جسٹس آفریدی کی معذرت پر جسٹس امین الدین خان کو ججز کمیٹی میں شامل کیا گیا: چیف جسٹس کا جسٹس منصور علی شاہ کو خط

جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز تشکیل دینے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے رکن ہیں تاہم پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کے بعد انھوں نے کمیٹی کی تشکیل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

خلاصہ

  • امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے لبنان اور غزہ میں فوری جنگ بندی کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’کسی سفارتی معاہدے پر پہنچنے کے لیے سفارتکاری کو موقع فراہم کیا جائے۔‘
  • پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کے سبب پاکستانی شہری لبنان کا سفر نہ کریں۔
  • لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 51 تک پہنچ گئی ہے۔
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے لبنان میں حزب اللہ کے 280 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
  • اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پیر سے اب تک لبنان میں 90,000 سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
  • پوپ فرانسس نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان میں ہونے والے ’سنگین کشیدگی‘ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے.
  • وائٹ ہاؤس نے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر داغے گئے میزائل پر’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔
  • برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جاپان، سعودی عرب، جنوبی کوریا اور امریکہ سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں سے لبنان چھوڑنے کی اپیل کر دی ہے۔
  • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا بیروت پر حملہ جنگ کو وسعت دینے کی چال کے سوا کچھ نہیں ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    26 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. جسٹس آفریدی کی معذرت پر جسٹس امین الدین خان کو ججز کمیٹی میں شامل کیا گیا: چیف جسٹس کا جسٹس منصور علی شاہ کو خط, شہزاد ملک

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز کی تشکیل دینے کے لیے بنائی گئی نئی کمیٹی پر اعتراضات کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے جسٹس منصور کے خط کا جواب دے دیا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لیے بینچز تشکیل دینے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے رکن ہیں تاہم پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کے بعد انھوں نے کمیٹی کی تشکیل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور چند روز قبل اس کمیٹی کے اجلاس میں بطور احتجاج شرکت بھی نہیں کی تھی۔

    چیف جسٹس کی جانب سے جسٹس منصور کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو ججز کمیٹی میں شامل نہ کرنے کے بارے میں لکھا تھا۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ انھوں نے جسٹس آفریدی سے رابطہ کیا تاہم جسٹس آفریدی نے کمیٹی میں شامل ہونے سے معذرت کر لی تھی۔

    چیف جسٹس نے اپنے خط میں کہا ہے کہ جسٹس آفریدی کی معذرت پر جسٹس امین الدین خان کو ججز کمیٹی میں شامل کیا گیا کیونکہ وہ جسٹس آفریدی کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں صدارتی ارڈیننس کے ذریعے ترمیم کے بعد ججز کمیٹی میں سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججز کی بعد کمیٹی کا تیسرا رکن چیف جسٹس اپنی مرضی سے منتخب کرسکتے ہیں جبکہ صدارتی ارڈیننس کے ذریعے اس ایکٹ میں ترمیم سے پہلے یہ کمیٹی سپریم کورٹ کے تین سنیئر ترین ججز پر مشتمل ہوتی تھی۔

    اس ایکٹ میں ترمیم کے بعد چیف جسٹس نے جسٹس منیب اختر کو اس کمیٹی سے نکال دیا تھا اور ان کی جگہ جسٹس امین الدین کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس کی جانب سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس منیب اختر گرمیوں کی چھٹیوں میں دستیاب نہیں تھے اور فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت 14 روز میں ہونا لازمی ہے۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس منیب اختر کا کمیٹی کے دوران رویہ مناسب نہیں تھا اور وہ کمیٹی کے اجلاس سے واک آوٹ بھی کر گئے تھے۔

    چیف جسٹس نے اپنے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ جسٹس منیب اختر نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں صدارتی ارڈیننس کے تحت ترمیم پر اس کی مخالفت کی تھی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں جسٹس منیب اختر کی کمیٹی سے اخراج پر بھی سوال اٹھایا تھا۔

    سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھی پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں صدارتی آرڈیننس کے تحت کی جانے والی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھا ہے۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وفاق اور وزارت قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔ اپنی درخواست میں پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ سے صدارتی ارڈیننس کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

