مطابق سپیشل کورٹ کے لیے پانچ دن میں ضمانت پر فیصلہ کرنا لازمی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے تین صفحات پر مشتمل محفوظ فیصلہ جاری کیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سنٹرل پالیسی مینڈیٹ کے مطابق سپیشل جج ضمانت پر فیصلہ کر سکتے ہیں۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی کے مطابق مجسٹریٹ کے لیے تین دن میں ضمانت کا فیصلہ کرنا لازمی ہے جبکہ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے لیے یہ دورانیہ بالترتیب پانچ اور سات دن ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپیشل کورٹ پر سیشن کورٹ کے لیے دیا گیا وقت لاگو ہوگا۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق ان کی درخواستِ ضمانت بغیر کسی وجہ کے التوا کا شکار ہے۔

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے پاس کیس ٹرانسفر ہونے کے بعد سے ضمانت کی درخواستیں اسپیشل جج سنٹرل کے پاس زیر التوا ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کا موقف ہے کہ قانون کے مطابق ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ عدالت کرے گی۔

  13. ججوں کی عمر میں چھیڑچھاڑ سے لگے گا ہم کسی خاص فرد کو عہدے سے باہر رکھنا چاہتے ہیں، بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومت کی جانب سے چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججوں کی مدت ملازمت میں توسیع کی کوششیں کھٹائی میں پڑتی نظر آ رہی ہیں جس کی وجہ تحریک انصاف اور فضل الرحمان کی مخالفت کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومتی اتحادی بلاول بھٹو کا وہ بیان ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ججوں کی عمر کے معاملے میں چھیڑچھاڑ سے لگے گا کہ ہم کسی خاص فرد کو عہدے سے باہر یا اندر رکھنا چاہتے ہیں جو نا مناسب ہوگا۔

    بدھ کے روزپیپلزلائرز فورم کے صوبائی صدور کے اجلاس سے بات کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے مجوزہ آئینی ترمیم میں ججوں کی عمر کے معاملے پر کوئی بات نہیں کی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت ججوں کی عمر سے متعلق تبدیلیاں چاہتی تھی۔

    مجوزہ آئینی ترمیم سے متعلق تبادلہ خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ججوں کی ملازمت کی ابتدا کی عمر کی حد کم کرنے کی حمایت کی جس پر حکومت نے اتفاق کیا اور اسے مسودے میں شامل کیا گیا۔

    بلاول کا کہنا تھا کہ حکومت نے چیف جسٹس کی زیادہ سے زیادہ عمر 67 سال کرنے کی تجویز دی تھی جبکہ جمعیت علمائے اسلام ججوں کی موجودہ عمر کی حد 65 سال برقرار رکھنے کے حق میں تھی۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا، ’میں سمجھتا ہوں کہ جسٹس منصور علی شاہ اگلے چیف جسٹس ہوں گے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ آئینی ترامیم کا زیرگردش مبینہ مسودہ اصل نہیں ہے۔

    خیال رہے کہ پیر کی شب حکومتی جماعتوں کی جانب سے بظاہر 26ویں آئینی ترمیم کے لیے پارلیمانی اکثریت کے حصول میں ناکامی کے بعد آئینی ترامیم کی منظوری کا معاملہ موخر کر دیا گیا تھا اور اس معاملے پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے لیے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو چنا گیا تھا۔

    مجوزہ آئینی ترمیم کے تحت آئینی عدالتوں کے قیام کے بارے میں بات کرتے ہوئے سابق وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت اور پی پی پی کے منشور کی رُو سے ان کی جماعت مجوزہ ترمیم میں آئینی عدالتوں کے قیام کے حق میں ہے۔

    فوجی عدالتوں کے قیام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک اصولی موقف ہے اور وہ فوجی عدالتوں کی حمایت نہیں کرتی۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی سمجھتی ہے کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے قانون سازی ضروری ہے تو ہمارا مطالبہ ہے کہ اس پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ قومی سلامتی کا اجلاس بلایا جائے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63A کے فیصلے نے ارکان پارلیمنٹ کو اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا ہے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت سمجھتی ہے کہ اراکین پارلیمان کو پہلے کی طرح نہ صرف اپنی مرضی سے ووٹ دینے کا حق ہونا چاہیے بلکہ ان کا ووٹ شمار بھی ہونا چاہئیے۔

