یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایک صفحے پر مشتمل اس تحریری حکم نامے میں رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کیے جانے والے اعتراضات کو دور کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ درخواست کی سماعت کے لیے نمبر لگایا جائے۔ دوسری جانب بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں لیکن بات چیت تب ہو گی جب ہمارا چوری شدہ مینڈیٹ واپس کیا جائے گا اور جیلوں میں قید ہمارے بے گناہ کارکنان کو رہا کیا جائے گا۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے صحافی ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست پر تحریر حکمنامہ جاری کیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایک صفحے پر مشتمل اس تحریری حکم نامے میں رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کیے جانے والے اعتراضات کو دور کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ درخواست کی سماعت کے لیے نمبر لگایا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ کیس کی آئندہ سماعت سے قبل اس واقعت کے بارے میں سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کے حکم نامے کی کاپیاں بھی عدالت میں جمع کروائی جائیں۔
واضح رہے کہ سینئر صحافی حامد میر کی جانب سے ارشد شریف قتل کے واقعے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے جیل سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے بات کرنے کو تیار ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ عمران خان سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بات چیت مخالفین سے ہی ہوتی ہے، جو اس وقت ہمارے سب سے بڑے مخالفین ہیں بات چیت ان ہی سے ہوگی۔‘
تاہم پی ٹی آئی کے مطابق سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے مذاکرات کے لیے ایک شرط بھی رکھی ہے: ’بات چیت کیلئے ہمیشہ تیار ہوں لیکن بات چیت تب ہو گی جب ہمارا چوری شدہ مینڈیٹ واپس کیا جائے گا اور جیلوں میں قید ہمارے بے گناہ کارکنان کو رہا کیا جائے گا۔‘
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے تمام مقدمات سننے والے ججوں سے گزارش کرتے ہیں کہ ان کے کیسز کو بلاجواز تاخیر کا شکار نہ کریں بلکہ جلد از جلد فیصلے سُنائیں۔
پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ’دیر سے فیصلے کرنا بھی ناانصافی ہے سب کو معلوم ہے کہ چاہے القادر ٹرسٹ کیس ہو، عدت کیس یا پھر سائفر کیس ہو یہ تمام مقدمات جھوٹے، بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAbdullah Shahwani - Local Journalist
بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک بم دھماکے میں خضدار پریس کلب کے صدر محمد صدیق مینگل سمیت تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔
خضدار پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں۔ بم دھماکے کا واقعہ خضدار شہر کے چمروک چوک پر پیش آیا۔
خضدار پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او غلام مصطفیٰ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دھماکے کا ہدف ایک کار تھی جس میں صدیق مینگل سوار تھے۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں زخمی افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا اس دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے دو سگے بھائی چل بسے۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ بم دھماکے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں تاہم ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ مقناطیسی بم کی وجہ سے ہوا ہے۔
علاقے میں لگے سی سی ٹی کیمرے کی فوٹیج کے مطابق گاڑی پر دھماکہ اس وقت ہوا جب اس کی رفتار کم ہوئی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکے سے کچھ لمحے پہلے سفید کپڑوں میں ملبوس ایک موٹر سائیکل سوار کار کے قریب آکر کوئی چیز جیب سے نکال کر کار کی ڈرائیونگ سیٹ کے دروازے کی جانب ہاتھ بڑھاتا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق موٹر سائیکل سوار جیسے ہی کار سے تھوڑا دور ہٹا وہاں دھماکہ ہوگیا۔
خضدار میں اس سے قبل بھی مقناطیسی بم دھماکوں کے زریعے پولیس اہلکاروں کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAbdullah Shahwani - Local Journalist
پولیس حکام کے مطابق دھماکے کا ہدف پریس کلب کے صدر صدیق مینگل تھے۔
صدیق مینگل کوئٹہ سے شائع ہونے والے اخبار روزنامہ باخبر اور خبررساں ادارے آئی این پی کے خضدار میں نمائندے تھے۔
انھوں نے صحافت کا آغاز 1997میں کیا تھا۔
وہ گزشتہ سال پریس کلب خضدار کے صدر منتخب ہوئے تھےجبکہ اس سے قبل بھی وہ پریس کلب کے صدر اور مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں۔
