دنیا میں پوست کی تقریباً 90 فیصد پیداوار افغانستان میں ہوتی ہے۔ اسے اگانا غیرقانونی ہے لیکن اس کے باوجود گزشتہ 15 برس میں اس کی کاشت میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں پوست ملکی معیشت کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ طالبان بھی اس سے پیسہ کماتے ہیں۔ عوام کے لیے پوست کی فصل ایک مالیاتی لائف لائن ہے۔ بی بی سی کے اولیا اطرافی نے جنوبی افغانستان میں پوست کی فصل کی کٹائی کے موسم کا حال بیان کیا ہے۔

افغانستان میں ایک موسم ایسا ہوتا ہے جب بہت رقم کمائی جاتی ہے۔ اپریل کے تین ہفتوں میں کسان اور ان کے اہلخانہ پوست کی فصل کاٹتے ہیں۔
سینکڑوں نوجوان پوست کی فصل کی کٹائی کے لیے دوردراز علاقوں سے سفر کرتے ہیں۔ نوکری پیشہ افراد اپنے اداروں سے چھٹیاں لیتے ہیں یوں آپ کو پوست کی کٹائی میں ایک استاد، طلبہ، دکاندار یا پھر ایک سرکاری ملازم سب نظر آتے ہیں۔
یہ افراد کٹائی کے عمل کی جان ہیں۔ پولیس کی نظروں میں آنے سے بچنے کے لیے یہ سامان کے بغیر یا بہت معمولی سامان کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ اکثر یہ ایک کے اوپر ایک لباس پہن لیتے ہیں۔
جب یہ دیہات میں پہنچ جاتے ہیں تو پوست کی اچھی فصل اور بہتر معاوضے کی تلاش میں ایک فارم سے دوسرے فارم تک گروپس کی شکل میں سفر کرتے ہیں۔
ان کا روزانہ کا کام مشکل ہے۔ پہلا دن یہ نیشور کی مدد سے پوسٹ کے ڈوڈے کو چھیلنے میں گزارتے ہیں۔ نیشور پانچ بلیڈز والا ایک اوزار ہوتا ہے جس کا ہینڈل لکڑی کا ہوتا ہے۔

پوست کے کھیتوں میں کام کرنا ایک تھکا دینے والا کام ہے چنانچہ فارم پر کام کرنے والوں کو خواتین تین وقت کھانا فراہم کرتی ہیں جو گوشت، روٹی اور دہی پر مشتمل ہوتا ہے۔
کھانا کھانے کے بعد یہ لوگ نغموں پر رقص کرتے ہیں اور اپنی کہانیاں سناتے ہیں۔
اگلی صبح تین بجے انھیں اٹھا دیا جاتا ہے۔ اندھیرے میں یہ ٹارچوں کی مدد سے گزشتہ دن کے کام کا جائزہ لیتے ہیں۔ پوست کے ہر کاٹے گئے ڈوڈے سے لعاب یا رس نکل رہا ہوتا ہے جسے یہ تریاکے نامی اوزار کی مدد سے صاف کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
علی الصبح ان مزدوروں کے سروں پر لگی یہ ٹارچیں قمقموں کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ یہ تعداد میں اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ دور سے ستاروں بھرے آسمان کا منظر لگتے ہیں۔

سرد رات میں فصل چننے والے گانے گاتے ہیں
یہ جو نغمے گاتے ہیں ان کے اشعار جدائی، محبت اور ایمانداری کے موضوعات پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ گانے ایک کھیت سے دوسرے کھیت منتقل ہوتے ہیں اور خاصے فاصلے سے انھیں سنا جا سکتا ہے۔
سونے کی کان کی مانند یہاں کچھ بھی ضائع نہیں کیا جاتا۔ فصل چننے والوں کے پیچھے پیچھے چھوٹے بچے چلتے ہیں اور جو کچھ بھی باقی بچے جمع کر لیتے ہیں۔ فصل چننے والوں کے کپڑے پوست کی وجہ سے چپک جاتے ہیں اور انھیں بھی ایک بڑے برتن میں دھو کر لیس دار پانی جمع کر لیا جاتا ہے۔
ایک فصل چننے والے کی آمدن کا تعلق اس کی ٹیم کی مستعدی اور فصل کے معیار پر ہوتا ہے۔ اگر آپ فی کس 20 کلو پوست چن کر لائے ہیں تو یہ بہترین نتیجہ ہے جبکہ اگر یہ مقدار دو کلو ہے تو فرق صاف ظاہر ہے۔