  14. بریکنگ, لبنان میں پیجرز کے بعد واکی ٹاکی پھٹنے کے تازہ حملوں میں 14 ہلاک، 450 سے زائد افراد زخمی

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے اے ایف پی اور خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ واکی ٹاکی دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد نو سے بڑھ کر اب 14 ہو گئی ہے جبکہ ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 450 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والے زیادہ تر افراد کو پیٹ اور ہاتھوں پر زخم آئے ہیں۔

    لبنان میں کام کرنے والے امدادی ادارے ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیمیں ملک کے جنوب اور مشرق سمیت مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات کے بعد امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

  15. بریکنگ, اسرائیل جنگ کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کرنے جا رہا ہے: اسرائیلی وزیر دفاع

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیر دفاع یواو گالنٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل ’جنگ کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کرنے جا رہا ہے‘ اور ’وسائل اور افواج کی منتقلی کے ذریعے اب جنگ کا رخ شمال کی جانب موڑا جا رہا ہے۔‘

    اسرائیل کے وزیر دفاع نے ان خیالات کا اظہار ’شمالی اسرائیل میں فوج کے رمات ڈیوڈ ایئربیس کے دورے کے دوران کیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں اس جنگ کے لیے بڑی ہمت، عزم اور استقامت کی ضرورت ہے۔‘

    اسرائیلی وزیرِ دفاع کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی جنگ کا رخ لبنان کی جانب موڑ رہا ہے۔

    حزب اللہ کے راکٹ اور ڈرون حملوں کی وجہ سے ملک کے شمال میں تقریبا 60،000 اسرائیلی بے گھر ہو چکے ہیں۔

    رواں ہفتے کے اوائل میں اسرائیلی حکومت نے ان کی واپسی کو جنگ کا ایک اہم ہدف قرار دیا تھا اور گیلنٹ نے کہا تھا کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو فوجی کارروائی ہی واحد حل ہوگا۔ اُن کے اس بیان سے حزب اللہ کے ساتھ تنازعات میں مزید اضافے کے امکانات نے جنم لیا ہے۔

  16. حزب اللہ کا مواصلات کا نظام بُری طرح مفلوج ہو چکا ہے, پال ایڈمز، سفارتی نامہ نگار

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حزب اللہ کے ارکان پر ان بڑے حملوں اور ان کے لیے اس وقت کے انتخاب کے بارے میں گذشتہ شب سے ہی بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

    جن میں سے ایک یہ کہ اسرائیل نے ایرانی حمایت یافتہ لبنانی گروہ حزب اللہ پر حملوں کے لیے اس وقت کا انتخاب ایک سخت پیغام دینے کے لیے کیا ہے۔ تاہم اس کے بعد اسرائیل کی شمالی سرحد پر جھڑپوں میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

    دوسری بات یہ ہے کہ ان دھماکوں کی منصوبہ بندی ابتدائی طور پر حزب اللہ کے خلاف بھرپور حملے کا پہلا مرحلہ تھی مگر حالیہ دنوں میں اسرائیل کو تشویش ہونے لگی کہ شاید حزب اللہ ان کے منصوبے سے آگاہی رکھتی ہے اسی لیے جلدی میں یہ دھماکے کیے گئے۔

    بدھ کے روز ہونے والے تازہ حملوں کے بعد دونوں وضاحتیں اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کا مواصلاتی نظام مفلوج کرنے کی ایک منظم کوشش ہے (اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس میں اسرائیل کا ہاتھ تھا)۔

    پیجرز اور واکی ٹاکیز جیسے آلات کو اب خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔ حزب اللہ کی اپنے اراکین سے رابطے کی صلاحیت کو تباہ کن حد تک نقصان پہنچا ہے۔

    اسرائیل کو توقع ہو گی کہ مواصلاتی نظام کی کمزوری عیاں ہونے پر شاید حزب اللہ ردِعمل پر مجبور ہو جائے یا شاید رابطے نہ ہونے کے سبب کم از کم کچھ عرصے کے لیے سرحد پار حملے کرنے سے باز رہے۔