پریس کلب خضدار کے جنرل سیکریٹری محمد اقبال نے بتایا کہ صدیق مینگل پر پہلے بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ خضدار میں پہلے بھی صحافیوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جس میں اب تک صدیق مینگل سمیت 9 صحافی ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خضدار میں صحافی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اس حوالے سے صحافیوں کی جانب سے انتظامیہ اور پولیس کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا گیا تھا، لیکن تاحال ان کی سکیورٹی کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ایک صحافی کو نشانہ بنانا صحافت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔
دریں اثناء حکومت بلوچستان نے خضدار پریس کلب کے صدر صدیق مینگل کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان کے مطابقصحافی کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPrime Minister House
پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سعودی عرب کی کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد آئندہ چند روز میں پاکستان پہنچے گا۔
وزیراعظم ہاؤس کے مطابق جمعے کو وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں سعودی عرب کی پاکستان میں سرمایہ کاری اور منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے ایک اجلاس ہوا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے ہر قسم کی معاونت کی پیشکش کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’امید ہے کہ سعودی وفد کے ساتھ پاکستانی کاروباری شخصیات کی کاروباری ملاقاتیں نتیجہ خیز ثابت ہوں گی۔‘
بیان کے مطابق اجلاس کو وزیراعظم شہباز شریف کے سعودی عرب کے دورے اور سعودی عرب کے کاروباری وفد کی اسلام آباد آمد اور متوقع شعبوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہRescue 1122/Chilas
صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی سے ہنزہ جانے والی ایک مسافر بس کو جمعہ کی صبح چلاس شہر سے 20 کلومیٹر کی دوری پر ’یشکول داس‘ کے مقام پر پیش آنے والے حادثے میں 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اس حادثے اور اس کے بعد ہونے والے ریسکیو آپریشن سے متعلق مزید تفصیلات جاننے کے لیے بی بی سی نے دیامیر ریسیکو 1122 کے انچارج محمد شوکت سے بات کی ہے جن کے مطابق حادثہ صبح پانچ بجے کے لگ بھگ پیش آیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ریسکیو سینٹر پر حادثے کی اطلاع 5:20 منٹ پر ملی۔ اس وقت ہم چلاس میں حادثے کے مقام سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر تھے۔ ریسکیو اہلکار اطلاع ملنے کے 20 منٹ کے اندر جائے حادثہ پر پہنچ چکے تھے۔‘
اُنھوں نے بتایا کہ مسافر بس نیچے گہری کھائی میں گری تھی اور اوپر سڑک سے کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ صبح کا وقت تھا اس لیے اس علاقے میں کوئی خاص آمد و رفت بھی نہیں تھی۔ ریسکیو کو متاثرہ بس کے پیچھے آنے والی گاڑی نے اس حادثے کی اطلاع اس وقت دی جب تھوڑا آگے چل کر وہ اس علاقے میں پہنچے جہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا تھا۔‘
ریسکیو انچارج شوکت کا کہنا تھا کہ ’اس موقع ریسکیو اہلکاروں نے مقامی لوگوں کی مدد حاصل کرنے کے لیے مساجد میں اعلان کروائے جس کے بعد مقامی لوگ بڑی تعداد میں موقع پر پہنچ گئے۔ بعد میں فوج، گلگت بلتستان سکاؤٹس اور مقامی پولیس کے اہلکار بھی وہاں پہنچ گئے۔‘

،تصویر کا ذریعہRescue 1122/ Chilas
انھوں نے کہا کہ مقامی لوگوں نے اس ریسکیو آپریشن میں بہت مدد کی۔ مقامی نوجوانوں کی مدد سے تقریبا ایک گھنٹے میں تمام زخمیوں اورہلاک ہونے والوں کو اوپر سڑک تک لایا گیا۔ بس سڑک سے نیچے چھ سو فٹ گہری کھائی میں پڑی تھی۔ بس دریا میں گرنے سے بچ گئی کیونکہ اس سے پہلے یہ ریت کے ایک ٹیلے سے ٹکرا کر رُک گئی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ حادثے میں بیس لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 22 زخمی ہیں۔ ان زخمیوں کو اب ہیلی کاپٹرز کی مدد سے گلگت منتقل کیا جا رہا ہے جبکہہلاک شدگان کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے۔
چالاس ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بس ڈرائیور بھی شامل ہیں۔ اس طرح گلگت کے علاقے جلگوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک میاں بیوی بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ابھی تک 12 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ آٹھ لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ چھ مئی کو اس مقدمے پر سماعت کرے گا۔
عدالت نے متعلقہ فریقن کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔
واضح رہے کہ 16 اپریل کو تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سنہ 2017 کے دھرنے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے فیض آباد دھرنا کمیشن نے اپنی رپورٹ وفاقی حکومت کو بھجوا دی تھی، جس میں دیگر چیزوں کے علاوہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کام کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی اور قواعد و ضوابط کا مسودہ تیار کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
