فیصل آباد میں ’پھکی کھانے کے بعد‘ ایک خاتون اور چار بچیاں ہلاک، پنسار کے خلاف مقدمہ درج
وسطی پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک خاتون اور چار نابالغ لڑکیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد پولیس نے ایک مقامی پنسار کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق مرنے والوں نے مبینہ طور پر پنسار سے نزلہ زکام کی دوا لی جس کے بعد ان کی طبیعیت مزید بگڑ گئی اور یکے بعد دیگرے پانچ ہلاکتیں ہوگئیں۔
خلاصہ
پی ٹی اے نے ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے والوں کی موبائل سمز بلاک کرنے کی ایف بی آر کی تجویز پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے
کوئٹہ میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی ایک کارروائی میں چار افراد مارے گئے ہیں
سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل: اٹارنی جنرل نے رہا ہونے والے 20 افراد کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی، حکمنامہ
لائیو کوریج
نو مئی کو گھر کی چھت پر پاکستان اورپارٹی کے جھنڈے لگائیں: تحریک انصاف کا کارکنوں کو پیغام
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ہدایت کے مطابق پارٹی لیڈرشپ نے 9 مئی کو ملک بھر میں ریلیاں نکالے گی۔
پارٹی کے جانب سے جاری تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ریلیاں اور جلسے پورے پاکستان میں جتنے بھی صوبائی سطح پر الیکٹڈ ممبران ہیں یا ٹکٹ ہولڈرز ہیں یا تنظیم کی عہدے داران ہیں وہ جلسے اور ریلیوں کی سربراہی کریں گے۔۔
تحریک انصاف نے اپنے کارکنان کو پیغام میں کہا ہے کہ 9 مئی کو پاکستان کے اور پاکستان تحریک انصاف کے جھنڈے گھر کی چھتوں پر اور عمارتوں پر لگائیں۔
پارٹی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’ ریلیوں میں عمران خان کی جو تصویر ہے وہ پلے کارڈز پر لگا کر قیدی نمبر 804 لکھ کر واضح کریں۔
محمد علی رندھاوا چیئرمین سی ڈی اے تعینات
،تصویر کا ذریعہMuhammad Ali Randhawa
محمد علی رندھاوا کو چیئرمین سی ڈی اے تعینات کر دیا گیا ہے۔
محمد علی رندھاوا کو حال ہی میں چیف کمشنر اسلام آباد تعینات کیا گیا تھا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے محمد علی رندھاوا کے بحیثیت چئیرمین سی ڈی اے تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہgov of Pakistan
فیصل آباد میں ’پھکی کھانے کے بعد‘ ایک خاتون اور چار بچیاں ہلاک، پنسار کے خلاف مقدمہ درج, احتشام شامی، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
وسطی
پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک خاتون اور چار نابالغ لڑکیوں کی ہلاکت کے واقعہ کے
بعد پولیس نے ایک مقامی پنسار کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق مرنے والوں نے
مبینہ طور پر پنسار سے نزلہ زکام کی دوا لی جس کے بعد ان کی طبیعیت مزید بگڑ گئی
اور یکے بعد دیگرے پانچ ہلاکتیں ہوگئیں۔
پولیس
کے مطابق مرنے والوں میں ایک خاتون، ان کی تین بیٹیاں اور ایک ہمسائی بچی شامل ہے۔
پولیس
نے مرنے والی خاتون کے شوہر کی مدعیت میں پنسار کے خلاف قتل کے الزام میں مقدمہ
درج کرلیا ہے۔
پولیس
کی درخواست پر محکمہ صحت نے پنسار کی دکان بھی سیل کردی ہے اور مبینہ طور پر ہلاکتوں
کا باعث بننے والی زہریلی پھکی قبضے میں لے لی ہے۔
محکمہ
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پھکی اور دیگر ادویات تجزیے کے لیے پنجاب کیمیکل ایگزامینر
لاہور بھجوائے جا رہے ہیں جہاں سے ان کی حتمی رپورٹ آنے پر مقدمے کی کارروائی آگے
بڑھائی جاسکے گی۔
مقدمے
کے مدعی مظہر علی کہتے ہیں کہ ان کے گاؤں میں نزلہ زکام کا وائرس پھیلا ہوا ہے۔ ان
کی تین بیٹیوں اور بیوی کو دو تین روز سے نزلہ زکام کی شکایت تھی کہ ’بیوی کو کسی
خاتون نے کہا کہ پنسار سے دوا لے لو، ایک ہی باری میں آرام آ جائے گا۔‘
’میری بیوی زیادہ پڑھی لکھی نہیں۔ وہ پنسار کی دکان پر گئی اور اس
