پاکستان کی شام میں اسرائیلی حملے کی مذمت، ’ان حملوں سے خطے کے امن کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے‘: دفتر خارجہ
پاکستان نے شام کے شہر ادلب میں ابو الظہور ایئر بیس پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے کیا گیا یہ حملہ بلا اشتعال تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان سے خطے کے امن اور استحکام کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ نے بھی اس حملے کے حوالے سے اسرائیل پر غیر معمولی تنقید کرتے ہوئے شام اور ترکی کی سرحد کے قریب واقع ایک شامی فوجی فضائی اڈے پر حملے کی اطلاعات کو غیر ضروری کشیدگی قرار دیا ہے۔
شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق منگل کو ابو الظہور ہوائی اڈے کے رن وے اور گودام پر آٹھ فضائی حملے کیے گئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان نے شام کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شام عرب جمہوریہ کے امن و خوشحالی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
دفترِ خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں کو روکنے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
دوسری جانب اسرائیل نے حملوں پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم اس کا دعویٰ ہے کہ شام ’سکیورٹی سے متعلق موجودہ صورتحال کی خلاف ورزی کے قریب پہنچ گیا تھا۔‘
اسرائیل نے دمشق پر الزام عائد کیا کہ وہ ترکی کی فوج کو اس فضائی اڈے پر تعینات ہونے کی اجازت دے رہا تھا۔
شام اور ترکی نے ان حملوں کا ذمہ دار اسرائیلی فوج کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