بشام میں چینی شہریوں پر حملے میں ٹی ٹی پی ملوث، چار ملزمان گرفتار: سی ٹی ڈی

محکمۂ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کہا ہے کہ بشام میں چینی انجینیئرز کے قافلے پر حملے میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ملوث ہے اور اس کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کے دوران چار ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں۔

خلاصہ

  • وزیراعظم محمد شہباز شریف سے عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس کی سائیڈ لائینز پر سعودی عرب وزرا کی ملاقات ہوئی جس دوران یہ اتفاق کیا گیا کہ ’سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع تلاش کرے گا۔‘
  • پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو ملک کا نائب وزیرِاعظم مقرر کر دیا ہے۔
  • کیچ میں پنجاب کے تعلق رکھنے والے دو مزدور نامعلوم افراد کے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
  • اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کے خلاف ’جھوٹی‘ اور ’توہین آمیز‘ مہم پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جسٹس بابر ستار کے پاس کبھی پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں رہی۔‘

لائیو کوریج

  1. بلوچستان کے علاقے چمن میں حکام کی پوست کی ممنوعہ فصل کے خلاف کارروائی

    پوست کی ممنوعہ فصل

    صوبہ بلوچستان کے افغانستان سے متّصل سرحدی ضلعے چمن میں سرکاری حکام نے پوست کی ممنوعہ فصل کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

    لیویز فورس کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ ضلع چمن کے مختلف علاقوں میں پوست کی کاشت کی گئی ہے۔

    نشاندہی ہونے پر دیوگر سیدگئی اور دیگر علاقوں میں ممنوعہ فصل کو تلف کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے اور اب تک مختلف علاقوں میں پوست کو تلف کردیا گیا ہے۔

    اس سلسلے میں جاری ہونے والی تصاویر کے مطابق پوست کی فصل گھروں میں بھی کاشت کی گئی ہے۔

    اہلکار کے مطابق چمن کے مختلف علاقوں میں یہ کارروائی 30 اپریل تک جارہی رہے گی۔

    پوست کی ممنوعہ فصل

    رابطہ کرنے پر ضلع چمن کے ڈپٹی کمشنر اطہر عباس راجہ نے بتایا کہ پوست کی فصل کو تلف کرنے کے لیے مشترکہ کارروائی کی جارہی ہے جس میں لیویز فورس، فرنٹیئر کور اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے اہلکار شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ پوست سے افیون اور ہیروئن بنتی ہے۔

    پوست کی فصل زیادہ تر افغانستان کے علاقے ہلمند اور اس سے متصل دیگر علاقوں میں ہوتی ہے لیکن اب گذشتہ چند سال سے یہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی کاشت کی جاتی ہے۔

    اس موسم میں چمن سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پوست کی ممنوعہ فصل کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جبکہ گذشتہ سال حکام نے قلعہ عبداللہ اور پشین کے مختلف علاقوں میں منشیات بنانے کے مراکز کے خلاف بھی کارروائی کا دعویٰ کیا تھا۔

  2. پاکستان میں شرح سود 22 فیصد پر برقرار، ملک میں مہنگائی کی سطح اب بھی بلند ہے: سٹیٹ بینک, تنویر ملک، صحافی

    مہنگائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرح سود کسی ردوبدل کے بغیر 22 فیصد پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ مرکزی بینک کی زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے سوموار کو اجلاس میں کیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ’کمیٹی نے نوٹ کیا کہ معاشی استحکام کے اقدامات مہنگائی اور بیرونی پوزیشن دونوں میں خاطر خواہ بہتری لانے میں کردار ادا کررہے ہیں اور معتدل معاشی بحالی آرہی ہے۔ تاہم ایم پی سی کا نقطہ نظر یہ تھا کہ مہنگائی کی سطح اب بھی بلند ہے۔ اس کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ اجناس کی عالمی قیمتیں لچکدار عالمی نمو کے ساتھ اپنی پست ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ حالیہ بین الاقوامی واقعات نے بھی ان کے منظرنامے کے بارے میں غیریقینی کیفیت میں اضافہ کیا ہے۔‘

    مزید برآں، مہنگائی کے قریب مدتی منظرنامے کے حوالے سے آئندہ بجٹ اقدامات کے مضمرات ہوسکتے ہیں۔ مجموعی طور پر کمیٹی نے ستمبر 2025ء تک مہنگائی کو کم کرکے 5-7فیصد ہدف کی حدود میں لانے کے لیے موجودہ زری پالیسی موقف کو جاری رکھنے پر زور دیا۔

    سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے مالیاتی امور کے ماہر خرم شہزاد نے کہا کہ ’مرکزی بینک کے فیصلے کے پس پردہ یہ سوچ کارفرما ہے کہ ابھی بھی خارجی طور پر ایسے عوامل موجودہ ہیں جو سخت مانیٹری پالیسی کو برقرار رکھنے کا تقاضا کرتے ہیں جس میں سب سے بڑا اجناس کی قیمتوں کا رسک ہے جس کی وجہ عالمی سطح پر وقوع پذیر ہونے والے حالات ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کیونکہ ملک کے پاس اتنے زیادہ ڈالر نہیں ہیں کہ وہ بیرونی شعبے کو لاحق کسی رسک کو اچھی طرح ہینڈل کر سکیں اس لیے سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھی گئی ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’اس کے ساتھ ملک کے اندر انرجی کے شعبے میں بھی سرکلر ڈیبٹ جیسے مسائل موجود ہیں کہ جو انرجی شعبے میں قیمتوں کے لیے خطرہ ہیں۔‘

    بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے خرم نے کہا ان کے خیال میں شرح سود میں ایک فیصد تک کمی ہونی چاہیے تھے تاہم اسٹیٹ بینک سمجھتا ہے کہ حکومتی سطح پر مالیاتی مینجمنٹ کمزور ہے اس لیے سخت مانیٹری پالیسی کے ذریعے مالیاتی ڈسپلن برقرار رکھا جائے۔

    تجریہ کار محمد سہیل نے کہا کہ مرکزی بینک کا شرح سود موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ صحیح ہے جس کی وجہ مہنگائی کے بڑھنے کے خدشات ہیں جو عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں اور مقامی سطح پر بجٹ میں اٹھائے جانے والے اقدامات کی وجہ سے بڑھ سکتی ہے۔

    سٹیٹ بینک کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کے خدشات پر سوموار کو سٹاک مارکیٹ میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی جب اس کے انڈیکس میں 1048 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انڈیکس 72000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے 71695 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

  3. ریستوران چلانے والے ایم کیو ایم کے سابق رکن قومی اسمبلی جن کے قتل کے لیے آٹھ لاکھ روپے سپاری دی گئی

    علی رضا عابدی

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

    سوات کے بازار میں سردی کے دنوں میں کئی یخنی فروخت کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔ ایک ایسے ہی ریڑھی والے سے یخنی پی کر جب میں اپنے ہوٹل کے کمرے میں پہنچا اور ٹی وی آن کیا تو سکرین ان الفاظ کے ساتھ سرخ نظر آئی: ’کراچی میں ایم کیو ایم کے سابق رکن اسمبلی علی رضا عابدی کو گھر کے باہر قتل کردیا گیا۔‘

    یہ واقعہ 25 دسمبر سنہ 2018 کو پیش آیا جب میں دفتر کی جانب سے سالانہ چھٹیوں کے موقع پر اپنی فیملی کے ساتھ سوات میں موجود تھا۔

    اس سے کچھ ماہ قبل ہی سنہ 2018 کے عام انتخابات کے دن جب میں حلقہ این اے 243 پہنچا تھا تو میں نے دیکھا کہ علی رضا عابدی ایم کیو ایم کے وہ واحد امیدوار تھے، جن کے کیمپوں میں انتہائی گہما گہمی تھی۔

    آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) کے کارکن وہاں بڑی تعداد میں موجود تھے اور شاید اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ ایک تو علی رضا عابدی خود اے پی ایم ایس او سے ابھرے اور دوسرا یہ کہ وہ نوجوانوں میں بھی کافی مقبول تھے۔

    اس حلقے میں علی رضا عابدی کا مقابلہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے تھا جس میں ان کو شکست ہوئی۔

    کراچی کی اس متحرک اور بے باک آواز کے قتل کے پیچھے کیا عوامل تھے اور ایسا کس کی ایما پر کیا گیا، تین سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی یہ سوالات جواب کے منتظر ہیں۔

  4. بریکنگ, رضا علی عابدی قتل کیس: انسداد دہشتگردی عدالت نے چار ملزمان کو عمر قید کی سزا سنا دی

    رضا علی عابدی

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ALI RAZA ABIDI

    صوبہ سندھ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایم کیو ایم کے رہنما رضا علی عابدی کے قتل کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

    عبدالحسیب، غزالی، محمد فاروق اور ابو بکر نامی ملزمان کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔اس کے علاوہ عدالت نے ملزمان پر ایک، ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔

    عدالت نے کیس کے مفرور ملزمان محمد فاروق، حسنین اور غلام مرتضی عرف کالی چرن کے خلاف کیس داخل دفتر کر دیا ہے۔ عدالت نے حکم میں کہا ہے کہ ملزمان جب بھی گرفتا ہوں تو انھیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

    ملزمان کے خلاف گذری تھانے میں دہشت گردی ایکٹ اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  5. پاکستان میں چینی شہریوں پر حملے: کیا یہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کی ناکامی تھی؟

    بشام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے علاقے بشام میں منگل کو ایک مبینہ خودکش حملے میں پانچ چینی باشندے اور ان کا ایک پاکستانی ڈرائیور ہلاک ہوا۔

    مقامی پولیس افسران کے مطابق مبینہ حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی چینی شہریوں کو لے جانے والی گاڑی سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔

    یہ خیبرپختونخوا میں کوئی پہلا دہشتگردی کا واقعہ نہیں جس میں چینی باشندوں کو نشانہ بنایا گیا ہو بلکہ اس سے قبل سنہ 2021 میں اپر کوہستان کے علاقے داسو میں بھی ایک بس کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں نو چینی انجینیئرز سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    اس حملے میں بھی ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی چینی باشندوں کو لے جانے والی بس سے ٹکرائی تھی۔

  6. 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس: تفتیشی افسر آئندہ سماعت پر لازمی پیش ہوں ورنہ فیصلہ کر دیں گے، عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’تفتیشی افسر آئندہ سماعت پر لازمی پیش ہوں۔‘

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی تاہم اس دوران نیب پراسیکیوٹر امجد پرویز عدالت میں پیش نہ ہوئے اور ان کی طرف سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی۔

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ’جو پراسیکیوٹر موجود ہیں انھی کے دلائل سن کر فیصلہ کر دیں۔‘

    تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظور کر لی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’نیب پراسیکیوٹر آئندہ سماعت پر پیش نہ ہوئے تو ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر دیں گے۔‘

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’تفتیشی افسر آئندہ سماعت پر لازمی پیش ہوں۔۔۔ آئندہ سماعت پر کیس ملتوی کرنے کی استدعا تسلیم نہیں کی جائے گی۔‘

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت چھ مئی تک ملتوی کر دی ہے۔

  7. بشام میں چینی شہریوں پر حملے میں ٹی ٹی پی ملوث، چار ملزمان گرفتار: سی ٹی ڈی

    بشام، چینی شہریوں، حملہ، ٹی ٹی پی، سی ٹی ڈی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    محکمۂ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کہا ہے کہ بشام میں چینی انجینیئرز کے قافلے پر حملے میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ملوث ہے اور اس کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کے دوران چار ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں۔

    26 مارچ کو بشام میں داسو منصوبے کے قریب اس حملے میں پانچ چینی شہری اور ایک پاکستانی ڈرائیور کی ہلاکت ہوئی تھی۔ تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث نیٹ ورک کے ’اہم کرداروں کا تعین کر لیا گیا ہے۔ چار ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔‘

    ’پورے نیٹ ورک کو پکڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔‘

    اس کے مطابق ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹی پی کے ایک سہولت کار نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے حملے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

    خیال رہے کہ چینی انجینیئر اسلام آباد سے داسو منصوبے کی طرف جا رہے تھے جب بشام میں ان کی وین پر حملہ ہوا اور یہ گہری کھائی میں جا گری۔

  8. آڈیو لیک کیس: ایف آئی اے، پی ٹی اے اور پیمرا کی درخواستیں جرمانے کے ساتھ خارج

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں جسٹس بابر ستار کے کیس سننے پر اعتراض کی ایف آئی اے، پیمرا، پی ٹی اے کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔

    عدالت نے پی ٹی اے ، ایف آئی اے اور پیمرا کی درخواستیں پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ لگا کر خارج کی ہیں۔

    عدالت نے عندیہ دیا ہے کہ تمام اداروں کی اتھارٹیز کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی بھی شروع ہو سکتی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس بابر ستار نے بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی درخواست پر اس مقدمے کی سماعت کی۔

    دورانِ سماعت اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    سماعت شروع ہونے پر اٹارنی جنرل نے جسٹس بابر ستار کو بتایا کہ آئی بی ، ایف آئی اے ، پی ٹی اے نے یہ درخواستیں دائر کیں ہیں۔

