بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
18 نومبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کی کنوینر ناہید اسلام نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسانیت کے خلاف جرم میں سزائے موت پانے والی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی انڈیا سے حوالگی اور عدالتی فیصلے پر ایک ماہ کے اندر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
18 نومبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
سری لنکن کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دورے پر آئے سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دو کھلاڑی بیماری کے بارعث وطن واپس جا رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک بیان میں سری لنکن بورڈ نے بتایا کہ وطن واپس آنے والے دو کھلاڑی کپتان چیرتھ اسالنکا اور فاسٹ بولر اسیتھا فرنینڈو ہیں ۔
’یہ احتیاطی فیصلہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ انھیں مستقبل کے اسائنمنٹس سے پہلے صحت یاب ہونے کے لیے مناسب دیکھ بھال اور کافی وقت ملے۔‘
سری لنکن بورڈ کے مطابق ’کپتان کی غیر موجودگی میں داسن شناکا کو کپتان بنایا جائے گا اور سہ فریقی سیریز کے دوران داسن شناکا سری لنکا کی قیادت کریں گے۔ جبکہ ٹیم میں پون رتھنائکے کو متبادل کھلاڑی کے طور پر ٹی ٹوئنٹی سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کی کنوینر ناہید اسلام نے انسانیت کے خلاف جرم میں سزائے موت پانے والی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی واپسی اور عدالتی فیصلے پر ایک ماہ کے اندر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
انھوں نے یہ بات پیر کو ڈھاکہ میں بنگلہ موٹرز میں این سی پی کے مرکزی دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں کہی۔
انھوں نے کہا کہ ’آج ایک تاریخی دن ہے اور ان کی جماعت ۔۔۔ شیخ حسینہ واجد کی سزائے موت کا خیرمقدم کرتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ جولائی انقلاب کے ہزاروں ہلاک ہونے والو اور ہزاروں زخمی جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا فیصلہ آج سنا دیا گیا ہے۔
ناہید اسلام نے کہا کہ ’یہ فیصلہ ملک کی عدالتی تاریخ میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ لیکن جس دن یہ فیصلہ نافذ ہو جائے گا، ہم مکمل طور پر تب مطمئن ہوں گے۔‘
ان کے مطابق ’جولائی انقلاب میں مرنے والوں کی روحوں کو سکون ملے گا، ان کے خاندانوں اور زخمی جنگجوؤں کو سکون ملے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شیخ حسینہ کو اگلے مہینے کے اندر بنگلہ دیش واپس لایا جائے اور اس فیصلے پر عمل درآمد ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ہی پارٹی کے قانون سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلیں عام کرنے کے لیے ووٹ دیں۔
ٹرمپ نے اتوار کی رات لکھا کہ ایوان نمائندگان میں ریپبلکنز کو ایسا کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ یہ ٹرمپ کے مؤقف میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
ان کے اس اعلان سے قبل ہی ممکنہ طور پر درجنوں ریپبلکنز نے عندیہ دیا کہ وہ ایک ایسے بل کے حق میں ووٹ دینے پر راضی ہیں جو امریکی حکومت کو ایپسٹین کے بارے میں تمام دستاویزات اور اس کے خلاف مجرمانہ تحقیقات شائع کرنے پر مجبور کرے گا۔
ایسا لگتا ہے کہ اس بل کے حامیوں کے پاس اس ہفتے ایوان سے منظور ہونے کے لیے کافی ووٹ ہیں، حالانکہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ امریکی کانگریس کے دوسرے چیمبر سینیٹ میں منظور ہوگا یا نہیں۔
عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ اِن شخصیات میں سے ہیں جن کا ذکر ایپسٹین فائلز میں ہے۔
امریکی قانون سازوں نے بدنام زمانہ فنانسر اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے اثاثوں سے حاصل کردہ 20,000 سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں۔
جیفری ایپسٹین اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کی دستاویزات نے پوری دنیا میں ہلچل مچا رکھی ہے۔