گذشتہ برس نومبر میں سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس پر ہونے والی سماعت کے تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ اس کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کا نتیجہ قوم کو نو مئی کے واقعات کی صورت میں دیکھنا پڑا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کے مقدمے پر سپریم کورٹ آٹھ مئی کو سماعت کرے گی۔
سنی اتحاد کونسل کی اپیل پر سپریم کورٹ نے تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ اس بینچ کے سربراہ ہوں گے جبکہ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بھی اس بینچ میں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔ جبکہ پشاورہائیکورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔
سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف جبکہ سپیکر خیبر پختونخوا نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کیں۔

،تصویر کا ذریعہISPR
راولپنڈی سے ہنزہ جانے والی ایک مسافر بس کو جمعے کی صبح چلاس شہر سے 20 کلومیٹر کی دوری پر ’یشکول داس‘ کے مقام پر حادثہ پیش آیا ہے، جس میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
صحافی محمد زبیر خان کو مقامی پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ یہ حادثہ جمعے کی صبح پانچ بجے پیش آیا اور اس وقت علاقے میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ زخمیوں کو چلاس کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فوج کے ہیلی کاپٹروں نے بھی اس ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ فوجی جوانوں کو بھی تصاویر میں مسافروں کو ریسکیو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
قراقرم ہائی وے: دنیا کی بلند ترین پختہ سڑک کی تعمیر کی کہانی
سڑکوں اور ہائی ویز پر مشتمل مواصلاتی نظام کی تعمیر سے قبل گلگت بلتستان سمیت ملک کے بیشتر شمالی علاقے دنیا بھر سے کٹے ہوئے تھے اور یہاں مقامی افراد کا طرز زندگی صدیوں پرانے طور طریقوں کے مطابق چلتا تھا۔ مگر یہاں تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ قراقرم ہائی وے کی تعمیر ہے جو دنیا کی ’بلند ترین پختہ سڑک‘ ہے۔
چین کے سرحدی علاقے کاشغر سے شروع ہونے والی یہ شاہراہ خنجراب پاس کے مقام پر پاکستان میں داخل ہوتی ہے اور پھر ملک کے مختلف حصوں سے ہوتی ہوئی حسن ابدال میں جی ٹی روڈ سے جُڑ جاتی ہے۔
شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا آغاز 1966 میں ہوا اور اس کی تکمیل سنہ 1978 میں ہوئی۔ 1300 کلومیٹر طویل اس شاہراہ کی بنیاد قدیم شاہراہ ریشم تھی۔ اس شاہراہ کا 887 کلومیٹر کا حصہ پاکستان جبکہ 400 کلومیٹر سے زائد حصہ چین میں ہے۔
اس شاہراہ کی منصوبہ بندی سے لے کر تعمیر تک ہر قدم ایک چیلنج تھا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے دو سال قبل اس شاہراہ کی تعمیر سے متعلق ایک دستاویزی فلم جاری کی ہے جس میں اس دور کے کچھ نایاب مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔
دستیاب اعدادوشمار کے مطابق موسم کی شدت، شدید برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ کر اس سڑک پر کام کرنے والوں میں سے 800 سے زائد پاکستانی جبکہ 80 سے زائد چینی شہری تعمیر کے مختلف مراحل کے دوران ہلاک ہوئے۔
قراقرم کی سخت پتھریلی چٹانوں میں رستے بنانے کے لیے آٹھ ہزار ٹن ڈائنامائیٹ استعمال ہوا اور شاہراہ کی تکمیل تک 30 ملین کیوسک میٹر سنگلاخ پہاڑوں کو کاٹا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGB Police
صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی سے ہنزہ جانے والی ایک مسافر بس کو جمعہ کی صبح چلاس شہر سے 20 کلومیٹر کی دوری پر ’یشکول داس‘ کے مقام پر پیش آنے والے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 20 ہو گئی ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بی بی سی کو اس حادثے میں 20 مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت جائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیاں مکمل ہونے کے قریب ہیں جن میں فوج، گلگت بلتستان سکاؤٹس، ریسکیو 1122 اور مقامی پولیس کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ریسکیو اہلکاروں کو مقامی افراد کی مدد بھی حاصل ہے۔
فیض اللہ نے کہا کہ اس حادثے میں 21 مسافر زخمی بھی ہوئے ہیں جنھیں چلاس اور دیگر قریبی علاقوں کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق بس حادثہ جمعہ کی صبح پانچ بجے پیش آیا جس سڑک پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی اور اُس وقت علاقے میں موبائل سگنل بھی نہیں تھے۔

،تصویر کا ذریعہGB POLICE