  3. لبنان میں اسرائیلی حملے: جدید تاریخ کی شدید ترین بمباری کے واقعات میں سے ایک, جیریمی بوون، انٹرنیشنل ایڈیٹر

    اسرائیل، لبنان، حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج کی لبنان میں شدید بمباری جاری ہے۔ ایسے حالات پر نگاہ رکھنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اہداف کو نشانہ بنانے اور اموات کے اعتبار سے یہ جدید تاریخ کی انتہائی شدید مہمات میں سے ایک مہم ہے۔

    اس بمباری سے لبنان میں صرف پیر کو 500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم ممکن ہے آج ہمیں اسرائیل کی جانب سے 21 روزہ جنگ بندی کی تجویز پر ردِعمل دیکھنے کو ملے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک جا رہے ہیں اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ وہاں کہیں گے کہ وہ اس معاملے پر بات کرنے کو تیار ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی نہ ہونے تک اسرائیل پر حملے جاری رکھیں گے۔

    حقیقتاً جنگ بندی کی تجویز دی ہی اس لیے گئی ہے تاکہ سفارتکاری کے ذریعے معاملات کو حل کیا جائے۔

    امریکہ اور فرانس کی جنگ بندی کی تجویز کے پیچھے پیغام یہی ہے کہ لبنان میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے غزہ میں جنگ بندی ضروری ہے۔

    لیکن جنگ بندی کے قواعد پر حماس اور اسرائیل کے درمیان بہت اختلافات ہیں اور اسرائیلی وزیراعظم کی حمایت کرنے والی دائیں بازو کی شخصیات جنگ بندی کی تجاویز کی مخالفت کر رہی ہیں۔

    آج صبح بھی بتسالل سموترچ نے لکھا تھا: ’حزب اللہ کو کُچل دو، صرف دو ہی راستے ہیں ہتھیار ڈالو یا جنگ کرو۔‘

  4. گذشتہ رات حزب اللہ کے 75 اہداف کو نشانہ بنایا: اسرائیلی فوج

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے بدھ کی رات حزب اللہ کے 75 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ حملے شامی سرحد کے قریب اور جنوبی لبنان میں اسلحے کے ڈپو، راکٹ لانچرز اور عسکری عمارتوں پر کیے گئے ہیں۔

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کو اسرائیلی فضائی حملوں میں 72 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے ’حزب اللہ کی صلاحیتوں کو کم کرنے اور دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے والے انفراسٹکچر کو ختم کرنے کے لیے‘ کارروائیاں جاری ہیں۔

  5. اسرائیلی اپوزیشن لیڈر لبنان میں جنگ بندی پر راضی

    اسرائیل، لبنان، حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل میں اپوزیشن پارٹی کے سربراہ یائیر لپید نے کہا ہے کہ اسرائیل کو امریکی صدر جو بائیڈن اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کی لبنان میں جنگ بندی کی تجویز قبول کرلینی چاہیے ’لیکن صرف سات دنوں‘ کی جنگ بندی۔

    ان کا کہنا ہے کہ مختصر جنگ بندی کے سبب ’حزب اللہ کو اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو بحال کرنے کی مہلت نہیں ملے گی۔‘

    لپید نے مزید کہا کہ اسرائیل ایسی کوئی بھی تجویز قبول نہیں کرے گا جس میں حزب اللہ کا اسرائیل کی شمالی سرحد سے خاتمہ نہ شامل ہو۔

    خیال رہے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے لبنان میں 21 دنوں کی جنگ بندی کی تجویز دی ہے تاکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کو سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

    تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کی کابینہ میں شامل وزیرِ خزانہ بتسالیل سموترچ اپوزیشن رہنما سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کو ’ سنبھلنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ شمالی اسرائیل سے نقل مکانی کرنے والی شہریوں کی اپنے علاقوں میں واپسی صرف ’حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے ہا جنگ کی صورت میں‘ ہی ممکن ہے۔

    وزیرِ خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے صرف ’حزب الل کے خاتمے‘ پر ہی رُکنے چاہییں۔

    دوسری جانب اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ اگر حزب اللہ اسرائیلی حملوں کا اختتام چاہتی ہے تو اسے ’ہتھیار ڈال دینے چاہییں اور اسرائیلی سرحد سے 15 کلومیٹر دور منتقل ہو جانا چاہیے۔‘