کٹائی مکمل ہونے کے بعد پوست کی کاشت کے خطوں میں معاشی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔ نوجوان نئی موٹرسائیکلیں، کپڑے اور فون خریدتے ہیں۔ کچھ لوگ قرض اتارتے ہیں یا پھر شادی کی تیاری کرتے ہیں۔
کٹائی کے بعد بازاروں میں ہلچل ہوتی ہے، کچھ دیر کے لیے ہی جب تک کہ غربت دوبارہ اپنا اثر نہیں دکھاتی لیکن پوست چننے کے عمل میں شامل افراد کے لیے امید کی ایک کرن موجود ہوتی ہے اور وہ یہ کہ سرد موسم کے بعد پوست کی ایک اور فصل تیار ہو گی۔
بلقان روٹ پر سفر کے لیے افغانستان میں کاٹی گئی پوست سے بنی افیون سب سے پہلے ایران پہنچتی ہے۔ اس سے ایران میں منشیات کا بہت بڑا مسئلہ جنم لے چکا ہے جہاں 20 لاکھ افراد باقاعدگی سے افیون استعمال کرتے ہیں۔ مشہد سے تعلق رکھنے والی 33 سالہ غولی (فرضی نام) بھی ان میں سے ایک ہیں۔

ایران افغان سرحد پر شناختی چوکی
میرا افیون سے عجیب رشتہ ہے۔ پیار اور نفرت کا رشتہ۔ یہ جو میرے ساتھ کرتی ہے مجھے اس سے نفرت ہے لیکن میں اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔
میں 14 برس کی تھی جب میری نانی کا انتقال ہوا اور میری ماں نے افیون کا استعمال شروع کیا۔ وہ دلبرداشتہ تھیں اور ہمارے خاندان میں کئی لوگ افیونچی تھے سو ان کے لیے یہ ایک آسان انتخاب تھا۔
میں 23 برس کا تھی جب میری شادی ہوئی۔ ایک برس بعد میرے پیٹ میں شدید درد اٹھنے لگا۔ ڈاکٹر کے پاس گئی مگر افاقہ نہ ہوا۔ ایک دن میں اپنی ماں کے گھر گئی تو انھوں نے مجھے چند کش لگانے کو کہا۔ اس سے درد کم ہوا اور مجھے سکون ملا۔ یوں یہ سب کچھ شروع ہوا۔

میری شادی بھی مشکلات کا شکار تھی۔ میں اکیلی اور محبت کی متلاشی تھی۔ میں نے اپنی ماں کی افیون چوری کرنا شروع کی اور گھر پر پینے لگی۔ جب میرے شوہر کو معلوم ہوا تو وہ مجھے کلینک لے گئے۔ میں چونکہ زیادہ نشہ نہیں کر رہی تھی تو انھوں نے مجھے تھیراپی کے لیے بھیج دیا تاکہ میرے ڈپریشن کا علاج ہو سکے لیکن اس سے فرق نہیں پڑا اور میں افیون استعمال کرتی رہی۔
ایک برس بعد میرے شوہر کو معلوم ہوا کہ میں مسلسل افیون استعمال کرتی رہی ہوں تو اس نے مجھے چھوڑ دیا۔

میں کچھ دن تنہا رہی لیکن نشے کی عادت اتنی پختہ ہوچکی تھی کہ میں اپنی ماں کے ساتھ رہنے چلے گئی۔ ہم شاذونادر ہی ایک ساتھ نشہ کرتے تھے۔ مجھے کسی کے سامنے نشہ کرنے میں شرم آتی تھی۔
میری ماں بھی اکیلی رہتی تھی کیونکہ نشے کی وجہ سے میرے والد نے انھیں چھوڑ دیا تھا۔ وہ ہمارے ساتھ نہیں رہتے لیکن وہ ہمارے لیے افیون خرید کر لاتے ہیں تاکہ ہم اس کی تلاش میں باہر نہ نکلیں۔ میں نے کئی بار اسے ترک کرنے کی کوشش کی ہے لیکن کامیاب نہیں ہو سکی۔
میں اس کے استعمال سے تھک گئی تھی، اس کی بو مجھے بری لگتی تھی۔ چند ہفتے میں اس کے بغیر رہتی لیکن پھر ماں کو نشہ کرتا دیکھ کر پھر شروع کر دیتی۔