ان دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق پاکستانی وزیر اعظم اور کرکٹر عمران خان، ٹرمپ کے سابق مشیر سٹیو بینن، سابق شہزادہ اور بادشاہ چارلس کے بھائی اینڈریو ماؤنٹبیٹن ونڈسر، اور میڈیا، سیاست اور تفریح کی دنیا سے تعلق رکھنے والی دیگر اہم شخصیات کے نام شامل ہیں جو ایپسٹین کے وسیع روابط کی جھلک پیش کرتے ہیں۔
جہاں ٹرمپ کئی برسوں تک ایپسٹین کے دوست رہے۔ مگر صدر کا کہنا ہے کہ دونوں میں تقریباً 2004 میں اختلافات پیدا ہوگئے تھے، یعنی ایپسٹین کی پہلی گرفتاری سے کئی سال پہلے۔ ٹرمپ نے ایپسٹین کے حوالے سے کسی بھی بدعملی میں شمولیت سے مستقل طور پر انکار کیا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کے ایک جائزے سے پتا چلا ہے کہ 2,324 ای میل تھریڈز میں سے 1,600 سے زیادہ میں ٹرمپ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
انڈیا نے بنگلہ دیش کی طرف سے شیخ حسینہ کو سنائی جانے والی سزائے موت کے فیصلے کے بعد حوالگی کے مطالبے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’اس حوالے سے ہم تمام سٹیک ہولڈرز سے تعمیری رابطے قائم رکھیں گے۔‘
اس کے جواب میں انڈین وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’اس بات سے آگاہ ہیں کہ بنگلہ دیش کے ٹریبونل نے شیخ حسینہ کے بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔‘
انڈیا نے حوالگی کے مطالبے پر کوئی واضح مؤقف نہیں دیا۔ تاہم انڈین دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ قریبی پڑوسی ملک ہونے نے ناتے انڈیا بنگلہ دیش کے بہترین مفاد میں یہاں جمہوریت، امن، شمولیت اور استحکام کے لیے پرعزم ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بنگلہ دیش نے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے فیصلے کے بعد انڈیا سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
وزارت خارجہ نے پیر کو ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ’بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل کے آج کے فیصلے میں، مفرور شیخ حسینہ اور اسد الزماں خان کمال کو جولائی میں ہونے والے قتل کے لیے قصوروار ٹھہرایا گیا ہے اور انھیں سزا سنائی گئی ہے۔‘
اس میں کہا گیا ہے کہ ’کسی بھی دوسرے ملک کے لیے انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو پناہ دینا غیر دوستانہ رویہ اور انصاف کی توہین ہو گی۔‘
بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’ہم انڈین حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ دونوں سزا یافتہ افراد کو فوری طور پر بنگلہ دیشی حکام کے حوالے کرے۔‘
دونوں ممالک کے درمیان موجود حوالگی کے معاہدے کے مطابق یہ انڈیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان رہنماؤں کی حوالگی کو یقینی بنائیں۔
بنگلہ دیش نے اس سے قبل بھی کئی بار شیخ حسینہ کو واپس بھیجنے کی باضابطہ درخواست کی تھی اور اس سلسلے میں مراسلے بھی بھیجے۔ تاہم انڈیا نے ایسی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں بنگلہ دیش کے خارجہ امور کے مشیر نے کئی بار کہا کہ بنگلہ دیش نے ایک خط بھیج کر ان کی واپسی کی درخواست کی ہے۔ تاہم انڈیا کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی سزائے موت کو ’تاریخی فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی بہت اہمیت ہے۔
تاہم، حکومت نے عوام سے پرامن ہونے کا بھی مطالبہ کیا- حکومت نے مزید کہا کہ فیصلے کی روشنی میں جذبات بڑھک سکتے ہیں۔ حکومت کے مطابق ’انارکی، افراتفری پیدا کرنے یا امن عامہ میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے دبا دیا جائے گا‘۔
بنگلہ دیش میں اس وقت نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کی طرف سے چلائی جانے والی عبوری حکومت ہے، جو شیخ حسینہ کی اس وقت کی حکمران جماعت عوامی لیگ کا تختہ الٹنے کے بعد قائم کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ڈھاکہ عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’متعصبانہ اور سیاسی بنیادوں‘ پر سنایا جانے والا فیصلہ قرار دیا ہے۔
فیصلے کے بعد جاری ہونے والے پانچ صفحات پر مشتمل ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ سزائے موت عبوری حکومت کی جانب سے عوامی لیگ کو ایک سیاسی قوت کے طور پر کالعدم قرار دینے کا حربہ ہے۔