    جسٹس بابر ستار کا کہنا تھا کہ آئی بی، ایف آئی اے ، پی ٹی اے سیریس ادارے ہیں ان کی درخواستیں سن کر فیصلہ کروں گا۔ جسٹس بابر ستار نے اس موقع پر یہ بھی استفسار کیا کہ کس نے ان کو درخواستیں دائر کرنے کی اتھارٹی دی ہے؟

    جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی ایف آئی اے نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اتھارٹی دی۔

    جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کا آئی ایس آئی کے ساتھ کیا لینا دینا ہے ؟ کیا ایف آئی اے، آئی ایس آئی کی پراکسی ہے ؟ کس طرح چھ ججز کا خط ایف آئی اے سے متعلقہ ہے؟ کیا خط خفیہ اداروں کے حوالے سے ہے ؟

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل کو خط کا متعلقہ حصہ پڑھنے کی ہدایت کی۔

    جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ اس عدالت کے ججز نے کہا کہ وہ جسٹس شوکت صدیقی کے الزامات کی تحقیقات کرنے کو سپورٹ کرتے ہیں ، جسٹس بابر ستار نے یڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ نے خط کا جو حصہ پڑھا یہ آئی ایس آئی سے متعلق ہے، ایف آئی اے سے متعلق نہیں ؟

    جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے عدالت کو بتایا کہ بالکل ایسا ہی ہے۔

    جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی اے اینٹلی جنس ایجنسی ہے ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایف آئی اے اینٹلی جنس ایجنسی نہیں ہے۔

    جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی اے کا ججز کے گھروں میں خفیہ کیمرے لگانے سے کوئی تعلق ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے انھیں بتایا کہ نہیں ان کا تعلق تو نہیں ہے۔ جسٹس بابر نے مزید استفسار کیا کہ کیا اس خط میں کسی ایگزیکٹو کے نام ذکر ہے ؟

    جسٹس بابر ستار نے مزید استفسار کیا کہ مفاد کے ٹکراؤ کے حوالے سے بتائیں ؟ اس خط میں ذاتی مفاد کا بتائیں؟ میرا کیا ذاتی مفاد ہے ؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایک پٹیشن میں ایجنسیز کے کردار کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔

    جسٹس بابر ستار نے مزید استفسار کیا کہ اگر ایگزیکٹو ججز کو بلیک میل کرے تو کیا ججز کا مفادات کا ٹکراؤ ہو جائے گا ؟ مفادات کے ٹکراؤ کی کیا آپ اس طرح تعریف کریں گے ؟ جسٹس بابر ستار نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی لاجک مان لیں تو مجھے گورنمنٹ کے تمام کیسز سننا بند کر دینا چاہیے؟

    اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کیس زیر التوا ہے تب تک عدالت کیس نا سنے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کی درخواست خارج کرتے ہوئے درخواست دائر کرنے پر ایف آئی اے پر پانچ ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

    عدالت نے آئی بی سے جواب طلب کیا ہے کہ کس کی ہدایت پر متفرق درخواست دائر ہوئی، ہائیکورٹ نے آئی بی سے بھی جواب طلب کیا ہے۔

    جسٹس بابر ستار نے پیمرا وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے ایک درخواست دائر کی ہے کہ میں یہ کیس نا سنوں، یہ اعتراض کی گراؤنڈ کیسے ہو سکتی ہے ؟ جسٹس بابر ستار کا پیمرا وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اسی فیصلے کی بنا پر اپنے دلائل دے سکتے ہیں، جس پر پیمرا وکیل کا کہنا تھا کہ جی ٹھیک ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس بابر ستار کے کیس سننے پر اعتراض کی ایف آئی اے ، پیمرا ، پی ٹی اے کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔

    عدالت نے پی ٹی اے ، ایف آئی اے اور پیمرا کی درخواستیں پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ لگا کر خارج کر دیں۔ عدالت نے عندیہ دیا ہے کہ تمام اداروں کی اتھارٹیز کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی بھی شروع ہو سکتی ہے۔

  9. بریکنگ, ٹانک سے اغوا ہونے والے سیشن جج شاکراللہ مروت گھر پہنچ گئے

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ٹانک سے گذشتہ روز اغوا ہونے والے سیشن جج شاکر اللہ مروت گھر پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پختونخوا کے مشیر اطلاعات محمد علی سیف نے بی بی سی کو سیشن جج کے بحفاظت گھر پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔

    شاکراللہ مروت کے رشتہ دار اور مروت قومی جرگہ کے سربراہ اختر منیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ شاکراللہ مروت کل رات بارہ بجے کے لگ بھگ اپنے گھر پہنچ گئے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ کل مروت جرگہ کے عمائدین نے بھی میٹنگ کی تھی اور اس بارے میں تشویش کا اظہار کی تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ کل رات سیشن جج نے فون پر انھیں بتایا کہ وہ گھر پہنچ گئے ہیں۔

    گذشتہ روز اغوا ہونے والے سیشن جج شاکر اللہ مروت کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ دعویٰ کر رہے تھے کہ انھیں طالبان نے اغوا کیا ہے۔

    تاہم طالبان کی جانب سے اس واقعے کی ذمہ داری تاحال قبول نہیں کی گئی۔

    مختصر ویڈیو میں سیشن جج شاکر اللہ نے کہا تھا کہ ’کل مجھے طالبان اپنے ساتھ ڈی آئی خان ٹانک روڈ سے یہاں لائے ہیں، جنگل بھی ہے اور حالت جنگ بھی ہے۔ ان کے اپنے کچھ مطالبات ہیں جب تک وہ پورے نہیں ہوں گے میری رہائی ممکن نہیں ہے۔‘

    سیشن جج نے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ اور صوبائی اور وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ وہ طالبان کے مطالبات پورے کریں اور ان کی رہائی کو ممکن بنائیں۔

  10. ’جب تک طالبان کے مطالبات پورے نہیں ہوں گے میری رہائی ممکن نہیں‘: اغوا ہونے والے سیشن جج کی ویڈیو, عزیز اللہ خان، نامہ نگار بی بی سی

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان سے گذشتہ روز اغوا ہونے والے سیشن جج شاکر اللہ مروت کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھیں طالبان نے اغوا کیا ہے۔

    تاہم طالبان کی جانب سے اس واقعے کی ذمہ داری تاحال قبول نہیں کی گئی۔

    سیشن جج شاکر اللہ مروت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر دکھائی دے رہی ہے جس میں وہ ایک نا معلوم مقام پر موجود ہیں۔

    مختصر ویڈیو میں سیشن جج شاکر اللہ نے کہا ہے کہ ’کل مجھے طالبان اپنے ساتھ ڈی آئی خان ٹانک روڈ سے یہاں لائے ہیں، جنگل بھی ہے اور حالت جنگ بھی ہے۔ ان کے اپنے کچھ مطالبات ہیں جب تک وہ پورے نہیں ہوں گے میری رہائی ممکن نہیں ہے۔‘

    سیشن جج نے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ اور صوبائی اور وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ طالبان کے مطالبات پورے کریں اور ان کی رہائی کو ممکن بنائیں۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز پولیس نے کہا تھا کہ جنوبی وزیرستان کے سیشن جج شاکر اللہ مروت کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔

    ضلع ڈی آئی خان کے تھانہ ہتھالہ کی انفارمیشن رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ڈیرہ ٹانک روڈ پر بھگوال نامی گاؤں کے قریب پیش آیا۔ ان کی گاڑی کو بھی آگ لگا دی گئی تھی۔

    شاکراللہ خان کی بازیابی کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی۔ ان کے اغوا کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانہ میں درج کر دیا گیا۔

    شاکر اللہ مروت جنوبی وزیرستان میں تعینات ہیں اور وہ ٹانک سے ڈی آئی خان آ رہے تھے۔

    نامہ نگار عزیز اللہ بتاتے ہیں کہ شاکر اللہ مروت سیشن جج وزیرستان کے عہدے پر تعینات ہیں لیکن وزیرستان میں سورشُ کی وجہ سے ان کی عدالت ضلع ٹانک میں قائم ہے۔۔

    لکی مروت سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ سیشن جج شاکراللہ مروت قومی جرگہ کے سپریم کمانڈر اور سابق بیورو کریٹ اختر منیر خان کے رشتہ دار ہیں۔

    مروت قومی جرگہ کے زیر انتظام دو روز پہلے گرینڈ جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں ممکنہ فوجی آپریشن کی مخالفت کی گئی تھی۔

    اس جرگے میں قائدین نے کہا تھا کہ لوگوں میں خوف ہے کہ لکی مروت میں ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری ہو رہی ہے اور لکی مروت کے لوگ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔

  11. وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ایم ایف کی سربراہ سے ملاقات

    PM OFFICE

    ،تصویر کا ذریعہPM OFFICE

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے عالمی مالیاتی ادارے کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے آج عالمی اقتصادی فورم کی سائیڈ لائینز پراہم ملاقات کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دوبارہ منتخب ہونے کے بعد یہ ان کی ایم ڈی آئی ایم ایف کے ساتھ پہلی ملاقات تھی۔