میرے بہن بھائی شادی شدہ اور خودمختار ہیں۔ صرف میں ہی نشے کی عادی ہوں۔ مجھے شرم آتی ہے۔ میں اپنی بہنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکتی۔ میں مالی طور پر بھی خودمختار نہیں اور خود کو ایک جال میں پھنسا ہوا محسوس کرتی ہوں۔
افغان میں تیار کردہ ہیروئن کی 80 فیصد مقدار ترکی کے راستے یورپ پہنچتی ہے۔ اس میں سے بیشتر ایران کے راستے ترکی آتی ہے۔ ترکی اس بہاؤ کو روکنے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔ ترک ایران سرحد پر واقع دیہات منشیات کی سمگلنگ کے لیے بدنام ہیں۔
انسدادِ منشیات کے محکمے کے افسران جیسے کہ مصطفیٰ کاکل اور خرست بشیر کو روزانہ ایک جسمانی، ذہنی اور جذباتی جنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مصطفیٰ کاکل
سمگلر ان دیہات کو استعمال کرتے ہیں۔ وہ ایسے دیہاتیوں کی تلاش میں ہوتے ہیں جو انھیں پناہ گاہیں دے سکیں۔ مکانات ہوں یا فارم یا پھر گودام سب ہیروئن چھپانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
یہ علاقہ بہت بڑا ہے اور ہمیں انٹیلیجنس یونٹس کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔
ہیروئن سمگل کر کے سرحد پار لائی جاتی ہے اور پھر ان ٹھکانوں میں چھپا دی جاتی ہے۔
خرست بشیر
جب ایک آپریشن جس کی تیاری میں مہینوں لگے ہوں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ ہمارے لیے فخر کا لمحہ ہوتا ہے۔ آپ کسی سپر ہیرو کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ یہ نوکری صرف کام میں ہی نہیں بلکہ عام زندگی میں بھی آپ کو کچھ اچھا کرنے کا سبق دیتی ہے۔

ایک مرتبہ ایک مشتبہ شخص نے مائع منشیات سے بھرے کونڈوم نگل لیے تھے۔ ایک کونڈوم پھٹ گیا اور وہ کوما میں چلا گیا۔ ایسا ایک کونڈوم پھٹنا آپ کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے لیکن وہ شخص ایک ہفتے تک کوما میں رہا۔ اس کے بچ جانے کے امکانات کسی ایسے شخص سے کم تھے جس کے سر میں دو گولیاں لگی ہوں۔
جب وہ آیا تو اس کا خیال تھا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ کیا ہوا ہے اور اس نے دعویٰ کیا کہ اسے فوڈ پوائزننگ ہوئی ہے۔ وہ فضائی کمپنی کے خلاف شکایت کرنا چاہتا تھا مگر ایک نرس نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ طیارے پر آپ کو منشیات کھلا رہے تھے؟

کبھی یہ ہوتا ہے کہ جب ہماری جامع تحقیقات بھی ہمیں مجرموں تک نہیں پہنچاتیں اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کر رہے ہیں، اچانک غیرمتوقع طور پر ہمیں ایک چھوٹا سا سراغ ملتا ہے، ایک احساس کہ اس مقدمے کو سلجھانا ممکن ہے۔ اس لمحے میں آپ دل سے سمجھتے ہیں کہ کوئی ہے جو سچ کا ساتھ دینے والوں کا مددگار ہے اور یہ آپ کی سخت محنت کا صلہ ہوتا ہے۔
سنہ 2017 میں افغانستان میں پوست کی ریکارڈ پیداوار کے بعد اقوامِ متحدہ نے پیشنگوئی کی تھی کہ اب زیادہ معیاری اور کم قیمت والی ہیروئن برطانیہ سمیت عالمی بازار میں پہنچے گی۔ دیگر شہروں کی طرح جنوب مغربی انگلستان کا شہر ویسٹن سپر میئر میں بھی منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے متعدد مراکز ہیں۔ یہیں لیزلی چینڈلر نے اپنی لت پر قابو پایا اور اپنی زندگی دوبارہ شروع کی۔

میں دو مرتبہ مر چکا ہوں۔ کئی مرتبہ اوور ڈوز کر چکا ہوں اور پھر جیسے جادو سے دوبارہ واپس آیا ہوں۔
میں نے کئی حادثات کا سامنا کیا ہے، جان لیوا حادثات۔ میں بالکونی سے گر چکا ہوں۔ نشے کی لت مجھے کئی ایسی جگہوں پر لے گئی جہاں میں نہیں جانا چاہتا تھا جیسے کہ جیل یا نفسیاتی یونٹ۔ کئی بار میں نے خودکشی کی کوشش کی۔

