’اصل فورم وفاقی آئینی عدالت ہے‘: 27 ویں ترمیم سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز کی درخواست پر اعتراض

سپریم کورٹ کے رجسڑار آفس کا کہنا ہے کہ اس آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے کا اصل فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز کی جانب سے ترمیم چیلنج کی گئی تھی.

خلاصہ

  • اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دفاعی منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کے اضافی فنڈز کی منظوری دے دی
  • امریکہ نے سعودی عرب کو اہم غیر نیٹو اتحادی کا درجہ دے دیا
  • سعودی ولی عہد کا امریکہ میں 10 کھرب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان، خاشقجی کے قتل پر ٹرمپ نے اُن کا دفاع کیا
  • قبللبنان میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ کے نزدیک اسرائیلی حملے میں 13 افراد ہلاک

لائیو کوریج

  1. امریکہ نے انڈیا کو نو کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے انڈیا کو نو کروڑ ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان ہتھیاروں میں ٹینک شکن میزائل بھی شامل ہوں گے۔

    یہ فیصلہ انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے نو ماہ بعد سامنے آیا ہے جہاں دونوں رہنماؤں نے ’دفاعی تعلقات کو آگے لے جانے‘ کا عہد کیا تھا۔

    اگلے 10 سالوں میں دفاعی تعاون کو بڑھانے کے لیے دونوں ممالک نے ایک فریم ورک معاہدے پر اکتوبر میں دستخط کیے تھے۔

    صدر ٹرمپ نے انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ مزید امریکی ساختہ ہتھیار خریدے۔

    اگرچہ روس، انڈیا کے لیے ہتھیاروں کی سپلائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، لیکن یہ شرح 2017 اور 2023 کے درمیان 62 فیصد سے کم ہو کر 34 فیصد رہ گئی ہے۔

    دوسری طرف امریکہ کے ساتھ انڈیا کی دفاعی تجارت 20 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی ہے۔ جو امریکہ کو روس اور فرانس کے بعد اسلحہ فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک بناتا ہے۔

  2. سٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیرا کا الزام، اینٹی کرپشن کمیشن نے بنگلہ دیشی کرکٹر شکیب الحسن کو طلب کر لیا

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش میں اینٹی کرپشن کمیشن نے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سابق رُکن پارلیمنٹ کو 26 نومبر کو طلب کر لیا ہے۔

    شکیب الحسن پر سٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری، غیر قانونی لین دین اور منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔

    اینٹی کرپشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل محمد اختر حسین نے جمعرات کو میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ شکیب الحسن کے علاوہ بھی مزید 15 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

    اے سی سی کے مطابق اس معاملے میں سرمایہ کاروں کو مجموعی طور پر 256 کروڑ ٹکے کا نقصان ہوا۔

    واضح رہے کہ شکیب الحسن اس وقت ملک سے باہر ہیں۔

  3. بنگلہ دیش کا شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے انڈیا کو خط لکھنے کا اعلان

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے انڈیا کو خط لکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    جمعرات کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عبوری حکومت کے قانونی مشیر پروفیسر آصف نذرل نے کہا کہ عبوری حکومت معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ اور سابق وزیرِ داخلہ اسد الزماں خان کمال کی واپسی کے لیے انڈیا کو خط لکھنے جا رہی ہے، جنھیں انسانیت کے خلاف جرائم پر موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

    آصف نذرل نے انڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ معاہدے کے مطابق اپنی ذمے داریاں پوری کرے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اب جبکہ شیخ حسینہ کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ انڈیا پر اب ایک اضافی ذمے داری ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے عوام کی انصاف کی خواہشات کا احترام کرے۔

    آصف نذرل کا کہنا تھا کہ ہم انڈیا کو یاد دلاتے ہیں کہ اس کا بنگلہ دیش کے ساتھ مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ ہے، لہذا وہ اپنی ذمے داری پوری کرے۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا مجرموں کی وطن واپسی کے لیے دی ہیگ، نیدرلینڈز میں بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مدد لی جائے۔

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے شیخ حسینہ کو سزائے موت سنائے جانے پر ردِِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا نے یہ فیصلہ دیکھا ہے اور قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے انڈیا، جمہوریت، امن، استحکام اور شمولیت سے متعلق بنگلہ دیشی عوام کے مفادات کے لیے پرعزم ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا بنگلہ دیش میں تمام ستیک ہولڈرز کے ساتھ جامع رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھے گا۔

  4. ڈیرہ اسماعیل خان میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے دو پولیس اہلکار ہلاک، چار زخمی, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور

    ڈیرہ اسماعیل خان میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس سٹیشن تھانہ گلوٹی کے محرر محمد اعظم نے بی بی سی کو بتایا کہ بکتر بند گاڑی معمول کے گشت پر تھئ کہ لنک روڈ ہتھالہ میں قلندر گاؤں کے قریب پہنچی تو پل کے نیچے نصب دھماکہ خیز مواد کی زد میں آ گئے۔ دھماکے سے ڈرائیور محمد رمضان اورکانسٹیبل سیف الرحمن ہلاک ہو گئے۔

    حوالدار شاہد، کانسٹیبل محبوب عالم، آصف اور کفایت زخمی ہوئے جنھیں قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ اس واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    ‎وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ڈی آئی خان میں پولیس گاڑی پر بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

  5. ’اصل فورم وفاقی آئینی عدالت ہے‘: 27 ویں ترمیم سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز کی درخواست پر اعتراض, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز کی درخواست پر اعتراض لگا دیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے رجسڑار آفس کا کہنا ہے کہ اس آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے کا اصل فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز کی جانب سے ترمیم چیلنج کی گئی تھی.