    یا شاید اسرائیل لبنان کے اندر کسی بڑی فوجی کارروائی کے لیے پوری جان لگا رہا ہے اور خوفناک حد تک اس آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔

    وجہ جو بھی ہو، یہ ساری صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔

  17. حکومتی مسودے کو مسترد کرتے ہیں، اگر ایسا نہ کرتے تو قوم سے خیانت ہوتی: مولانا فضل الرحمان

    مولانا فضل الرحمان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ انھوں نے حکومت کی طرف سے پیش کیے گئے آئینی ترمیم کے مسودے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    اسلام آباد میں سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد قیصر کی رہائش گاہ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’حکومت اب یہ کہہ رہی ہے کہ ان کا کوئی مسودہ ہے ہی نہیں لیکن جو مسودہ فراہم کیا گیا وہ کیا تھا؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’مسودہ کسی کو دیا گیا اور کسی کو نہیں یہ کیا کھیل تھا؟ لیکن جو کچھ بھی ہمیں دیا گیا ہمارے لیے وہ کسی لحاظ سے بھی قابل قبول نہیں تھا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ہم اس ترمیم اور مسودے پر حکومت کا ساتھ دیتے تو قوم کے ساتھ اس سے بڑی اور کوئی خیانت نہیں ہو سکتی تھی۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں سے بدھ کے روز ہونے والی ملاقات سے قبل حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی گئی تھی۔

  18. آئینی ترمیم تین ایمپائروں کو توسیع دینے کے لیے کرنی پڑ رہی ہے: عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    Imran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’آئینی ترمیم اس لیے ہورہی ہے کیونکہ انھوں نے چار امپائرز کو ساتھ ملاکر کھیلا اور پھر بھی ہار گئے۔‘

    بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’آئینی ترمیم تین ایمپائروں کو توسیع دینے کے لیے کرنی پڑ رہی ہے اور ان ایمپائرز میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور چیف الیکشن کمشنر شامل ہیں۔ توسیع اس لیے دینے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ فراڈ الیکشن کو تحفظ دے سکیں۔‘

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کا کہنا تھا کہ ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا آئینی ترمیم والا معاملہ تو اب ریورس ہوگیا ہے جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نمبرز پورے کررہی ہے انھوں نے ترمیم لانی ہی لانی ہے۔

    پھر ایک صحافی نے سابق وزیر اعظم عمران خان سے سوال کیا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں؟ جس پر سابق وزیر اعظم نے جواب دیتے ہوئے کہا کچھ کہہ نہیں سکتا۔‘

    بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’جمہوریت کے لئے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ مولانا اگر جمہوریت کیلئے ساتھ کھڑا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ انھیں ڈر لگا ہوا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ راستے سے ہٹ گئے تو نو مئی اور فراڈ الیکشن کی تحقیقات کھل جائیں گی۔ نو مئی کو ہماری پارٹی ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ آئین کے خلاف الیکشن کو تاخیر کا شکار کیا گیا تاکہ پی ٹی ائی کو کرش کیا جا سکے۔‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مجھ پر 140 کیس نو مئی سے پہلے ہو چکے تھے۔ مجھ پر دو قاتلانہ حملے بھی ہو چکے تھے۔ پارٹی ختم نہیں ہو رہی تھی اسی لیے نو مئی کیا گیا۔ قاضی فائز عیسیٰ ایک سال سے نو مئی کی جوڈیشل انکوائری نہیں ہونے دے رہے۔ انھیں ڈر ہے کہ نیا چیف جسٹس آیا تو نو مئی کی تحقیقات کرائے گا۔ نو مئی جس نے کروایا وہی اس کا اصل ذمہ دار ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے گرفتار کر کے گھسیٹ کر لے جانے کا مقصد لوگوں کو اشتعال دلانا تھا۔ ہر جگہ کی سی سی ٹی وی فٹیج غائب کر دی گئی۔ اسلام اباد ہائی کورٹ سے اغوا کی فٹیج بھی چوری ہو گئی۔ نئے چیف جسٹس کے سامنے جب نو مئی کی پٹیشن لگے گی تو سب سامنے آ جائے گا۔‘

    بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’8 فروری کو (مُلک میں ہونے والے عام انتخابات کے دن) جو انقلاب آیا وہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ آٹھ فروری کو پی ٹی آئی بغیر لڑے جیت گئی۔ نواز شریف نے تو فتح کی تقریر تیار کر رکھی تھی۔ یاسمین راشد جیل میں ہوتے ہوئے بھی جیت چکی تھیں۔ نواز شریف کو 74 ہزار ووٹ ڈلوائے گئے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اپنی طاقت بچانے کے لیے قانون کی بالادستی کو ختم کیا جا رہا ہے۔ قانون کی بالادستی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی یہ آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ سیاسی استحکام کے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کا موازنہ میانمار سے ہو رہا ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’چین کی ترقی میں بیرون ملک مقیم چینیوں نے سرمایہ کاری کی تھی۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی اثاثہ ہیں قرضوں کی دلدل سے نکالنے کے لیے ان کی سرمایہ کاری اہم ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی قانون کی بالادستی نہ ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں کر رہے۔‘

    سابق وزیر اعظم نواز شریف، موجودہ صدر آصف زرداری اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان تینوں سمیت تمام بڑوں کے پیسے بیرون ملک پڑے ہیں۔ فراڈ حکومت کی وجہ سے بھی بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاری نہیں کر رہے۔‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے بعد بات کرتے ہوئے کہا کہ ’صرف سپریم کورٹ سے لوگوں کو امیدیں ہیں اس کو بھی تباہ کیا جا رہا ہے۔ ماتحت عدلیہ اور پولیس پر کسی کو اعتماد نہیں رہا۔ لاہور میں پی ٹی ائی کا جلسہ روکنے کے لیے پکڑ دھکڑ شروع کر دی گئی ہے۔ جو بھی ہو جائے لاہور کا جلسہ کریں گے۔ قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ لاہور کے جلسے میں کشتیاں جلا کر نکلیں۔‘

  19. 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کو حتمی فیصلہ سنانے سے روک دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاونڈ کی عدالتی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کردی ہے۔

    تاہم عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کرنے والی احتساب عدالت کو اس مقدمے کا حتمی فیصلہ سنانے سے بھی روک دیا ہے۔

    بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے یہ حکم سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے اس مقدمے سے بریت کی درخواستوں پر دیا۔

    واضح رہے کہ ملزمان کی جانب سے عدالت میں اس مقدمے کی سماعت روکنے اور انھیں اس مقدمے سے بری کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

    ملزمان کے وکلا نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ نیب آرڈیننس میں ترامیم کے بعد سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کے خلاف 190 ملین پاونڈ کا مقدمہ نہیں بنتا کیونکہ اس معاملے میں وفاقی کابینہ کی منظوری لی گئی تھی اور نئی ترامیم میں یہ بات واضح ہے کہ وفاقی کابینہ میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق نیب تحقیقات نہیں کرسکتا۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا کا کہنا تھا کہ انھیں اس مقدمے سے بری کیا جائے جس پر عدالت نے ان درخواستوں میں بنائے گئے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔

    واضح رہے کہ 190 ملین پاونڈ کے مقدمے میں 35 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں اور صرف تفتیشی افسر پر ملزمان کے وکلا نے جرح کرنی ہے۔

  20. کنول شوذب کا سفری پابندی کی فہرست سے نام نکالنے کی درخواست: عدالت کی ایف آئی اے کو فریق بنانے کی ہدایت

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما کنول شوذب کی جانب سے ان کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو مقدمے میں فریق بنانے کی ہدایت کردی۔

    بدھ کے روز ہونے والی سماعت میں کنول شوذب کی جانب سے فیصل ملک ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ مقدمے کی سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی۔

    وزارت داخلہ اور ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ نے عدالت میں جوابات جمع کروا دیے۔

    دورانِ سماعت ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما کا نام ان کی لسٹ میں شامل ہے۔ اس پر عدالت نے ایف آئی اے کو کیس میں فریق بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے وفاقی ایجنسی سے پیر کو جواب طلب کرلیا۔

    مقدمے کی اگلی سماعت اب پیر کے روز ہوگی۔