’امریکہ وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا‘: روبیو کا بیان، مادورو کو نیو یارک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا

امریکی جریدے دی اٹلانٹک سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر وہ درست قدم نہیں اٹھائیں گی تو انھیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مدورو سے بھی زیادہ۔‘

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کو سخت کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر وہ درست قدم نہیں اٹھائیں گی تو انھیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مادورو سے بھی زیادہ۔‘
  • وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس پیر کے روز نیویارک کے مین ہٹن میں وفاقی عدالت میں پیش ہوں گے۔
  • امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ’وینیزویلا ہمارے کئی مخالفین کا گڑھ‘ بن چکا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ یہ ملک اب ’منشیات کی سمگلنگ کی جنت‘ نہ رہے۔
  • چین نے وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی صحت اور جان کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
  • وینیزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا 'ریاستی دہشت گردی' اور ملک کی خودمختاری پر حملہ ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
  • اقوامِ متحدہ نے وینیزویلا میں امریکا کی وینیزویلا پر کی جانے والی فوجی کارروائی پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کے 'خطے پر تشویشناک اثرات' مرتب ہو سکتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. وینزویلا کی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے: یورپی یونین

    EPA-EFE/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/Shutterstock

    امریکی مداخلت کے بعد یورپی یونین نے تمام فریقوں سے کہا ہے کہ وہ ’تحمل اور صبر کا مظاہرہ کریں تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔‘

    یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کایا کالاس کی جانب سے جاری نئے بیان، جس پر ہنگری کے سوا تمام رکن ممالک نے دستخط کیے ہیں میں کہا گیا ہے کہ ’وینزویلا کی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے اور اس کا فیصلے کا احترام لازمی ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وینزویلا میں جمہوریت کی بحالی اور موجودہ بحران کے حل کا واحد راستہ عوامی خواہشات کا احترام ہے۔‘

    ابھی تک ہنگری کی یورپی یونین میں نمائندگی کی جانب سے اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں آیا کہ انھوں نے بیان پر دستخط کیوں نہیں کیے۔

  2. ’امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کر کے ’انتہائی خطرناک مثال قائم کی ہے‘

    برازیل، چلی، کولمبیا، میکسیکو، یوروگوائے اور سپین کی حکومتوں نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا میں ’انتہائی خطرناک مثال‘ قائم کی ہے جو امن، علاقائی سلامتی اور عام شہریوں کے لیے خطرہ ہے۔

    ان ممالک نے زور دیا کہ وینزویلا کے بحران کا حل صرف پُرامن ذرائع جیسے مکالمے اور مذاکرات سے تلاش کیا جانا چاہیے۔

    بیان میں بیرونی کنٹرول پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جسے ’بین الاقوامی قانون سے متصادم‘ اور خطے کی سیاسی، معاشی اور سماجی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

    مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم وینزویلا کی سرزمین پر یکطرفہ فوجی کارروائیوں پر گہری تشویش اور سخت ردعمل ظاہر کرتے ہیں، جو بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں، خصوصاً طاقت کے استعمال اور دھمکی کی ممانعت اور ریاستوں کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام کے اصول، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج ہیں۔‘

  3. بریکنگ, مادورو اور اُن کی اہلیہ پیر کو عدالت میں پیش ہوں گے: عدالتی ترجمان

    وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس پیر کے روز نیویارک کے مین ہٹن میں وفاقی عدالت میں پیش ہوں گے۔

    عدالتی ترجمان کے مطابق سماعت مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے (17:00 جی ایم ٹی) مقرر کی گئی ہے۔

  4. ڈیلسی روڈریگیز اگر وہ درست قدم نہیں اٹھائیں گی تو انھیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی: ٹرمپ

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی جریدے دی اٹلانٹک سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر وہ درست قدم نہیں اٹھائیں گی تو انھیں اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مادورو سے بھی زیادہ۔‘

    وینزویلا کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ریجیم چینج، آپ اسے جو بھی کہیں، موجودہ حالات سے بہتر ہے۔ اس سے بدتر نہیں ہو سکتا۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے ساتھ ملک کے انتظامی امور پر بات چیت کر رہے ہیں۔

