لبنان اسرائیل کشیدگی: بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈر ابراہیم عقیل کے جنازے میں سینکڑوں افراد شریک

حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ ندیم قاسم نے ابراہیم عقیل کے جنازے میں اپنی تقریر میں کہا کہ ’ان کا گروہ اس ہفتے اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی وجہ سے صدمے کی حالت میں تھا تاہم اب ایسا نہیں۔‘ دوسری جانب عراق عسکریت پسند گروہ نے حزب اللہ کی حمایت کے اعلان کر دیا ہے۔

خلاصہ

  • حزب اللہ کے فوجی کمانڈر ابراہیم عقیل کی آخری رسومات حزب اللہ کے مرکز بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے دہیح میں ادا کر دی گئی ہیں۔
  • لبنان میں ایران کے سفیر مجتبیٰ امانی کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ منگل کو بیروت میں ہونے والے دھماکوں کی پہلی لہر کے دوران زخمی ہونے کے بعد ’اب بہت بہتر‘ ہیں۔
  • لبنان کے وزیراعظم نے اسرائیلی حملوں کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا لبنان میں ہونے والے ’خوفناک قتل عام‘ پر واضح پوزیشن لے۔
  • ایران کے جنوبی خراسان صوبے کے شہر تباس میں کوئلے کی کان میں دھماکے سے کم از کم 51 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 24 افراد تاحال لاپتہ ہیں اور کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. گوادر میں احتجاج اور دھرنے کے باعث بلوچستان کا دوسرے شہروں سے زمینی رابطہ منقطع, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہBehram Baloch

    بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کے ڈپٹی کمشنر نے تاحکم ثانی پاکستان اور ایران کے درمیان بارڈر پوسٹ 250 گبد ریمدان سے ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں اور گاڑیوں کی نقل و حمل پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    یہ پابندی ایک ایسے وقت پر لگائی گئی ہے کہ جب سرحدی تجارت سے وابستہ پک آپ یونین اور آئل ڈپو مالکان کے احتجاج کی وجہ سے ساحلی شاہراہ پر احتجاج کی وجہ سے گوادر شہر اتوار کو تیسرے روز بھی کراچی اور بلوچستان کے دوسرے شہروں سے رابطہ منقطع رہا۔

    رابطہ منقطع ہونے سے ایران سے آنے والے زائرین سمیت لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    گوادر کے سینیئر صحافی بہرام بلوچ نے فون پر بتایا کہ ضلع گوادر میں ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ پک آپ یونین اور آئل ڈپو مالکان نے جمعہ کے روز پہلے گوادر کے قریب سربندن کے مقام پر دھرنا دیکر گوادر اور کراچی کے درمیان کوسٹل ہائی وے کو بند کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سربندن کے مقام پر ضلع حکام نے دھرنے کے شرکا سے مذاکرات ہوئے لیکن پیش رفت نہ ہونے سے نہ صرف دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا بلکہ اتوار کے روز نلینٹ زیرو پوائنٹ پر بھی دھرنا شروع کر دیا گیا۔

    حق دو تحریک سمیت گوادر کی سطح پر اکثر سیاسی جماعتوں کی اس احتجاج کو حمایت حاصل ہے۔

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہBehram Baloch

    حق دو تحریک کے رہنما واجہ حسین واڈیلہ اور دیگر رہنمائوں نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’گوادر کے لوگوں کے معاش اور روزگار کا بڑا انحصار ایران کے ساتھ سرحدی تجارت سے وابستہ ہے لیکن حکومت مختلف حیلوں بہانوں سے اس پر قدغن لگارہی ہے جن میں سرحدی تجارت سے وابستہ گاڑیوں کی نقل و حمل پر بین الاضلاعی پابندی شامل ہے۔‘

    بہرام بلوچ نے بتایا کہ ’شاہراہ کی بندش کی وجہ سے بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنس گئی ہیں جن میں مسافر بسیں بھی شامل ہیں۔ ان مسافروں میں ایران سے آنے والے زائرین بھی شامل ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی ہیں۔

    تاہم ڈپٹی کمشنر گوادر نے کوسٹل ہائی وے کی بندش اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان اور ایران کے درمیان بارڈر پوسٹ 250 گبد ریمدان سے ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں اور گاڑیوں کی نقل و حمل پر پابندی عائد کردی ہے۔

