امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس کے بعد صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے دی گئی 10 دن کی مہلت آج ختم ہونی تھی، لیکن انھوں نے ایسٹر کے موقعے پر ’اچھا انسان بننے‘ کے لیے اسے کل تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ جب کل کی مہلت ختم ہو جائے گی تو ’ان کے پاس کوئی پُل نہیں ہوں گے، ان کے پاس کوئی بجلی گھر نہیں ہوں گے۔ پتھر کا زمانہ، ہاں‘۔
انھوں نے یہ بات ایران کو ’پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے‘ کی اپنی سابقہ دھمکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت مذاکرات میں امریکہ کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ایرانی حکام آپس میں بات چیت نہیں کر پا رہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ نیٹو ممالک سے بہت مایوس ہیں کیونکہ اتحادیوں نے ایران سے متعلق مشن میں شامل ہونے کی ان کی درخواست مسترد کر دی۔
انھوں نے کہا کہ وہ سب سے زیادہ برطانیہ سے مایوس ہیں۔
اس کے بعد ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر غور کریں گے اگر تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرے۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ترجیح دیں گے کہ امریکہ خود جہازوں سے ٹول وصول کرے، اور کہا ’ہم جیتنے والے ہیں۔‘
انھوں نے کہا، ’ہم جیت چکے ہیں۔ وہ عسکری طور پر شکست کھا چکے ہیں۔۔۔ ہمارے پاس ایک منصوبہ ہے جس کے تحت ہم ٹول وصول کریں گے۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی 48 گھنٹے کی مہلت پوری کرنے کے لیے جو منگل کی شام 8 بجے ختم ہونی ہے ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جو ’مجھے قابل قبول ہو‘، اور مزید کہا کہ ’اس معاہدے کا ایک حصہ یہ ہوگا کہ ہم تیل کی آزادانہ نقل و حرکت چاہتے ہیں۔‘