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’دنیا ہمیں حزب اللہ کے حوالے سے جنگ بندی کا کہہ رہی ہے، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔‘

    ’حزب اللہ بغیر کسی ٹھوس وجہ کے گذشتہ ایک برس سے اسرائیل پر ہزاروں میزائل برسا رہی ہے۔‘

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ صرف بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں ملک میں 72 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

  6. ’حزب اللہ کے لیے یہ بقا کی جنگ ہے‘, ہیوگو بشیگا، بی بی سی نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ اسرائیل یا حزب اللہ اپنی اپنی پوزیشن سے ایک قدم پیچھے ہٹنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

    اسرائیل نے اپنی فوج کو ممکنہ زمینی حملے کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے جبکہ مزید ریزرو فوجیوں کو بھی تیاری کا حکم ملا ہے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے زیر استعمال انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے اور اس کے جنگجوؤں کو اسرائیل کے ساتھ واقع لبنان کے سرحدی علاقوں سے پیچھے دھکیلنے کے لیے جنوبی لبنان پر حملہ کر سکتا ہے۔

    اسرائیل میں فوجی حکام غالباً یہ کہہ رہے ہیں کہ حزب اللہ کو نمایاں طور کمزور کرنے اور لبنان، اسرائیل سرحد پر اس گروہ کی طاقت کو کچلنے کے لیے اس جنگ کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

    حزب اللہ کے لیے یہ اس کی بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ یہ حزب اللہ کے لیے تاریخ کا بدترین لمحہ ہے جبکہ وہ کمزور ہو چکے ہیں، لیکن بدستور قائم اور مزاحمت کر رہے ہیں۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر اس کے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک غزہ میں جنگ بندی نہیں ہو جاتی۔ گذشتہ تقریباً ایک سال سے اُن کا یہی موقف رہا ہے۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیل کے سامنے سر تسلیم خم کیے بغیر وہ اپنا یہ موقف کیسے بدلیں گے۔

    اس سب کے دوران لبنانی عوام اس تشدد میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ سینکڑوں ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس تمام تر صورتحال نے پہلے سے بُرے حالات میں پھنسے اس ملک پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔

    لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی ضروری ہے۔ اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے لبنان کے وزیراعظم نجیب میقاتی نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے ہسپتال اب زخمیوں کا مزید برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔

  7. ’خطے میں جنگ کے بڑھنے کے خطرات‘: امریکہ اور اتحادیوں کا لبنان میں 21 روزہ جنگ بندی کا مطالبہ

    اسرائیل، لبنان، حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور ان کے اتحادیوں نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے لبنان میں 21 روزہ عارضی جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

    امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے لبنان اور غزہ میں فوری جنگ بندی کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’کسی سفارتی معاہدے پر پہنچنے کے لیے سفارتکاری کو موقع فراہم کیا جائے۔‘

    جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی ’ناقابلِ برداشت‘ ہے اور اس کے سبب ’خطے میں جنگ کے بڑھنے کے ناقابلِ قبول خطرات‘ بڑھ رہے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قریقین میں جاری یہ کشیدگی اسرائیل اور لبنان دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔

    امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جنگ بندی کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل فوج کے سربراہ نے اپنے فوجی اہلکاروں کا کہا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف جاری فضائی حملوں سے ’دشمن کی سرزمین میں داخلے‘ کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلیوی کا بیان ایک واضح اشارہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں زمینی کارروائیاں بھی شروع کر سکتا ہے۔

    لبنان میں جاری جنگ بندی سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، یورپی یونین، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور قطر نے دستخط کیے ہیں۔

  8. اسرائیل اور حزب اللہ کشیدگی: پاکستان نے اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دیں

    پاکستان، حزب اللہ، اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی اور لبنان میں اسرائیلی فضائیہ کے حملوں کے پیشِ نظر پاکستان نے اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں جاری حملوں کے سبب پاکستانی شہری لبنان کا سفر نہ کریں۔

