سپریم کورٹ نے سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کو بحال کر دیا

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا سپیکر کی معطلی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ پی بی 51 چمن کے 12 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا الیکشن کمیشن کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی
  • ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد آج صبح کراچی ایئرپورٹ سے ایران روانہ ہو گئے
  • لاپتہ افراد کے معاملے میں حکومتی اداروں کی مداخلت کے الزام کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، وفاقی وزیر قانون
  • انٹیلی جنس اداروں کی مبینہ مداخلت پر آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی زیرِ قیادت ایک فل کورٹ اجلاس ہوا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے ججز کی متفقہ رائے سپریم کورٹ کو بھجوائی جائے گی
  • سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے نہ تو اُن سے کسی نے ڈیل کی بات کی اور نہ ہی اس ضمن میں انھیں کوئی پیغام موصول ہوا
  • ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی نے پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر لاہور اور کراچی کے دورے کیے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ’ہمیں تو اتنا بھی نہیں پتا کہ اپیل کہاں کرنی ہے‘: پی ٹی آئی کا فوجی عدالتوں کے خلاف لارجر بینچ کی تشکیل کا مطالبہ

    پی ٹی آئی، پاکستان تحریکِ انصافم 9 مئی

    ،تصویر کا ذریعہYouTube Screenshot

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ گذشتہ برس 9 مئی کے پُرتشدد مظاہروں کے حوالے گرفتار کیے جانے والے افراد کے خلاف فوجی عدالتوں کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے اور اس معاملے کو سُننے کے لیے لارجر بیچ تشکیل دیا جائے۔

    بدھ کو پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے 9 مئی کے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد کے اہلخانہ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔

    اس موقع پر بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ’تقریباً ایک سال ہونے کو ہے، کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی، کسی کے والد، کسی کے شوہر، جو ان گھروں کا نان و نفقہ کمانے والے لوگ تھے وہ اس وقت زیرِ حراست ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اس بات پر پورے پاکستان میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔‘

    علی محمد خان نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ ایک بڑا بینچ قائم کیا جائے جو یہ فیصلہ کرے کہ کیا سویلیز پر مقدمات فوجی عدالتوں میں چلنے چاہییں یا نہیں۔

    پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کی قانون ٹیم کے رُکن بیرسٹر ابوذر نیازی نے کہا کہ ’پاکستانِ تحریک انصاف کا مؤقف یہ ہے کہ فوجی عدالتیں غیر آئینی ہیں۔‘

    ’اگر کسی کا ٹرائل ہونا ہے تو وہ ایک عدالتی افسر کرے گا کیونکہ یہ ہمارے آئین میں لکھا ہے۔‘

    پریس کانفرنس کے دوران مبینہ طور پر فوج کی حراست میں موجود افراد کے اہلخانہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کی۔

    سدرہ مرتضیٰ نامی خاتون نے الزام عائد کیا کہ ان کے بھائی علی رضا فوج کی حراست میں ہیں۔ ’انسداد دہشتگردی کی عدالت نے جب انھیں (علی رضا کو) فوج کی حراست میں دیا تو ان کے خلاف فوراً کارروائی شروع ہوگئی تھی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ سمجھتی ہے کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے تو پھر سماعت کے لیے لارجز بینچ تشکیل دے۔

    فوجی عدالتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہمیں تو اتنا بھی نہیں پتا کہ ہم نے اپیل میں کہاں جانا ہے۔‘

    ’انھوں نے 105 لوگ پکڑ لیے تھے، فوج نے اپنی حراست میں رکھ لیے، عید کا موقع تھا آرمی چیف صاحب ان بچوں کے پاس جاتے تو سہی، ان کو دیکھتے، وہ دہشتگرد لگتے ہیں ان کو۔‘

    پریس کانفرنس میں موجود ایک اور شخص تیمور مجید کا کہنا تھا کہ ’میرے بھائی کو 13 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پانچ مہینے ہمیں نہیں پتا تھا کہ بھائی ہے کہاں۔ پھر اچانک پتا چلتا ہے کہ وہ فوج کی حراست میں ہے۔ ‘

    خیال رہے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف سماعت کرنے والا بنچ بدھ کو ٹوٹ گیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے بینچ کی ازسرنو تشکیل کیلئے معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینے سے متعلق آج کی سماعت کے دوران بنچ پر اعتراض اُٹھایا گیا تھا اور اس سے متعلق درخواستیں بھی پیش کی گئیں تھیں جنھیں منظور کر لیا گیا تھا۔

    اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کو بتایا کہ عید پر 20 ملزمان رہا ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔

  2. پاکستان سٹاک ایکسچینج: انڈیکس میں ’تاریخی تیزی‘ کی وجوہات کیا ہے اور کون سے کاروباری شعبوں میں مثبت رحجان ریکارڈ کیا جا رہا ہے؟, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز بھی تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور کاروبار کے دوران انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد انڈیکس 72 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔

    ملکی تاریخ میں سٹاک مارکیٹ کے ہنڈرڈ انڈیکس نے پہلی مرتبہ 72 پوائنٹس کی سطح عبور کی ہے۔

    مارکیٹ میں کاروبار کے دوران نفع کمانے کے لیے کچھ حصص میں فروخت کا رجحان بھی دیکھا گیا، تاہم اس کے باوجود انڈیکس مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر 692 پوائنٹس اضافے کے بعد 72050 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    سٹاک مارکیٹ میں اس ’تاریخی تیزی‘ کی وجوہات کیا ہیں؟

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ مارکیٹ میں تیزی کی مختلف وجوہات ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سب سے بڑی وجہ تو وزیر خزانہ کا دورہ واشنگٹن ہے جس میں انھوں نے عالمی مالیاتی اداروں بشمول آئی ایم ایف حکام سے ملاقات کی جس کے بعد پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے ایک طویل مدتی پروگرام کے امکانات کافی بڑھ گئے۔ شہریار کے مطابق ان امکانات اور اس ضمن میں ہونے والے اعلانات نے سرمایہ کاروں میں اعتماد کو بحال کیا ہے جس کا اظہار سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ماضی قریب میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے متعلق اعلانات نے بھی بہتری کی راہ ہموار کی ہے۔

    شہریار بٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی میں کمی کی وجہ سے شرح سود میں کمی کا امکان بھی ہے اور اس وجہ سے بھی سٹاک مارکیٹ میں تیزی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

    کون سے حصص میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا؟

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی وجہ مختلف کمپنیوں کے حصص میں خریداری رہی۔

    شہر یار بٹ نے بتایا کہ بینکوں کے حصص میں تیزی دیکھی گئی جس کی وجہ بینکوں کی جانب سے اچھے مالیاتی نتائج کا اعلان ہے جس میں سرمایہ کاروں کے لیے منافع کا اعلان کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ملک میں شرح سود میں کمی کی توقعات پر تعمیراتی شعبے کی کمپنیوں جن میں سیمنٹ، گلاس اور سیرامکس کے حصص شامل ہیں، ان میں تیزی دیکھی گئی۔

    تجزیہ کار کے مطابق ملک کی آئی ٹی برآمدات بڑھنے کی وجہ سے اس شعبے کی کمپنیوں کے حصص میں بھی تیزی ریکارڈ کی گئی۔

  3. پرویز الہی اور مونس الہی کیا پاکستانی سیاست میں دوبارہ ابھر پائیں گے؟

  4. ایرانی مہمان اور ادب نواز شہباز شریف

  5. سپریم کورٹ کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا ہے تاہم سپریم کورٹ نے بنچ کی ازسرنو تشکیل کیلئے معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینے سے متعلق آج کی سماعت کے دوران بنچ پر اعتراض اُٹھایا گیا تھا اور اس سے متعلق درخواستیں بھی پیش کی گئیں تھیں جنھیں منظور کر لیا گیا۔

    بدھ کے روز جب سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کو بتایا کہ عید پر 20 ملزمان رہا ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں، مزید یہ کہ منتفرق درخواست کے ذریعے رہائی پانے والوں کی تفصیل جمع کروا دی گئی ہے۔

    جس پر جسٹس میاں محمد علی مظہر نے اٹارنی جنرل سے استفسار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا رہا ہونے والے ملزمان کیخلاف اب کوئی کیس نہیں ہے؟‘

    جس پر عدالت میں موجود اعتزاز احسن اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور کہا کہ ’ان ملزمان کو سزا یافتہ کر کے گھر بھیج دیا گیا ہے، ایک بچے کو ٹرائل کئے بغیر سزا یافتہ کیا گیا وہ اب چھپتا پھر رہا ہے، یہ جو کچھ بھی ہوا ہے بڑا ’ہیپ ہیزرڈ‘ ہوا۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اٹارنی جنرل کی جو پرفیکشن ہوتی ہے وہ اس کیس میں نظر نہیں آئی۔‘

    جس پر جسٹس امین الدین نے اعتزاز احسن سے سوال کیا کہ کیا آپ جس کی بات کر رہے ہیں وہ اٹارنی جنرل کی جمع کرائی جانے والی فہرست میں شامل ہیں؟‘ جس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ’جی وہ اس فہرست میں شامل ہے۔‘

    اعتزاز احسن کے جواب کے بعد عدالت نے اٹارنی جنرل کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کے فیصلوں کی نقول طلب کر لیں۔

    تاہم اعتزاز احسن اور دیگر وکلا کی جانب سے ملٹری کورٹس کے فیصلوں کو ریکارڈ پر لانے کی استدعا کی گئی۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ 20 ملزمان کی حد تک جو فیصلے سنائے گئے ریکارڈ پر لائے جائیں۔‘

    جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ ’ہم ان سے فیصلوں کی نقول مانگ لیتے ہیں، ہمیں پتہ تو چلے ٹرائل میں کیا طریقہ کار اپنایا گیا۔‘

    بعد ازاں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے بنچ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے استدعا کی کہ ’نو رکنی بنچ کی تشکیل کیلئے معاملہ دوبارہ ججز کمیٹی کو بھیجا جائے۔‘

  6. لاپتہ بلوچ: حکومت بتائے کہ خفیہ اداروں میں کوئی جوابدہ ہے؟ جسٹس محسن کیانی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    بلوچ

    ،تصویر کا ذریعہ@SAMMIBALUCH

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی درخواست پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بازیاب ہونے والے لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ پٹیشنر ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزارت دفاع سے پوچھ کر بتائے کہ خفیہ ادارے کے اندر خود احتسابی کا کیا عمل ہے؟ کیا ایجنسیز میں کوئی جوابدہ ہے؟ خود احتسابی کہاں پر ہے جو نظر آئے؟

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے یہ واضح ہے کہ ’ریاست یا عدالتیں کسی دہشتگرد کی پروٹیکشن نہیں کریں گی، سوال تب اٹھتا ہے جب قانون سے ماورا کوئی اقدام ہوتا ہے۔ اگر کوئی دہشتگرد ہے تو پرچہ دیں، کارروائی کریں، لیکن ماورائے عدالت کاروائی نہ کریں، ہر ادارے نے اپنے اختیار کے اندر رہ کر کام کرنا ہے۔‘

    عدالت کا کہنا تھا کہ ’آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے ڈی جیز پر مشتمل کمیٹی بنائی تھی، اس پر کوئی اعتراض ہے تو وجوہات بتا کر مطمئن کریں۔‘

    ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے کہا ’جس دن نگراں وزیر اعظم یہاں پیش ہوئے اُسی دن ایک بلوچ سٹوڈنٹ اٹھایا گیا، پھر اگلے ہی دن اُس مسنگ سٹوڈنٹ کو راولپنڈی میں چھوڑ دیا گیا۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’پٹیشن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ میری رائے جبری گمشدگی کمیشن کے خلاف اسی لیے ہے کہ وہ انھیں کیساتھ کام کررہا ہوتا ہے جن پر الزام ہوتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پولیس تمام اداروں سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ وہ کارروائی سب کے سامنے کرتے ہیں، انھیں ہم دیکھ لیتے ہیں کہ کارروائی ٹھیک ہوئی یا نہیں۔ پولیس والوں کو تو معطل بھی کر دیتے ہیں۔ جو ادارے قانون کے ماتحت ہیں وہ تو ریگولیٹ ہو جاتے ہیں۔ جو قانون سے ماورا کارروائی کرتے ہیں ان کی ریگولیشن کیا ہے؟‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’ٹھیک ہے ورکنگ میں غلطی ہو سکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں وہ جوابدہ نہیں۔ ایجنسیز کا کردار کسی قانون کے تحت ہوگا؟جس طرح ایف آئی اے اور دیگر اداروں کا ہے۔ کمیٹی بنائی تھی جس میں ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی، ڈی جی ایم آئی تھے، اس بارے بتائیں۔‘

    عدالت کے اس سوال پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’اس کے حوالے سے ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ پٹیشنرز کی وکیل کہتی ہیں جس دن وزیراعظم یہاں بیان دے کر گئے اسی دن ایک بندا اٹھا لیا گیا۔ اس سے تو پتہ چلتا ہے وزیراعظم کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں۔‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی درخواست پر مزید سماعت 21 مئی تک ملتوی کر دی۔

  7. عدت کیس میں سزا کیخلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت: ’خاور مانیکا کے بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی قصوروار ہیں‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوران عدت نکاح کیس کی سزا کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کر رہے ہیں۔

    آج اب تک ہونے والی سماعت اور بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے دلائل دیے۔

    آج کیس کی سماعت کے آغاز پر بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے وکیل رضوان عباسی نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’خاور مانیکا کے بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی قصوروار ہیں۔‘

    جس پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’اسی معاملے پر ایک شکایت پہلے بھی آئی مگر واپس لے لی گئی تھی اس پر بھی روشنی ڈالیں۔‘

    عدالت کے اس سوال پر رضوان عباسی کا کہنا ہے تھا کہ ’پہلے جو شکایت آئی تھی وہ چارج فریم سے پہلے ہی واپس لے لی گئی تھی۔‘ رضوان عباسی نے سپریم کورٹ کی ججمنٹ کا حوالہ دیتا ہوئے کہا کہ ’چارج فریم سے پہلے واپس لی گئی درخواست موجودہ درخواست پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔‘

    آج دورانِ عدت کیس کی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    رضوان عباسی کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ملزمان کی جانب سے ٹرائل کے دوران حلف لینے کی بات کی گئی جب خاور مانیکا نے وہ آفر قبول کی تو ملزمان مکر گئے۔‘

    راجہ رضوان عباسی ایڈوکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں ٹرائل کے دوران کی گئی جرح عدالت کے سامنے پڑھ کر سُنائی۔

    راجہ رضوان عباسی کہ کہنا تھا کہ ’اسلامی فیملی قانون کے سیکشن 7 نے عدت کا دورانیہ 90 بتایا ہے، اگر میڈیسن کے ذریعے عدت کا دورانیہ مکمل کریں تو یہ قابل قبول نہیں ہوگا۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ملزمان کے خلاف تین الزامات ہیں، عدت سے پہلے نکاح، فراڈ اور حق رجوع ختم کرنے کا الزام ثابت ہوتا ہے۔‘

    راجہ رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’ملزمان نے 342 کے بیان میں بتایا کہ انھوں نے یکم جنوری کا نکاح کیا ہے مگر پبلک بعد میں کیا۔‘

    راجہ رضوان عباسی ایڈوکیٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا 342 کا بیان عدالت کے سامنے پڑھ کر سُنایا۔

    جس پر عدالت نے راجہ رضوان عباسی سے سوال کیا کہ ’زبانی یا تحریری طور پر طلاق کے حوالے سے قانون کیا کہتا ہے؟‘

    عدالتی سوال کے جواب میں راجہ رضوان عباسی کا کہنا تھا کہ ’قانون میں دونوں طریقے ہیں مگر ملزمان نے تحریری طور پر کچھ پیش نہ کیا۔‘

    جس کے بعد راجہ رضوان عباسی ایڈوکیٹ نے کیس کے گواہ عون چوہدری کا بیان عدالت کے سامنے پڑھ کر سنایا۔

    راجہ رضوان کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ ’گھریلو ملازم لطیف کے بیان کے زیادہ تر حصہ پر ملزمان کی جانب سے انکار نہیں کیا گیا، نومبر میں طلاق اور جنوری میں نکاح کرنا خاور مانیکا کے رجوع کرنے کے حق کو مجروح کیا گیا، فیملی لا آرڈیننس کے مطابق عدت کا دورانیہ 90 دن کا ہے۔‘

    رضوان عباسی ایڈوکیٹ کا سپریم کورٹ کی ججمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’طلاق کے بعد عدت کے دوران اگر شوہر کی موت واقع ہو جاتی تب بیوی کو بیوہ والی عدت کا دورانیہ بھی مکمل کرنا ہوگا۔‘

    بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے وکیل رضوان عباسی نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ جس کے بعد عدالت نے اپیلوں کی سماعت میں دو بجے تک وقفہ کردیا۔

  8. ایران سے تجارت کرنے والوں پر پابندیاں لگ سکتی ہیں: امریکہ

    US

    ،تصویر کا ذریعہUS Department of State

    واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتے تعلقات پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

    امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والوں کو خبردار کیا گیا ہے۔ امریکہ کے نائب ترجمان محکمہ خارجہ ویدانت پٹیل نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر ممکنہ پابندیاں لگ سکتی ہیں۔‘

    واشنگٹن میں پرس بریفنگ کے دوران نائب ترجمان محکمہ خارجہ ویدانت پٹیل سے سوال ہوا کہ ایرانی صدر پاکستان کے دورے پر ہیں اور ان کے دورے کے دوران پاکستان اور ایران نے 8 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے اور دو طرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے پر بھی اتفاق کیا، امریکا ان معاہدوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟

    صحافی کے اس سوال کے جواب میں نائب ترجمان محکمہ خارجہ ویدانت پٹیل نے کہا کہ ’ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ایران سے تجارت کرنے والوں پر ممکنہ پابندیاں لگ سکتی ہیں، تمام ممالک کو پابندیوں کے ممکنہ خطرے سے آگاہ رہنے کا مشورہ دیتے ہیں، تاہم پاکستان خارجہ پالیسی کے تحت ایران کے ساتھ معاملات دیکھ سکتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ 22 اپریل کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 3 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے تھے جو آج کراچی سے واپس روانہ ہو گئے ہیں۔

    تین روزہ دورے کے دوران پاکستان اور ایران کے مابین مختلف معاملات پر پات چیت ہوئی جس میں دونوں مُمالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعلقات کو مستحکم اور فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ساتھ ہی ایرانی صدر کے دورے کے موقع پر پاکستان اور ایران میں تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق بھی ہوا۔

  9. ایرانی صدر پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد کراچی سے وطن واپس روانہ

    ایران پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہ@ForeignOfficePk

    ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد آج صبح کراچی ایئرپورٹ سے ایران روانہ ہو گئے۔

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے کراچی ایئرپورٹ پر ایرانی صدر اور ان کے وفد کو رخصت کیا۔