پولیس کے مطابق نجی کمپنی کی یہ بس تقریباً تین سو فٹ سے زیادہ گہری کھائی میں گری ہے، جہاں پر ابھی بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جس میں ریسیکو اہلکاروں کے علاوہ مقامی لوگ اور پولیس کے جوان بھی حصہ لے رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق ابھی تک حادثہ کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔
حادثے کا یہ مقام چلاس شہر سے 20 کلومیٹر دور ’گونر فارم‘ کی حدود میں یشکول داس کے مقام پرپیش آیا ہے۔ گونر فارم کا علاقہ ضلع چالاس کی حدود میں آتا ہے۔ اس علاقے میں پانچ کلو میٹر تک کوئی آبادی نہیں ہے۔ یہاں پر موجود موڑ تنگ ہے، جس وجہ سے اس سے پہلے بھی یہاں حادثات پیش آئے ہیں اور یہاں سے گاڑیاں نیچے کھائی میں گری ہیں۔ مگر اس علاقے میں یہ پہلا بڑا مسافر بس حادثہ ہے۔ عموماً اس علاقے میں ڈرائیور محتاط انداز میں ڈرائیو کرتے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ مسافر بس کھائی میں ریت کے ایک ٹیلے کے پاس جا کر رک گئی تھی۔ اس کھائی کے بعد تیز رفتار دریا ہے۔ ترجمان پولیس کے مطابق ریت کے ٹیلے کے قریب بس کے رکنے سے کہا جا سکتا ہے کہ کچھ مسافروں کی جان بچ گئی۔
صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق اس وقت صوبائی حکومت اپنے تمام دستیاب وسائل سے زخمیوں کو علاج معالجہ کے علاوہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور چالاس کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ ان کے مطابق کچھ مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس مسافر بس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کسی غیر ملک کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف اڈے دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کا پاکستان نے کسی ملک کواپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، سوشل میڈیا پر چلنے والی ایسی تمام باتیں بے بنیاد ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کسی غیر ملکی قوت کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف اڈے دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، سوشل میڈیا پر چلنے والی ایسی تمام باتیں بے بنیاد ہیں۔
یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ نگراں حکومت یا اس حکومت نے دو فوجی اڈے امریکہ کو دے دیے ہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمر ایوب نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ واضح کرے کہ آیا یہ ایئربیس موجودہ حکومت نے امریکہ کو دی تھیں یا سابق نگراں حکومت نے دی تھیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ کافی تشویشناک بات ہے اور حکومت کو ایوان میں وضاحت دینی چاہیے کہ (امریکہ کو) اڈے دینے کا فیصلہ کس نے کیا؟‘
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی وفد نے رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کیا، پاکستان اور امریکی وفد نے تعلیم، ماحولیاتی تبدیلی سمیت دہشتگردی کی روک تھام پر تبادلہ خیال کیا۔
انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ تعلقات ہے، پاکستان اس تعلق کو انتہائی اہمیت کی حامل سمجھتا ہے، اور پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی تجارت کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
پی ٹی آئی کے رہنما شہزاد اکبر کے الزامات سے متعلق سوال کے جواب میں ان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اپنے شہریوں کو نشانہ بنانا ہماری پالیسی نہیں، شہزاد اکبر کے الزامات بے بنیاد اور سیاسی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس کے لیے گیمبیا میں ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے گیمبیا جانا تھا، مصروفیات کے باعث پلان تبدیل ہوا،کانفرنس میں مسئلہ کشمیر اور غزہ کی صورتحال کے بارے میں آواز اٹھائی جائے گی۔
انڈیا کی بیرون ملک مبینہ انٹیلی جنس کارروائیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’انڈیا امریکہ، کینیڈا اور پاکستان میں ماروائے عدالت ٹارگٹ کلنگز میں ملوث ہے‘
ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ انڈیا بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، پاکستان کا مطالبہ ہے کہ یہ ممالک ان جرائم پر انڈیا کا احتساب کریں۔
انھوں نے بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان ملوث رہا ہے، اس حوالے سے افغانستان کو ثبوت فراہم کیے گئے ہیں ، افغانستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے کارروائی کریں۔

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ہم اپنی آئینی حدود بخوبی جانتے ہیں اور دوسروں سے بھی آئین کی پاسداری مقدم رکھنے کی توقع رکھتے ہیں۔
پاکستان ائیر فورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئےآرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 19 میں آزادی اظہار اور اظہار رائے کی حدود متعین کی گئی ہیں، آئین میں آزادی رائے پر واضح حدود کی پامالی کرنے والوں کو دوسروں پر پر انگلیاں نہیں اٹھانی چاہیے۔