    ’جو پاکستانی لبنان میں رہائش پزیر ہیں ان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ دستیاب کمرشل پروازوں کے ذریعے ملک چھوڑ دیں۔‘

    پاکستانی وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ جو شہری کچھ وجوہات کی بنا پر لبنان چھوڑنے سے قاصر ہیں وہ ’انتہائی احتیاط‘ کا مظاہرہ کریں اور ’محفوظ مقامات پر منتقل‘ ہوجائیں۔

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق بدھ کو اسرائیلی حملوں میں 51 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگی طیاروں نے لبنان میں حزب اللہ کے 280 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    گذشتہ روز حزب اللہ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اسرائیل میں دو مقامات پر درجنوں داغے ہیں۔ لبنانی تنظیم کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل کا ہدف تل ابیب کے قریب موساد کا ہیڈکوارٹر تھا۔

    اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے جب حزب اللہ کا کوئی میزائل تل ابیب تک پہنچا ہے۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس میزائل حملے کو ناکام بنا دیا گیا تھا اور اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

    اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ پیر سے اب تک لبنان میں 90 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

  9. آئی ایم ایف کی پاکستان کے لیے سات ارب ڈالر قرض کی منظوری: ’معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے‘

    IMF

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے سات ارب ڈالر کے ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی (ای ایف ایف) کے پروگرام کی منظوری دے دی ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اس پروگرام کے لیے اس سال جولائی میں سٹاف لیول معاہدہ ہوا تھا جس کی منظوری ایگزیکٹو بورڈ نے دینی تھی جس کے بعد پاکستان کے لیے اس پروگرام کے تحت قسط جاری ہونا تھی۔

    آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جیورجیوا نے کہ ’ہمارے پاس ایک خوشخبری ہے۔ ہم نے پاکستان کے لیے ’ریویو‘ مکمل کر لیا ہے۔‘ پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام کو مبارکباد دیتی ہوں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان نے اصلاحات کی ہیں، جس سے معیشت میں بہتری آئی ہے۔‘

    آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ پاکستان نے نے مثبت اصلاحات کی ہیں اور اب پیدوار کا گراف اوپر کی جانب ہے جبکہ افراط زر نیچے آ رہی ہے اور معیشت استحکام کے رستے پر گامزن ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کرسٹالینا جیورجیوا نے کہا کہ حکومت امیروں سے ٹیکس لے رہی ہے اور غریبوں کی مدد کی جا رہی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔

    واضح رہے کہ جولائی میں سٹاف لیول معاہدے کے بعد ایگزیکٹو بورڈ کے اگست اور ستمبر کے پہلے تین ہفتوں میں اجلاس منعقد ہوئے تھے تاہم پاکستان کے پروگرام کی منظوری ان میں شامل نہیں تھی۔

    وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سات ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پیکیج کی منظوری پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اللہ کے فضل و کرم سے معاشی اصلاحات کا نفاذ تیزی سے جاری ہے.‘ انھوں نے آئی ایم ایف پیکیج کے حوالے معاونت فراہم کرنے والے دوست ممالک بالخصوص سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

  10. لبنان پر فضائی حملے فوج کے ممکنہ داخلے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہیں: اسرائیلی آرمی چیف

    جنرل ہرزی حالوی، بنیامن نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حالوی کا کہنا ہے کہ لبنان پر اسرائیل کے تازہ فضائی حملے زمینی فوج کے ممکنہ داخلے کی تیاری کے لیے ہیں۔

    ہرزی حالوی نے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’ آپ جیٹ طیاروں کی آوازیں سن رہے ہیں؛ ہم سارا دن حملہ کرتے رہے ہیں۔ یہ آپ کے ممکنہ داخلے کے لیے راہ ہموار کرنے اور حزب اللہ کی صلاحیت کو توڑنے کے لیے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ آج حزب اللہ نے حملے کا دائرہ کار بڑھایا ہے اور آج ہی انھیں اس کا کرارا جواب ملے گا۔

    ’ہم رکنے والے نہیں ہیں، ہم انھیں ہر جگہ ماریں گے۔ مقصد بہت واضح ہے – شمالی اسرائیل کے باشندوں کی بحفاظت گھروں کو واپسی۔‘

