یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
تازہ ترین خبروں اور تـجزیوں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کا تعلق مختلف ممالک سے ہے، جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ جو افراد زخمی ہوئے ہیں اُن میں سے متعدد بری طرح سے جھلس گئے ہیں۔ ریسکیو کارروائیوں میں 10 ہیلی کاپٹرز، 40 ایمبولینسز اور 150 ریسکیو ورکرز نے حصہ لیا۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
تازہ ترین خبروں اور تـجزیوں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے اس الزام کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا کہ یوکرین نے صدر ولادیمیر پوتن کی ایک رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ ماسکو جھوٹے دعوؤں کے ذریعے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے دعویٰ کیا کہ اتوار کی شب یوکرین نے 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز پوتن کی ریاستی رہائش گاہ، شمال مغربی نووگورود خطے میں، لانچ کیے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد وہ امن مذاکرات میں اپنی پوزیشن پر نظرِ ثانی کرے گا۔ یہ واضح نہیں کہ مبینہ حملے کے وقت پوتن کہاں موجود تھے۔
زیلنسکی نے اس الزام کو ’روسی جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کریملن کو یوکرین پر مزید حملوں کا بہانہ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ روس کا یہ دعویٰ یوکرین پر مزید حملوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
زیلنسکی نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’سب کو اب چوکس رہنا ہوگا۔ بالکل سب کو۔ دارالحکومت (کئیو) پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ روس امن قائم کرنے کی کوششوں کو ناکامی سمجھتا ہے اور حملے جاری رکھنے کے لیے ’وجوہات تلاش کر رہا ہے‘۔ زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ ’دنیا کو اب خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں روس کو پائیدار امن کے عمل کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے پیر کو ٹیلیگرام پر کہا کہ تمام 91 ڈرونز روسی فضائی دفاع نے تباہ کر دیے اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ’کئیو کے مجرمانہ نظام کی مکمل تنزلی کے بعد، جو ریاستی دہشت گردی کی پالیسی پر اتر آیا ہے، روس اپنی مذاکراتی پوزیشن پر نظرِ ثانی کرے گا۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ روس امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل سے نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
منگل کو کریملن نے کہا کہ وہ مبینہ حملے کے ثبوت فراہم نہیں کرے گا، لیکن ترجمان نے کہا کہ روس اب مذاکرات کے دروان اپنے مؤقف میں ’سختی‘ لائے گا۔
یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے دیگر ممالک سے اپیل کی کہ وہ روس کے ’جھوٹے دعوؤں‘ پر ردِعمل نہ دیں۔
یوکرینی نائب وزیر خارجہ آندری سبیہا نے ایک بیان میں کہا کہ ’تقریباً ایک دن گزر گیا ہے اور روس نے اب تک کوئی قابلِ اعتبار ثبوت فراہم نہیں کیا۔ اور وہ نہیں کرے گا۔ کیونکہ ایسا کوئی حملہ ہوا ہی نہیں۔‘
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اتوار کو فلوریڈا میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات ہوئے، جہاں صدر ٹرمپ اور زیلنسکی نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نظرِ ثانی شدہ امن منصوبے پر بات کی۔
زیلنسکی نے پیر کو فاکس نیوز کو بتایا کہ ’ممکن ہے یہ جنگ 2026 میں ختم ہو جائے‘، لیکن انھوں نے کہا کہ یوکرین امریکہ کی حمایت کے بغیر جنگ نہیں جیت سکتا۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ’انتہائی سخت اقدامات‘ کے لیے تیار ہیں اور اس صورتحال میں امریکہ امن کے عمل کو تیز کر سکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ انھیں پوتن پر اعتماد نہیں اور پوتن یوکرین کے لیے امن نہیں چاہتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے یوکرین کو 15 سال کے لیے سکیورٹی ضمانتیں دینے کی پیشکش کی ہے اور ٹرمپ نے کہا کہ اس پر معاہدہ ’95 فیصد طے پا گیا‘ ہے۔
یوکرین کے صدر نے کہا کہ علاقائی مسائل اور روس کے زیرِ قبضہ زاپرویژیا جوہری پلانٹ ابھی تک حل طلب ہیں، جبکہ دونباس خطے کے مستقبل پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ روس اس خطے پر مکمل قبضہ چاہتا ہے اور فی الحال دونتسک کے تقریباً 75 فیصد اور لوہانسک کے 99 فیصد حصے پر قابض ہے۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ انھوں نے پوتن کے ساتھ ایک ’مثبت کال‘ مکمل کی ہے۔ کریملن کے مشیر یوری اوشاکوف نے کہا کہ پوتن نے اس کال میں مبینہ حملے کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ ’امریکہ اور یوکرین کے کامیاب مذاکرات کے فوراً بعد‘ ہوا۔ اوشاکوف کے مطابق ٹرمپ اس خبر پر ’غصے میں‘ تھے اور کہا کہ وہ یقین نہیں کر سکتے کہ ایسا اقدام کیا گیا ہے۔
بعد میں ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے پہلے کہا کہ انھیں اس واقعے کے بارے میں علم نہیں، لیکن بعد میں بتایا کہ پوتن نے انھیں اس بارے میں آگاہ کیا اور وہ ’بہت ناراض‘ ہوئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ نے روسی دعوے کے ثبوت دیکھے ہیں، تو انھوں نے کہا کہ ’ہم دیکھ لیں گے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ شاید حملہ ہوا ہی نہیں — یہ بھی ممکن ہے۔ لیکن صدر پوتن نے مجھے آج صبح بتایا کہ یہ ہوا ہے۔‘

تہران میں آج کے مظاہروں سے جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں تہران کے شش سکوائر کے قریب صابونین سٹریٹ پر کم از کم 11 افراد کی گرفتاری کو دکھایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران میں کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف تاجروں اور دکانداروں کے احتجاج کے دوران تہران نے تاجروں کے لیے ٹیکسز میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