    جہاں سرحدی تجارت سے وابستہ افراد کے احتجاج کی وجہ سے گوادر کا رابطہ منقطع ہوا ہے وہاں پنجگور سے ایک شخص زاہد دشتی کی جبری گمشدگی کے خلاف پنجگور اور تربت کے درمیان سی پیک شاہراہ بھی تین روز سے بند ہے۔

  2. لبنان اسرائیل کشیدگی: بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈر ابراہیم عقیل کے جنازے میں سینکڑوں افراد شریک

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حزب اللہ کے فوجی کمانڈر ابراہیم عقیل کی آخری رسومات حزب اللہ کے مرکز بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے دہیح میں ادا کر دی گئی ہیں۔

    اس موقع پر جنازے میں شامل ہونے والے حزب اللہ کے جنگجوؤں نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا اور ان کی گردنوں میں پیلے رنگ کی حزب اللہ علامتی چادریں تھیں۔

    ابراہیم عقیل کے جنازے میں حزب اللہ کے سینکڑوں حامی ہلاک ہو جانے والے اپنے کمانڈر کی تصویر کے ساتھ ساتھ فلسطینی، لبنانی، ایرانی اور حزب اللہ کے جھنڈے اٹھائے موجود تھے۔

    کہاں جا رہا ہے کہ ابراہیم عقیل کے جنازے میں شامل لوگوں کی تعداد حزب اللہ کے ایک اور بڑے کمانڈر فواد شکر کی آخری رسومات میں شامل لوگوں سے کہیں زیادہ تھی۔ جو اسی سال جولائی میں دہیح میں ہی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ ندیم قاسم نے ابراہیم عقیل کے جنازے میں اپنی تقریر میں کہا کہ ’ان کا گروہ اس ہفتے اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی وجہ سے صدمے کی حالت میں تھا تاہم اب ایسا نہیں۔‘

    یاد رہے کہ اس ہفتے کے اوائل میں لبنان میں حزب اللہ کے ارکان کی جانب سے استعمال کیے جانے والے پیجرز اور واکی ٹاکیز میں دھماکے ہوئے تھے جس کے نتیجے میں 39 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔ جمعے کے روز ایک فضائی حملے میں عقیل اور حزب اللہ کے دیگر ارکان سمیت 32 عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

    اسرائیل نے صرف اس فضائی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، لیکن خیال یہی ہے کہ پیجرز اور واکی ٹاکیز کے پھٹنے کے واقعات میں بھی اسرائیل ہی ملوث ہے۔

    شیخ ندیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل غزہ کے ساتھ حزب اللہ کی مزاحمت اور رابطے کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ حزب اللہ حماس کا اتحادی ہے۔

  3. اسرائیلی حملے میں مارے گئے حزب اللہ کے ’سیکنڈ ان کمانڈ‘ ابراہیم عقیل جن کے سر کی قیمت ستر لاکھ ڈالر تھی

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جمعے کے روز لبنان کے جنوبی نواحی علاقے میں واقع ایک اپارٹمنٹ پر کیے گئے فضائی حملے میں حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر ابراہیم عقیل ہلاک ہوئے۔

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جمعہ کے روز لبنان کے دارالحکومت میں حزب اللہ کے گڑھ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں ایک مقام کو نشانہ بناتے ہوئے ایک فضائی حملہ کیا جس میں لبنانی وزارت صحت کے مطابق دس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

    اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے حزب اللہ کے اہم کمانڈر ابراہیم عقیل کون ہیں یہ جاننے کےلیے یہاں کلک کریں

  4. پیجر دھماکے میں زخمی ہونے والے ایرانی سفیر کا پہلا پیغام

    لبنان میں ایران کے سفیر مجتبیٰ امانی کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ منگل کو بیروت میں ہونے والے دھماکوں کی پہلی لہر کے دوران زخمی ہونے کے بعد ’اب بہت بہتر‘ ہیں۔

    ایکس پر اپنے ایک حالیہ پیغام میں انھوں نے لبنانی اور ایرانی ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کا علاج کیا۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایکس پر انھوں نے ذاتی طور پر یہ پیغام پوسٹ کیا تھا یا نہیں لیکن دھماکے میں زخمی ہو جانے کے بعد سامنے آنے والا یہ اُن کا پہلا پیغام ہے۔