    ان کی آخری ملاقات جون 2023 میں پیرس میں سمٹ فار نیو گلوبل فنانشل پیکٹ دوران ہوئی تھی ۔

    وزیر اعظم نے آئی ایم ایف کی سربراہ کا گذشتہ سال آئی ایم ایف سے 3 بلین امریکی ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) حاصل کرنے میں پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

    آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا پیر اجلاس متوقع ہے جس میں ایس بی اے کے تحت 1.1 ارب امریکی ڈالرز کی حتمی قسط کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    ایم ڈی آئی ایم ایف نے پچھلے سال اسٹینڈ بائے ارینجمینٹ کے حوالے سے وزیراعظم کی قائدانہ کردار کو سراہا۔

    وزیراعظم نے ایم ڈی آئی ایم ایف کو بتایا کہ ان کی حکومت پاکستان کی معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انھوں نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں اپنی مالیاتی ٹیم کو اصلاحات کرنے، سخت مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے اور ایسی دانشمندانہ پالیسیوں پر عمل کرنے کی ہدایت کی جو میکرو اکنامک استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنائیں۔ دونوں فریقوں نے پاکستان کے آئی ایم ایف کے ایک اور پروگرام میں داخل ہونے پر بھی تبادلہ خیال کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ گذشتہ سال میں حاصل ہونے والے فوائد کو مستحکم کیا جائے اور اس کی اقتصادی ترقی کی رفتار مثبت رہے۔

    ایم ڈی آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ جاری پروگرام بشمول جائزہ کے عمل کے بارے اپنے ادارے کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے ایم ڈی آئی ایم ایف کو ان کی سہولت کے مطابق دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔

  12. شہباز شریف کی سعودی وزرا سے ملاقات: ’سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع تلاش کرے گا‘

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس کی سائیڈ لائینز پر سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح، سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان اور سعودی وزیر برائے صنعت بندر بن ابراہیم الخیریف نے ملاقات کی جس دوران یہ اتفاق کیا گیا کہ ’سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع تلاش کرے گا۔‘

    وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق سعودی وزیر سرمایہ کاری نے وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم کو ’پرائم منسٹر آف ایکشن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم سب آپ کی کارکردگی اور کام کرنے کی رفتار سے آگاہ ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آپ پاکستان کے ترقی کے مشن کو لے کر چل رہے ہیں جس میں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ کا مشن ہمارا مشن ہے۔‘ سعودی وزیر سرمایہ کاری نے کہا کہ ’سعودی سرمایہ کاروں کا وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان ہماری ترجیح ہے، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبے میں بھرپور تعاون جاری رہے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستانیوں نے سعودی عرب کے مختلف شعبوں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم اور سعودی وزیر خزانہ کی ملاقات میں اتفاق ہوا کہ سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع تلاش کرے گا۔ ’سعودی وزیر خزانہ نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان کی ترقی سعودی عرب کی ترقی ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ویژن 2030 کے حوالے سے حکومتی سطح پر اصلاحات کیں اور مشکل فیصلے کیے۔‘

    وزیراعظم سے سعودی وزیر صنعت کی بھی ملاقات ہوئی۔ سعودی وزیر صنعت نے زراعت، معدنیات، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں پاکستان کے ساتھ اشتراک کے حوالے سے گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اس ضمن میں پیشرفت سے آگاہ کیا۔

    سعودی وزیر صنعت نے کہا کہ سعودی نجی کمپنیوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے رابطے میں ہوں اور یہ کمپنیوں کے نمائندگان بہت جلد پاکستان کا دورہ کریں گے اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان اشتراک ’ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔‘

    سعودی وزرا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان کا ہر مشکل میں ساتھ دینے پر خادم حرمین شریفین سلمان بن عبد العزیز آل سعود، سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود اور سعودی وزیر وزرا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’میرے پچھلے دور حکومت میں سعودی عرب کی حمایت اور مدد کی بدولت ہمارے معاشی حالات بہتر ہوئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے سٹریٹجک پارٹنرز ہیں۔ ان ملاقاتوں میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر پیٹرولیم مصدق ملک، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وفاقی وزیر پاور اویس احمد خان لغاری بھی موجود تھے۔