اس سے قبل شیخ حسینہ نے اس مقدمے کو ’بھونڈا مذاق‘ قرار دیا تھا اور اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ میں کسی ایسے مناسب ٹربیونل جہاں شواہد کی شفافیت سے چھان بین کی جائے مدعا علیہان کا سامنے کرنے سے کوئی خوف مانع نہیں ہے۔
سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ انھوں نے عبوری حکومت کو چیلنج کیا تھا کہ وہ ان کے خلاف ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔
انھوں نے کہا کہ انھیں ’انسانی حقوق اور ترقی کے بارے میں اپنی حکومت کے ریکارڈ پر بہت فخر ہے۔‘

ڈھاکہ کے خصوصی ٹریبیونل کی جانب سے بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیے جانے کے بعد ملک بھر میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔
پیر کے روز فیصلے سے قبل ہی مظاہرین کی ایک بڑی تعداد دھان منڈی 32 کے نزدیک جمع ہو گئے تھے جو معزول وزیر اعظم کے والد کا گھر ہے۔ یہ جگہ حالیہ مہینوں میں احتجاج کا ایک مرکز رہا ہے۔
پولیس کو ہجوم کو پیچھے ہٹانے کے لیے سٹن گرینیڈ استعمال کرنے پڑے۔
مظاہرین دو بلڈوزر بھی کر آئے تھے اور نعرے لگا رہے تھے ’فسطائیت کے اڈوں کو تباہ کرو۔‘
یاد رہے کہ حکام نے فیصلے کے بعد کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ڈھاکہ میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کر رکھے ہیں۔ ڈھاکہ کے مختلف علاقوں میں پولیس کے علاوہ ریپڈ ایکشن بٹالین اور بنگلہ دیش بارڈر گارڈ کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔


،تصویر کا ذریعہThe India Today Group via Getty Images
انڈیا کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اپیندر دویدی کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور صرف ایک ٹریلر تھا جو 88 گھنٹوں میں ختم ہو گیا۔
چانکیا ڈیفنس ڈائیلاگ کے دوران جب ان سے آپریشن سندور 1.0 کے نتائج کے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’1.0 تو دیکھیے میں تو یہ کہنا چاہوں گا کہ مووی شروع بھی نہیں ہوئی تھی، صرف ایک ٹریلر دکھایا گیا تھا۔ اور 88 گھنٹے میں وہ ٹریلر ختم ہو گیا تھا۔‘
’آگے آنے والے حالات کیسے ہوں گے، اس کے بارے میں ہم پوری تیاری کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اگر ایسا کوئی موقع دیتا ہے تو ہم اس کو سکھانا چاہیں گے کہ ایک ذمہ دار ملک کو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برتاؤ کرنا چاہیے۔
پاکستان کے شہر راولپنڈی کی پولیس نے زیر حراست ملزم کے فرار ہونے کی پاداش میں تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
سیالکوٹ کے سابق اییڈشنل کمشنر ریوینیو اقبال سگھیڑا کے خلاف پنجاب کے محکمہ انسداد رشوت ستانی نے جعل سازی کا مقدمہ درج کر رکھا تھا۔
تھانہ چکری میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 12 نومبر کو ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے لاہور سے راولپنڈی لایا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 13 نومبر کو ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل لے جایا جا رہا تھا کہ لاہور واپس جاتے ہوئے موتر وے پر ریسٹ ایریا کے قریب واش روم استعمال کرنے کے لیے گاڑی روکی گئی تو ملزم کے ساتھی پہلے سے ہی وہاں موجود تھے۔
جب 15 نومبر کو راولپنڈی پولیس کے حکام نے ملزم کے ساتھ ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ ملزم اقبال سگھیڑا کے ساتھی ریسٹ ایریا سے انھیں اپنی گاڑی میں لے کر فرار ہو گئے تھے۔
تھانہ چکری میں درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ پولیس افسر نے اپنے افسران کو 13 نومبر کو پیش آنے والے اس واقعہ کے بارے میں بتایا اور ساتھ یہ موقف اختیار کیا کہ پہلے تو وہ اپنے تئیں فرار ہونے والے ملزم کو تلاش کرتا رہا اور پھر شرمندگی کی وجہ سے وہ اس واقعے کی اطلاع اعلیٰ حکام کو نہیں دے سکا۔
پولیس نے غفلت برتنے پر تین اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
راولپنڈی پولیس کے ایس ایس پی اپریشنز کاشف ذوالفقار کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے ملزم کی گرفتاری کے لیے ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ مخلتف مقامات پر چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