مجھے 15 برس کی عمر میں ہیروئن کی لت لگی جبکہ میں 13 برس کی عمر سے منشیات استعمال کر رہا تھا۔
میری دوستی اپنی عمر سے بڑے لوگوں سے تھی جو ہیروئن استعمال کرتے تھے اور انھوں نے ہی مجھے اس سے متعارف کروایا۔ اس سے مجھے لگا کہ میرا وجود ہے جبکہ اس سے قبل مجھے اپنا آپ بےمعنی لگتا تھا۔
میں ہیروئن تک محدود نہیں رہا اور دیگر منشیات بھی استعمال کرنے لگا جن میں سپیڈ، ایل ایس ڈی، ڈوپ شامل ہیں۔ اس سب میں شراب نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔
یوں معاملہ آگے بڑھتا رہا۔ پھر میں نے شادی کر لی جو چند برس بعد ختم ہو گئی اور پھر معاملہ خراب سے خراب تر ہوتا چلا گیا۔
میں نے خود کو روکنے کی کوششیں کی لیکن یہ دو، تین ہفتے تک ہی رہتا اور میں پھر نشہ کرنے لگتا اور یہی میری ساری زندگی کا معمول رہا ہے۔

آخرکار میں چار سال قبل ویسٹن آیا جب میری عمر 57 برس تھی۔ میں نے دیکھا کہ میں نے اپنے جسم کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ میرے جسم میں پیس میکر نصب کرنا پڑا۔
ویسٹن میں صورتحال مختلف تھی۔ مجھے نشئی یا چور ہونے پر طعنے نہیں ملتے تھے۔ میں نے اپنی گزاری ہوئی زندگی کا جائزہ لیا اور جانا کہ مجھے کیا بدلنے کی ضرورت ہے۔ آج میں جان چکا ہوں کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آیا ہوں۔
بڑی عمر میں نشہ چھوڑنا بہت مشکل ہے۔ کئی ہفتے نیند نہیں آتی۔ جب یہ عمل جاری ہو تو لگتا ہے کہ ختم ہی نہیں ہو گا۔ لیکن پھر ایک دن یہ کام مکمل ہو جاتا ہے۔
مجھے میرے جاننے والوں نے برسوں تک طعنوں کا نشانہ بنائے رکھا۔ یہ دکھ اب کم ہو گیا ہے لیکن پھر بھی موجود ہے۔ میرے خیال میں منشیات یا شراب کا عادی ہونا ذہنی بیماری جیسا ہے اور اس سلسلے میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
چونکہ لوگ گلیوں میں ایک شرابی یا نشئی کو ایک مخصوص انداز سے دیکھتے ہیں۔ انھیں ان افراد پر غصہ آتا ہے لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان میں ایک بےبس انسان چھپا ہوا ہے جو خوف اور درد میں مبتلا ہے۔ اگر ہم یہ بات لوگوں کو سمجھا سکیں تو اس سے بہت مدد مل سکتی ہے۔

مجھے دوسرے لوگوں کو نشہ چھوڑتا دیکھنے سے مدد ملی۔ ہمیں ان لوگوں کی کہانیاں زیادہ سنانے کی ضرورت ہے جو اس لت سے چھٹکارا پانے میں کامیاب رہے۔
میں نے کئی سکولوں میں جا کر اپنی کہانی سنائی ہے اور میرے خیال میں نشے کا عمر سے گہرا تعلق ہے۔ میں نے یہ سب 13 برس کی عمر میں شروع کیا اور یہ اس کے لیے عام عمر ہے۔ اس لیے میرے خیال میں سکولوں میں جانا اور اس عمر کے طلبا کو بتانا بہت اہم ہے۔ نشے کی لت ہو یا خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش، ان سب کے بارے میں بات کرنا بہت ضروری ہے۔
لیزلی اب ایک یونیورسٹی سے کاؤنسلر بننے کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
کریڈٹس
ڈیٹا جرنلزم
لیونی رابرٹسن
آن لائن سٹوری/پروڈیوسر
مریم نکان
ڈیزائن اور اینیمیشن
مریم نکان
ایلس گرینی
رپورٹرز
اولیا اطرافی، افغانستان
فراناک عمیدی، ایران
فنوندور اوزترک، ایفی اوچ، ترکی
لیونی رابرٹسن، برطانیہ
تصاویر
بی بی سی
گیٹی
ایڈیٹر
جوہانس ڈیل


