    جنرل حالوی کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے جس کے تحت آپ دشمن کے علاقے میں داخل ہوں گے، ’اُن دیہاتوں میں جنھیں حزب اللہ نے بڑی فوجی چوکیوں کے طور پر تیار کیا ہے۔‘

  11. بیروت حملہ جنگ کو وسعت دینے کی چال کے سوا کچھ نہیں: وزیراعظم شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا بیروت پر حملہ جنگ کو وسعت دینے کی چال کے سوا کچھ نہیں ہے۔

    نیویارک میں ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بیروت حملہ امن پسند دنیا کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو اسرائیل کے اس فعل کی مذمت کرنی چاہئے۔

    پاکستانی وزیرِ اعظم نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل جنگ کو مشرق وسطیٰ سے آگے بڑھانا چاہتا ہے جس کے نتائج دنیا کے لئے انتہائی سنگین ثابت ہوں گے۔

    جب ان سے اس تنازعے کے حل کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا ’دو ریاستی حل ہی واحد حل ہے، فوری جنگ بندی اور دو ریاستی حل کے سوا کوئی چارہ نہیں۔‘

    انھوں نے فوری جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا۔

    اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس سے ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کی شدید مذمت کی تھی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کا احتساب کرے۔

  12. اسرائیل کا حزب اللہ کی 280 تنصیبات پر حملے کا دعویٰ، لبنان میں آج ہلاکتوں کی تعداد 51 ہو گئی

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 51 تک پہنچ گئی ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے لبنان میں حزب اللہ کے 280 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے اہداف میں وہ لانچ پلیٹ فارمز بھی شامل تھے جہاں سے آج صبح شمالی اسرائیل پر حملے کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ ہتھیاروں کے ڈپو اور دیگر فوجی انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے ۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے ایک ​​رپورٹ میں کہا تھا کہ بدھ کے روز جن مقامات پر حملہ کیا گیا ہے ان میں 60 اہداف وہ تھے جو حزب اللہ کی انٹیلی جنس کے زیر استعمال تھے۔

  13. پیر سے اب تک لبنان میں 90,000 سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں: اقوام متحدہ

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پیر سے اب تک لبنان میں 90,000 سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

    یہ تعداد اکتوبر 2023 سے اب تک بے گھر ہونے والے 111,696 افراد کے علاوہ ہے۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پیر سے اب تک تقریباً 600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 50 بچے اور 94 خواتین شامل ہیں۔

    لبنان کی وزیر صحت کے مطابق بدھ کے روز لبنان پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 51 افراد ہلاک اور 220 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

    لبنانی وزارت صحت کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ لبنان بھر میں اسرائیلی حملوں سے تقریباً 1,700 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے حملوں کی وجہ سے اب تک تقریباً 60,000 افراد کو شمالی اسرائیل سے محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جا چکا ہے۔

  14. وائٹ ہاؤس کا تل ابیب پر حزب اللہ کے میزائل حملے پر’شدید تشویش‘ کا اظہار

    وائٹ ہاؤس نے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر داغے گئے میزائل پر’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے امریکی خبر رساں ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ نہ صرف اسرائیلیوں بلکہ امریکہ کے لیے بھی گہری تشویش کا باعث ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی کم کرنے اور ہمہ گیر جنگ کو روکنے کے لیے سفارتی حل ابھی بھی ممکن ہے۔

  15. اسرائیلی فوج کا لبنان میں حزب اللہ کے 60 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بدھ کے روز لبنان میں حزب اللہ کے 60 ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں میں حزب اللہ کے انٹیلی جنس ڈویژن کے زیر استعمال مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں اس کا ہیڈ کوارٹر اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال ہونے والے دیگر انفراسٹرکچر شامل ہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے جاری کیے گئے نقشے کے مطابق نشانہ بنائے جانے والے زیادہ تر مقامات جنوبی لبنان میں تھے جبکہ کچھ ملک کے مرکز اور شمال مشرق میں واقع تھے۔ لبنان کے شمال مغربی ساحل پر بھی ایک مقام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

  16. اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 23 ہو گئی: لبنانی وزارتِ صحت