  13. کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر شہروں میں تاجروں کا احتجاجی مظاہرہ, محمد کاظم/بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں گذشتہ 200 دنوں سے زائد عرصے سے جاری دھرنے کے مطالبات کی حمایت میں کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہروں میں تاجروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں پریس کلبز کے باہر اس احتجاج کی کال مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے دی تھی۔ اتوار کی سہہ پہر کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہونے والے مظاہرے میں تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ نے کہا کہ آج دھرنے کی حمایت میں پورے بلوچستان کے پریس کلبز کے باہر مظاہرے ہو رہے ہیں۔

    تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بارڈر سے آمد و رفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف چمن کے تاجر اور مزدور گذشتہ سال اکتوبر سے احتجاج پر ہیں۔ لیکن حکومت ان کے احتجاج کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چمن کے لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار سرحدی منڈیوں سے تجارت پر ہے جس کے لیے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو سرحد سے آمد و رفت کرنا پڑتا ہے جو کہ پاسپورٹ کے ذریعے ممکن نہیں۔

    تاجروں نے مطالبہ کیا کہ چمن میں دھرنے کے شرکا سے مذاکرات کر کے ان کے مطالبے کو تسلیم کیا جائے ورنہ بلوچستان بھر کی تاجر برادری بھی ان کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوگی۔

    شہری علاقوں میں کسٹمز اور پولیس کی جانب سے دکانوں اور گوداموں پر مبینہ غیر قانونی چھاپوں کو بھی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

  14. بریکنگ, اسحاق ڈار پاکستان کے نائب وزیرِاعظم مقرر

    اسحاق ڈار، نائب وزیرِاعظم، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو ملک کا نائب وزیرِاعظم مقرر کر دیا ہے۔

    اتوار کو کابینہ ڈویژن سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو فوری طور پر تاحکمِ ثانی پاکستان کا نائب وزیرِاعظم مقرر کر دیا ہے۔

    خیال رہے اس وقت وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار وزیرِاعظم شہباز شریف کے ساتھ سعودی عرب میں موجود ہیں جہاں وہ عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

    اسحاق ڈار کون ہیں؟

    سینیٹر اسحاق ڈار پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز سرکاری اور نجی شعبے میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے طور پر کیا اور 1980 کی دہائی میں سیاست میں قدم رکھا۔

    ماضی میں انھیں ن لیگ کی حکومتوں میں وزیر خزانہ کی ذمہ داری سونپی جاتی رہی ہے۔ تاہم اس بار ان کی جگہ محمد اورنگزیب کو وزیر خزانہ بنایا گیا۔

    اسحاق ڈار کو موجودہ دور میں وزیر خارجہ کی ذمہ داری ایک ایسے وقت میں ملی جب ملک کو معاشی، سفارتی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

    وہ جماعت کے قائد نواز شریف کے قریبی رشتہ دار ہیں اور چار مرتبہ ملک کے وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔

    اسحاق ڈار پہلی مرتبہ 1998 میں نواز لیگ کے دور میں وفاقی وزیر خزانہ بنے۔ 2013 میں نواز لیگ کی حکومت میں ایک بار پھر وہ وزیر خزانہ بنے۔

    تاہم 2017 میں نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نا اہلی کے بعد جب شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنے تو مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بنایا گیا۔

    اپریل 2022 میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کے پہلے پانچ مہینوں تک مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ رہے تاہم ستمبر 2022 کے آخر میں اسحاق ڈار ایک بار پھر وزیر خزانہ بنے۔

  15. جسٹس بابر ستار کے پاس پاکستان کے علاوہ کسی ملک کی شہریت نہیں: اسلام آباد ہائی کورٹ

    جسٹس بابر ستار، اسلام آباد ہائی کورٹ، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہIslamabad High Court

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کے خلاف ’جھوٹی‘ اور ’توہین آمیز‘ مہم پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جسٹس بابر ستار کے پاس کبھی پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں رہی۔‘

    خیال رہے گذشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار کے حوالے سے ایسی اطلاعات گردش کر رہی تھیں جن میں دعویٰ کی گیا تھا کہ ان کے پاس امریکی شہریت ہے۔

    اتوار کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’اس توہین آمیز مہم کے دوران معزز جج، ان کی اہلیہ اور بچوں کے حساس سفری دستاویزات اور ان کے ٹیکس ریٹرنز میں درج اثاثوں کی تفصیلات سوشل میڈیا پر جھوٹے الزامات کے ساتھ پوسٹ کی گئیں۔‘

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس بابر ستار نے قانون کی تعلیم آکسفورڈ یونیورسٹی اور ہارورڈ لاء سکول سے حاصل کی۔