    ایران کے سفیر مجتبیٰ امانی سے متعلق متعدد ایسی خبریں بھی سامنے آتی رہیں کہ جن میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا کہ جب ایرانی سفیر کے پاس یہ پیجر دھماکہ ہوا تو اُس کی وجہ سے اُن کی ایک آنکھ اس وقت ضائع ہو گئی ہو اور دوسری پر گہرا زخم آیا ہو۔

    تاہم بیروت میں ایران کے سفارت خانے نے ان خبروں کی تردید کی ہے، لیکن یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ان کے ہاتھ پر گہرا زخم آیا ہے جس کے بھرنے میں ابھی کُچھ وقت لگے گیا۔ ایرانی سفارتخانے نے یہ بھی کہا ہے کہ اُمید ہے کہ بہت جلد مجتبیٰ امانی کی بینائی مکمل طور پر بحال ہو جائے گی۔

    گزشتہ منگل کو سوشل میڈیا پر شئیر کی جانے والی دو مختصر ویڈیوز میں امانی کو ایک کار سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جہاں اُن کا چہرہ خون سے لت پت سفید کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا اور اُن کا ایک ہاتھ شدید زخمی تھا۔

  5. اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایک نظر ڈالتے ہیں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے اہم واقعات پر

    • اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گزشتہ شب یعنی سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب سے شروع ہونے والی کشیدگی میں شدت آتی جا رہی ہے۔
    • حزب اللہ کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اُنھوں نے گزشتہ شب سے اب تک اسرائیل پر 150 میزائل داغے ہیں، تاہم اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ ان میں سے متعدد میزائلوں کو اسرائیلی سر زمین پر گرنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا تھا۔
    • حزب اللہ کی جانب سے حیفہ ہر داغے جانے والے چند میزائلوں سے کُچھ رہائیشی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور کُچھ لوگ زخمی بھی ہوئے۔
    • 8 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس شورش میں اب تک حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر داغے جانے والے میزائل اور راکٹ نے جنوبی اسرائیل میں کُچھ ایسے علاقوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے جہاں تک اس سے پہلے اُن کی رسائی نہیں تھی۔
    • اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر ہونے والے فضائی حملوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حزب اللہ کے متعدد اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
    • عراقی عسکریت پسند گروہ نے بھی حزب اللہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
    • اُدھر اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے حالات انتہائی خطرناک ہو گئے ہیں، اور ایک نئی جنگ کے چھڑ جانے کا خدشہ ہے۔‘
  6. سوات کے علاقے مالم جبہ میں دھماکہ، ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی

    خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے مالم جبہ کے قریب ایک بم دھماکے میں ایک پولیس اہکار ہلاک اور دیگر تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو صوبہ خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقام مالم جبہ اور سوات کے دورے کے بعد اسلام آباد واپسی پر سفارتکاروں کی گاڑیوں کے قافلے میں شامل پولیس کی ایک گاڑی کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا۔ جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ تاہم سفارتی عملے کے تمام ارکان بحفاظت اسلام آباد واپس پہنچ گئے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ضلع سوات کے علاقے مالم جبہ میں پولیس موبائل پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حملے میں اپنی جان دینے والے پولیس اہلکار کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کی۔

    وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے خلاف پولیس فورس کی لازوال قربانیوں کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔ اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔‘

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خیبر پختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی۔

    سوات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ڈاکٹر زاہد نے بی بی سی اردو کو ٹیلی فون پر بتایا کہ دھماکے میں پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دھماکہ کس نوعیت کا تھا۔

    ڈی پی او کے مطابق پولیس اہلکار اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے وفد کی سکیورٹی پر مامور تھے۔

    ڈاکٹر زاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں جو خط بھیجا گیا تھا اس میں یہی کہا گیا تھا کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے وفد کو سکیورٹی فراہم کرنی ہے، ہو سکتا ہے ان کے ساتھ غیر ملکی شہری بھی موجود ہوں۔‘

    دھماکے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کی شناخت برہان خان کے نام سے ہوئی ہے۔