سے کہا کہ نزلہ زکام کی دوائی دے دو۔ پنسار کا کہنا تھا کہ اسے کچے دودھ کے ساتھ پینے
سے نزلہ زکام ختم ہوجائے گا۔‘
ان کا
کہنا تھا کہ ’پھکی میں نہ جانے کیا تھا کہ کچھ ہی دیر بعد بیوی اور چاروں بچیوں کے
پیٹ میں درد ہونا شروع ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ زمین پر لوٹ پوٹ ہونا شروع
ہوگئیں۔ ان کی چیخ و پکار سن کر محلہ دار وہاں اکٹھے ہوگئے۔‘
’انھیں
ہسپتال لے جایا گیا لیکن کوئی بھی جانبر نہ ہوسکا۔‘
اس
واقعے کے بعد تھانہ گڑھ پولیس نے مظہر علی کی مدعیت میں پنسار کے خلاف دفع 302 اور
337 جے کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پی ٹی اے کا ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے والوں کی موبائل سمز بلاک کرنے سے انکار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے والوں
کی موبائل سمز بلاک کرنے کی ایف بی آر کی تجویز پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ وہ قانونی طور پر سمیں بندکرنے کے حکم پر
عمل کرنے کے پابند نہیں۔
یاد رہے کہ ایف بی آر نے 6 لاکھ 6 ہزار سے زائد افراد کی موبائل سم بند
کرنے کا انکم ٹیکس جنرل آرڈر جاری کیا تھا۔
ایف بی آر کے مطابق جن لوگوں کی سمز
بند کرنے کو کہا گیا تھا ان کی آمدن کے مطابق وہ انکم ٹیکس ریٹرنز فائل کرنے کے پابند
ہیں لیکن انھوں نے اب تک ایسا نہیں کیا۔
پی ٹی اے کے مطابق پاکستان میں صرف 27 فیصد خواتین اپنے نام پر
نکالی گئی سمیں استعمال کرتی ہیں اور باقی خواتین اور بچے خاندان کے مردوں کے نام
کی سمز استعمال کرتے ہیں۔
پی ٹی اے کا موقف ہے
جے ایسی کسی بھی پابندی سے ای کامرس اور ٹرانزیکشز کا عمل بھی متاثر ہوگا اس لیے مسئلے
کے حل کے لیے کوئی اور تجویز پیش کی جائے۔
پی ٹی اے کا خط
پی ٹی اے نے ایف بی آر کو خط لکھ کر کہا ہے کہ وہ قانونی طور پر سمیں بند کرنے کے اس حکم پر عمل کرنے کے پابند نہیں اور سم بلاک کرنے کا عمل ان کے فریم ورک سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یاد رہے کہ ایف بی آر کی جانب سے 2023 میں ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے والے 5 لاکھ سے زائد افراد کی سم بلاک کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
پی ٹی اے نے ایف بی آر کو لکھے گئے جوابی خط میں واضح کیا کہ نان فائلرز کی سمز بلاک کرنے کا عمل ان کے نظام سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ بڑی تعداد میں خواتین اور بچے مرد حضرات کے نام پر سمز استعمال کرتے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ’پاکستان میں صرف 27 فیصد خواتین اپنے نام پر سم نکلواتی ہیں اور باقی خواتین اور بچے خاندان کے مرد کے نام پر نکالی گئی سمیں استعمال کرتے ہیں۔‘
خط میں کہا گیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2021 کا اطلاق پی ٹی اے پر نہیں ہوتا اور سمز بلاک کرنے سے ملک کو ڈیجیٹل خطوط پرلانے کے عمل کو نقصان پہنچے گا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے مزید کہا کہ بڑی تعداد میں سمز بلاک کرنے سے ٹیلی کام معیشت کو نقصان پہنچے گا اور اس سے ٹیلی کام کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے۔
انھوں نے ایف بی آرکی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بینکنگ ٹرانزیکشنز، ای کامرس، موبائل اکاونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے مسائل پیدا ہوں گے لہٰذا سم بلاک کرنے کے علاوہ دیگر قانونی آپشنز پر غور کیا جائے۔
کوئٹہ میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی کارروائی میں چار مشتبہ افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی ایک کارروائی میں چار افراد مارے گئے ہیں۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مارے جانے والے افراد مبینہ دہشت گرد تھے جو کہ مقابلےمیں مارے گئے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق سینیچر کی شب نو بجے دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے سبی روڈ کے قریب پولیس کی موبائل پر فائرنگ کی۔