    کرسٹی نوم نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’یہ گفتگو انتہائی واضح اور براہِ راست‘ انداز میں ہو رہی ہے۔

  5. ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر کو کہا ہے کہ ’قیادت کریں یا راستے سے ہٹ جائیں: کرسٹی نوم

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے ساتھ ملک کے انتظامی امور پر بات چیت کر رہے ہیں۔

    امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’یہ گفتگو انتہائی واضح اور براہِ راست‘ انداز میں ہو رہی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کو یہ کہا گیا ہے کہ آپ قیادت کریں یا راستے سے ہٹ جائیں۔ ہم آپ کو امریکی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    مدورو کی ممکنہ حوالگی کے متعلق ایک سوال کے جواب میں نوم نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہمیں عدالتی عمل کو دیکھنا چاہیے اور اسے مکمل ہونے دینا چاہیے۔‘

  6. وینزویلا کی فوج کا نائب صدر روڈریگیز کو عبوری رہنما تسلیم کرتے ہوئے اُن کی حمایت کا اعلان

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وینزویلا کے وزیرِ دفاع ولادیمیر پادرینو نے سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فوج نے نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز کو عبوری صدر کے طور پر اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    وزیرِ دفاع نے کہا کہ وینزویلا کی مسلح افواج ’صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کے بزدلانہ اغوا‘ کو سختی سے مسترد کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اس واقعے میں ’صدر کے سکیورٹی عملے کے بڑے حصے، فوجی اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا۔‘

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک رہائشی عمارت پر حملہ ہوا ہے جس میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ ہلاک ہونے والے عام شہری تھے یا فوجی اہلکار۔ بی بی سی نے ان اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

    وزیرِ دفاع پادرینو نے کہا کہ ’آج وینزویلا کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی بھی ریاست یا حکومت کے ساتھ ہو سکتا ہے۔‘

    انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک میں معمولاتِ زندگی دوبارہ شروع کریں اور کام، تجارت اور تعلیم کو جاری رکھیں۔

  7. بلوچستان کے دو اضلاع سے چار افراد کی تشددزدہ لاشیں برآمد, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو اضلاع ژوب اور موسٰی خیل کے سرحدی علاقے سے چار افراد کی تشددزدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

    رواں سال کے پہلے تین روز کے دوران برآمد ہونے والی لاشوں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر موسٰی خیل نجیب اللہ کاکڑ نے ژوب اور موسٰی خیل کے سرحدی علاقے سے چار افراد کی لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چاروں افراد کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اطلاع ملنے کے بعد چاروں افراد کی لاشوں کو بیسک ہیلتھ یونٹ کنگری منتقل کیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ان میں سے تین افراد کی شناخت ہو گئی ہے جن کا تعلق بلوچستان کے ضلع دُکی سے ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کو ان افراد کی لاشوں کی ایک ویران علاقے میں موجودگی کی اطلاع ملی تھی جس پر ان کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ تاحال ان افراد کی ہلاکت کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔

    بلوچستان سے رواں سال کے تین روز کے دوران تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

    اس سے قبل دو جنوری کو ضلع ہرنائی سے بھی چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی تھیں جن کا تعلق ضلع ہرنائی کے مختلف علاقوں سے تھا۔

  8. شہر کی گلیاں خاموش ہیں۔۔۔, وینیسا سلوا، کاراکاس

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ’ہر کی گلیاں خاموش ہیں۔ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہیں، لیکن دلوں میں ایک عجیب سا انتظار اور بے یقینی چھائی ہوئی ہے۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے اور سنجیدگی کا ماحول ہے۔‘

    سرکاری ٹی وی ہی واحد ذریعہ ہے مگر وہاں صرف پرانے پروگرام چل رہے ہیں، کوئی خبر نہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے سب کچھ رُک گیا ہو اور ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔

    فی الحال ڈیلسی رودریگز اور فوج اقتدار میں ہیں لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ وہ امریکہ سے کس قسم کی بات چیت کر رہے ہیں۔

    ’امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر تعاون نہ ہوا تو دوسرا حملہ ہوگا۔ اسی لیے ہم نہیں جانتے کہ آنے والے دن ہمارے لیے کیسے ہوں گے۔‘