    یہ درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت امتیاز اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

    خیال رہے کہ یہ چار ججز اُن چھ ججز میں شامل تھے جنھوں نے گذشتہ برس مارچ میں اعلیٰ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا۔

    25 مارچ 2024 کو سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے اپنے خط میں عدالتی امور میں آئی ایس آئی اور دیگر انٹیلیجنس اداروں کی طرف سے براہ راست مداخلت اور ججوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

    یاد رہے کہ 27 ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججوں، جسٹس منصور علی خان اور جسٹس اطہر من اللہ، نے اس ترمیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے 'آئین پاکستان پر سنگین حملہ' قرار دیتے ہوئے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

    اس سے قبل ان دونوں ججوں نے اس آئینی ترمیم پر چیف جسٹس آف پاکستان کو خطوط لکھے تھے اور اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار بھی کیا تھا۔

    یاد رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ موجود چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

    اپنے استعفوں میں ان ججوں نے موقف اختیار کیا کہ اس آئینی ترمیم کے ذریعے 'عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا گیا ہے' اور یہ کہ 'یہ ترمیم ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب ہے۔'

    اس شدید تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ 'یہ ججز سیاسی اور ذاتی ایجنڈا پر تھے اور اُن کو یہ استحقاق حاصل نہیں کہ وہ سیاسی معاملات یا پارلیمان کی کارکردگی پر تنقید کریں۔'

  6. تھر کے نوجوان کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کا معاملہ، مقتول کے ورثا کا لاش کے ہمراہ دھرنا, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    BBC

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں مقامی افراد کی جانب سے لاش کے ہمراہ دیا جانے والا دھرنا پولیس حکام کی مداخلت کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔

    مقتول کے بارے میں ورثا کا دعویٰ ہے کہ انھیں پولیس نے ہلاک کیا ہے جبکہ ایس ایچ او ڈیپلو سمیت چار اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔

    ایس ایس پی شعیب میمن نے دھرنے والے مقام پر پہنچ کر مقتول رمضان کے ورثا سے ملاقات کی اور انھیں یقین دہانی کرائی کہ ملوث پولیس اہکاروں کو گرفتار کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈیپلو کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پولیس نے ایسا سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہو۔ ایس ایس پی کی یقین دہانی پر لواحقین نے دھرنا ختم کر دیا۔

    بدھ کی شام ڈیپلو بدین روڈ پر ایک سفید رنگ کی گاڑی میں سے گولی لگی لاش ملی جس کو ڈیپلو ہسپتال پہنچایا گیا۔ صحافی کھاٹاؤ جانی نے بی بی سی کو بتایا کہ کار پر دس سے گیارہ گولیوں کے نشانات موجود ہیں۔ مقتول کی شناخت رمضان کھوسو کے نام سے ہوئی جو بدتن کے شہر کڈھن کے رہائشی اور دکاندار تھے۔

    اب تک اس معاملے میں ایس ایچ او ڈیپلو سمیت پانچ اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تاہم مقتولین کے ورثا کا کہنا ہے کہ جب تک ملزمان گرفتار نہیں ہوں گے دھرنا ختم نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ مقتول کے بھائی عبدالسلام اور دیگر کا مطالبہ تھا کہ پولیس پر مقدمہ درج کیا جائے۔ ان کے مطابق پولیس حکام کہہ رہے ہیں کہ ایس ایچ او کے علاوہ دیگر اہلکاروں کے خلاف اگر وہ چاہیں تو مقدمہ درج ہوسکتا ہے لیکن انھوں نے اس کو مسترد کیا ہے اور کہا کہ تمام مبینہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

    مقتول کے بھائی غلام اصغر کھوسو کا کہنا ہے کہ ’ان کا بھائی ڈیپلو سے واپس آرہا تھا کہ پولیس نے بدھ کی شام اس کا پیچھا کیا اور گاڑی نے روکنے پر فائرنگ کی اور جب دیکھا کہ وہ ہلاک ہوگیا ہے تو لاش چھوڑ کر فرار ہوگئے۔‘

    ڈیپلو تھانے پر رمضان کھوسو پر گٹکے فروشی کا مقدمہ درج تھا جس میں انھیں گرفتار کیا گیا تھا اور حال ہی میں وہ عدالت سے ضمانت پر رہا ہوکر آئے تھے۔

    مقتول کی لاش سمیت تھر کول ایریا میں دھرنا دیا گیا جس میں مقامی لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس دھرنے کی وجہ سے مٹھی سے کراچی، بدین اور دیگر شہروں کو جانے والی ٹریفک معطل ہو گئی تھی۔

    صوبائی وزیر ارباب لطف اللہ سے بھی لواحقین نے ملاقات کی۔ صوبائی وزیر نے انھیں یقین دہانی کرائی کہ جس بھی پولیس افسر پر ان کا اعتماد ہوگا اس سے انکوائری کرائی جائے گی۔

    تھر سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رکن سندھ اسمبلی اور بلاول ہاؤس کے میڈیا سیل کے انچارج سریندر ولاسائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایس ایس پی تھر پر انھیں اعتماد نہیں ہے کسی اور ایس ایس پی سے انکوائری کرائی جائے۔

    ڈی ایس پی ماجد قائم خانی کا کہنا ہے کہ پولیس کو جیسے ہی معلوم ہوا تو پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی اور لاش ہسپتال پہنچائی پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے جس کی روشنی میں مقدمہ درج ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او واقعے کے وقت ہسپتال میں موجود تھے۔

    دوسری جانب ایس ایس پی تھرپارکر نے ایس ایچ او ڈیپلو حیسن بخش راجڑ سمیت تین پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔ بی بی سی کی جانب سے ایس ایس پی مٹھی شعیب میمن سے مسلسل رابطے اور میسج کے باوجود ان کا موقف سامنے نہیں آسکا ہے۔

    یاد رہے کہ سندھ میں گزشتہ ایک ماہ کے اندر یہ چوتھی ہلاکت ہے جس میں پولیس کے ملوث ہونے کا الزام ہے۔

    23 اکتوبر کو کراچی میں سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے اہلکاروں کی تحویل میں ایک 16 سالہ نوجوان عرفان بلوچ ہلاک ہوگیا تھا۔ جس کے الزام میں ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا یہ مقدمہ ایف آئی اے کے پاس زیرِ تفتیش ہے۔