    ایرانی صدر نے دورے کے دوران اپنے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی، سندھ اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ اور گورنروں سے ملاقاتیں کیں۔

    ایرانی صدر کے دورے کے موقع پر پاکستان اور ایران میں تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق ہوا۔

    ایرانی صدر نے پاکستان کے تین روزہ دورے کے دوران اسلام آباد، لاہور اور کراچی کا دورہ بھی کیا۔ دونوں فریقین نے نتیجہ خیز تبادلہ خیال کیا اور تجارت، رابطے، توانائی اور عوامی رابطوں سمیت متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق بھی کیا۔

    ایرانی صدر کے ساتھ دورہِ پاکستان کے موقع پر ان کی اہلیہ ایرانی وزیر خارجہ، کابینہ کے دیگر ارکان، اعلیٰ حکام اور تاجروں پر مشتمل وفد بھی شامل تھا۔

  10. فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    SC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بنچ ساڑھے گیارہ بجے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کرے گا۔

    جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان اس لارجر بنچ میں شامل ہیں۔

    عید سے قبل فوجی عدالتوں نے سانحہ 9 مئی میں ملوث 105 میں سے 20 ملزمان کو بری کر دیا تھا اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے اس ضمن میں رپورٹ بھی آج عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    فوجی عدالتوں میں سویلین کے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے جانے کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے درخواستیں دائر کی تھیں۔

    مستعفی ہونے والے سپریم کورٹ کے جج اعجاز الااحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے نو مئی کے واقعات سے متعلق سویلین کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں چلانے کے حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس اقدام کو خلاف آئین قرار دیا تھا۔

    تاہم جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے اس فیصلے کو معطل کردیا تھا اور فوجی عدالتوں کو سویلین کے خلاف مقدمات پر کارروائی جاری رکھنے کا کہا تھا لیکن فوجی عدالتوں کو نظر ثانی کی اپیلوں پر حتمی فیصلہ ہونے تک کسی بھی بڑے مقدمے کا فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا۔

    نظر ثانی کی یہ اپیلیں وفاق کے علاوہ چاروں صوبائی حکومتوں نے بھی دائر کی تھیں تاہم صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد صوبائی حکومت نے نظر ثانی کی اپیل واپس لینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

  11. پنجاب کے ضلع بھکر میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، دو دہشت گرد ہلاک, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر کے قریب سی ٹی ڈی اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں صوبہ خیبرپختونخوا سے پنجاب میں داخل ہونے والے دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    سی ٹی ڈی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق سی ٹی ڈی اور سکیورٹی اداروں نے مبینہ دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش کی جس پر دہشت گردوں کی جانب سے سی ٹی ڈی اور سکیورٹی ٹیم پر فائرنگ کردی، بتایا جا رہا ہے کہ فائرنگ کے اس تبادلے میں دونوں دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق مارے جانے والے دونوں مبینہ دہشت گرد ملک میں حساس تنصیب پر حملے میں ملوث تھے، دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

    حکام کی جانب سے تاحال مارے جانے والے دونوں دہشت گردوں کی شناخت کی کوشش جاری ابھی جاری ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔

  12. بلوچستان کے حلقے پی بی 9 کوہلو میں آج دوبارہ پولنگ ہوگی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 9 کوہلو کے نسائو میں چار پولنگ سٹیشنوں پر آج دوبارہ انتخاب ہو رہا ہے۔

    بلوچستان کے اس حلقے کے چار پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخاب کا حکم الیکشن کمیشن کی جانب سے دیا گیا تھا۔ آج ہونے والے اس انتخابی عمل اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کے گزشتہ روز نسائو کے علاقے میں ہونے والے ایک راکٹ حملے میں ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہوئی تھی، جس کے بعد اس حملے کی مذمت وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے کی گئی تھی۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ نسائو میں ہونے والا یہ حملہ پیپلز پارٹی کے امیدوار میر نصیب اللہ مری کے کیمپ پر کیا گیا تھا۔

    نسائو میں صوبائی اسمبلی کی اس نشست پر پاکستان مُسلم لیگ ن کے نوابزادہ جنگیز مری اور پیپلز پارٹی کے میر نصیب اللہ مری مد مقابل ہیں۔

  13. کوہلو میں انتخابی کیمپ پر حملے میں ایک ہلاکت, محمد کاظم/بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کوہلو کے علاقے نساؤ میں ایک انتخابی کیمپ پر حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے ۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ایک معصوم شخص کی ہلاکت ہوئی۔

    کوہلو کے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 9 کے علاقے کے چار پولنگ سٹیشنوں کے نتائج کو الیکشن کمیشن نے کالعدم قرار دیتے ہوئے ان پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ پولنگ نساؤ کے چار پولنگ سٹیشنوں پر کل ہوگی جہاں نامعلوم افراد نے راکٹوں سے حملے کے علاوہ فائرنگ کی ہے۔