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ آج صبح شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 23 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    وزارتِ صحت کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں وادی بیقا کے علاقے بعلبیک ہرمل میں ہوئیں جہاں اسرائیلی حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ جنوبی لبنان کے علاقے بنت جبیل میں چار ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

    اس سے قبل لبنانی حکام کا کہنا تھا جبل امل کے قصبے تبنین میں فضائی حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    حکام کے مطابق ایک اور حملے میں وسطی لبنان کے قصبے جون میں چار افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

    وزارت صحت کا کہنا تھا کہ جنوبی لبنان کے شہر عین قنا میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے جبکہ صوبے کسروان کے قصبے میں تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے ہیں۔

  17. امریکہ کی توجہ کشیدگی کو کم کرنے پر ہے: انٹونی بلنکن

    انٹونی بلنکن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیلی حملوں کے بعد لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی توجہ کشیدگی کو کم کرنے اور بڑے پیمانے پر جنگ کو روکنے پر مرکوز ہے۔

    بلنکن کا کہنا تھا کہ جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کے لوگوں کی گھروں کو واپسی کا بہترین طریقہ جنگ نہیں بلکہ ’سفارت کاری‘ ہے۔

    حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی مذاکرات کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایک معاہدہ تو موجود ہے لیکن حماس کو حالیہ ہفتوں میں مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے اب بھی مشکل فیصلے لینے کی ضرورت ہے لیکن یہی غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے روکنے اور یرغمالیوں کو واپس لانے کا بہترین حل ہے۔

    بلنکن کا کہنا تھا کہ اس سے حزب اللہ کو پیچھے ہٹنے اور سفارت کاری کو کام کرنے کی اجازت دے گا۔

  18. وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو سے ملاقات، عالمی برادری سے اسرائیل کے احتساب کا مطالبہ

    شہباز

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کے دوران پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کا احتساب کرے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا۔

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انڈین حکومت کی جارحانہ کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن یقینی بنانے کے لیے تنازع کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کو یقینی بنانے کے لیے اپنے اثرو رسوخ کا استعمال کریں۔

    وزیر اعظم نے انتونیو گوتریس کی جانب سے’مستقبل کی سربراہی‘ کانفرنس کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس کانفرنس کے نتائج سے ترقی پذیر ممالک کو سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز SDGs اور موسمیاتی اہداف کے نفاذ کے لیے مالیاتی خلا اور نظام کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔

  19. بیروت ایئرپورٹ پر بیشتر پروازیں منسوخ

    بیروت ایئرپورٹ

    بی بی سی کی نامہ نگار کیرین ٹوربی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ایئر لائنز کی جانب سے بیروت سے اپنی پروازیں معطل کرنے کے اعلان کے بعد زیادہ تر پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    بیروت ایئرپورٹ لبنان کا واحد سویلین ایئرپورٹ ہے۔

    ٹوربی کے مطابق آمد اور روانگی دونوں لاؤنجز تقریباً خالی ہیں۔

    تاہم لبنان کی قومی ایئر لائن کے علاوہ عراقی اور ایرانی ایئر لائنز ابھی بھی کام کر رہی ہیں۔

    لڑائی میں شدت آنے کے بعد برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جاپان، سعودی عرب، جنوبی کوریا اور امریکہ سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں سے لبنان چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔

  20. برطانیہ کا اپنے شہریوں سے لبنان فوری چھوڑنے کی اپیل

    بیروت ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی میں شدت کے بعد برطانیہ کے وزیرِ اعظم نے لبنان میں مقیم برطانوی شہریوں کو وہاں سے فوری نکل جانے کی ہدایت کی ہے۔

    سر کیئر سٹامر کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت ہنگامی منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’ہم ممکنہ طور پر جنگ کے دہانے پر ہیں۔‘

    برطانیہ کی وزارت دفاع لبنان سے اپنے شہریوں کے ممکنہ انخلا کے لیے 700 فوجی قبرص بھیج رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت اپنے شہریوں کو لبنان کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دے رہی ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً 10,000 برطانوی شہری لبنان میں موجود ہیں۔

    آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جاپان، سعودی عرب، جنوبی کوریا اور امریکہ سمیت متعدد دیگر ممالک نے بھی اپنے شہریوں سے لبنان چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