نیم مسلح ہونے کے باعث موبائل میں سوار اہلکار محفوظ رہے اور انھوں نے حملہ آوروں پر فائرنگ کی جس سے ایک حملہ آور موقع پر ہلاک ہوا۔
بیان کے مطابق باقی تین حملہ آوروں نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن ان کا پیچھا کیا گیا۔ فرار ہونے والے حملہ آوروں نے کلی زرین میں ایک مکان میں پناہ لی۔ جہاں پولیس اہلکاروں نے ان کا گھیراو کرنے کے بعد اضافی نفری طلب کرلی۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی کی آپریشنل ٹیم موقع پر پہنچ کر پناہ لینے والے حملہ آوروں کو ہتھیار ڈالنے کے لیےکہا مگر انھوں نے ہتھیار ڈالنے کی بجائے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔جوابی کاروائی میں تینوں دہشت گرد مارے گئے ۔ ان کے قبضے سے پستول اور دستی بم برآمد کیے گئے۔
دوسری جانب وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شالکوٹ پولیس تھانے میں تخریب کاروں کے خلاف پولیس کی کامیاب کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس نے بروقت متحرک کارروائی کی، امن سبوتاژ کرنے والے عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
چمن:مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کی جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی، شہر میں صورت حال کشیدہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہSadiq Achakzai
بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں جس کے بعد چمن شہر میں صورتحال کشیدہ ہوگئی اور شہر میں کاروباری مراکز بند ہونے کے علاوہ کوئٹہ چمن شاہراہ کو بھی مظاہرین نے بند کیا گیا۔
گزشتہ سال اکتوبر سے چمن میں جاری دھرنے کے قائدین نے فائرنگ کا الزام ایف سی پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ پرامن مظاہرین پر بلاجواز فائرنگ کی گئی۔ تاہم سرکاری حکام نے ایف سی کی جانب سے لوگوں پر فائرنگ کے الزام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔
دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی نے بتایا چمن میں گھوڑا گاڑیوں پر سرحد تک سامان لے جانے اور لانے والے مزدوروں کے کام پر دس پندرہ روز سے پابندی عائد کی گئی تھی ۔
ان کا کہنا تھا کہ روزگار بند ہونے کے باعث شدید مالی مشکلات سے دوچار ہونے پران محنت مزدوری کرنے والے افراد نے اپنا پر امن احتجاج ریکارڈ کرنے کے لیے ایف سی کے کیمپ کے سامنے جمع ہوئے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ نہ صرف فورس کے اہلکاروں نے ان مزدوروں پر فائرنگ کی بلکہ بعد میں وہ دھرنا کے مقام پر بھی پہنچ گئے جہاں خیموں کو اکھاڑ کر آگ لگانے کے علاوہ وہاں بھی فائرنگ کی ۔جبکہ مظاہرین پر بڑے پیمانے پر شیلنگ بھی کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے مظاہرین میں سے ایک ہلاک اور متعدد لوگ زخمی ہوگئے۔
اس واقعے کے بعد چمن شہر میں تمام کاروباری مراکز بند ہوگئے اور لوگوں کی بڑی تعداد ہلاک ہونے والے شخص کی لاش کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر دھرنا دیا جبکہ مظاہرین نے کوئٹہ اور چمن کے درمیان شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے اسے آمدورفت کے لیے بند کیا۔
اس واقعے کے بارے میں ڈپٹی کمشنر چمن اور ایس ایس پی پولیس سے فون پر متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے کال وصول نہیں کی جبکہ بلوچستان حکومت کے متعلقہ حکام نے بھی اس سلسلے میں موقف دینے سے گریز کیا
تاہم انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ بعض مظاہرین بلاجواز نہ صرف ایف سی کے قلعے سامنے جمع ہوئے بلکہ انھوں ایف سی کے قلعے اور اہلکاروں پر پتھراو بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر قلعے کے تحفظ کے پیش نظر لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے ایف سی کے اہلکاروں کی جانب سے لاٹھی چارج کی گئی۔
انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ بعد میں دھرنے کے قرب و جوار میں مشتعل مظاہرین نے فورسز کے اہلکاروں پر پتھراو کے علاوہ رکاوٹیں کھڑی کیں جن کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی ۔
،تصویر کا ذریعہSadiq Achakzai
،تصویر کا کیپشنگزشتہ سال اکتوبر سے چمن میں جاری دھرنے کے قائدین نے فائرنگ کا الزام ایف سی پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ پرامن مظاہرین پر بلاجواز فائرنگ کی گئی
اس سلسلے سیکورٹی فورسز کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انھوں نے بتایا کہ لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے لوگوں پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی تاہم ایف سی کی جانب سے مظاہرین پر کوئی فائرنگ نہیں کی گئی۔
خیال رہے کہ سرحدی شہر چمن میں گزشتہ سال 21 اکتوبر سے ایک احتجاجی دھرنا جاری ہے ۔ چمن کی تاریخ کا یہ طویل دھرنا سابق نگراں حکومت کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف دیا جارہا ہے۔
دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ کی شرط سے چمن سے تعلق رکھنے والے ان ہزاروں مزدوروں اور تاجروں کا معاش اور روزگار متائثر ہوا ہے جو کہ روزانہ کی بنیاد چمن اور افغانستان کے سرحدی منڈیوں کے درمیان آمدورفت کے لیے بارڈر کو کراس کرتے تھے ۔
ان کا مطالبہ ہے پاسپورٹ کی شرط کو ختم کرکے پہلے کی طرح قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر ان لوگوں کو آمدورفت کی اجازت دی جائے۔
باکسر عامر خان کو پاکستانی فوج کی جانب سے ایک دن کے لیے ’کیپٹن کا اعزازی عہدہ‘ دیا گیا
،تصویر کا ذریعہ@amirkingkhan
پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کو پاکستانی فوج کی جانب سے ایک دن کے لیے اعزازی کیپٹن کا عہدہ دیا گیا ہے۔
باکسنگ کے میدان میں ان کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے باکسر عامر خان کو اعزازی کیپٹن کے رینکس لگائے گئے۔
عامر خان کا کہنا ہے کہ یہ اعزاز ملنے کے بعد میں فخر محسوس کر رہا ہوں، اور پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔
انھوں نے بتایا کہ ان کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔
یاد رہے اس سے قبل پاکستان میں سوشل میڈیا پر باکسر عامر خان کی اکیڈمی کی ایسی تصاویر وائرل ہوئیں تھیں جہاں ایف سی اہلکار ڈیرہ جمائے بیٹھے ہیں۔
پیر کے روز عامر خان نے ایک ویڈیو کے ذریعے اپنا بیان جاری کیا۔ جس میں انھوں نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ایک باکسنگ کی ٹریننگ اکیڈمی کے مناظر بھی دکھائے اور کہا کہ ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پہلے یہاں کتنا گند تھا، جو اب صاف ہو چکا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں پاکستان کی فوج، حکومت اور سپورٹس بورڈ کے ساتھ ساتھ وزیر داخلہ محسن نقوی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ابھی وہ سب ایف سی والے لوگ جم سے چلے گئے ہیں اور ایک مہینے کے بعد ہم دوبارہ اسے کھولیں گے تاکہ بچے ٹریننگ حاصل کر سکیں۔۔۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ: اٹارنی جنرل نے رہا ہونے والے 20 افراد کی تفصیلات جمع کروا دیں، سپریم کورٹ کا تحریری حکمنامہ جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملے پر سپریم کورٹ کے چھ رکنی بینچ کی جانب سے 24 اپریل کو کی گئی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا ہے۔
سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل کی جانب سے فوجی عدالتوں سے 20 رہا ہونے والے افراد کی فہرست جمع کروائی گئی۔
اس حکم نامے کے مطابق تمام وکلا نے عدالت سے اٹارنی جنرل کو 20 افراد کے فیصلے کی کاپی طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
اس حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل 20 افراد کے مقدمات میں کئے گئے فیصلوں کی تفصیلات کو سپریم کورٹ میں جمع کروائیں۔