انڈین حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے شہر مدینہ کے قریب انڈین عازمین کی بس کو حادثہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
جدہ میں انڈیا کے سفارتخانے نے بھی حادثے کی تصدیق کی ہے تاہم ابھی تک ہلاکتوں کے بارے میں کوئی سرکاری یا واضح معلومات نہیں ہیں۔
انڈین قونصل خانے نے جدہ میں ایک کنٹرول روم قائم کر دیا ہے۔
جدہ میں واقع انڈیا کے قونصل خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ریاض میں واقع انڈین سفارت خانہ اور جدہ میں قونصلیٹ جنرل سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ اور دیگر مقامی حکام کے ساتھ ساتھ متعلقہ عمرہ آپریٹرز سے بھی رابطے میں ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ قونصل خانے کے عملے اور انڈین کمیونٹی کے رضاکاروں کی ٹیمیں کئی ہسپتالوں اور جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔
تلنگانہ کے وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثہ مکہ سے مدینہ جانے والی بس کو پیش آیا اور اس میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے افراد بھی سوار تھے۔
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کی دو ٹریول ایجنسیوں کے 42 عازمین مکہ سے مدینہ جا رہے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق بس میں آگ لگنے کے بعد صرف ایک شخص زندہ بچ سکا ہے تاہم اس کی ابھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
جے شنکر کا کہنا ہے کہ ریاض میں انڈین سفارت خانہ اور جدہ میں قونصلیٹ جنرل اس حادثہ سے متاثرہ شہریوں اور ان کے خاندانوں کو مکمل مدد فراہم کر رہے ہیں۔
تقریباً 45 منٹ کی تاخیر کے بعد ڈھاکہ کے ایک خصوصی ٹریبیونل نے بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے کی سماعت کا آغآز کر دیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آج عدالت اس کیس کا فیصلہ سنا دے گی۔
شیخ حسینہ پر الزام ہے کہ گذشتہ سال جولائی میں اپنی حکومت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے انھوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔
سماعت کے دوران عدالت مظاہروں کے دوران مارے جانے والوں کے لوحقین، وکلا اور بنگلہ دیش کے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے کھچاکھچ بھری ہوئی ہے۔
ڈھاکہ سے بی بی سی کی نامہ نگار شارلیٹ سکار کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ عدالتی کارروائی میں دو گھنٹے تک لگ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے مقدمے کا فیصلہ انڈیا اور بنگلہ دیش کی سفارت کاری کے مستقبل کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
آج بنگلہ دیش کے ایک خصوصی ٹریبیونل کی جانب سے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف جاری انسانیت کے خلاف جرائم کے ایک مقدمے کا فیصلہ آنے کی توقع ہے۔
شیخ حسینہ گذشتہ سال پانچ اگست کو ملک گیر احتجاج کے دوران بنگلہ دیش سے فرار ہونے کے بعد سے دہلی میں مقیم ہیں۔ ڈھاکہ نے باضابطہ طور پر انڈیا سے ان کی حوالگی کی درخواست کی ہے تاہم اب تک مودی حکومت نے اس پر آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان حوالگی کا معاہدہ ہے تاہم یہ معاملہ پیچیدہ سفارتی حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔ دہلی کو یہ بھی دھیان میں رکھنا ہو گا کہ ایسے الزامات بھی ہیں کہ حسینہ واجد کے خلاف مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے جبکہ ان کی ذاتی حفاظت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا تھا کہ انڈیا حسینہ واجد کی ’حمایت‘ کر رہا ہے۔ تاہم انڈیا کا موقف ہے کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی حمایت کرتا ہے اور مقبول مینڈیٹ کے بعد جو بھی حکومت سامنے آئے گی اس کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
انڈیا کے سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے حسینہ سے متعلق معاملات کو ’عدالتی اور قانونی‘ مسائل کے طور پر بیان کیا ہے جس کے لیے دونوں پڑوسیوں کے درمیان ’مشاورت‘ ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈین حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