ٹیکس ادارے کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ تین اہم فیصلے سرانِ قوا کی منظوری سے نافذ کیے گئے ہیں تاکہ تاجروں کو ٹیکس میں رعایت دی جا سکے۔ ان اقدامات میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نوٹسز پر نظرِ ثانی، کارڈ مشین کی رسید کو بطور الیکٹرانک انوائس قبول کرنے کی مدت میں توسیع، اور ٹیکس جرمانوں کی معافی شامل ہے۔
اس فیصلے کے تحت الیکٹرانک انوائس جاری نہ کرنے پر 100 فیصد جرمانے کی معافی ایک سال کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مہنگائی کے خلاف احتجاج صرف تاجروں تک محدود نہیں رہا بلکہ عام شہری بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔

تہران چیمبر آف کامرس کے سربراہ حمیدرضا رستگار نے کہا کہ ’زرِ مبادلہ کی اتار چڑھاؤ نے تمام کاروباروں پر سنگین اثرات ڈالے ہیں۔ امید ہے کہ ایک دن آئے گا جب ڈالر اور زرِ مبادلہ ہماری معیشت سے ختم ہو جائیں گے کیونکہ یہ ملک کے لیے آفت ہیں۔ اس بحران سے نکلنا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے ماہرین کو ذمہ داری دی جانی چاہیے۔‘
تاجروں اور دکانداروں کا احتجاج دو روز قبل شروع ہوا تھا، جب کئی دکانیں تہران اور دیگر شہروں میں بند کر دی گئیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کے بعد کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، کیونکہ فروخت کے بعد انھیں وہی سامان زیادہ قیمت پر دوبارہ خریدنا پڑتا ہے۔

ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا اور تہران کی مختلف یونیورسٹیوں میں طلبا بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
تہران یونیورسٹی، شہید بہشتی، خواجہ نصیر، شریف اور علم و صنعت یونیورسٹی کے طلبا نے مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف احتجاجی مارچ اور اجتماعات کا انعقاد کیا۔ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران اور بہشتی یونیورسٹی میں بڑی تعداد میں طلبہ جمع ہوئے۔
بی بی سی کو موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کرمانشاہ کے علاقے میں مظاہرین پر سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس فائر کیا۔ اس دوران مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف نعرے لگائے اور دوبارہ آنسو گیس استعمال کی گئی۔
ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران کی جمہوریہ سٹریٹ پر مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔
گذشتہ دنوں ایران کے مختلف شہروں میں عوام اور تاجروں نے ڈالر کی قیمت میں اضافے کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ اتوار کے روز ڈالر کی قیمت ایک موقع پر 144 ہزار تومان سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
27 دسمبر سے شروع ہونے والے احتجاجات گذشتہ روز بھی تہران، ملارد، قشم اور ہمدان میں دیکھے گئے۔ اسی دوران 29 دسمبر کو مزید مظاہروں اور ہڑتالوں کی کال بھی دی گئی۔
آج بھی کرمانشاہ، شیراز اور تہران میں احتجاجی اجتماعات ہوئے، جبکہ تہران کی جامعات اور بازار سے بھی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
دوسری جانب تہران کی خیام سٹریٹ سے بی بی سی کو موصولہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکیورٹی اہلکار موجود ہیں اور آنسو گیس فائر کی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک عینی شاہد کے مطابق مظاہرین گلوبندگ چوک سے خیام سٹریٹ کی طرف آئے، جہاں اہلکاروں نے ان پر حملہ کیا۔ اس علاقے میں عام کپڑوں میں موجود افراد کی موجودگی کی بھی اطلاع ملی ہے۔
رپورٹوں کے مطابق تہران میں مظاہرین کی تعداد گذشتہ دو دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہے اور مزید علاقوں میں احتجاج پھیل گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہLabour Camp
ایرانی خبر رساں ادارے ایسنا کے مطابق بعض بڑے سٹورز اور چھوٹے دکانداروں کے شیلفز پر خوردنی تیل یا تو بالکل خالی ہیں یا صرف چند غیر معروف برانڈز کی محدود مقدار رکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال صارفین کو مجبور کرتی ہے کہ یا تو وہ غیر پسندیدہ برانڈ خریدیں یا خریداری سے دستبردار ہو جائیں۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں انھیں کوئی کوٹہ فراہم نہیں کیا گیا اور تقسیم کار کمپنیوں نے سپلائی روک دی ہے یا کم کر دی ہے، جس کے نتیجے میں قلت براہِ راست دکانوں کے شیلفز تک پہنچ گئی ہے۔
تہران کی بنی ہاشم سٹریٹ سے موصولہ ویڈیوز میں مظاہرین ’رضا شاہ، روحت شاد‘ کے نعرے لگاتے نظر آتے ہیں۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے تہران میں دو سابق افغان فوجی اہلکاروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ سکیورٹی اور انتظامی ادارے اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس واقعے سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ افغانستان کے سابق پولیس کمانڈر اکرام الدین سری کو مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 7:30 بجے اُس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ تہران میں اپنے دو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ دفتر سے نکل رہے تھے۔
اکرام الدین سری کو ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن سر پر گہرے زخم آنے کے باعث ان کی موت واقع ہو گئی جبکہ ان کے ساتھ دیگر دو ساتھیوں میں سے بھی ایک ہلاک جبکہ دوسرا زخمی حالت میں ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں اس واقعے کو ’دو افغان پناہ گزینوں پر مسلح حملہ‘ قرار دیا اور کہا کہ ’ابتدا ہی سے یہ معاملہ ہمارے سکیورٹی اور انتظامی اداروں کی جانب سے سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔‘
یہ ایران کی جانب سے اس واقعے پر پہلا باضابطہ ردِعمل ہے۔
اقوامِ متحدہ کے افغانستان میں انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینٹ نے بھی ان افغان سابق فوجی اہلکاروں کے قتل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ جرائم آزادانہ طور پر تحقیقات کے قابل ہیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔‘
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہزاروں سابق فوجی اور سکیورٹی اہلکار ایران منتقل ہوئے تھے۔ اکرام الدین سریع بھی انہی میں شامل تھے۔
طالبان پر قتل کا الزام
ابھی تک ایرانی پولیس نے اس واقعے کی تفصیلات جاری نہیں کیں اور نہ ہی کسی گروہ نے ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم افغانستان کے بعض سیاسی رہنماؤں نے اس کا الزام طالبان پر عائد کیا ہے۔
سابق نائب صدر یونس قانونی نے کہا کہ یہ قتل ’طالبان کے انٹیلی جنس اداروں‘ نے کیا ہے اور دعویٰ کیا کہ طالبان اب ’سرحد پار کارروائیاں‘ کر رہے ہیں۔
احمد مسعود، جو ’جبهہ مقاومت ملی‘ پارٹی کے سربراہ ہیں، نے ایران میں افغان سابق فوجی اہلکاروں کے قتل کو ’منظم‘ واقعہ قرار دیتے ہوئے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان واقعات کی سنجیدگی سے تحقیقات کریں۔
یہ واقعہ رواں سال ایران میں طالبان مخالف افغان سابق فوجی اہلکاروں کے قتل کا دوسرا واقعہ ہے۔ چار ماہ قبل مشہد میں سابق جہادی کمانڈر معروف غلامی بھی قتل کر دیے گئے تھے۔
طالبان مخالف ایک اور گروہ ’جبهہ آزادی‘ نے کہا ہے کہ تہران میں حالیہ فائرنگ ’سابق افغان فوجی اہلکاروں کو جسمانی طور پر ختم کرنے کی طالبان کی پالیسی کا حصہ ہے۔‘
اکرام الدین سری 2021 سے تہران میں مقیم تھے

،تصویر کا ذریعہSocial Media
اکرام الدین سری نے 2017 سے 2019 تک سابق افغان صدر اشرف غنی کے دور حکومت میں صوبہ بغلان کے پولیس کمانڈر کے طور پر کام کیا اور بعد میں صوبہ تخار کے پولیس کمانڈر بن گئے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 2021 میں وہ ایران منتقل ہو گئے تب سے وہ تہران میں مقیم تھے۔
بی بی سی کو زرائع نے بتایا کہ اکرام الدین سری سابق فوجیوں کے ساتھ سرگرم تھے تاکہ ایرانی حکومت سے رہائش کا اجازت نامہ حاصل کیا جا سکے۔ یہ اجازت نامہ سابق فوجیوں کو ایران سے افغانستان واپس بھیجے جانے سے روکتا ہے۔‘
زرائع کے مطابق واقعے سے پہلے اکرام الدین سری کو ایک فون کال موصول ہوئی تھی جس میں کال کرنے والے نے اس مشکل حل کرنے میں تعاون کی درخواست کی تھی۔
افغانستان میں جمہوری نظام کے خاتمے اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغان فوج اور پولیس کے ہزاروں سابق ارکان ایران میں پناہ گزین ہوئے اور اب بھی وہاں مقیم ہیں۔
حالیہ مہینوں میں ایران سے افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری میں اضافے کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ ان میں ایسے سابق فوجی بھی شامل ہیں جن کی زندگیاں افغانستان واپس جانے پر خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
تاہم طالبان حکومت نے کہا ہے کہ 2021 میں عام معافی کے اعلان کے بعد سابق افغان حکومت کے کسی بھی رکن کو اُن کی جانب سے باضابطہ طور پر مقدمے کا سامنا نہیں ہے۔

محکمہ موسمیات نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے، جبکہ بالائی پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان ہے۔
چترال، دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، ملاکنڈ، بونیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، مردان، پشاور سمیت قبائلی اضلاع میں بارش اور برفباری متوقع ہے۔ صوبے کے میدانی علاقوں میں دھند پڑنے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق برفباری کے باعث ناران، کاغان، چترال، دیر، سوات، ملاکنڈ، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ اور گلیات میں سڑکوں کی بندش اور پھسلن کا خدشہ ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا امکان بھی موجود ہے۔
پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا نے مسافروں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چترال اور دروش میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ میرکھانی میں معمولی بارش ہوئی۔
پاراچنار میں آج کم سے کم درجہ حرارت منفی دو ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق پشاور میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ کر 301 پوائنٹس تک پہنچ گئی ہے۔ ایبٹ آباد میں یہ سطح 195، ہری پور میں 166، بفہ میں 163 جبکہ مالم جبہ میں 28 ریکارڈ کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہBBC/Getty Images
لاہور کے الیکشن ٹربیونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 سے سابق وزیرِاعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی کامیابی کے خلاف دائر انتخابی عذرداری مسترد کر دی ہے۔
سابق سیشن جج زاہد محمود رانا پر مشتمل ٹربیونل نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواست تکنیکی بنیادوں پر ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے الیکشن کمیشن کے اُس نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت نواز شریف کو حلقہ این اے 130 سے کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ فارم 45 کے مطابق وہ کامیاب ہوئیں، تاہم فارم 47 میں نواز شریف کو فاتح قرار دیا گیا۔
سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل بیرسٹر اسد اللہ نے اعتراض اٹھایا کہ انتخابی عذرداری مقررہ مدت کے بعد دائر کی گئی، اس لیے قابلِ سماعت نہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل رانا مدثر نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے کیونکہ ان کے مطابق درخواست کو محض تکنیکی بنیادوں پر خارج کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ فروری 2024 کے عام انتخابات میں این اے 130 لاہور سے نواز شریف 1,71,024 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے 1,15,043 ووٹ حاصل کیے تھے۔
یاسمین راشد اس وقت جیل میں ہیں اور انھیں نو مئی سمیت متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔
پاکستان کے تین بار کے سابق نواز شریف نے گذشتہ انتخابات میں مانسہرہ سے بھی قومی اسمبلی کے حلقے سے انتخابات میں حصہ لیا تھا مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ نواز شریف اس وقت قومی سیاست میں زیادہ متحرک نظر نہیں آتے۔
اب سوال یہی ہے کہ کیا تین مرتبہ کے وزیر اعظم پاکستان کی سیاست میں غیر متعلق ہو رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے کہا ہے کہ شمالی افغان صوبوں بدخشاں، بلخ اور قندوز میں سروے کیے گئے 85 فیصد گھرانے یا تو افیون کی آمدنی کا کوئی متبادل نہیں تلاش کر سکے یا صرف جزوی متبادل تلاش کر پائے ہیں۔
ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’کسان افیون کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے نقصان کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بہت سے کسان کپاس اور مکئی جیسی زیادہ قیمت والی فصلوں کی کاشت بڑھا رہے ہیں یا کھیتوں کو بنجر چھوڑنے کے بجائے زیرِ کاشت رقبہ بڑھا رہے ہیں۔ سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ بدخشاں، بلخ اور قندوز میں بڑی تعداد میں گھرانے افیون کی کاشت پر پابندی کے بعد اپنی آمدنی مکمل طور پر بحال نہیں کر سکے۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’وہ دیہات جہاں پابندی سے پہلے افیون کی کاشت ہوتی تھی، وہاں سماجی و اقتصادی حالات میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، کیونکہ آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ختم ہو گیا تھا۔ یہ صورتحال اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ افیون کی دوبارہ کاشت کو روکنے کے لیے پائیدار اور قابلِ عمل متبادل ذرائع آمدنی کی ضرورت ہے۔‘
یو این او ڈی سی کے مطابق تینوں صوبوں میں افیون کی کاشت روکنے کی سب سے بڑی وجہ ’جبری اقدامات‘ تھے۔
طالبان نے تاحال اس رپورٹ پر کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔
نومبر میں جاری کردہ ’افغانستان اوپیئم سروے 2025‘ میں ادارے نے بتایا تھا کہ 2025 میں افیون کی کاشت کا رقبہ 2024 کے مقابلے میں 20 فیصد کم رہا، جبکہ پیداوار میں 32 فیصد کمی آئی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ 2022 میں طالبان رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے افیون کی کاشت پر پابندی کے اعلان کے بعد ملک میں افیون اور بھنگ کی کاشت میں 95 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images/Social Media
اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوغان آج استنبول میں اپنے صومالی ہم منصب حسن شیخ محمود سے ملاقات کریں گے۔
ترک ایوان صدر کے مطابق دونوں رہنما تعلقات کے تمام پہلوؤں پر غور کریں گے اور تعاون کو مزید گہرا کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیں گے۔ یہ ملاقات اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے بعد ہو رہی ہے۔
اردوغان اور صومالی صدر کی مشترکہ پریس کانفرنس بھی متوقع ہے۔
ترک ایوان صدر نے کہا کہ دونوں رہنما صومالیہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تازہ صورتحال، وفاقی حکومت کے قومی اتحاد کو یقینی بنانے کے اقدامات اور علاقائی پیش رفت پر بھی بات کریں گے، تاہم اسرائیل کے فیصلے کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔
ترکی اور صومالیہ نے حالیہ برسوں میں فوجی، اقتصادی اور سیاسی تعاون کو مزید بڑھایا ہے۔ ترکی موغادیشو میں کیمپ ترک سوم میں صومالی فوجی افسران کو تربیت دیتا ہے، جسے ترکی کا سب سے بڑا بیرونِ ملک فوجی اڈہ قرار دیا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سنہ 2017 سے اب تک کم از کم چھ ہزار صومالی فوجی ترکی میں تربیت حاصل کر چکے ہیں۔
دونوں ممالک نے فروری 2024 میں ایک بڑے سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جبکہ مارچ 2024 میں تیل اور قدرتی گیس کی تلاش کے حوالے سے بھی ایک معاہدہ کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی وفاقی حکومت نے 29 دسمبر کو دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے 8.8 ارب ڈالر کے منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ فیصلے ڈیفنس ایکوزیشن کونسل (ڈی اے سی) نے کیے، جو وزارت دفاع کا سب سے بڑا فیصلہ ساز ادارہ ہے۔
منظور کیے گئے منصوبوں میں بری، بحری اور فضائی افواج کے لیے مختلف ساز و سامان شامل ہیں، جن میں لوئٹر میونیشن سسٹمز، ریڈارز، گائیڈڈ راکٹ گولہ بارود اور ڈرون ڈیٹیکشن سسٹمز شامل ہیں۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’آج کیے گئے فیصلے مسلح افواج کی عملی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔‘
خبر رساں چینل سی این بی سی ٹی وی 18 کے مطابق اس منظوری سے دفاعی مصنوعات کی مزید مقامی تیاری کا راستہ بھی ہموار ہوگا۔۔
ایک اور دفاعی پیش رفت میں ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) نے 29 دسمبر کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ راکٹ (ایل آر جی آر 120) ’پیناکا‘ کا پہلا کامیاب تجربہ کیا۔
راج ناتھ سنگھ نے اس کامیابی کو ’گیم چینجر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسلح افواج کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے اماراتی ہم منصب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے درمیان یمن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