سپریم کورٹ سے جاری ہونے والے اس حکمنامے کے مطابق درخواست گزار اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے بینچ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے گذشتہ سماعت کے حکمنامہ کا حوالہ دیا۔
جبکہ دیگر درخواست گزاروں کے وکلا سلمان اکرم راجہ اور اعتزاز احسن کی جانب سے بھی لارجر بینچ تشکیل دینے پر دلائل دیے گئے۔
اس حکم نامے کے مطابق عدالت کی جانب سے وکلا سے استفسار کیا گیا کہ کیا وہ لارجر بینچ پر فیصلہ چاہتے ہیں ؟ جس پر وکلا نے گزارشات بینچ تشکیل دینے والی تین رکنی کمیٹی کے سامنے رکھنے کا موقف اپنایا۔
اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فریقین کے وکلا کی استدعا کو مناسب سمجھتے ہوئے معاملہ کمیٹی کے سامنے رکھنا مناسب سمجھتے ہیں اور لارجر بینچ کے معاملے پر وکلا کی گزارشات کا کمیٹی فیصلہ کرے گی۔
اس حکمنامے میں بینچ میں شامل جسٹس حسن اظہر رضوی نے معاملہ کو شہریوں کی آزادی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے جلد از جلد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کی آبزرویشن دی ہے۔
ججز کی تقرری کے حوالے سے آئینی ترامیم پر تحریکِ انصاف کا ردِعمل: ’پاکستان کا دستور ایسے کسی بھی مخصوص شخص کے لیے آئین میں ترامیم کی اجازت نہیں دیتا‘
پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اداروں کی جو تباہی ہو رہی ہے، ججز تقرری اور آئینی ترامیم اسی روایت کا تسلسل ہے۔
ججز تقرری کے حوالے سے آئینی ترامیم پر پاکستان تحریک انصاف نے ردِ عمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے پچھلے دوسالوں میں ہر وہ فیصلہ کیا ہے جس سے آئین و قانون کی بالادستی کو نقصان پہنچتا ہے اور ادارے کمزور ہوتے ہیں۔
ترجمان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اداروں کی مضبوطی اور مضبوط ریاست بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا وژن ہے، انھوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکمران اداروں کو اس لیے کمزور کرتے ہیں تاکہ اپنے غیر قانونی اور غیر آئینی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکیں۔
ترجمان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنی مدت ملازمت کے پورے عرصے کے دوران بطور چیف جسٹس جو طرزِ عمل اختیار کیا ہے وہ آئین و قانون کے حوالے سے نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے آئین و قانون کی بالادستی پر سمجھوتہ کرکے اپنے منصب کی وقعت کو کم کیا ہے اور قاضی فائز عیسی نے عدلیہ کی آزادی میں ماورائے دستور اور ماورائے جمہوریت قوتوں کا دروازہ کھولا ہے جس کے بھیانک اثرات ہوں گے۔
ترجمان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا دستور ایسے کسی بھی مخصوص شخص کے لیے آئین میں ترامیم کی اجازت نہیں دیتا اور قانون سازی ہمیشہ ان موضاعات پر کی جاتی ہے جہاں اجتماعی مفاد ہو۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اس ترامیم کی ہر قانونی اور جمہورتی طریقے سے مخالفت کرے گی اور اس کا راستہ پارلیمان میں بھی روکے گی۔
کوئٹہ: الیکشن ٹریبونل نے پیپلز پارٹی کے دو اراکین بلوچستان اسمبلی پر پچاس، پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا, محمد کاظم، کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں الیکشن ٹریبونل نے پیپلز پارٹی کے دو اراکین بلوچستان اسمبلی پر پچاس، پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
یہ جرمانے پیپلز پارٹی کے بلوچستان اسمبلی کے تین اراکین کے خلاف انتخابی عزرداریوں کی سماعت کے دوران عائد کیے گئے۔
حلقہ پی بی- 45 کوئٹہ سے کامیاب قراردیے جانے والے پیپلز پارٹی کے امیدوار علی مدد جتک کے خلاف جے یوآئی کے عثمان پرکانی، پی بی۔47 پشین سے اسفندیار کاکڑ کے خلاف جے یوآئی کے مولوی کمال الدین اور پی بی۔40 کوئٹہ سے عبدالصمد گورگیج کے خلاف ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نائل نے انتخابی عزرداریاں دائر کی ہیں۔
درخواست دہندگان نے کامیاب ہونے والے امیدواروں پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