    ’ہم سوات میں سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے تھے‘

    اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر ظفر بختاوری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم سوات میں سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ دہشت گردی کی وجہ سے علاقے کی معیشت کو پہلے ہی بری طرح نقصان پہنچا ہے۔‘

    واضح رہے کہ صدر ظفر بختاوری مالم جبہ میں ہونے والی اُس تقریب میں موجود تھے کہ جہاں سے واپسی پر سفارتکاروں کے قافلے میں شامل پولیس کی گاڑی پر شدت پسندوں نے حملہ کیا۔

    ظفر نے مزید کہا کہ ’ازبکستان، قازقستان، ترکمانستان، ایران، انڈونیشیا، ویتنام، ایتھوپیا، روانڈا، زمبابوے، پرتگال اور بوسنیا سمیت 11 ممالک کے نمائندوں نے اس تقریب میں شرکت کی۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’سفارتکاروں کے علاوہ ان میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے کم از کم 30 افراد بھی شامل تھے۔‘

  7. بلوچستان کے ضلع خاران میں دھماکہ، سات افراد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے ضلع خاران میں ایک بم دھماکے میں 7 افراد زخمی ہوگئے جبکہ ژوب میں انسداد دہشت گردی فورس کے مزید دو زخمی اہلکاروں کی ہلاکت کے باعث ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد 3 ہوگئی۔

    ضلع خاران کے ہیڈکوارٹر خاران شہر میں اتوار کو دستی بم حملہ ایک مقامی کیفے کے قریب اُس وقت ہوا کہ جب سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔

    خاران پولیس کے ایس ایچ او مختیار شاہ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں 7 افراد زخمی ہوگئے جن کو علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکاروں پر حملہ خیبر پشتونخوا سے متصل بلوچستان کے ضلع ژوب میں گزشتہ شب کیا گیا تھا۔

    ژوب میں لیویز فورس کے ایک اہلکار اختر شاہ نے بتایا کہ فورس کے اہلکار ژوب شہر سے ضلع شیرانی کی جانب جارہے تھے کہ نامعلوم افراد نے ان پر سلیازہ کے قریب حملہ کیا۔

    حملے میں فورس کا ایک سب انسپیکٹر موقع پر ہلاک ہوا تھا جبکہ تین زخمی ہوئے۔ زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ژوب منتقل کیا گیا جہاں ان میں سے دو اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔

    تاحال دونوں حملوں کی ذمہ داری کسی بھی گروہ یا تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے قبل خاران میں بم دھماکوں اور اس نوعیت کے تشدد کی واقعات کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی سمیت دیگر بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔ جبکہ ژوب اور اس کے نواحی علاقوں میں حملوں کی ذمہ داریاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

  8. لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد حزب اللہ کا حیفہ پر راکٹ حملہ

    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تین مختلف قصبوں میں کیے جانے والے حملوں میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ اس کے دو جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ دونوں جنگجو لبنانی وزارت صحت کی ہلاکتوں کی تعداد میں شامل ہیں یا نہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے اتوار ہی کے روز اسرائیل پر جوابی کارروائی میں راکٹ داغے جو مُلک کے جنوب میں اہم شہر حیفہ تک پہنچے۔

    اتوار کی صبح لبنان کی جانب سے اسرائیل پر داغے جانے والے راکٹوں کے بعد دونوں جانب سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حفیہ پر داغے جانے والے راکٹوں کی وجہ سے کُچھ رہائشی عمارتوں کو کو نقصان پہنچا اور اُن میں آگ لگ گئی تاہم کُچھ مقامات پر لوگ زخمی بھی ہوئے۔

    حفیہ میں جہاں جہاں حزب اللہ کے راکٹ گرے اُن علاقوں کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے اور ان حملوں میں زخمی ہو جانے والوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

    دوسری جانب لبنان کی وزارت صحت کے مطابق بیروت میں حزب اللہ کے زیرِ قبضہ علاقے پر جمعرات کو ہونے والے اسرائیلی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 45 تک پہنچ گئی ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے دارالحکومت کے جنوب میں ایک عمارت پر فضائی حملے میں مسلح گروپ کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