29 دسمبر کو ٹیلیگرام پر ایرانی وزارت خارجہ کے چینل نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی جس دوران عراقچی نے ’تمام علاقائی ممالک پر زور دیا کہ وہ یمن میں اتحاد اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران یمن میں بحران کے حل کے لیے قومی اتحاد پر مبنی بات چیت کو اہم سمجھتا ہے۔
اس بیان کے مطابق اماراتی وزیر نے یمن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ابوظہبی کی کوششوں کا ذکر کیا۔ انھوں نے ملک اور وسیع تر خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
پیر کو عراقچی نے عمان کے وزیر خارجہ سے بھی فون پر بات چیت کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے جنوبی یمن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک کی علاقائی سالمیت اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
گذشتہ دو دنوں میں عراقچی نے یمن کے معاملے پر اپنے قطری، اماراتی اور سعودی ہم منصبوں کے ساتھ اسی نوعیت کی بات چیت کی ہے۔
تہران کی سفارتی کوششیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) نے حالیہ کارروائیاں کی ہیں۔
یہ علیحدگی پسند گروہ ماضی میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے علاقائی اتحاد کا حصہ تھا لیکن اس نے بڑھتی ہوئی خودمختاری کی بدولت یمن کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کیا ہے۔
ان کارروائیوں کو وسیع پیمانے پر ریاض اور ابوظہبی کے درمیان مفادات کے اختلاف کی علامت سمجھا جا رہا ہے، جو شمال میں حوثیوں کے خلاف ایک ہی اتحاد کا حصہ تھے۔
عراقچی اور البوسعیدی کے درمیان کال ایک ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن کے دورے پر تھے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے بیلسٹک میزائل یا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکہ ایک بڑا حملہ کر سکتا ہے۔
عمان تہران اور مغرب کے درمیان ایک اہم ثالث ہے۔ اس نے اپریل اور مئی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔ مذاکرات کا چھٹا دور 15 جون کو ہونا تھا جسے اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد منسوخ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ سعودی سربراہی میں قائم اتحاد نے یمن میں ایک فضائی حملے میں ایسے ہتھیاروں اور کامبیٹ گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے جو کہ متحدہ عرب امارات سے آنے والے جہازوں سے اتاری جا رہی تھیں۔
اس بیان میں سعودی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا کہ یمن میں موجود بندرگاہ مكلا کو بیرونی فوجی امداد حاصل ہے جس کے خلاف محدود فضائی کارروائی کی گئی ہے۔
کچھ روز قبل سعودی اتحاد نے یمن کے جنوب میں واقع علیحدگی پسند گروہ کو متنبہ کیا تھا کہ وہ ملک کے مشرقی صوبے حضرموت کی طرف پیش قدمی روک دے۔
رواں ماہ کے آغاز میں یمن کے جنوب میں موجود علیحدگی پسندوں کی کارروائی کے باعث متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فوجی دستے آمنے سامنے آئے تھے۔
خیال رہے کہ یمن 2014 سے خانہ جنگی سے متاثرہ ہے۔ یمن کے مقامی ذرائع ابلاغ پر دسمبر کے اوائل سے یہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ جنوبی یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
سعودی اتحاد کا بیان اور پس منظر
سعودی سربراہی میں قائم اتحاد کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں واقع فجیرہ بندرگاہ سے آنے والے دو جہاز سنیچر اور اتوار کو مکلا بندرگاہ میں بغیر اجازت داخل ہوئے، انھوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیے اور بڑی تعداد میں ہتھیار اور جنگی گاڑیاں اتاریں ’تاکہ ایس ٹی سی کی حمایت کی جا سکے۔‘
سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ مکلا بندرگاہ پر حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
تاحال متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کی جانب سے حضرموت اور المہرا میں شہریوں کے تحفظ کی درخواست پر سعودی اتحاد نے منگل کی صبح ایک محدود فضائی کارروائی کی جس میں اتارے گئے ہتھیاروں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
خیال رہے کہ علیحدگی پسند گروہ ایس ٹی سی ابتدا میں یمن میں حوثیوں کے خلاف قائم کردہ سعودی اتحاد کا حصہ تھا۔ تاہم بعد میں ایس ٹی سی نے جنوب میں خودمختاری حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
2022 سے ایس ٹی سی اور سعودی حمایت یافتہ اتحاد کے درمیان حوثیوں کے کنٹرول سے باہر جنوبی علاقوں میں طاقت کی تقسیم رہی ہے۔
ایس ٹی سی یمن کے جنوب کے بڑے حصے پر قابض ہے جن میں سٹریٹیجک طور پر اہم حضرموت صوبہ بھی شامل ہے۔ حضرموت سعودی عرب کی سرحد پر واقع ہے اور اس کے ساتھ ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں۔
حوثی ملک کے شمالی حصے پر قابض ہیں بشمول دارالحکومت صنعا جہاں سے انھوں نے سعودی حمایت یافتہ حکومت کو 2014 میں نکال دیا تھا اور شمال کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔
سعودی اتحاد نے مزید کہا کہ ’ہم کسی بھی ملک کی جانب سے کسی یمنی گروہ کو فوجی مدد فراہم کرنے سے روکنا جاری رکھیں گے۔‘
اس کشیدگی کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ’ہم تحمل اور مسلسل سفارت کاری کی اپیل کرتے ہیں تاکہ ایک پائیدار حل تک پہنچا جا سکے۔‘
جبکہ سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے ایکس پر پوسٹ کیے گئے پیغام میں کہا ہے کہ ایس ٹی سی کے فوجیوں کو چاہیے کہ وہ دو علاقائی صوبوں کو حکومت کے حوالے ’پرامن طریقے‘ سے کر دیں۔