انھوں نے پاسنگ آؤٹ پریڈ میں پاکستان کی فضائیہ کے کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں دہشتگردی، کمزور معاشی صورتحال، شیڈو پراکسی (ان دیکھا دشمن)، غلط پروپیگنڈا اور سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے غلط سیاسی نظریات کا سامنا ہے اور ہمیں اس کا شکار نہیں ہونا۔
آرمی چیف نے پاس ہونے والے کیڈٹس کو پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کی روایت کو قائم رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا غزہ جنگ اس بات کی تازہ ترین مثال ہے کہ جنگیں کیا تباہی لاسکتی ہیں، انھوں نے کہا کہ غزہ میں بوڑھوں،خواتین اور بچوں کا بلاتفریق قتل عام اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں تشدد بڑھ رہا ہے۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا نے کشمیر پر جبری قبضہ کر رکھا ہے اور انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے اور دنیا خاموشی تماشائی ہے لیکن ہم کشمیری عوام کے لیے اپنی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔
انھوں نے کہا کہ اسلحے کی دوڑ سے ہمارے خطے میں طاقت کا توازن بھی بگڑنے کا امکان ہے۔
انھوں نے پاکستان فضائیہ کی مہارت اور قابلیت کا ذکر کرتے ہوئے سنہ 2019 میں انڈیا کے طیارے کو مار گرانے کا بھی ذکر کیا۔
انھوں نے کیڈٹس سے خطاب میں مزید کہا کہ آپ قوم امیدوں کا مرکز، آسمانوں کے محافظ اور علاقائی یکجہتی کے ضامن ہیں۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ آپ کا طرزعمل نہ صرف آپ کی ذاتی اخلاقیات بلکہ ادارے کے لیے بھی اہم ہوگا، آپ وطن کے دفاع، عزت و وقار کے لیے قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کریں گے۔
انھوں نے کیڈٹس سے خطاب میں کہا کہ آپ راشد منہاس، سرفراز رفیقی، ایم ایم عالم جیسے بنیں جنھوں نے وطن کے لیے خدمات اور زندگیاں پیش کیں، آپ کو جو ذمہ داری سونپی جارہی ہے اس کے لیے پرعزم رہیں اور پاکستان کے ساتھ وفادار رہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سائفر مقدمے میں سزا کے فیصلے خلاف دائر اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا ہے کہ وکیل کی عدم موجودگی میں ملزم کے دفاع کے بیان کی اہمیت کیا ہوتی ہے؟
چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں اپیلوں پر سماعت کی۔
ایف آئی اے پراسکیوٹر حامد علی شاہ نے دلائل کا آغاز کیا اور بانی پی ٹی آئی کا بطور ملزم ٹرائل کے دوران اپنے دفاع میں ریکارڈ کرایا گیا بیان پڑھ کر سنایا۔
عدالت نے استفسار کیا کیا عمران خان کا بطور ملزم دفاع کا بیان وکیل کی عدم موجودگی میں ہوا؟ کیا وکیل کی عدم موجودگی میں 342 کے بیان کے کوئی اثرات ہوتے ہیں؟ کیا وکیل کی عدم موجودگی میں ملزم کے دفاع کے بیان کی اہمیت کم ہو جائے گی؟ اس نکتے پر تیاری کر کے آئیں اور عدالت کی معاونت کریں۔
عدالت نے کہا اس نکتے پر بھی معاونت کریں کہ کیا وکیل کی عدم موجودگی میں ملزم کے دفاع کے بیان کے کوئی اثرات ہوتے ہیں؟ عدالت نے سائفر گائیڈ لائن کتابچہ مجرم عمران خان کے وکیل کو دینے کی بھی ہدایت کی۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا ہمیں یہ بتائیں کہ سائفر قابلِ احتساب دستاویز کیسے تھا؟ فرض کریں کہ سائفر گائیڈ لائنز کا کتابچہ موجود نہیں اور سائفر قابلِ احتساب دستاویز نہیں تو پھر چارج بنتا ہے؟
ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے عدالت کو بتایا ہے کہ سیکورٹی آف سائفر گائیڈ لائنز جو کابینہ ڈویژن نے تیار کی ہیں اس کے مطابق سائفر دستاویز واپس نا کرنا ایک جرم ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ تسلیم شدہ ہے کہ عمران خان کے پاس سائفر تھا۔ سائفر کی نو کاپیز میں سے صرف ایک کاپی وزیرا عظم ہاؤس سے واپس نہیں آئی۔ باقی آٹھ کاپیز واپس آنے پر ضائع کر دی گئی تھیں۔
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کیس کے گواہ اعظم خان نے مقدس کتاب قرآن ہاتھ میں رکھ کر عدالت میں بیان دیا جسے کم اہمیت نہیں دی جا سکتی۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا میں اسی سوال کو ایک اور طرح سے پوچھتا ہوں کہ وزیر اعظم کے پاس ایک دستاویز آتا ہے جو واپس کرنا ہے اگر واپس نہیں کرتے تو جرم ہے؟ پراسیکیوٹر نے جواب دیا جی بالکل، وہ جرم ہو گا۔
چیف جسٹس نے کہا کیا بیرون ممالک سے آنے والے تمام دستاویزات کانفیڈنشل ہوتے ہیں؟ اگر کوئی دستاویز قابلِ احتساب نہیں وہ گم جائے پھر تو خیر ہے نا؟ وزیراعظم آفس میں تو روزانہ ایک ہزار چٹھیاں آتی ہوں گی۔ دانستہ نہیں لیکن اُن میں سے کوئی ایک آدھ مِس پلیس بھی ہو جاتی ہو گی۔
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا یہ واضح ہے کہ دستاویز گم ہونے کی صورت میں مقدمہ درج ہوگا۔ ان کی اپیل ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں سقم کی بنیاد پر ہے۔