    BBC

    22 اکتوبر کو کراچی سے ڈاکٹر مہر علی تنیو کی لاش ان کے ورثا نے سرد خانے سے وصول کی بعد میں ان کے بھائیوں انجینئر تمیر حسین تنیو اور ضمیر حسین تنیو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’19 اکتوبر کو گلشنِ اقبال میں ایک جعلی پولیس مقابلے میں ان کے بھائی کو قتل کیا گیا اور بعد میں ان کی لاش ایدھی کے سرد خانے بھجوا دی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی اطلاع انھیں تین دن بعد 22 اکتوبر کو دی گئی جس کے بعد انھوں نے لاش وصول کی۔

    ایڈیشنل آئی جی جاوید اوڈھو کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو تحقیقات کرے گی جس کے بعد ورثا نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور عدالت نے چیف سیکریٹری کو جے آئی ٹی بنانے کی ہدایت کی۔

    پولیس تحویل میں ایک اور واقعہ شہداد پور میں پیش آیا جہاں ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر عزیز جکھرو دوران تحویل ہلاک ہوگئے۔ اس ہلاکت کے خلاف کئی روز ورثا نے احتجاج کیا جس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔

    سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ انسپیکٹر ولی محمد نے بتایا ہے کہ جام عزیز کو 10 نومبر کو حراست میں لیا گیا تھا دوران تفتیش ان کو تکلیف ہوئی اور ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ وفات پا گئے۔

    حکم نامے کے مطابق ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم کیا اور تصدیق کی کہ جسم پر تشدد کے نشانات موجود ہیں چونکہ ان کی ہلاکت پولیس تحول میں ہوئی ہے لہذا یہ مقدمہ ایف آئی اے کے سپرد کیا جاتا ہے۔

    ایف آئی اے نے ایس ایچ او سمیت پانچ اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ ایک ماہ میں پولیس تحویل اور مشکوک مقابلوں میں ہلاکتوں پر جب آئی جی غلام نبی میمن اور صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا لنجار سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

  7. روسی امن منصوبے کا مسودہ: جنگ بندی پر بات چیت کے لیے امریکی فوجی حکام یوکرین پہنچ گئے

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سینئر پینٹاگون حکام یوکرین پہنچ گئے ہیں تاکہ روس کے ساتھ جنگ کے ختمے کی کوششوں پر ’بات چیت ہو سکے۔‘

    امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول کی قیادت میں ٹیم جمعرات کے روز کیو میں یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کرے گی۔

    بدھ کے روز یہ رپورٹس سامنے آنا شروع ہوئیں کہ امریکہ اور روس نے امن کے ایک نئے فریم ورک پر کام شروع کیا ہے جس کے تحت یوکرین کو اہم رعایت دینی ہوں گی جن میں اس کی زیرِ قبضہ کچھ علاقہ چھوڑ دینا اور اپنی فوج کی تعداد میں نمایاں کمی شامل ہے۔

    تاحال نہ تو واشنگٹن اور نہ ہی ماسکو نے اس منصوبے کی باضابطہ تصدیق کی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور روسی خصوصی ایلچی کیرل دمترییف نے تیار کیا ہے۔

    تاہم امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’ایک پائیدار امن کے حصول کے لیے فریقین کو مشکل مگر ضروری رعایت پر رضامند ہونا پڑے گا۔ اسی لیے ہم اس جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ تجاویز کی ایک فہرست تیار کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جو اس تنازع کے فریقین کے خیالات اور آرا پر مبنی ہوگی۔‘

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے جمعرات کو خبردار کیا کہ کسی بھی منصوبے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ یوکرینی اور یورپ دونوں اس کا حصہ ہوں جبکہ فرانسیسی وزیرِ خارجہ نوئل بارو نے کہا کہ ’یوکرین کسی بھی طور پر ہتھیار ڈالنے کے حق میں نہیں ہے۔‘

    امریکہ اور روس کے امن منصوبے کی رپورٹس ایک ایسے دن سامنے آئیں جب یوکرین کے مغربی شہر تیرنوپل میں روسی میزائل اور ڈرون حملے میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے۔ جمعرات کو زیلنسکی نے کہا کہ جائے وقوعہ سے مزید 22 افراد لاپتہ ہیں۔

  8. غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 27 افراد ہلاک

    فلسطینی شہری دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ محصور اور تباہ حال غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں بدھ کے روز کئی اسرائیلی فضائی حملوں میں 27 افراد ہلاک ہو گئے۔

    ایجنسی کے ترجمان محمود بسال نے اے ایف پی کو بتایا کہ غزہ شہر کے مشرق میں زیتون کے علاقے میں اسرائیلی گولہ باری کے نتیجے میں تین خواتین اور چھ بچوں سمیت 12 فلسطینی ہلاک ہو گئے جب کہ شجاعیہ محلے میں دو چھاپوں میں دو فلسطینی مارے گئے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس پر اسرائیلی بمباری میں 4 بچوں اور 4 خواتین سمیت 13 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

    فوج کے ایک بیان کے مطابق، اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے غزہ کی پٹی میں ’حماس کے اہداف‘ پر گولہ باری شروع کر دی ہے، جب مسلح افراد نے پٹی کے جنوبی حصے میں خان یونس میں ایک ایسے علاقے پر فائرنگ کی جہاں اس کی افواج کام کر رہی تھیں۔

    اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ’جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور اس کے جواب میں ہم نے غزہ کی پٹی میں حماس کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔‘

    حماس نے اسرائیلی بمباری کی مذمت کی اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کا الزام لگایا۔