  9. کیا مادورو کی گرفتاری قانونی ہے؟ اور کیا ٹرمپ واقعی وینیزویلا کو چلا سکتے ہیں؟, کیٹی ویلمز، بی بی سی نیوز

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیتھم ہاؤس کے بین الاقوامی قانون پروگرام کے ڈائریکٹر مارک ویلر کے مطابق وینیزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی گرفتاری اور امریکہ کی جانب سے ملک کو ’چلانے‘ کے دعوے نے سنگین قانونی سوالات کو جنم دیا ہے۔

    ویلر کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کا مؤقف یہ ہے کہ وہ منشیات کی سمگلنگ پر دائرہ اختیار قائم کر سکتا ہے اور فوجداری قوانین نافذ کر سکتا ہے، چاہے یہ جرم کسی غیر ملکی نے بیرونِ ملک ہی کیوں نہ کیا ہو۔‘

    تاہم اصل سوال یہ ہے کہ مادورو کو جس طریقے سے گرفتار کیا گیا، کیا وہ اس عمل کو ’داغدار‘ نہیں کرتا؟ ویلر نے اس کارروائی کو ’مسلح حملہ‘ قرار دیا۔

    امریکی مؤقف یہ ہے کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ مشتبہ شخص کو عدالت میں کس طرح لایا جاتا ہے، چاہے یہ عمل ’بین الاقوامی طور پر غیر قانونی ذرائع‘ جیسے کسی دوسرے ملک سے اغوا کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔

    بین الاقوامی قانون کا نقطۂ نظر اس سے بالکل مختلف ہے۔

    ویلر کے مطابق بین الاقوامی قانون میں ’طاقت کے استعمال کا کوئی قانونی جواز نہیں‘ نہ تو کسی منشیات کے ملزم کو پکڑنے کے لیے اور نہ ہی وینیزویلا میں جمہوریت کو آگے بڑھانے کے لیے۔ اس کے لیے صرف دو جواز ممکن ہیں یا تو اقوامِ متحدہ کی جانب سے باضابطہ اجازت، جو نہیں دی گئی، یا پھر سیلف ڈیفینس۔‘

    ویلر نے مزید کہا کہ ’امریکہ کی جانب سے وینیزویلا کو ’چلانے‘ کی تجویز ’انتہائی عجیب‘ ہے۔ ان کے مطابق اس انتظام کو قانونی اصطلاح میں بیان کرنا مشکل ہے۔ فی الحال یہ مسلح قبضے کی بجائے ’سیاسی مداخلت‘ معلوم ہوتی ہے، جو مزید امریکی طاقت کے خطرے سے تقویت پاتی ہے۔

  10. امریکہ ڈنمارک کی سالمیت کا مکمل احترام کرے: ڈنمارک کے سفیر کا واشنگٹن میں بیان

    واشنگٹن میں ڈنمارک کے سفیر نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ ڈنمارک کی ارضی سالمیت کا مکمل احترام کرے۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی کی اہلیہ، کیٹی ملر، نے گرین لینڈ کا نقشہ امریکی پرچم کے رنگوں میں ’جلد ہی‘ کے الفاظ کے ساتھ ٹوئٹ کیا۔

    کیتی ملر نے یہ ایکس پر یہ بیان امریکہ کی جانب سے وینیزویلا پر حملے کے چند گھنٹے بعد جاری کیا۔

    اس اقدام نے ایک بار پھر ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے کا پرانا مطالبہ عملی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ گرین لینڈ فی الحال ڈنمارک کے خودمختار علاقے کا حصہ ہے، تاہم صدر ٹرمپ کئی بار اس کے امریکہ میں الحاق کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔

    @KatieMiller

    ،تصویر کا ذریعہ@KatieMiller

  11. وینیزویلا ہمارے کئی مخالفین کا گڑھ بن چکا ہے: امریکی وزیرِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’وینیزویلا ہمارے کئی مخالفین کا گڑھ‘ بن چکا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ یہ ملک اب ’منشیات کی سمگلنگ کی جنت‘ نہ رہے۔