سلمان صفدر نے کہا سائفر دستاویز گم ہو جانے پر طریقہ کار کی شق موجود ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سائفر گائیڈلائنز کے کتابچے میں یہ شق لکھی ہوئی ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا آپ یہ گائیڈلائنز کا کتابچہ سلمان صفدر کو بھی دے دیں۔ پراسیکیوٹر نے جواب دیا میں تو انھیں پیش کر رہا ہوں لیکن انھوں نے نہیں لیا کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ ان پر بھی پرچہ ہو جانا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کیا ہم نے سائفر گائیڈلائنز کا کتابچہ واپس کر دیا ہے؟ یہ نہ ہو کہ پھر ہمارے خلاف بھی ایف آئی آر ہو جائے۔ پراسیکیوٹر نے کہا آپ نے واپس کر دیا ہے۔
حامد علی شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا اگر سائفر گم یا چوری ہو جائے تو وزارت خارجہ میں سینئر سیکورٹی افسر اور انٹیلی جنس بیورو کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ سائفر کی نو کاپیز میں سے صرف ایک وزیراعظم ہاؤس سے واپس نہیں آئی، سائفر کی باقی آٹھ کاپیز واپس آنے پر انھیں ضائع کر دیا گیا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا مجھے تو تجسس ہے کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر کب دلائل مکمل کریں گے؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا انھوں نے خود اپنے دلائل کے لیے 14 سماعتیں لی تھیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے کہا آپ نے چار سماعتیں کہی تھیں چار تو ہو گئیں۔ چیف جسٹس نے کہا شاہ صاحب چار سماعتیں ہو گئی ہیں ، بتائیں کہ مزید کتنا وقت چاہئے؟ حامد علی شاہ نے جواب دیا میں نے چار سماعتیں مطلب چار پورے دن کہا تھا۔ مجھے مزید پانچ گھنٹے اپنے دلائل مکمل کرنے میں لگیں گے۔
عدالت نے اپیلوں پر مزید سماعت چھ مئی تک ملتوی کر دی۔
بلوچستان کے ضلع دکی میں دو بم دھماکوں میں کم ازکم ایک شخص ہلاک اور سی ٹی ڈی کے دو اہلکاروں سمیت 18افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق یہ دونوں دھماکے جمعرات کو کوئلہ فیلڈ کے علاقے میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے وقفے سے ہوئے۔
فون پر رابطہ کرنے پر دکی پولیس کے ایس ایچ او جلیل مری نے بتایا کہ پہلا دھماکہ کوئلے کے ایک ٹرک میں ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے ٹھیکیدار ندی میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جن میں سے ایک اس وقت پھٹ گیا جب کوئلے سے لدا ایک ٹرک وہاں سے گزررہا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکے سے ٹرک کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرک پر ہونے والے دھماکے کے بعد سی ٹی ڈی اور پولیس کے اہلکاروں کے علاوہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے کانکنوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع ہوئی۔
انھوں نے بتایا کہ اس دوران دوسرا دھماکہ ہوا جس میں ایک شخص ہلاک اور 18زخمی ہوئے۔
زخمیوں میں سی ٹی ڈی کے ایک سب انسپیکٹر سمیت دو اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ باقی زخمی ہونے والے تمام افراد کانکن ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا یے۔
دھماکوں کے بارے میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکے بارودی سرنگوں کی وجہ سے ہوئے۔
دکی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق میں اندازاً تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس ضلع کی آبادی کی اکثریت مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے، تاہم اس ضلع میں مختلف بلوچ قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد بھی آباد ہیں۔
بلوچستان کے شورش سے متاثرہ ضلع کوہلو کی سرحدیں اس ضلع سے لگتی ہیں۔ اس ضلع میں کوئلہ کی بڑی تعداد میں کانیں واقع ہیں جہاں سے نکالا جانے والا کوئلہ پنجاب بھیجا جاتا ہے۔
دکی سے 23 مارچ کو مختلف کانوں سے 9 مزدوروں کو اغوا کیا گیا تھا جن میں سے 7 کو یکم مئی کو چھوڑ دیا گیا، جبکہ دو تاحال بازیاب نہیں ہوسکے ہیں۔
تین روز قبل اس ضلع میں سیکورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر بھی حملہ ہواتھا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بی ایل اے کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہPTV
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹیکس چوری کو روکنے اور اسے بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ نے ٹیکس ٹریبیونل کی صورت میں پہلی قانون سازی کر دی ہے۔
ان کے مطابق ٹیکس چوری کو روکنا اور ٹیکس سرکل کو بڑھانا عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مطالبات ہیں۔
وزیر قانون کے مطابق اس وقت 2700 ارب سے زائد ٹیکس کیسسز عدالتوں کے سامنے زیر التوا ہیں، جن پر فوری فیصلے ہونے چاہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سب سے زیادہ ایف بی آر کی بریفنگ لی ہیں۔