  9. عراقی مسلح گروہ کا حزب اللہ کی حمایت کا اعلان

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عراقی عسکریت پسند گروہ آئی آر آئی کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی حمایت کے اعلان کے بعد گذشتہ شب اُنھوں نے عراق کی سر زمین پر سے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل داغے۔

    عراقی مسلح گروہ آئی آر آئی نے متعدد بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی جانب سے اسرائیل میں نامعلوم مقامات پر دو الگ الگ حملے کیے گئے۔ اسرائیل پر ہونے والے ان حملوں میں عراقی مسلح گرو کی جانب سے الارقب کے تیار کردہ کروز میزائلوں سے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    بی بی سی مانیٹرنگ کے عربی زبان کے ماہرین کے مطابق اتوار کی صبح ایک اور بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اس گروپ نے ڈرونز کی مدد سے اسرائیل میں ایک ’اہم ہدف‘ کو نشانہ بنایا۔

    تاہم آئی ڈی ایف کے ایک ترجمان کے مطابق عراق سے رات گئے اسرائیل کو نشانہ بنانے کی دو کوششیں کی گئیں۔ اسرائیلی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اور بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انھوں نے مُلک پر مشرق کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں کو روکا گیا اور ان سے کسی بھی قسم کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

  10. اسرائیل کی جانب سے مُلک کے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے لیے سکیورٹی وارننگ جاری

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہRambam Hospital

    اسرائیل نے ملک کے شمال میں تمام سکولوں کو پیر کی شام تک بند رکھنے کے احکامات جاری جاری کیے ہیں۔

    ملک کے کئی شمالی علاقوں اور اسرائیل کے زیرِ قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے کچھ حصوں میں اجتماعات پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے جس کے بعد سے اب 10 سے زیادہ افراد کو گھروں سے باہر اور 100 افراد کو گھروں کے اندر جمع ہونے کی اجازت نہیں۔

    اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی اس سکیورٹی وارننگ کے بعد ساحلِ سمندر کو بھی عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی وزارت صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ شمالی اسرائیل کے ہسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف محفوظ علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیں۔

    حیفا شہر کے رامبام ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے ہسپتال نے طبی سہولیات زیرِ زمین منتقل کر دی ہیں۔

  11. دنیا لبنان میں ہونے والے ’خوفناک قتل عام‘ پر واضح پوزیشن لے: لبنانی وزیر اعظم

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

    لبنان کے وزیراعظم نے اسرائیلی حملوں کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا لبنان میں ہونے والے ’خوفناک قتل عام‘ پر واضح پوزیشن لے۔

    وزیراعظم نجیب مکاتی کا بیان اتوار کی دوپہر کو سامنے آیا ہے، جس میں انھوں نے مزید کہا کہ وہ نیویارک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کریں گے۔ مگر اب اس ہفتے کی پیشرفت کے بعد انھوں نے امریکہ نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت اسرائیلی فوج کی طرف سے عام شہریوں کے خوفناک قتل عام کو روکنے سے زیادہ کوئی بڑی ترجیح نہیں ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل نے کئی طرح کے محاذ کھول دیے ہیں۔

    Lebnon

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وزیراعظم کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’میں اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ اس وقت اسرائیلی دشمن کی طرف سے کیے جانے والے قتل عام اور اس کی طرف سے جاری مختلف قسم کی جنگوں کو روکنے سے بڑھ کر کوئی ترجیح نہیں ہے۔‘

    میں بین الاقوامی برادری اور انسانیت سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ اس خوفناک قتل عام کے خلاف واضح پوزیشن لیں۔

    لبنانی وزیراعظم نے کہا کہ پیجر اور واکی ٹاکی حملوں کے تناظر میں ’فوجی اور جنگی اہداف سے سویلین تکنیکی ذرائع کو بے اثر کرنے کے لیے بین الاقوامی قوانین پر چلنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

  12. مشرق وسطیٰ بڑی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے: اہلکار اقوام متحدہ

    مشرق وسطی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اقوام متحدہ کی کوآرڈینیٹر برائے لبنان جینائن ہینس نے گذشتہ رات کی جھڑپوں پر اسرائیل اور حزب اللہ کو وارننگ جاری کی ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ اس وقت خطہ ایک بڑی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ایسے میں اس تنازع پر اس اس زیادہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے جو ہر دو فریقین کے لیے محفوظ ہو۔