    منگل کی شب ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ حملہ پیپلز پارٹی کے امیدوار میر نصیب اللہ مری کے کیمپ پر کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگوں کو یقین دلاتے ہیں حکومت اپنی رٹ قائم کرے گی۔

  14. عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائی جا رہی ہے: وزیر اعلیٰ بلوچستان, محمد کاظم/بی بی سی اردو، کوئٹہ

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ عسکریت پسندوں سے مذاکرات اور بلوچستان میں امن و امان کی بہتری کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائی جا رہی ہے۔

    منگل کی شب وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں ایک بیانیہ بنا ہوا ہے کہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہییں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کس طریقے سے ہوں، کون آپ سے بات کرنا چاہتا ہے اور کون نہیں کرنا چاہتا ہے۔ چونکہ پارلیمنٹ سپریم ہے اس لیے پارلیمنٹ اور حکومت نے اس سلسلے میں لیڈ لینی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس سلسلے میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں سے بات کرے گی خواہ وہ پارلیمنٹ کے اندر ہیں یا باہر ہیں۔

    وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو، سردار عبدالرحمان کھیتران، شعیب نوشیروانی اور علی مدد جتک پر مشتمل کمیٹی کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ کمیٹی جا کر سیاسی جماعتوں، بلوچ اور پشتون رہنماؤں سے بات کرے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر مذاکرات سے مسئلہ حل ہوتا ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی خوبصورت بات اور نہیں ہوسکتی۔ تاہم اگر مذاکرات نہیں ہوتے ہیں تو پھر بھی بلوچ اور پشتون رہنما بتائیں کہ جو تشدد کا راستہ ہے اس کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔‘

    لاپتہ افراد کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کو ایک بڑا مسئلہ بنایا گیا جس کی بازگشت پورے پاکستان میں سنائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشکوک موضوع ہے جس پر حکومت پاکستان نے ایک کمیشن بنایا ہے جس نے ان کے بقول لاپتہ افراد کے مسئلے کو 80 فیصد حل کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایک فرد بھی لاپتہ ہو تو اس کا کوئی جواز نہیں لیکن یہ تعین کرنا کہ اس کو کس نے لاپتہ کیا ہے وہ ایک مشکل کام ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کبھی لوگ سکیورٹی فورسز پر الزام لگاتے ہیں لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ جو لاپتہ افراد کی فہرست میں تھا وہ دہشت گردی کے واقعے میں مارا گیا۔

    ’خود روپوش ہونے اور جبری گمشدگی میں بہت بڑا فرق ہے اور خود روپوش ہونے کے واقعات بہت زیادہ ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ جو کمیٹی بنائی گئی وہ ان تمام معاملات کو دیکھے گی۔ انھوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو اوزار بنا کر ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرنا انتہائی نامناسب عمل ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جو تحریک اور تشدد ہے یہ پاکستان کے وجود پر حملہ ہے۔ اس سے نمٹنا صرف سکیورٹی فورسز کا کام نہیں ہے بلکہ یہ لڑائی سیاستدانوں، عدلیہ، میڈیا سمیت سوسائٹی ہر فرد نے لڑنی ہے۔‘

  15. انٹیلی جنس اداروں کی ’مداخلت‘ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی ’متفقہ رائے‘ سپریم کورٹ بھیجنے کا فیصلہ, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے تمام ججز نے فل کورٹ اجلاس میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی عدالتی امور میں مبینہ مداخلت ختم کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے مستقبل میں اس قسم کی کسی بھی مداخلت پر بھرپور ادارہ جاتی رسپانس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    فل کورٹ اجلاس میں تمام ججز نے اپنی تجاویز پیش کیں جن کو ڈرافٹ کی شکل دے کر مقررہ وقت سے پہلے سپریم کورٹ میں جمع کرایا جائے گا۔

    عدالتی امور میں انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکاروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر چھ ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط کے بعد از خود نوٹس کیس کی سماعت کے آرڈر کی روشنی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فل کورٹ اجلاس ہوا جس کی سربراہی چیف جسٹس عامر فاروق نے کی۔

    جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز سمیت تمام ججز فل کورٹ اجلاس میں شریک ہوئے۔

    رجسٹرار ہائی کورٹ کو اس اجلاس میں شرکت کی اجازت نہ مل سکی۔

    فل کورٹ اجلاس میں ججز کی جانب سے عدلیہ میں مداخلت روکنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ تمام ججز اس بات پر متفق ہوئے کہ عدالتی امور میں کسی بھی مداخلت پر ادارہ جاتی رسپانس دیا جائے۔