ان کے مطابق وزیراعظم کی رائے میں معاشی بحالی میں ایف بی آر کا بڑا حصہ ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس کے نظام اور ریکوری کو بہتر کرنا ہے۔ ٹیکس سرکل کو بڑھانا ہے اور جو پہلے دے رہے ہیں ان پر ہی بوجھ نہیں بڑھانا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں رواں برس عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں غیر قانونی مداخلت کے خلاف جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) آج کراچی میں ملین مارچ کرے گی۔
دوسری طرف وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے بات کریں گے اور ان کے مارچ سے سختی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
جے یو آئی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کا یہ ملین مارچ دراصل ایک جلسہ ہے جو کراچی میں مزار قائد کے قریب ایم ایم اے جناح روڈ پر منعقد ہو گا۔
ترجمان کے مطابق اس مارچ کا آغاز سہہ پہر چار بجے ہو گا اور یہ تقریباً رات دس بجے تک جاری رہے گا۔ ترجمان کے مطابق اس سے قبل جے یو آئی نے 20 اپریل کو پشین میں جلسہ کیا تھا۔ اور اب نو مئی کو پشاور میں جلسہ ہو گا جس میں لاہور اور دیگر شہروں میں ہونے والے ایسے ملین مارچ یا جلسوں کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے احترام کارشتہ ہے، وہ ہمارے ساتھی رہے ہیں، نواز شریف اور شہباز شریف سے مولانا فضل الرحمان کے ذاتی تعلقات ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے بات ہوتی رہی ہے اور ہوگی، مولانا کی سمجھنے اور اپنی بات سمجھانے کی کوشش کریں گے، ان کے مارچ سے سختی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، معاملے کو خوش اسلوبی سے طے کریں گے۔
تحریک انصاف سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ ہو تو بات کی جاسکتی ہے، جب تک سب سر جوڑ کر نہیں بیٹھیں گے سیاسی عدم استحکام رہے گا۔
جے یو آئی کے ترجمان نے رانا ثناللہ کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ان کی جماعت اور سربراہ مولانا فضل الرحمان حکومت کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھا رہے ہیں بلکہ ان کا ہدف اسٹیبلشمنٹ اور اس کی سیاست میں غیرقانونی مداخلت ہے۔
ترجمان کے مطابق مولانا فضل الرحمان سمجھتے ہیں کہ حکومت تو براہ نام ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے پاس بھی اختیارات نہیں ہیں، اس وجہ سے وہ حکومت کو گھر بھیجنے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے بیدخل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
محمودخان اچکزئی پر غیر قانونی قبضے کے الزامات اور ایف آئی آرکا معاملے پر محمود خان اچکزئی نے سابق نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد بن اسد کو 20 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا ہے۔
واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد بن اسد کی سر براہی میں ایک ٹیم نے 3 مارچ کو پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ کواری روڈ پر محمود خان اچکزئی کی رہائش گاہ کے قریب کارروائی کی تھی۔ ڈپٹی کمشنر نے محمود خان اچکزئی سے مبینہ قبضے کا پلاٹ واگزار کرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کارروائی کے وقت محمود خان اچکزئی کا ایک محافظ گرفتار کیا گیا تھا۔ کارروائی کے وقت محمود خان اچکزئی اپنی رہائش گاہ پر موجود نہیں تھے۔
ڈپٹی کمشنر نے پلاٹ سیل کرکے محمود خان اچکزئی کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی تھی۔
اس کارروائی کے بعد جان اچکزئی نے پریس کانفرنس کر کے اسے ایک قانونی کارروائی والا اقدام قرار دیا تھا۔
محمود خان اچکزئی کا نوٹس دھندگان پراپنے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈااور میڈیا ٹرائل کرنے کاالزام عائد کیا ہے۔
وکلا کے ذریعے بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بے بنیاد اور من گھڑت الزامات سے محمود خان اچکزئی اور ان خاندان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا۔
محمود اچکزئی نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ اس نوٹس موصول ہونے کے سات دن کے اندر پریس کانفرنس کرکے ان سے اور ان کے خاندان سے معافی مانگی جائے۔
نوٹس کے مطابق مقرہ وقت کے اندر معافی مانگنے میں ناکامی پر 20 ارب روپے ہرجانہ ادا کرنا ہوگا اور ہرجانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں عدالتی چارہ جوئی عمل میں لائی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہBalochistan High Court
بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس 23 اپریل کو تمام ججز کی ایک میٹنگ کی اور پھر سپریم کورٹ کو عدلیہ کے کاموں میں مداخلت کے خلاف تجاویز بھیجیں۔
عدلیہ کے امور میں غیرقانونی مداخلت آئین پامال کرنے کے مترادف ہے: بلوچستان ہائیکورٹ
بلوچستان ہائیکورٹ کے تمام ججز نے سپریم کورٹ کو جو تجاویز بھیجیں ہیں اس میں یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں ہائیکورٹس میں کسی بھی طرح کی مداخلت آئین پامال کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا اس حوالے سے بلکل ذرا بھی کوئی برداشت نہ رکھی جائے۔
بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز کی رائے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو عدالتی امور میں بیرونی مداخلت کو انتظامی بنیادوں یا پھر توہین عدالت کی کارروائی کے ذریعے قلع قمع کرنا چاہیے تھا کیونکہ ہائیکورٹس سپریم کورٹ کے سپروائزری یا ایڈمنسٹریٹو کنٹرول میں نہیں آتی ہیں۔
’جسٹس فار مسٹر جسٹس‘
بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز کے مطابق اس واقعے کے منفی اثرات یہ مرتب ہوئے ہیں کہ پاکستان کے عوام کا عدلیہ کی آزادی پر اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔
اس سے لوگوں کو یہ بھی تاثر ملا کہ ہائیکورٹ کا جج بے بس اور لاچار ہوتا ہے۔ ’جسٹس فار مسٹر جسٹس‘ والا معاملہ پیدا ہو گیا ہے۔
بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز کے مطابق چونکہ اب سپریم کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لے لیا ہے تو پھر عدلیہ کے امور میں بیرونی مداخلت والے معاملے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کر دیا جائے کیونکہ کہیں بھی ناانصافی ہر جگہ انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز کے مطابق ملک کی تاریخ کو مدنظر رکھا جائے اور پھر غیرقانونی طور پر حکومتیں گرانے کے غیرقانونی عمل پر نظر دوڑائی جائے تو پھر اس تناظر میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز کے مطابق اب ہمیں تلخ حقائق سے منہ پھیرنے کے بجائے سچ کا سامنا کرنا چاہیے۔
بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے مقدمات کا حوالہ بھی دیا اور کہا اب عدلیہ کی آزادی ذمہ داری سپریم کورٹ کے کندھوں پر ہے۔
ججز نے اپنی تجازیز کے آخر میں مارٹن جونیئر لوتھر کنگ کے ان الفاظ کو بھی دہرایا کہ آخر میں ہم اپنے دشمنوں کے الفاظ کو یاد نہیں رکھیں گے بلکہ اپنے دوستوں کی خاموشی یاد رہے گی۔
ججز نے اکبر الہ آبادی کے اس شعر کا حوالہ بھی دیا:
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
اسلام آباد ہائی کورٹ کی تجاویز
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ عدلیہ کی آزادی ایک آئینی تقاضا ہے۔ ججز کے مطابق اگر کوئی ایسا شخص عدلیہ کے امور میں مداخلت کر رہا ہے جو سروس آف پاکستان کا حصہ نہیں ہے تو اس کے خلاف فوجداری کارروائی عمل لانی چاہیے۔ بصورت دیگر توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

،تصویر کا ذریعہMoI
پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کراچی میں چینی قونصلیٹ جا کر چین کے قونصل جنرل یانگ یونڈونگ سے ملاقات کی اور پاکستان اور خصوصاً کراچی میں ’چینی شہریوں کی سکیورٹی اور حفاظت‘ کے لیے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
وزارت داخلہ کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’چینی قونصل جنرل نے سکیورٹی پلان پر اطمینان کا اظہار کیا۔‘
اس ملاقات میں محسن نقوی نے کہا کہ چینی شہریوں کی آمدورفت کے لیے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا رہا ہے اور یہ کہ ’چینی شہریوں کی سکیورٹی بہت عزیز ہے۔‘
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ’چینی شہریوں کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنانا ہمارا فرض ہے۔
ان کے مطابق ’دشمن پاک چین دوستی کو زک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دشمن کی ایسی ہر سازش ناکام بنائیں گے۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاک چین دوستی کو نقصان پہنچانے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔

،تصویر کا ذریعہM A JARRAL
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان کے خلاف سینٹورس مال کے مرکزی دفاتر اور اہم دستاویزات پر مبینہ قبضہ کرنے کی کوشش کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
ایف آئی آر ڈپٹی سکیورٹی انچارج دی سینٹورس مال کرنل ریٹائرڈ ٹیپو سلطان کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں سردار تنویر الیاس، محمد علی، انیل سلطان، رضوان اور دیگر نامعلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق سردار تنویر الیاس 20 سے 25 افراد پر مشتمل مسلح جتھے کے ہمراہ سینٹورس مال کے دفتر 1708 میں تالا توڑ کر داخل ہوئے اور دفتر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، جسے سیکیورٹی گارڈز نے ناکام بنادیا۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق سردار تنویر الیاس نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سردار یاسر الیاس خان اور سردار ڈاکٹر راشد الیاس خان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی اور دفتر کی سکیورٹی پر معمور سکیورٹی اہلکار پر تشدد کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق مزکورہ حملے کی اطلاع پا کر جب ہم اس جگہ پہنچے تو سردار تنویر الیاس نے کرنل ٹیپو سلطان پر فائر کردیا، جو مس ہوگیا۔
درج مقدمے کے مطابق ملزمان پہلے بھی ایسی کارروائی کرچکے ہیں۔