  13. ایران میں کوئلے کی کان میں دھماکہ، ہلاکتوں کی تعداد 51 ہوگئی

    Iran

    ایران کے جنوبی خراسان صوبے کے شہر تباس میں کوئلے کی کان میں دھماکے سے 51 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 24 افراد تاحال لاپتہ ہیں اور کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔

    ایران میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب رات نو بجے کے قریب تباس میں منڈاجو کمپنی کی کوئلے کی کان کی سرنگوں میں سے ایک میں میتھین گیس کے اچانک اخراج کی وجہ سے ہوا۔

    اسلامی جمہوریہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت اس کان کے بلاک سی اور بی میں 69 مزدور کام کر رہے تھے۔

    ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اس حادثے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا اور ’مرنے والوں کے اہل خانہ، مزدور برادری اور ایران کے عوام سے تعزیت کا اظہار کیا۔‘

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جنوبی خراسان گورنریٹ کے کرائسس ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل محمد علی آخوندی کے مطابق اس کان میں دو سرنگیں میتھین گیس سے پھٹ گئی ہیں اور ’دو سرنگوں مین کل 57 افراد کام کر رہے تھے۔

    اس دھماکے کے بعد داخلی راستے بند ہو گئے اور میتھین گیس کے جمع ہونے کی وجہ سے داخل ہونے اور امداد پہنچانے کے خواہشمند افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

  14. لبنان سے اسرائیل پر درجنوں راکٹ فائر کیے گئے، ملک میں رات بھر سائرن بجتے رہے: اسرائیلی فوج

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ سنیچر کی رات کو لبنان سے اسرائیل کے شمالی علاقے پر بڑی تعداد میں راکٹ فائر کیے گئے ہیں، جس میں حزب اللہ نے صنعتی مقامات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق 105 راکٹ حملوں کو روکا گیا ہے مگر پھر بھی کچھ گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ فوج کے مطابق اسرائیل میں رات بھر سائرن بجتے رہے۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ ہفتے پیچر اور واکی ٹاکی حملوں کے جواب میں شمالی اسرائیل پر اہداف پر درجنوں راکٹ فائر کیے ہیں۔

    اسرائیل کے مطابق اس نے لبنان پر حملہ کر کے حزب اللہ کے درجن سے زائد سینیئر کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔ لبنان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں تین بچوں سمیت 37 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    رات سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس کی بی بی سی ابھی تک تصدیق نہیں کر سکا ہے مگر اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حزب اللہ کے راکٹ حملے کے بعد اسرائیل کے شہر حیفہ کے ایک رہائشی علاقے میں آگ لگی نظر آ رہی ہے۔

  15. اسرائیل نے رام اللہ میں الجزیرہ کا دفتر بند کر دیا

    Israel

    ،تصویر کا ذریعہAljazeera

    الجزیرہ نیوز چینل نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اتوار کو رام اللہ میں نیٹ ورک کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور اس کے ملازمین کو دفتر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوجی جو ’بھاری مسلح اور ماسک پہنے ہوئے تھے‘ براہ راست نشریات کے دوران اس دفتر میں داخل ہوئے اور اس نیٹ ورک کے دفتر کو 45 دن کے لیے بند کرنے کا حکم دیا۔‘

    اس رپورٹ کے مطابق ان فورسز نے الجزیرہ کے دفتر کو 45 دنوں کے لیے بند کرنے کی وجہ اس دفتر کے سربراہ ولید العمری کو نہیں بتائی۔ الجزیرہ کے رام اللہ دفتر کے سربراہ ولید العمری نے حملے کے دوران کیمرے کے سامنے یہ فیصلہ براہ راست پڑھا۔

    چار ماہ قبل اسرائیلی حکام کے حکم پر ملکی فوجی دستوں نے نصرت اور مشرقی یروشلم میں نیٹ ورک کے دفاتر پر چھاپے مارے اور ان دفاتر کی بندش کو نافذ کر دیا۔ اس وقت اسرائیلی حکام نے اس نیوز نیٹ ورک کو ’اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ قرار دیا تھا۔