لیکن ایس ٹی سی نے جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اپنے خلاف ان کارروائیوں کے باوجود پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ڈھاکہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے پیر کو بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات کے دوران یہ امید ظاہر کی ہے کہ ڈھاکہ اور کراچی کے درمیان براہِ راست پروازیں جنوری میں شروع ہو جائیں گی۔
محمد یونس نے ایک پیغام میں بتایا ہے کہ اس ملاقات کے دوران ’پاکستان کے ہائی کمشنر نے کہا کہ ڈھاکہ-کراچی براہ راست پروازیں جنوری سے شروع ہونے کی توقع ہے۔‘
گذشتہ سال شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے اور پروفیسر یونس کی قیادت میں نئی عبوری انتظامیہ کے قیام کے بعد سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے بیچ تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
پیر کی ملاقات کے بارے میں دونوں ملکوں کے حکام نے بتایا ہے کہ اس میں دونوں فریقین نے تجارت، سرمایہ کاری اور فضائی رابطوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ثقافتی، تعلیمی اور طبی تبادلوں کو فروغ دینے پر بات کی تاکہ دونوں جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں۔
حیدر نے ملاقات میں یہ بھی بتایا کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں دوطرفہ تجارت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے اور دونوں ممالک کے کاروباری حلقے نئی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
ہائی کمشنر نے ثقافتی تبادلوں میں ’نمایاں اضافہ‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’بنگلہ دیشی طلبہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع، خصوصاً میڈیکل سائنسز، نینو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں گہری دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کے بڑے ہسپتالوں میں جگر اور گردے کے ٹرانسپلانٹ کے لیے آنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔‘
بیان کے مطابق ہائی کمشنر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ٹرانسپلانٹ سے متعلق طبی شعبوں میں ’تربیت اور تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ بنگلہ دیش کے عبوری رہنما نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کا خیرمقدم کیا اور زور دیا کہ سارک کے رکن ممالک کے درمیان دو طرفہ دوروں کے ساتھ ساتھ ثقافتی، تعلیمی اور عوامی سطح پر تبادلوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر یونس نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان تجارت کو مزید فروغ دینا چاہیے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ ہائی کمشنر کے دور میں دونوں ممالک سرمایہ کاری اور مشترکہ کاروباری منصوبوں کے نئے مواقع تلاش کریں گے۔
اگست میں، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی پروفیسر یونس سے ملاقات کی تھی۔
پاکستان اور بنگلہ دیش نے ایک ماہ قبل اس بات پر بھی اتفاق کیا تھا کہ دونوں ممالک کے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو ویزا فری داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Image
آسٹریلوی پولیس کا کہنا ہے کہ بونڈائی ساحل پر حملے میں ملوث دونوں مسلح افراد شدت پسندوں کے کسی وسیع سیل کا حصہ نہیں تھے اور انھوں نے انفرادی طور پر یہ حملہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ رواں ماہ یہودیوں کی ایک مذہبی تقریب پر اس حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 50 سالہ ساجد اکرم اور ان کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم یکم نومبر کو فلپائن گئے تھے۔ پولیس کے مطابق انھوں نے یکم نومبر کو منیلا میں لینڈ کیا تھا اور اگلے دن وہ داواؤ شہر چلے گئے تھے جبکہ ان کی سڈنی واپسی 29 نومبر کو ہوئی تھی۔
پولیس کا کہنا تھا کہ باپ بیٹے نے 14 دسمبر کے حملے کے لیے فلپائن میں کوئی ’تیاری یا تربیت حاصل نہیں کی تھی۔‘ فلپائن کے مقامی حکام کے ساتھ تحقیقات کے دوران ابتدائی طور پر آسٹریلوی پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ نوید اور ساجد ’بہت کم ہوٹل سے باہر نکلتے تھے۔‘
آسٹریلیا میں یہ حملہ 1996 کے بعد فائرنگ کا سب سے ہلاک خیز واقعہ ہے۔
منگل کو آسٹریلوی فیڈرل پولیس کمشنر کریسی بیریٹ نے میڈیا کو بتایا کہ فلپائن میں مبینہ حملہ آوروں کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج آسٹریلوی حکام کے حوالے کر دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم اس مواد کا جائزہ لے رہے ہیں‘ اور مزید بتایا کہ ابتدائی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’یہ افراد مبینہ طور پر اکیلے ہی کارروائی کر رہے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی شواہد نہیں کہ ساجد اور نوید ’کسی بڑے دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ تھے یا انھوں نے کسی اور کے کہنے پر حملہ کیا۔‘
کمشنر بیریٹ نے یہ بھی کہا کہ یہ دونوں افراد فلپائن سیاحت کے لیے نہیں گئے تھے۔ انھوں نے زور دیا کہ چونکہ تحقیقات جاری ہیں اس لیے نئے شواہد یا معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔
اس سے قبل آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ دونوں حملہ آور ’داعش کے نظریات سے متاثر‘ تھے۔
ساجد پولیس کی فائرنگ میں ہلاک ہوگئے تھے جبکہ نوید پولیس کی تحویل میں ہیں اور انھیں قتل اور دہشتگردی کے مقدمات میں اپریل کے دوران عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
فائرنگ کے بعد فلپائن کے امیگریشن بیورو نے بی بی سی کو بتایا کہ ساجد انڈین پاسپورٹ پر فلپائن داخل ہوئے تھے جبکہ نوید کے پاس آسٹریلوی پاسپورٹ تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی رہائش گاہ ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا سائٹ ’ایکس‘ پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب قیامِ امن کے لیے کوششیں جاری ہیں اس طرح کا اقدام امن، سکیورٹی اور استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے۔
