پینٹاگون نے چین کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے چینی زبان اور ثقافت کی تعلیم دینے والے اداروں ’کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس‘ کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں ان اداروں کو ’پروپیگنڈا مراکز‘ سے تشبیہ دی اور کہا کہ امریکہ کی مختلف جامعات میں مختلف ناموں سے ایسے درجنوں مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ ادارے دانشورانہ ملکیت چرانے اور ان کے بقول، ’امریکی طلبہ کے ذہنوں میں دراندازی‘ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع ان مراکز کو منظم انداز میں ختم کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں چین کے سفارت خانے نے تاحال اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہکنفیوشس انسٹی ٹیوٹس چین کی مالی معاونت سے مختلف ممالک کی جامعات میں قائم کیے جانے والے مراکز ہیں، جہاں چینی زبان کی تعلیم اور چینی ثقافت سے متعلق سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان کا آغاز 2004 میں جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں پہلے مرکز کے قیام سے ہوا، جبکہ اسی سال امریکہ کی یونیورسٹی آف میری لینڈ میں بھی ایسا مرکز قائم کیا گیا۔ یہ مراکز عموماً چینی اور میزبان ملک کی جامعات کے اشتراک سے کام کرتے رہے ہیں۔
امریکہ میں ان مراکز کی تعداد 2019 تک بڑھ کر تقریباً 100 ہو گئی تھی، تاہم بعد کے برسوں میں قومی سلامتی اور جامعات کی تعلیمی خودمختاری سے متعلق خدشات کے باعث بیشتر مراکز بند کر دیے گئے۔
کنفیوشس کون تھے؟
کنفیوشس قدیم چین کے معروف فلسفی، استاد اور سیاسی مفکر تھے، جو 551 قبل مسیح سے 479 قبل مسیح تک زندہ رہے۔ ان کا اصل نام کونگ چیو تھا اور انھیں چینی زبان میں ’کونگ زی‘ بھی کہا جاتا ہے، جس کا مطلب استاد کونگ ہے۔ وہ موجودہ چین کے صوبے شان ڈونگ کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیمات میں اخلاق، انصاف، دوسروں کے احترام، خاندانی ذمہ داریوں اور حکمرانوں کے اچھے کردار پر زور دیا گیا۔






