    الجزیرہ نے رام اللہ میں اپنے دفتر کے سربراہ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ’صحافیوں کو اس طرح نشانہ بنانے کا مقصد سچ کو چھپانا اور اسے عوام تک پہنچنے سے روکنا ہے۔‘

    اس دفتر کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے سڑک پر موجود نامہ نگاروں سے آخری مائیکروفون اور کیمرہ چھین لیا اور ولید العمری کو زبردستی دفتر سے باہر نکال دیا۔

    انھوں نے اس نیٹ ورک کے رپورٹر شیرین ابو عقل کا پوسٹر بھی اتار دیا ہے جسے اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں گولی مار دی تھی۔

    قطری چینل الجزیرہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کافی عرصے سے کشیدہ ہیں لیکن غزہ میں جنگ شروع ہوتے ہی یہ مزید خراب ہو گئے۔

    اسرائیل نے غیر ملکی صحافیوں کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے سے روک دیا تھا جبکہ الجزیرہ کے نامہ نگار اکثر قریب سے جنگ کی کوریج کرنے والے واحد رپورٹر تھے۔

    اپریل میں، اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت حکومت کو اس جنگ کے دوران ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ تصور کیے جانے والے غیر ملکی خبر رساں اداروں کے دفاتر کو عارضی طور پر بند کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    اسرائیل نے ابھی تک رام اللہ میں الجزیرہ کے دفتر کو بند کرنے کی کارروائی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  16. اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے جاری، امریکہ کا اپنے شہریوں کو لبنان سے نکل جانے کی ہدایت

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل نے لبنان پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں اور حیفہ شہر سمیت شمال میں دیگر علاقوں میں اجتماعات پر پابندی عائد کر رہا ہے۔ اس وقت اسرائیل حزب اللہ کو ہدف بنا رہا ہے۔ سنیچر کی رات اور آج اتوار کی صبح حیفہ کے جنوب سے شمال تک کئی علاقوں میں سائرن بجائے جا رہے ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کے بعد پہلی بار سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب حیفہ کے جنوب سے شمال تک بڑے علاقوں میں سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دی ہیں۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہیگاری کا کہنا ہے کہ ’اس خبر کے بعد کہ حزب اللہ اسرائیل پر گولے برسانے کی تیاری کر رہا ہے جنوبی لبنان میں اس وقت درجنوں اسرائیلی جنگی طیارے حملے کر رہے ہیں۔‘

    بیروت پر حملے کے بعد اسرائیل نے اب لبنان پر مزید حملے شروع کر دیے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بیروت پر کیے گئے فضائی حملے میں حزب اللہ کے ایک درجن سینیئر کمانڈروں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ لبنان نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیلی حملے میں تین بچوں سمیت 37 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    امریکہ کی حکومت اپنے شہریوں کو یہاں سے نکلنے پر زور دے رہی ہے۔ جمعے کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحد پار فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔

    اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان پر کیے جانے والے حملوں میں اس وقت تک 180 کے قریب مقامات اور ہزاروں کی تعداد میں راکٹ لانچر بیرل تباہ کر دیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق لبنان سے 90 سے زائد راکٹ اسرائیل پر فائر کیے گئے ہیں۔ حزب اللہ کا کہنا ہے اس نے دن بھر میں اسرائیل میں 11 فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

    سنیچر کو حزب اللہ کا کہنا تھا کہ اس نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل کے رمت ڈیوڈ ایئربیس پر درجنوں راکٹ فائر کیے۔

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان میں ہزاروں پیجرز اور واکی ٹاکیز پھٹنے کے دو الگ حملوں میں ہزاروں افراد کے زخمی ہونے اور کم از کم 37 افراد کی ہلاکت کے بعد ابھی تک یہ تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں کہ اس طرح کی کارروائی کیسے کی گئی۔

    ان حملوں میں حزب اللہ کے ارکان اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے ان حملوں کا الزام اسرائیل پر عائد کیا گیا ہے تاہم اسرائیل نے اب تک اس بارے میں کوئی تبصرہ یا ردعمل نہیں دیا ہے۔