گذشتہ روز روس کے وزیر خارجہ سرگئے لاوروف نے دعویٰ کیا کہ کیئو نے رات کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے بغیر پائلٹ کے ہوائی جہازوں (UAVs) کے ذریعے روس کے شمال مغربی علاقے نووگورود میں پوتن کے سرکاری رہائش گاہ پر حملہ کیا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے اس الزام کی تردید کرتے ہوے ماسکو پر امن مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ اس موقع پر پاکستان روس کے صدر اور عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہر طرح کے تشدد اور ہر اُس اقدام کی نفی کرتا ہے جو سکیورٹی اور امن کے لیے خطرے کا باعث بنے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے حالیہ امریکہ کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ اور زیلنسکی نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایک ترمیم شدہ امن منصوبے پر بات چیت کی۔
زیلنسکی نے کہا کہ امریکہ نے یوکرین کو 15 سال تک سکیورٹی کی ضمانت دی ہے اور ٹرمپ نے کہا کہ اس نکتے پر معاہدہ ’تقریبا 95 فیصد‘ ہو چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ یوکرین نے صدر ولادیمیر پوتن کی ایک رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کیا، اور انھوں نے ماسکو پر امن مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئے لاوروف نے دعویٰ کیا کہ کیئو نے رات کو 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے بغیر پائلٹ ہوائی جہازوں (UAVs) کے ذریعے روس کے شمال مغربی نووگورود علاقے میں پوتن کے سرکاری رہائش گاہ پر حملہ کیا۔
روس نے کہا کہ وہ اب امن مذاکرات میں اپنی پوزیشن کا جائزہ لے گا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مبینہ حملے کے وقت پوتن کہاں تھے۔ زیلنسکی نے اس دعوے کو ’روایتی روسی جھوٹ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا، جس کا مقصد کریملن کو یوکرین پر حملے جاری رکھنے کا بہانہ دینا تھا۔
انھوں نے کہا کہ روس نے پہلے کیئو میں سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا تھا۔
زیلنسکی نے ایکس پر مزید کہا کہ ’یہ بہت ضروری ہے کہ دنیا اب خاموش نہ رہے۔ ہم روس کو پائیدار امن کے حصول کے کام کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘
پیر کو ٹیلیگرام پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں، لاوروف نے کہا کہ وہ تمام 91 ڈرونز جن کے بارے میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ پوتن کی رہائش گاہ پر لانچ کیے گئے تھے، روسی فضائی دفاعی نظاموں نے انھیں روکا اور تباہ کر دیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ حملے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان یا نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
انھوں نے کہا،’کیئوحکومت کی آخری زوال پذیری کے پیش نظر، جو ریاستی دہشت گردی کی پالیسی اختیار کر چکی ہے، روس کی مذاکراتی پوزیشن کو تبدیل کیا جائے گا۔‘
لیکن انھوں نے مزید کہا کہ روس امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل سے باہر نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
ماسکو کا یہ دعویٰ اتوار کو فلوریڈا میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں صدر ٹرمپ اور زیلنسکی نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایک ترمیم شدہ امن منصوبے پر بات چیت کی۔
زیلنسکی نے کہا کہ امریکہ نے یوکرین کو 15 سال تک سکیورٹی گارنٹیز دی ہیں، اور ٹرمپ نے کہا کہ اس نکتے پر معاہدہ ’تقریبا 95 فیصد‘ ہو چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے اپنے حالیہ دورہ لاہور کے دوران پیش آنے والے واقعات پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو احتجاجی مراسلہ بھیج دیا ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ دورے کے دوران معاملات کو جس انداز میں نمٹایا گیا وہ ’کوتاہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیا گیا عمل‘ تھا۔ سہیل آفریدی کے مطابق یہ انتظامی خامی یا حادثہ نہیں بلکہ ’آئینی عہدے اور بین الصوبائی عزت کو مجروح کرنے کی کوشش‘ تھی۔
انھوں نے کہا کہ وہ 40 ملین عوام کے نمائندے کی حیثیت سے لاہور گئے تھے لیکن ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسی عوامی نمائندے کے شایانِ شان نہ تھا۔ ان کے مطابق مارکیٹیں اور عوامی مقامات بند کیے گئے جس سے لاہور کے شہریوں کو تکلیف پہنچی، حتیٰ کہ موٹروے ریسٹ ایریا بھی بند رکھا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے الزام لگایا کہ ان کے دورے کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی اور اسے منشیات سمگلنگ سے جوڑا گیا، جو ان کے بقول پنجاب حکومت کی نگرانی میں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ اس رویے سے ان کی شخصیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مراسلے میں مزید کہا گیا کہ انتظامی طور پر ایسے حربے استعمال کیے گئے جن کا مقصد ’تضحیک‘ تھا اور اس طرح ریاستی یونٹس کے درمیان ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
سہیل آفریدی نے اپنے مراسلے میں مطالبہ کیا کہ اس رویے کا ازالہ کیا جائے اور مستقبل میں اس سے اجتناب برتا جائے۔ انھوں نے کہا کہ یہ خط باقاعدہ احتجاجی مراسلہ تصور کیا جائے اور آئندہ کسی بھی آئینی، قانونی یا بین الصوبائی کارروائی کے لیے ریکارڈ پر رکھا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس کے عسکری ونگ، القسام بریگیڈز کے نئے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اس تنظیم کے سابق ترجمان ابو عبیدہ ہلاک ہو گئے ہیں۔