    ایک بیان میں کہا ’ہم آج غزہ اور خان یونس کے شہروں میں قابض فوج کے ہاتھوں ہونے والے ہولناک قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہمارے 25 سے زائد فلسطینی عوام بشمول بچوں اور خواتین کی شہادت ہوئی، اور ہم اسے ایک خطرناک اضافہ سمجھتے ہیں جس کے ذریعے جنگی مجرم نتن یاہو ہمارے لوگوں کے خلاف نسل کشی کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    تحریک نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اعلان کردہ وعدوں کو پورا کرے اور اسرائیلی قبضے کو روکنے کے لیے فوری اور سنجیدہ دباؤ ڈالے اور اسے جنگ بندی کا احترام کرنے پر مجبور کرے۔

  9. سی ٹی ڈی کا سرائے نورنگ میں دو انتہائی مطلوب شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ, بلال احمد بی بی سی، پشاور

    پولیس

    ،تصویر کا ذریعہCTD

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں حکام نے دعوی کیا ہے کہ محمکہ انسدادِ دہشتگردی بنوں اور لکی مروت پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران سرائے نورنگ میں دو انتہائی مطلوب شدت پسند ہلاک ہوگئے۔

    حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد سہیل عرف احمد اور عظمت اللہ عرف حافظ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق دونوں مطلوب شدت پسند پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ اور دیگر دہشتگردی کے مقدمات میں نامزد تھے۔

    سی ٹی ڈی بنوں ریجن کے مطابق خفیہ اطلاعات تھی کہ دوانتہائی مطلوب شدت پسند سرائے نورنگ کے علاقے نالی چک روڈ پر موجود ہیں جو کسی بڑی واردات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جس پر کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شدت پسندوں کے خلاف ایکشن لیا اور مقابلے کے بعد دونوں شدت پسند ہلاک ہوئے۔

    سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ ’ہلاک ہونے والے شدت پسند ڈی ایس پی گل محمد خان، لیفٹیننٹ عارف اللّٰہ، کانسٹیبل نسیم گل، کانسٹیبل منصور خان کو ٹارگٹ کرنے سمیت سکیورٹی فورسز پر حملے میں ملوث تھے جس میں سات سکیورٹی فورسز اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔‘

    سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ ’عظمت اللّٰہ نامی شدت پسند لیفٹیننٹ عارف اللّٰہ کو مسجد میں نماز پڑھتے ٹارگٹ کلنگ کرنے اور پولیس چوکی عباسہ خٹک پر بھی حملے کا مرکزی کردار تھا۔ اس کے علاوہ کانسٹیبل فاروق خان، اسداللّٰہ اور وسیع اللّٰہ کو زخمی کرنے میں بھی ملوث تھا۔ جبکہ دوسرے شدت پسند ‎محمد سہیل عرف احمد جوکانسٹیبل منصور خان اورایل ایچ سی ہاشم خان کی ٹارگٹ کلنگ سمیت نجی بینک کی وین اور پولیس سٹیشن نورنگ پر حملے میں ملوث تھا۔‘

    حکام کے مطابق ‎ملزمان کے قبضے سے ایک کلاشنکوف، ایک نائن ایم ایم پستول، ایک موبائل فون اور کالعدم تنظیم کے دو کارڈز بھی برآمد ہوئے۔

  10. سکیورٹی فورسز کا ضلع کرم میں دو الگ الگ جھڑپوں 23 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    پاکستان کی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا صوبے کے ضلع کرم میں 19 نومبر کو ’انڈین پراکسی‘ کے 23 شدت پسندوں کو دو الگ الگ جھڑپوں میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے ایک ہدف بنا کر کارروائی کی۔

    ’آپریشن کے دوران فوجی اہلکاروں نے شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 12 شدت پسندوں کو نشانہ بنایا اس کے بعد اسی علاقے میں ایک اور شدت پسند گروپ کی موجودگی کے حوالے سے انٹیلی جنس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گیارہ مزید شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔‘

    ائی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں تلاشی کا عمل جاری ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ شدت پسند کو ختم کیا جا سکے۔‘

    بیان کے مطابق ’پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے وژن ’عزم استحکام‘ کے تحت غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کو ختم کی مہم بھرپور رفتار سے جاری رہے گی۔‘

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کُرم میں دو کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’قوم کو سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور جرات پر فخر ہے۔ خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔‘

  11. ’کرپشن پاکستان میں مستقل چیلنج ہے‘: آئی ایم ایف کے ملک میں قانون کی حکمرانی پر سوالات, تنویر ملک، صحافی

    آئی ایم ایف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں کرپشن کو ایک مستقل چیلنج قرار دیا ہے جو اس کے مطابق معاشی ترقی پر سنگین منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

    ادارے نے ملک میں قانونی کی حکمرانی کو کمزور اور انسدادِ بد عنوانی کے خلاف کوششوں میں سیاسی اثر و رسوخ کی بھی نشاندہی کی ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ پر پاکستان سے متعلق ٹیکنیکل اسسٹنس رپورٹ میں عالمی ادارے نے کہا کہ ’پاکستان میں مختلف اشاریے وقت کے ساتھ بدعنوانی کے خلاف کمزور کنٹرول کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں سرکاری اخراجات کی مؤثریت، محصولات کی وصولی، اور قانونی نظام پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔‘

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ حکومت کی تمام سطحوں پر بدعنوانی کے خدشات موجود ہیں لیکن سب سے زیادہ معاشی نقصان دہ صورتیں اُن مراعات یافتہ اداروں سے جڑی ہیں جو اہم معاشی شعبوں پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں، جن میں وہ ادارے بھی شامل ہیں جو ریاست کی ملکیت ہیں یا اس سے منسلک ہیں۔‘

    ادارے کے مطابق ’یہ صورتحال اس تاثر سے مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے کہ انسدادِ بدعنوانی کا طریقہ کار مستقل مزاجی اور غیر جانبداری سے خالی رہا ہے، جس کے باعث کرپشن کے خلاف کام کرنے کرنے والے اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی آئی ہے۔‘

    رپورٹ میں کہا گیا ہے ’آئی ایم ایف اور حکومتِ پاکستان دونوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی کمزوریوں کا پائیدار حل ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔‘

    آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ’اگرچہ ماضی کے پروگرام معیشت کو مستحکم کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے لیکن وہ اصلاحات کو ادارہ جاتی شکل دینے اور بنیادی ڈھانچہ جاتی کمزوریوں کو دور کرنے میں کم مؤثر رہے۔ اس عرصے میں عوامی معیارِِ زندگی جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے مقابلے میں پیچھے رہ گیا ہے، جس کی وجہ جزوی طور پر انسانی اور مادی وسائل میں کم سرمایہ کاری اور ریاست کے معیشت میں بڑے کردار سے جڑے پائیدار معاشی بگاڑ ہیں۔ اسی دوران سٹکرکچرل مالی کمزوریاں اور بار بار آنے والے معاشی دباؤ بڑھتی ہوئی مالی ضروریات اور بیرونی شعبے کی کمزوریوں کا باعث بنے ہیں۔‘

    رپورٹ میں پاکستان کو کرپشن سے دوچار خطرات کے عوامل پر بات کرتے ہوئے ادارے نے مختلف خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں بجٹ سازی، مالی معلومات کی رپورٹنگ میں خامیاں، پبلک سیکٹر میں مالیاتی و غیر مالیاتی وسائل کی مینجمنٹ میں کمزوریاں شامل ہیں۔

    اس کے ساتھ سرکاری ملکیتی اداروں کے انتظام و نگرانی میں غیرضروری طور پر پیچیدہ اور غیر شفاف ٹیکس نظام بی شامل ہیں جس میں ٹیکس اور کسٹم حکام کم صلاحیت، انتظام، اور نگرانی کافی نہیں ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ’کاروبار کے لیے ضرورت سے زیادہ ضابطے اور حکومتی اداروں کی مداخلت پاکستان میں کاروبار اور اس کے چلانے کے لیے ایک مسئلہ ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں کاروباری معلامات کی نگرانی کے ریگولیٹری ادارے کی کارکردگی پر بھی سوالات ہیں جو زیادہ خودمختار نہیں ہیں۔‘

    عدالت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عدالتی اداروں کی دیانتداری اور خودمختاری سے متعلق گہرے تحفظات

    ادارے کے مطابق ’عدالتی شعبہ تنظیمی طور پر پیچیدہ اور کارکردگی کے مسائل، فرسودہ قوانین، اور ججوں و عدالتی عملے کی ایمانداری سے متعلق خدشات کے باعث معاہدوں پر قابلِ اعتماد عمدل درآمد یا جائیداد کے حقوق کا تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔‘آئی ایم ایف نے کہا کہ ’عدالتوں میں مقدمات کا بہت بڑا بیک لاگ موجود ہےجو معاہدوں پر عمل درآمد یا جائیداد کے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتوں پر انحصار کو مزید کمزور کرتا ہے۔ ‘

    نہ صرف یہ بلکہ ’اس کے ساتھ عدالتی اداروں کی دیانتداری اور خودمختاری سے متعلق گہرے تحفظات اس کی مزید حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔‘

    قانون کی حکمرانی کے باب میں آئی ایم ایف نے کہا کہ ’عدالتی شعبے میں طرزِ حکمرانی کی کمزوریاں فریقین کی اس صلاحیت کو محدود کرتی ہیں کہ وہ اپنے معاشی حقوق کے مؤثر نفاذ پر انحصار کر سکیں اور اس کے نتیجے میں بدعنوانی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔‘

    اس کے مطابق ’مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر اکثر متعدد عوامل کی وجہ سے ہوتی ہے، جن میں زیرِ التواء مقدمات کی بڑی تعداد، فرسودہ قوانین و ضوابط اور عدالتی غیر مؤثریت شامل ہیں۔‘

    ’اس کے علاوہ متعدد اور باہمی مقابل عدالتوں کا وجود جس میں خصوصی اقتصادی عدالتوں اور انتظامی ٹربیونلز کا وسیع نظام شامل ہے قانونی تشریح میں غیر یقینی پیدا کرتا ہے۔‘

    انسدادِ بدعنوانی کے باب میں ائی ایم ایف نے کہا ہے کہ ’اس کے لیے کوششیں ایک ہی ادارے پر غیر معمولی انحصار کے باعث محدود رہی ہیں، جو انفرادی بدعنوانی کے مقدمات کی پیروی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور شدید سیاسی اثر و رسوخ کا شکار ہے۔‘

  12. جنوبی کوریا: مسافر فیری چٹانوں سے ٹکرا کر پھنس گئی، 267 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا

    Yonhap News

    ،تصویر کا ذریعہYonhap News

    جنوبی کوریا کی ایک مسافر فیری جس پر 267 افراد سوار تھے، ملک کے جنوب مشرقی ساحل کے قریب چٹانوں سے ٹکرا کر پھنس گئی ہے، تاہم کوسٹ گارڈ کے مطابق تمام 267 مسافروں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ملکہ جینوویا ٹو نامی یہ فیری بدھ کی شام جانگسان جزیرے کے قریب غیر آباد جزیرے جوگدو کے پاس چٹانی ریف پر پھنس گئی۔

    جہاز فی الحال حرکت نہیں کر سکتا لیکن حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس کے ڈوبنے یا پلٹنے کا کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔

    کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ جہاز کے چٹان سے ٹکرانے کے جھٹکے سے 27 افراد کو معمولی چوٹیں آئیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  13. خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں چار شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 17 اور 18 نومبر 2025 کو خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں چار شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ باجوڑ ضلع میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکورٹی فورسز نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران فوج کے دستوں نے شدت پسندوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک شدت پسند کو ہلاک کر دیا۔

    بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے سپین وام اور ذاکر خیل میں کیے گئے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں مزید دو شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔ جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک اور مقابلے کے دوران ایک شدت پسند کو ہلاک کر دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کا دعویٰ ہے کہ ’انڈین سرپرستی میں سرگرم‘ ان شدت پسندوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا جو ان علاقوں میں متعدد دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں تاکہ باقی ماندہ شدت پسندوں کو تلاش کرکے ختم کیا جا سکے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بلا تعطل کاؤنٹر ٹیررازم مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔

  14. روس کے مغربی یوکرین پر حملوں میں بچوں سمیت 25 افراد ہلاک: یوکرینی حکام

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرینی حکام کے مطابق مغربی شہر تیرنوپل میں روس کے ڈرون اور میزائل حملوں میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

    حملوں میں دو رہائشی عمارتیں نشانہ بنیں جبکہ 73 افراد زخمی ہوئے جن میں 15 بچے شامل ہیں۔ یہ 2022 میں روس کے حملے کے آغاز کے بعد مغربی یوکرین پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

    روس نے دو دیگر مغربی خطوں لیوو اور ایوانو فرینکیوسک کو بھی نشانہ بنایا جبکہ شمالی شہر خارخیو کے تین اضلاع میں ڈرون حملوں کے باعث 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

    سوشل میڈیا پر جاری تصاویر میں عمارتوں اور گاڑیوں کو شعلوں میں لپٹا دیکھا جا سکتا ہے۔

    یوکرین کی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس نے روس کی جانب سے داغے گئے 476 ڈرونز میں سے 442 اور فائر کیے گئے 48 میزائلوں میں سے 41 کو کامیابی سے مار گرایا۔

    یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس کے مارے گئے میزائلوں میں سے 10 روسی کروز میزائل ایسے تھے جنھیں یوکرین کے ایف 16 اور میراج 2000 طیاروں نے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔

    تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کا فضائی دفاع شدید دباؤ کا شکار ہے۔

  15. پاکستان نیوی نے بحیرہ عرب میں 13 کروڑ امریکی ڈالر کی منشیات سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی: ترجمان

    @dgprPaknavy

    ،تصویر کا ذریعہ@dgprPaknavy

    پاکستان نیوی کے جہاز پی این ایس تبّوک نے سعودی قیادت میں قائم مشترکہ ٹاسک فورس 150 کے تعاون سے بحیرہ عرب میں ایک کارروائی کے دوران اربوں روپے مالیت کی منشیات کی سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

    پاکستانی بحریہ کے ایکس اکاؤنٹ پر دی جانے والی تفصیلات کے مطابق پی این ایس تبّوک سعودی قیادت میں قائم مشترکہ ٹاسک فورس کی مدد سے ایک ایسی کشتی کو روکا کہ جس میں 2000 کلوگرام سے زائد میتھافیٹامین یا آئیس برآمد کی، جس کی مالیت 13 کروڑ ڈالر ہے۔ یہ گزشتہ دو ماہ میں پاکستان بحریہ کی منشیات کی سمگلنگ کے خلاف عمل میں لائی جانے والی تیسری بڑی کارروائی ہے۔

    ایکس پر جاری ایک اور بیان میں پاکستان بحریہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’اس آپریشن سے پاکستان کی بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور سعودی قیادت میں قائم مشترکہ ٹاسک فورس 150 کے تحت کثیرالقومی تعاون کی مؤثر کارکردگی ظاہر ہوتی ہے۔‘

    @dgprPaknavy

    ،تصویر کا ذریعہ@dgprPaknavy

  16. روس کا یوکرین پر ڈرون اور میزائل سے حملہ، 16 افراد ہلاک درجنوں زخمی

    @zinkevich_igor

    ،تصویر کا ذریعہ@zinkevich_igor

    روس کی جانب سے یوکرین کے مغربی شہر ٹیرنوپِل پر ڈرون اور میزائل حملہ میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں، اس حملے میں دو کثیر منزلہ رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق روسی فوج کے اس حملے میں زخمی ہونے والے 64 افراد میں 14 بچے بھی شامل ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق یہ فروری 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد مغربی یوکرین پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک ہے۔

    روسی فوج کے ان حالیہ حملوں میں دو دیگر مغربی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جن میں لیویو اور ایوانو-فرانکیفسک بھی شامل ہیں، تاہم ایک اور ڈرون حملے میں شمالی شہر خارکیف کے تین اضلاع کو ہدف بنایا گیا جس میں 30 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ آن لائن پوسٹ کی گئی تصاویر میں عمارتوں اور گاڑیوں میں لگی آگ کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کی وزارتِ توانائی کے مطابق ملک کے کئی علاقوں میں بجلی کی ترسیل معطل ہو جانے کی بھی اطلاع ہے۔

    یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی نے کہا کہ روس نے 470 سے زیادہ ڈرون اور 47 میزائل داغے، جس کے نتیجے میں ’بڑی تباہی‘ ہوئی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ ٹیرنوپِل میں ملبے تلے دب جانے کی کی بھی اطلاعات ہیں۔

  17. ایئرلائنز کے کرایوں میں اضافے کے خلاف بلوچستان میں قرارداد منظور: ’16ایم پی او کے تحت کمپنیوں کے مینیجرز کو حراست میں لے سکتے ہیں‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    DGPR Balochistan

    ،تصویر کا ذریعہDGPR Balochistan

    ’جب تک کوئٹہ سے پاکستان کے دوسرے شہروں کے لیے پروازوں کی تعداد کو نہیں بڑھایا جاتا تب تک یہاں سے کرایوں میں کوئی کمی نہیں آسکے گی۔‘

    یہ کہنا ہے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ٹریول ایجنٹ ولی خان کا جن کے مطابق اس وقت کوئٹہ کا کراچی یا اسلام آباد کے لیے یکطرفہ کرایہ 17 سے 18 ہزار ہونا چاہیے لیکن پروازوں کی کمی کی وجہ سے یہ 70 سے 80 ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے۔

    ایئرلائنز کی کرایوں میں بے تحاشا اضافے کے خلاف نہ صرف بلوچستان اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی بلکہ یہ بھی تجویز سامنے آئی کہ ایک پارلیمانی وفد اسلام آباد جاکر اس مسئلے پر وزیر اعظم اور محکمہ ہوا بازی کے حکام سے ملاقات کرے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں انھوں نے وزیر اعظم کو ایک خط بھی لکھا لیکن ایئرلائنز کے کرایوں میں کمی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