    روبیو نے کہا کہ امریکہ وینیزویلا کے عوام کے لیے بہتر مستقبل چاہتا ہے اور یہ بھی کہ ملک کی تیل کی صنعت ایسی ہو جہاں دولت براہِ راست عوام تک پہنچے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کو یہ سب کس قانونی اختیار کے تحت کرنے کا حق حاصل ہے، تو انھوں نے جواب دیا کہ ’ہمارے پاس عدالت کے احکامات ہیں کیا عدالت قانونی اختیار نہیں ہے؟‘

    اس سوال پر کہ آیا امریکہ وینیزویلا کو چلا رہا ہے، روبیو نے کہا کہ امریکہ ’اس سمت کو چلا رہا ہے جو معاملات کو آگے بڑھاتی ہے۔

    روبیو نے صدر نیکولس مادورو کو ملک کا جائز صدر نہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’ایسے شخص ہیں جن کے ساتھ ہم کام نہیں کر سکتے۔‘

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ’اگر وینیزویلا امریکہ کے پناہ گزینوں اور منشیات سمگلنگ سے متعلق خدشات کو دور نہیں کرتا تو امریکہ وہ تمام آپشنز استعمال کر سکتا ہے جو مادورو کی گرفتاری سے پہلے موجود تھے۔‘

    روبیو کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ وینیزویلا جانے والے یا وہاں سے نکلنے والے پابندی شدہ ٹینکرز کو امریکی عدالت کے احکامات کے تحت ضبط کر لیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں اس بات کو کم نہیں کر سکتا کہ یہ ان کے مستقبل کے لیے کتنا تباہ کن ہے۔‘ روبیو نے زور دیا کہ متبادل صرف وہی ہے کہ وینیزویلا کی تیل کی صنعت عوام کو فائدہ پہنچائے، نہ کہ چند افراد کو۔

  12. نیکولس مادورو اور اہلیہ کو فوری رہا کیا جائے: چین کا مطالبہ

    چین نے وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی صحت اور جان کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

    چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ نے وینیزویلا میں کارروائی کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور جنوبی امریکا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    امریکہ کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے چین نے روس اور ایران کے ساتھ صف آرا ہو کر مادورو کے اتحادیوں میں شمولیت اختیار کی ہے، جنھوں نے پہلے ہی امریکی کارروائی کو مسترد کیا تھا۔

    امید کی جا رہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کے روز اس حملے پر اجلاس منعقد کرے گی، جس نے دنیا کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے متضاد ردعمل کو جنم دیا ہے۔

  13. برطانیہ اور فرانس کا شام میں داعش کے ٹھکانے پر مشترکہ حملہ

    MOD/PA

    ،تصویر کا ذریعہMOD/PA

    برطانیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق رائل ایئر فورس کے ٹائیفون جنگی طیاروں نے شام میں داعش کے زیرِ زمین اسلحہ ڈپو پر فرانسیسی طیاروں کے ساتھ مل کر کارروائی کی۔

    وزارتِ دفاع نے بتایا کہ خفیہ اطلاعات کے مطابق اس ٹھکانے میں بڑی تعداد میں ہتھیار اور بارودی مواد ذخیرہ کیا گیا تھا۔ برطانوی حکام کے مطابق ہمارے طیاروں نے اس مرکز تک جانے والی متعدد سرنگوں کو نشانہ بنانے کے لیے پیووے IV گائیڈڈ بموں کا استعمال کیا۔ ابتدائی طور پر سامنے آنے والی معلومات سے اس بات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

    مزید کہا گیا کہ سنیچر کی رات گئے ہونے والی اس کارروائی میں کسی بھی شہری کو نقصان نہیں پہنچا اور تمام طیارے بحفاظت واپس لوٹ آئے۔

    برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے کہا، "یہ قدم ہماری برطانوی قیادت اور مشرق وسطیٰ میں داعش اور اس کے خطرناک اور پرتشدد نظریات کے دوبارہ سر اٹھانے کو روکنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔"

    برطانوی وزیر دفاع نے آپریشن میں شامل فورسز کی تعریف اور شکریہ ادا کیا۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں داعش کے اب بھی 5000 سے 7000 جنگجو موجود ہیں۔

  14. کاراکس میں امریکی فضائی حملے کے بعد کی صورتحال اور چند تصاویر

    امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز، جو بی بی سی کا امریکی شراکت دار ہے، نے سنیچر کے روز کاراکاس میں واقع اہم فوجی مرکز فورٹے تیونا پر امریکی فضائی حملوں کے بعد کی تصاویر جاری کی ہیں۔