نئی دہلی میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ 20 زخمی ہو گئے تھے۔ انڈین حکومت نے اسے ’دہشت گردی کا واقعہ‘ قرار دیا ہے۔
یہ دھماکہ لال قلعے کے نزدیک ایک میٹرو اسٹیشن کے قریب ہوا۔ یہ شہر کے سب سے مشہور مقامات میں سے ایک ہے۔
انڈیا کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی گرفتار ملزم کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
این آئی اے نے زیرِ حراست شخص پر مبینہ خودکش حملہ آور کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا رہائشی ہے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ انھوں نے جانچ کے لیے ایک اور گاڑی قبضے میں لی ہے جو مبینہ طور پر خودکش بمبار کی ہے۔ اب تک اس کیس میں دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد سمیت 73 گواہوں سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔
لال قلعہ کے باہر ہونے والا دھماکہ 2011 کے بعد نئی دہلی میں ہونے والا اپنی نوعیت کا پہلا دھماکہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آج بنگلہ دیش کے ایک خصوصی ٹریبیونل کی جانب سے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف جاری انسانیت کے خلاف جرائم کے ایک مقدمے کا فیصلہ آنے کی توقع ہے۔ تاہم سابق وزیرِ اعظم خود انڈیا میں موجود ہیں۔
شیخ حسینہ واجد پر الزام ہے کہ گذشتہ سال جولائی میں اپنی حکومت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے انھوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔
فیصلے کے موقع پر گذشتہ سال حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مارے جانے والے افراد کے لواحقین بھی عدالت میں موجود ہیں۔
فیصلے کے بعد کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ڈھاکہ میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس کے علاوہ ریپڈ ایکشن بٹالین اور بنگلہ دیش بارڈر گارڈ کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے مطابق گذشتہ سال موسم گرما میں مظاہروں کے دوران 1400افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سابق وزیرِ اعظم پر الزام ہے کہ وہ سینکڑوں مظاہرین کی ہلاکتوں کی ماسٹر مائنڈ ہیں۔ شیخ حسینہ واجد اور ان کی جماعت عوامی لیگ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
رواں سال بی بی سی آئی نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے فون کی ایک ایسی آڈیو کی تصدیق کی جس سے پتا چلتا ہے کہ گذشتہ سال بنگلہ دیش میں طلبہ کی سربراہی میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاون کرنے کا حکم انھوں نے ہی دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس آڈیو میں، جو مارچ میں آن لائن لیک ہوئی، حسینہ واجد کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کو اجازت دیتی ہیں کہ وہ مظاہرین کے خلاف ’مہلک ہتھیار استعمال کریں اور جہاں بھی انھیں دیکھیں، گولی مار دیں۔‘
اس ریکارڈنگ میں حسینہ واجد کو ایک سینیئر حکومتی اہلکار سے بات چیت کرتے سنا جا سکتا ہے جو اب تک سامنے آنے والا سب سے اہم ثبوت ہے کہ انھوں نے حکومت مخالف مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں ڈالر کی نقد خرید و فروخت کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں بینکوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ڈالر خریداروں کے کھاتوں میں براہِ راست منتقل کریں۔
مرکزی بینک کی جانب سے اس سلسلے میں ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں غیر ملکی کرنسی سے متعلق ترمیم شدہ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
سرکلر میں کہا گیا یہ اقدام ملک میں کیش لیس معیشت کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ آئندہ سے پاکستانی شہریوں کو غیر ملکی کرنسی کی خرید کے معاملات، جو اُن کے ایف سی وائی (غیر ملکی کرنسی) کھاتوں میں جمع کروانے کے مقصد کے لیے ہوں، اکاؤنٹ ٹو اکاؤنٹ ٹرانسفر کے ذریعے ہی انجام دیے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اتوار کے روز گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز (جی آئی ڈی ایس) سینٹر کا دورہ کیا جہاں چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے ان کا استقبال کیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے حوالے سے بتایا ہے کہ دورے کے دوران شاہ اردن کو جی آئی ڈی ایس کی ساخت، صلاحیتوں اور ادارے کی جانب سے تیار کی جانے والی مصنوعات کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی جس میں پاکستان کی مقامی دفاعی پیداوار، تکنیکی جدت جبکہ پاکستان اور اردن کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون کے ممکنہ مواقع پر پیشرفت کو اجاگر کیا گیا۔