    انھوں نے خبر دار کیا کہ اگر اسلام آباد میں یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے تو ہم ان ایئرلائنز کے مقامی مینیجرز کے خلاف کارروائی کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’کل اس مسئلے پر لوگ ایئرپورٹ کا گھیراؤ کرسکتے ہیں، جس کے باعث امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے لیکن اس سے پہلے کہ ایسا مسئلہ پیدا ہو ہم 16ایم پی او کے تحت ان کمپنیوں کے مینیجرز کو یہاں حراست میں لے سکتے ہیں۔‘

    ’ہم ان مقامی مینیجرز کو تنبیہہ کرتے ہیں کہ وہ یہاں کے لوگوں کی جزبات سے اپنے ہیڈ آفسز کو آگاہ کریں۔‘

    کرایوں میں اضافے کی بڑی وجہ کیا ہے؟

    بی بی سی اردو نے کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد کے درمیان ایئرلائنز کی کرایوں میں اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے کوئٹہ میں ٹریول ایجنٹس سے بات کی۔

    انھوں نے اس کی سب سے بڑی وجہ پروازوں کی کمی کو قرار دیا اور کہا کہ اگر یہاں سے پروازیں زیادہ ہوں تو کرائے معمول پر آجائیں گے جو کہ زیادہ سے زیادہ 17سے 18ہزار روپے تک ہیں۔

    ٹریول ایجنٹ ولی محمد نے بتایا کہ ’اس وقت روزانہ کی بنیاد کوئٹہ سے کراچی اور کوئٹہ سے اسلام آباد کے درمیان صرف فلائی جناح کی ایک پرواز ہے جبکہ پی آئی اے کی ہفتے میں صرف ایک یا دو پروازیں ہوتی ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہاں سے پی آئی اے کے علاوہ دیگر ایئرلائنز کی پروازیں ماضی کی طرح روزانہ کی بنیاد پر آنے اور جانے لگیں تو اس بُری صورتحال کا سامنا کبھی نہ کرنا پڑے۔‘

    ٹریول ایجنٹ ولی محمد کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی نجی ایئرلائنز کو لائسنس کی مخصوص گھنٹوں کی پروازوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ مطلوبہ پروازوں کے گھنٹے پورے کرنے کے لیے بلوچستان آتی ہیں لیکن جب لائسنس مل جاتا ہے تو پھر یہاں کے لیے اپنی خدمات کو ملتوی یا پھر بند ہی کر دیتی ہیں۔‘

    INSTAGRAM

    ،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM

    ایک اور ٹریول ایجنٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پہلے سکیورٹی سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کے آفیسرز کے سوا باقی اہلکار ٹرین یا بسوں کے ذریعے سفر کرتے تھے لیکن اب سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر عام اہلکار بھی جہاز میں سفر کرتے ہیں کیونکہ ان کو فضائی ٹکٹ انتہائی کم قیمت پر ملتا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’ایک طرف پروازیں کم تو ہوئیں ہیں مگر دوسری جانب ایک ہی فلائٹ کی تقریباً نصف نشستیں سکیورٹی اہلکاروں کے لیے مختص ہوں تو باقی رہ جانے والی یا جہاز میں دستیاب نشستوں کا کرایا کیسے کم ہوسکتا ہے۔‘

    انھوں نے یہ تجویز پیش کی کہ ’روزانہ جب سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد جہازوں میں سفر کرتی ہے تو ان کے لیے سی ون تھرٹی یا خصوصی پروازیں چلائی جائیں تاکہ عام مسافروں کی مُشکلات میں کمی کی جا سکے۔‘

    ’یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ بلوچستان کے لیے کرائے اتنے زیادہ ہوں‘

    اس سلسلے میں بلوچستان اسمبلی نے اپنے رواں سیشن میں دو روز قبل ایک قرار داد منظور کرتے ہوئے اسے بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا۔

    جے یو آئی سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن شاہدہ روئف کی جانب سے پیش کردہ قرار داد پر بحث مباحثہ کے دوران اراکینِ اسمبلی کا کہنا تھا کہ کراچی سے لاہور یا اسلام آباد تک کرائے پندرہ سے بیس ہزار روپے کے درمیان ہیں جبکہ اس کے برعکس کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد کے درمیان یکطرفہ کرایہ 70 ہزار روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔

    SOCIAL MEDIA

    ،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

    اس قرارداد پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس سلسلے میں وزیر اعظم کو ایک خط بھی لکھا اور اسی کے ساتھ وزیرِ دفاع کو فون بھی کیا لیکن اس کوشش کے باوجود اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے شروع سے یہ کہہ رکھا ہے کہ بلوچستان کے مسائل پر ہم نے شائستہ رویہ اختیار کرنا ہے لیکن ہمیں ان پر مضبوط موقف اختیار کرنا پڑے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس قرارداد کو لے کر ہم وفد کی شکل میں جا کر وزیر اعظم اور دیگر متعلقہ حکام سے اس مسئلے سمیت بلوچستان کے دیگر مسائل پر بات کریں گے۔‘

    وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ’یہ بات مناسب نہیں ہے کہ یہاں سے دبئی کے کرائے کم ہیں۔ کراچی سے اسلام آباد، کراچی سے پشاور اور لاہور سے کراچی کا کرایہ سستا ہے لیکن کوئٹہ سے دیگر شہروں کے درمیان کرائے کیوں اتنے زیادہ ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کریں گے اور اگر یہ حل نہیں ہوتا ہے تو ہمارے پاس دوسرے آپشنز بھی ہیں لیکن ہم ان کی جانب نہیں جانا چاہتے ہیں۔‘

  18. لبنان میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ کے نزدیک اسرائیلی حملے میں 13 افراد ہلاک

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ کے قریب اسرائیلی حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے فلسطینی مسلح گروپ حماس کے ارکان کو نشانہ بنایا ہے جو عین الحلوہ کے علاقے میں ایک تربیتی کمپاؤنڈ چلا رہے تھے۔