    ہائی کورٹ کے اہلکار کے مطابق انٹیلی جنس اداروں کی مداخلت روکنے کے لیے مختلف اقدامات کرنے سے متعلق تجاویز بھی زیر غور آئیں۔ متفقہ تجاویز کو ڈرافٹ کی صورت میں حتمی شکل دے کر مقرر ہ تاریخ سے قبل سپریم کورٹ کو بھجوادیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق فل کورٹ اجلاس میں تجاویز پر کوئی اختلاف سامنے نہیں آیا اور فل کورٹ اجلاس انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوا۔

  16. اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے نہ تو کسی نے ڈیل کی بات کی اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی پیغام موصول ہوا: عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام اسلام آباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے نہ تو اُن سے کسی نے ڈیل کی بات کی اور نہ ہی اس ضمن میں انھیں کوئی پیغام موصول ہوا۔

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’آٹھ فروری کو جب عوام ایک طرف کھڑی ہو گئی تو وہ وقت تھا بات کرنے کا، لیکن اُس وقت ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ وہ مجھ سے کس بات پر ڈیل کریں گے۔‘

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کا موجودہ سیٹ اپ پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

    بی بی سی نے عمران خان کی میڈیا سے گفتگو کی تفصیلات کمرہ عدالت میں موجود صحافی اور اس موقع پر موجود جیل اہلکار کی حاصل کی ہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں عام انتخابات کو صرف اس لیے ملتوی کیا گیا تاکہ پی ٹی آئی کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ میں بھی اُن کی پٹیشن اس لیے نہیں سُنی گئی کیونکہ وہ بھی پی ٹی آئی کے کرش ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ عمران خان نے اس موقع پر دعویٰ کیا کہ اس صورتحال کے باعث عدلیہ سے لوگوں کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔

    سابق وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ ملک میں ادارے آئینی طور پر نہیں چل رہے جبکہ اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں پولیس نے مداخلت کی تھی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں بھی ضمنی الیکشن ہوئے مگر نہ تو پولیس نے کوئی ایف آئی آر کاٹی اور نہ ہی کسی امیدوار نے دھاندلی کی شکایت کی۔

    ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ بشری بی بیکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں مگر اس کے باوجود انھیں عدالت سے سزا دلوا کر ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے جبکہ ان کی تین بہنوں کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے دوران مزید پانچ گواہان کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں اور نیب کے پراسیکیوٹر کے مطابق اب تک اس کیس میں مجموعی طور پر 21 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں جبکہ 15 گواہان پر جرح مکمل کر لی گئی ہے۔

    اس ریفرنس کی سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار کے مطابق عدالتی حکم پر کمرہ عدالت میں عارضی طور پر تعمیر کی گئیں تمام دیوراوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔

  17. لاپتہ افراد کے معاملے میں حکومتی اداروں کی مداخلت کے الزام کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، وفاقی وزیر قانون

    پاکستان کے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے معاملے میں حکومتی اداروں کی مداخلت کے الزام کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

    اعظم نذیر تارڑ منگل کے دن وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے تھے جہاں انھوں نے لاپتا افراد کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مسئلہ حل کرنے میں حکومت کی جانب سے کوئی سُستی نہیں ہے، حکومت کو اپنی پوری ذمہ داریوں کا احساس ہے۔‘

    وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ ’لاپتا افراد کا معاملہ 2011 میں اُٹھا جس پر حکومت کی جانب سے کمیشن بنا دیا گیا جس نے 10 ہزار دو سو کے قریب کیسز میں سے 8000 کیسز کو حل کیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی بھی 23 فیصد کیسز پر کام ہونا باقی ہے۔‘

    وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ’حکومت کی جانب سے اس مسئلے کے حل میں کسی بھی قسم کی کوئی سُستی نہیں ہے لیکن چار دہائیوں پر محیط اس مسئلے کو اتنی جلدی حل نہیں کیا جا سکتا جس کی اُمید کی جا رہی ہے۔‘

    وفاقی وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ ’دونوں اطراف سے اس معاملے میں کُچھ نا کُچھ مسائل ہیں، اگر آپ کہیں کے حکومتی اداروں کی اس معاملے میں مداخلت ہے تو یکسر اس بات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس بارے میں کوئی واضح یا مستند شواہد سامنے آئے ہیں؟ تو اس کا جواب جو میرے سامنے آیا نفی میں تھا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اس معاملے پر یعنی لاپتا افراد سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس میں سے 100 فیصد درست بھی نہیں ہوتیں اور ہمارے سامنے کُچھ ایسے معاملے بھی آئے کہ جن لاپتا افراد کے ورثا نے کہا کہ ہمیں اُن کی تدفین کی اجازت دی جائے۔‘

    وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ اگر کسی شخص پر یہ الزام ہے کہ وہ کسی پُرتشدد یا ریاست مخالف کارروائی میں ملوث ہے تو اُس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

  18. پاکستان اور ایران کے درمیان دہشت گرد تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کا اصولی فیصلہ