    ’انھوں نے امریکہ میں رہائش کے دوران نیو یارک کی ایک لا فرم میں بطور وکیل کام کیا اور انھیں ان کی قابلیت پر پرمننٹ ریزیڈنٹ کارڈ (گرین کارڈ) جاری کیا گیا تھا۔‘

    ’انھوں نے امریکہ میں اپنی نوکری 2005 میں چھوڑ دی تھی اور پاکستان واپس آ گئے تھے اور تب سے پاکستان میں ہی رہ رہے ہیں اور کام کر رہے ہیں۔‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ سے جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جسٹس بابر ستار کی اہلیہ اور بچے پاکستان اور امریکہ دونوں کے شہری ہیں، وہ سنہ 2021 تک امریکہ میں مقیم تھے لیکن جب جسٹس بابر ستار اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے تو وہ واپس پاکستان آگئے اور اب اسلام آباد میں رہتے ہیں۔‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے مطابق ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج مقرر ہونے سے پہلے جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس کو بتا دیا تھا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں اور ان کے پاس گرین کارڈ بھی ہے جس کے سبب وہ بغیر ویزہ کے امریکہ کا سفر کر سکتے ہیں۔‘

    ’جسٹس بابر ستار کے پاس امریکہ اور پاکستان میں جائیدادیں ہیں جو ان کے ٹیکس ریکارڈ میں بھی درج ہے اور اس کے جانچ پڑتال جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے ان کی تقرری کے وقت بھی کی تھی۔‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ان کی تمام جائیدادیں یا تو انھیں وراثت میں ملی ہیں یا انھوں نے بطور وکیل حاصل کی ہیں۔ جج بننے کے بعد انھوں نے کوئی جائیداد نہیں بنائی۔‘

  16. سعودی عرب میں آج عالمی اقتصادی فورم کا خصوصی اجلاس، وزیراعظم شہباز شریف بھی شرکت کریں گے

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر سرپرستی عالمی اقتصادی فورم کا خصوصی دو روزہ اجلاس آج سے ریاض میں شروع ہو رہا ہے جس میں وزیر اعظم شہباز شریف سمیت ایک ہزار سے زیادہ سربراہان مملکت اور پالیسی ساز شرکت کر رہے ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریگ گذشتہ روز 27 اپریل کو سعودی عرب پہنچے تھے، اس دورے میں وزیر خارجہ اسحٰق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہے۔

    اس دو روزہ اجلاس میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا وفد بھی وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں شریک ہوگا۔

    وزیراعظم نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اجلاس میں عالمی تعاون، جامع ترقی اور توانائی جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی جائے گی اور موجودہ حالات میں درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. خیبرپختونخوا میں تحصیل کونسل کے چیئرمینوں کی چھ نشستوں پر پولنگ آج ہو رہی ہے

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے خیبرپختونخوا میں تحصیل کونسل کے چیئرمینوں کی چھ خالی نشستوں پر آج پولنگ ہو رہی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق چئیرمین تحصیل کونسل کی چھ نشستیں استعفوں کی وجہ سے خالی ہوئیں۔

    تمام تحصیلوں میں پولنگ کاآغاز آج صبح آٹھ بجے ہو گیا ہے جو شام پانچ بجے تک بلا تعطل جاری رہے گی۔

    الیکشن کمیش کے مطابق پولنگ کے عمل کی نگرانی کے لیے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسرز اور ضلعی مانیٹرنگ ٹیمیں متحرک ہیں۔ الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ مرکزی کنٹرول روم سےلوکل گورنمنٹ ضمنی انتخابات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

  18. پی ٹی آئی کی جانب سے ملک احمد خان بھچر چیئرمین پی اے سی پنجاب نامزد

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر پنجاب میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین کے لیے قائد حزب اختلاف صوبائی اسمبلی ملک احمد خان بھچر کو نامزد کیا گیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ٹویٹ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ملک احمد خان بھچر کو بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، پنجاب نامزد کیا جاتا ہے۔‘

    ’میں اس نامزدگی پر انھیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ ملک احمد خان بھچر بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پنجاب اپنے فرائض بخوبی سرانجام دیں گے۔ میری دعائیں اور نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. ہرنائی میں سکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں سکیورٹی فورسزاوردہشت گردوں میں فائرنگ کے تبادلے میںایک دہشت گرد ہلاک اورایک زخمی ہوگیا۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں نے ہرنائی جانے والی مسافروں گاڑیوں کو سنجاوی روڈ پر روکنے کی کوشش کی جس پر سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنادیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ علاقے میں ممکنہ دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسزبلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنےکی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