    اسرائیلی فوج کا مزید کہنا تھا کہ حماس اس جگہ کو اسرائیل کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور انھیں انجام دینے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔ حماس نے اسرائیلی دعوؤں کو ’من گھڑت اور جھوٹ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کم از کم چار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    آن لائن موجود فوٹیج میں ایمبولینسوں کو کیمپ کی تنگ گلیوں سے گزر کر حملے کے مقام کی جانب جاتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ کمپاؤنڈ سے دھوئیں کا ایک بہت بڑا بادل اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق، حملہ ایک مسجد کے نزدیک ہوا ہے جہاں عام طور پر رات کے وقت چہل پہل ہوتی ہے۔

  19. سعودی عرب کو غیر نیٹو اتحادی کا درجہ: اس کا کیا فائدہ ہے اور اس فہرست میں کونسے ممالک شامل ہیں؟

    ٹرمپ ایم بی ایس

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو اہم غیر نیٹو اتحادی کا درجہ دے کر دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعلقات کو مضبوط کرنے کا اعادہ کیا ہے۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کیا جس میں صدر ٹرمپ کے حوالے سے کہا گیا کہ ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم سعودی عرب کو باضابطہ طور پر ایک اہم غیر نیٹو اتحادی کے طور پر نامزد کر کے اپنے فوجی تعاون کو مزید بلندیوں تک لے جا رہے ہیں۔‘

    اہم غیر نیٹو اتحادی کا کیا مطلب ہے؟

    امریکی وزارتِ خارجہ کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق، اہم غیر نیٹو اتحادی (ایم این این اے) کا درجہ امریکی قانون کے تحت دیا جانے والا ایک درجہ ہے جو غیر ملکی شراکت داروں کو دفاعی تجارت اور سکیورٹی تعاون کے شعبوں میں بعض فوائد فراہم کرتا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق، غیر نیٹو اتحادی کا خطاب امریکہ کے ان ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات اور دوستی کو ظاہر کرتا ہے۔

    اگرچہ ایم این این درجہ ان ممالک کو فوجی اور اقتصادی مراعات تک رسائی فراہم کرتا ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس خطاب کے حامل ممالک کو امریکہ کی جانب سے کسی قسم کی سکیورٹی گارنٹی حاصل ہو گی۔

    یاد رہے کہ نیٹو 1949 میں بننے والا ایک فوجی اتحاد ہے جس میں 32 ممالک شامل ہیں۔

    امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ اس اتحاد میں شامل تمام ممالک یورپی ہیں۔ امریکہ اس اتحاد کا سرکردہ رکن ہے اور اس میں شامل کسی بھی ایک ملک کے خالف جارحیت پورے اتحاد پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

    غیر نیٹو اتحادی میں کون سے ممالک شامل ہیں؟

    فی الحال 19 ممالک کو امریکہ نے غیر نیٹو اتحادی کا درجہ دے رکھا ہے ان میں پاکستان کے علاوہ ارجنٹینا، آسٹریلیا، بحرین، برازیل، کولمبیا، مصر، اسرائیل، جاپان، اردن، کینیا، کویت، مراکش، نیوزی لینڈ، فلپائن، قطر، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور تیونس شامل ہیں۔

    2004 میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے پاکستان کو غیر نیٹو اتحادی کا خطاب دیا تھا۔

    سعودی عرب کی شمولیت کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 20 ہو جائے گی۔

    اس کے علاوہ تائیوان کو بھی غیر نیٹو اتحادی کے طور پر لیا جاتا ہے تاہم اسے باقاعدہ ایم این این اے کا درجہ حاصل نہیں۔

    سعودی فوج

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غیر نیٹو اتحادی کو حاصل مراعات

    امریکی قانون کے تحت غیر نیٹو اتحادی ممالک کی فہرست میں شامل ممالک کو مندرجہ ذیل مراعات حاصل ہوتی ہیں:

    غیر نیٹو اتحادی ممالک دفاعی اور جنگی سازوسامان کی تحقیق اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ معاہدے کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔

    نیٹو ممالک کی طرح، اس فہرست میں شامل ممالک کی کمپنیوں کو بھی امریکہ سے باہر امریکی محکمہ دفاع کے آلات کی دیکھ بھال، مرمت یا مرمت کے معاہدوں پر بولی لگانے کی اجازت ہوتی ہے۔

    غیر نیٹو اتحادی ممالک محکمہ خارجہ کے ٹیکنیکل سپورٹ ورکنگ گروپ کے زیراہتمام دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگانے والے آلات اور انسداد دہشت گردی کی تحقیق اور ترقیاتی منصوبوں کی خریداری کے لیے فنڈنگ ​​حاصل کر سکتے ہیں۔

    اگر غیر نیٹو اتحادی کی فہرست میں شامل کوئی ملک نیٹو کے جنوبی یا جنوب مشرقی کنارے پر واقع ہے تو یہ غیر ملکی امدادی ایکٹ کے سیکشن 516 کے تحت منتقل کیے گئے اضافی دفاعی مصنوعات کی ترجیحی ترسیل کے لیے اہل ہوں گے۔

    اس کے علاوہ یہ ممالک استعمال شدہ یورینیم خریدنے کے لیے بھی اہل ہوتے ہیں۔

    اس کے علاوہ اس فہرست میں شامل ممالک کوآپریٹو ریسرچ اور ترقی کے لیے مواد، سپلائیز، یا آلات کے قرضوں کے لیے اہل ہوتے ہیں۔

    امریکی فوجی تنصیبات کے علاوہ ان ممالک میں بھی امریکی جنگی سازوسامان رکھے جا سکتے ہیں۔

    غیر نیٹو اتحادی ممالک دوطرفہ یا کثیر جہتی بنیادوں پر تربیت کی کوآپریٹو فرنشننگ کے لیے امریکہ کے ساتھ معاہدے کر سکتے ہیں بشرطیکہ مالیاتی انتظامات باہمی ہوں اور تمام امریکی براہ راست اخراجات کی ادائیگی کا انتظام ہو۔