    Iran Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ پاکستان کے دورے پر آنے والے ایرانی وزیر داخلہ ڈاکٹر احمد وحیدی اور وزیرِ قانون امین حسین رحیمی کی پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں مُمالک نے اپنے اپنے مُلک میں موجود دہشت گرد تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    فریقین نے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کیا جس میں باہمی تعاون اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید بہتر بنانا شامل ہے۔ اس سلسلے میں جلد از جلد سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اربعین کے موقع پر پاکستانی زائرین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا اور ایرانی وزیرِ داخلہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو اس سلسلے میں ایران کے دورے کی دعوت دی جہاں عراقی ہم منصب کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

    فریقین نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ مشترکہ اقدامات سے زائرین کو بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے دورے کی دعوت پر اپنے ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔

    فریقین نے ایک دوسرے کے ملک میں قید اپنے شہریوں پر عائد جرمانے معاف کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران میں قید پاکستانی قیدی جلد از جلد وطن واپس آئیں۔

    دونوں ممالک نے منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کے اقدامات سمیت بارڈر مینجمنٹ میں تعاون بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا۔

    انھوں نے کہا کہ سمگلنگ دونوں ممالک کے لئے معاشی نقصان کا باعث ہے اور بارڈر مینجمنٹ کے ذریعے اس کی روک تھام سے باہمی تجارت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

    ایرانی وزیر داخلہ نے پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات ہیں۔

    پاکستانی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔انھوں نے کہا کہ تمام اسلامی ممالک کو غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے حقوق کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا۔

    محسن نقوی نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرنے پر ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی صدر کا دورہ پاکستان دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

  19. ’پاکستان اور ایران کے مستحکم تعلقات سے امریکہ خوش تو نہیں ہوگا، مگر ہمارے مفاد میں جو بہتر ہوگا ہمیں وہ کرنا چاہیے‘ ملیحہ لودھی

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہ@LodhiMaleeha

    پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات اور خاص طور پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے دورہِ پاکستان پر نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر بات کرتے ہوئے سابق سفارت کار ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ ’چند ماہ قبل ایران اور پاکستان دونوں کی جانب سے ایک دوسرے کے مُلک پر یہ الزام لگا کر فضائی حلے کیے کہ اُن کی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں جنھیں نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    سابق سفارت کار ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ ’اس پس منظر میں یہ دورہ ضروری اور انتہائی اہمیت کا حامل اس لیے بھی تھا کہ دونوں مُلکوں کے درمیان تعلقات کو جو نقصان پہنچا تھا اُسے دوبارہ سے قائم کرنے کی بہت ضرورت تھی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’دونوں ملکوں کے درمیان سرحد کو محفوظ بنانے اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اہم امور پر بات چیت کے لیے بھی یہ دورے انتہائی ضروری تھا۔‘

    امریکہ اور دیگر مُمالک کے اس دورے پر خدشات سے متعلق سابق سفارت کار کا کہنا تھا کہ ’ہر مُلک اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے تعلقات کو بنانے پر غور کرتا ہے اور اس پر کام کرتا ہے، اگر امریکہ کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات پر خدشات ہیں تو یہ اُن کے مُلک کا اندرونی معاملہ ہے، ہمارے یعنی پاکستان کے مفاد میں تو یہ ہے کہ اُس کے تعلقات اُس کے ہمسایہ مُلک کے ساتھ اچھے رہیں۔‘

    اُن کا اسی بارے میں مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ اُس کے ایران کے ساتھ تعلقات مستحکم اور مضبوط رہیں، کیونکہ مشرق اور مغرب میں موجود دونوں مُمالک یعنی افغانستان اور انڈیا کے ساتھ سرحد پر کشیدگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، تو ایسے میں پاکستان ایران کے اچھے تعلقات دونوں مُمالک کے لیے ضروری ہیں۔

    ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا مزید کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے کہ امریکہ پاکستان اور ایران کے اچھے اور مستحکم تعلقات سے خوش نہیں ہوگا اور یہ اُن کے مفاد میں نہیں ہوگا مگر پاکستان کے مفاد میں یہی ہے کہ اُس کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں۔‘

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دورہِ چین سے متعلق ایک سوال پر کہنا تھا کہ ’پاکستان اور چین کے تعلقات گزشتہ سات دہائیوں سے بہت مستحکم رہے ہیں اور دونوں مُلکوں کے درمیان اقتصادی راہداری کی وجہ سے ان میں مزید بہتری آئی ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان سے کوئی بھی سیاسی رہنما چین جاتا ہے تو اُس کا شاندار استقبال کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ دونوں مُمالک کے درمیان درینہ تعلقات ہیں، اور یہ تعلقات ہمیشے سے ہی ایسے رہے ہیں کونکہ یہاں بھی دونوں مُمالک کے مفاد میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنا ہے۔‘