  17. ساری رکاوٹیں توڑ کر آپ تک پہنچا ہوں، حاضری قبول کریں: علی امین گنڈاپور

    علی امین گنڈاپور

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اور وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سنیچر کے روز کاہنہ میں ہونے والے پی ٹی آئی جلسے میں مقرر کردہ وقت ختم ہونے کے بعد پہنچے اور مختصر خطاب کے بعد رنگ روڈ سے واپس روانہ ہو گئے۔

    گنڈاپور کا کہنا تھا، ’میں آگیا ہوں میری حاضری قبول کی جائے، ساری رکاوٹیں توڑ کر آپ تک پہنچا ہوں آپ خوش ہیں؟‘

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا ’جلد عمران خان کو رہا کرواؤں گا۔ اب آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔‘

    اس سے قبل پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پیج پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر بیرسٹر ڈاکٹر محمد سیف سے منسوب ایک بیان جاری کیا گیا تھا کہ جس میں کہا گیا تھا علی امین گنڈاپور اپنے قافلے کے ہراہ ساتھ جلسہ گاہ میں حاضری لگائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جگہ جگہ روکے جانے کی وجہ سے جلسہ گاہ پہنچنے میں دیر ہوئی۔

  18. مخصوص نشستوں پر اکثریتی بینچ کا وضاحتی بیان کیسے اور کس کے آرڈر پر اپ لوڈ کیا گیا، چیف جسٹس کا رجسٹرار سے سوال

    سمریم کورٹ آف پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مخصوص نشستوں کے فیصلے پر 14 ستمبر کو سپریم کورٹ کے اکثریتی بینچ کا وضاحتی بیان جاری کرنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے نو سوالوں پر جواب طلب کر لیے ہیں۔

    رواں ماہ سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینج نے مخصوص نشستوں کے کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کی درخواستوں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ 12 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے والے امیدوار آزاد نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے ہیں۔

    چیف جسٹس کی جانب سے رجسٹرار کو لکھے خط میں پوچھا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی نے فیصلے کی وضاحت کے لیے درخواست کب دائر کی تھی اور یہ درخواستیں پریکٹس پروسیجر کمیٹی میں کیوں نہیں بھیجی گئیں۔

    رجسٹرار سپریم کورٹ سے یہ سوالات بھی کیے گئے ہیں متفرق درخواستیں کاز لسٹ کے بغیر سماعت کے لیے کیسے مقرر ہوئیں اور آیا رجسٹرار آفس نے متعلقہ فریقین اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیے۔

    چیف جسٹس نے رجسٹرار سے سوال کیا کہ کس کمرہ عدالت یا چیمبر میں درخواستوں کو سنا گیا اور اس پر فیصلہ سنانے کے لیے کاز لسٹ کیوں جاری نہیں کی گئی؟

    خط میں مزید پوچھا گیا کہ فیصلہ سنانے کے لیے کمرہ عدالت کیوں نہیں مقرر کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اوریجنل فائل اور فیصلہ رجسٹرار آفس میں جمع کروائے بغیر فیصلہ کیسے اور کس کے کہنے پر اپ لوڈ کیا گیا؟

  19. این او سی سے زیادہ آسانی سے امریکہ کا ویزا ملتا ہے: بیرسٹر گوہر علی خان

    پی ٹی آئی کاہنہ جلسہ برسٹر گوہر

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ جب بھی پی ٹی آئی جلسے کے لیے این او سی مانگتی ہے تو نہیں دی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ این او سی سے زیادہ جلد اور آسانی سے امریکہ کا ویزا ملتا ہے۔

    سنیچر کے روز کاہنہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام اب جمہوریت کے سوا کچھ قبول نہیں کرے گی۔ ’ہم بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کے سوا کچھ نہیں چلے گا۔‘

    اپنے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ایک دوسرے کے راستے بہت بند کر لیے، اب مزید راستے بند نہ کرو، راستہ نکالو۔‘

    پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’اگر انا کو نہیں چھوڑیں گے تو ملک تباہ ہو جائے گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو عوام سے اور ادارے کو ادارے سے نہیں لڑائیں۔ ’خدارا عوام کی آواز کو دیکھو، نقارے خدا کو سمجھو، انقلاب کو دیکھو، پاکستان کی عوام تہیہ کر بیٹھی ہے، آزاد عدلیہ ہو گی، آزاد عدلیہ کے علاوہ کچھ قبول نہیں ہے۔‘