انتخابی عزرداریوں کی سماعت کرتے پوئے بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل الیکشن ٹریبونل ون نے بروقت جوابی دعویٰ دائر نہ کرنے پر علی مدد جتک اور اسفندیار کاکڑ پر پچاس، پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
دونوں اراکین اسمبلی کو آئندہ سماعت پر دوبارہ جوابی دعویٰ دائر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پی بی 40 کوئٹہ سے عبدالصمد گورگیج کے خلاف انتخابی عذرداری پر درخواست دہندہ قادر علی نائل کا بیان ریکارڈ کیا گیا جبکہ 6 مئی کو کامیاب قرار دیے جانے والے صمدگورگیج کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔
ارشد شریف قتل کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے جوڈیشل کمیشن کی درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری کر دیا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے صحافی ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست پر تحریر حکمنامہ جاری کیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایک صفحے پر مشتمل اس تحریری حکم نامے میں رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کیے جانے والے اعتراضات کو دور کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ درخواست کی سماعت کے لیے نمبر لگایا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ کیس کی آئندہ سماعت سے قبل اس واقعت کے بارے میں سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کے حکم نامے کی کاپیاں بھی عدالت میں جمع کروائی جائیں۔
واضح رہے کہ سینئر صحافی حامد میر کی جانب سے ارشد شریف قتل کے واقعے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ!
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے جیل سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے بات کرنے کو تیار ہیں تاہم بات ان ہی سے ہو گی، جو اس وقت پی ٹی آئی کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔
بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک بم دھماکے میں خضدار پریس کلب کے صدر محمد صدیق مینگل سمیت تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سعودی عرب کی کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد آئندہ چند روز میں پاکستان پہنچے گا۔
راولپنڈی سے ہنزہ جانے والی ایک مسافر بس کو جمعہ کی صبح چلاس شہر سے 20 کلومیٹر کی دوری پر ’یشکول داس‘ کے مقام پر پیش آنے والے حادثے میں 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ چھ مئی کو اس مقدمے پر سماعت کرے گا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کے مقدمے پر سپریم کورٹ آٹھ مئی کو سماعت کرے گی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کسی غیر ملک کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف اڈے دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کا پاکستان نے کسی ملک کواپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، سوشل میڈیا پر چلنے والی ایسی تمام باتیں بے بنیاد ہیں۔
پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ہم اپنی آئینی حدود بخوبی جانتے ہیں اور دوسروں سے بھی آئین کی پاسداری مقدم رکھنے کی توقع رکھتے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹیکس چوری کو روکنے اور اسے بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ نے ٹیکس ٹریبیونل کی صورت میں پہلی قانون سازی کر دی ہے۔
محمودخان اچکزئی پر غیر قانونی قبضے کے الزامات اور ایف آئی آرکا معاملے پر محمود خان اچکزئی نے سابق نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد بن اسد کو 20 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید!
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
پاکستان کی سیاسی، معاشی، اقتصادی صورتحال سمیت دیگر امور سے متعلق خبریں جاننے کے لیے بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید۔