نئے ترجمان، جنھوں نے بھی اپنی کنیت ’ابو عبیدہ‘ رکھی ہے، نے بتایا کہ سابق ترجمان کا اصل نام حذیفہ الکحلوت (ابو ابراہیم) تھا۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے 31 اگست 2025 کو اعلان کیا تھا کہ غزہ میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’غزہ میں حماس کے ترجمان ابو عبیدہ کو مار دیا گیا ہے۔‘
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے اس وقت کہا تھا کہ حماس کے بیرونِ ملک رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق ’ہم نے کل حماس کے ایک بڑے رہنما ابو عبیدہ کو نشانہ بنایا۔ ہماری کارروائیاں ختم نہیں ہوئیں، باقی رہنما زیادہ تر بیرونِ ملک ہیں اور ہم ان تک بھی پہنچیں گے۔‘
نئے ترجمان نے مزید کہا کہ حماس کے کئی عسکری کمانڈر بھی مارے گئے ہیں، جن میں محمد السنوار (چیف آف سٹاف)، محمد شبانہ (کمانڈر رفح بریگیڈ)، حکم العیسیٰ (ذمہ دار تربیت و اسلحہ)، رائد سعد (ذمہ دار پیداوار اور کمانڈر غزہ بریگیڈ) اور ابو عبیدہ (سابق ترجمان و میڈیا انچارج) شامل ہیں۔
انھوں نے اعلان کیا کہ القسام بریگیڈز اپنا اسلحہ نہیں چھوڑے گی اور مطالبہ کیا کہ ’قبضے‘ کا ہتھیار چھینا جائے، نہ کہ فلسطینیوں کے ہلکے ہتھیار۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ثالثوں اور عالمی برادری کو اسرائیل کو پابند کرنا چاہیے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کی تمام شقوں پر عمل کرے۔
فلسطین کی عسکریت پسند تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان اسرائیل غزہ جنگ کے دوران نمایاں شخصیات میں سے ایک تھے۔ ان کا نام ابو عبیدہ تھا اور انھیں حماس کی میڈیا مشین کے لقب سے بھی جانا جاتا تھا۔ وہ اکثر سوشل میڈیا پر تنظیم کے پیغامات کو آن لائن پھیلاتے ہوئے نظر آتے تھے۔
ان کا عرفی نام ابو عبیدہ، پیغمبر اسلام کے ساتھیوں میں سے ایک ابو عبیدہ بن الجراح کی نسبت سے رکھا گیا۔ وہ ایک مسلمان فوجی کمانڈر تھے۔ ابو عبیدہ القسام کے کمانڈر محمد الدیف کی طرف سے ’آپریشن طوفان الاقصیٰ‘ کا آغاز کرنے کے بعد ایک معروف شخصیت بن گئے۔ حماس کی طرف سے سات اکتوبر کو اسرائیل پر کیے جانے والے حملے کو حماس نے آپریشن طوفان الاقصیٰ کا نام دیا تھا۔ اس حملے میں جنوبی اسرائیل میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سرخ کوفیہ
ابو عبیدہ کی صحیح شناخت کوئی نہیں جانتا۔ وہ ہمیشہ ویڈیو ریکارڈنگ میں اپنے چہرے کو سرخ کوفیہ (فلسطینی روایتی سکارف) سے ڈھانپ کر آتے تھے۔ وہ ویڈیو میں قرآن کی ایک لکھی ہوئی آیت کے ساتھ کھڑے ہو کر حماس کی عسکری کارروائیوں کی پیشرفت اور ان کی تفصیلات کے بارے میں بتاتے ہوئے دکھائی دیتے۔ ابو عبیدہ اپنے ٹیلیگرام چینل کے ذریعے اپنی تقاریر شیئر کرتے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ٹیلیگرام چینل 2020 میں شروع کیا گیا تھا۔ وہ کسی اور معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سرگرم نہیں رہے۔
ان کی ویڈیو تقریریں سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں اور کئی نیوز چینلز پر نشر ہوتی رہیں۔ لندن سے شائع ہونے والے ایک مشہور عرب روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق ’ابو عبیدہ کو 2002 میں پہلی بار القسام کے فیلڈ عہدیداروں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا تھا۔‘
اخبار کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ اپنا چہرہ ڈھانپ کر میڈیا سے بات کی اور القسام بریگیڈ کے سابق رہنما عماد عقیل کے انداز کو نقل کیا گیا، جسے اسرائیل نے 1993 میں جیل بھیج دیا تھا۔
ابو عبیدہ کے بارے میں مکمل تفصیلات پڑھنے کے لیے اس خبر کو پڑھیے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایران میں سکیورٹی اداروں کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ احتجاج کی لہر سیاسی رخ اختیار کر سکتی ہے۔ ان ایجنسیوں نے بعض مقامات سے احتجاجی مظاہروں کی رپورٹیں بھی شائع کی ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی، جو پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ہے، نے لالہ زار اور علاالدین و چارسو جیسے بازاروں میں دکانداروں اور تاجروں کے احتجاج کی تصدیق کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ کرنسی بحران اور عوامی قوتِ خرید میں کمی نے دکانداروں کو ’معمول کی تجارت‘ سے محروم کر دیا ہے۔
تسنیم نے لکھا کہ ’کچھ دکاندار جو اپنی دکانوں کے بھاری کرایے ادا کرتے ہیں، فروخت میں شدید کمی کے باعث اب یہ کرایہ بھی ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔‘
یہ رپورٹ ’غیرملکی سکیورٹی ادارے اور مخالف ایرانی میڈیا حقِ احتجاج کے انتظار میں‘ کے عنوان سے شائع کی گئی اور مظاہرین سے کہا گیا کہ ’ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں تاکہ ان کے احتجاج کو ملک دشمن عناصر ہائی جیک کر کے اسے سکیورٹی اور انتظامی مسئلہ نہ بنا سکیں۔‘
فارس نیوز ایجنسی، جو پاسداران کے قریب سمجھی جاتی ہے، نے بھی لکھا کہ یہ احتجاج ’فساد کے نئے مراکز کے لیے بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔‘
فارس نے ’عینی شاہدین‘ کے حوالے سے کہا کہ ’تقریباً 200 افراد کے اجتماع میں پانچ سے 10 افراد کے چھوٹے گروہ ایسے نعرے لگا رہے تھے جو معاشی مطالبات سے کچھ بڑھ کر تھے۔‘
تاہم سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاج صرف تہران تک محدود نہیں اور مظاہرین کی تعداد ان رپورٹس سے کہیں زیادہ ہے جو حکومت کے قریب خبر ایجنسیوں نے دی ہیں۔
فارس نے وزارتِ اطلاعات کے ایک ’باخبر ذریعے‘ کے حوالے سے لکھا کہ ’چھوٹے گروہوں کی موجودگی اور ان کا احتجاج کو ایسی سمت میں لے جانا بالکل دشمن کے اس منصوبے کے مطابق ہے جس کا مقصد معاشی تنقید کو سیاسی عدم استحکام میں بدلنا ہے۔‘