    ان حملوں کے نتیجے میں فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    CBS News

    ،تصویر کا ذریعہCBS News

    CBS News

    ،تصویر کا ذریعہCBS News

    CBS News

    ،تصویر کا ذریعہCBS News

  15. ٹرمپ کے دعووں کے باوجود وینیزویلا پر اب بھی مادورو کے اتحادیوں کا کنٹرول، آگے کیا ہو سکتا ہے؟, آئی اوہنی ویلز، نمائندہ برائے جنوبی امریکہ

    وینیزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز صدر مادورو کے قریبی حلقے کا حصہ رہی ہیں۔ انھیں سپریم کورٹ نے حلف دلایا، جو خود بھی مادورو کی تحریک کے وفاداروں سے بھری ہوئی ہے۔

    یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود کہ امریکہ ’وینیزویلا چلائے گا‘، فی الحال ملک پر کنٹرول مادورو کے اتحادیوں کے پاس ہے، نہ کہ امریکہ کے پاس۔

    اگرچہ روڈریگیز نے کہا کہ وینیزویلا اپنا دفاع کرے گا، ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعاون کریں گی مثلاً وینیزویلا کے تیل کے ذخائر تک زیادہ امریکی رسائی کی اجازت دینا وغیرہ۔

    تو پھر امریکہ کا مطلب کیا ہے؟

    ابھی تک امریکی افواج زمین پر موجود نہیں ہیں، اگرچہ ٹرمپ نے اس امکان کو رد نہیں کیا۔ تاہم ایک اور قسم کا دباؤ موجود ہے، مادورو کی وہ تصویر جس میں انھیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر امریکہ لے جایا جا رہا ہے، ان وفاداروں کے سامنے لٹکائی گئی ہے جو اب بھی اقتدار میں ہیں۔

    مادورو کے اتحادی بخوبی جانتے ہیں کہ اگر وہ امریکی مطالبات نہ مانیں تو اگلا نشانہ وہ خود بھی ہو سکتے ہیں۔ کاغذی طور پر وہ اقتدار میں ہیں، لیکن کیا وہ امریکہ کو ’نہ‘ کہنے کی ہمت کر پائیں گے؟

  16. وینیزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا ’ریاستی دہشت گردی‘ اور ملک کی خودمختاری پر حملہ ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے وینیزویلا کے وزیرِ خارجہ ایوان خیل پینتو سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی ہے۔

    اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اس ٹیلیفونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے امریکہ کی جانب سے وینیزویلا پر حالیہ حملے کے اثرات اور تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق عباس عراقچی نے امریکی فوجی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ وینیزویلا کے قانونی صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا ’ریاستی دہشت گردی‘ اور اس ملک کی خودمختاری پر کھلا حملہ ہے۔‘

    عراقچی نے اس موقع پر ایران کی جانب سے صدر نیکولس مادورو، ان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

    ایران اور وینیزویلا طویل عرصے سے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ وینیزویلا کے وزیرِ خارجہ نے بھی ایران کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وینیزویلا کے عوام اور حکومت اپنی خودمختاری اور حقِ خودارادیت کے دفاع کے لیے امریکہ کی ’غیر قانونی اور زور زبردستی کی سخت پالیسیوں‘ کے مقابلے میں پرعزم ہیں۔

  17. ’مادورو ہی صدر ہیں‘، وینیزویلا کی عبوری صدر اور اپوزیشن رہنما امریکی منصوبے کی حمایت کیوں نہیں کر رہی ہیں؟

    وینیزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنوینیزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز کہا کہ امریکہ ’ملک کو اس وقت تک چلائے گا جب تک ہم ایک محفوظ، مناسب اور محتاط انتقالِ اقتدار کر سکیں۔‘

    یہ واضح نہیں کہ امریکہ وینیزویلا کو کس طرح چلانے کا ارادہ رکھتا ہے یا اس میں کون شامل ہوگا، تاہم ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک ’اجتماعی‘ کوشش ہوگی۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو وینیزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز سے بات کر رہے تھے، جنھیں بعد ازاں وینیزویلا کی سپریم کورٹ نے عبوری صدر نامزد کیا۔