بعد ازاں شاہ عبداللہ نے ٹلہ فیلڈ فائرنگ رینج کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے وزیر دفاعی صنعت وُوگر ویلہ اوغلو مصطفائیف بھی موجود تھے۔
شاہ اردن اور دیگر مہمانوں نے ایک مشترکہ فائر اینڈ مینیور مشق کا بھی مشاہدہ کیا جس میں روایتی اور فضائی فائر پاور، ہم آہنگ حرکات اور سپیکٹرم وارفیئر کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا گیا۔ مشق کے دوران مختلف انواع اور کثیرالمقاصد ڈرونز کا بھی عملی مظاہرہ کیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شاہ عبداللہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار دوستی، باہمی اعتماد اور امن و ترقی کے مشترکہ جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان اور اردن کے درمیان مضبوط دفاعی شراکت داری پر زور دیتے ہوئے اردن کے ساتھ فوجی تعاون مزید بڑھانے، مستحکم اور پرامن خطے کے باہمی وژن کو مشترکہ طور پر حاصل کرنے کے پاکستان کے عزم کی تجدید کی۔

،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان نے پاکستان سے گندم کی درآمد صفر کر دی ہے۔ افغانستان نے 10 برس قبل پاکستان سے 30 کروڑ ڈالر سے زائد کا آٹا درآمد کیا تھا جس کے بعد ہمسایہ ملک سے گندم اور آٹے کی درآمد میں بتدریج کمی آئی۔
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کی وجہ سے افغان طالبان نے پاکستان کے ساتھ تجارتی روابط ختم کرنے پر زور دیا تھا۔
افغانستان نے اپنے صنعت کاروں اور تاجروں کو پاکستان کے بجائے دیگر ممالک کے ذریعے تجارت کے راستے تلاش کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔
پاکستان گزشتہ چند دہائیوں سے افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی اور ٹرانزٹ کوریڈور رہا ہے جہاں سے اس کی تقریباً نصف تجارت ہوتی ہے۔
بین الاقوامی اور ایشیائی مارکیٹ پر نظر رکھنے والے اداروں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2015 میں، دس سال پہلے، پاکستان نے افغانستان کو 320 ملین ڈالر مالیت کا آٹا برآمد کیا تھا، لیکن اب یہ سطح کم ہو کر صفر پر آ گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ افغانستان اب پاکستان کے آٹے پر انحصار نہیں کر رہا ہے اور اس نے اپنے آپ کو دوسرے قابل اعتماد دوست تلاش کر لیے ہیں، جن کے ساتھ اس کے تعلقات ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔
افغانستان نے 2024 میں ازبکستان، قازقستان اور روس سے 689 ملین ڈالر مالیت کا گندم اور آٹا خریدا اور اندازہ ہے کہ اس سال یہ سطح 750 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے ٹرپل اے ایسوسی ایٹس سکینڈل میں ملوث کمپنی کے سی ای او شیخ فواد بشیر اور ایم ڈی شہزاد علی کیانی نامی ملزمان سے پلی بارگین کر لی ہے۔ اس سکینڈل میں 12.7 ارب روپے کا فراڈ شامل ہے، جس میں ہزاروں متاثرین اپنے مالی مفادات سے محروم ہو گئے۔
نیب کا یہ مؤقف یہ کہ یہ ڈیل راولپنڈی نیب کی تاریخ میں دھوکہ دہی کے کسی بھی مقدمے میں سب سے بڑی ڈیل ہے۔ یہ مقدمہ 2020 سے 2023 تک کے عرصے میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے متعلق ہے۔
نیب حکام کے مطابق AAA ایسوسی ایٹس نے ہزاروں افراد کو کمرشل منصوبوں میں سرمایہ کاری کے نام پر بھاری رقوم جمع کرنے پر آمادہ کیا تھا، لیکن ان منصوبوں پر عملدرآمد میں ناکامی کے باعث متاثرین کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ متاثرین نے اس معاہدے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج بھی کیا تھا جہاں سے انھیں گذشتہ سال حکم امتناع مل گیا تھا۔
نیب نے اپنی ویٹ سائٹ پر اس حتمی معاہدے کی تفصیلات تو شیئر کی ہیں اور یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ متاثرین کے تمام تحفظات دور کر دیے گئے ہیں اور ملزمان سے لوٹی ہوئی رقم ریکور کر لی ہے۔