    صد ٹرمپ کے مطابق روڈریگیز نے اپنی آمادگی ظاہر کی کہ وہ ’جو کچھ امریکہ کہے گا‘ وہ کرنے کو تیار ہیں۔

    وینیزویلا ماریا کورینا مچاڈو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنمرِیا کورینا مَچاڈو

    بعد میں روڈریگیز نے سرکاری ٹیلی ویژن پر صدر مادورو کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہی ملک کے ’واحد صدر‘ ہیں۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے وینیزویلا کی اپوزیشن رہنما مرِیا کورینا مَچاڈو سے بات نہیں کی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں نہ تو عوامی حمایت حاصل ہے اور نہ ہی وہ احترام کے قابل سمجھی جاتی ہیں۔

    مرِیا کورینا مَچاڈو نے اس سے قبل ایڈمنڈو گونزالیز کو اقتدار سنبھالنے کی اپیل کی تھی۔ انھوں نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں گونزالیز کے لیے حمایت حاصل کی اور ان کی جماعت کے جاری کردہ نتائج کے مطابق گونزالیز نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

  18. ٹرمپ نے وینیزویلا کو کیوں نشانہ بنایا؟

    President

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اپنے دوسرے صدارتی دور کے آغاز سے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینیزویلا اور اس کے رہنما نکولس مادورو پر دباؤ بڑھا دیا۔ ابتدا میں امریکی انتظامیہ نے صدر مادورو کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر انعام کی رقم دوگنی کر دی، جو امریکی پالیسی میں ایک نمایاں اضافہ تھا۔

    ستمبر میں امریکی افواج نے ان جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا جن پر الزام تھا کہ وہ جنوبی امریکہ سے منشیات امریکہ لے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد سے کیریبین اور بحرالکاہل میں 30 سے زائد کارروائیاں کی گئیں جن میں 110 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

    ٹرمپ نے وینیزویلا کو امریکہ میں پناہ لینے والے لاکھوں وینیزویلین مہاجرین کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ بغیر کسی ثبوت کے انھوں نے صدر مادورو پر الزام لگایا کہ وہ ’جیلوں اور پاگل خانوں کو خالی کر رہے ہیں‘ اور قیدیوں کو امریکہ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

    امریکی صدر کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وینیزویلا کی حکومت تیل کی آمدنی کو منشیات سے متعلق جرائم میں استعمال کر رہی ہے اور صدر مادورو خود ایک کارٹل لیڈر ہیں۔

    صدر مادورو ان الزامات کو سختی سے رد کرتے آئے ہیں اور ان کا مؤقف رہا ہے کہ امریکہ اپنی ’منشیات کے خلاف جنگ‘ کو بہانہ بنا کر ان کی حکومت گرانا اور وینیزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

  19. وینیزویلا کے صدر نیکولس مادورو کہاں ہیں اور ان کے ساتھ آگے کیا ہوگا؟

    مادورو

    ،تصویر کا ذریعہ@realDonaldTrump/Reuters

    وینیزویلا میں گرفتاری کے بعد صدر مادورو کو کاراکس سے امریکی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جایا گیا اور یو ایس ایس آئیوو جیما پر منتقل کیا گیا، جہاں ان کی ایک تصویر سامنے آئی جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر شیئر کیا۔

    اس کے بعد انھیں کیوبا کے راستے نیویارک لے جایا گیا۔

    نیویارک پہنچنے کے بعد مادورو کو امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی (ڈی ای اے) کے دفتر لے جایا گیا۔ بعد ازاں صدر مادورو کو مین ہٹن کے ڈی ای اے دفتر سے بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈٹینشن سینٹر منتقل کر دیا گیا۔

    ،ویڈیو کیپشناس ویڈیو میں وینیزویلا کے صدر مادورو کو نیویارک کے حراستی مرکز میں دیکھا جا سکتا ہے

    وینیزویلا کے صدر پر منشیات اور اسلحے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلنے والا ہے، جو ممکنہ طور پر پیر کو شروع ہو سکتا ہے۔

    مادورو اس سے قبل یہ دعویٰ مسترد کر چکے ہیں کہ وہ کسی منشیات کے کارٹل کے سربراہ ہیں۔